کیٹیگری: مضامین

حضرت علی مشکل کُشا ہیں یا نہیں،تعلیمات امام مہدی کی روشنی میں:

حضرت علی مشکل کُشا ہیں یا نہیں ہیں اس کے اوپر بحث کی گنجائش ہے۔ اس کے اوپر گفتگو ہو سکتی ہے کہ مشکل کشا ہیں یا نہیں ہیں ۔ تم اپنے دلائل دو اور ہم اپنے دلائل دیتے ہیں ۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ کیا اللہ مشکل کشا ہے تو اس کے اوپر بحث کی حاجت نہیں ہے۔ ہر فرقے کا یہی جواب ہو گا کہ بے شک اللہ مشکل کشا ہے۔ لیکن جب مشکل میں تم اللہ کو یاد کرتے ہو تو پھر مشکل کشائی کیوں نہیں ہوتی ؟
سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کی تعلیمات کی روشنی میں ، جب مشکل پڑتی ہے اور تم اللہ کو یاد کرتے ہو تو تمھاری مشکل کشائی کیوں نہیں ہوتی ؟ اس لئے نہیں ہوتی کہ تمھاری جو دعا ہے وہ اللہ تک پہنچ ہی نہیں رہی۔اب اگر تمھاری دعا اللہ تک نہیں پہنچ رہی تو علی تک کیسے پہنچے گی ۔تو پہلے یہ جاننا ہو گا کہ ہماری دعا اور پکار علی تک پہنچتی ہے یا نہیں ۔ کیونکہ ہم ’’یا علی مدد‘‘ پکاریں اور مدد نہ ہو اور ہم بد گمان ہو جائیں کہ علی مشکل کُشا ہوتے تو میری مدد کرتے۔ پہلے اللہ سے تو مدد مانگ لیں پھر اللہ سے بھی بد گمان ہو جانا۔ تو مسئلہ یہ نہیں کہ کون مشکل کُشا ہے یا کون مشکل کشانہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تیری بات اللہ تک پہنچتی ہے یا نہیں ۔ تیری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتی ، اس لئے نہیں کہ اللہ سنتا نہیں ہے ۔ اس لئے نہیں ہوتی کہ تیری بات اللہ تک پہنچتی نہیں ہے۔ اور دوسری بات کہ کیا علی مشکل کُشا ہیں؟ لفظ’’ کُش ‘‘سے ’’کشا ‘‘ نکلا ہے اور’’ کُش‘‘ کا مطلب ہے ختم کرنے والا۔ جسطرح خود کشی ، کدو کش ۔ تو مشکل کشا کا مطلب ہو گیا مشکل ختم کرنے والا۔آپ ؐ نے فرمایا کہ

مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ
جس کا میں مولا ہوں تو علی بھی اس کا مولا ہے

اب جب حضور بھی مولا ہیں اور علی بھی مولا ہیں ۔ تو حضور مدد کرسکتے ہیں تو پھر علی بھی مدد کر سکتے ہیں ۔ تو میرا یہ ایمان ہے کہ علی مشکل کشا ہیں ۔ لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ لوگوں کویہ پتہ چلے کہ اُن کی آواز علی تک پہنچتی ہے یا نہیں ۔ جسطرح سنیوں کے اوپر شک کیا جا سکتا ہے کہ یہ علی کی محبت میں نعرے لگاتے ہیں یا نہیں ۔ لیکن شیعہ کیلئے ہم یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہ مولا علی کے نعرے نا لگاتے ہوں۔ یقیناًوہ مولا علی سے مشکل کُشائی کا سوال بھی کرتے ہوں گے۔ لیکن دنیا میں اگر آپ دیکھیں تو یہ شیعہ مارے جا رہے ہیں ۔ اس کی یہی وجہ یہی ہے کہ ان کی آواز علی تک نہیں پہنچ رہی ہے۔ یہ بہت بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں کہ عاشق ہیں مولا علی کے ۔ اگر تم مولا علی کے عاشق ہو تو پکارنے پر مدد کیوں نہیں ہو رہی ۔
یہاں تک کے وہ کربلا کی مٹی جہاں امام حسین کا طاہر وپاکیزہ خون گرِ ا تھا، اس میں یہ تاثیر پیدا ہو گئی کہ کربلا کی مٹی کو زخموں پر لگائیں تو زخم ٹھیک ہو جاتا ہے۔ تو کربلا کی مٹی میں تو یہ تاثیر ہے، شیعہ کی پکار میں یہ تاثیر کیوں نہیں ہے۔ شیعہ کی پکا ر میں تاثیر اس لئے نہیں ہے کہ کربلا کی مٹی کا تعلق حسین سے ہے ، اور شیعہ کا تعلق صرف اپنی زبان کی بک بک سے ہے۔ کربلا کی مٹی کو خاصیت مل گئی کیونکہ حسین کا خون گرا ہوا تھا۔ اور شیعہ کی زبان میں تاثیر نہیں ہے کیونکہ اس کے سارے نعرے اس کی زبان تک محدود ہے۔ ان کے قلب میں امام حسین کی محبت اور الفت نہیں ہے۔ شیعہ کہتے تو ہیں کہ علی مولا ہیں ۔ لیکن وہ علی کے زریعے رب تک پہنچا نہیں ۔ شاید ان کو پتہ نہیں کہ مولا علی کا کیا مطلب ہے؟ مولا علی کا مطلب ہے علی نے اللہ سے ملا دیا ۔اللہ سے ملا دیا ہوتا تو شیعہ ذلیل ورسوا نہ ہوتا زمانے میں ۔
اسی طرح ہمارے سنی حضرات ہیں گیارویں مناتے ہیں ، گیارویں بھی دیتے ہو غوث پاک کا مرید بھی کہتے ہو اپنے آپ کو اور پھر دعوت اسلامی میں جا کر کہتے ہو کہ اسلام اور شریعت تو اب آئی ہے ہم کو ۔ اس سے پہلے گیارویں دے رہے تو کیا مرتد تھے ؟ اسے پہلے تم کو ولیوں کی تعلیم نہیں تھی ۔ اب تم کو فیضان نبوت ہوا ہے ! اب فیضانِ مدینہ ہوا ہے ، کیا غوث پاک کا علم فیضان مدینہ نہیں تھا! حقیقت میں جو غوث اعظم کا علم تھا وہی فیضانِ مدینہ تھا ۔ یہ جو پگڑیوں میں آیا وہ فیضانِ مدینہ نہیں یہ فیضانِ کھارادر ہے۔سیدنا امام مہدی گوھر شاہی فرماتے ہیں

’’کامیاب ہوا وہ شخص جس کو دو چیزیں عطا ہو گئیں ۔ ایک ایسا قلب جو ہر وقت ذکر اللہ کرے اور دوسرا ایسا مرشد جو دور رہ کربھی خبر گیری کرے۔‘‘

سیدنا گوھر شاہی امام مہدی کی تعلیم کہتی کہ مرشد کا معیا ر یہ ہے کہ جو دور رہ کر خبر گیری کرے ۔اب جب مرشد دور رہ کر خبر گیری کرے گا تو پھر ہم کو نعرہ لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ مرشد مشکل کُشائی کر ۔اب اگر سرکار سیدنا گوھر شاہی امام مہدی کے اس قول مبارک پر غور کریں تو پتہ چلے گا کہ قرآن کی آدھی آیت اس میں ہے۔

قلب سلیم کی تشریح:

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
سورة الشعراء آیت 88
اس روز مال اور بیٹے کام نہیں آئیں گے ۔ کامیاب وہ ہو گا جو قلب سلیم لایا

اب قرآن شریف میں قلب کے حوالے سے جو ذکر آیا ہے ۔ قلب کی زندہ ہونے کے بعد تین حالیتں ہیں ۔ جب تک وہ زندہ نہیں ہوتا اس میں سدھ بدھ نہیں ہوتی تو اس کو کہتے ہیں قلب صنوبر ۔ صنوبر کا مطلب ہے کہ جس میں کوئی حس نہ ہو ۔ اور اس کے اوپر ایک لاکھ اسی ہزار زنار (جالے) ہیں ۔ مرشدِ کامل جب ذکر عنایت فرماتا ہے تو ذکر قلب عنایت فرمانے سے پہلے اپنی نگاہوں سے قلب صنوبر پر چڑھے ہوئے ایک لاکھ اسی ہزار زنار کو جلاتا ہے۔ جس سے وہ قلب پاک ہوتا ہے ۔ ایک حدیث شریف میں آیا

اسم اللہ شئی الطاہر لا یستقر بمکان الطاہر
اللہ کا نام پاک ہے کسی ناپاک جگہ استقرار نہیں پکڑتا

جب تک قلب ناپاک ہے تیرا تو اسمِ ذات جائے گا نہیں اور اسم ذات کا ذکر اس لئے کرتے ہیں کہ ہم پاک ہو جائیں ۔ اب یہاں پر مسئلہ ہو گیا، پاک اللہ کے نام سے ہو گا اور ناپاک جگہہ پر اللہ کا نام جاتا نہیں ہے۔ اس سے مراد باطنی تھا کہ اگر تم چاہو کہ ذکر کر کے اپنے قلب میں اسم اللہ لے آؤ تو تمھارا قلب ابھی ناپاک ہے ۔ وہ ناپاکی کونسی ہے ؟ وہ جو ایک لاکھ اسی ہزار جالے قلب کے اطراف میں لگے ہوئے ہیں پہلے مرشد کامل اپنی نگاہوں سے اُن جالوں کو ختم کر کے تیرے دل کو پاک کرے ۔ جب دل پاک ہو گا تو پھر اسم ذات مرشد کی نگاہوں سے قلب کے اندر داخل ہو گا ۔ جب قلب پاک ہو جائے اُس میں اسم ذات کا نور اور ذکر چلا جائے تو اب اس قلب کو قلب سلیم کہتے ہیں ۔ یہ جو لفظ سلیم ہے اس کے عربی میں کئی مطلب ہیں۔ ایک مطلب ہے پرامن ، اور ایک ہے سلامت ۔ تو جب قلب محفوظ ہو گیا ، سلامت ہو گیا ۔ جب اس کے اندر اسم ذات چلا گیا تو وہ سلامت ہو گیا ۔ سلامت کس چیز سے ہو ا؟ کہ وہ ایک لاکھ اسی ہزار جالے اب نہیں آسکتے کیونکہ یہ سلامت ہو گیا ہے۔ اُن جالوں کی موجودگی کی وجہ سے شیطان آ کر بیٹھتا تھا ۔ اب وہ جالے نہیں ہیں تو شیطان نہیں آ سکتا۔ یہ ہوتا ہے قلبِ سلیم۔ تو اللہ نے اس کا وعدہ کر لیا کہ یوم محشر میں نہ تمھارا مال کام آئے گا اور نہ تمھاری اولاد ۔
قرآن نے اتنا تو ذکر کر دیا لیکن سیدنا اما م مہدی گوھر شاہی نے کیا کیا۔کہ اللہ نے تو یوم محشر کیلئے کامیابی کا را ستہ بتادیا۔لیکن سرکار سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے اس دنیا میں کامیابی کیسے ہو گی اس کیلئے ایک راز اور لگا دیا ۔ یوم محشر میں تو کامیابی ہو جائے گی لیکن اگر اس دنیا میں گمراہ ہو گئے تو کیا ہو گا۔ تو اُس کیلئے سرکار سیدنا امامہدی گوھر شاہی نے ایک اور جملہ اپنی طرف سے لگا کر قرآن کی بات کو گلاب کر دیا کہ تیرا قلبِ سلیم قیامت تک رہے اس کا راز اس بات میں مضمر ہے کہ تیرا مرشد خبر گیری کرنے والا ہو۔ (سبحان راریاض) جب تیرے ایمان پر بات پڑے وہ تیری مدد کو پہنچے تیرے قلب کی حفاظت کرے ۔ کہیں بھی ہو اس دنیا میں ہو ، چاند پر ہو ، سورج پر ہو یا کہیں اور ہو ، اور تُو بلائے یا نہ بلائے وہ آ جائے ۔ تیرے بلائے بغیر وہ آکیسے جائے گا؟ کیونکہ تیرے قلب سے اسکا تار جو جڑا ہے۔ تو کامیابی کا راستہ یہ ہے۔
اب مرشد کامل کا یہ حال ہے تو مولا علی کے پاس یہ چیز نہیں ہو گی ؟ آج تمھاری مولا علی مشکل کشائی کیوں نہیں کر رہے ؟ اس لئے کے مولا علی سے تمھارا تعلق جڑا ہوا نہیں ہے۔ پہلے مولا علی سے تعلق کو جوڑو صرف زبان کے ذکر سے کچھ نہیں بنے گا۔ زبان کا ذکر تو اللہ کا بھی کرتے ہیں اللہ نے مدد نہیں کی تو مولا علی کیا کریں گے!مولا علی کی مشکل کشائی میں تو شک ہو سکتا ہے۔ لیکن اللہ کی مشکل کشائی میں تو کوئی معترض نہیں ہے۔ تو جب اللہ تیری مشکل کشائی نہیں کرتا تو پھر مولا علی کی مشکل کشائی کا سوچنا بھی بیکار ہے۔ مدد کیوں نہیں ہوتی کیونکہ تیری پکار رب تک یا مولا علی تک نہیں پہنچتی ۔
اب اس پر بات کرتے ہیں کہ کیا اللہ نے مولا علی کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ مشکل کشائی کریں؟ تو اس کا جواب ہے بلکل دی ہے۔ مولا علی کو اللہ نے یہ طاقت دی ہے کہ وہ اُن کی مشکل کشائی کریں جن کا قلب اُن سے وابسطہ ہے، جن کا سینہ اُن کے سینے سے پیوستہ ہے۔ باقی لوگوں کی اللہمشکل کشائی نہیں کرتا تو مولا علی کو یہ ذمہ داری کیوں ملتی !

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں