کیٹیگری: مضامین

عالم جبروت کن ارواح کا ٹھکانہ ہے ؟

انسان مرتا بھی ہے اور اُسے مارا بھی جاتا ہے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انسان مرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے اللہ نے اس کی جو زندگی لکھی ہے اس کی معیاد پوری ہو گئی اور اس کے مطابق وہ طبعی موت مر گیا ۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی طبعی موت ابھی نہیں آئی لیکن کسی نے اس کو مار دیا تو وہ بھی مر جاتے ہیں ۔مرنے کے بعد اگر اس کے لطائف منور ہیں تو اس کا لطیفہ نفس قبر میں ہی اور جو اس کا لطیفہ روح ہے اس کو آسمانوں میں لے جاتے ہیں ۔عالم جبروت میں عالم ارواح بھی ہے اور عالم ارواح اس مقام کو کہتے ہیں جہاں ساری روحیں مقیم ہیں جنھیں ابھی دنیا میں آنا ہے اور وہ روحیں جو یہاں دنیا سے لوٹ کر اپنا وقت پورا کر کے واپس جا رہی ہیں اُن کے لئے عالم جبروت میں ہی ایک عالم بنا ہوا ہے جسے عالم برزخ کہتے ہیں ۔ عالم برزخ میں دو مقامات ہیں جن کو علیین اور سجین کہا جاتا ہے ۔جو ذاکر قلبی کسی بھی دین کے ہوں اُن کا ٹھکانہ علیین ہے اور جو ذاکر قلبی نہ ہو بھلے کتنے ہی پارساو ذاہد ہوں وہ سجین میں جاتے ہیں ۔

کن لوگوں کی شفاعت ہو گی ؟

جب تک یوم محشر بپا نہیں ہو گا وہ تمام ارواح وہیں مقیم رہیں گی ، جب یوم محشر بپا ہو گا پھر اُن ارواح کو اکھٹا کیا جائے گا۔ جو سجین والے ہوں گے ان کو حساب کتاب کے لئے بلایا جائے گا اور جوعلیین والے ہوں گے وہ ایک طرف کھڑے ہوں گے اُن کا حساب کتاب نہیں ہو گا۔ سجین والے شفاعت کے لئے انتظار کر رہے ہوں گے ۔ اب فرض کریں تو ذاکر قلبی نہیں تھا لیکن حضوؐر کا ادب بھی کرتا تھا اور نعت رسول بھی پڑھتا تھا ، غوث پاک کی گیارہویں بھی دیتا تھا لیکن اُس نے حضوؐرکا دیدار نہیں کیا تھا تو حضوؐربراہ راست اُسکی شفاعت نہیں کریں گے کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن اُمتیوں کی پہچان نور سے ہو گی جن کے دلوں میں یارحمن کا صفاتی نور چمک رہا ہو گا وہ موسیٰ کی امت مانی جائے گی ، جو “یاقدوس” سے چمک رہے ہوں گے وہ عیسیٰ کی امت مانی جائے گی ، جو “یاودود” سے چمک رہے ہیں وہ داؤدؑ کی امت مانی جائے گی اور جو “اللہ ھو” کے نور سے چمک رہے ہوں گے وہ حضورپاکؐ کی امت مانی جائے گی ۔جس کے اندر کسی کا بھی نور نہیں ہو گا وہ جاسوس سمجھے جائیں گے ۔ حضوؐرتو باقی ماندہ لوگوں کی شفاعت کروا کر چلے جائیں گے اور پھر اچانک شور اُٹھے گا کہ دیکھو کسی کی سواری آ رہی ہے ، لوگ کہیں گے کہ یہ کونسا نبی آ رہا ہے تو کہا جائے گا یہ نبی نہیں بلکہ ولی ہے ۔ پھر اُس بندے کو یاد آئے گا ولی تو میرے دور میں تھے ، چل کر دیکھتے ہیں ہو سکتا ہے کوئی کام بن جائے۔ اگر اُن کے دور کا کوئی ولی تھا تو پہچان لیں گے اور کہیں گے کہ میں نے اس ولی کو پانی پلایا تھا ، پھر اگر وہ ولی اثبات میں سر ہلا دے اور تصدیق کر دے کہ ہاں اس نے پانی پلایا تھا تو اللہ تعالی فرشتوں کو کہے گا اس کو بخش دو۔لاکھوں ، کروڑوں کی بخشش اس طرح ہو جائے گی ۔ براہ راست حضوؐراُن کو ہی پہچانیں گے جس کے دلوں میں اسم ذات کا نور ہو گااور جن کے دلوں میں اسم ذات کا نور نہیں ہو گا اُن کی شفاعت براہ راست حضورﷺنہیں کروائیں گے ۔ اگر انہوں نے کسی ولی کی خدمت کی تھی یا کسی ولی کو پیار سے ہی دیکھا تھا تو اُن کی شفاعت ہو جائے گی اور اگر دنیا میں نہ وہ ذاکر قلبی تھا ، نہ حضوؐرکا ادب کرتا تھا، نہ ولیوں کو مانتا تھا ، نہ غوث پاک کو مانتا تھا تو پھر ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہی ہو گاکیونکہ کوئی ولی بھی اُن کو نہیں پہچانے گا۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 8 مارچ 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں