کیٹیگری: مضامین

موسی علیہ السلام کی دیدار الہٰی کی خواہش:

اللہ کے دیدار کا سلسلہ محمد رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوا،اس سے پہلے کسی نبی ،کسی مرسل ،کسی ولی ،کسی بہت ہی مقرب اورکسی صالح کو اللہ کا دیدار نہیں ہوا۔ کتابوں میں یہاں تک ملتا ہے کہ موسی علیہ السلام نے اللہ سے درخواست بلکہ ضد بھی کی کہ انکو اللہ کا دیدار ہوجائے اور غالباً اس ضد کی وجہ یہ تھی کہ جب موسی علیہ السلام اپنی امت کو اللہ کا پیغام دے رہے تھے اس سے پہلے تو وہ گائے کے بچھڑے کی پوجا کرتے تھے، جب موسی نے توحید کا پیغام دیا کہ اللہ ایک ہے تو انکی قوم نے کہا کہ ہم بغیر دیکھے خدا کو نہیں مانیں گے ، ہم تو خدا کو اس وقت مانیں گے جب اسے دیکھ لیں گے ،موسی علیہ السلام نے سوچا کہ انکی قوم نے اللہ کو دیکھنے کا مطالبہ کیا ہے اگر اللہ ان سب کو اپنا دیدار کرا دے گا تو وہ سچے پڑ جائیں گے ، تو موسی علیہ السلام نہ صرف اپنی قوم کا مطالبہ یا درخواست اللہ کو پیش کر رہے ہیں بلکہ انکے اپنے من میں بھی اللہ کے دیدار کی امنگ جاگ گئی تھی۔قرآن میں صاف صاف لکھا ہے کہ

وَلَمَّا جَاءَ مُوسَىٰ لِمِيقَاتِنَا وَكَلَّمَهُ رَبُّهُ قَالَ رَبِّ أَرِنِي أَنظُرْ إِلَيْكَ ۚ قَالَ لَن تَرَانِي
(سورة الاعراف آیت نمبر 143)

یعنی جب موسی علیہ السلام نے دیدار مانگا تو اللہ نے کہا لن ترانی تو اللہ نے جواب دیا تومجھے نہیں دیکھ سکتا ۔علماء میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو لکیر کے فقیر ہیں ،لَن تَرَانِي یعنی تو مجھے نہیں دیکھ سکتا لیکن اس جملے سے یہ مراد نہیں ہے کہ کوئی بھی مجھے نہیں دیکھ سکتا (یہاں سے علماء اسلام کے کچھ لوگوں نے یہ تصور پیش کیا اور گمراہی پھیلائی کہ اللہ کا دیدار کسی کو ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اللہ کی کوئی شکل وصورت ہے ہی نہیں وہ تو بس ایک نور ہے)۔
اللہ نے جب موسی کو لن ترانی کہہ دیا اور انکی ضد جاری رہی تو اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو ارشاد فرمایا کہ اپنی قوم کے ہرقبیلے کے سردار کو جمع کر کے کوہ طور پر آجائیں اس طرح موسی علیہ السلام کی امت کے ستّر مختلف قبیلوں کے سردار کوہ طور پر صفیں بنا کر اللہ کے دیدار کے لیے کھڑے ہوگئے، اللہ کی طرف سے صفاتی تجلی پہلے کوہ طور کے پہاڑ پر پڑی اور وہاں سے منعکس ہو کر موسی علیہ السلام پر اور پھر ان سرداروں پر پڑی ، موسی علیہ السلام بے ہوش ہوگئے اور ستر کے ستر سردار ہلاک ہوگئے۔جب موسی علیہ السلام کو ہوش آیا تو انکو یہ احساس ہوگیا کہ اللہ کی صفاتی تجلی جو کوہ طور سے منعکس ہو کر ان پر آئی تھی ان میں صفاتی تجلی کی تاب نہیں تھی تو پھر ذاتی دیدار کیا ہوگا! موسی علیہ السلام نے اللہ سے پوچھا اے اللہ کوئی ہوگا جس کو تیرا دیدار ہوگا تو اللہ نے فرمایا، “ایک میرا حبیب اور ایک اسکی امت” موسی علیہ السلام نے کہا مجھے پھر نبی کیوں بنایا مجھے حضور پاکؐ کا امتی ہی بنا دیتا۔

اللہ کا ذاتی اسم دیدار ِالہٰی کے لئے شرط ہے:

کیا وجہ ہے کہ موسی علیہ السلام اولعزم پیغمبر ہو کر بھی اللہ کا دیدار نہیں کرسکے اور حضور ؐکی امت کے مختلف اولیاء نے یہ بات کہی ہے کہ وہ اللہ کا دیدار کرتے ہیں یہ راز سیدنا گوہر شاہی امام مہدی علیہ السلام نے ہم پر منکشف فرمایا کہ اللہ تعالی نے ہرنبی کو اپنے بہت سارے اسماء میں سے کوئی نہ کوئی اسم عطا فرمایا، اللہ کا ایک نام ذاتی ہے اور باقی سارے نام صفاتی ہیں ، آدم صفی اللہ سے لے کرعیسی علیہ السلام تک تمام مرسلین کو صفاتی اسم عطا ہوئے،صفاتی اسم جب انکے سینوں میں گیا تو انکا سینہ صفاتی نور سے منور ہوگیا ، صفاتی نور کا تجلا تو انکی نظروں میں آگیا لیکن ذاتی نور کی ان میں تاب پیدا اس لیے نہیں ہوئی کیونکہ ذاتی نور انکوعطا نہیں ہوا۔موسی علیہ السلام کو بھی اللہ تعالی کی طرف سے “یا رحمن” کا اسم عطا ہوا جوکہ صفاتی ہے موسی علیہ السلام میں یا رحمن کا نور تھا، رحمن اللہ کی صفت ہے جو ذات کی تاب نہیں لا سکا، حضور پاک کو اللہ تعالی نے اپنا ذاتی نام عطا کیا جس سے اللہ کا ذاتی نور آپ کو میسر آیا اور آپ کے طفیل جس جس امتی کو بھی ملا وہ ذات تک پہنچ گیا۔(اللہ کا دیدار کرنے کے لیے سب سے پہلے ضرورت یہ ہے کہ تم کو اللہ کا ذاتی اسم میسر آئے)۔

جن لوگوں کو ذاتی اسم میسر آیا وہی اللہ کے دیدار اور اللہ کی ذات تک پہنچے اور جو حضور کی امت میں ہونے کے باوجود بھی اسم ذات اللہ سے نابلد یا محروم ہیں یا اس علم کو جانتے نہیں ہیں تو پھر وہ اس امت کی عظمت کے قائل نہیں ہوسکے نہ وہ عظمت انکے اندر پیدا ہوسکی۔

اسم ذات مولویوں کے پڑھانے سے نہیں ملتا ، قرآن شریف کی تلاوت سے نہیں ملتا یہ ان ہستیوں سے عطا ہوتا ہے کہ جنکو اللہ کا اذن ملا ہوا ہو کہ وہ اس اسم کو مستحقین کے قلوب میں پیوستہ کر دیں ۔

اسمِ ذات اللہ کا مستحق کون ہے؟

مستحق وہ ہے جس نے روز ِازل میں رب کو مانگا تھا ، جس نے وہاں دنیا طلب کری تھی اور زمین پر آ کر وہ اللہ کی محبت حاصل کرنا چاہے تویہ استحقاق اسے نہیں ہےکیونکہ اس نے یوم ازل میں دنیا کو پسند کیا تھا۔محمد رسول اللہﷺ نے خود بھی اللہ کا زور و شور سےدیدار کیا، ایک مرتبہ جسمانی معراج حاصل ہوئی اور تینتیس دفعہ روحانی معراج ہوئی اور آپکی امت میں سے مولا علی ، حسن بصری، بی بی فاطمہ ، لال شہباز قلندر، سلطان حق باھو ، شیخ عبد القادر جیلانی، شاہ کمال کیتلی ،خواجہ ہند غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ،عثمان مروندی ،خواجہ بختیار کاکی، نظام الدین اولیاء ، بابا فرید گنج بخش ،سائیں سہیلی سرکار یہ تمام وہ ہستیاں ہیں کہ جنہوں نے اللہ کا دیدار کیا ہے ۔اللہ کا دیدار ایسا نہیں ہے کہ جسے آپ چمتکار کے ذریعے حاصل کر لیں ، یا اللہ کا دیدار جادو کے ذریعے حاصل ہوجائے ، اللہ کے دیدار کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے بلکہ یہ پورا ایک نظام ہے اور پورا ایک طریقہ ہے ۔
ایسا تو نہیں ہوتا ہے کہ آپ ڈاکٹر بننے کے لیے ٹیچر یا پروفیسر کو کہیں مجھے جلدی سے ڈاکٹر بنا دو ، اس کے لیے پہلے آپ کو پہلی جماعت میں داخل ہونا پڑے گا ابتدائی تعلیم میں الفاظ کو پہچاننا ،الفاظ کو ملانا سیکھیں گے پھر جب پڑھنے لکھنے کے قابل ہوگئے تو پھرعلم شروع ہوگا پھر آپ بائیولوجی پڑھیں گے پھر اس علم کی کئی شاخیں نکلیں گی بائیو کیمسٹری بن جائے گی۔انسانی اعضاء اور اس سے متعلقہ بیماریوں کے بارے میں پڑھیں گے ، جب آپ بارہ چودہ سال اسکول پھر کالج میں پڑھنے کے بعد گریجوئیشن کرلیں گے تو پھر ڈاکٹر بننے کا وقت آتا ہے، اس سے پہلے ڈاکٹر بننے کی پڑھائی شروع نہیں ہوئی تھی اس سے پہلےدماغ کو متحرک کیا جا رہا تھایعنی الفاظوں کی جانچنا ، کونسی چیز کیا کہتی ہے ،کس چیز کا کیا مطلب ہے پھروہ چار سال ڈاکٹر بننے کی پڑھائی کے ہیں اور اس میں بھی آپ کو پاس کرنا ہے۔ اسی طریقے سے اللہ کا دیدار روحانیت کا آخری مرحلہ ہے اور روحانیت میں داخلہ جہاں سے ہوتا ہے وہ ہے ذکر قلب۔
جو لوگ اللہ کا دیدار کرنا چاہیں تو انکے لیے پہلی بات تو یہ جاننا ہے کہ اللہ کا دیدار آپکی مرضی سے آپ کونہیں ہوگا ،سب سے پہلے تو یہ ہے کہ کیا اللہ چاہتا ہے؟ اور کیا آپکی تقدیر میں اللہ نے دیدار لکھا ہے تو روحانی مرشد آپ کے کام آئیں گےلیکن اگراللہ نے چاہا ہی نہیں اور نہ آپکی تقدیر میں دیدار لکھا ہے تونہ روحانی تعلیم آپ کےکام آئے گی نہ روحانی مرشد آپکو دیدار کرا سکے گا ، کسی کو اللہ کا دیدار اسی وقت ہوگا جب اللہ بھی چاہتا ہو ، تعلیم بھی ملے اور مرشد بھی آپکو کامل مل جائے۔

دیدارِ الہٰی کا پہلا مرحلہ علم ِطریقت میں داخلہ ہے:

ایک تو محض باتیں ہوتی ہیں لیکن عملی طور پر اللہ کا دیدار کرنا کیا ہے؟ اگر کسی کی تقدیر میں دیدار لکھا ہے لیکن وہ اس کے لیے محنت نہ کرے تو اس کو دیدار نہیں ہوگا ،اس راستے میں جتنا ضروری اللہ کی مرضی ہے اتنا ہی ضروری انسان کی مرضی بھی ہے، اللہ کی مرضی ہو اور انسان سستی کا شکار ہو جائے ، غلط فرقے میں پڑ جائے، گناہوں میں لگ جائے تو وہ جو تقدیر اللہ نے لکھی ہے وہ لکھی کی لکھی رہ جائے گی دیدار نہیں ہوگا۔ دیدار کرنے کے لیے پہلا مرحلہ علم طریقت میں داخلہ ہے کیونکہ شریعت مصطفی میں دیدار نہیں ہے۔
مثال: جسطرح دوسرے ملک جانے کے لئے فلائٹ پکڑتے ہیں لیکن فلائٹ پکڑنے کا پہلا مرحلہ گھر سے ائیرپورٹ پہنچنا ہے کیونکہ جہاز آپکے گھر نہیں آئےگا بھلے آپکے پاس کنفرم ٹکٹ اور ویزا کیوں نہ ہو اگر آپ اوندھے پڑے سوتے رہیں گے تو وہاں تک کیسے پہنچیں گے۔اسی طریقے سے جواللہ کا دیدار کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انکو طریقت کا علم اختیار کرنا ہوگا، اور طریقت کا علم جو ہے وہ پریکٹیکل ہے، تھیوری نہیں ہے۔ وہ حال پر مبنی ہے قال نہیں ہے۔

علم ِطریقت میں داخلہ کیسے ہوگا؟

یہاں سے کہانی شروع ہوگی، لیکن طریقت میں آپ نہیں آپ کا قلب داخل ہو گا،اب آپ کا قلب طریقت میں داخل ہو گا یا نہیں اسکا دارو مدار اللہ کی مرضی پر ہے۔ اللہ چاہتا ہے یا نہیں یہ کیسے معلوم ہو؟ اس کے لیے قرآن نے کہا

فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
(سورۃ النحل آیت نمبر 43 اور سورۃ الا انبیاء آیت نمبر 7)
ترجمہ: کہ جو علم تم کو دیا نہیں گیا اسکے لیے اہل ذکر سے سوال کرو۔

ہمارے علماء سو نے یہاں بہت اشکال پیدا کیا ہے اور ان آیتوں کے ترجمہ میں اہل ذکر کے بجائے اہل کتاب لکھا ہے جو کہ گمراہی ہے۔اہل ذکر کون ہیں ؟ایک حدیث شریف میں آیا ، میری امت میں کچھ ہستیاں، کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو تم میں سب سے افضل ہونگے، انکی پہچان یہ ہوگی کہ وہ ذکر کی کنجیاں ہونگے۔ ذکر کی کنجی کیا ہوتی ہے؟کنجی یعنی تالے کو کھولنے والی چابی، ان ہستیوں کو ذکر کی کنجیاں کہا گیا ہے۔اُن ہستیوں کو ذکر کی کنجیاں کیوں کہا گیا؟ کیونکہ اُن ہستیوں کومنجانب اللہ ذکر دینے کی اجازت ہوتی ہے ،اس کے ذریعے وہ تمہارے قلب کے دروازے کو ذکر سے کھول دیتے ہیں ۔ کسی مرشد ِکامل کو تلاش کرنا پڑتا ہےاورمرشد ِکامل کی پہچان ہی یہی ہے کہ جو مرشد ِکامل تمہارے دل کی دھڑکنوں میں اللہ ھو اللہ ھو بسا دے اور اسکے بعد کھڑے بیٹھے کروٹوں کے بل صبح شام ، حتی کے مرنے کے بعد بھی وہ ذکر قلب جاری رہے تو وہ مرشد کامل ہو گیا اور آپکے دل کا اللہ اللہ کرنا آپکو طریقت میں داخل کر دیگا۔

“طریقت کی ابتداءقلب کا اللہ اللہ کرنا ہے اور طریقت کی انتہا اللہ کا دیدار کرنا ہے”

علم طریقت کے چار باب ہیں :

یہاں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ علم طریقت میں کیا کیا پڑھنا پڑے گا؟علم طریقت کے چار باب ہیں جن میں ذکوریت ، قشیت ، خشیعت اور حریت شامل ہیں ۔

1۔۔ ذکوریت (پہلا باب):

زبان سے ذکر کرنا ذکوریت نہیں ہے، ذکوریت کے علم کی مہارت حاصل کرنا پڑتی ہے، انسان کے جسم میں سات لطیفے ہیں اور نو انکے جسّے ہیں ، ایک اسکا جسم ہے، جو چیزیں بھی انسان کی ہستی میں چھپی ہیں ان سب کو ذکر میں لگانا ہے، یعنی ساتوں لطائف ، قلب ،نفس ،سری ،خفی ، اخفی ، انّا اور روح کو بھی ذکر میں لگانا ہے۔جب یہ لطائف ذکر میں لگ کر پاک صاف اور منور ہو گئے تو بابا بلھے شاہ نے کہا
کھا کباب تے پی شراب پر بال ہڈاں دی اگ
چوری کربھن گھر رب دا ،اس ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ

شعر کی تشریح:

“کھا کباب ” اس سےمراد گوشت کے کباب کھانا نہیں ہے بلکہ کہا یہ گیا کہ یہ جو تیرے جسم میں گوشت ہے اپنے اس گوشت کے اندر آگ لگا اِن کو آگ سے دہکا ، جسم کو آگ سے کیسے دہکائے گا؟ کہ جب اِن میں اللہ ھو اللہ ھو شروع ہوگا ، اب گوشت میں اللہ ھو اللہ ھو کیسے شروع ہوگا ؟ یہ تو ہمیں کسی نے بتایا ہی نہیں ! تمہارے جسم میں ایک ارضی روح ہے اسکا نام روح نباتی ہے، جب تمہاری روح نباتی ذکر فکرمیں لگ جائے گی تو تمہارا جسم کباب آہو بن جائے گا۔
کباب آہو میں بھی مزا نہ آیا ۔۔۔۔۔مزا جو دل کے کباب میں ہے
جب ذکر اس میں شروع ہو جائےگا تو اب وہ گوشت اسم سے جلنا اور گھلنا شروع ہو جائے گا ہڈیاں باقی رہ جائینگی۔“پی شراب”یہ شراب پینا کیا ہے؟جب نس نس میں نور چلا گیا ، خون میں نور مکس ہو گیا تو ایک وقت آئیگا کہ اُس خون کی حدت سے جگر سوکھنا شروع ہو جائیگا ، کیونکہ ذکر اسکا سارا پانی چوس لےگا، اس جگر کا نور سے جل جانا شراب پینے کے مترادف ہے۔ “بال ہڈاں دی اگ” یعنی ہڈیوں کے اندر بھی آگ لگا ، ہڈیوں میں آگ کیسے لگے گی؟ جسطرح روح نباتی کو ذکر میں لگانے سے جسم میں آگ لگی تھی اسی طرح ہڈیوں میں آگ اس وقت لگے گی جب روح جمادی ذکر میں لگ جائے گی، کیونکہ ہڈیوں میں روح جمادی ہوتی ہے۔“چوری کر” ، روح نباتی روح جمادی کو بڑی خاموشی سے ذکر فکر میں لگا کے اس نور کو اوپر تک لیجا اور دل کے قفل کھول دے۔“بھن گھر رب دا” یعنی دل کے قفل توڑ دے ۔ یہ دل رب کا گھر ہے ۔“اس ٹھگاں دے ٹھگ نوں ٹھگ” اب وہ ٹھگ کیسے ہوگیا؟ وہ ایسے کہ اس نے سب کو تو کعبہ کا پتا بتا دیا لیکن بیٹھا دل میں ہے تو ٹھگ ہی ہوا نا۔ تو بھی اسے ٹھگ لے۔
جب ذکوریت کے ذریعے ساری روحوں کو ذکر فکر میں لگا دیا اور اب ذکوریت کی انتہا کب ہوگی؟ جب یہ لطیفے ذکر کر کر کے جوان ہو جائیں گے پھر ان سے جسّے نکلنے شروع ہوں گے تو یہ ذکوریت کی انتہا ہے۔ جب کسی کا جسّہ نکل جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے اب وہ ذکوریت میں کامل ہوگیا اب اسکو ذکر میں مزہ نہیں آئے گا، جب تک کوئی ذکوریت میں ہے اسے ذکر میں مزا آتا ہے جب ذکوریت سے نکلتا ہے تب طریقت کا دوسرا باب شروع ہوتا ہے۔

2۔۔قشیت(دوسرا باب):

قشیت ان جسّوں کی تربیت کا علم ہے اور یہ کام تیرے بس کا نہیں ہے یہ کام مرشد کرتا ہے ، جب جسّے بالکل جوان اور تیار ہو جائیں گے تب اُن کو پرواز کرانے کے لیے تیسرا باب کھلے گا۔

3۔۔ خشیعت (تیسرا باب ):

تیسرا علم خشیعت ہے۔قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں جن میں نماز کا حکم ہے لیکن ہر آیت میں خشوع و خضوع سے پڑھنے کا نہیں کہا، خشوع وخضوع کا انکو ہی کہاجنہوں نے خشیعت کی تعلیم حاصل کر لی۔ خشیعت کی تعلیم ان جسوں کو مدینہ منورہ پہنچانے کا علم ، بیت المعمور پہنچانے کا علم ہے ، جس نے اپنے جسّوں کو یہ علم سکھا دیا اور نماز میں کھڑے ہوئے پھر اس نے سوچا حضور پاک کیا کر رہے ہیں تمہارے اندر کی چیزیں نکل کر حضور پاک کے قدموں میں پہنچ گئیں جیسے بابابلھے شاہ نے فرمایا
لوکی پنج ویلے عاشق ہر ویلے۔۔۔۔۔۔ لوگ مسیتی عاشق قدماں
لوگ پانچ وقت رب کو یاد کرتے ہیں نماز بھی رب کی یاد ہی ہے ، لوگوں کے پاس اس سے زیادہ کیا اختیار ہے کہ پانچ وقت مسجد میں جا کر باجماعت ہو جائیں گے ،لیکن “عاشق قدماں” یعنی جنہوں نے عشق سیکھ لیا انہوں نے تو یہاں نماز کی نیت کی فورا حضور پاک کے قدموں میں پہنچ گئے وہاں انکی نماز ادا ہوگی۔ یہ خشیعت کا علم ہے اس میں ادھر ادھر گئے طیر سیر ہوگئی، طریقت کے تین باب پورے ہوگئے اس کے بعد تو تیار ہو گیا یعنی تیرے سارے لطیفے سارے جسّے تیار ہو گئے اب مرشد کہے گا چالیس دن کا روزہ رکھ، چالیس دن کامیابی سے گزار لئے اور جیسے ہی چالیسویں دن کا روزہ گزرے گا ، مرشد تیری چیزوں کو لے کر اللہ کے پاس پہنچ جائے گا، مقام محمود تک مرشد تیرے لطیفہ انّا کو لے کے جائے گا۔
پرانے وقتوں میں ائیرپورٹ پر ایک( viewing gallery) ہوتی تھی جہاں سے جانے والے مسافروں کو دیکھ سکتے تھے مسافر جہاز کے دروازے سے کھڑے ہو کر ہاتھ ہلاتے تھے۔ اسی طرح مقام محمود بھی دیدار الہی والوں کے لیے( viewing gallery) ہے، وہاں اللہ کا دیدار ہوگا ، جب لطیفہ انّا اللہ کو دیکھے گا تو اللہ کا نقش اس کا سراپا لطیفہ انّا میں محفوظ ہو جاتا ہے، پھر لطیفہ انا سے آنکھوں میں آئے گا اور آنکھوں سے دل کے اندر تصویر الہی اتر جائے گی۔ پھر اللہ تعالی فرمائے گا اب تو نیچے چلا جا، اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے۔

4۔۔ حریت (چوتھا باب):

جس وقت اللہ نے یہ کہا ، جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے یہ مقام حریت ہے، حریت کا مطلب ہے آزادی، اب کسی مذہب کی تجھ پر پابندی نہیں ہے اب تو جانے تیرا رب جانے ، اب تو پوجا کر تو ٹھیک ہے نہیں کرے تو بھی ٹھیک ہے۔
مثال:کسی ملک میں جاتے وقت جہاز میں سفر کے لیےبورڈنگ پاس بڑا ضروری ہے ، لیکن جب پہنچ گئے تب تو ضرورت نہیں ہے نا۔ فرض کیا لندن سے ٹورانٹو گئے بورڈنگ پاس بڑا سنبھال سنبھال کر رکھا ، ائیر پورٹ پر امیگریشن اور کسٹم سے نکل گئے تب تو وہ بورڈنگ کارڈ بےکار ہو گیا نا ، نہ اسکی ضرورت ہے کیونکہ منزل پر پہنچ گئے نا ، اسی طرح جب تو رب کو پالیگا ، دیدار ہو جائیگا تو پھر اب تجھے مذہب کی کیا ضرورت ہوئی؟ ٹورانٹو پہنچ گیا اب جہاز کی کیا ضرورت ہوئی؟ اگر واپس آنا ہے تب تو ضرورت ہے۔ لیکن کوئی اللہ کو پا کر اللہ کو چھوڑ کر تو نہیں آئیگا ، اس لیے انکو مذہب کی ضرورت نہیں رہی۔ اب اگر اللہ ان کو مرشد بنا کر ڈیوٹی پر بٹھا دے لیکن یہ بات عام لوگوں کی سمجھ میں تو نہیں آتی کہ اس نے اللہ کا دیدار کر لیا ہے اب اس کو نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے،لہذا وہ لوگوں کے سامنے نماز پڑھتے ہیں کہ کہیں یہ پریشان نہ ہو جائیں ۔ یہ مقام حریت ہے یعنی اب یہ قید شریعت سے آزاد ہے، شریعت اب اس پر لاگو نہیں ہوتی۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کے 19 مئی 2017 میں یو ٹیوب پر کئےگئے سوال و جوابات کے لائیو سیشن سے لیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں