کیٹیگری: مضامین

کیا انسانی حلیے میں نظر میں آنے والا ہر کوئی انسان ہے؟

ہماری زندگیوں میں آج کا دن ہمارے لیے بڑا مبارک سعد اور خوش بختی کا دن ہے، ہم اس بات کے جتنے بھی شکر گزار ہوں کم ہےکہ سرکارسیدنا گوہر شاہی نے احسان فرمایا اور ہماری زندگیوں کا لازمی حصہ بنے اگر سرکار گوہر شاہی ہمیں نہ ملتے تو ہم کیا کرتے۔ ہم انسان کی طرح دکھتے ہیں تو ہم نے یہ ہی سمجھ لیا کہ ہم بھی انسان ہیں لیکن کون جانتا ہے! حقیقت کیا ہے۔ 1998 میں سرکار گوہر شاہی سے ملنے ڈنمارک سے کچھ لوگ آئے اور آپ کی بارگاہ میں سوال کیا کہ یہودیوں کی کتابوں کے مطابق قرب قیامت میں خدا کے بیٹے زمین پر آئیں گے لیکن ہم انہیں پہچانیں گے کیسے؟ سرکار سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا، وہ جن کو تم دیکھنا چاہتے ہو وہ تو تمہارے ساتھ ہی بیٹھے ہیں اس کے بعد یہ بھی فرمایا کہ یہ جسم کی طرف اشارہ نہیں ہے ہم روح کی بات کر رہے ہیں کیونکہ روح جسم میں چھپی ہوئی ہے لہذا تم کو پتا نہیں ہے تم کس سے بات کر رہے ہو۔ عام طور پر یہ ہی سمجھا جاتا ہے کہ جو بھی ہماری طرح دکھتا ہے وہ انسان ہی ہے کیونکہ ہماری طرح اس کی بھی دو ٹانگیں، دو ہاتھ، دو آنکھیں، دو کان، دو نتھنے ہیں جو کہ انسانی حلیہ ہے تو جو بھی اس حلیے میں نظر آرہا ہے وہ بھی انسان ہی ہے لیکن ہم یہ بات اکثر بھول جاتے ہیں کہ قرآن نے یہ ہی حلیہ تو اللہ کا بھی بیان کیا ہے۔ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے کہ

فإنَّ اللہ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِه
احمد حنبل، 1389 ،ج 519:2
ترجمہ: اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر بنایا ہے۔

تو پھر ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ دو ٹانگوں، دو ہاتھوں، دو آنکھوں، دو ہاتھ ، دو نتھنے رکھنے والا انسان ہی ہوگا ، انسان کا جو نقشہ ہے قد کاٹھ ہے یہ اس کا تو ہے ہی نہیں یہ حلیہ تو اسے اللہ سے ملا ہے، انسان کا حلیہ یا قد کاٹھ عطیہ خدا ہے ۔جب کوئی غیر امریکی امریکہ پہنچتا ہے تو امیگریشن پر اس کی دھڑکنیں بنا ورزش کے اپنے آپ بڑھ جاتی ہیں لیکن جن کے ہاتھوں میں امریکن پاسپورٹ ہوگا انہیں کسی قسم کا خوف ہی نہیں ہوگا کیونکہ وہ تو اپنے وطن میں لوٹ کر آئے ہیں لہذا ان کے دل میں کوئی خدشہ ہی نہیں ہے کہ کوئی انہیں اُن کےاپنے وطن سے نکال سکتا ہے ، کیونکہ قانون کے مطابق جس ملک کا پاسپورٹ آپ کی ملکیت ہو وہ ہی ملک آپ کا وطن ہے اور وہاں مستقل رہائش کا آپ کو استحاق حاصل ہے۔ یہ ہی وجہ لے کہ امریکن امیگریشن قطار میں اگر کوئی امریکی ہے تو اسے کسی قسم کا کوئی ڈر ہی نہیں ہوتا بڑے آرام سے کھڑا رہتا ہے لیکن جن کے پاس کسی دوسرے ملک کا پاسپورٹ ہوتا ہے وہ دل ہی دل میں کبھی ڈر رہے ہوتے ہیں کبھی پر امید نظر آتے ہیں ، پاسپورٹ کی اس مثال سے مقصود عام انسانی روح والے جسم اور خاص روح والے جسم کا فرق سمجھایا جا سکے، جن کی روح انسانی نہیں ہے انہیں کس بات کا ڈر!
وہ خدا کا خوف رکھیں جن کی فطرت خوف ہو

عیسیٰ علیہ السلام کے جسم اور روح کی حقیقت؟

جس کی فطرت خوف پر مبنی ہے اسے توڈرنا ہی ہے کیونکہ خوف اس کی فطرت کا حصہ ہے یہ ہی بنیادی فرق ہے۔اگر خدا کا بیٹا تمہارے برابر، تمہارے ہی حلیے میں بیٹھا ہو تو اُس کی پہچان تم نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں کا جسم بظاہر تو ایک جیسا ہی ہے اور یہ کتنی عجیب بات ہے نا کہ دو مختلف چیزیں جو دکھنے میں بالکل ایک جیسی ہوں لیکن بالکل ان کی ساخت بالکل الگ تو دیکھنے والا دھوکہ کھا جائے گا۔ بالکل اسی طرح دو ہزار سال پہلے لوگ عیسی علیہ السلام کے بارے میں دھوکہ کھا گئے اور صلیب پر جس جسم کو لٹکے دیکھا تو سمجھ لیا یہ عیسی علیہ السلام ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ کتاب مقدس بائیبل میں لکھا ہے کہ عیسی علیہ السلام پہلے کلمتہ اللہ ہیں پھر بعد میں کلمتہ اللہ گوشت پوست کے وجود میں ڈھل کر عیسی کہلایا ،جب کلمتہ اللہ گوشت پوست کے روپ میں ڈھل گیا تو اب عیسی علیہ السلام کے جسم میں روح کونسی ہے یہ کیسے پتا چلے گا کیونکہ عام انسان کا جسم بھی گوشت پوست کا بنا ہوا ہے اور دیکھنے میں عام انسان اور عیسی علیہ السلام کا جسم ایک ہی جیسے ہیں ۔بائیبل مقدس تعیلمات عیسی علیہ السلام پر مبنی ہے، بائیبل میں عیسی علیہ السلام کی ذات اور کردار کے حوالے سے زیادہ کچھ نہیں لکھا ہوا، عیسی علیہ السلام ایک بے باک شخصیت کے مالک ہیں انہیں کسی کا کوئی خوف اور ڈر نہیں تھا آپ بے لاگ گفتگو فرماتے تھے اور جو کچھ عیسی علیہ السلام نے بلا خوف و خطر کہہ ڈالا اسے کہنے کی ہمت نہ تو آدم علیہ السلام میں تھی، نہ ہی ایسا ابراہیم علیہ السلام نے اور نہ ہی موسیٰ نے کہا ۔
ایک مرتبہ عیسی علیہ السلام ایک مجمعے کے پاس سے گزر رہے تھے انہیں لگا کہ مجمعے میں سے کسی کے رونے کی آواز آ رہی ہے وہ قریب گئے تو دیکھا کہ مجمعے میں کھڑے لوگ ایک عورت کو پتھر مار رہے تھے آپ نے لوگوں سے پوچھا تم اس کو پتھر کیوں مار رہے ہو تو سب یک زبان ہو کر بولے یہ زنا جیسے جرم کی مرتکب ہوئی ہے اسی لیے ہم اس کو موسی علیہ السلام کی شریعت کے مطابق سزا دے رہے ہیں ۔عیسی علیہ السلام نے مجمعے کے تمام لوگوں کو مخاطب کر کے کہا اس زانی عورت کو پتھر مارنے کا حقدار صرف وہ ہے جس نے ساری زندگی خود کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو تو یہ بات سن کر پورے مجمعے کو جو بڑے جوش کے ساتھ پتھر زنی کر رہے تھے گویا سانپ سونگھ گیا ہو۔اس وقت عیسی علیہ السلام نے کہا جو ہم نےکہا ہے وہ ہو کر رہے گا، کیونکہ میں ہی ابتداء ہوں اور میں ہی انتہا، یہ ہی وجہ ہے کہ نہ تو دوہزار سال پہلے کے لوگ عیسی علیہ السلام کو جان پائے اور انہیں صلیب پر چڑھا دیا تھا اور اگر عیسی علیہ السلام آج آجائیں گے تو کیا یہ کیتھولک ، مسلم، پروٹسٹن، یہودی، ملا ،عالم انہیں دوبارہ آڑے ہاتھوں نہیں لیں گے؟ بیشک یہ انہیں مار تو نہیں سکیں گے لیکن مارنے کی کوششیں تو کریں گے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بائیبل مقدس ،یہودیوں کی کتاب کا تسلسل ہے لیکن ہم قطعی طور پر اسے مسترد کرتے ہیں کیونکہ پرانی بائیبل میں جو کچھ لکھا ہے نئی بائیبل میں اس کے بالکل برعکس تعلیم ہے ، پرانی کتاب میں صرف شریعت کی تعلیم ہے جبکہ نئی بائیبل میں بے مثال زہد و تقوی ، بے مثال محبت کی ایسی تعلیم ایسی باتیں تھیں جو اس سے پہلے کسی نے نہ دیکھی تھیں نہ سنی تھیں ۔
عیسی علیہ السلام اگر صرف رسول اللہ ہیں تو ان کی باتوں میں کسی خوف کا عنصر کیوں نہیں تھا حالانکہ رسول تو ان سے پہلے بھی آئے لیکن انہوں نے وہ باتیں کیوں نہیں کیں جیسی باتیں عیسی علیہ السلام اپنے امتیوں کو بتاتے تھے ، تمام رسول ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے لیکن عیسی علیہ السلام کو دیکھئیے پہلے آنے والے رسولوں کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں، کس لیے؟ کیونکہ عیسی السلام کو کسی کا ڈر نہیں تھا ۔حق بیانی و حق گوئی اور رازوں کو بیان کرنے کی ایسی ہی طلب ہمیں بھی شدت سے محسوس ہوتی تھی یہ ہی وجہ ہے کہ ماضی میں اکثر اوقات ہماری گفتگو کسی فلٹر کے بغیر ہوا کرتی تھی۔جو عیسی علیہ السلام کے حقیقی مقرب و وفادار حواری تھے ان کے اندر بھی کچھ ایسا ہی جذبہ تھا وہ جان کی پرواہ کیے بغیر حق بیانی سے کبھی چوکتے نہیں تھے ۔ یہاں ہم مثال دیں گے ایک صحابی رسول جناب ابو ہریرہ رضی اللہ کی کہ جب وہ نو مسلموں جن کے پاس ایک ہی طرح کا علم تھا اور جب وہ کسی اور علم کے بارے میں سوال کرتے تو ابوہریرہ ان سے کہتے اگرمیں تمہیں دوسرے علم کے بارے میں بتاؤں تو تم مجھے قتل کر دو۔ لیکن ہم نے تو دوسرے تیسرے چوتھے علم کو عوامی سطح پر کھلم کھلا بیان کیا ہے۔کبھی کبھی بالکل کھرا سچ بتانے سے گریز اس لیے کیا جاتا ہے کہ کہیں آپ کے غبارے میں چھید نہ ہو جائے۔
یہ کسی رسول نے نہیں کہا کہ میں اپنے امتیوں کو ایک ایسے جہاں میں لے جاؤں گا جسے کسی نے نہیں دیکھا لیکن عیسی علیہ السلام نے اپنے ماننے والوں کو بشارت دی کہ میں تمہیں ایسے جہان میں لے جاؤں گا جسے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا ، جس کے بارے میں کسی کان نے نہیں سنا ، اور اِس سے ان کی مراد جنت نہیں تھی عیسی علیہ السلام نے کہا ،عالم غیب میں میرے باپ کا گھر ہے جہاں بہت سے کمرے ہیں ۔

25 نومبر جشنِ ریاض کا حقیقی دن نہیں ہے:

1999 امریکہ میں آج ہی کے دن Marriott Hotel Washington D.C میں ہم سرکارگوھر شاہی کی موجودگی میں جشن ریاض منا رہے تھے اور اس موقع پر وہاں شوکت بھائی، امجد، نعیم بھائی اورچھوٹا سا ناصر بھی تھے۔ ہم کیک لے کر سرکار کے روم میں گئے، سرکار اپنے کمرے میں تشریف فرما تھے اور بے حد حسن آمیز جلوہ ہم نے دیکھا ہم اندر گئےتو سرکار نے پوچھا یہ کیا ہے ہم نے کہا سرکار یہ کیک ہے، سرکار نے پھر پوچھا تم ہر سال سالگرہ کا دن کیوں مناتے ہو؟ ہم کو اس وقت یہ جواب ہی سجھائی دیا کہ سرکار سب لوگ ایسا کرتے ہیں ، پھر فرمایا اچھا لوگ کب تک سالگرہ مناتے رہتے ہیں ؟ ہم نے کہا جب تک کہ وہ زندہ ہیں مناتے رہتے ہیں اس جواب کے بعد سرکار ارشاد فرماتے ہیں لیکن گوہر شاہی تو لافانی ہے۔ (میں تھوڑا سا حیران ہوا کیونکہ Sarkar was speaking in third person)، کیا تم مناتے رہو گے سالگرہ؟ اور یہ ہی وہ دن تھا جب سرکار نے مجھے فرمایا کہ

ہم عالم غیب سے آئے ہیں جہاں سے ہم آئے ہیں وہاں وقت نہیں ہے ، وہاں نومبر، دسمبر ،جنوری، نہیں ہیں ، سرکار گوہر شاہی نے غیب سے آنے کے بعد عالم بالا میں کافی وقت قیام فرمایا تاکہ اللہ کے سسٹم اور اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کے ماحول اور نظام سے واقف کار ہو جائیں۔ وہ لمحہ کہ جب سیدنا گوہر شاہی اپنے جہاں عالم غیب سے عالم بالا میں تشریف لائے تو وہ پچیس نومبر کا دن نہیں تھا اور عالم بالا میں ملائکہ اور دیگر تمام مخلوقات کے بارے واقفیت حاصل کرنے کے لیے جس جگہ قیام فرمایا وہ لمحہ اور وقت کچھ اور تھا اور پھر جب عالم بالا کےاس مقام سے کسی دوسرے مقام پر تشریف لے جاتے ہیں تووہ لمحہ اور وہ وقت کچھ اور ہے یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پچیس نومبر حقیقی معنوں میں سرکار کی سالگرہ کا دن ہے نہیں لیکن ہم پھر بھی اس دن کو جشن اس لیے مناتے ہیں کیونکہ سیدنا گوہر شاہی کے اس سفر کا آغاز عالم غیب سے ہوتا ہے اور پھر آپ کی تشریف آوری عالم بالا میں ہوئی اور پھر عالم بالا سے عالم ناسوت تک کے اس سفر کے آخری مقام پر آمد کا دن پچیس نومبر ہے لیکن عالم غیب سے اس سفر کے آغاز کا دن پچیس نومبر نہیں ہے

گوھر کو جاننے کیلئے گوھر ہونا ضروری ہے:

سوال یہ ہے کہ کیا یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں سرکار گوہر شاہی مل گئے ہیں لیکن کیا ہم اس لائق بھی ہوگئے ہیں کہ سیدنا گوہر شاہی کا قرب بھی ہمیں حاصل ہو جائے؟ کیونکہ سیدنا گوہر شاہی کی انتہائی قربت کا لطف تو اٹھایا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود اتنے مقرب ہو کر بھی آپ سیدنا گوہر شاہی کی ذاتِ والا کو نہیں جان سکتے کیونکہ سیدنا گوہر شاہی کو جاننا آسان نہیں ہے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ حدیث قدسی میں اللہ نے کہا تھا کہ “میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کے جانا جاؤں تو میں نے مخلوق بنائی”۔ یعنی اس نے اپنی ذات سے اپنی صفات کا اظہار کیا اور مخلوق کو بنا کر ان کے لیے اپنی شناسائی کا ایک در کھول دیا تاکہ اس کی مخلوق رسائی کا علم سیکھ کراس تک پہنچے اور اس کے بارے میں جانے،با الفاظ دیگر اللہ کے بارے میں جانا جا سکتا ہے اور دیدار کی تعلیم سیکھ کر اس کے وصل میں پہنچا جا سکتا ہے لیکن سیدنا گوہر شاہی کی تو ایسی کوئی خواہش ہی نہیں ہے کہ لوگ ان کی ذات تک پہنچیں اسی لیے کوئی سرکار کو جان نہیں سکتا اور کسی کو اپنی شناسائی دینے کا انحصار سرکار کی اپنی مرضی پر ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ اگر کسی نے سرکار کی ذات کے حوالے سے جانا بھی تو یہ ہی کہ آپ کا رہائشی شہر کون سا ہے یا آپ کے زندگی کے دیگر معمولات ، روحانیت کے مختلف ادوار اور مشن کے لیے مختلف شہروں پنجاب ، کوٹری حیدرآباد کراچی میں آپ کے سفر کے بارے میں جانا لیکن یہ تمام چیزیں جان لینا سیدنا گوہر شاہی کو جاننا نہیں ہے ۔

The only way to know GOHAR SHAHI is to be GOHAR SHAHI
گوہر کو جاننے کے لیے گوہر ہونا ضروری ہے

سرکار آپ سے کم سے کم جو چیز چاہئیے وہ یہ ہے کہ میں بھی گوہر ہو جاؤں The least I want from You is to be You۔ آپ جیسا ہو جاؤں یہ کہنا درست نہیں ہے یہ شرک ہو جائے گا۔ بیس سال پہلے ہم نے بہت سوچا کہ یہ با ت کہہ دیں لیکن اُس وقت لوگ تیار نہیں تھے۔ توایسی بات سنتے مگر سمجھ نہیں پاتے اور بہت ممکن ہے اپنے آپ کو ان جیسا ہی سمجھنے لگ جاتے، جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی ایک دوسرے جیسا نہیں ہے ۔

گوہر بننے سے پہلے گوہر شاہی کو جاننا ضروری ہے:

کیونکہ جب گوہر کو جانیں گے تب ہی تو سیدنا گوہر شاہی کی آمد کا جشن منا سکیں گے، ہمیں اس بات کا علم بھی ہونا چاہئیے کہ سیدنا گوہر شاہی نے ہمیں جو نعمت عظمی اور جو فیض لا مثال دینے اس دنیا میں تشریف لائے ہیں اُس کرم نوازی سے ہماری زندگیوں میں کیا کیا تبدیلیاں آئیں گی اگر ہمیں عظمت کا پتا ہی نہیں ہو گا تو پھر اس دن کی خوشیاں منانا ، جشن منانا ، ناچنا گانا محض رسماً ہی ہوگا۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 25 نومبر 2020 جشنِ ریاض کے موقع پر یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں