کیٹیگری: مضامین

قرآن مجید میں آخری آدم کی تخلیق پر فرشتوں کا اعتراض:

دہشت گردی صرف انڈیا یا پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ قرآن کے مطابق فرشتے بھی اس سے اتنے بیزار تھے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں ادب بھول گئے ۔ جب اللہ آدم صفی اللہ کو بنا رہا تھا تو فرشتے سمجھ گئے کہ مٹی کے انسان تو زمین پر ہی ہوتے ہیں اور فرشتوں کو بہت حیرت ہوئی کہ جب سے انسان کو زمین پر بنایا ہے وہ خون بہا رہا ہے۔ انسان نے ہمیشہ زمین پر فتنہ و فساد ہی کیا ہے۔ فرشتوں نے کہا کہ انسانوں کے فتنہ و فساد کے باوجود اللہ انسان کو پھر تخلیق کرنے جارہا ہے۔فرشتوں نے تنگ آکر اللہ سے اعتراض کردیا کہ اب انسان کو دوبارہ کیوں بنا رہے ہیں؟قرآن مجید میں اس کے بارے میں آیا ہے

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 30
ترجمہ : اور جب تمہارے رب نے ملائکہ کو کہا کہ میں زمین پر خلیفہ مبعوث کررہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ وہ پھر زمین پر پھر فساد بپا کرے گا اور پھر خون بہائے گا جب کہ ہم تمہاری حمدوثناہ اور پاکی کیلئے کافی نہیں ہیں۔اللہ نےاس کے جواب میں کہا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔

تاریخ انسانیت خون سے آلودہ ہے اور قرآن ِ مجید کی یہ آیت اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے ۔فرشتوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے اللہ آپ آدم کو اس لئے بنا رہے ہیں کہ وہ عبادتیں کرے گا تو کیا ہم تیری حمدو ثناء کیلئے کافی نہیں ہیں اور ہم تیری تقدیس بھی بیان کرتے ہیں ۔ اسکے جواب میں اللہ تعالی نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے اور ہم وہ بھی جانتے ہیں جو تم نہیں جانتے۔پھر اللہ تعالی نے آدم صفی اللہ کواسمائے الہی سے نور بنانے کا طریقہ سکھایا ۔اب قتل و غارت کی جو کہانی یہاں شروع ہوئی ہے اس ضمن میں ہم تمام مسلمانوں اور بطور خاص پاکستان کے وزیر اعظم سے سے مخاطب ہیں کہ قرآن کو اپنے بل بوتے پر سمجھو اور مولویوں کی باتوں میں نہ آؤ۔ہماری مسلمانوں ، ہندو اور سکھ بھائیوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ بھی قرآن کا مطالعہ کریں کیونکہ قرآن مجید کسی کی اجارہ داری نہیں ہے ۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہر کتاب کا ایک مضمون ہوتا ہے جیسے کیمسٹری کی کتاب میں کیمسٹری کا علم ہو گا، اگر کسی کتاب پر بیالوجی لکھا ہے تو اس میں بیالوجی کا علم ہو گا۔ بالکل اسی طرح قرآن کا مضمون “انسان ” ہے لہذا جو خود کو انسان سمجھ رہا ہے وہ قرآن کو پکڑ کر بیٹھ جائے۔یہ دہشت گردی دور حاضر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ آسمان والے ملائکہ بھی اس سے بیزار تھے۔ ملائکہ میں لطیفہ نفس نہیں ہوتا ہے اس کے باوجود انہوں نے تخلیق آدم پر اعتراض کیا ۔دہشت گردی کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ایک قدیم مسئلہ ہے کئی مرتبہ اللہ نے آدموں کو بنایا اور پھر تباہ کر دیا ۔جیسے یونان کے لوگوں کو تباہ کرنے کیلئے اللہ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ ان کو پتھراؤ کر کے مار دو تو انہوں نے راتوں رات موٹے موٹے شیشے کے گھر بنا لئے ۔ پھر اللہ نے سیلاب کے زریعے اُس قوم کو تباہ کیا ۔قرآن اس بات کا گواہ ہے کہ دہشت گردی شروع سے ہوتی آئی ہے ۔

پچھلے آدموں میں خون ریزی:

مجموعی طور پر چودہ ہزار آدم اس دنیا میں آئے جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دنیا چودہ ہزار مرتبہ بنی اور پھر بگڑی ۔ ایک آدم کی نسل آئی تو اُس سے پوری ایک نسل ِ انسانی معرض وجود میں آئی اور کل چودہ ہزار آدم آئے ۔ قرآن مجید میں جو فرشتوں نے اللہ پر اعتراض کیا یہ بات آخری آدم ، آدم صفی اللہ کی ہے ۔ اب آپ اندازہ لگائیں کہ ملائکہ کتنے زیادہ بیزار تھے کہ تیرا ہزار نو سو نناوےپچھلے آدموں کا حال دیکھ چکے تھے کہ انہوں نے سوائے خونریزی کے کچھ نہیں کیا ۔دہشت گردی میں کیا ہو گا اللہ اس سے با خبر ہے کیونکہ جب سے اُس نے انسان کو بنایا ہے پوری تاریخ میں تیرا ہزار نو سو نناوے آدموں نے خونریزی ہی کی ہے ۔یہ کوئی نئی بات نہیں ہےاللہ تعالی نے جو آدم بنائے تھے انہوں نے خونزیزی ہی کی ہے لہذا جب فرشتوں نے تیرا ہزار نو سو نناوے آدموں کا حال دیکھ لیا اور جب آخر میں آدم صفی اللہ (شنکر بھگوان) کو بنایا جا رہا تھا تو پھر فرشتوں نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور تخلیق آدم پر اعتراض کیا کہ یہ زمین پر جا کر فتنہ و فساد کرے گااور خون بہائے گا۔ خون بہانہ انسانوں کی فطرت میں رہا ہے او ر اللہ تعالی اس سے باخبر ہے ۔خون ریزی انسان کی فطرت ہے کسی قوم کی طرف اشارہ نہیں ہے۔ تیرا ہزار نو سو نناوے آدم اور اُنکی قوم اس دنیا میں آئی اور اتنی ہی بار قیامت بھی بپا ہوئی ۔پھر فرشتوں کے اعتراض کے بعد اللہ تعالی نے فرمایا کہ ہم اس کو خاص علم دے کر بھیج رہے ہیں لیکن اُس خاص علم کے باوجود بھی فساد جاری ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ یہ انسان کی فطرت ہے بلکہ لوگ کہہ رہے ہیں یہ دہشت گردی ہے ۔انسان کی فطرت ہے کہ خود کو بچانے کیلئے دوسرے کو نیست و نابود کر دے گا۔جو سب سے زیادہ طاقتور ہو گا وہی زندہ بچے گا جو نسبتاً کم طاقتور ہو گا وہ مٹا دیا جائے گااور یہ انسان کی فطرت ہے ۔ہندوستان کا حدود اربا پاکستان کے مقابلے میں بڑا ہے ، ہندوستان میں لوگوں کے پاس پیسہ بہت ہے جبکہ پاکستان کے لوگوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے لیکن اگر ہندوستان کا مقابلہ چین سے کیا جائے تو وہاں ایسا نہیں ہے ۔

اللہ کی طرف سے عطا کردہ دہشت گردی کا علاج :

جو خاص علم اللہ نے آدم کو عطا کیا ، وہ علم جس کے پاس آ گیا اُس کی فطرت خون سے نور پر مامور ہو گئی ۔ قرآن کی روشنی میں دیکھیں کہ ساڑھے چودہ سو سال پہلے اللہ نے دہشت گردی کا کیا علاج بتایا تھا ۔ جب ملائکہ بیزار تھے اور جج خود اللہ تھا اُس وقت جو اللہ نے دہشت گردی کا علاج بتایا اُس سے بہتر کوئی اور علاج نہیں ہو سکتا ہے ۔وہ علاج عظمت والا علم ہے ، اِن کے نفوس کو نور سے پاک کیا جائے ۔ ان کے دلوں کو زندہ کیا جائے ، ان کے دل سے اللہ کا تعلق جوڑ دیا جائے ۔ انسان خونریزی سے اُسوقت باز آئے گا جب انسان سے انسانیت نکل جائے گی اور رحمانیت کو عروج ہو گا۔ جب نور کے زریعے رحمان کی صفات آئیں گی تب انسان اپنی فطرت سے منحرف ہو گا۔جبتک انسان انسان ہے خون بہتا رہے گا، کبھی ہندو کے ہاتھوں تو کبھی مسلمان کے ہاتھوں ، کبھی عیسائی کے ہاتھوں تو کبھی یہودی کے ہاتھوں۔ انسان کو رحمان بنانا ہو گاجبتک انسان انسان ہے دہشت گردی زندہ رہے گی اور قرآن کے آئینے میں یہی انسان کی تاریخ ہے ۔
آج جو انڈیا جنگ کی بات کر رہا ہے وہ بھی خونریزی ہے ، چالیس لوگوں کا بدلہ سوا ارب لوگوں کی جان کوخطرے میں ڈال کر لیا جائے گا۔ یہ قتل نہیں ہے بلکہ نفرت کی آگ ہے ۔ شیطان شیطان ہے خواہ کسی بھی زبان میں اس کا نام لیا جائے ۔ یہ نہ کہو کہ شیطان انسان سے بڑا ذلیل ہے بلکہ یہ کہو کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ انسان شیطان کومنفی ہونے میں مات دے دیتا ہے اور وہ کام بھی کر جاتا ہے جو کام شیطان بھی نہ کر سکے۔ اگر انسان میں شیطانیت کو نکالنا ہے تو رحمان کا اُجالا کر دو ، اسکے اندر جبتک رحمان بیدار نہیں ہو گااسوقت تک خونریزی بند نہیں ہو گی ۔انسان کو رحمان نے اپنا آئینہ بنایا تھا ، اُس آئینے سے گر د ہٹاؤ پھر نور کے زریعے رحمان کا چہرہ انسان میں نظر آئے گاپھر دہشت گردی ختم ہو جائے گی ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے21فروری2019کویو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں