کیٹیگری: مضامین

پلواما میں دہشت گردی اور اسکے اثرات:

ہماری گفتگو سے جو اہلِ محبت ہیں وہ خوش ہوں گے خواہ وہ پاکستانی شہری ہو ں یا ہندوستانی شہری ہوں لیکن جو اہلِ نفرت ہیں وہ میری اس گفتگو سے نہ کچھ سمجھ پائیں گے اور نہ ہی اس کو سراہیں گے۔ان نفرت زدہ لوگوں میں خواہ وہ پاکستانی ہو یا ہندوستانی۔سچ بولنا اور سچ کہنا درویش کی فطرت ہے۔ہمارا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے اور نہ ہی ہماری وفاداری کسی ملک کے ساتھ ہے۔ہم کسی جھنڈے کی بے حرمتی نہیں کرتے لیکن یہ کسی کو کہوں گا کہ وہ کسی ملک کی بے حرمتی کریں۔ میں عالمگیر شہری ہوں ۔ہمارا دین نہ ہندو ہے اور نہ اسلام ہے۔میرا دین انسانیت سے پیار اور محبت ہے۔ہماری اس موضوع پر بات کرنے کی وجہ انسانیت کا درد ہے۔ پاکستان میں کوئی بے گناہ مارا جائے تو انسانی ہمدردی کے ناتے اس پر بھی آنسو بہتے ہیں۔اور اگر ہندوستان میں کوئی معصوم مارا جائے تو اس زندگی کے نقصان کا بھی دل کو صدمہ ہوتا ہے اور آنسو بہتے ہیں۔ہم انسانیت میں مذہب اور پاسپورٹ کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتے ہیں۔ہندو ، مسلم ، عیسائی اور سکھ سب انسانیت میں برابر ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ آپ کسی بھی مذہب یا نسل سے تعلق رکھتے ہوں ہم سب انسانیت میں برابر ہیں۔ہندوستان میں جو کشمیر واقع ہے وہاں 14 فروری 2019 فوجیوں پر ایک خود کش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں ہندوستانی فوج کے کم و بیش چوالیس جوان ہلاک ہوگئے۔ہم اُن جوانوں کیلئےسیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں دعاگو ہیں کہ ان پر رحمت کا سایہ ہو اور اُن کا باطن منور ہو ۔یہ کمزور لمحات میں شیطان حملہ کرتا ہے اور ایک دوسرے کو لڑاتا ہے۔ اور انسان اتنا بیوقوف ہے کہ وہ اپنی عقل استعمال کئے بغیر لڑپڑتا ہے۔ان نازک لمحات میں انسان نفرت کی آگ اور شدت میں اتنا بڑھ جاتا ہے کہ وہ انسانیت کے بنیادی اُصولوں کو بھول جاتا ہے۔ پلواما میں جو دہشتگردی کا حملہ ہوا ہے یہ کوئی پہلا دہشت گرد حملہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی بہت دہشت گرد حملے ہوئے ہیں۔پاکستان کی سرزمین بھی خون سے لت پت ہے۔ہندوستان میں سالوں بعد دہشت گردی کا حملہ ہوتا ہے لیکن پاکستان میں آئے دن دہشت گردحملے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جس میں قصوروار بہت کم ہیں اور متاثرین بہت زیادہ ہیں۔پلواما میں دہشتگردی حملہ ہونے کے بعد ہندوستان میں نفرت کی ایک ایسی لہر اُٹھی ہے کہ جس کی وجہ سے ایک عام شہری اپنی عقل کھوچکاہے۔نجوت سنگھ سدھو نے ایک بیان دیا کہ جو دہشتگرد ہیں ان کو ہر حال میں سزا ملنی چاہئے لیکن چند دہشتگردوں کی وجہ سے آپ پوری قوم کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ اور سدھو صاحب نے دوسرا نکتہ یہ بیان کیا کہ مکالمے کے ذریعے اس کا مستقل حل ڈھونڈنا چاہئے۔یہ دو نکتے بیان کرنے پر ہندوستان میں نجوت سنگھ سدھو کو غدار کہا جارہا ہے۔اگر اس بیان کو آپ دس دفعہ بھی پڑھیں گے تو آپ کو کہیں سے بھی یہ معلوم نہیں پڑے گا کہ نجوت سنگھ سدھو غدار ہوسکتا ہے۔اس بیان کو پڑھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ
1-دو چار دنوں کا ہنگامہ کرنے کی بجائے مکالمے کے ذریعے اس کا مستقل حل تلاش کرنا چاہئے۔
2-اگر چار آدمی جھوٹے ، مکار اور قاتل ہیں تو چار آدمیوں کی وجہ سے آپ پوری قوم کو غلط نہیں کہہ سکتے۔اگر چار پاکستانی انسانیت کے دشمن ہیں اور دہشت گرد ہیں تو ان چار پاکستانیوں کی وجہ سے پوری قوم کو دہشتگرد نہیں کہنا چاہئے ۔
آج عام ہندوستانیوں کے لہجے میں جو سختی اور شدت نظر آرہی ہے وہ شدت دشمن کے لہجے میں ہوتی ہے۔آپ پڑوسی ہیں اور برابر میں رہتے ہیں اس لئے محبت سے رہیں۔جو آپ ایک دوسرے کو دشمن ملک کہہ کر پکارتے ہیں یہ محبت اور امن کا پیغام نہیں ہے۔آپ ہمسایہ ملک بھی کہہ سکتے ہیں لیکن دشمن دیش نہ کہیں۔جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی مکالمہ ہے۔اگر آپ جمہوریت سے جان چھڑارہے ہیں تو اس کا صرف ایک مطلب ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے ہیں۔پاکستان اور ہندوستان کیلئے سب سے بہترین حل امن اوردوستی ہے۔پاکستان اگر محمدﷺ کی تعلیمات پر عمل کرےتو پھر اسلام کے اصولوں کے مطابق ہندوستان اور پاکستان کے تعلق اتنے مضبوط ہونے چاہئیں کہ کسی اور ملک سے دوستی کی بات بعد میں ہو ،پہلے پاکستان اور ہندوستان کی دوستی امر ہونی چاہئے۔جب نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی مومن ہو اور اس کا پڑوسی بھوکا سو جائے۔اگر ملک کو دیکھا جائے تو ایک شہری اس کی اکائی ہے اور پورا ملک ایک فرد سے آگے بڑھ کرقوم بنتا ہے۔اگر محمدالرسول اللہ ﷺ اسلام کے ماننے والوں کو یہ درس دے رہے ہیں کہ تیرا پڑوسی بھوکا سو گیا تو تمہارے ایمان کی گارنٹی نہیں ہے تو پھر یہ پاکستان کی قوم کے اوپر بھی لاگو ہوتا ہے کہ اگر تمہارے پڑوس میں کوئی ناحق مارا گیا تو تمہارے سینے میں درد ہونا چاہیے۔ اور اگر تمہارے سینے میں اپنے پڑوس ملک کیلئے درد نہیں ہے تو تمہارا اسلام مشکوک ہے کیونکہ نبی کریم ﷺکی یہی تعلیم ہے۔
دوسری طرف ہندوستان میں بھی بہت اچھے لوگ رہتے ہیں جو انسانیت اور محبت کی بات کرتے ہیں اور ایسے لوگ ہر طبقہٴ حیات میں موجود ہیں جیسا کہ نجوت سنگھ سدھو ہیں ۔اور پھرایسے بھی لوگ ہیں جو مکالمے کی بات کرنے والوں کو غدار بھی کہہ رہے ہیں اور نفرت کی ہوا چل رہی ہے۔یہ نفرت والے لوگ جنگ کروانا چاہتے ہیں۔ ان نفرت پھیلانے والوں سے پوچھا جائے کہ اگر تم جنگ چاہتے ہو تو جنگ میں کس ملک کا بھلا ہوگا! یہ 1965 اور 1971 نہیں ہے بلکہ یہ 2019ہے۔بہت سے لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان میں دوستی اور امن قائم نہ ہو۔ کیونکہ اگر پاکستان اور ہندوستان میں دوستی ، امن اور بھائی چارہ ہوگیا تو دنیا کا سب سے بڑا حصّہ بن جائے گا۔ہندوستان اور پاکستان ایک ہی قوم ہے ۔اگر پاکستان اور ہندوستان کی دوستی ہوجائے تو ہندوستان کی معیشت کیلئے بہت فائدہ مند ثابت ہوگا۔ اگر صرف پاکستان کی 22کروڑ عوام کو ہندوستان اپنی اشیاء برآمد کرے تو ہندوستان کی معیشت بڑھ جائے گی۔پاکستان ایسی کوئی خاص چیز نہیں بناتا ہے جس کیلئے آپ سمجھیں کہ پاکستان بھی انڈیا کو برآمد کرے گا۔

وزیر اعظم ہندوستان جناب نریندر مودی کو نصیحت:

جو نفر ت کی آگ پھیلانے والے لوگ ہیں یہ سامراجی سوچ رکھنے والے لوگ ہیں۔نفرت کی جو آگ دلوں میں جل رہی ہے جس کا ذکر سرِعام عوام میں بھی کیا جارہا ہے۔اس نفرت کی آگ سے نہ پاکستان کا بھلا ہے اور نہ ہندوستان کا بھلا ہے۔ پلواما میں جس آدمی نے حملہ کیا وہ ہندوستانی تھا تو پوری ہندوستانی قوم کو غدار نہیں کہا جاسکتا۔ اگر آپ کہیں کہ وہ ہندو نہیں مسلمان تھا تو گاندھی جی جس نے پورے ملک کو آزادی دی ہے ان کو مارنے والا تو مسلمان نہیں تھا۔دہشتگردی کا کوئی دین نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ دہشتگردی ہر دین میں ہے۔ ہندو، مسلم ، عیسائی اور یہودی سب مذاہب دہشتگردی سے پاک نہیں ہیں۔ جب کوئی دھرم، دین اور مذہب اندر والی شکشا اور باطنی تعلیم کو بھلا دیتا ہے تو وہ پورا دھرم آتنگ واد بن جاتا ہے۔اگر وہ اندر والی شکشا اور باطنی تعلیم باہر والی شکشا سے نہ ملائی جائے تو اسلام ، ہندو اور عیسائیت میں کیا فرق پڑتا ہے۔یہ اندر والا علم ہے جو تمہیں انسان بناتا ہے ۔اندر والا علم یعنی باطنی علم کے بغیر تمہاری شکل انسانوں جیسی ہے لیکن تمہارے دل میں شیطان کا بسیرا ہے۔نفرت کی باتوں میں نہ آؤ بلکہ مکالمہ کرو۔جو بات چیت کرکے مسائل حل ہوتے ہیں وہ جنگ سے کبھی نہیں ہوئے۔جنگ سے کبھی بھی مسائل حل نہیں ہوتے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپین ممالک کو بہت نقصان ہوا ہے جس کے بعد اُن کو سمجھ آ گیا کہ اب ساری نفرتیں بھلا دیتے ہیں ۔اگر آپ کو صرف یہ بتایا جائے کہ آپ کے پیٹ کا درد ٹھیک ہوجائے گا اور یہ نہ بتایا جائے کہ دو گردے کاٹنے کے بعدٹھیک ہوگا تو پھر آپ آپریشن کے بعد کہیں گے کہ اگر تم مجھے بتا دیتے کہ اس پیٹ کے درد سے نجات حاصل کرنے کیلئےاپنے دو گردوں کو کٹوانا پڑے گا تو کبھی بھی ہاں نہ کرتا۔آج کی جمہوریت یہ شکل اختیا ر کر گئی ہے کہ اگر حکمران نے عوام سے کہا کہ ہم جنگ کریں گے اور پھر حکمران سوچیں کہ ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا تو اپنی انانیت کی وجہ سے ملک تباہ کردیں گے لیکن اپنی زبان کے پکے رہیں گے۔کیا آپ چاہتے ہیں کہ چوالیس فوجیوں کا بدلہ لینے کیلئے ڈیڑھ کروڑ عوام مر جائےتو نفرت کی آگ ختم کردو۔یہ نفرت ختم ہونی چاہیے کیونکہ اس سے کسی کی بھلائی نہیں ہوگی۔وہ جاہل اور بیوقوف لوگ ہیں جو نفرت کا پروپیگنڈا کررہے ہیں اور جنگ کی باتیں کرتے ہیں۔یہ انسانوں کیلئے بھلا نہیں ہے۔

وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کو نصیحت:

اگر پاکستان میں امن ہوگا تو معیشت ہوگی اور امن ہوگا تو خوشحالی ہوگی۔اور امن ہوگا تو مقامی سرمایہ کاری اور غیر ملکی سرمایہ کاری ہوگی۔جب لوگوں کو نظر آئے گا کہ پاکستان میں دہشتگردی ختم ہوگئی ہو تو پھر لوگ کہیں گے کہ پاکستان میں کاروبار کریں۔آج تو پاکستان کا یہ عالم ہے کہ پاکستان میں کوئی بیرون ممالک سے کھیل کیلئے نہیں آنا چاہتا ہے۔بنگلہ دیش جیسے ملک کی آپ بھیک مانگتے رہے کہ آؤ پاکستان میں کرکٹ میچ کھیلتے ہیں لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ اگر پاکستان میں غیر ملکی ٹیم آکر دو میچ کھیلے اور باہر تیس ہزار فوج کا پہرہ ہو تو پھر کوئی بھی پاکستان میں کھیل کیلئے نہیں آئے گا۔آپ کا سیکورٹی کا یہ نظام بتا رہا ہے کہ پاکستان محفوظ نہیں ہےکیونکہ اگر پاکستان محفوظ ہوتا تو اتنی سیکورٹی نہیں ہوتی۔اس سے پہلے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری منگواؤ اور اس سے پہلے کہ غیر ملکی ٹیموں کو پاکستان کھیلنے کیلئے بلواؤ، اپنے ملک میں امن و امان کا نظام قائم کرنا ہوگا۔کیا آپ کو اس بات کا خیال ہےکہ پاکستان میں مسلمان ہی مسلمان کو ماررہاہے۔اگر آپ کو سمجھ نہیں آتا ہے کہ سعودی عرب آپ پر اتنا مہربان کیوں ہے اور آپ کےایران سے لڑائی جھگڑے کیوں ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ اگر کوئی کرکٹ کا ورلڈ کپ جیت لے تو وہ دنیا کا سب سے ذہین انسان ہوگا۔اگر ایسا ہوتا تو ہندوستان میں کپل دیو وزیراعظم ہوتا۔

سیاست کرکٹ نہیں ہے بلکہ سیاست انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔سیاست کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر آپ پاکستان کے وزیرِ اعظم ہیں تو صرف پاکستان کی خیرخواہی چاہیں گے بلکہ سچا سیاست دان وہ ہے جس کی نظر میں سب انسانیت برابر ہو اور وہ دنیا میں رہنے والے سب شہریوں کا اچھا سوچتا ہو

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشتگردی ہے۔جب ہندوستان کہتا ہے کہ چند تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں تو آپ آنکھیں بند نہ کریں بلکہ یہ بات سچ ہے ۔جو تنظیمیں ہندوستان جاکر یا وہاں کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر دہشت گردی میں ملوث ہیں تو وہ تنظیمیں پاکستان میں بھی مسلمانوں کا قتل عام کررہی ہیں۔کوئٹہ میں ایک ہزارہ برادری ہے آئے دن ان پر ظلم ہوتا رہتا ہے ہزاروں لوگ مارے گئے۔امام بارگاہوں میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں ، یہ کونسا مسلمان ہے کہ دوسرے فرقے کی مسجد میں رکھا قرآن اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔پاکستان میں ہر فرقہ دوسرے فرقوں کو کافر کہتا ہے۔ اگر پاکستان میں رہنے والا مسلمان دوسرے مسلمان سے محفوظ نہیں ہے تو اگر کشمیر کے لوگ پاکستان کا حصہ بن جائیں گے تو ان کے تحفظ کی کیا گارنٹی ہوگی۔جس ملک میں بھی رہتے ہو امن اور خوشی سے رہو۔نفرتیں چھوڑدو اور ہتھیار پھینک دو ۔اللہ کے رسول کا حکم ماننے کیلئے نہ تمہیں سعودی عرب جانا ہے اور نہ پاکستان جانا ہے کیونکہ قرآن و حدیث تمہارے ملک میں بھی موجود ہیں۔فوج اور سیاست دانوں کو بٹھائیں اور اس مسئلے کا حل سوچیں۔جب کوئی کہتا ہے کہ پاکستان دہشتگرد ملک ہے اور یہ دہشتگردوں کیلئے محفوظ ملک ہے تو عملی طور پر یہ بات درست ہے۔یہ الگ ہے کہ اس بات کے درست ہونے کے باوجود پاکستان قوم دہشتگردی کا پہلا شکار ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا سرمایہ اسلام ہے تو پاکستانی اقوام، پاکستان کی فوج اور سیاست دانوں کو چاہیے کہ جس نام پر یہ ملک بنایا گیا تھا اور جودین اور دھرم ملک میں برباد کیا جارہا ہے اس اسلام کو دوبارہ اس کے پاؤں پر کھڑا کرو۔ ان دہشتگردوں کو مٹا دو اس لئے نہیں کہ ہندوستان نے کہا ہے بلکہ اس لئے کہ تمہارا دین کہتا ہے۔یہ تمہارے رب اور قرآن کا حکم ہے۔جب دہشتگردی ختم ہوگئی اور امن قائم ہوگیا تو دنیا کو نظر آئے گا کہ پاکستان اب دہشتگردوں کیلئے محفوظ جگہ نہیں ہے۔جب خدا کا کہنا مان لو گے اور خدا سے دوستی کرلو گے تو رب کہے گا کہ سب کو دوست بنا لو۔پیار، محبت، امن اورآشتی یہ وہ خطوط ہیں جن کو اوپر آپ کو اپنی زندگی گزارنی ہےصرف باتوں سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ایک دوسرے کو کم تر دکھانے کیلئے اور دل میں کچھ اور ہونا اور زبان سے کچھ اور کہنا سیاست نہیں ہے بلکہ شیطانیت ہے۔
ہم انسانی ہمدردی کے ناطے ہندوستان کو بھی کہتا ہوں کہ وہ بچگانہ باتیں ، لڑائی کی باتیں، نفرت کی باتیں اور جنگ کی باتیں نہ کرے۔پڑوسی کا بڑا حق ہوتا ہے، امریکہ بہت دور ہے اور پاکستان اور ہندوستان بہت قریب ہیں۔ اس لئے جب پاکستان کو مددکی ضرورت ہوگی تو سب سے پہلے ہندوستان پاکستان کی مدد کیلئےآئے گااور جب ہندوستان کو مدد کی ضرورت ہوگی تو پاکستان سب سے پہلے مدد کیلئے آئے گا۔ایک دوسرے کے بھائی بن جاؤ اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت کارشتہ بناؤاور مکالمے کا سلسلہ دوبارہ شروع کرو ۔ اخلاص اور سچ کی بنیاد پر مکالمہ ہونا چاہیے۔مکالمہ جب ہوتا ہے تو اس کی ایک خوبی یہ ہوتی ہے کہ بغیر ملاقات کےجب بیان جاتے ہیں تو بہت جھوٹ بولا جاتا ہے لیکن جب آمنے سامنے بیٹھ کر گفتگو ہوتی ہے تو انسان کو جھوٹ بولنے میں شرم آتی ہےاس لئے مکالمہ کامیاب رہتا ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 21 فروری 2019 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں