کیٹیگری: مضامین

27 نومبر 2001 میں سرکار گوھر شاہی نےعارضی روپوشی اختیار فرمائی اور اس واقعے کو آج سترہ سال ہو گئے۔ بہت سے لوگوں نے اپنے روحانیت علم کےباعث تخمینات لیکن یہ بات حسابات کی نہیں ہے۔ قرآنِ مجید کی روشنی میں بعد از موت حیات کا تصور کیا ہے۔ اور پھر جب موت کا ہم ذکر کریں گے تو قرآن کے ہی حوالے سے یہ بھی دیکھیں گے کہ ایک عام آدمی کی موت کیا ہوتی ہے اور انبیاء ، مرسلین ،صالحین ان کی موت کیسی ہوتی ہے کیونکہ دینِ اسلام میں عالمِ اسلام میں ان گنت علمائے کرام ہونے کےباوجود بہت سے مسائل ایسے ہیں جو حل نہیں ہو پائے ہیں جیسا کہ ایک مسئلہ جو ہے وہ نبی کریمﷺکے وصال کا ہے۔کوئی کہتا ہے کہ حضور زندہ ہیں، کوئی کہتا ہے کہ حضوؐر اس دنیا سے چلے گئےہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضوؐر اس دنیا سے چلے گئے تو آپ کا چلے جانا کیا ویسا ہی ہے جیسا عام آدمی کا چلا جانا ہے؟ ہم اپنے تخمینہٴ ذہن سے کیا سمجھتے ہیں اس کی کوئی دین میں اہمیت نہیں ہے دین میں اہمیت اﷲکے کلام کو ہے۔ قرآن سے بڑا کوئی عالم نہیں ہوسکتا تو قرآن سےہمیں سوالات جو ہمارے پاس ہیں ان کے جوابات چاہیےکہ عام آدمی کی موت کیا ہوتی ہے؟ ا ﷲکے دوستوں کی موت کیا ہے؟ اور پھر یہ کہ ایک مختلف مذاہب میں یہ تصور ملتا ہے ان کی جو مقتدر ہستیاں گزری ہیں ان کے بارے میں یہ تصور کیا گیا ہے کہ وہ دنیا سے چلے جانے کے بعد واپس آئیں گےاور اُس میں سرِفہرست عیسیٰ علیہ السلام کی شخصیت ہے۔ویسے تو یہو دیوں کے ہاں بھی یہ تصور ہے کہ اُن کے مرسلین میں سے کچھ مرسلین کے حوالے سے ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ دنیا میں واپس آئیں گے ۔ عیسٰی علیہ السلام کے واپس آنے کا تو ذکر احادیث میں ملتا ہے اور ان کے اٹھائے جانے کا ذکر قرآن میں آیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے عیسٰی علیہ السلام کے حوالے سے ہی اگربات کریں کہ مسلمانوں کی ایک اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ مرنے کے بعد انسان واپس آسکتا ہے ۔عیسٰی علیہ السلام کا جو معاملہ ہوا ہے وہ معاملہ اُس کا شعور، اس کا علم نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے عالمِ اسلام میں احمدی حضرات اور قادیانی حضرات نےعیسٰی علیہ السّلام کے حوالے سے بڑا گمراہ کن تصور پیدا کیا ہے ۔

قرآن مجید کا فہم اورثقافت ِ خداوندی :

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی مرجائے موت واقع ہو جائے اور پھر وہ دوبارہ دنیا میں آئے اور اگر وہ دنیا میں دوبارہ آئے تو پھر کیسے آئے گاجب وہ مر گیا؟ کیا وہ مرا ہوا جسم جو قبر میں دفنادیا گیا وہ دوبارہ زندہ کر دیا جائے گااور اگر دوبارہ زندہ کردیا جائے گا تو جو کچھ بھی جسمانی نقصان ہو گیاہے اس جسم کو اس کا کیا بنے گا؟ اب یہ جو ہمارے نسیں بنتی ہیں دباؤ کے پٹھے جو بنتے ہیں یہ کہاں سے بنتے ہیں اس میں نشوونماکیسے ہوتی ہے یہ خلیات کی ترکیب کیا ہوتی ہے، گہری نیند میں جا کے ہمارے اندرجو خلیات ہیں ان کی توڑ پھوڑ اور پھر نئے خلیات کا بننا یہ سب کیا ہےاور پھر ہمارے خون میں جو سرخ سیل ہیں اور سرخ خون کے جزو ہیں سفید خون کے جزو ہیں ان کا آپس میں کیا لینا دینا ہے اور زندگی کو برقرار جن عوامل اور جن حیاتیاتی عناصر نے برقرار کیا ہے زندگی کو وہ کیسے کیا ہے اور اس کی رزق عناصر میں کونسی روح کا عمل دخل ہےیہ جاننا بڑا ضروری ہے۔اس طرح کے مسائل پر ہمارے علمائے دین گفتگو کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ اُن کا جو علم ہے وہ انتہائی محدود ہےاور یہ جو مسائل ہیں یہ بڑے ہی گھمگیر مسائل ہیں بہت ہی انتہائی دانشور انتہائی سائنسی مسائل ہیں ۔ ان کو سمجھنے کےلیے آپ کو سائنس کو بھی سمجھنا ضروری ہے اور پھر قرآنِ حکیم ،قرآنِ مجید اسکی تعلیم کو اور جواﷲ کی طرف سے شعور عطا ہوتا ہے اُس شعور کا ہونا بڑا ضروری ہے۔ویسے تو بہت سے لوگوں نے کوشش کی ہے کہ شعور کا مطلب ہی سمجھ لیں کہ لفظ شعور کا مطلب کیا ہےخاص طور پر عربی زبان سمجھنے والے۔بہت سارے لفظ ہیں جن کو اگر ہم عربی قاموس میں دیکھیں تو ایک ہی کم و بیش معنٰی نکلتے ہیں جسطرح فہم ہے ادراک ہے توفیق ہے شعور ہے ۔اگر قاموس میں دیکھیں گے تو کم وبیش ایک ہی معنٰی اسکے نکلیں گے لیکن آپ اُ س وقت تک اسکی گہرائی کو نہیں پا سکیں گے جب تک آپ کے پاس اسکے پس منظر کی معلومات نہیں ہوگی اور ثقافت الہی سے واقفِ کار نہیں ہونگے ۔انگریزی ادب میں ہے کہ انگریزی سیکھنے کے لئے انگریزی ثقافت سے آگاہ ہونا ضروری ہے۔انگریزی ثقافت کو سمجھنے بغیر آپ انگریزی زبان کے فن میں مہارت کو حاصل نہیں کر سکتے ۔
اب یہ قرآنِ مجید کی جو زبان ہے اس کو سمجھنے کے لیے بھی ثقافت خداوندی کو سمجھنا ضروری ہے اور اﷲ کی ذہنیت کیا ہےجس طرح وہ گفتگو کرتاہےجس طرح وہ مشورہ دیتا ہے جس طرح وہ چیزوں کو الفاظ میں ڈھالتاہے۔اور کس طرح خدا خود ماہر ہے جب وہ اپنے خیالات کو تقریر میں ڈالتا ہےکیونکہ یہ عالمی طور پر اعتدال پسند خیال ہے ۔جب خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنایا جاتا ہے توسب کے سب خیالات الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتے ہیں ہمیشہ ایک خلاء باقی رہ جاتا ہے ۔تو جو خیالات ہیں ان کو الفاظ میں جو فکر ہے اُس فکر کو الفاظ کا جامہ پہنانا اس سارے عمل میں خیال جو ہے فکر جو ہے وہ اپاہج ہو جاتی ہےیعنی فکر کو جب آپ الفاظ کا جامہ پہنائیں گے تو آپ بے بس محسوس کریں گےکیونکہ جو فکر ہے اس کو تخیل کی سواری حاصل ہے اور جو تقریرہے اور الفاظوں کے لیے آپ کوجو ہے ادھر اُدھر کے چکر کاٹنے پڑیں گے۔کوئی لفظ ایسا نہیں ہوگا جو پورے خیال کو ایک یا دوحصّوں میں آپ کو سمجھا دے۔کبھی کبھی ایساہوتا ہے کہ ہم ایک نکتہ سمجھانے کے لیے ایک گھنٹے کی تقریر کر دیتے ہیں کیونکہ الفاظ چھوٹے جہان سے ہیں اور تخیل وسیع جہان سے آیا ہے۔ اب آپ سوچنے بیٹھ جائیں سوچتے رہیں گےجیسےفرض کیا آپ فرسٹ کوائن کے بارے میں سوچیں رات کو بستر میں گئے دو بجے سے صبح دس بجے تک سوچتے رہے کیا کیا سوچ لیا اور آدمی تھکتا نہیں ہے سوچ سوچ کےلیکن اگر دس منٹ کی سوچ کو لکھنے لگ جائیں وہ تو پھرفرسٹ کوائن کو ترک کر دے گا۔ اسی طریقے سے جو عربی زبان ہے یہ ا ﷲ تعالٰی کی اپنی زبان نہیں ہے۔تو اب معلوم یہ ہوا کہ عربی زبان ا ﷲ کی اپنی زبان نہیں ہے ا ﷲ کی تو زبان جو ہےدنیا میں کوئی بولتا ہی نہیں تھا۔ یہو دی جو ہے وہ عبرانی بولتے تھے تو اس قوم کے اوپر ا ﷲتعالیٰ نے عبرانی میں کلام نازل کیا ۔جو انبیائے اکرام اور ان کی اقوام عمرانی زبان بولتے تھے تو ان کی جو کتاب وحی تھی وہ عمرانی زبان میں آئی۔قرآنِ مجید عربی میں کیوں آیا اس لیے کہ ا ﷲکی زبان عربی ہے نہیں بلکہ قرآنِ مجید میں اس کا جواب لکھا ہے کہ

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
سورة یوسف آیت نمبر 2
ترجمہ : ہم نے قرآن کو عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ آپ کی عقلوں میں آجائے۔

تو معلوم یہ ہوا کہ عربی زبان اللہ کی زبان نہیں ہے۔ اب یہاں پر جو ایک اشکال پیدا ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس زبان کو اﷲ نے وحی الٰہی کے لیےمنتخب فرمایا تو اس زبان کی اپنی بھی ثقافت تھی۔اور پھر اﷲنے جو کلام نازل کیا تو اﷲ کی اپنی بھی ثقافت ہے ۔اﷲکی ثقافت اور یہاں کی ثقافت میں ظاہر ہے زمین اور آسمان کا فرق ہےجو بات اﷲنے کہنی ہے اپنی ثقافت کے حساب سے وہ بات عربی زبان میں موجود نہیں تھی لہٰذا جوں کی توں سریانی زبان میں ہی وہ الفاظ قرآن مجید میں آئےجس کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ اکرام تو عربی جانتے تھے اس کے باوجود بھی جب حضورﷺ ان کے سامنے قرآنِ مجید کی آیات بیان فرماتے تو وہ پوچھتے تھے یا رسول اﷲﷺاس لفظ کا کیا مطلب ہے اُس لفظ کا کیا مطلب ہے ۔وہ تو عربی جانتے تھے پھر اب مطلب کیوں پوچھ رہے ہیں معلوم یہ ہوا کہ وہ لفظ عربی کے نہیں تھے سُریانی کے تھے۔جب قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تو پھر سُریانی کے لفظ اُس میں کیوں شامل کئے وہ بھی عربی زبان میں کہیں سے ترجمہ کرا لیتے۔
اب جیسے لفظ ہے مشکور اور اس کا جو اصل لفظ ہے وہ ہے شُکر ۔اب لوگ کیا کہتے ہیں شُکر کا وہی مطلب ہے کہ کسی کو اگر دال مل گئی روٹی مل گئی کھانے کے لیے اﷲ تیرا بڑا شکر ہے یعنی اس کا وہ مطلب لیتے ہیں تشکر اور پھر چونکہ سراپا نفس ہیں لہٰذا قرآن کی آیتوں کا بھی نفس اور کھانے حلیم اور نہاری کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے ترجمہ کیا گیا کہ اور جو ذیادہ شکر کرے گا اﷲ اس کو ذیادہ دے گا حلانکہ اس کا مطلب تو کچھ اور ہے ۔شُکر جو ہے وہ سُریانی زبان کا لفظ ہے اور شُکر کا مطلب دوستی کرنا ہے۔ اب شکر کا عین مطابق ثقافت خداوندی کے حساب سے معنی” ہاتھ ملانا” ہے ۔اشکرو۔ کا مطلب ہے مصافہ کروتو مصافہ کا جو ہے استعارہ لیا ہے۔ایک تو مطلب ہوتے ہیں لفظی اور ایک مطلب ہوتا ہےاستعاری ۔ تو أَشکرُ جو ہے وہ ہے فرضی مطلب ہاتھ ملانا اور مستعاراً مطلب” دوستی کرنا” کے ہیں ۔اسی طرح شعور ہے شعور کا کیا مطلب ہے کہ اﷲ نے جو کلام اپنے حبیبﷺ پر اُتاراُس کی صحیح سمجھ وہ سمجھ جو اﷲ اُتارنا چاہتا ہے وہ سمجھ تمہیں عطا ہو جائے تو کہیں گے کہ اب یہ شعور مل گیا ہے ۔مفتی مولوی سمجھائے گا تو وہ شعور نہیں تفہیم ہے وہ فہم ہے ۔فہم کا مطلب ہوتا ہے جو میں نے سمجھا ۔فہم القرآن کا مطلب ہے یہ وہ ہے جو میں نے جمع کیا یہ میری سوچ اور سمجھ کے مطابق ہےاور شعور اﷲ جو چاہتا ہے جو معنیٰ اﷲ کے نزدیک ہے ۔اب قرآن مجید کی اس آیت کی دیکھیں

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 154
ترجمہ : جو اﷲکی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئےاُن کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن ا ﷲ نے ان کی زندگی کا تمہیں شعور نہیں دیا۔

انسانی جسم کی تشکیل سائنس اور روحانیت کی روشنی میں :

انسان کا جو جسم ہے وہ تین روحوں پر مشتمل ہے جس میں روح جمادی، روح نباتی اور روح حیوانی شامل ہوتی ہے ان تین روحوں کے مجموعے کو ارضی ارواح کہا جاتا ہے ۔

روح جمادی:

ایک روحِ جمادی ہےجس نے جمود قائم کیاہے ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے دودھ میں تھوڑا دہی ڈال کے دہی جماتے ہیں روحِ جمادی ہے یہ روح اُس وقت ڈالی جاتی ہے جب عورت اور مرد ملتے ہیں اور وہ جو نطفہ ہے وہ دونوں عورت اور مرد کا جو نطفہ ہے وہ آپس میں مل جاتے ہیں ۔اب جب وہ مل گئے خون مل گیا تو ا ﷲ تعالٰی اس خون کو بوٹی بنانے کیلئے، جمانے کیلئے ایک روح فرشتوں سے ڈلواتا ہے جس کا نام ہے روحِ جمادی ہے۔ اب اس سے چھوٹا سا ایک گوشت کالوتھڑا بن جاتا ہے ۔

روح نباتی:

اب وہ لوتھڑا بن گیا اب اس کی نشونما کیلئے بارہ ہفتے بعد ایک اور روح ڈالی جاتی ہے جس کو روحِ نباتی کہتے ہیں۔ روحِ نباتی جب آتی ہے پھر وہ بڑھنے لگتا ہے وہ جو گوشت کا لوتھڑا ہے اب وہ بڑھتا اب یہاں سے حقیقی طور پر تخلیق کا جو کام ہے وہ شروع ہو گیا۔تین مہینے روحِ نباتی اُس کو گھسیٹتی ہے اور وہ ایک گوشت کا لوتھڑا جو ہےوہ بنتا رہتا ہے۔ سب سے پہلے انسان کا یہ سَر ہی بنتا ہے باقی پورا جسم پھر گردن سے نکلتا ہے۔

روح حیوانی :

جب حمل کو چھ ماہ گزر جاتے ہیں اب ا ﷲ تعالٰی اس میں روحِ حیوانی ڈالتا ہے۔حیوان کا مطلب جانور نہیں بلکہ حیوان حیات سے ماخوذ ہے۔ جب اس میں روحِ حیوانی آتی ہے تو اس سے پہلے وہ ایک گوشت کا لوتھڑا ہی ہوتا ہےگول فٹ بال کی طرح جیسے انڈہ بیضوی ہوتا ہے اُسی طرح وہ گوشت کا ایک لوتھڑا ہوتا ہے ۔جب روحِ حیوانی آتی ہے تو روحِ حیوانی کا جو کام ہے وہ صورت کو بنانا ہے جس کے لیے ا ﷲتعالٰی نے فر مایا کہ

هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ
سورة آل عمران آیت نمبر 6
اور وہ ذات پاک ہے جو تمہاری مائوں کے ارحام میں تمہاری صورتیں بناتا ہے۔

اب اس روح کے آنے سے یہ ہو گیا کہ اب صورت بنے گی ۔اب وہ روح کس طریقے سے فرشتے اس میں پیوستہ کرتے ہیں گوشت کے لوتھڑے میں اُس سے جو ہے وہ خوبصورتی کا تعلق ہے۔کوئی اچھے طریقے سے موزوں کر دیتا ہے تو وہ بندہ حسین ہوتا ہے تو یہ روحِ حیوانی چھ مہینے کی حمل کے بعد ڈالی جاتی ہے اور چھ سے نو مہینے ،تین مہینے میں اس نے پورے وجود کو تشکیل دینا ہے ۔ہاتھ بنیں گے ٹانگیں بنیں گی پیٹ اوراندر کی چیزیں بنیں گی ساری چیزیں اس سے بننا شروع ہو جائیں گیااور نو مہینے میں بچہ مکمل ہو گیا ۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی عمر زیادہ ہوتی ہے لیکن لگتے وہ کم عمر ہیں ۔سائنس کہتی ہے کہ یہ کم نشوونما کا مسئلہ ہے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی عمر کم ہوتی ہے اور بوڑھے زیادہ لگتے ہیں وہ ذیادہ نشوونما میں آجاتے ہیں۔ اب یہ زیادہ نشوونما اور کم نشوونما کیا ہے ؟ یہ روحِ نباتی کی صحت کے اوپر مبنی ہےکسی کی روحِ نباتی بھاری ہوتی ہے کسی کی روحِ نباتی ہلکی ہوتی ہے جس کی روحِ نباتی ہلکی ہوتی ہے تو اس کے جسم کا جو عمر رسیدگی کا عمل ہے وہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ اب ہمارا جو عمر رسیدگی کا عمل ہے جو ہم غذا کھاتے ہیں اس کا براہِ راست اس سے تعلق ہے جس طرح گوشت ہے اور گوشت میں کئی چیزیں ہیں جو بھی آپ کھانا کھائیں گے تو جب وہ ہضم ہو گا تو اس سے فری ریڈیکل کا اخراج ہوتا ہے جس کو ختم کرنے کیلئے ہم اینٹی آکسیڈینٹ استعمال کرتے ہیں کہ بھئی سبز چائے پی لو یہ پی لو اینٹی آکسیڈنٹ ہوتے ہیں ۔وہ جو اینٹی آکسیڈنٹ ہیں وہ ان فری ریڈیکل کو ہی ختم کرنے کے لیے ہے تو جتنا زیادہ گوشت کھائیں گے اتنا زیادہ عمر رسیدگی کا عمل جو ہے آپ کا تیز ہو جائے گا۔ دانت بھی سارے کمزور ہو جائیں گے اور جلدپر بھی آپ کی شکن ہو جائے گی یعنی ایک عجیب و غریب نحوست آپ کو اوپر پڑ جائے گی ۔اور جو سبزی خور ہوتے ہیں اس میں فری ریڈیکل کا اخراج کم ہوتا ہے تو اب یہ تین روحیں ہیں روحِ جمادی،روحِ نباتی اور روحِ حیوانی ۔

سماوی ارواح اور لطیفہ نفس کا جسم میں داخل کیا جانا :

بچہ جب ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے جیسے ہی باہر آیا فرشتے کھڑے ہوتے ہیں وہ پھر آسمانوں سے جوسماوی ارواح کا پیکج لے کر آتے ہیں وہ داخل کرتے ہیں توپھر وہ انسان بنتا ہے اور پھر وہ روتا ہے ۔ یہ جو ہم اذان دیتے ہیں بچوں کےکان میں بچوں کو کیا سمجھ میں آرہا ہے کیا بول رہا ہے یہ لیکن وہ جو روحیں آئی ہیں ان روحوں کو آواز جاتی ہے اذان کی جو اوپر سے روحیں آئی ہیں۔ اب روحیں فرشتوں نے ڈالیں برابر میں جو ہے شیطان بھی کھڑا ہوتا ہے وہ لطیفہ نفس ڈالتا ہے ۔ لطیفہ نفس کے باطن میں دھاگے ہوتے ہیں جن کو خرطوم کہتے ہیں تو لطیفہ نفس کے جو خرطوم ہیں وہ مقامِ ناف سے کھینچ کھینچ کے وہ پورے سینے کو ڈھانپتا ہے اور پھر اس کو دماغ سے باندھ دیتا ہےتو اب سارے لطیفے اس کی زد میں اور ہماری عقل جو ہے وہ شیطان کے نرغے میں چلی گئی ۔ اب دنیا میں آکے ہم نے اس خرطوم سے چھٹکارا پانا ہے اور یہی ہمارا امتحان ہے۔تو جسم کی زندگی کا تعلق ان تین ارضی ارواح سے ہوتا ہے روحِ جمادی،روحِ نباتی،روحِ حیوانی۔بچہ پیدا ہو کے جب باہر آتا ہے تب اُس میں سماوی روح ڈلتی ہے۔ بچہ بغیر سماوی روح کے زندہ ہوتا ہے ،جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہےتو اس میں سماوی روح نہیں ہوتی تو وہ زندہ تو ہوتا ہے ۔ اب دیکھیں شریعت کا مسئلہ بھی ہے اگر کوئی بچہ ماں کے پیٹ میں ہی مر جائے تو اس کا جنازہ نہیں ہوتاکیونکہ انسانوں والی ارواح سماوی روح اس کے جسم میں نہیں آئی تھی اس لئے نماز جنازہ کیا پڑھیں گے۔پیدا ہونے کے ایک منٹ بعد بھی اگر مر جائے تو اب اس کا جنازہ ہو گاکیونکہ روح انسانی اُس کے جسم میں آچکی تھی۔

عام انسان کی موت کیا ہوتی ہے ؟

موت اس کا نام نہیں ہے کہ آپ کی سماوی روح نکل کے چلی گئی ۔موت کے وقت بہت ساری چیزوں کو اکٹھا ہونا ضروری ہے ۔بہت سے مختلف عناصر ہیں جو موت کی صداقت کا تعین اور قائم کریں گے۔جب موت کا وقت آئے گا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس جسم کو ایک گھر بنایا تھا اُن روحوں کا اس کا ٹائم ختم ہو گیا ہے تو اس کی روحوں کو اب واپس اوپر لے کے جانا ہے اب یہ جسم بیکار ہے کوئی شیطان اس میں نہ آکر بس جائے لہٰذا پھر اس جسم کو بھی مارا جاتا ہے ۔تو اس جسم کو مارا جائے گا تو اُس مارے جانے کے تین دن تک تین دن کابہتّرگھنٹے کا عرصہ ہے اس لیے سوئم کرا یا جاتا ہے ۔سوئم مطلب تین دن کہ تین دن تک اس کے جسم میں ارضی ارواح اس کے جسم میں ہی رہیں کیونکہ قبر میں حساب کتاب ہونا ہے ۔تین دن یعنی بہترّ گھنٹے کے بعد پھر عام آدمی کے جسم سے روحِ جمادی نکال لیتے ہیں فرشتے روحِ نباتی نکال لیتے ہیں ۔ روحِ جمادی نکالتے ہیں تو ہڈیاں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں۔ روحِ نباتی نکالتے ہیں تو پھر اُس سے نشوونما ختم ہو جاتی ہے روحِ حیوانی نکالتے ہیں تو شکل بگڑنے لگتی ہے ۔اب جب روحِ نباتی نکل گئی تو نشو نما ختم ہو گئی تو اب اُسی جگہ سے بدبو آرہی ہے اب آپ دیکھیں یہی ہمارا جسم ہے اس میں سے اب بدبو نہیں آتی لیکن اگر مر جائیں گے تو تین دن بعد اس سے بدبو آنے لگے گی کیوں کہ وہ نشوونما رُک گئی ہے ۔اب جو ا ﷲ نےقرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَـٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 154
ترجمہ : جو ا ﷲکی راہ میں ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے ا ان کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن ا ﷲنے ان کی زندگی کا تمہیں شعور نہیں دیا ۔

شہید کی موت کیا ہوتی ہے ؟

ہ علم قرآن میں نہیں دیاگیا بلکہ یہ علم قرآن کے اُس حصے میں ہے جو سینۂِ مصطفٰی ﷺ میں ہے۔اب وہ کیا ہے جو لوگ ا ﷲ کی نظر میں شہید ہو جاتے ہیں تو ا ﷲ تعالٰی فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ اس کے جسم کی جو ارضی ارواح ہیں وہ اس کے جسم سے نہ نکالنا اس کے جسم میں ہی رہنے دینا لہٰذا جو اگر شہید ہو گیا سو سال کے بعد بھی اس کی قبر اگر کھودیں تو اس کا خون تروتازہ ہو گا ۔اس کا جسم ویسا کا ویسا ہی ہو گا اس کی شکل و صورت ویسی کی ویسی ہو گی ۔شہیدوں کی ارضی ارواح ان کے جسموں میں ہی رہتی ہے تو یہ تو ہو گئی شہید کی موت ۔اور عام آدمی کی موت یہ ہے کہ اس کی روح اوپر چلی گئی فرشتےاوپر لے گئے ۔اُس کا لطیفہ نفس اس کی قبر میں جا کے بیٹھ گیا اور جو اس کےباقی لطائف تھے وہ بھی قبر میں چلے گئے ۔نور نہیں ملا کچھ عرصے بعد وہ مر گئے ختم ہو گئے اور اس کی ارضی ارواح کو فرشتوں نے نکال لیا جسم بگڑ گیا بدبو آنے لگی ہڈیاں مٹی بن گئیں ختم ہو گیا وہ موت پوری کی پوری واقع ہو گئی۔

کیایہ ممکن ہے کہ کوئی مرنے کے بعددوبارہ اس دنیا میں زندہ ہو سکتا ہے ؟

نہیں ایسا ممکن نہیں ہے اگر کوئی مر جائے تو وہ دوبارہ اس دنیا میں زندہ نہیں ہو سکتا۔اس کی وجوہات یہ ہوتی ہیں کہ جب وہ مرے گا تو اس کےاعمال کا جو حساب کتاب کر کے اُس کی پرچی روح کے اوپر لگا دیتے ہیں اس کا جو کھاتہ ہے اس کا جو حسابِ فعل ہے وہ معاملہ بنداب وہ دوبارہ نہیں کھل سکتا ۔دوبارہ کیوں نہیں کھل سکتا کیونکہ اس کا جو لطیفہ نفس ہے وہ قبر میں تنہا رہ گیا نجانے کس کس کی صحبت میں رہا کونسا شیطان کونسا جن وہاں آیا ۔دوبارہ اگر اس روح کو اس جسم میں داخل کیا جائے گا تو وہ جسم کتنے سالوں تک تنہا قبر میں پڑا رہا ہے وہ تو وہ اس کے بندے کے لیے تو بڑی مصیبت بن جائے گی اور پھر روح کے ڈالنے کے لیے ہڈیوں کا نرم ہونا ضروری ہے۔جو بچے ہوتے ہیں ان کی جو ہڈیاں ہیں وہ نرم ہوتی ہیں اس کی وجہ سے پھر روح کی جو کیلیں ہیں اس کی ہڈیوں میں لگائی جاتی ہیں اور جب وہ ہڈیاں پندرہ سولہ سال کا بندہ ہو جاتا ہے تو اس وقت پھر کوئی روح اس میں داخل نہیں ہو سکتی۔

عیسیٰ علیہ السلام کے مسئلے پر قادیانیوں کا گمراہ کن پروپیگنڈا:

عیسٰیؑ کے مسئلے کے اوپر قادیانیوں نے اور احمدیوں نے بڑا گمراہ کن پروپیگنڈا کیا۔انہوں نے ہر طرح سے یہ کوشش کر لی کہ عیسٰی کو مردہ قرار دے دیا جائے کیونکہ امام مہدی کے دور کے حوالے سے حدیث میں آیا ہے کہ امام مہدی کا اور عیسٰیؑ کا دور ایک ہی ہو گا۔اب مرزاغلام احمد قادیانی جو تھے عیسٰیؑ تو ان کے دور میں تھے ہی نہیں اب یہ ایک چیز رہ گئی تھی دعویٰ مہدی کو سچا ثابت کرنے کے لیے ایک چیز یہ باقی رہ گئی کہ چلو ٹھیک ہے سب کچھ ہو گیا عیسٰیؑ کہاں ہے۔لہٰذا اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ میں خودہی عیسٰیؑ ہوں اجب انہوں نے اس کا یہ تصور بنا لیا کہ میں خود ہی عیسٰیؑ ہوں تو عیسٰیؑ تو نبی تھے ۔پھر شیطان نے ان کے ذہن میں ڈالا کہ وہ نبی ہیں کیونکہ وہ عیسٰیؑ بھی ہیں اب شریعت کے مسائل مرزاغلام احمد صاحب کو بھی پتا تھے ان کو یہ بھی پتا تھا کہ حضورﷺ کی حدیث بھی ہے قرآن میں بھی لکھا ہے

مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
سورة الأحزاب آیت نمبر 40

قرآن مجید میں صاف صاف لکھا ہے اور حدیثوں میں میں بھی ہے لانبی بعدی (الحدیث النبوی) میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اور پھر ان کے ساتھ جو معاملہ ہوا اُس میں یہ کہ وہ عیسٰیؑ بن گئے ان کے ذہن میں یہ آیا کہ عیسٰیؑ تو بن گیا ہوں میں تو میں نبی تو ہو گیا ہوں ۔اور ادھر یہ بھی لکھا ہے کہ نبی آئے گا ہی نہیں تو اس کا حل انہوں نے یہ نکالا کہ اگر کوئی نبی آبھی جائے حضورﷺکی ختمِ نبوت کے بعد بھی تو اس سے حضور کی ختمِ نبوت پر کوئی فرق نہیں پڑے گایہ انہوں نے اس کا حل نکالا۔ایسا کبھی ہوا ہے کہ ڈاکٹر کہہ دیں کہ یہ بانجھ عورت ہے اور پھر اچانک کوئی بچہ اس کو پیدا ہو جائے اور ڈاکٹر کہیں نہیں یہ بانجھ ہے باوجود اس کے ہاں بچے کی پیدائش ہو گئی ہے۔اس کے بانجھ ہونے کا جو تصور ہے اس پر فرق نہیں پڑے گایہاں سے وہ مار کھا گئے۔اور وہ ختمِ نبوت کا جو معاملہ اب اس کے اندر کئی گروپ ہیں۔
اب آپ کو سمجھنا ہو گا کہ احمدی کیا ہے اور قادیانی کیا ہے لاہوری گروپ کیا ہے لاہوری گروپ جو ہے وہ ان میں سب سے زیادہ خطرناک ہے ۔یہ نام ہے ان کے فرقے کا لاہوری گروپ وہ نبی مانتے ہیں ان کے نزدیک نبوت ختم ہی نہیں ہوئی ۔اور یہ جو احمدی ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہاں ہم بھی ختمِ نبوت پر ایمان لاتے ہیں لیکن مرزاصاحب کے نبی جو ہونا ہے وہ بذوری نبوت ہے انکی یعنی وہ حضور کی نبوت کا ذِل ہے ۔ایسا کوئی قرآن و حدیث میں تذکرہ نہیں ہے کہ کوئی نبوت کا بھی سایہ ہو ا تو یہ جو احمدی حضرات کا عقیدہ ہے ۔ یہ جب کسی کو بتانے بیٹھتے ہیں تو بار بار یہ کہتے ہیں کہ ہم ختمِ نبوت پر قائم ہیں ہم بھی کہتے ہیں کہ حضورﷺ پر نبوت ختم ہو گئی ہے لیکن آپ یہ سمجھیں کہ وہاں جو ختم کا جو لفظ استعمال ہوا ہے اس سے مراد ہے مہر ،ختم کا مطلب اختتام نہیں ہے مہر ہے۔اور یہ سارا نبوت کا جو یعنی کھچڑا پکا وہ اس وجہ سے پکانا پڑا کہ عیسٰیؑ کا دور نہیں تھا ۔اگر خدا نخواستہ عیسٰیؑ ادھر اُدھر سے ان کو مل جاتے تو پھر ختمِ نبوت کو وہ چھیڑتے نہیں تو انہوں نے یہ جو کام کیا وہ حالتِ مجبوری کیا۔لہٰذا اپنے دعوی مہدی کو سچا ثابت کرنے کے لیے انہوں نے خود کو عیسٰی قرار دیا اب جو خود کو عیسٰی قرار دے دیا تو پھر قرآن کی اس بات کو جھٹلانا پڑا انہیں کہ ا ﷲ تعالٰی نے ان کو زندہ اٹھا لیا ہے۔

عیسیٰ علیہ اسلام کے اُٹھائے جانے کا تذکرہ قرآن میں 600 سال بعد آیا :

قرآن مجید میں صاف صاف لکھا ہے کہ

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا
سورة النساءآیت نمبر 157

قرآنِ مجید کہتا ہےوَقَوْلِهِمْ وہ یہ کہتے ہیں کہ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ کہ ہم نے مسیح عیسٰی ابن مریم کو قتل کر دیا۔ اب کون کہتے ہیں جب یہ قرآن نازل ہوا تو سامنے جن کا ذکر ہو رہا ہے وہ یہودیوں کی بات ہےحالانکہ یہودیوں نے قتل نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے پکڑ کے رومن کو دے دیا تھا ۔ اُس وقت وہاں رومن سلطنت تھی تو انہوں نے رومن کو دے دیا۔ اب رومن کا تو تعلق ہی نہیں تھا کسی دین سے تو انہوں نے چالاکی کھیلی اور اُن کو کہا کہ یہ اپنے آپ کو بادشاہ کہتا ہے آپ کی بادشاہت کو خطرہ ہو جائے گا۔یہ اپنے آپ کو بادشاہوں کا بادشاہ کہتا ہے اور یہ بائبل میں آیا بھی ہے ۔اگر بائبل کو آپ عربی میں ترجمہ کریں تو لکھا آئے گا کہ رب الارباب بادشاہوں کا بادشاہ تو وہ جو رومن کا جو بادشاہ تھا اس نے کہا کہ یہ بادشاہ بنے گا یہ ہماری سلطنت چھینے گا ۔تو اب قرآن یہ کہتا ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے تو عیسٰی کو قتل کر دیااب اس واقعے کوچھ سو سال گزرگئے ۔نبی کریمﷺ کی جو پیدائش ہوئی ہے وہ 571 سن عیسوی مسیح کے بعد ہوئی ۔اب 2018 چل رہا ہے تو یہی سن عیسوی ہے وہ اور اسی کے 571 سن میں پیدا ہوئےتو یہ عیسٰیؑ کے اٹھائے جانے کے بعد کی جو بات ہے اُس وقت سے یہ کلینڈر چل رہا ہے۔اور مسلمانوں کا کلینڈر کہاں سے چلا جب آپﷺ نے مکے سے ہجرت فرمائی ۔مسلمانوں کا کلینڈر سن ہجری ہے اورسنِ ہجری کا مطلب ہوتا ہے ہجرت کا سال۔ تو ہجرت کو کتنا عرصہ ہو گیا 1440 سال ہوئے ہونگےتو یہ 1440 سال جو کلینڈر آرہا ہے یہ اُس وقت سے چل رہا ہے کہ جب حضورﷺ نے ہجرت فرمائی۔اور یہ جو سنِ عیسوی ہے یہ عیسٰیؑ کے اٹھائے جانے سے ہے۔تو 571 میں آپ ﷺ پیدا ہوئے اب جب 571 میں پیدا ہوئے تو چالیس سال کی عمر میں نبوت کا اعلان کیا تو پھر 611 سن ہو گیا اعلانِ نبوت اور اس کے بعد اب اعلانِ نبوت کے نجانے کتنے سال بعد یہ آیت آئی ۔چلو فرض کرتے ہیں کہ1620 میں آگئی تو 620 سال کے بعد اب پہلی دفعہ ا ﷲ تعالی قرآن مجید میں تبصرہ فرمارہے ہیں کہ عیسٰی کو ہوا کیا تھا اور کیا لکھا ہے وَمَا قَتَلُوهُان کو قتل کہاں کیا وَمَا صَلَبُوهُ نہ ان کو صلیب پہ چڑھایا ۔اب ہمارے اس دور میں کسی چیز کے بارے میں معلومات جمع کرنا ہو تو گوگل پر ڈھونڈ لیتے ہیں اور اگر یہ نہیں تھا تو لائبریری چلے جاتے تھے لیکن آپ ذرا غور کیجیے کہ پچھلے جو ادوار گزرے ہیں دو ہزار سال پہلے، ڈیڑھ ہزار سال پہلے جب زمانہ اتنا جدید نہیں تھا سائنس نہیں تھا اور معلومات کو محفوظ کرنے کا کوئی انسان کے پاس زریعہ خاص نہیں تھا تو اُس وقت نبیوں کی ایک نشانی یہ بھی تصّور کی جاتی تھی کہ جیسے یہودیوں کا نبی جو گزرا ہے اس کی جو تعلیم آئی ہے تو نیا اگر کوئی نبی آیا ہے تو اس سے جا کر پوچھتے تھے کہ اچھا یہ بتاؤ کہ ابراہیمؑ کیا کرتے تھے اچھا یہ بتاؤ عیسٰی کے ساتھ کیا ہوا تھا تو یہ ایسا کیوں کرتے تھے کہ اگر یہ نبی ہو گا تو اﷲ اسے بتائے گا کہ ماضی میں یہ ہوا تھا ۔

عیسیٰ کے حوالے سے عیسائیوں کے غلط عقائد:

اب وہاں پر فرقے بنے ہوئے تھے عیسائیوں کے بھی فرقے تھے اور وہ یہ کہتے تھے کہ انہوں نے تو اپنا سارا بوجھ گناہوں کا صلیب پر ڈال دیا ۔آپ دیکھتے ہیں کہ مسیحی کی جوبڑی علامت صلیب ہے اور عملی طور پر انہوں نے ان کے نجات دہندہ ہونے کے لئے صلیب لے لیا ہے عملی طور پر کوئی عیسٰی صلیب نہیں ۔جو بھی صلیب پر یقین کرتا ہے وہ رہائی اور نجات پائے گا ۔ اب یہ جو صلیب ہے جو یہ گلے میں ڈال کے پھر رہے ہیں یہ ہر جگہ لگائی ہوئی ہے صلیب ، یہ بھی غلط ہو گیا ۔کچھ لوگوں نے اسے مقدس ثلیث کا نشان بنا لیا لیکن یہ صلیب تو کافروں کی ایجاد ہے یہ جو صلیب بنا رہے ہو ۔انہوں نے مقدس ثلیث کو اور صلیب کو ملا دیا یہ غلط ہو گیا ۔ رومن سلطنت میں جو انتہائی درجے کے مجرم ہوتے تھے ،بڑے خطرناک قسم کے جو مجرم ہوتے تھے اُن کو صلیب پر لٹکایا جاتا تھا اور کئی سو سالوں سے یہ دستور چلا آرہا تھا ۔یہ کوئی اسلامی سزا نہیں تھی یا یہ سزا کا طریقہ کوئی ا ﷲ کی طرف سے نازل نہیں ہوا تھا یہ انہوں نے خودہی ایجاد کیا تھا دنیاوی ۔تو صلیب مقدس کیسے ہو سکتی ہے اور پھر یہ آگیا کہ گناہ کی اُجرت کے لیے موت ہے ۔اور پھر یہ بائبل میں جو آیا ہے یہ بائبل میں تھا نہیں انہوں نے خود آمیزش کی ہے کہ عیسٰی نے اپنی زندگی ہمارےلیے قربان کر دی جس لمحے آپ عیسٰی پر ایمان لائے تمہارے سب گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔نہیں ایسا نہیں ہے یہ بائبل میں تھا ہی نہیں یہ بعد میں انہوں نے ترمیم کر کے اضافہ کیاہے ۔اب آپ دیکھیں کہ ان کے عقیدے کے مطابق گناہ کی اُجرت موت ہے اور ایک سرے پر کہہ رہے کہ عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے اور پھر یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ مرچکے ہیں۔ اگر وہ ا ﷲ کے بیٹے ہیں تو ا ﷲ تو لافانی ہے ،پھرکیسے ممکن ہے کہ باپ لافانی ہو اور بیٹا فانی ہو ۔ اب یہاں سے پتا چلتا ہے کہ یہ جو ان کا عقیدہ جو بنا ہے یہ غلط ہے۔اچھا یہ غلط کیوں بنا ان کا ایک مذہبی نظام ہے جس کو کہتے ہیں کریڈولوجی ، کریڈ۔بعد میں وہ مسلمانوں نے بھی بنا لیا ۔

دین ِاسلام میں اجتہاد حرام ہے :

جس طرح مسلمانوں میں مجدد آتے تھے تو انہوں نے مولویوں نے کیا کیِا مجتہد کا درجہ دیا ۔کسی قرآن اور حدیث میں مجتہد کا ذکر نہیں ہے ۔مجتہد ایک ابلیسی کام ہے ۔ اجتہاد یہ کہ اگرکوئی ایسا مسئلہ آگیا جس کا قرآن میں ذکر نہیں ،حدیث میں ذکر نہیں اب اُس کا فتوی کیسے دینا ہے تو مولوی آپس میں سر جوڑ کر بیٹھ جائیں گے جو ان کی سمجھ میں آئے گا وہ فتوی دے دیں گے کہیں گے یہ اجتحاد ہے۔مولویوں کا کیا بھروسہ ہے وہ غلط بات بھی کہہ سکتے ہیں تو مجتہد وہ ہے جو آپس میں قرآن و حدیث میں وہ چیز نہیں ہے تو آپ آپس میں مشورہ کر کے کوئی نیا مسئلہ بنا لیں یہ تو گمراہی ہے ۔مجدد وہ ہوتا ہے کہ قرآن و حدیث میں وہ چیز نہیں ہے ا ﷲ کی طرف سے مجدد پر الہام آجائے گااُس کے ذریعے وہ اصلاح کرے گا ۔تمہارے پاس الہام لانے والی چیزلطیفہ قلب ہی منور نہیں ہے اس لیے تم نے کہا کہ چلو بیٹھ کے مشاورت کرکے نیا مسئلہ ایک گھڑ لیتے ہیں تو یہ اجتہاد ہے ۔ اجتہاد اسلام میں حرام ہے کیونکہ قرآن و حدیث میں وہ چیز ہے نہیں، اللہ سے آپ کا تعلق جڑا نہیں ہے آپ اپنے قیاس پر مبنی جو مفروضہ ہے وہ اسلام کے ریشمی رومال میں لپیٹ کے آپ لوگوں کو دے رہے ہیں تو یہ گمراہی ہو گئی۔

صلیب پر عیسیٰ کی جگہ ان کا ہمشکل وجود مصّلوب ہوا:

تو اب قرآن نے کہا کہ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُنہ ان کو قتل کیا گیا نہ ان کو مصلوب کیا گیا وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْاب قرآن مجید کی اس آیت میں تھوڑا تھوڑا پردہ ہٹ رہا ہے اور اللہ تعالی ارشاد فرما رہے ہیں کہ عیسیٰ نہ تو وہ صلیب پر لٹکائے گئے نا ان کو قتل کیا گیا ۔ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ہاں ہم نے اُن کیلئے ایک شک کی تخلیق کی تھی ۔اب یہاں پر مولوی کی بس ہو جائے گی کہ وہ بتا دے کہ وہ شک کیا تھا ۔اب وہاں لکھا ہے کہ ان کے لیے شک وہاں تخلیق کیا گیا ۔ اب وہ شک کیا ہے یہ جاننا ضروری ہے۔اور پھر کہا گیا ہے کہوَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّکہ جو لوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں کہ وہاں پر شک کی تخلیق کی گئی تھی تو وہ اس لیے اختلاف کر رہے ہیں شک کا کہ انہوں نے اس چیز کی اتباع کی جو انہوں نے دیکھا ۔انہوں نے دیکھا اپنی آنکھوں سے اور سمجھ لیا کہ عیسٰی قتل ہو گئے ۔ اب وہ شک کیا تھا، شک یہ تھا ا ﷲ تعالٰی نے وہاں پر عیسٰیؑ کا ہمشکل ایک وجود رکھا اور عیسٰی کو جسم سمیت اوپر اٹھا لیا اور جنہوں نے دیکھا وہ یہی سمجھتے رہے کہ یہ عیسٰی ہے شک یہ تھاکہ وہ جو صلیب پر چڑھا ہوا تھا وہ عیسٰی جیسا دکھتا تھا عیسٰی نہیں تھاتو پھر وہ کون تھا۔اب لوگوں نے جو دیکھا اسی کو مانا ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات جو ا ﷲ 630 سال بعد بیان فرمارہے ہیں اگر وہ چھ سو تیس سال کے دوران ہی جو لوگ کفر مشق کرتے رہے اگر اُس دوران ہی یہ ان کو پتا چل جاتا تو لوگوں کو چھ سو سال تک کفر پر یقین نہ ہوتا ۔ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمیں تو قرآن کی وجہ سے پتا چل گیا ۔اگر ہم حضورﷺ سے پہلے کے دور میں پیدا ہوئے ہوتے تو ہم بھی یہ سمجھتے رہتے کہ ہاں عیسیٰ مصلوب ہو گئے ہیں۔تو کیا یہ اللہ تعالی کی طرف سےزیادتی نہیں ہوئی ؟

عیسیٰ کے دین کو درست کرنےکیلئے اللہ نے نبی بھیجے:

نہیں ہوئی اس لیے کہ عیسٰی اور محمد الرسول ا ﷲﷺ کے بیچ میں عیسٰی ؑ کے دین کی سلامتی کے لیے نبی بھیجے گئے انہوں نے لوگوں کو سمجھایا۔ عیسٰی اور حضورﷺ کے بیچ میں مرسل کے بعد دین کو مضبوط کرنے کے لیے نبی آتا ہے۔نبی کا کام دین بنانا نہیں ہے نبی کا اپنا کوئی کلمہ نہیں ہوتا ہے ۔نبی کا کام کیا ہوتا ہے دین میں جو بگاڑ ہو گیا اس کو صحیح کرناہے۔ اگر آپ عیسائیت کو غور سے پڑھیں گے تو آپ کو اس میں نظر آئے گا تذکرہ رسول کا پیغمبروں کا۔وہ رسول کیا ہے،وہ رسول انہیں کو کہا جا رہا ہے کہ جو عیسٰی ؑ کے اٹھائے جانے کے بعد ا ﷲتعالٰی نے عیسٰیؑ کے دین کو پاک کرنے کے لیے یعنی اس کو روحانی طور پرپاک کرنے کے لیے ان رسولوں کو بھیجا ۔اب چونکہ ہم مسلمان ہیں ہم تو سمجھتے ہی نہیں ہیں کہ ان میں بھی ا ﷲنبی بھیج سکتا ہے لیکن اللہ نے بھیجا ۔بہت سے آئے جیسے کہ ایک ہے تھامس ،میتھیوس ،لوُک،آپ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے گھر پہ بیٹھ کر ہی سب کچھ کیا ،نہیں ا ﷲتعالٰی نے ان کو مرتبے سے نوازا جو میتھیوس تھا لوُک تھا جو تھامس تھا آپ ان کی کتابیں تو پڑھیں ۔نبوت تو حضور پر ختم ہوئی ہے ،یہ تو حضورﷺ کےآنے سے پہلے کی بات ہے۔اب یہ جو آئے مختلف جس طرح تھامس کی انجیل آیا اور پھر اس کے بعد جو ہے ناسٹزم آیا عیسائیت میں ۔یہ ناسٹزم جس طرح ہم کہتے ہیں تصوف روحانیت اور یہودیوں کے اندر ہے قبالہ ۔اسی طرح عیسائیت کے اندر جو روحانیت آئی ہے وہ بھی مختلف اولیائے اکرام لے کر آئے جن کو غناسیت کہا گیا ۔اب یہ جو ناسٹزم آیا یہ بھی عیسٰیؑ کی اُمت کے اولیاء تھے انہوں نے بھی یعنی اپنی تعلیم کو آگے بیان کیا۔تھامس کی انجیل بھی آیا ،تھامس نے بھی بیان کیا لوُک نے بھی بیان کیا میتھیوس نے بھی بیان کیا اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہاں وہ رسول تھے ۔لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ وہ آتے گئے جاتے گئے ابھی انہوں نے آکر صحیح کیا اور لوگوں نے جھٹلا دیا تو اسی طرح اس میں بگاڑ پیدا ہو گیا ۔اور کچھ ایسے لوگ بھی تھے کہ جنھوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ عیسٰی جو ہیں دراصل وہ وہی ا ﷲ ہے جو عرشِ الٰہی پر بیٹھا ہوا ہے اور یہاں سے وہ کافر ہو گئے۔
تو اﷲ نے اس کی تردید کی اور قرآن مجید میں فرمایا کہ اور وہ عیسائی جو یہ کہتے ہیں کہاِنّا مسیح ھواﷲکہ یہ جو عیسٰیؑ ہیں یہ وہ ہی اﷲ ہے جو عرش پر بیٹھا ہے وہ گوشت اور ہڈیوں میں بدل گیا یہ کہااب یہ کافرانہ تصّور بھی آگیا۔ اس کے بعد اب یہ الفاظ غور کریں اور قادنیت کو جھٹلائیں وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا اﷲ تعالٰی فرماتا ہے کہ یقین کرلو اُس کو کسی نے قتل نہیں کیا۔اﷲ کہہ رہا ہے یقین کرو اس کو کسی نے قتل نہیں کیا ،وہ تبلیغ کررہے ہیں کہ وہ مر گئے اُن کو قتل کر دیا گیا تھا ۔یہ جھوٹا تصّور اور گمراہ کن تصّور ہے ۔جو قرآن مجید کو جھٹلاتا ہے اُس کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں ،اُس کا اﷲ سے کوئی تعلق نہیں، اُس کا اﷲ کی رحمت سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ گناہگار کی معافی ہے، گناہگار کے لیے کرم ہے، گناہگار کے لیے درگزر ہے لیکن جو اﷲ تعالٰی پر بہتان باندھے اُس پر اﷲ کا رحم نہیں ہو گا ۔اﷲ صاف صاف کہہ رہا ہے کہ یقین کر لو اُس کو قتل نہیں کیا گیا اور اگر آپ صرف اپنے ایک روحانی رہنما کو امام مہدی ثابت کرنے کے لیے عیسٰیؑ کو معاذاﷲ مار دیں ،قرآن کو جھٹلادیں ،ختمِ نبوت کو جھٹلا دیں اور پھر اپنے آپ کو آپ جنتی بھی تصّور کریں تو یہ ایک انتہائی گھناؤنا دھوکہ ہے اور نا قابل معافی جرم ہے یہ اﷲ کو جھٹلانا اﷲ کی بات کو جھٹلانا ۔

کیا آپ قادیانیوں کو سزا دینے کے مجاز ہیں؟

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی احمدی ہے یا قادیانی ہے تو آپ اس کو جا کے ماریں ۔اب جو قانون اﷲ نے دیا ہے جو تعلیم قرآنِ مجید میں اﷲ نے بیان کردی ہے اُس کی روشنی میں یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ گمراہی ہے۔گمراہی جو ثابت ہوئی ہے وہ اﷲ کے کلام کی روشنی میں ثابت ہوئی ہے اب اﷲ ان کو کیا سزا دیتا ہے یہ اﷲ کا کام ہے ۔سزا دینا ہمارا کام نہیں ہے ۔یہ غلط ہے کوئی احمدی ہو قادیانی ہو اور آپ جائیں اور اُس کو مار دیں ،یہ بھی ویسا ہی جرم ہے۔کیونکہ کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا حساب کتاب صرف اﷲ لے سکتا ہے جیسے شرک ہے اﷲ فیصلہ کرے گا ۔یاد کریں قرآنِ مجید کہتا ہے کہ

مالِكِ يَوْمِ الدِّينِ
سورة الفاتحة آیت نمبر 4
وہ قیامت کے دن کا مالک ہے ۔

اب اس آیت کی مزید تشریح کرتے ہیں کہ جب کہا جاتا ہے کہ وہ قیامت کے دن کا مالک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جو اپنی عبادتیں نمازیں روزہ حج زکوٰة پارسائی داڑھی یہ سب کچھ لے کر آرہے ہو یہ گمان نہ کر لینا کہ ان کو بل بوتے پر بخشے جاؤ گے۔ اس دن کا مالک وہ ہے جس کو وہ چاہے گا بخشے گا بھلے اُس کے پاس اعمال اچھے ہوں یا بُرے ہوں۔شرابی ہوکبابی ہو حاجی ہو نمازی ہو جیسا بھی ہو بخشش ا ﷲ کے ہاتھ میں ہےاور اﷲ تعالی تو ایسا ہے کہ اﷲ تعالی کی جو صفت ہے معاف کرنے والی وہ اتنی وسیع ہے کہ اگر یومِ محشر میں اﷲ اگر یزید کو معاف کردے تو آپ کیا کر لیں گے۔ہو سکتا ہے معاف کر دیں اﷲ ۔ حالانکہ میں خوش نہیں ہونگا کیونکہ اس نے امام حسین کےاوپر ظلم کیا ہے ۔لیکن میں تو معاف نہیں کروں گا لیکن اﷲ تو کر سکتا ہے میرے معاف کرے یا نہ کرنے سے کیا ہوتا ہے ۔لیکن اگر میں اُسےمعاف نہیں کرتاتو یہ میرے جذبات ہیں اﷲتعالٰی کو کوئی پریشانی نہیں ہے یعنی اﷲکچھ بھی کرنے کااختیار رکھتا ہے۔اگر اﷲ تعالی یومِ محشر میں قادیانیوں کو معاف کردیتا ہے تو اُس کی مرضی ہے احمدیوں کو معاف کر دیتا ہے تو اس کی مرضی ہے دیوبندیوں کو معاف کر دیتا ہے تو اس کی مرضی ہے ۔کوئی کچھ بولنے والا نہیں ہے ۔ہم ان کو غلط کیوں کہہ رہے ہیں کیونکہ ہم کو جو اﷲ نے قرآن دیا ہے اس علم کی روشنی میں وہ ہمیں غلط نظر آرہے ہیں ۔اُسی کے علم کی روشنی میں ہم ان کو غلط کہہ رہے ہیں۔اب اﷲ سزا کیا دیتا ہے فیصلے کیا پاس کرتا ہے تبصرے اﷲ کے کیا ہوتے ہیں صرف وہ ہی جانتا ہے لیکن وہ حیرت سے محبت کرتا ہے ۔

عیسیٰ علیہ اسلام کا اُٹھایا جانا اور سیدنا گوھر شاہی کی غیبت:

مٹی کےجسموں کی اقسام اور اُن کی خصوصیت:

جس طرح مٹی کے جسم دنیا کے لیے ہی بنائے جاتے ہیں اب جو وہ مٹی کے جسم ہیں اُن کی کئی قسمیں ہیں ۔اب جیسے اُٹھایا جانا ہے جیسے عیسٰیؑ کو اُٹھا لیا ۔ہم تو کہتے ہیں کہ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ کہ اﷲ ہر شے پر قادر ہے۔اب قادر تو ہے اس میں کوئی شک نہیں ہےلیکن اس کا کوئی طریقہ بھی تو ہو گااور پھر عیسٰی علیہ اسلام کواللہ نے اوپر اُٹھا لیا تھا تو کیا موسٰیؑ کو بھی اٹھایا جاسکتا تھا! اب اس کو سمجھنے کے لیے ضروری یہ ہوگا کہ جس کو ملکوتی جسم دیا ہے تو وہاں پر گھنٹی بجتی ہے کہ یہ کوئی خاص شخصیت آرہی ہے کہ انھوں نے آگے پیچھے بھی ہونا ہوگا ۔اگر کسی کا ناسوتی جسم ہوتو یہ تو یہی آئیں ہیں یہی رہ جائیں گے۔آدم صفی اﷲ کا جسم جنت ملکوت میں بنایا گیا اُن کا جسم ملکوتی تھاتو پھر عیسٰیؑ کو حوالے سے بھی قرآن میں آیا کہ اُس کی مثال آدم جیسی ہی ہے ۔

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
سورة آل عمران آیت نمبر 59

معلوم یہ ہوا کہ عیسٰیؑ کا جسم بھی ملکوتی تھااگر جسم ملکوتی نہ ہو تو اوپر کیسے جائے گا۔ایسی کوئی ہستی جس کا جسم ملکوتی نہ ہو اس کو اوپر اُٹھایا جا ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ وہاں کے ماحول کے حساب سے مطابقت نہیں رکھتا ۔تو اب عیسٰیؑ کو اوپر اٹھا لیا گیا ملکوتی جسم۔ادریسؑ اسی جسم سمیت جنت میں موجود ہیں کیونکہ وہ بھی ملکوتی جسم ہےاور الیاسؑ یہی کیوں گھوم رہے ہیں ،ناسوتی جسم ہے۔ نبی لولاک سیدنا محمد الرسول اﷲ ﷺ کے جسمِ مبارک میں ملکوتی جسم اور جبروت کا تڑکا۔جبروت کا تڑکا یہ ہے کہ کچھ چیزیں جو تھی وہ جیسے آپ کی آنکھیں ہیں جیسے آپ کے ہونٹ ہیں آنکھیں ،ہونٹ او ر کان یہ جبروتی تھے۔قرآن میں آپﷺ کے ہونٹوں کا ذکر کیا ہے۔

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ
سورة النجم آیت نمبر 3

اب یہ جوهَوَىٰ ہےهَوَىٰ مطلب صرف خواہشِ نفس نہیں ہوتا هَوَىٰ کا مطلب محبت بھی ہوتا ہےتو حضور نبی پاک ﷺ کا جو جسمِ مبارک وہ ملکوتی جسم ہے۔عیسٰیؑ کا بھی ملکوتی جسم تھا اس لئے وہ اوپر گیا عالم بالا میں اور آدم صفی اﷲ کا ملکوتی جسم تھا وہ تو رہتے ہی وہیں تھے۔اسی طرح امام مہدی ؑ کے پاس ،اب یہاں جو ہے آپ نے اپنے گھوڑوں کو روکنا ہے کیونکہ ابھی چھلانگ نہ لگائیں کہ ان کے پاس بھی ملکوتی جسم ہی ہو گا حضور پاک کی ؑارضی ارواح ہیں نا ،نہیں صرف حضور پاک کی ارضی ارواح ہیں اس جسم میں ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کو پورا جسم ویسا ہے ۔

حضور پاکﷺ کی ارضی ارواح کیسے بنائی گئیں؟

1986 میں پہلی دفعہ سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ سے سنا کہ نبی کریم ﷺ کا جو وجودِ انور ہے وہ آبِ منی کی پیدائش نہیں ہے بلکہ شجرة النور کا بیج سفید مادے میں مکس کرکے جبرائیل نے بی بی آمنہ کو پلایا۔سننے کے ایک یا دو دن بعد سرکارگوھر شاہی مجھے سدرة المنتهىٰ لے گئے ۔ سدرة المنتهىٰ اسے اس لیے کہتے ہیں کہ بلکل باڈر پر وہ ایک درخت ہےمطلب انتہائی کونا ۔اب اُس درخت کے پتوں سے نور نکل رہا ہے اور کسی پتے کے اوپر محمدﷺ لکھا ہے ،کسی پتے کےاوپر احد ،لکھا ہے کسی پتے کے اوپر واحد، لکھا ہے کسی پتے کے اوپر فقر لکھا ہے ،کسی پتے کے اوپر اﷲ لکھا ہے اور جگمگ جگمگ وہ درخت جو ہے اُس سے نور کی شعائیں نکل رہی ہیں تو میں پوچھتا ہوں سرکار یہ کیا ہے ۔سرکار فرماتے ہیں کہ یہیں کا بیج تو کھلایا تھا ۔اب وہ جو بیج ہے وہ بیج نبی کریم ﷺ کی والدہ ماجدہ کو کھلایااور ارضی ارواح کو اُس بیج والے مادے میں گوندھا گیا ۔

امام مہدیؑ میں موجود حضورﷺ کی ارضی ارواح میں کیا تبدیلی لائی گئی؟

لیکن سرکار گوھر شاہی کی ارضی ارواح کویعنی ارضی ارواح تو حضورﷺ کی ہیں ،انہی ارضی ارواح کو سدرة المنتهىٰ کےنوری بیج میں نہیں گوندھا گیا بلکہ اُسے “الرٰ” کے آٹے میں گوندھا گیا ہے۔ ایک دن پھر جب ہم اُدھر پہنچے تو فرمایا کہ یہ بیج کھالو۔وہ بیج کھا لیا تو اس سے ایک انگلی جو ہے ٹیڑھی ہو گئی ۔اس انگلی میں وہی آٹا ہے ۔اب فرق یہ ہے کہ یہ آٹا اس انگلی میں ہے اور ہم لوگوں کی روحوں کو یہ دیتے ہیں ۔یہ انگلی میں ہے لیکن جب یہ روح میں جائے گا تو وہ روح اوپر پہنچ جائے گی ۔اب یہ جو انگلی ہے اس انگلی کا مطلب ہے کہ یہ انگلی دنیا میں ہے تو غیبت نہیں ہوئی ۔اب پوری نہیں ہوئی نا ابھی ایک انگلی باقی ہے ۔ادھر جو امام جعفر صادق نے جو کہا تھا کہ ایک ہاتھ ہے انہوں نے ہاتھ کہا ،تھی وہ انگلی ۔انہوں نے کہا کہ ایک ہاتھ ہے تو انہوں نے ہاتھ ہی دیکھا ہو گا لیکن پورا ہاتھ نہیں ہے وہ ہاتھ میں سے صرف ایک انگلی ہے ۔اب وہ جو حضورﷺ کی ارضی ارواح ہیں ان کو پھر گوندھا ہے”الرٰ” میں اور پھرجب ” الم” اتارا تو آپﷺ کو کہا گیا کہ یہ رہنے ہی دیں اِس دور کے انسان اس پر ایمان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ

المر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ وَالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ
سورة الرعدآیت نمبر 1

یہ حق کے ساتھ المرکی جو تحریر ہے یہ آپ کو اوپر جو ہے اتاری گئی ہے تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ یہ اُس کتاب کی نشانی ہے وَالَّذِيکسی کی طرف اشارہ ہے ابوَالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّیعنی اب یہ اشارہ الر کی طرف ہےاورالمراس کی نشانی ہے۔لیکن پھر آگے جو ہے وہ ناامیدی کا اظہار کیا گیا ہےکہا گیا ہے کہوَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ کہ انسانوں کی جو اکثریت ہوگی اِس پر ایمان کی متحمل نہیں ہو سکے گیالمرکا مطلب یہ ہے کہ ہم سرکارگوھر شاہی کو امام مہدی بھی مانتے ہیں اور رب الارباب بھی مانتے ہیں۔
بہت کم انسان اس دونوں پر ایمان لائیں گےکیونکہ جب دونوں مل جائیں گے تو پھر کیف اور سرور اور لُطف زیادہ ہو گاکیونکہ یہ دونوں لباس انہوں نے پہنے ہوئے ہیں۔یعنی آپ یہ تو مان رہے ہیں کہ سرکار نے شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے لیکن آپ سرکار کے واسکٹ کو جھٹلا رہے ہیں۔سرکار نے واسکٹ بھی پہنی ہوئی ہے اس کا بھی ادب کرو۔یا جینس پہنی ہوئی ہے لیکن آپ بیلٹ کو نہیں مان رہےبیلٹ بھی نظر آرہا ہے تو مان لو۔تو دونوں کو یکجا کرنا یہ سب کا کام نہیں ہے۔ الرٰ بھی آسان ہے یہ رب الارباب والی جو لائن ہے وہ بھی بڑی آسان ہے لیکن مہدی بھی ماننا اور رب الارباب بھی ماننا یہ بڑا مشکل کام ہے۔ اگر امام مہدی ہیں تو رب الارباب یہ رب الارباب ہے تو امام مہدی کی کیا ضرورت ہے کیونکہ اس میں ایک دوسرے سے جنگ کرنی پڑتی ہے۔دونوں پہلو سامنے رکھنے ہیں اس کو کہیں گےیعنی خدامیں کھو کر اُس کو بھلا دینا۔ خدا میں کھونا ہے پہلے اُس کو بعد کہ نہیں کوئی خدا نہیں ہے اور اُس کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں یہ آسان کام تو نہیں ہے۔یعنی رب الارباب مان کر پھر صرف امام مہدی کا پرچار کرنا اور آغوش میں رب الارباب کی ہیں اور پرچار کررہےہیں امام مہدی کا ،آسان کام نہیں ہے۔ تو دونوں پر ایمان لانا تو یہاں ہے وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ اکثر انسانوں کا اس پر ایمان نہیں آسکے گا ۔

غیبت یعنی گوشہ نشینی کیا ہے؟

غیبت کا مطلب ہوتا ہے کسی کے پیچھے بات کرنا۔ اصل لفظ جو اس کیلئے عربی زبان میں آیا ہے وہ ہے نمیمہ لیکن اس کو غیبت جو ہےلفظی معنی کی وجہ سے کہا گیا ہےیعنی کسی کے غائب ہونے پر کسی کے خلاف بولنای۔استعارہ لیا گیا ہے۔تو غیبت کا مطلب ہے غائب ہونا۔غائب ہونے کا کیا مطلب ہے نظروں سے اوجھل ہونا۔اب یہ بھی بہت پریشان کن بات ہے کہ نظروں سے اوجھل ہونا کیا ہے کہ کیا یہی پر ہیں لیکن نظر نہیں آرہے ۔یہ بڑی جادوئی بات لگتی ہے کہ یہی پر ہیں لیکن نظر نہیں آرہے۔غائب ہونا کیا ہے اگر صرف نظر نہیں آرہے ۔ غیبت وغیرہ کا استعارے استعمال کئے گئے ہیں ۔اصل جو معاملہ ہے وہ ہے کہیں جا کر کے گوشہ نشین ہو جانا۔ایک انگریزی میں لفظ ہے Recluse جس کا مطلب ہے کہ دنیا سے ملنا جلنا ترک کر دیا جائے تو یوں کہہ دیں اکیلا پن اپنانا۔اب جیسے آپ مسجد بنا کر بیٹھ جائیں اور کہیں کہ اس نے اپنے آپ کو دہیں تک محدود کر لیا ہےیعنی گوشہ نشین ہو جانا ایک گوشے میں مقید ہو جانا ۔نظروں سے اوجھل ہونا اب نظروں سے اوجھل ہونا کیا ہے۔نظروں سے اوجھل ہونا یہ ہے کہ وہیں پر ہیں لیکن آپ کو نظر نہیں آرہے۔وہیں پر اگر رہنا ہےتو دنیا سے منقطع ہونا ہے اُن کو نظر نہیں آنا ہے تو پھر وہاں پر رہنے کا کوئی فائدہ تو نہیں ہےپھر کہیں اور رہ لیں ۔اگر وہیں پر رہیں گے تو عمر بڑھتی جائے گی گوشہ نشینی کا کیا فائدہ ہوا ۔غیبت کا کوئی تو فائدہ ہو جس طرح سرکار کے اُس وجودِ مبارک کی ساٹھ سال کی عمر ہوئی تو بس کہا یہیں پر رک جاؤاور اگر اُسی وجودکو استعمال کرتے رہیں گے تو عمر بڑھنے کا عمل جاری رہے گا ۔اب اگر یہ تصور کیا جائے کہ وہی جسمِ مبارک اس دنیا میں ہے بس ہمیں نظر نہیں آرہا تو یہ آپ کے دماغ کا خلل ہے۔نظروں سے اوجھل ہو جائیں لیکن وہی رہیں تو فائدہ کیا ہواوہ تو بڑھاپا طاری ہوتا رہے گا تو غیبت کا فائدہ تو ہوا نہیں۔اب چونکہ آپ لوگوں کو تو روحانی علم ہے نہیں تو آپ اپنے اٹکل پچو سے کہ یہیں ہیں کہیں بیٹھے ہوں گے ادھر اُدھر ہی بس ہمیں نظر نہیں آرہے ہماری آنکھوں کا قصور ہے۔یہ نظروں سے اوجھل ہونا عارضی ہوتا ہےتھوڑی دیر کے لیے نظروں سے اوجھل ہوگئے پھر آگئے۔ عیسٰیؑ کو ا ﷲ تعالی نے امام مہدی کی مدد کے لیے روکنا ہے تو عیسٰیؑ کو ساتھ یہ کیاکہ ان کو جسم سمیت اوپر اُٹھا لیا ۔قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ

بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ
سورة النساءآیت نمبر 158
ترجمہ : ا ﷲ تعالٰی نے اُن کو اپنی جانب اُٹھا لیا۔

اب جو غوث پاک کے پوتے تھےحیات الامیر وہ بھی چھ سو سال زندہ رہے ۔ہم نے اُن سے پوچھا کہ یہ جو آپ کے پوتے تھے چھ سو سال زندہ رہے مری کی پہاڑیوں میں بارہ کوہ میں اتنا جسم لاغر، اتنے بوڑھے ہو گئے اُدھر کیوں ۔آپ کے جو اپنے حواری تھے عیسٰیؑ کے اُن کو بھی یہاں غار میں مراقبے میں لگا دیا اور خود اوپر جا کے بیٹھ گئے ان کو بھی لے جاتے ساتھ سیر ہوجاتی ان کی۔تو پھر جو ہے وہ معلوم پڑا کہ بات تو سہی ہے ہم ان کو لے جاتے لیکن ان حواریوں کا جسم ملکوتی نہیں تھا اسی لیے اُن کو مراقبہ لگانا پڑا۔ جس طرح اب ہم یہ کہیں کہ سیدنا غوثِ اعظم ؓ اپنے پوتے کو کہہ دیتے کہ اوپر جا کر بیٹھ جاؤ عالمِ بالا میں جنت میں جا کر بیٹھ جاؤ جسم سمیت ایسی کوئی دعادو نا تو وہ دعا نہیں ہو سکتی کیونکہ عالمِ بالا میں صرف وہ جائے گا جس کا جسم ملکوتی ہو گا۔اب وہ ملکوتی جسم عیسٰیؑ کا اوپر عالمِ بالا میں اور اُن کے حواریوں کا ناسوتی جسم لیکن انہوں نے بھی اتنا انتظار کرنا ہے جتنا عیسٰیؑ نے کر نا ہے تو وہ وہاں پر بیٹھے ہوئے ہیں یہ نیچے بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ ملکوتی جسم ہے اور یہ ناسوتی جسم ہے۔تو ناسوتی جسم کو محفوظ کرنے کے لیے مرُاقبہ لگایا گیا ملکوتی جسم کو ملکوت میں لے جایا گیا کیونکہ وہاں پر وقت اور زمان اور مکان نہیں ہے تو عمر بڑھنے کا عمل نہیں ہو گا۔اور پھر سیدنا گوھر شاہی کا جو جسم ِاطہرہے اُس میں ارضی ارواح نبی پاکﷺ کی۔ اُس کے اندر ایک چٹکی ملکوت کی ہے ایک چٹکی جبروت کی ہے ایک چٹکی لا ہُوت کی ہے ہاہویت کی ہے وحدت کی ہے احدیت کی ہے۔ قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے کہوَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ

عیسٰی علیہ اسلام تو عالمِ بالا تک ہی جسم سمیت جا سکتے ہے اور سیدناگوھرشاہی اِسی جسم سمیت عالمِ غیب کا چکر لگا کے آتے ہیں ۔حیات کی مثال بھی ہو تو کہاں سے ہو۔وہ خالقِ حیات ہے جس میں ہاہویت کی چٹکیاں ہوں ،عالمِ وحدت کی چٹکی ہو ،عالمِ احدیت کا تڑکا لگا ہو اب اسے ملکوت میں لے جائیں ،جبروت میں لے جائیں ،ہا ہویت میں لے جائیں عالمِ وحدت پر لے جائیں مقامِ محمود پر بٹھا دیں یا عالمِ احدیت پر بٹھائیں یا پھر نشانِ ریاض پر لے جائیں یا پھر عالمِ ریاض الجنتہ میں لے جائیں وہ جسم ایسا ہے

ملکوتی اور جبروتی چٹکی تو ہمارے(یونس الگوھر) پاس بھی ہے ۔اب یہ کیوں دی کہ جب بہت ہی دل برداشتہ ہو جائے تو یوں انگلی کرنا میں جہاں بھی ہوا یہ انگلی مجھے چھوئے گی ۔ یہ چٹکی جو لگائی یوں کر کے چھو لینا جب دل بہت پریشان ہو جائے تو یہ انگلی چھو لینا اس کی دستر س لامکاں تک ہے۔زماں اور مکاں سےعاری ہے ۔اب سرکار گوھر شاہی جو جسم سمیت آنکھ بند کریں تو ملکوت، آنکھ بند کریں تو جبروت، آنکھ بند کریں تو مقامِ محمود اور آنکھیں بند کریں تو احدیت آنکھیں بند کریں تو ریاض الجنتہ ۔ آپ مزار بنا کر بیٹھے ہو۔یہ دفن ہونے والی چیزیں تو ناسوتی جسم کی ہوتی ہیں ۔دفن کون ہوتا ہے مٹی میں کون ملتا ہے جو اس مٹی سے آیا ہو،مٹی میں وہ ملے گا جو اس مٹی سے آیا ہو ۔اور جو نور خیرات اور زکوٰة میں بانٹے اُس کی کیا نسبت ہے کسی مٹی سے۔جو نور کی خیرات اور زکوٰة بانٹتا ہو جو جبروتی لاہُوتی ہاہویت والی چٹکیاں بانٹتا ہو اُس کی ناسوتی مٹی یا کسی اور مٹی سے کیا نسبت ہو سکتی ہے۔

امام مہدی سیدنا گوھر شاہی کی غیبت سے واپسی:

اب دیکھنا یہ ہے کہ جو واپس آنے کی بات ہے کہ غیبت سے واپس آئیں گے ۔کیا سیدنا گوھر شاہی نے اس کے بارے کچھ کہا ہے کہ واپس تشریف لائیں گے۔زبانی کلامی بھی کہا ہے اور دینِ الٰہی میں بھی لکھا ہے کہ عیسٰیؑ نے اور امام مہدیؑ نے اس دنیا میں دوبارہ آنا ہے۔عیسٰی ؑنے جسم سمیت اور مہدی نے ارضی ارواح کے زریعے ۔ ابنِ عمر ؓسے روایت ہے ایک حدیث کہ

عن ابن عمر ؓ قال قالرسول اﷲ صلى الله عليه وسلم من زار قبری بعد موتی کان کَمن زارنی فی الحیاتی
الحدیث ا لنبوی
ترجمہ : جس نے میری موت کے بعد میری قبر کی زیارت کی اُس نے یوں سمجھو کہ ایسے زیارت کی میری جیسے میری زندگی میں کرتا تھا

حضور نبی پاکﷺ کا جسمِ مبارک چونکہ ملکوتی ہے لہٰذا فرق نہیں پڑتا موت طاری نہیں ہوئی۔ اب وہ جسمِ مبارک اوپر چلا گیا اُسے موت نہیں ۔ سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ جب حضور شبِ معراج پر گئے اور ا ﷲ تعالٰی کی ذاتی انوار و تجلیات اُن کے جسم کے آر پار ہوئیں تو سرکار کے الفاظ ہیں یہ ،سرکار نے پہلے تو قسم کھائی کہ ا ﷲ قسم محمد ا لر سول ا ﷲ ﷺ ایسے لافانی ہو گئے جیسے اللہ ہے ۔تو حضورﷺ کی موت کیا ہے ،آپ کی روح اور جسم کا علیحدہ ہو جانا بس یہ موت ہے۔وہ نہیں ہے کہ قبر میں مردہ ہو گئے ۔حضورﷺ کا جو جسمِ مبارک ہے بغیر روح کے بھی سارے آثار زندگی کے ساری حرکات و سکنات اس میں موجود ہیں۔بغیر روح کے بھی کلام بھی کرنے کے قابل ہے چلنے پھرنے کے بھی قابل ہے اور اس کے واقعات بھی ہیں۔ جس کو موت واقع ہو گئی وہ اس دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتااور جس نے دوبارہ آنا ہے اُس کو موت نہیں آتی۔اب چونکہ موت نہیں آتی اور نجانے کتنا عرصہ رہنا ہے تو اُس کیلئے جسم کم سے کم ملکوتی ہو تا کہ یہ عرصہ وہ اُس مقام پر گزارے جہاں پر زمان اور مکان کی قید نہیں تاکہ عمر میں فرق نہ پڑے۔اگر ہماری تنظیم انجمن سرفروشانِ اسلام کے پاس تعلیم ہوتی تو آج جو گمراہی پھیل گئی ہے وہ نہ پھیلتی۔سرکار نے اپنی کتاب دینِ الٰہی میں حجرِ اسود کی تصویر کا جہاں ذکر کیا ہے وہاں فرمایا ہے کہ پچیس سال کی عمر میں جثہّ گوھر شاہی کو باطنی لشکر کے سپہ سالار کی حیثیت سے نوازہ گیا ہے۔معلوم یہ ہوا کہ جس کی عمر پچیس سال اور ساٹھ سا ل ہے وہ سرکار کا جسمِ مبارک نہیں جثّہ مبارک ہے۔تو پھر سرکار کا جو جسم ہے وہ تو ابھی منظرِ عام پر آیا ہی نہیں ہے ۔منظرِ خاص پر تو ہے لیکن منظرِ عام پر نہیں آیا۔وہ جو جسمِ مبارک ہے اُس میں حضورﷺ کی ارضی ارواح ہیں اب جو ظہور ہوگا وہ سرکار گوھر شاہی کے جسم مبارک کا ظہور ہو گاجس کو پہلے لوگوں نے دیکھا نہیں لیکن صورت وہی ہے ۔

کوٹری پاکستان میں مزار کی حقیقت:

اب پھر یہ مزار کیا ہے۔عیسٰیؑ کو ا ﷲ نے اوپر اُٹھا لیا تھااُس کو باوجود بھی عیسٰیؑ کی قبر کا جو ہے ذکر ہے۔ کوئی کہتا ہے افغانستان میں اُن کی قبر ہے کوئی کہتا ہے کہ کشمیر میں اُن کی قبر ہے۔ تو سرکار نے اس کیلئے لکھا ہے کہ اُن کی قبر کا جو پروپیگنڈا ہے یہ جھوٹا ہے اُن کو تو ا ﷲ نے اوپر اُٹھا لیا ۔عیسٰیؑ نے واپس آنا ہے اُن کی قبر کا پروپیگنڈا جھوٹا ہے ۔امام مہدی نے بھی واپس آنا ہے تو اُن کے مزار کا پروپیگنڈا سچاکیسے ہو سکتا ہے۔ پروپیگنڈا تو عیسٰیؑ کا بھی ہوا کیوں ہوا کہ وہ صلیب کے اوپر ایک ہمشکل جسم تھااس کو دیکھ کے لوگوں نے کہا کہ دفنایا تو ہو گا ۔اسی طرح جو یہاں سے تابوت گیا اُس کے اندر بھی ایک جسم تھا ایک وجود تھا لیکن اس کو دیکھ کے لوگوں نے سمجھا کہ یہ گوھر شاہی ہیں ۔ جن کے دلوں میں نور تھا انہوں نے کہا کہ یہ میرے گوھر شاہی نہیں ہو سکتے تو وہ کیا تھا پھر،وہ لطیفہ نفس کا ایک جثّہ ہے ۔اب یہ لطیفہ نفس کے جو جثّے ہیں ایک جثّہ تو جب طفلِ نوری آتا ہے اُس وقت فنا ہو جا تا ہے۔آپ کو تو پتا بھی نہیں چلتا ہے کہ فلاں ہستی کا ایک جثّہ جو نفس کا ہے وہ فنا ہو گیا ہے۔ایک جثّہ توفیقِ الٰہی جب آتا ہے اُس وقت فنا ہو جاتا ہے ۔اب چار میں سے دو جثّے تو رو حانیت میں ہی نظر ہو گئے ۔اور نفس کا تیسرا جثّہ اگر غیبت کے واقع کیلئے نظر ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے ۔

سرکار گوھر شاہی کی کتاب دینِ الٰہی میں تحریر:

25سال کی ہی عمر میں جثّہ گوھر شاہی کو باطنی لشکر کے سالار کی حیثیت سے نوازا گیا تھا ۔اور جس جثہّ کی عمر بتائی جا رہی ہے وہ تصویر لگی ہوئی ہے کلین شیو ۔یہ تصویر جثّہ کی ہے یا اس وجود کی ہے جس نے تبلیغ کی ہے اُسی وجود کی ہے۔اس کو تو جثّہ کہا ہے سرکار نے تو اسی جثّے کی عمر پچیس سال پھر پینتس سال پھر چالیس سال پھر پچاس اور پھر ساٹھ سال اور ساٹھ سال ہوگئی تو جثّہ غائب ۔ تو یہ جثّہ تو نہیں ہو سکتا تھا تا بوت میں کیونکہ اس کو تو باطنی لشکر کی حیثیت سے نوازا گیا ہے ۔اس جثّے نے تو امام مہدی کا کام کرنا ہے تو پھر وہ تابوت میں کون تھاوہ لطیفہ نفس کی ایک چیز تھی ۔جو اس کو نہیں مانتا ہے وہ امام مہدی گوھر شاہی کے فیض سے محروم ہے۔اور جو وہاں جا کے طواف کر رہے ہیں اُن کو کچھ نہیں مل رہا بلکہ جتنی دفعہ اُس مزار کو دیکھو گے گناہ ملے گاکیونکہ امام مہدی پوری انسانیت کے لیے ہے ایک جگہ قید کیسے ہو سکتا ہے۔

عام آدمی اور صالحین کی حیات اور موت کا فلسفہ:

أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُم مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّـهُ وَلَوْلَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
سورة الشورى آیت نمبر 21

مندرجہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ تعالی یہ ارشاد فرمار ہے ہیں کہ کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ان کے گناہوں کے باوجود ہم ان گناہگاروں کو اُن ہستیوں کے برابر کر دیں گے کہ جو ایمان والے بھی ہوئے اور عملِ صالح بھی کیے کیا ان کی زندگی گناہگاروں کی زندگی حیات اُن صالحین کی حیات جیسی ہے اور کیا ان کی موت اُن صالحین کی موت جیسی ہے ۔اب حیات کا فرق کیا ہے عام آدمی کی اور ان صالحین کی حیات کا ۔ عام آدمی جہاں بیٹھا ہے وہیں بیٹھا ہےاور جو صالحین میں سے ہیں وہ اِدھر بیٹھا ہے اُدھر بھی بیٹھا ہے اُس کی حیات یہ ہے۔غوثِ اعظم کی ایک ہی وقت میں نو آدمیوں نے دعوت کی ۔آپ نے ایک ہی وقت میں نو مریدوں کے گھر کھانا کھایا اور مسجد میں نماز بھی پڑھ رہے تھے ۔مجدد الف ثانی کو ایک ہی وقت میں لوگوں نے کعبے میں بھی دیکھا مدینے میں بھی دیکھا غوث پاک کے روزے پر بھی دیکھا اور وہ بھارت میں بھی تھے۔وہ کیا تھا اُن سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ میرا اندر تھا ۔
اور سرکار گوھر شاہی کوٹری میں بھی ہیں اور سرکار گوھر شاہی حیدآباد سے گئے ہوئے ایک امام کو خانہ کعبہ میں بھی ملاقات کررہے ہیں مسجدِ نبوی میں بھی ملاقات کررہے ہیں ۔ اور پھر ایک تصویر ایسی بھی آئی کہ حاجیوں کا جہاز حج کے بعد ان کو پاکستان لے کر گیا تو سرکار بھی چلتے ہوئے حا جیوں میں نظر آرہے ہیں اور یہ اُس وقت کا واقع ہے جب سرکار امریکہ میں تھے ،مقدمات بنے ہوئے تھے تو حجرت فرمالی تو جب اخبار میں وہ تصویر امینہ باجی نے دیکھی ان کو ہوگیا کہ سرکار پاکستان آگئے ہیں اخبار میں تصویر دیکھ کے ۔ انھوں نے فوراً فون کیا تو کہا کہ ہم تو امریکہ میں ہیں ۔اب وہ کیا چیز تھی تو وہ اندر کی چیزیں ہیں تو یہ حیات ہوگی ۔

عام آدمیوں کی حیات ایک ہے جگہ ہے تو وہ ایک ہی جگہ ہے۔جو صالحین ہو گئے اب ان کا پتا نہیں چلتا کہ کہاں جو بیٹھا ہے وہ کون ہے اُس کا جسم ہے جثّے ہیں یا روح ہےسب کی شکل ایک جیسی ۔اب عام آدمی کی موت کیا وہ گئی وہ مر گیا قبر میں چلا گیا ختم ہو گئی کہانی۔اور جو صالحین کی اگر موت واقع ہوئی تو ان کی روح اوپر چلی گئی ان کے لطیفے اور ان کا نفس وہ قبر کے اندر زندہ بیٹھے ہوئے ہیں نمازیں پڑھ رہے ہیں تلاوت کررہے ہیں ذکر فکر کررہے ہیں آنے جانے والوں کو فیض دے رہے ہیں ۔تو یہ ہے عام آدمی کی موت اور خاص کی موت کا فلسفہ ۔ اب مائیکرو ویو کے برتن مختلف ہوتے ہیں اُسی مٹی کے بنے ہوتے ہیں ویسی مٹی کے لیکن اگر وہ برتن مائیکروویو کا نہیں ہے تو پٹاخاہو جائے گا ۔ اگر اُس کے اوپر لکھا ہوا ہے کہ مائیکروویو کیلئے یہ موضوع ہے تو پھر آرام سے آپ اس کے اندر رکھ دیں۔ اسی طرح دکھتے وہ ایسے ہی ہیں ۔ آدم صفی ا ﷲ کا جسم ملکوتی مٹی سے بنا تھا تو وہ وہاں رہتے تھے ،مناسب تھا اسی لیے رہتے تھے۔ یہاں جن کو ملکوتی جسم ملا وہ یہاں سے اوپر جا کر رہے ۔وہ اوپر سے نیچے آئے تھے۔

واقعہ ٴ غیبت سے اب تک کا سفر:

سترہ سال ہوگئے غیبت کو اور اتنے سالوں میں آہستہ آہستہ آہستہ سُست روی کے ساتھ مشن آگے بڑھا ہے ۔تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ تم مومن ہوئے اور جو مومن نہ ہوں اُن کو تخت و تاج چھوڑا آج وہ بھکاری ہوگئے۔ مومن نہ ہوں تخت و تاج بھی جو ہے وہ ضائع ہو جاتا ہےاور اگر مومن ہوں تو فٹ پاتھ سے عرشِ الٰہی پر ایک دن بیٹھ ہی جاتا ہے۔سرکار گوھر شاہی پر کامل ایمان کی آرزو کرنا ہم سب پر فرض ہےاور وہ ایمان عطا کرنا یہ سرکار کا فضل ہے۔لیکن اُس کی آرزو کرنا، اُس کی جستجو کرنا اپنے حال سے اپنے عمل سے یہ ہم پر لازم ہے۔ جب کوئی سمجھائے تو اُس کی بات کو سمجھیں یہ ہم پر فرض ہے،تحقیق کریں۔یہ سرکار کی بڑی کرم نوازی ہے کہ ہمیں سرکار نے اپنا جو خاص راستہ ہے وہ بھی عنایت فرمایا ،اپنی محبت کا طریقہ بھی عنایت فرمایا۔ اب یہ دنیا بھر میں جو فیض ہو رہا ہے یہ سرکار کا ہی فیض ہے ۔ اب حضور ﷺ نے جب یہ فرمایا کہ جس نے میرے مرنے کے بعد میری قبر کی زیا رت کی تو گویا اُس نے ایسے ہی میری زیارت کی جس طرح اس نے زندگی میں ۔ تو حضورﷺ کی چیزیں مزار میں موجود ہیں تبھی آپ ترغیب دے رہے ہیں کہ میرے مزار پر آکر زیارت کرو۔آپ تو رحمت للعا لمین ہیں آپ تو امام الانبیاء ہیں ۔آپ کو تو بغیر مزار کے کہیں بھی کسی وقت بھی خوابوں میں چلے جانا چاہیئے فیض دینا چاہیئے تھا لیکن ایسا تو نہیں ہوا کہا کہ قبر میں آؤ کیونکہ وہاں پر موجود ہیں۔
اور سرکار گوھر شاہی دیکھو ہزاروں واقعات ہیں کبھی اس کے خواب میں آکے نوازا کبھی اُس کے خواب میں آکے نوازا ۔ کیا سرکار نے کہا ہے کہ کوٹری میں مزار پر آؤ تب نوازوں گا ۔ اگر وہ مزار سچا ہوتا تو فلسطین والے کو کیسے پتا چلتا کہ امام مہدی کہاں ہیں ۔اگر یہ مزار کے جو متولی بیٹھے ہیں کوٹری شریف میں اگر یہ سرکار کو امام مہدی سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ مزار امام مہدی کا ہے تو پھر یہ مزار کی تبلیغ کیوں نہیں کر رہے پوری دنیا میں تاکہ پوری دنیا امام مہدی سے فیض حاصل کرے مزار پر آکے۔امام مہدی پوری دنیا کیلئے ہیں لیکن یہ ا ﷲ نے کیا کیِا امام مہدی پوری دنیا کے لیے اور وہ مزار بن گیا ہے اور اب مزار کا پروپیگنڈا جو ہے وہ انسانوں نے کرنا ہے،نہیں وہ تو ا ﷲ کرے گا ۔اگر ا ﷲ تعالٰی نے امام مہدی کے مزار کا پروپیگنڈا کرنا ہوتا تو امام مہدی کے مزار کی تصویر چاند پر لگا دیتا ،تا کہ سب کو پتہ چل جاتا کہ کوٹری شریف میں امام مہدی کا مزار ہے ۔یہ مزار نہیں ہے یہ شیطانوں کا مزار ہے اِن کی خواہشات کا مزار ہے ۔ یہ وہ مردود ہیں جو پہلے یزید کے ٹولے میں تھے اور آج اس ٹولے کا نام انجمن سر فرو شِان اسلام ہے ۔یزیدی لوگ ہیں نہ ان کا ا ﷲ سے تعلق ،نہ رسول سے تعلق، نہ کسی غوث سے تعلق یہ مردود ٹولہ ہے۔اب چونکہ حق بات کہنا جو بہادری کا کام ہے ۔ہم نے حق بات کہی ۔جس نے بھی حق کو جھٹلایا کافر مردود۔ اور لوگ اسی بات پر ناراض ہو گئے تھے کہ یہ اہلِ خانہ کو گالی دیتا ہے ۔ امام مہدی پوری دنیا کے لیے ہیں خاص طور پر جب سرکار نے اپنی زبان سے فر ما دیا ہوکہ” تیرا گوھر شاہی لافانی ہے “۔اب وہ تابوت کو دیکھیں یا سرکار کے قولِ مبارک کو دیکھیں ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 27 نومبر 2018 کو یوم غیبت کے موقع پر خصوصی نشست سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں