کیٹیگری: مضامین

ظہور اور نزول الہی کا حقیقی مطلب:

جب اللہ تعالی نے اپنی ذات سے صفات کا اظہار فرمایا اس وقت یہ عکس اول اور طفل نوری وجود میں آئے، یوم ازل تو ان ارواح کے معرض وجود میں آنے کے بہت بعد میں ہوا ہے۔ روحانی زبان یا قرآن مجید کی زبان میں یا لوح محفوظ کی اصطلاحات کے حساب سے دو چیزیں ہوئیں ایک تو “ظہور” دوسرا “نزول ” ہوا۔لا موجود الا ھو ۔۔۔۔۔۔اللہ کے علاوہ کسی کا وجود ہی نہیں تھا ، اللہ اکیلا تھا۔اب یہ جو کچھ نظر آ رہا ہے زمین و آسمان اور عرش الہی اور تمام عالمین اور مخلوقات یہ سب پھر کہاں سے آئے؟غالب نے بھی کہا
جب کہ کچھ نہیں تجھ بن موجود۔۔۔۔۔ پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
ظہور کے حقیقی معنی سے لوگ نابلد ہیں ،ظہور کا مطلب اظہار کرنا ہے، جیسے کہ اظہار محبت کرنا تو یہ تو نہیں ہے کہ وہ محبت ابھی ابھی ہوئی ہو، محبت تو دل میں رکھے بیٹھےتھے لیکن اس کا اظہار ابھی کیا ہے۔اسی طرح اللہ نے کچھ ظہور فرمایا اور کچھ نزول فرمایا جو ظہور فرمایا وہ اپنے پاس ہی رکھا اور جو نزول فرمایا اس سے مخلوقات بنیں ، نزول کا مطلب ہے نیچے بھیجنا ۔ اظہار کا مطلب اپنی ذات سے اپنی صفات کا اظہار کیا۔اللہ نے ذات سے صفات کی جانب جو سفر کیا ہے یہ اظہار سے تخلیق کا سفر ہےاس سفر کے ایک سرے پر اللہ اور دوسرے سرے پر انسان ہے، اللہ بھی الف سے آتا ہے اور انسان بھی الف سے آتا ہے۔ اب اللہ سے انسان تک وہ پہنچ گیا، جب وہ چلا تو اللہ تھا اور جب وہ رکا تو انسان ہو گیا ، اب بیچ کا وہ سفر کیا ہے؟ اظہار کیا اورپھر نزول کرتا آیا اس اظہار کے سفر کی کچھ منزلیں ہیں جنہیں آپ سیڑھیاں بھی کہہ لیں ، ایک سیڑھی چڑھے تو کچھ اوپر ہو گئے پھر ایک اور سیڑھی سے اس سے بھی اوپر ہو گئے ، تو اللہ سے انسان تک کا ایک سفر ہے اس کو یوں سمجھ لیں جیسے کہ ایک بندہ ایک جگہ سے دوسری جگہ گیا اب اس کی وڈیو کو جب سلو موشن میں ریوائینڈ کریں گے تو وہ بندہ واپس وہیں پہنچ جائے گا نا۔تخلیق کائنات کو سمجھنا ہے تو یہ ہی کرنا پڑے گا۔

اللہ کا انسان تک آنے کا سفر کیسے شروع ہوا؟

جب حضور سے لوگوں نے سوال کیا کہ بتائیں روح کیا ہے؟ تو اللہ نے اس کا جواب نہیں دیا اور کہا کہہ دیں کہ ابھی ہم نے اس کا علم نہیں دیا اور یہ کہہ کر بات آگے بڑھا دی کہ روح اللہ کا امر ہے۔اللہ وہاں سے چلا ہے تو اللہ تھا جب زمین ہر پہنچا تو انسان ہو گیا، اب جن لوگوں کو اللہ کی تلاش ہے وہ اسی سفر کو ریوائینڈ کر لیں ، جو چیز ریوائینڈ کرتی ہے اس کو “تصوف ” کہتے ہیں ۔وہ سفر کیا ہے؟اللہ نے اپنی ذات کا اظہار فرمایا تو صفات نمودار ہو گئیں ، اس سے پہلے ان صفات کا اظہار نہیں تھا تو وہ اللہ کی ذات کا حصہ تھیں ، پھر جب اظہار فرمایا تو وہ صفات منکشف ہو گئیں ۔اظہار کا تعلق کسی چیز کے وقوع ہونے سے ہے جب وہ ہوگا تو اس سے متعلقہ صفات ظہور ہو جائیں گی۔روحانیت یہ کہتی ہے کہ میرے پاس وہ طریقہ ہے کہ جس کے کرنے سے اللہ کی صفت رحم مشتہر ہو جائے۔تم عبادتوں میں لگ کر اُس صفت کو اجاگر کرنے میں لگے ہو تم کو طریقہ نہیں آیا کہ وہ مجھ سے محبت کیسے کرے گا۔جس طرح لائٹ کا کام روشنی دینا ہے یہ اسی وقت روشن ہو گی جب اس کا بٹن دبایا جائے گا، اگر کسی کو لائٹ آن کرنے کا بٹن دبانا نہیں آتا تو ٹیوب لائٹیں موجود ہوں گی لیکن آن نہیں ہوں گی ، اسی طرح تم مسجدوں مندروں ، کعبے اور مسجد نبوی میں ٹکریں مار رہے ہو اور وقت ضائع کر رہے ہو، تم کو اللہ کی صفت محبت بیدار کرنا نہیں آرہی ۔
ہم انسان کی مختلف صفات بھی دیکھتے ہیں اگر کوئی ناراض کرنے والی بات کی جائے گی تو انسان غصہ کا اظہار کرے گا اگر تعریف و توصیف کی جائے تو رحم اور نرمی پیدا ہوگی۔یعنی ہر انسان میں مختلف صفات موجود ہیں لیکن وہ خفتہ حالت میں ہیں حسب ضرورت ان صفات کا اظہار ہوگا ، یعنی اگر میں آپ کی تعریف بیان کروں گا تو آپ میں نرمی اور رحم بیدار ہو گا لیکن اگر میں اپنی تعریف بیان کرنے لگوں گا تو آپ میں تکبرکی صفت بیدار ہو جائے گی۔کچھ لوگ دوسروں میں سے ان کا بہترین رُخ دنیا کے سامنے لے آتے ہیں اور کچھ لوگ آپ میں سے آپ کا بدترین رُخ باہر نکال لاتے ہیں ۔یعنی کوئی چیز ہے جو آپ کی صفات کو بیدار کرتی ہے، جس طرح شہوت سب میں ہے لیکن اس کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب کسی برہنہ عورت کو دیکھ لیں ۔ اگر کوئی کہے بیٹھے بیٹھے فلاں صفت کا اظہار کر کے دکھائو تو یہ آپ سے نہیں ہو گا ، آپ کی صفات کو مظہر و مشتہر ہونے کے لیے کسی نہ کسی وجہ کی ضرورت ہے لیکن اللہ ہر شے پر قادر ہے۔ اللہ نے اپنی تمام صفات کا اظہار فرما دیا۔اللہ تعالی کبھی آپ کو اس قابل کرے کہ آپ عرش الہی پر جا کر دیکھیں کہ اللہ کے وجودِ مبارک سے قوس و قزح کے سات رنگوں کی طرح اس کی مختلف صفات کا اظہار ہو گا کبھی اس صفت کا اظہار ہوا تو سات رنگ نکلے ، کبھی دوسری صفت مظہر ہوئی تو سات رنگ بکھرے، پتا نہیں کتنی صفات ہیں اس ذات میں ، لیکن بروقت سات نکلیں ، اس نے اپنی صفات کا اظہار فرمایا اور ان صفات سے بہت ساری چیزیں بنانی تھیں لہذا وہاں ایک صفاتی عالم ہو گیا لیکن وہ عالم ِاظہار ہے ۔

اظہار و تخلیق کے درجات:

اب یہ صفات کے تیسرے درجہ یا تیسرے عالم کی بات ہے ، اللہ نے ایک قدم بڑھایا تو صفات کا اظہار ہوا، پھر ایک قدم اور بڑھایا تو اسماء کا اظہار ہوا ، اسماء کے اظہار سے مراد کے اب یہ جو اظہار ہوئے ان کو نام دیا جائے پھر اللہ نے اپنی صفات کو نام دئیے کہ یہ صفت قہار ہے، یہ صفت کریم ہے، یہ صفت رحیم، یہ صفت رحمان ، صفت غفور ہے اس طرح مختلف صفات کے اظہار کو نام دئیے۔پھر چوتھا درجہ اعیان اور اس کے بعد آثار آتا ہے، اعیان کہتے ہیں آنکھوں کو، یہاں تو دیکھنے کی صفت ہمیں ان دو آنکھوں کو مل گئی ہے لیکن باطن میں آنکھ نہیں ہوتی وہ پوری کی پوری ایک صفت ہے جب یہ صفت آ جاتی ہے تو سب کچھ اسکی نظروں کے سامنے مشتہر ہو جاتا ہے۔تو یہ نزول کا سفر اس طرح چلا پہلے درجہ میں اللہ کی ذات پھرصفات،أسماء،آثار، اعیان اور آخر میں انسان ۔ اب آپ نے اللہ کو پانے کے لیےاوپر کی طرف جانا ہے جس طرح اللہ اظہار فرماتے ہوئےنیچے آیا تو انسان ہو گیا ، اُسی طریقے سے انسان نے اوپر کی طرف جانا ہے اسی کو صراط مستقیم کہتے ہیں ۔ اوپر جانا اب آسان ہو گیا ہے کیونکہ پہلے کے چودہ ہزار آدموں پر اللہ نے یہ علم نہیں اتارا لیکن جب آدم صفی اللہ کو بنایا جا رہا تھا تو فرشتوں نے اعتراض کیا

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 30

کہ اے اللہ تو پھر انسان کو بنا رہا ہے پھر یہ دنیا میں جا کر خون خرابہ ، دنگا فساد کرے گا ، کیا ہم تیری تسبیح بیان کرنے کے لیے کافی نہیں تھے، اللہ نے کہا تم نہیں جانتے میں اِس کو کون سا علم دے رہا ہوں ، اگر تمہیں پتا ہے تو بتائو وہ کونسا علم ہے، فرشتوں نے کہا ہم وہ بات کیسے بتائیں جو تو نے ہمیں نہیں بتائیاللہ نے کہا وہ اس آدم کو” علم الأسماء” دے رہا ہے۔علم الاسماء کہاں سے آیا؟ تیسرے درجہ اظہار و تخلیق سے۔ پہلا درجہ ذات دوسرا درجہ صفات اور تیسرا درجہ وہ ہے جہاں اسماء کا اظہار ہوا تھا، ایک دفعہ سرکار گوھر شاہی اس درجہ پر لے کر گئے وہاں دیکھا کہ مختلف درخت لگے ہوئے ہیں جن کی پتیوں پر مختلف اسماء الہی لکھی ہیں ، کسی پر یا رحمان ، کسی پر یا قدوس، کسی پر یا ودود لکھا ہے، سرکار نے فرمایا کسی ایک پتی پر ہاتھ لگائو وہ پتی اور وہ شاخ یا رحمان کی تھی تو یا رحمان کا نور اندر داخل ہو گیا، اس کے بعد سرکار نے فرمایا اب پتھروں سے بات کرو ، ہم نے پوچھا تجھے اللہ نے کب بنایا ، تو پتھر نے مجھے جواب دیا۔علامہ اقبال نے بھی اس بات کو اپنے شعر میں کہا ہے
خدا اگر دل ِفطرت شناس دے تجھ کو۔۔۔۔سکوت ِلالہ و گل سے کلام پیدا کر
جو دل فطرت کا علم رکھتا ہےجن کو اس درجہ کی رسائی ہو جاتی ہے تو وہ ان خاموش کھڑے درختوں اور پہاڑوں سے پوچھتا ہے کہ تیرے برابر سے ہزار سال پہلے کون گزرا تھا، کون تیرے سائے میں آرام لیتا رہا؟پھر ایک یہ راز بھی منکشف ہوا کہ وہ جو حضور کی امتی ارواح ہیں اور کہا جاتا ہے جنہوں نے رب کی گواہی میں ہی کلمہ پڑھ لیا تھا ، تو عالم اسماء میں اللہ نے وہاں کے مختلف درختوں کے پتوں اور پھلوں میں اپنا اسم رکھا ۔ اب ایک پھل کا کٹورا لایا گیا اور جن روحوں کو وہ اسم ذات کے پھل تھے جن روحوں نے اس پھل کو منہ کو لگایا تواسم ذات اللہ اور لا الہ الا اللہ ان کی روحوں میں اتر گیا اب زمین پر آ کر وہ کچھ کریں یا نہ کریں اسی کے امتی ہیں ۔

انسان کا اللہ کی ذات تک کا سفر کیسے آسان ہوا ؟

پھر ان ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالی نے مرشدین اور کاملین بنائے کہ یہ انہیں ڈھونڈیں ، ان روحوں کو وہاں کی یاد آئے گی کہ ہم وہاں یہ تھے ، یاد کے انگارے سلگیں گے لیکن ان کو سراغ نہیں ملے گا پھر وہ ڈھونڈیں گے کہ کوئی ان کی ارواح کو جگا دے، ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے مرشد کامل بنائے، ان ہستیوں کے پاس جب لوگ گئے تو انہوں نے کہا چلو دل ہی دل میں پڑھو اللہ ھو اللہ ھو ، تو وہ اللہ ھو تو اللہ نے دل میں پہلے سے ڈالا ہوا تھا مرشد نے صرف اس کو بیدار کیا ہے۔اب آپ انسان ہیں اور آپ نے واپس اوپر جانا ہے تو ہونا تو یہ ہی چاہئیے کہ انسان سے اعیان ، اعیان سے آثار اور آثار سے اسماء اور وہاں سے صفات اور صفات سے چھلانگ لگا کر ذات تک پہنچیں گے لیکن اللہ نے آدم صفی اللہ کو علم الاسماء دے کر آسانی کر دی ، اب اگرانسان کو رب کا کوئی اسم عطا ہو گیا تو اعیان اور آثار کی پھلانگ لگا کر انسان سے سیدھا تیسرے درجہ میں پہنچ گیا اس واپسی کے سفر کو صراط مستقیم کہتے ہیں ، وہاں پر یہ نہیں کہتے کہ یہ سنی ، وہابی، دیوبندی ہے وہاں پر سب انسان ہیں وہاں کہتے ہیں انسان اوپر جا رہا ہے اور اس راستے کو راہ سلوک کہتے ہیں ۔اس راہ سلوک پر وہی چل سکتا ہے جس کو اللہ چاہتا ہے، جس کو اللہ نہیں چاہتا وہ ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتا ہے کبھی دیو بندی کی مسجد اور کبھی سنی کی مسجد میں جاتا ہے اور کبھی بدعتی دیوبندی کے چکروں میں عمر ضائع ہوتی ہے۔انسان کے اپنی ذات تک کے سفر کو آسان بنانے کے لیے اللہ تعالی نے آدم صفی اللہ کو تیسرے درجہ کا راز دے کر کرم کیا اور پھر اس سے اگلے درجہ کا علم اور راز ابراہیم علیہ السلام کو دیا پھر اس سے بڑا راز موسی کو دیا اور اس بھی آسگے کا راز عیسی علیہ السلام کو دیا اور ان سب سے بڑا راز محمد رسول اللہ کو عطا فرما کر بھیجا اور اس کے بعد نبوت کا دروازہ بند کر دیا ، اب نبوت اور رسالت دونوں کا خاتمہ ہو گیا، اب کوئی ہے ہی نہیں ، اللہ نے اپنی شاہکار ترین اور افضل الخلائق مخلوق محمد رسول اللہ کو بھی بھیج دیا ان سے پہلے اللہ کے مختلف صفاتی اسماء یا ودوود، یا قدوس، یا رحمان آئے لیکن محمد رسول اللہ نے سارا کام ہی عجیب و غریب کر دیا ،حضور سے پہلے تیسرے درجے والی بات تھی لیکن اب یہ کیا ہوا کہ حضور نبی پاک کے وسیلے سے تیسرے درجے سے چھلانگ لگا کر پہلے درجے میں پہنچ گئے ۔حضور ذاتی عالم کا علم لائے جب اسم اللہ اندر گیا تو ایک ہی جست میں پہلے درجہ انسان سے براہ راست ذات تک رسائی عطا ہوگئی۔عکس اول والی بات اس وقت کی ہے جب اظہار اور نزول ہوا ۔

مندرجہ متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 23 نومبر 2017 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں