کیٹیگری: مضامین

کلمہ طیب ایمان کی اساس:

اسلام کا پہلا رُکن کلمہ طیب لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله ہے۔ کلمے کےبارے میں حدیث ہے کہ

أفضل الذكرلا إله إلا الله
جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ دعاؤں کا بیان ۔ حدیث 1335

کلمہ طیب افضل ترین ذکرہے۔ ذکرکیلئے قرآنِ مجید میں آیا ہے کہ

فَاذْكُرُوا اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ
سورۃ النساء آیت نمبر103
ترجمہ: اُٹھتے، بیٹھتےاورکروٹوں کے بل بھی اللہ کا ذکرکرو۔

اس آیت کی مزید تشریح یہ ہےکہ اللہ کے ذکرسے کسی حال میں بھی غافل نہیں رہنا ہے۔ ہم کلمہ پڑھ کرمسلمان توہوگئےاورکلمہ کے ذکرکوعملی طورپراتنی اہمیت نہیں دیتے۔ ہم جتنا ذکرنمازکا کرتےہیں اورنماز کی خوبیاں بیان کرتےہیں ہماری اِتنی توجہ ذکرِالہی پرنہیں ہے۔ جبکہ ذکربھی اُسی رب کا ہے اورنمازبھی اُسی کی ہے لیکن کچھ فنی باریکیاں ہوتی ہیں جیسا کہ ہم باورچی خانہ میں کھانا بناتے ہیں توظاہرہےکہ پہلےہم پیازکاٹیں گے، زیرہ ڈالیں گے، تھوڑاسا تیل ڈالیں گے، پھراُس کا مصالہ بنائیں گےاوراُس کےبعد سبزی یا گوشت ڈالیں گے۔ اس میں موازنہ نہیں کرسکتےکہ کیا چیززیادہ اہم ہے کیونکہ ہرچیزکاوقت ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم نے اگرکوئی سبزی یاگوشت پکانا ہوتوپہلے سبزی یا گوشت کوڈال دیں کیونکہ وہ جل جائیں گے۔ اِسی طریقے سےذکراورنمازکی ترتیب کافرق ہے۔ ذکرِ الہی بالخصوص کلمہ طیب لَا إِلٰهَ إِلَّا الله مُحَمَّدٌ رَسُولُ الله، یہ اساسِ ایمان ہے یعنی ایمان کی اساس ہے۔ اس کے بارے میں حدیث شریف ہےکہ

اقرار باللسان وتصدیق با لقلب
ترجمہ: زبان اقرارکرے اوردل اس کی تصدیق کرے۔

ہماری ساری بھاگ دوڑزبانی اقرار پرہے۔ ہم یہ سمجھ بیٹھےہیں کہ کلمہ توہم نےپڑھاہواہے توایک رُکن توہوگیا، چلواب نمازکی طرف چلتے ہیں لیکن یہ ایسا نہیں ہے۔ سب سے پہلےہم نے کلمۂِ مبارک کوزبان کےبعد اپنےدل میں سینے میں اُتارنا ہے۔ جوہم نے زبان سےکلمہ پڑھاہےوہ ہمارے قلب میں اُترے۔ اب وہ قلب میں کیسےاُتارنا ہےاُس کا حل مولویوں کےپاس نہیں ہےلہٰذا وہ اس کوبیان نہیں کرتے۔ نبی پاکؐ نےحضرت علیؓ کیلئےفرمایا کہ

غمض عینک یا علی وسمک فی قلبک لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ
ترجمہ: اے علی اپنی آنکھوں کو بند کر لے اور سن اپنے قلب میں لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی آوازکو۔

نبی پاکؐ نےصحابہ اکرام کےدلوں میں اپنی نگاہوں سےکلمہ اُتارا۔ صحابہ اکرام کی صرف زبانیں ہی نہیں بلکہ دل بھی کلمہ پڑھتےتھے۔ ایک مقام پرحضورؐنے یہ بھی فرمایا کہ

ینام عینی ولاینام قلبی
صحیح البخاری 1147
ترجمہ: میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا قلب نہیں سوتا۔

پھرقرآن مجید میں ایک بہت خوبصورت واقعہ ہے کہ قریش کےلوگ دیکھتے تھےکہ صحابہ اکرام میں کتنا بھائی چارہ ہےاوراتنی باہمی محبت ہے اورحضورؐ بھی اُن سےبہت پیارکرتےتھے۔ قریش کے لوگ بھی یہ دیکھ کراسلام لےآئےاورفوری طورپراپنےآپ کومؤمن کہنا شروع ہوگئےکہ ہم بھی مؤمن ہیں توہم سےبھی اُتنا ہی پیارکروجتنا تم آپس میں ایک دوسرے سےکرتےہو۔ انہوں نےجب اسلام قبول کرلیا توفوراً وہ تقاضا کیاکہ آپ آپس میں توبہت پیارمحبت کرتےہیں لیکن ہم سےآپ کابرتاؤویسا نہیں ہے تواللہ تعالی نےآیت نازل فرمائی کہ

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
سورۃ الحجرات آیت نمبر14
ترجمہ: یہ اعرابی کہتے ہیں کہ ہم مؤمن بن گئےہیں۔ یارسول اللہ! ان سےکہہ دیجئےکہ تم مؤمن نہیں ہو بلکہ کہوکہ ہم نےاسلام قبول کیاہے۔ مؤمن تب بنوگےجب ایمان تمہارےقلب میں اُترجائےگا۔

ذکراللہ اورکلمےکا دل میں اُترنا کیوں ضروری ہے؟

اب علمائےظاہرکےپاس یہ ایمان قلب میں اُتارنےکانسخہ نہیں ہے۔ یہ نسخہ سینہ بہ سینہ نبی پاکؐ سے چلتا آرہا ہے۔ نبی پاکؐ نےپتھروں کوکلمہ پڑھایا اورپھردلوں کوکلمہ پڑھایا اورجس دل میں کلمہ داخل نہیں ہواتوقرآن مجید میں آیا ہےکہ

فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّـهِ
سورۃ الزمرآیت نمبر22
ترجمہ: اُن کیلئےتباہی ہےکہ جن کےدل اتنے سخت ہوگئےہیں کہ اللہ کا ذکراُن کےقلوب میں سرائیت نہیں کرتا۔

ایک دن ابوجہل سامنے سےآرہاتھااورحضورؐکودیکھ کررُک گیااورکہنےلگاکہ اےمحمدؐ! اگرآپ یہ بتادیں کہ میری مُٹھی میں کیاہےتومیں آپ کونبی مان لوں گا۔ نبی پاکؐ نےفرمایاکہ بہترنہیں ہےکہ جو کچھ بھی تمہاری مُٹھی میں ہےوہ بتائےکہ میں کون ہوں۔ جوابوجہل کی مُٹھی میں کنکرتھے وہ کلمہ پڑھنےلگ گئے۔ یہ نظرِمصطفی کا کمال ہےکہ پتھروں کوکلمہ پڑھایااورپھرصحابہ کےدلوں کوکلمہ پڑھایا۔ صحابہ اکرام سوجاتےاوردل کلمہ پڑھتارہتا۔ یہی وجہ ہےکہ قرآن مجید نےفرمایاکہ

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ
سورۃ آل عمران آیت نمبر191
ترجمہ: اُٹھتے، بیٹھتےاورکروٹوں کےبل بھی وہ اللہ کاذکرکرتےتھے۔

ذکراللہ اورکلمےکادل میں اُترنا اس لئےضروری ہےکہ نبی پاکؐ نےفرمایا ہےکہ

لاصلوۃ الا بحضورالقلب
عین الفقرص 118
ترجمہ: قلب کی حاضری کےبغیرنمازنہیں ہوتی۔

قلب کی حاضری یہ ہےکہ جب ہم نمازمیں کھڑے ہوتےہیں توزبان سےقرآن کی تلاوت کرتےہیں، جسم سےعمل کرتےہیں جیساکہ نمازمیں اُٹھنا اوربیٹھنا توجودل ہےوہ ہمارے ہرعمل پر اُس کےاوپرتصدیق کرے۔ جب دل تصدیق نہیں کرتاہےتویہ ہماری نمازاِدھرہی گھومتی رہتی ہے۔ جن لوگوں کےدلوں میں اللہ کاذکراُترجاتاہے، وہ دل ہروقت اللہ اللہ کرتارہتاہے۔ سیدناامام مہدی گوھرشاہی نےفرمایاکہ اللہ تعالی نےحضورپاکؐ کوکہاکہ قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ کہ کہہ دیجئےکہ اللہ ایک ہےتوآپؐ نےآمین کہا۔ آپؐ نےپھر لوگوں کوبتایاکہ کہہ دواللہ ایک ہے۔ جنہوں نےمان لیا وہ مؤمن ہوگئے، جنہوں نےانکارکیا وہ کافر ہوگئےاورجنہوں نےحیل وحجت کی وہ منافق ہوگئے۔ پھرفرماتے ہیں کہ اب تم روزانہ نمازمیں کھڑے ہوکرکس کوکہتےہوکہ کہہ دے اللہ ایک ہے! تم اپنےدل کوکہتےہوکہ تم بھی کہہ دواللہ ایک ہےاورآگے سےدل کہتا ہےکہ بیوی بیمارہے۔ پھرکہتےہواللَّـهُ الصَّمَدُ تودل کہتاہےکہ ڈیوٹی سےلیٹ ہوگیا۔ ہمارا دل توحیل وحجت کررہا ہے۔ اگرہمارےدل میں اللہ کانور، کلمہ اورایمان اُترگیاہوتاتوزبان کہتی قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اوردل کہتاکہ اللہ ہی اللہ۔ زبان کہتی اللَّـهُ الصَّمَدُ اوردل کہتا اللہ ہی اللہ۔ زبان دلیل کےساتھ منوارہی ہےکہ کہہ دےاللہ ایک ہےاوردل بغیردلیل کےمان رہاہےکہ اللہ ہی اللہ۔ جب ہم نےذکرالہی کوچھوڑدیا اوراپنےدل میں ایمان کونہیں اُتارا، قلب کواللہ کےنام اورذکرسےمنورنہیں کیااوراس کوچھوڑکرنمازپر چلےگئےتوایسی نمازہماری تباہی کاباعث بن گئی۔ ایسی نمازنےہمارےایمان کی حفاظت نہیں کی۔ ہم نمازپڑھنے کےباوجود بھی وہابی، دیوبندی، بریلوی اورشیعہ بن گئےاورتواورمرزئی، قادیانی اوراحمدی بن گئے۔ قرآن مجید میں تواللہ تعالی نےفرمایاہےکہ

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ
سورۃ العنکبوت آیت نمبر45
ترجمہ: نمازبرائیوں اوربےحیائیوں سےروکتی ہے۔

نمازبرائیوں اوربےحیائوں سےکب روکےگی؟

تم نمازیں پڑھتےہوئےبھی قادیانی اوروہابی کیسےہوگئے! اس کامطلب ہےکہ نمازنےتمہیں نہیں روکا یعنی اگرتم کسی کوفائرکرواوروہ نہ مرے تواس کامطلب ہےکہ بندوق میں گولی نہیں ہے۔ اسی طرح جب نمازمیں دل حاضرنہ ہوتونمازضائع جاتی ہےکیونکہ حدیث شریف میں ہےکہ لاصلوۃ الا بحضور القلب کہ قلب کی حاضری کےبغیرنمازنہیں ہوتی۔ نمازکی صحت اورقبولیت کیلئےیہ انتہائی ضروری ہےکہ ہمارے قلب میں اللہ کاذکراوراللہ کانوراُترجائے۔ قرآن کے مطابق اسلام کی بنیاد جوہے وہ شرح صدرہے۔ اگرآپ سےپوچھیں کہ اسلام پرعمل پیراہوناکیاہےتوآپ کہیں گےکہ پانچ وقت کی نمازیں پڑھو، روزہ رکھو، حج کرو، زکوٰۃ دو، ماں باپ کاخیال رکھواوربیوی بچوں کےحقوق دولیکن یہ توسب کررہےہیں۔ پھرتہترفرقےکیسےبن گئے، حج کرنےوالےچورکیسےہوگئے، مولوی مسجد میں غلط کام کیوں کرتاہےاورچھوٹی چھوٹی بچیوں کی عزت خراب کیوں کرتاہے۔ جوصبح شام قرآن اور نمازیں پڑھاتاہےتواُس کادل کیوں میلاہے۔ اُس کی نمازیں اُس کوبُرائی سےکیوں نہیں روک رہی۔ ہماری نمازوں میں توہوسکتاہےکہ وضوٹھیک سےنہیں کیاہولیکن یہ جوعلماءبیٹھےہیں جوبیس بیس اورتیس تیس سال سےنہ صرف یہ کہ نمازیں اورقرآن پڑھارہےہیں بلکہ دین کےٹھیکےداربنےہوئے ہیں۔ ٹیلی وزن، اخبارات اورسوشل میڈیا پرآئےدن آپ واقعات سنتےہیں۔ ایک عام آدمی کےپیڈوفائل ہونےکےمواقع کم ہیں اوردس مولویوں میں سےایک مولوی پیڈوفائل ہوگا۔ وہ کونسی چیزہےجوتمہاری نمازمیں نہیں ہےجس کی وجہ سےتم نےمسجدکااحترام بھی پامال کردیا۔ کچھ روزپہلےسعودی عرب میں ایک عالم نےاپنی چارسال کی سگی بیٹی کےساتھ زناکیا۔ ہماری نمازوں کاکیاہوااورہمارےعمامہ شریف کاکیاہوا۔ آپ سمجھتےہیں کہ آپ عمامہ شریف پہننے سےپاک ہوگئےہیں اوردھڑادھڑسجدوں کے نشان پڑنےسےآپ کی پیشانی پرایک نشان بن گیاہےتویہ جنت کی نشانی ہوگیاہے! آپ کاکردارکہاں ہے اوریابتادوکہ قرآن جھوٹ بولتاہے لیکن قرآن جھوٹ نہیں بول سکتاکیونکہ قرآن مجیداللہ کاکلام ہے۔ قرآن مجید میں تواللہ نےفرمایاہےکہ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ کہ نمازبرائیوں اوربے حیائیوں سےروکتی ہے۔ سوال یہ ہےکہ چالیس سال سےنمازیں اورقرآن پڑھانےوالامولوی فحاشی میں اوراس قدرغلیظ اورقبیح ترین فحاشی میں کیوں ملوث ہےاوراُس کی نمازوں نےاُسےکیوں نہیں روکا! صرف اس لئےنہیں روکا کیونکہ لاصلوۃ الا بحضور القلب۔ بابا بلھےشاہ نےبھی فرمایا ہےکہ
تیرادل کھلاوےمنڈےکڑیاں۔۔۔۔۔۔۔۔ توں سجدے کرےمسیتی
پھرعلامہ اقبال نےبھی اپنی شاعری میں بیان فرمایا کہ
زبان سے کہہ بھی دیا لاالہ توکیاحاصل
دل ونگاہ مسلماں نہیں توکچھ بھی نہیں

آج ہماراالمیہ یہ ہےکہ ہم مسجدیں بےشماربناچکےہیں اورہم نےتبلیغی جماعت کی ٹولیاں بناکرکے لوگوں کونمازپڑھنےپرراغب توکردیاہےلیکن نمازکی حقیقت کیاہے، یہ اُن کومعلوم نہیں ہے۔ لوگ نمازیں بھی پڑھ رہےہیں، حج بھی کررہے ہیں اورزکوٰۃ بھی دےرہےہیں لیکن مؤمن نہیں بن رہےبلکہ لوگ بریلوی، سنی، شیعہ، وہابی اور اہلحدیث بن رہےہیں لیکن قرآن میں توشیعہ، سنی، وہابی، دیوبندی اوربریلوی کاذکرنہیں ہے۔ نبی پاکؐ نےتوہم کوایک شناخت عطاکی تھی وہ اُمتِ رسول ہے لیکن آج تو اُمتی کاذکرہی نہیں ہےکیونکہ یا توہم بریلوی ہیں یا شیعہ ہیں یا سنی ہیں۔ یہ کونسا اسلام ہے اورکونسی نمازیں ہیں! ایک نمازوہ تھی کہ جب مولاعلی کی ٹانگ میں نیزہ لگ گیا اوروہ نکلتا نہیں تھاتوحضورؐ نےفرمایاکہ جب علی نمازپڑھےتونکال لینا۔ جب مولاعلی نمازمیں کھڑےہوئےتوآرام سےنیزہ نکل گیا اوراُن کوپتہ بھی نہیں چلا کیونکہ وہ اللہ کےحضورمیں حاضرتھے۔ وہ اپنی روح اوراپنےقلب کے زریعےرب کےسامنےتھےاورجسم زمین پرکھڑاتھا۔ یہ نمازِحقیقت ہے۔ یہ نمازتب حاصل ہوتی ہےجب ہمارادل اللہ کےذکرسےمنورہو۔

اللہ تعالی سےہدایت کیسےملتی ہے؟

آج اگرہم دیکھناچاہیں گےکہ کوئی عالم ہےیانہیں تواُس کی داڑھی دیکھیں گے، اُس کاعمامہ دیکھیں گےاوراُس کی زبان پرقرآن مجید کی تلاوت کتنی پُراثرہےیہ دیکھیں گے۔ قرآن مجید نےتومعیارکچھ اوردیاہے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ کافرمان ہےکہ

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا
سورۃ الکھف آیت نمبر28
ترجمہ: ایسے لوگوں کی پیروی نہ کرناجن کےقلب کوہم نےاپنےذکرسےغافل کررکھاہے۔

پھرآپ ایسےعالم کی بات کیسےمان سکتے ہیں اوراُس کی پیروی کیسےکرسکتےہیں کیونکہ آج کل تو زیادہ ترایسےہی ہےکہ علماءکوپتہ نہیں ہےکہ ذکرِقلب کیاہوتاہے! پھراللہ تعالی نےقرآن مجید میں فرمایا ہےکہ

وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
سورۃ التغابن آیت نمبر11
ترجمہ: جب کوئی اللہ کی ذات پرایمان لےآتاہےتواللہ اُس کےقلب کوہدایت سےبھردیتا ہے۔

پرانے وقتوں کی بات ہےکہ فضیل بن عیاض ایک بہت بڑےولی تھے اورپہلےڈاکوہوتےتھے۔ جو تاجروں کےاونٹوں، گدھوں اورگھوڑوں پرقافلےہوتےتھےتوجب وہ جنگلوں میں سےگزرتےتھےتو جنگلوں کےاندریہ ڈاکوچھپےہوئےہوتےتھےاورڈاکا ڈالتےتھے۔ فضیل بن عیاض بھی ڈاکوتھےلیکن ان کوتلاوتِ قرآن پسند تھی۔ اب تاجروں کویہ بات پتہ چل گئی کہ ان کوتلاوتِ قرآن پسند ہےتوانہوں نے قافلےمیں ایک قاری بٹھالیا اوراُس کوکہاکہ جب جنگل سےگزرےتوتلاوت کرتےجانا کیونکہ ڈاکو تلاوت سنتارہےگااورہم نکل جائیں گےاوریہی ہوا۔ جب تلاوت پڑھی جارہی تھی توفضیل بن عیاض ڈاکا ڈالنےکیلئےآیااورجب وہ آیاتواُس وقت یہ آیت پڑھی جارہی تھی کہ

أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّـهِ
سورۃ الحدید آیت نمبر16
ترجمہ: اےمؤمنو! کیاتمہارے لئےوہ وقت نہیں آیا ہےکہ تمہارے قلب اللہ کےذکرمیں جھک جائیں۔

یہاں تواللہ جتارہاہےکہ ابھی وقت نہیں آیاہےکہ تم ذکراللہ کواپنےدلوں میں اپنےقلوب میں سمالو۔ مسلمان قوم کہتی ہےکہ ذکرِقلب کیاہوتاہے! ذکرِقلب اوردلوں کااللہ کےذکرسےآبادہونےکو قرآن مجید نے اسلام کی بنیاد قراردیاہے۔ اسلام پرعمل پیراہونےکیلئےقرآن یہ کہتاہےکہ

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ
سورۃ الزمرآیت نمبر22
ترجمہ: اسلام پرعمل پیراہوناچاہتےہوتوشرح صدرکرلو۔

اسلام پرکاربندہونےکیلئےاللہ تعالی یہ فرماتےہیں کہ شرح صدرکرو۔ ہماری قوم توشرح صدرکی طرف نہیں ہے۔ آپ کوکتنےمولوی مسجدوں میں بتارہےہیں کہ شرح صدرکرو۔ وہ آپ کواس لئےنہیں بتارہے کیونکہ اُن کوپتہ ہی نہیں ہےکہ شرح صدرکیاہوتی ہے۔ شرح صدرانسان کےاختیارمیں نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید میں موسیؑ کےبارےمیں آیاہےکہ

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي
سورۃ طہ آیت نمبر25
ترجمہ: اے میرےرب! میری شرح صدرکردیجئے۔

اب ایک بنی اسرائیل کاپیغمبراوراولوالعزم مرسل موسیٰ کلیم اللہ اللہ سےمانگ رہےہیں کہ میری شرح صدرکردیں۔ آپ یہ بتائیں کہ اگرایک پیغمبراپنی شرح صدرخود نہیں کرسکتاتوعام آدمی اپنی شرح صدرکیسےکرسکتاہے! جولوگ کہتےہیں کہ مرشد کی ضرورت نہیں ہے توتم اپنی شرح صدرکیسے کروگےتولوگ کہتےہیں کہ ہم کرلیں گےکیونکہ اللہ تعالی ہماری شہ رگ سےبھی زیادہ قریب ہے۔ اگر تم اپنی شرح صدرخودکرلوگےتوکیا تم موسیؑ سےزیادہ افضل ہو! موسیؑ نےتواللہ سےمانگاتھا کیونکہ اگرموسیؑ خودنہیں کرسکتےتوتم خودکیسےکرسکتےہو۔ دوسری طرف اللہ تعالی نےاپنےحبیب محمدؐ کیلئےفرمایاکہ

أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
سورۃ الشرح آیت نمبر1
ترجمہ: یارسول اللہ! آپ کی خاطرہم نےآپ کی شرح صدرنہیں کی۔

پھراللہ تعالی نےفرمایاکہ

وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ
سورۃ الشرح آیت نمبر3-2

ان آیات کی تشریح بیان کرتےہیں کہ جوجسمانی عبادتیں کرتےکرتےآپ کی کمرپربوجھ پڑتاتھا اور لمبےلمبےسجدےکرتےتھے، قیام کرتےتھے، قعد کرتےتھے توہمیں اچھانہیں لگتا تھا تو لہٰذا ہم نے شرح صدرکردی کہ آپ کی روحیں اب نمازوں میں لگ جائیں اورآپ کی روحیں اب دیدارمیں لگ جائیں۔ حضورؐکوشرح صدرعطاہوگئی۔ موسیؑ کوہاتھ اُٹھاناپڑا۔ اب ہمارا کیا ہوگا اورہم کوکون سکھائے گا! ہم کواللہ کےرسول محمدؐ سکھائیں گےکیونکہ آپؐ نے انتظام وانصرام فرمایا۔ اللہ نے آپؐ کوشرح صدرعطاکی اورآپؐ نےآگےبڑھائی۔ آپؐ نےجب شرح صدرکوآگےبڑھایاتوآپؐ نےفرمایاکہ

من کنت مولاه فعلي مولاه
جامع ترمذی ۔ جلد دوم ۔ حضرت علی بن ابی طالب ۔ حدیث 1679

ایک توکہنےکی حد تک ہوتاہےکہ آپ میرے مولاہیں لیکن یہ بات کہنےوالی نہیں ہے، یہ کام ہے۔ جسطرح بیوی اورشوہرہونا کہنےوالی بات نہیں ہےکیونکہ آپ مزاق میں تونہیں کہیں گےکہ میں آپ کا شوہرہوں کیونکہ جب آپ کسی کےشوہرہوتےہیں توپھراُس کےحقوق ہوتےہیں اورایک رشتہ ہوتاہے۔ اسی طرح مولاکہنےوالی بات نہیں ہےاورہرکوئی نہیں کہہ سکتاکہ علی میرامولا ہے۔ مولا کامطلب یہ ہےکہ وہ ذات جوتمہیں اللہ سےجوڑدے یعنی جواللہ سےجوڑنےوالاہو۔ من کنت مولاه کہ جس جس کو میں نےاللہ سےجوڑاہےوہ سن لےفعلي مولاه کہ علی بھی اللہ سےجوڑنےوالا بن گیاہے۔ وہ ایسے جوڑتے ہیں کہ وہی علم جواللہ تعالی نےشرح صدرکاحضورؐکوعطا کیا اورحضورؐنےآگے سینہ بہ سینہ بڑھایا۔ پھروہ علم نظروں کےزریعے سینہ بہ سینہ چلتاگیا۔ بابابلھےشاہ نےبھی فرمایاکہ
نظرجنہاں دی کیمیاں ہووے سوناکردے وٹ
اللہ سائیں کریںدا کی سید تہ کی جٹ

جن کی نظروں کواللہ کیمیا گری عطا فرما دیتا ہےتووہ پتھرکوسونابنا دیتےہیں اورمردہ قلب پرنظر ڈال کےاسمِ ذات اللہ سےاُسےزندہ کردیتےہیں۔ یہ شرح صدرطریقت کاعلم ہے جس میں سینےکےاندر روحوں کوبیدارکیاجاتاہے۔ لطیفہ قلب، لطیفہ روح، لطیفہ سری، لطیفہ خفی اور لطیفہ اخفی کوبیدارکیا جاتاہے۔ اس کیلئےاللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایاہےکہ

وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا
سورۃ الکھف آیت نمبر17
ترجمہ: اورجس کواللہ گمراہ کرنا چاہتا ہےتواُس کوولی اورمرشد عطا نہیں کرتا۔

جس کواللہ تعالی ہدایت دیناچاہےگاتواُسےکامل مرشد کاپتہ مل جائےگا۔ پھروہ مرشد کیا کرےگاکیونکہ آج توہزارمرشد ہیں جن میں سےنوسوننانوے جھوٹےہیں کیونکہ وہ لوگوں کی عزت اورجیب لوٹنے والےہیں، جن کونہ طریقت اورنہ شریعت کاپتہ ہےلیکن اصل میں مرشدِکامل وہ ہوتاہےجس کی باطنی توجہ سےآپ کےدل میں کلمہ پاک اللہ ھوکاذکراُترجائےاورجودل کی دھڑکنیں ہیں وہ اللہ ھوسےبیدار ہوجائیں اورکبھی خاموش نہ ہوں۔ جس کوبھی یہ طاقت حاصل ہےکہ وہ دل کوزندہ کردے، اسمِ ذات اللہ قلب میں اُتاردے اور دل کواللہ کا ذاکر بنادے تووہ مرشدِ کامل ہے اورجویہ نہ کرسکےتووہ مرشدِ کامل نہیں ہے۔
مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 5 جنوری 2020 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں