کیٹیگری: مضامین

دینِ الہی کو کس نے تحریر فرمایا؟

سیدنا امام مہدی سرکارگوھرشاہی کی کتابِ مقدس دینِ الہی کی حروف چینی کیلئے سرکار گوھر شاہی نے ہمیں امریکہ بلوایا تھا اور اِس کتاب میں جو تصاویر وغیرہ ہیں اُن پرامجد علی نے کام کیا ہے لیکن یہ سارا کام اور آئیڈیا سرکارگوھرشاہی نے خود اپنے دستِ مبارک سے بنایا ہے اور پھر ہمیں دیا ہے۔ یہ کتاب، کتاب نہیں ہے بلکہ یہ علمِ لدنی سے بھر پور ہے۔ یہ کیسا علمِ لدنی ہے! آپ اس کا مطالعہ فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ 1999 میں اس کتاب کو سرکارگوھر شاہی نے امریکہ میں سپرد تحریر کیا اور ایشبرن ورجینیا میں اس کی پہلی پرنٹنگ ہوئی۔ اس کے بعد پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔اس کے ترجمے کی ہم نے خود کوشش کی ہے۔ باہر کسی سے نہیں کرایا ہے۔ یہ کتاب اب مختلف زبانوں جیسے فارسی، اردو، انگریزی، سندھی، بنگلہ، ہندی، ڈچ اورعربی میں بھی موجود ہے۔

دینِ الہی کس کیلئے ہے؟

اس کتاب کی ایک بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ جب آپ یہ کتاب غور سے پڑھیں گےتو آپ کو محسوس ہوگا کہ سرکارگوھر شاہی آپ سے مخاطب ہیں اور اگر آپ تحت الفظ آواز کے ساتھ اس کا مطالعہ کریں گے تو پھر نور بھی بہت بنے گا۔ کتاب کا عنوان قرآن مجید کی ایک آیت سے شروع ہوتا ہے کہ

وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا
سورة النصر آیت نمبر 1
ترجمہ: اور تم دیکھو گے لوگوں کو دین اللہ میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے۔

پھرکتاب کے دائیں اور بائیں طرف چاند اور سورج کی شبیہ ہیں۔ چاند میں تصویرِ گوھر شاہی صاف صاف نمایاں ہے اور سورج میں بھی تصویرِ گوھر شاہی نظر آرہی ہے۔ پھر درمیان میں جو کتاب کا مغز ہے اُس میں مختلف مذاہب کے علامتی نشانات بنے ہوئے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تمام مذاہب کیلئے تعلیم ہے۔ اس کے بعد سرکار سیدنا گوھر شاہی نے ایک جملہ بھی اس پر تحریر فرمایا ہے کہ

یہ کتاب ہر مذہب، ہر فرقے اور ہر آدمی کیلئے قابلِ غور اور قابلِ تحقیق ہے اور منکرانِ روحانیت کےلئے ایک چیلنج ہے۔

جب کتاب کھول کر ہم پہلے صفحے پر داخل ہوتے ہیں تو وہاں بھی شروعات اسی آیت سے ہوتی ہے کہ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا۔ اِس کے نیچے کتاب کا نام “دینِ الہی” لکھا ہے اور ِاس میں اللہ تعالی کے جو پوشیدہ راز ہیں اُن کو اجاگر کیا گیا ہے۔ علمِ لدنی ایک تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی اپنا مزاج اور طور طریقہ کسی کو دے دے تو وہ علمِ لدنی کہلاتا ہے۔ یہ علم اگلے درجے کا علمِ لدنی ہے جس میں اللہ کے پوشیدہ رازعُریاں کئے گئے ہیں۔ پوشیدہ کا مطلب ہے کہ اس سے پہلے کوئی جانتا نہیں تھا۔ پھر سرکار گوھر شاہی فرماتے ہیں کہ

یہ کتاب اللہ کے متلاشیوں اور اللہ سے محبت کرنے والوں کیلئے ایک تحفہ ہے۔

جو اللہ کو تلاش کر رہے ہیں تو دیکھیں کہ کتنے لوگ اللہ کو تلاش کرنا چاہتے ہیں، کتنے لوگ مومن بننا چاہتے ہیں اور کتنے لوگ اللہ کی محبت کا دم بھرتے ہیں۔ کوئی کسی پیر کے ہاتھ چڑھ گیا، کوئی کسی چرسی موالی، ملنگ بابا کے ہاتھ چڑھ گیا، کوئی بے شرح فقیر کے ہاتھ چڑھ گیا لیکن نہ رب ملا، نہ سینے میں نور آیا بلکہ پیروں اور ولیوں سے متنفر ہوکر لوگ گمراہ ہو گئے۔ لیکن سرکار گوھر شاہی نے یہ کرم فرمایا ہے کہ ایک ایسی جامع کتاب تصوف پر لکھی ہے کہ جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔

مختلف اولیائے کرام کی کتب:

روحانیت کی ہزاروں کتابوں میں صرف اور صرف اولیاء کرام کے قصے، کہانیاں اور اُن کی کرامتوں کا ذکر ہے لیکن روحانیت کا منصوبہ (Road Map) کسی کتاب میں نہیں ہے۔ اگر کوئی صوفی بننا چاہے تو وہ پہلا قدم کیا لے، دوسرا قدم کیا لے اور تیسرا قدم کیا لے، یہ کسی کتاب میں نہیں ہے۔ آپ بھلے کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں۔ امام غزالی نے بہت ساری کتابیں لکھیں ہیں جن میں ایک کتاب “کیمیائے سعادت” ہے اور اِس کتاب میں گھاٹیوں کا ذکر کیا ہے۔ پھراِن کی ایک کتاب “مکاشفہ القلوب” ہے وہ بھی اٹھا کر دیکھ لیں تو وہاں پر بھی قرآن کی مختلف آیات، غیبت، بہتان یا شہوت سے کیسے بچنا ہے اور بزرگوں کے واقعات ہیں۔ سیدنا غوثِ اعظمؓ کے خطبات پر مبنی بہت ساری کتب موجود ہیں جس کے مصنف خود غوثِ اعظمؓ نہیں ہیں لیکن جو آپ خطاب فرمایا کرتے تھے تو آپ کے مریدوں میں سے کچھ اُن کو لکھ لیا کرتے تھے تواُن مجالس میں خطبات کو جمع کرکے ایک کتابی صورت دے دی گئی۔ جب ایسا ہوتا ہے تو اس کو کتاب نہیں کہتے بلکہ اِس کو “ملفوظات” کہتے ہیں۔ سیدنا غوث اعظمؓ نے تصوف کی بنیادی باتوں کو چھیڑا ہے اور آپ نے لطیفہ نفس کی پاکیزگی، لطیفہ قلب کی طہارت وبیداری پر اپنے خطبات میں بڑا زور دیا ہے۔

کتابِ مقدس دینِ الہی کی خصوصیات کیا ہیں؟

اگر کوئی صوفی بننا چاہے اور کوئی یہ چاہے کہ مجھے ویسی ڈمیز(Dummies) کتابیں مل جائیں جیسا کہ ڈمیز فار فزکس مل جاتی ہیں۔ یہاں امریکہ، انگلینڈ میں تو مل جاتی ہیں اور پاکستان میں بھی مل جاتی ہوں گی جیسے کیمسٹری ہے اس پر بڑا ہی مفصل بیان ہوگا۔ اس کو کہیں گے کہ کیمسٹری فار ڈمییز جس میں قدم بہ قدم ہر چیز بتائی گئی ہو جیسے کہ انگلی پکڑ کر چلانے والی بات ہے کہ اب یہ کرنا ہے تو یہ کتاب دین الہی ، سیدنا گوھر شاہی کی تصنیف یہ واحد کتاب ہے کہ جس میں ولی اللہ بننے کی پوری تفصیل موجود ہے۔ قدم بہ قدم کہاں سے شروع کرنا ہے، ختم کہاں کرنا ہے اور اب رہ گئی بات کہ کتاب تو ہے مرشد کہاں ہے!

اس کتاب کا اعجاز یہ ہے کہ اگر آپ اس کتاب کو یقین کے ساتھ پڑھتے رہیں تو جس کی یہ کتاب ہے وہ آپ کی رہبری کرنا شروع ہو جائے گا اور اس کتاب کی موجودگی میں آپ کو مرشد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ یہ کتاب مرشد بن جائے گی کیونکہ یہ زندہ کلام ہے۔

جس کا کلام ہے اُس ذات نے اپنی تحریر میں موٴکلات بند کر دئیے ہیں کہ جب آپ پڑھیں گے تو وہ موٴکلات اس کی تحریر جو آپ پڑھ رہے ہیں سرکار گوھر شاہی کے سینے سے ان کی سطروں کو جوڑ دیں گے۔ سب سے اہم ترین بات تو یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس یہ کتاب ہے تو آپ کو مرشد کی ضرورت نہیں ہے۔ اردو زبان میں تو ہم نے یہ کتابیں بہت ساری چھپوائی ہیں اور ہم نے اس کوپوری دنیا میں جہاں جہاں تک ہم سے ہو سکا ہے مفت تقسیم کیا ہے۔ لوگوں کی خدمت کیلئے خود پرنٹ کرواتے ہیں تاکہ لوگوں کو نورِ حق اور ہدایت میسر آجائے۔ فیض جاریہ سمجھتے ہوئے اپنے پیسوں سے اس کو پرنٹ کرواتے ہیں اور پھر جو یہ کہتا ہے مجھے یہ چاہیئے تو اس کو دے دیتے ہیں۔کبھی اس کا ہم نے کوئی معاوضہ نہیں لیا کیونکہ اس کا معاوضہ کوئی دے نہیں سکتا۔ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ

هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
سورة الرحمن آیت نمبر60
ترجمہ: احسان کا بدلہ احسان ہے۔

جو کچھ یہ کتاب ہم کو دے گی وہ ہم کیسے لوٹا کر دے سکتے ہیں تو یہ کتاب درحقیقت انمول ہے۔اس کا کوئی مول نہیں ہے۔ یہ جملہ آپ یاد رکھیں کہ اگر یہ کتاب آپ کے پاس ہے تو پھرآپ کو مرشد کی ضرورت نہیں ہے، یہ کتاب کافی ہے۔ اگر یہ کتاب آپ کے پاس ہے تو قرآن، توریت، زبور اور انجیل بھی اسی میں ہے۔

دینِ الہی سے کون فیضیاب ہوگا؟

سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لال باغ میں بیٹھے ہوئے تھے اور اپنی شاعری بھی کر رہے تھے تو فرمایا کہ ہمارے اندر کے پرندے ہماری شاعری گنگنا رہے تھے اور اچانک دیکھا کہ داوٴدؑ تشریف لے آئے اور زارو قطار رونے لگ گئے۔ داوٴدؑ نے کہا کہ ہم نے جتنی بھی مناجات اللہ کی بارگاہ میں کہی ہیں تو اٹھارہ ہزار مخلوقات نے ان مناجات کو سن کر آنسو بہائے ہیں لیکن اے آواز غیب اور اے ہاتفِ مہدی! یہ کیسی سوز بھری آواز ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اشکباری کرتے ہیں جب آپ کی مناجات سنائے جاتے ہیں ۔ پورے مناجاتِ داوٴدؑ ایک طرف اور تریاقِ قلب(منظوم کلام) کا ایک شعر ایک طرف ہے کہ
عشق تیرا دن رات ستائے پھر میں کیا کروں
عشق تیرا دشت و جبل میں رلائے تو پھر میں کیا کروں

کیا سوزوگداز ہے کہ اس کتاب میں مناجات بھی موجود ہیں اور وہ مناجات جس پر لحنِ داوٴد بھی فریفتہ ہے۔ اہل تشیع کہتے ہیں کہ قرآن کے چالیس پارے ہیں تو لوگ کہتے ہیں تیس تو موجود ہیں باقی دس جو تم بتاتے ہو وہ کہاں ہیں تو وہ کہتے ہیں وہ ابوبکر کی بکری کھا گئی تھی ہمارے پاس نہیں ہیں۔ وہ دس پارے بھی کتاب دینِ الہی میں موجود ہیں تو یہ کتاب نہیں ہے بلکہ یہ تو مرشد کامل ہے۔ ہم کو دیکھنے میں یہ کتاب لگتی ہے لیکن جس طرح حجرِ اسود دیکھنے میں پتھر لگتا ہے، وہ پتھر نہیں ہے۔ یومِ ازل میں حجرِاسود انسانی صورت میں تھا اور پھروہ یہاں پرآگیا۔ اگر اس کو پتھر کی صورت میں نہ رکھتے تو وہ بولتا۔ جو لوگ بدتمیزی اور گستاخی کرتے ہیں وہ ان کی شکایت بھی کرتا ہے لہذا اس کو پتھر کی حالت میں رکھا کہ بس خاموش رہ کر نوازتے رہو لیکن اگر وہ انسانی صورت میں بھی آتا تب بھی وہ خاموش ہی رہتا۔ پھر اس کو یہ کہا کہ تم ایسا کرو دیکھتے رہو سب کو، شاہد رہواور ازل میں بھی تم نے سب کو دیکھ لیا ہے تو اب دنیا میں بھی تم سب کو دیکھتے رہو۔ پھر یومِ محشر میں بتانا کہ کس نے تم سے محبت کی، کس نے تجھے رلایا، کس نے تجھے ستایا اور اُس دن پھر یہ بولے گا۔ میں اس کی زبان بن جاوٴں گا جس سے یہ بولتا ہے تو اس دن یہ بولے گا۔ اگر انہوں نے یہ ضد کی کہ امام مہدی کا ظہور خانہ کعبہ سے ہوگا تو خانہ کعبہ سے ہی ہو جائے گا اور پھر یہ کہیں گے کہ آسمان سے آواز آنی چاہیئے تو آسمان کی آواز تو تم سن ہی نہیں سکتے۔ ابھی بھی تو آسمان سے آوازیں آرہی ہیں تم سن ہی نہیں سکتے تو پھر یہ شرط حجرِاسود پوری کرے گا۔ حجرِاسود سے آواز آئے گی۔ بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ حجر اسود کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے اور توڑ دیا ہے۔ تصویر اس میں نظر نہیں آئے گی تو آواز پھر بھی وہاں سے آئے گی۔ جب آواز آئے گی تو یہ ہوگا کہ حجرِاسود امام مہدیؑ کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا نظرآئے گا۔ جس طرح اس دنیا میں حجرِاسود کو پتھر کی صورت میں بھیجا گیا ہے لیکن وہ پتھر نہیں ہے تو اسی طرح یہ کتاب بظاہر کتاب ہے لیکن یہ کتاب نہیں ہے۔ اس کتاب میں وہ کچھ ہے جو لوحِ محفوظ میں بھی نہیں ہے۔ بس مسئلہ صرف اتنا ہے کہ اس کتاب کے ساتھ صاحبِ کتاب بھی ہو تو پھر یہ کتاب مرشد بن جائے گی۔ اگر بغیر صاحبِ کتاب کے تم یہ کتاب پڑھنا چاہو گے اور صاحب کتاب کیلئے بغض رکھو گے اور گالیاں دو گے تو پھر اس کتاب سے تجھے فیض نہیں ہوگا۔ ہم کہنا نہیں چاہتے لیکن ہمیں کہنا پڑے گا کہ

اگر تمہیں (یونس الگوھر) سے بغض ہے تو یہ کتاب تجھے فائدہ نہیں دے گی۔ اس کتاب سے تجھے فیض نہیں ہو گا کیونکہ یہاں پر بظاہر یہ کتاب کاغذ پر ہے لیکن درحقیقت یہ کتاب کسی کے سینے میں ہے۔

اطلاع برائے ذاکرین:

حرفِ عام میں سرکار گوھر شاہی کے ماننے والوں کو خصوصیت ذکر کی وجہ سے ذاکرین کہا جاتا ہے۔ جس طرح اصحابہ کرام ہیں تو مومن ہیں، انہوں نے حج بھی کیا، نمازیں بھی پڑھیں لیکن ان کی خصوصیت صحبتِ رسولؐ تھی۔ اسی طرح سرکار گوھر شاہی کے ماننے والوں کی خصوصیت ذکرِ الہی ہے لہذا اس خصوصیت کی وجہ سے اِن کو ذاکرین کہا جاتا ہے۔ آپ نے حکم دیا ہے کہ یہ کتاب حق پرستوں، منصف مزاج لوگوں اور اللہ کے طالبوں تک پہنچانی ہے یعنی جو سرکار گوھر شاہی کا ماننے والا ہے سرکارگوھر شاہی اس سےمخاطب ہیں کہ تم پر یہ لازم ہے کہ تم یہ کتاب حق پرستوں، جو حق کا ساتھ دینے والے ہیں کسی بھی مذہب میں ہوں، منصف مزاج لوگ اور جو انصاف پسند ہوں اگر سچ بات ان کو مل جائے تو کہہ دیں کہ یہ سچ ہے۔ کسی بغض، عناد یا کسی فرقے یا کسی مذہب کے فرق کی وجہ سے جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ یہ حق ہے جھٹلا نہ دیں۔ وہ منصف مزاج ہوتے ہیں۔ جس طرح ہم منصف مزاج ہیں کیونکہ اگر سائیں بابا میں اللہ کا نور ہے تو ہم ان کو بھی اللہ والا کہتے ہیں اور بابا گرونانک دیو جی میں اللہ کا نور ہے تو ہم ان کو بھی اللہ کا ولی کہتے ہیں۔ بھلے کسی کا کوئی بھی دین ہو جس میں اللہ کا نور ہے وہ اللہ کا ولی ہو گیا، یہ منصف مزاجی ہے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ یہ کتاب حق پرست، منصف مزاج لوگوں اور جو اللہ کے طالب ہیں اُن تک پہنچانی ہے، یہ ہمارا فرض ہے۔ ان تین گروہوں تک اس کتاب کو پہنچانا ہمارا فرض ہے اور پھر یہ بھی فرمایا کہ ازلی منافق اس کو تلف کرنے کی کوشش کریں گے۔

دینِ الہی کی کتاب میں ردو بدل اور اس کے نتائج:

سب سے پہلے دین الہی کی کئی ہزار کتابوں کو حیدر آباد کوٹری شریف (پاکستان) میں جلایا گیا اور جلانے والے انجمن سرفروشان اسلام کے مردود لوگ تھے جنہوں نے پھر اس کتاب میں ردو بدل کر دیا۔ انجمن سرفروشانِ اسلام کے بہت سارے لوگوں نے کتاب چھپوائی ہے لیکن اس میں ردو بدل ہے۔ سرکار گوھر شاہی نے اس کتاب کے ابتداء میں ہی فرمایا ہے کہ اگر کسی چیز میں ردو بدل ہو جائے تو اس سے فیض حاصل نہیں ہوتا اور ہماری یہ جو سابقہ تنظیم تھی انجمن سرفروشان اسلام اس کے لوگوں نے اس کتاب کے آتے ہی اس کتاب میں ردو بدل کر دیا۔ اس کتاب میں سرکار گوھر شاہی نے جہاں جہاں میرے نام کے نوٹس لگائے وہ بھی انہوں ںے اس کتاب سے مجھ سے(یونس الگوھر) بغض کی وجہ سے نکال دیے۔ جہاں جہاں سرکار گوھر شاہی نے جثہ گوھر شاہی لکھا تو انہوں نے جثہ کا لفظ کاٹ کے صرف گوھر شاہی لکھ دیا اورلوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ جو چیدہ چیدہ باتیں ہیں، یہ پاکستان میں ہمارے بڑے بڑے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئیں۔ جس طرح نازوباجی کے شوہر شہزاد ہیں انہوں نے کتابیں چھپوائیں لیکن وہ کتابیں چھپوائیں جن میں ردوبدل تھا اورردو بدل والی چیز نہ اللہ کو منظور ہے اور نہ سرکار گوھر شاہی کو منظورہے۔ بڑے بڑے لوگ جن کے ایمان اوروفا داری میں شک نہیں ہے وہ ان باریک باتوں کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ اگر اس میں ردو بدل ہو گیا ہے تو اب اس کتاب سے فائدہ کیا ہو گا! کم از کم سرکار گوھر شاہی کی تعلیم تو اٹھا کر پڑھو کہ اندر سرکار گوھر شاہی نے لکھا کیا ہے کہ اگر کسی کتاب میں ردو بدل ہو جائے توپھر اس سے فیض نہیں ہوتا۔ سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ اگر ایک نکتہ بھی یعنی الفاظ تو دور کی بات ہے کہ ایک نکتہ بھی اس کتاب سے آگے پیچھے کر دیا تو فیض نہیں ہو گا۔ پاکستان میں جن لوگوں تک دینِ الہی کی کتاب پہنچی بھی تو وہ کتاب پہنچی جس میں بڑا ردو بدل ہے کیونکہ دینِ الہی میں جہاں مہدی کا ذکر ہے وہ صفحہ انہوں نے وہاں سے نکال دیا۔ اس کتاب کو تلف کرنے والوں میں سب سے بڑا نام انجمن سرفروشان اسلام کے وصی محمد قریشی، طلعت محمود اور حماد یہ وہ مردود لوگ ہیں جنہوں ںے سرکار گوھر شاہی سے جنگ چھیڑلی۔ یہ وہ بد بخت نفوس ہیں جنہوں نے سرکار گوھر شاہی کی ذات کو للکارا۔ یہ وہ بد بخت لوگ ہیں جنہوں ںے سرکار گوھر شاہی کی بارگاہ میں گستاخیاں کیں اور ان کو للکارا اور ہم اس للکار کا جواب دیں گے۔ آپ بھی یہیں پر ہیں اور ہم بھی یہیں پر ہیں اور وہ دن دور نہیں ہے کہ جب یہ مردود لوگ جن کے نام بابر ، طلعت محمود ، حماد اورغفران ہیں، سڑکوں پر بھیک مانگیں گے۔ جنہوں نے سیدنا گوھر شاہی کے مرتبہ مہدی کی مخالفت میں کوئی کسر نہ چھوڑی کیونکہ اتنی دشمنی دجال نے نہیں کی، اتنی دشمنی سرکار گوھر شاہی سے علماء نے نہیں کی اور اتنی دشمنی مخالفوں اور دشمنوں نے نہیں کی جتنی دشمنی بابر، حماد اور طلعت محمود نے کی ہے۔ اگر آپ کی رسائی باطن تک ہو تو آپ کو پتہ چلے کہ عرشِ الہی سے روز صبح شام ان لوگوں پر اللہ کی لعنتیں پڑتی ہیں۔ یہ اللہ کی لعنت کی زد میں ہیں جنہوں نے پرچارِ مہدی کی مخالفت میں پوری جماعت کو سرگرم کر رکھا ہے اور دین الہی کی کتاب کو تلف کر دیا۔

دینِ الہی کے پہلے صفحہ پرچھپا ایک راز:

سیدنا امام مہدی سرکار گوھر شاہی کی کتاب دینِ الہی کے پہلے صفحے پر سرکار گوھر شاہی کی تصویرِ مبارک لگی ہوئی ہے اور تصویرِ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ

یہ وہ گوھر شاہی ہیں جنہوں نے تین سال تک سیہون شریف کی پہاڑیوں اور لال باغ میں اللہ کے عشق کی خاطر چلہ کشی کری۔

کیا آپ نے کوئی ایسا جملہ دیکھا ہے کہ جو “یہ وہ” سے شروع ہو تو معلوم یہ ہوا کہ کوئی گوھر شاہی قریب ہے اور کوئی گوھر شاہی دور ہے اور یہ وہ ہیں جو اس وقت یہاں موجود نہیں ہیں۔ یہ کتاب سرکار گوھر شاہی نے 1999 میں لکھی اوراُس وقت یہ کہا جا رہا ہے کہ جس نے چلہ کیا ہے وہ اِس وقت یہاں نہیں ہے۔ جو تصویرِ مبارک میں گوھر شاہی نظر آ رہے ہیں یہ وہ گوھر شاہی ہیں جو لال باغ گئے تھے۔ اس سے معلوم یہ ہوا کہ جو یہ لکھ رہے ہیں وہ کون سے گوھرشاہی ہیں؟ اب آپ کو یہ بات بڑے اچھے طریقے سے سمجھنی ہے، آپ سب لوگ یہ تو جانتے ہیں کہ انسان کے جسم میں سولہ مخلوقیں، سات لطائف، اور پھران لطائف کے نوخلیفہ ہوتے ہیں۔ لفظ “جثہ”عربی زبان کا لفظ ہے اورجو سریانی زبان میں جثہ کو “خلیفہ” کہتے ہیں۔ جب اللہ تعالی نے قرآن مجید میں آدمؑ کیلئے فرمایا کہ

إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً
سورة البقرة آیت نمبر30
ترجمہ: میں زمین پر اپنا خلیفہ مقرر کر رہا ہوں۔

اس بات کو سن کر وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ تو کوئی بڑی بات ہے کیونکہ خلیفہ کا مطلب ہے اللہ کا ایک وجود اورعکس۔ اگر وہ اللہ کا خلیفہ ہے تو وہ اللہ کے عکس ہی کی طرف اشارہ ہے۔ خلیفہ رسول وہ ہوتا ہے جس میں رسول اللہ کا کوئی جثہ ہے اور مرشد کا خلیفہ وہ ہے جس میں مرشد کا کوئی جثہ ہے۔ اب انسان کے اندر سات ارواح اور نو ان کے خلیفے ہیں۔ ابھی تو راہِ سلوک میں آپ کی ابتداء ہے تو اس لئے بہت زیادہ آگاہی تجرباتی اور مشاہداتی طور پر آپ کو نہیں ہو گی لیکن جیسے جیسے آپ آگے بڑھیں گے تو قلزوم روحانیت اور قلزوم باطن آپ پر مفتوح ہوجائیں گے۔ پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ انسان اپنے بستر پرسو رہا ہے اور اس کی کوئی ایک مخلوق نکل کر کبھی کسی سے مل کر آگئی اور کبھی کسی سے مل کر آگئی۔ اب جس سے ملنے کیلئے گئی تو اگر وہ کوئی عام آدمی ہے تو وہ یہ ہی سمجھے گا کہ میرے پاس تو وہی آیا ہے۔ جیسا کہ غوث پاکؓ کے نو مریدوں نے ایک ساتھ دعوت کر دی اورآپ نے سب سے حامی بھر لی۔ اب مرید بڑے پریشان تھے کہ میں نے بھی دعوت دی آپ نے حامی بھر لی، دوسرے نے دعوت دی اس سے بھی حامی بھر لی اور اس کے علاوہ مسجد کے موٴذن کو بھی ہدایت دے دی کہ آج نماز میں ہم نے یہ کرنا ہے۔ اب وہ حیران تھے کہ دعوت کی بھی حامی بھر لی، مسجد جانے کا بھی پروگرام ہے تو یہ چکر کیا ہےلیکن جب وقت آیا تو اسی وقت مسجد میں غوث پاک نماز بھی پڑھ رہے تھے اور اسی ایک وقت میں ہی نو مختلف مریدوں کے گھروں میں جا کر کھانا بھی کھایا تو وہ کیا چیزیں تھیں! وہ چیزیں غوث پاک کے اندر کی مخلوقیں تھیں۔ ایک دفعہ غوث پاکؓ نے کہا کہ اے غلام! اللہ کی ایک مخلوق ایسی بھی ہے جس کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور میں اللہ کی وہی مخلوق ہوں۔ ہم نے غوث پاکؓ سے پوچھا وہ کون سی مخلوق ہے اور اس کی پہچان کیا ہے توانہوں نے فرمایا کہ وہ طفل نوری کی طرف اشارہ ہے۔ اس کو اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے۔ جب انسان کے اندر سے یہ جثے نکل جاتے ہیں تو اُسکا جسم سویا رہتا ہے لیکن وہ جثے نکل جاتے ہیں اور وہ جثے نہ تو ہوائی جہازاورنہ گاڑی میں بیٹھنے کے محتاج ہیں۔ تم نے سوچا کہ دیکھیں حضور پاکؐ کیا کر رہے ہیں تو تمہارے جثے جسم سے نکلے اور حضور پاکؐ کے پاس پہنچ گئے۔ پھر سوچا کہ دیکھیں غوث پاکؓ کیا کر رہے ہیں تو یہ ادھر سے نکلے اور فوراً بغداد شریف پہنچ گئے۔ پھر سوچا دیکھیں بیت المامور میں کیا ہو رہا ہے تو بیت المامور کا خیال آیا اور بیت المامور والی چیز اس کو وہاں لے گئی۔

ولایت کی کتنی اقسام ہوتی ہیں؟

1۔ ایک کامل حیات ولی ہوتا ہے اور جب وہ اللہ کو راضی کر لیتا ہےتو کامیاب ہو جاتا ہے۔ اللہ مہربان ہو کر تجلی ڈالتا ہے جو اس کے جسم پر پڑتی ہے اور اس کا جسم ولی بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ہم نے دیکھا کہ وہ سمندر کی سطح پر پیدل چل رہے ہیں لیکن اس سے بڑے بڑے ولیوں کو دیکھا لیکن وہ نہیں چل سکتے تو یہ کمال ان کے جسم میں تھا۔ جس طرح سمندری بابا تھے تو انہوں نے ہمارے سامنے اپنی جیپ سمندر پر چلائی اور ہمیں کہا کہ بتاوٴ یہ کیسی کرامت ہے! ہم نے کہا کہ باکل بیکار ہے کیونکہ مزہ تو تب ہے جب اس پانی پر چلا کر دکھاوٴ جس پانی پر اللہ نے عرش کو استوار کیا ہے۔
2. ایک ولایت وہ ہوتی ہے جس میں تجلی ولی کے لطیفوں یا روح پر پڑتی ہے۔
3. ولایت کا ایک درجہ یہ ہے کہ لطیفوں اور روحوں کے ساتھ ان کے جثوں پر بھی تجلی پڑتی ہے۔ جب جثے پر تجلی پڑجاتی ہے تو پھر ایک نظرِ رحمت سے اکیاسی نئے جثے نکلتے ہیں۔ اب سمجھنے کیلئے مقامِ مصطفی سمجھ لیں۔

مقامِ مصطفی:

پہلے ولیوں پر تین سو ساٹھ مرتبہ تجلیاں پڑتی تھی لیکن حضور پاکؐ پر وہ تجلی ہر وقت پڑتی تھی اور ہر تجلی پر آپ کے اکیاسی جثے نکلتے تھے۔ دن میں کتنی سو ہزار تجلیاں پڑیں اور آج تک وہ تجلیاں آپکے روضہ مبارک پر پڑ رہی ہیں۔ کتنے ارب کھرب جثے سیدنا محمد الرسول اللہ کے ہو گئے ہوں گے بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو گئے ہوں گے۔ ہمارے بزرگانِ دین نے کہا کہ جب بھی خالی گھر میں داخل ہو تو کہو الصلواة والسلام علیک یا رسول اللہ اور جہاں کوئی نہیں ہوتا وہاں مصطفی ہوتے ہیں تو کتنے جثے ہو گئے! اب جو کہتا ہے کہ محمد الرسول اللہ حاضر و ناظر نہیں ہیں تو اس سے بڑا مردود کیا دنیا میں ہوگا! جب تیرے اندر آنکھ آئے گی، نور آئے گا تو تب تجھے پتہ چلے گا کہ کائنات کا کوئی ایسا گوشہ ہی نہیں ہے کہ جہاں پر محمد الرسول اللہ کا وجود چمک نہ رہا ہو۔ جن کے دل میں نور آگیا ہے تو اُن کو جگہ جگہ محمد الرسول اللہ کی موجودگی چمکتی دمکتی نظر آتی ہے۔

سرکار گوھر شاہی کے جثہ مبارک کا راز:

سرکار گوھر شاہی لال باغ تشریف لے کر گئے ہیں لیکن سرکار گوھر شاہی وہاں سے واپس نہیں آئے ہیں۔ واپس دنیا میں کون آیا ہے؟ سرکار گوھر شاہی کی کتاب “روحانی سفر” میں لکھا ہے کہ پھر بعد میں مشن کا کام ہم نے اپنے جثوں سے لیا اور جثہ ہائے مبارک آ گئے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ باقی پوری کائنات کے جثوں میں ہڈی نہیں ہوتی لیکن اگر سرکار گوھر شاہی کا جثہ مبارک ہے تو اس کے اندر جسم کی طرح کے محسوسات ہیں، اس میں ہڈی بھی ہے اور اس میں سب کچھ ہے۔ کوئی سرکار گوھر شاہی سے ہاتھ ملا کر اور گلے مل کر پہچان نہیں سکتا کہ وہ سرکار گوھر شاہی سے مل رہا ہے یا اُن کا جثہ مبارک ہے۔ عام لوگوں کے جثے میں ہڈی نہیں ہوتی بلکہ وہ لوگوں کو نظر تو آتے ہیں لیکن کسی سے مصافحہ نہیں کرتے اور بھاگ جاتے ہیں کہ کسی کو راز نہ پتہ چل جائے کہ جسم میں ہڈیاں نہیں ہیں۔ اب جو لال باغ سے باہر آئے ہیں وہ سرکار گوھر شاہی کا جثہ مبارک ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھیے کہ سرکار گوھر شاہی کی جو تصویرِ مبارک حجرِاسود میں ظاہر ہوئی ہے اس کے نیچے خود اپنے قلم سے لکھا ہے کہ

پچیس سال کی عمر میں جثہ گوھر شاہی کو باطنی لشکر کے سپہ سالار کی حیثیت سے نوازا گیا۔

یہ جو مندرجہ بالا تصویر ہے وہ کلین شیو تصویر ہے اور اس تصویر کیلئے فرمایا ہے کہ یہ جثہ ہے۔ سرکار گوھر شاہی کے گھر والے، سرکار کی بہنیں اور سرکار کی اولاد یہ سمجھتی ہے کہ نہیں وہ جسم ہے لیکن سرکار گوھر شاہی فرما رہے ہیں کہ وہ جثہ گوھر شاہی ہے توان کو کیا پتہ کہ سرکار گوھر شاہی کے بارے میں بیچارے ایسے ہی چیختے چلاتے رہتے ہیں۔ یہ دیکھو کہ سرکار گوھر شاہی کے قلم سے لکھی ہوئی بات ہے کہ یہ جو تصویرِ مبارک ہے اس کے نیچے لکھا ہے پچیس سال کی عمر میں باطنی لشکر کے سالار کی حیثیت سے نوازا گیا تو پچیس سال جس تصویر کی عمر بتائی جا رہی ہے وہ تو جثہ گوھر شاہی ہے۔ پچیس سال کی عمر میں جثہ گوھر شاہی کو نوازا گیا۔ جو تصویر مبارک دکھائی گئی ہے اس کے نیچے سرکار نے لکھا ہے یہ جثہ مبارک ہے۔ مجھے بتائیں کہ سرکار گوھر شاہی کے گھرانے میں کوئی شخص ایسا ہے جو کہہ دے کہ اُس نے سرکارگوھر شاہی کو جسمانی طور پر دیکھا ہے! اگر دیکھا ہے تو وہ تصویر مبارک دیکھئیے جس کے نیچے لکھا ہے کہ یہ جثہ گوھر شاہی ہے۔ آپ نے وجودِ گوھر شاہی کو دیکھا کہاں ہے! اگر پچیس سال کی عمر میں جثہ ہے تو لال باغ کون گیا تھا اور ضرورت کیا تھی اور پچیس سال کی عمر میں سرکار کیا کرتے تھے! اس وقت سرکار اسٹیل کے چولہے بناتے تھے اور پچیس سال کی عمر میں جثہ گوھر شاہی کو باطنی لشکر کے سپہ سالار کی حیثیت سے نوازدیاگیا تھا۔

یہ وہ گوھر شاہی ہیں جنہوں نے تین سال تک سیہون شریف کی پہاڑیوں اور لال باغ میں اللہ کے عشق کی خاطر چلہ کشی کری لیکن اللہ کو پانے کیلئے نہیں۔

اس کتاب میں آگے آپ کو ایک نئی کہانی پتہ چلے گی کہ انیس سال کی عمر میں جثہ توفیقِ الہی کو پیچھے لگا دیا گیا اور پچیس سال کی عمر میں جثہ گوھر شاہی کو باطنی لشکر کے سپہ سالار کی حیثیت سے نوازا گیا۔ پھر اللہ ڈھونڈنے پینتیس سال کی عمر میں نکلے ہیں!
کوئی مثل نئیں ڈھولن دی
ایتھے جاء نئیں بولن دی

انیس سال کی عمر میں جثہ توفیقِ الہی ملا اور ذکرِ قلب ابھی نہیں ہے۔ ذکر قلب کیلئے سلطان صاحب نے بعد میں ذکرِ قلب جاری کیا۔ سرکار گوھر شاہی نے گاوٴں میں خطاب میں فرمایا کہ

میں یہاں پر پلا بڑھا، جوان ہوا اور جب تک میں ان کے ساتھ رہتا تھا کاروبار کرتا تھا تو یہ مجھ سے خوش تھے اور جب میں جنگل چلا گیا اورجب لوٹ کر آیا تویہ سب مجھ سے ناراض تھے۔ سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ ہمارے علاقے میں مولویوں کا زور ہے اور یہاں پر کوئی فقیر آیا نہیں تو اس لئے یہ شریعت سے آگے نہیں جانتے ہیں اور فرمایا کہ آج اپنی برادری والوں کو بھی میں بتاوٴں کہ میرے پاس کیا ہے۔ گاوٴں میں بیٹھ کر فرمایا کہ اسی گاوٴں میں ہمارے گھر میں ایک عورت آتی تھی جو کہتی تھی کہ یہاں پر “بازارِ مصطفی” لگے گا اور اُس دن خطاب کے دوران فرما دیا کہ آج وہ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ بازار مصطفی لگا ہوا ہے جس کا خریدار خود اللہ ہے۔

زمانہ بہت تیزی سے آگے نکل گیا ہے۔ ہر مذہب میں شور اٹھ رہا ہےکہ امام مہدیؑ کے ظہور کا وقت آگیا ہے کیوںکہ جب بھی انسانوں پر مصیبت آتی ہے تو مسلمان کہتے ہیں کہ امام مہدی جلدی سے آ جائیں، عیسائی کہتے ہیں کہ عیسٰیؑ آنے والے ہیں، یہودی کہتے ہیں کہ مسیح آنے والا ہے، ہندو کہتے ہیں کہ کالکی اوتار آنے والے ہیں اور جیسے ہی کرونا وائرس ختم ہوگا تومہدی، کالکی اوتاراورمسیح کو سب بھول جائیں گے۔ یہ وقتی جوش اور اُبال ہے۔ پریشانی آتی ہے تو رب یاد آتا ہے پھر کہتے ہیں ابھی تو آپ آجائیں جب یہ وائرس ختم ہو جائے گا تو پھر آپ چلے جانا۔ لوگوں کا یہی رویہ ہے۔ پوری دینِ الہی کو سمجھنے کیلئے ان دو باتوں کو آپ نے ذہن میں رکھنا ہے کہ

انیس سال کی عمر میں جثہ توفیق الہی کو ساتھ لگا دیا گیا اور پچیس سال کی عمر میں جثہ گوھر شاہی کو باطنی لشکر کے سپہ سالار کی حیثیت سے نوازا گیا۔

یہ مقام وصل ہےاورمقامِ وصل ذکر قلب کے بغیر نہیں ملتا تو یہ دو باتیں آپ نے ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنی ہیں۔ انیس سال کی عمراور پچیس سال کی عمر قابلِ غور ہے۔ امام مہدیؑ کا تعلق جثہ توفیق الہی سے ہے، طفل نوری سے نہیں ہے۔ جثہ توفیق الہی انیس سال کی عمر میں آیا ہے اور انیس سال کی عمر کے وقت سن 1960 تھا تو امام مہدیؑ اس دنیا میں 1960 میں آئے ہیں۔ انیس سو ساٹھ کا عدد سات بنتا ہے۔

یہ وہ گوھرشاہی ہیں جنہوں نے تین سال تک سیہون شریف کی پہاڑیوں اور لال باغ میں اللہ کے عشق کی خاطر چلہ کشی کری۔ اللہ کو پانے کی خاطر دنیا چھوڑی اور پھر اللہ ہی کے حکم سے دوبارہ دنیا میں آئے۔ لاکھوں کے دلوں میں اللہ کا ذکر بسایا اور لوگوں کو اللہ کی محبت کی طرف راغب کیا۔ ہر مذہب والوں نے گوھر شاہی کو مسجدوں، مندروں، گردواروں اور گرجا گھروں میں روحانی خطاب کیلئے مدعو کیا اور ذکر قلب حاصل کیا۔ بے شمار مرد و زن ان کی تعلیم سے گناہوں سے تائب ہوئے اور اللہ کی طرف جھک گئے۔ بے شمار لا علاج مریض ان کے روحانی علاج سے شفاء یاب ہوئے اور پھر اللہ نے ان کا چہرہ چاند پر دکھایا۔ پھر حجرِاسود میں بھی ان کی تصویرظاہر ہوئی اور پوری دنیا میں ان کی شہرت ہو گئی لیکن کور چشم مولویوں اور ولیوں سے حسد و بغض رکھنے والے مسلمانوں کو یہ شخص پسند نہ آیا۔ ان کی کتابوں کی تحریروں میں خیانت کر کے ان پر واجب القتل اور کفر کے فتوے لگائے۔ مانچسٹر میں ان کی رہائش گاہ پر پٹرول بم پھینکا، کوٹری میں دورانِ خطاب ان پر ہینڈ گرنیڈ بم سے حملہ کیا گیا اور لاکھوں روپے ان کے سر کی قیمت رکھی گئی۔ پانچ قسم کے سنگین جھوٹے مقدمات اندرونِ ملک ان کو پھنسانے کیلئے قائم کئے گئے۔ نواز شریف کی وجہ سے حکومت سندھ بھی ساتھ شامل ہو گئی۔ دو کیس قتل، ناجائز اسلحہ اور نا جائز قبضہ کا بھی لگایا۔ زرد صحافت نے زمانے میں انہیں خوب بدنام کیا لیکن آخر میں عدالتوں نے شنوائی اور تحقیقات کے بعد تمام مقدمات جھوٹے قرار دے کر خارج کر دیے اور اللہ نے اپنے اس دوست کو ہر مصیبت سے بچائے رکھا۔

اہم پیغام:

تم نے (انجمن سرفروشانِ اسلام اوراہلِ خانہ) مزار بنا دیا لیکن یہ تصویرِ مبارک تو دیکھ لو کیونکہ یہ تصویر مبارک جثہ ہے۔ سرکار گوھر شاہی کا جسم کہاں ہے تو پھر کیسے کہہ سکتے ہو کہ انتقال ہو گیا! جب تم نے سرکار گوھر شاہی کا جسم دیکھا ہی نہیں تو مزار کیسے بنا دیا! جسم کہاں ہے اور کس سے شادی ہوئی ہے! یہ تصویرِ گوھر شاہی تو بتا رہی ہے کہ یہ جثہ ہے۔ ہمارے سرکار گوھر شاہی کے گھرانے کے بہت سے لوگ ہمیں سنتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم اچھا کام کر رہے ہیں لیکن ان کے دل ہمارے لئے خراب ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم (یونس الگوھر) ان کے دشمن ہیں لیکن ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں سوائے اُن لوگوں کے جو دشمنانِ گوھر شاہی ہیں۔ ہم سے بغض مت رکھو کیونکہ ہم سرکار گوھر شاہی کےنمائندے ہیں۔ ہم سے کسی نقصان اور تکلیف کی توقع بھی مت کرنا۔ ہم کسی کو تکلیف اور نقصان پہنچانے نہیں آئے لیکن جس کسی نے بھی سرکارگوھر شاہی کی بارگاہ میں ذرا بھی اونچ نیچ کی ہے اس کو ہم نہیں چھوڑتے بھلے وہ کوئی بھی ہو کیونکہ ہمارا جینا، مرنا، اٹھنا، بیٹھنا، ہنسنا اور رونا یہ سب سرکار گوھر شاہی کیلئے ہے۔ اسی کی خاطر اللہ اللہ کی، اسی کی خاطر الرٰ ٹی وی بنایا اور اسی کی خاطر قرآن پڑھا ، حدیثیں پڑھیں، اسی کی خاطر یہ کتاب دینِ الہی پڑھ رہے ہیں اور اسی کی خاطر لوگوں سے مخاطب ہیں ورنہ ہمارا تو کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
دل میں تجھے بٹھا کے کرلی ہیں بند آنکھیں
جب دل میں وہ آگئے تو اب کسی کی حاجت نہیں رہی۔ اب نہ کسی دوست کی حاجت رہی، نہ کسی مرشد کی حاجت رہی اور اب نہ کسی مہدی، نہ کسی رب الارباب، دین الہی، قرآن، لوح محفوظ اور نہ ہی علمِ لدنی کی حاجت ہے۔ اب نہ فرش پر دل لگتا ہے اور نہ عرش پر دل لگتا ہے۔ تعلق اُن سے ہے اور اُن کی خاطر یہ ساری بزم سجی ہے لیکن جو لوگ پاکستان میں ڈھوک گوھر شاہ، حیدرآباد اور کوٹری میں ہمیں سنتے ہیں اُن کو ہم کہتے ہیں کہ دوائی کھا رہے ہو لیکن ٹھیک کیوں نہیں ہونا چاہتے! اگر ٹھیک ہونا نہیں چاہتے تو دوائی کیوں کھا رہے ہو، یا تو دوائی چھوڑدواوراگردوائی نہیں چھوڑسکتے تو پھر ٹھیک ہو جاوٴ۔ اگر ہدایت نہیں لینی تو اس محفل میں کیوں آتے ہو اور اگر ہم پر یقین نہیں ہے تو پھررات کو ٹی وی چلا کر کیوں بیٹھتے ہو۔ اس سے نقصان یہ ہے کہ بغیر یقین کے اگر آپ میری گفتگو سنیں گے تو وہ ہی عالم ہوگا جس کا نقشہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے کہ

فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا
سورة البقرة آیت نمبر 10
ترجمہ: ان کے دلوں میں بیماری کواللہ نے اورزیادہ بڑھا دیا ہے۔

اگر تیرے دل میں ہمارے لئے بغض وعناد ہے تو پھرہماری بات مت سنو گے تو جتنی ہماری آواز تیرے کانوں میں جائے گی اتنی زیادہ تیرے قلب کی بیماری بڑھتی جائے گی۔
مسافر کو لبھاتی ہے یہ یونس
تیری آواز جرس کارواں ہے

(منظوم کلام رخسارِریاض سےماخوز)
جب رب تجھ سے ناراض ہو جائےگاتو پھرہماری صورت اور آواز تجھ پر گراں گزرے گی۔ جب رب تیرے دل کو قفل لگا دے گا تو پھر ہمارا چہرہ اور آوازتجھ سے برداشت نہیں ہو گی اور تیرے سینے میں آگ لگا دے گی لہذا تم اُس وقت اس بزم میں بیٹھو جب تجھے پتہ ہو کہ ہمارے دل میں اس گفتگو کرنے والے کیلئے کوئی بغض نہیں ہے۔ بغض نہیں ہے اس کیلئے دیکھو کہ اس نے تیرا کیا بگاڑا ہے اور تمہیں کون سا نقصان پہنچایا ہے!
دیر نہیں حرم نہیں دشت نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں راہ گزر پہ ہمیں کوئی اٹھائے کیوں

ہمارا نہ تو کوئی آستانہ تھا، نہ کوٹری شریف کا آستانہ، نہ پہاڑی شریف کا آستانہ، نہ حیدر آباد اور نہ کراچی کا آستانہ، نہ لاہور کا آستانہ بلکہ فٹ پاتھ پر بیٹھنے والوں کے پاس کون سا آستانہ ہوگا! ہمارا نہ مسجد میں جانا، نہ کعبے میں جانا اور فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے تو رب نے وہاں لوگوں کو بھیج دیا۔ اب اگر تم یہاں پرآ گئے ہو تواپنے دل کوصاف کرکے بیٹھو کیونکہ اگر دل کو صاف کر کےنہیں بیٹھو گے تو یہاں پر بیٹھنا تمہارے لئے عذاب بن جائے گا۔ یہ نہیں ہوگا کہ بس سن لیا اورسن کر چلے گئے کیونکہ ایسا نہیں ہے یہ تو آگ کا دریا ہے جہاں آپ بیٹھے ہوئے ہیں اور ڈوب کر جانا ہے۔ یہ وہ دریا ہے جس میں آپ نے صرف ساحل پر ہی جانا ہے مڑنا نہیں ہے۔ اگر مڑ گئے تو گئے اس لئے تم سوچ سمجھ کے اس قافلے میں شامل ہو۔ اگر یقین کے ساتھ بات کو سنیں گے لیکن اگر یقین نہیں ہوگا تو پھر بے کار ہے کیونکہ اس سے کوئی فیض نہیں ہوگا۔ سچ بولنے والا ہمیشہ دشمن بناتا ہے اور جو سچ بولتا ہے اُس کے دشمن بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ جو جھوٹ بولتا ہے اُس کے دشمن نہیں ہوتے۔ ہم سچ بولتے ہیں اور سچ اس لئے بولتے ہیں کیونکہ ہم جھوٹ بول نہیں سکتے۔ جھوٹ اس لئے نہیں بول سکتے کہ ہماری زندگی، ہمارا اٹھنا، چلنا اوربولنا سب کچھ گوھر شاہی کے نعلینِ مبارک سے چمٹی ہوئی خاک کا مقروض ہے۔ ہزار زندگی جی لیں اور ان ہزار زندگیوں میں سرکارگوھرشاہی کی عظمتیں بیان ہوتی رہیں پھر بھی اظہارِتشکر بارگاہِ گوھرشاہی میں پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ہے مریدوں کوہربات گوارا لیکن
شیخ وملا کوبُری لگتی ہےدرویش کی بات

کراچی میں رخسانہ باجی ہیں تو ہمیں آج تک یاد ہے کہ ہم 2005 میں امجد حسین کے گھر ان سے ملے اور ہم نے ان سے کہا کہ دنیا مجھے برا کہہ رہی ہے لیکن آپ تو اہلِ کشف ہیں، آپ ذرا تحقیق کریں تو انہوں نے کہا کہ غیبت کے بعد سرکارگوھرشاہی سے رابطہ نہیں ہوا۔ ہم نے بہت کوشش کی ہے تو ہم نے کہا کہ اب آپ کریں تو ہو جائے گا۔ انہوں نے پھر کہا مجھے معلوم ہے نہیں ہوگا تو ہم نے کہا ہم کہہ رہے ہیں ہو جائے گا آپ آنکھیں تو بند کریں توان کا ہم نے رابطہ بحال کیا۔ یہ ہم یوٹیوب پر لائیو کہہ رہے ہیں کہ اگر آج بھی ان کے دل میں ایمان کی رمق باقی ہے تو ہماری بات کو جھٹلا کربتائیں۔ اگر آپ جیسے اہلِ کشف بھی حق کو جھٹلا دو گے تو پھرعام ذاکرین کا کیا ہو گا! پیسے اور مریدی کی لالچ میں حق کو جھٹلا رہے ہو۔ ہر مرتبہ جھٹلاتے ہی رہو گے۔ پاکستان میں لوگوں کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے اوپر کوئی مصیبت نہیں لے سکتے بھلے حق کی کوئی بات ہی کیوں نہ ہو، بھلے وہ سرکار گوھر شاہی کی کوئی بات کیوں نہ ہو لیکن حق کیلئے کھڑے نہیں ہو سکتے۔ کسی کو منہ نہیں دے سکتے کہ ہاں جی ہم مانتے ہیں کہ سرکار گوھر شاہی نے ہم کو یہ توفیق عطا فرمائی ہے کہ ہم دھڑلے سے یہ کہتے ہیں کہ سرکار گوھر شاہی نے کبھی نہیں فرمایا کہ ہم امام مہدی ہیں۔ ہم مان رہے ہیں تو اگر ہم قائل کردیں تو مان لینا اور نہ کرسکیں تو اس کا ایک حل اورہے کہ آگ جلائیں گے تو ہم بھی کودیں گے اور تم بھی کودنا۔ پھرجوسچا ہوگا تو آگ گل گلزار ہو جائے گی۔ نار نمرود میں ابراہیمؑ کو ڈالا گیا تو ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمیں بھی ڈال کر دیکھو۔ جادوعملیات وغیرہ یہ تو پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ ہم پر جادو کرا کرا کر تم کیا بگاڑ لو گے! نار نمرود کی آگ تیار کرو اور اس میں اس بندے کو ڈالو۔ یہ بندہ گوھر شاہی ہے، پھر پتہ چلے گا کہ حق کیا ہے! سرکارگوھرشاہی کے گھرانے والوں کو کہتا ہوں کہ نازو باجی کا ساتھ دیں اور اب دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ اب دنیا سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نازو باجی کا ساتھ دیں کیونکہ وہ بے چاری تنِ تنہا سارے ظالموں کے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں۔ اگر تمہارے دل میں سرکار گوھر شاہی کی ذرا سی بھی محبت ہے تو اس بچی کا ساتھ دیں اور اس کا سہارا بنیں تاکہ سرکار گوھر شاہی کا نام پاکستان میں پھر دوبارہ گونجے اورجگہ جگہ سرکار گوھر شاہی کا فیض پاکستان میں بھی عام ہو۔ گاوٴں میں جو سرکار گوھر شاہی کے رشتہ دار رہتے ہیں ان کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہوں کہ تمہاری بقا اسی میں ہے کے آج تم سرکار گوھر شاہی کی بیٹی کا ساتھ دو اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جاوٴ اور پھر دیکھو سرکار گوھر شاہی تم کو کیسا نوازتے ہیں۔

کتاب دینِ الہی کا دیباچہ:

جومذاہب آسمانی کتابوں کے ذریعے قائم ہوئے وہ درست ہیں بشرط یہ کہ ان میں ردو بدل نہ کی گئی ہو۔ مذاہب کشتی اور علماء ملاح کی طرح ہوتے ہیں۔ ملاح وہ ہے جو کشتی کو چلانے والا ہوتا ہے۔ اگر کسی ایک میں بھی نقص ہو تو منزل پر پہنچنا مشکل ہے البتہ اولیاء ٹوٹی پھوٹی کشتی کو بھی کنارے لگا دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے لوگ اولیاءکےگردجمع ہوجاتے ہیں۔ مذہب سے بالاتراللہ کی محبت ہے،جوتمام مذاہب کاعرق ہے۔ جبکہ اللہ کانورمشعلِ راہ ہے! تین حصےعلمِ ظاہر کے اور ایک حصہ علمِ باطن کاہےجوخضرؑ(وشنومہاراج) کےذریعےعام ہوا۔ اللہ کی محبت ہی اللہ کے قرب کاذریعہ ہے، جس دل میں خدا نہیں کتےاُس سےبہترہیں کیونکہ وہ اپنےمالک سے محبت کرتے ہیں اورمحبت ہی کی وجہ سے مالک کاقرب حاصل کرلیتےہیں ورنہ کہاں ایک نجس کتا اور کہاں حضرتِ انسان! اگرتجھےجنت اورحوروقصورکی آرزوہےتوخوب عبادت کرتاکہ اُونچی سےاُونچی جنت مل سکے۔ اگرتجھےاللہ کی تلاش ہےتوروحانیت بھی سیکھ تاکہ صراطِ مستقیم پرگامزن ہوکراللہ کے وصال تک پہنچ سکے۔
(دین الہی سے اقتباس صفحہ نمبر 7)

تشریح:

جتنے بھی مذاہب آسمانی کتابوں کے ذریعے قائم کئے گئے ہیں وہ درست ہیں اگر ان میں ردو بدل نہیں ہوئی ہے۔ یہ نہ کہیں وہ مذہب ختم ہو گئے ہیں۔ اگر مذہب میں بھی ردو بدل نہ کیا گیا ہو اور علماء بھی ٹھیک ہوں تب تو مذہب سے فیض ہو گا لیکن اگر مذہب یا کتاب میں ردو بدل ہو گیا یا عالم خراب ہو گئے تو پھر اس مذہب سے فیض نہیں ہو گا۔ جب فیض نہیں ہوگا تو امتی کا نام بھی مٹ جائے گا اور سنی ،شیعہ وہابی اور دیو بندی رہ جائے گا اور یہ یہی کہتے رہیں گے کہ اسلام زندہ ہے جبکہ انہوں نے اسلام کب کا مار دیا۔ البتہ اولیاء اللہ جو ہیں وہ ٹوٹی پھوٹی کشتی کو بھی کنارے لگا دیتے ہیں اس لئے اگر مذہب کمزور بھی ہے، تیری کشتی ٹوٹی ہوئی ہے، تم گناہ گار ہو، پانچ نمازیں نہیں پڑھتے، کبھی ایک نماز پڑھی کبھی چار پڑھی، کبھی روزہ رکھا کبھی روزہ نہیں رکھا، کبھی زکوة دی کبھی نہیں دی، کبھی حرام سے بعض آیا کبھی حرام کر گزرا تو یہ مذہب ایسے لوگوں کو چلا نہیں سکتا لیکن اولیاء کرام ایسے لوگوں کو بھی اللہ تک پہنچا دیتے ہیں جو عبادات میں کمزور ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹوٹے پھوٹے لوگ اولیاء اللہ کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ مذہب سے بالاتر اللہ کی محبت ہے جو تمام مذاہب کا عرق اور نچوڑ ہے۔ نچوڑ کا مطلب کیا ہوا کہ اگر تم نے اس مذہب پر مکمل ہر طریقے سے صحیح عمل کیا، مذہب بھی صحیح تھا اور علماء بھی صحیح تھے تو اس مذہب کی انتہا کیا ہوگی کہ اللہ کی محبت تجھے ملے گی۔ سرکار گوھر شاہی نے اس کا عرق لے کے لوگوں کو ذکرِ قلب کے ذریعے اللہ کی محبت دینے کی ٹھان لی کہ مذہب پرعمل ہو یا نہ ہو اس کا عرق پلا دو تو ایک طرف تو مذہب اور اس کی رسومات ہو گئیں اور دوسری طرف ذکرِ قلب ہو گیا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے آپ کو کہا جائے کہ دس سنگترے کھا لو اور اب جب آپ چھیل چھیل کرسنگترے کھائیں گے تو آپ کو لگے گا کہ آپ نے بہت زیادہ کھا لیا لیکن وہی دس سنگتروں کا جوس بنا کر گلاس میں آپ کو دے دیں تو آپ کے ذہن وگمان میں بھی نہیں ہو گا کہ آپ نے دس سنگترے کھا لئے ہیں۔ اگر آپ بادام کا تیل نکالنا چاہیں تو اگر آپ نے سو گرام تیل نکالنا ہے تو ہوسکتا ہے آپ کو دو تین کلو بادام لانا پڑیں لیکن پھران کو آپ کوٹتے رہیں اور قطرہ قطرہ تیل نکلے گا۔ پھر اس کو صاف کریں تو کتنی محنت کا کام ہے اور اگر کوئی آپ کو بنا بنایا تیل دے دے تو سامنے والا جس کے ہاتھ ڈھائی کلو بادام کوٹ کوٹ کر ٹوٹ گئے ہیں تو وہ تپ کر کہے گا کہ اُس نے سو گرام تیل پی بھی لیا ہے تو تم نے کہاں سے پی لیا کیونکہ وہ تو پندرہ دن سے کوٹ رہا ہوں۔ اُس کو جو بادام کا تیل سو گرام کسی نے دیا ہے وہ مشین سے نکال کر دیا ہے لیکن تم کوٹتے رہو بادام کیونکہ کوٹنے کے بعد بھی تو اتنا ہی تیل نکلے گا جتنا اس کو کسی نے دے دیا ہے۔ یہ فرق ہے مذہب میں اور فقر میں۔ مذہب یہ ہے کہ تم بادام کوٹتے رہولیکن آخر میں تجھے اس محنت کا انعام تیل ملے گا اور فقر یہ ہے کہ ایک شیشی لا کے تیل کی تجھے دے دی کہ یہ پی لو۔ مذہب سے بالا تر اللہ کی محبت ہے جو تمام مذاہب کا عرق ہے جبکہ اللہ کا نور مشعل راہ ہے۔ اللہ کا جو نور ہے وہ یوں سمجھ لیں کہ جیسے سمندروں کے ساحل پرایک بڑا سا ٹاور ہوتا ہے جس کو لائٹ ہاوٴس کہتے ہیں اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ گھومتا رہتا ہے اور جو سمندری جہاز سفر کر رہے ہیں اُن کو وہ جہاز رانی کرتاہے تو جہاز والے کو پتہ لگ جاتاہے کہ فلاں بندرگاہ اس طرف ہے۔ اسی طریقے سے رات کا وقت ہے اور آپ کی کار کی ہیڈ لایٹس کام نہیں کر رہی ہوں تو کیا آپ کار چلائیں گے! آپ کی کار کی ہیڈ لائیٹس مشعل راہ ہیں اور راہ کا مطلب ہےکہ روڈ اور مشعل کا مطلب ہے لائٹ۔ اسی طریقے سے راہِ سلوک میں اللہ کی راہ میں چلنے کیلئے آپ کی ہیڈ لائٹس یہ ہیں کہ دل میں اللہ کا نور آئے گا تو اللہ کا راستہ سامنے نظر آتا جائے گا تو اللہ کا نور مشعل راہ ہے۔

اللہ کے قرب کا واحد ذریعہ کیا ہے؟

تین حصے علم ظاہر کے اور ایک حصہ علم باطن کا ہے جو خضر وشنو مہاراج کے ذریعے عام ہوا۔ اللہ کی محبت ہی اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ اگر آپ اللہ کے قرب میں جاناچاہتے ہیں تو اس کا وسیلہ اللہ کی محبت ہے اور اللہ کی محبت ہوگی تو قرب میں جائیں گے لیکن بغیر محبتِ الہی کے قربِ الہی نہیں ملے گا۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ تلاوت اورعبادات کرنے سے مقرب بن جائیں گے تو یہ نہیں ہوگا کیونکہ اللہ کے قرب کا جو واحد ذریعہ ہے وہ اللہ کی محبت ہے۔ اب اللہ سے محبت ہو گئی، اس کے قرب میں چلے گئے اور زاہد و پارساء دیکھتے رہ گئے۔ اللہ کی محبت ہی اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ جس دل میں خدا نہیں تو کتے اس سے بہتر ہیں کیونکہ وہ اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں اور محبت کی ہی وجہ سے اپنے مالک کا قرب حاصل کر لیتے ہیں ورنہ کہاں ایک نجس کتا اور کہاں حضرتِ انسان!

سرکار گوھر شاہی فرماتے ہیں کہ اگر تجھے جنت اور حوروقصور کی آرزو ہے تو خوب عبادت کر تا کہ تجھے خوب اونچی سے اونچی جنت مل سکے اور اگر تجھے اللہ کی تلاش ہے تو روحانیت بھی سیکھ تاکہ تم صراطِ مستقیم پر گامزن ہو کر اللہ کے وصال تک پہنچ سکو کیونکہ روحانیت کے بغیر اللہ نہیں ملتا۔

کتابِ مقدس دینِ الہی اِس لِنک سے ڈاوٴن لوڈ کرسکتے ہیں۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 2 اپریل 2020 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ ہے۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں