کیٹیگری: مضامین

مومن بننے کے لئے شرائط:

جب ہم اپنے علما سے یہ سوال کرتے ہیں کہ یہ جو غیر مسلم انسانی فلاح و بہبود کا کام کرتے ہیں تو پھر یہ جنت میں کیوں نہیں جائیں گے ، تو اُن کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایمان کے بغیر ایسا کرتے ہیں اس لئے فائدہ نہیں ہےاور یہی بات قرآن مجید میں بھی لکھی ہوئی ہے کہ اگر ایمان تمھارے قلب میں داخل نہیں ہوا ہے تو اللہ تعالی نے منع کیا ہے کہ تم خود کو مومن نہیں کہہ سکتے اور یہ اللہ کا حکم ہے ۔

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
سورة الحجرات آیت نمبر 14
ترجمہ : اعراب یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ عرب کے بدو حضوؐر کے پاس آئے اور کلمہ پڑھا اور کہنے لگ گئے کہ ہم بھی مومن ہو گئے ہیں تو اللہ تعالی نے فوراً آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اے محمد ان کو کہہ دیجیے یہ مومن نہیں ہیں بلکہ یہ کہیں کہ اسلام لا کر مسلمان ہوئے ہیں ابھی تو ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اور تم مومن کہہ رہے ہو ۔ اب سوال یہ ہے کہ جب آپ خود کو مومن نہیں کہہ سکتے تو پھر جو کام اللہ نے مومنوں کے لئے رکھے ہیں وہ کیسے کر سکتے ہیں ۔ ذکر قلب کوئی اضافی چیز نہیں ہے بلکہ یہ دین اسلام کا اہم ترین جز ہے اور اتنا اہم ہے کہ ایمان کے قلب میں داخل ہونے کو ذکر قلب کہتے ہیں ۔ایمان کا قلب کا داخل ہونا یہی ہے کہ اللہ کا نور قلب میں داخل ہو جائے۔

وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
سورة التغابن آیت نمبر 11
ترجمہ : جس کو اللہ مومن بناتا ہے تو اُس کے قلب کو ہدایت دیتا ہے ۔

بغیر ایمان کے دل میں داخل ہوئے ہم جو بھی اعمال کرتے ہیں اُن میں ہماری نیتیں دل کی ناپاکی کی وجہ سے کچھ اور ہو جاتی ہیں ، بغیر ذکر قلب کے مومن بنے جب ہم نمازیں پڑھتے ہیں تو وہ نماز دکھاوا بن جاتی ہے جس سے تکبر آتا ہے اور ایسے لوگوں کے لئے اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے تباہی اور ہلاکت ہے جو اپنی نمازوں کی حقیقت سے خبردار نہیں ہیں ۔

فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ لَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُونَ
سورة الماعون آیت نمبر 5

ایک طرف اللہ کا قانون ہے جو اللہ نے بتا دیا ہے اگر آپ اس پر عمل پیرا نہیں ہوں گے اور احمقوں کی طرح محنت میں لگے رہے اور ساری زندگی ایسی نماز پڑھتے رہے ، ساری زندگی ایسے اعمال کرتے رہے جس سے آپ کو کوئی فائدہ ہی نہیں ہوا تو روز محشر اللہ کو کوئی عذر پیش نہیں کر سکتے کیونکہ اللہ نے قرآن بھی بھیجا ہوا ہے جس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ جب تک ایمان قلب میں داخل نہیں ہوتا خود کو مومن بھی نہیں کہہ سکتے اور تم نے وہ چیزیں کرنا شروع کر دیں جو مومن کے لئے تھیں کیونکہ مومن کو اس سے فائدہ ہونا تھا جیسے

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ
سورة العنکبوت آیت نمبر 45
ترجمہ : نماز بے حیائی اور برائیوں سے روکتی ہے ۔

نماز حقیقت کیا ہے ؟

مومن اگر نماز پڑھتا تو بے حیائی اور برائی سے رکتا کیونکہ مومن کے دل میں اللہ کا نور اور ایمان ہوتا ، جب وہ نماز پڑھتا تو نماز کا نور دل میں جاتا اور دل سے وہ نور نفس کی طرف جاتا نفس جو کہ برائی کا امر کرتا ہے دل کا نور اسے برائی سے روکتا ، اسطرح نماز بے حیائیوں اور برائیوں سے روک دیتی ۔لیکن جب تم مومن نہیں تھے اور تمھارے دل میں نور اُترا نہیں تھا اور تم نے نمازیں شروع کر دیں تو نماز کا نور انگلیوں اور زبانوں پر ہی رہا ، دل میں نہیں اترا اور نہ ہی نفس تک پہنچا اسی وجہ سے تمھاری نمازیں تمھیں برائیوں سے نہیں روک سکیں ۔ہم کبھی نماز سے نہیں روکتے بلکہ تمھاری نمازیں مومن کی معراج بن جائیں اس کا پتہ بتا رہے ہیں ۔ آج تم اس مغالطے میں ہو کہ تم بہت بڑے نمازی ہو لیکن تمھارے کردار میں کوئی تبدیلی نہیں آ رہی ہے نمازیں پڑھتے اور پڑھاتے بھی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ برائیوں میں بھی ملوث ہو ، جھوٹ بھی بولتے ہو ، تمھارا کردار مومن جیسا نہیں ہے ۔ یہ سارے مسائل اسی وجہ سے ہیں کہ تم نے مومن بننے کےاوپر کوئی وقت نہیں لگایا براہ راست کلمہ پڑھ کر خود کو مومن سمجھا ہوا ہے اسی وجہ سے تمھارے سارے اعمال غارت جا رہے ہیں ۔
کتابوں میں ہم پڑھتے آئے ہیں کہ اگر کوئی لیلتہ القدر کی رات کو دو رکعت نماز پڑھ لے گا تو اس کو اتنا ثواب ملے گا کیونکہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر رات ہے جس میں خاص ملائکہ بھی آتے ہیں اور ایک خاص روح بھی آتی ہے اور صبح فجر تک اللہ کی عنایتیں اور رحمتیں برستی ہیں اور وہ رات ہزار مہینوں سے بہترہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنا نور تم ہزار مہینوں میں نمازیں پڑھ کر بناؤ گے اس سے زیادہ نور تم کو ایک رات میں میسر ہو جاتا لیکن اُس رات میں عبادتیں کرنے کے باوجود تم پر اس کا اثر کیوں نہیں ہو رہا ہے اور کردار میں تبدیلی کیوں نہیں آ رہی ہے ۔ فرمان نبوی ہے کہ جس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت کے قابل نہیں ہے تم خود کو اللہ والا سمجھ رہے ہو ۔ یہ ساری ایک جہالت اور غفلت ہے جو کافی عرصے سے چلی آ رہی ہے ۔ ذکر قلب کو ذکر قلب کے طور پر نہ سمجھیں بلکہ ذکر قلب دین اسلام میں داخلے کا نام ہے ۔ اسلام میں جو ذکر قلب کے دینی اصلاح ہے وہ “حصول صدق قلب ” کہلاتی ہے ۔اقرا بالسان و تصدیق بالقلب۔۔ یعنی زبان اقرار کرے اور دل اس کی تصدیق کرےاور صدق دل کے لئے بے شمار احادیث ہیں کہ جس نے بھی صدق دل سے دو رکعت نماز پڑھ لی اس کی بخشش ہو جائے گی ۔ ہر آدمی یہی کہتا ہے کہ میں تو سچے دل سے پڑھ رہا ہوں لیکن سچے دل میں شیطان تو نہیں بیٹھا ہوتا ہے ، جس میں شہوت بھی ہے ، تکبر اور بغض و عناد بھی ہے ۔ غیر اللہ اور شیطان نے دل پر قبضہ جما رکھا ہے اور پھر بھی تیرا گمان ہے تو سچا ہے ۔ سچا دل وہ ہے جس کے دل سے ہر غیر اللہ کا عنصر نکل جائےاور وہاں اللہ کا نام ، اللہ کا نور، نور توحید جا گزیں ہو جائےاور پھر وہ دل کبھی بھی شیطان کے قبضے میں نہ آ سکے ۔ جب دل میں سے غیر اللہ نکل جاتا ہے اور چراغ اسم ذات اللہ روشن ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے تو اُس دل کو قلب سلیم کہتے ہیں اور اسی کے لئے اللہ نے قرآن میں کہا کہ یوم محشر میں کامیابی اُن کو ہو گی جو قلب سلیم لائے ۔

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
سورة الشعرا آیت نمبر 88

مولویوں نے اسلام میں یہ ایک بہت بڑا فتنہ پیدا کیا ہے کہ سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا لیکن پورے قرآن میں کہیں یہ بات نہیں لکھی ہوئی اور کسطرح لوگوں کو گمراہ کیا ہے کہ جو سب سے اہم چیز تھی کہ اپنے دلوں کو پاک کرنا ، اپنے قلب کو منور کرنا جہاں سے ہدایت حاصل ہو گی ، جہاں سے ایمان دل میں داخل ہو گاوہاں سے ہٹا دیا اور ایسی نماز کی تبلیغ کا درس دے رہے ہیں جو کہ صرف مومن کے لئے ہے ، ایسی نمازیں ایمان سے عاری ہیں ، جس نماز میں صدق قلب ہی نہیں اور یہ بات قرآن میں واضح طور پر لکھی ہوئی ہے کہ

وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
سورة التغابن آیت نمبر 11
ترجمہ : اللہ جس کو مومن بناتا ہے تو اُس کے قلب کو ہدایت دیتا ہے ۔

یہ تمام حقیقتیں قرآن میں ہونے کے باوجود بھی مولوی کسی کو یہ نہیں کہتا ہے کہ پہلے اپنے دل کو پاک کر لے ، کسی کو یہ نہیں بتاتے کہ اگر تیرا قلب پاک اور نورانی نہیں ہو گا تو تیری نماز ہی نہیں ہو گی جبکہ احادیث میں لکھا ہوا ہے کہ لا الصلوة الا بحضور القلب ۔۔۔دلوں کی حاضری کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ دلوں کو صاف کر لو تاکہ تمھاری نماز مومن کی معراج بن جائے تو لوگ یہ بہتان لگاتے ہیں کہ یہ تو نماز سے روک رہے ہیں ۔ یہ جہالت اور فرقے واریت کا رنگ ہے ۔ جب تک انسان کے دل میں اللہ کا نور نہیں آتا اُس وقت تک اس کا ایمان اور یقین نہیں ہوتا ہے ، قرآن پڑھ پڑھ کر سناتے رہیں لیکن وہ اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا ہے کیونکہ اُس کے پاس یقین کی دولت ہی نہیں ہےاور جب دل میں اللہ کا نور آ جاتا ہے تو یقین کا نور بھی جاگزیں ہو جاتا ہے پھر جب وہ قرآن میں پڑھتا ہے کہ نماز مومنوں پر فرض ہے تو پھر ممکن نہیں ہے کہ وہ نماز چھوڑ دے ۔ جب دل میں اللہ اللہ شروع ہو جاتی ہے تو اس سے دل میں ایمان اور یقین بھی بڑھتا ہے جس سے یقین بھی کرنے لگتاہے اور جو بھی قرآن میں لکھا ہے اس پر عمل کرنا چاہتا ہے ۔ اسلام کے حصول کا جو قاعدہ ہے وہ یہ نہیں ہے کہ آپ وہ کام کریں جو آپ نے بعد میں کرنا ہے ، جس کام کو ابھی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے وہ کام کیوں کر رہے ہو ۔ نماز تو مومنوں پر فرض کی گئی ہے لیکن یہ تبلیغ کہیں نظر نہیں آتی کہ چلو مومن بنیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے جو نمازی بن گئے ہیں وہ زنا بھی کر رہے ، ڈانس بھی کر رہےہیں ، شرابیں بھی پی رہے ہیں ، فراڈ بھی کر رہے ہیں ، رشوت بھی لے رہے ہیں اور بے ایمانی بھی کر رہے ہیں اور نمازیں بھی پڑھ رہے ہیں کیونکہ اُن کو یہ کہا گیا ہے کہ بس نمازیں پڑھو۔ یہ کہا ہی نہیں گیا کہ ایمان والے بنو! ان مولویوں کی تبلیغ میں یہی سب سے بڑی خامی اور شرہے ۔قرآن کے مطابق آپ نے سب سے پہلے مومن بننا ہے ۔

افَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ ۚ
سورة الزمر آیت نمبر 22

اسلام میں داخلے کے لئے سب سے پہلے اپنی سینے کو کھول لیں یعنی شرح صدر کر لیں ۔ شرح صدر اپنے سینےاور روحوں کو منور کرنا ہے۔ جب یہ روحیں منور ہو کر اللہ اللہ کریں گی اور نور بننا شروع ہو جائے گا تبھی دوسری آیت صادق آئے گی کہ فھو علی نور من ربہ ۔۔کہ رب کی طرف سے اسے نور ملنا شروع ہو جائے گا۔ سب سے پہلا کام مومن بننا ہے اور مومن بننے کے لئے قلب کے اندر نور کا جانا ضروری ہے اور نور جانے کے بعد آپ کے د ل نے نور بنانے کی مشین بننا ہے ۔ اب قرآن مجید، نمازاور ذکر و فکریہ توحید کا خام مال ہے جب یہ تلاوت اور ذکر الہی دل کی دھڑکنوں کے اندر جائے گاتو دل کی دھڑکن اس کو اللہ کے نور میں منتقل کرے گی ، پھر اللہ کا نور جتنا جتنا بڑھتا جائے گا ایمان بھی اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ جب دل کی دھڑکنوں میں اللہ اللہ چلی جائے گی تو پھر قرآن کے مطابق جو مومن کی تعریف ہے اس پر صادق آئیں گے ۔

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ
سورة آل عمران آیت نمبر 191

مومنوں کی پہچان ہے کہ وہ کھڑے بیٹھے حتی کہ کروٹوں کے بل بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں ۔ اگر بغیر ایمان کے تم نماز پڑھو گے تو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔اگر زمانے میں بھی نظر دوڑائیں تو یہی کچھ دیکھنے میں آتا ہے لوگ نماز پڑھ رہے ہیں لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے ۔ اگر ان نمازوں کا آپ کو فائدہ ہو رہا ہے تو پھر مسجدوں میں لونڈے بازی کیوں ہو رہی ہے، مسجدوں میں سیاست کیوں ہو رہی ہے ۔ہمارا مقصد دین کے جو شعار اور قوانین ہیں ، دین کو جو طریقہ ہدایت ہے وہ لوگوں کو سمجھائیں اور نہ صرف یہ کہ سمجھائیں بلکہ علم تصوف کے زریعے ان کی ایسی مدد کریں کہ وہ شرح صدر جو کہیں سے حاصل ہی نہیں ہو سکتی ، سیدنا گوھر شاہی کے اسم گرامی کی برکت سے لوگوں کو شرح صدر کی دولت دے دیں ۔اسم ذات کی دولت سے اُن کے قلب کو جاری و ساری کر دیا جائے تاکہ اُن کے دلوں میں نور آ جائے ۔ دوستو! یہ ذکر قلب براہ راست اقرار بالسان کے بعد جو دوسرا سب سے اہم مرحلہ ہو تا ہے جس کو صدق قلب کہتے ہیں ، درحقیقت ذکر قلب حصول صدقِ قلب ہے ۔ اس کے بغیر مومن نہیں سن سکتے ہیں لہذا جو بھی دین ِ اسلام کا پیروکاراور اُمتی بننا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اس کا قلب اللہ کے نام سے جاری و ساری ہو ۔ اگر دل میں نور نہیں آئے گا تو وہ وہابی ، بریلوی ، اہلحدیث ، اہل سنت بن جائے گالیکن اُمتی نہیں بن سکتا۔ اُمتی بننے کے لئے ضروری ہے دلوں میں ایمان آئے ، نور آئے اور مومن بنو ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 6 دسمبر 2017 کو یو ٹیوب لائیوسیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیاہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں