کیٹیگری: مضامین

اللہ کی عبادت لالچ اور خوف سے مبراہو:

روحانیت پر بات کرنا ہمارا کام ہے اور ہمیں یہ خیال کبھی نہیں آیا کہ اس کےصلے میں اللہ سے اجر ملے گا اور اگر اجر ملے گا بھی تو وہ اجر ہم کسی اور کو دے دیں گے کیونکہ اگر آدمی رب سے دوستی کرے تو وہ دوستی بے لوث ہونی چاہئیے، نہ اس سے اجر چاہئیے نہ اس کی جنت چاہئیے، اگر اللہ کو سجدہ اس لیے کریں کے جنت میں جائیں گے تو ہماری نظر میں ایسا سجدہ بے کار ہے، ہمارا یہ خیال ہے کہ ایسے رب کے تصور سے بڑی بوریت ہوتی ہے کہ جو میرے گناہوں سے ناراض ہو جائے اور میری عبادتوں سے راضی ہو جائے تو پھر اس رب کی چابی تو میرے ہاتھ میں ہے۔علامہ اقبال نے بھی ایسی ایک بات کہی
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
اے بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

رابعہ بصری ایک دن ایک ہاتھ میں پانی اور ایک ہاتھ میں آگ لیے بھاگی جا رہی تھیں لوگوں نے پوچھا آاپ یہ چیزیں لے کر کہاں بھاگی جا رہی ہیں انہوں نے جواب دیا میں آگ سے جنت کو جلانے اور پانی سے جہنم کی آگ کو بجھانے جا رہی ہوں کیونکہ لوگ اللہ سے نہیں ڈرتے لوگ جہنم کی آگ میں جلنے کے ڈر سے نماز پڑھتے ہیں یا کچھ لوگ اللہ کی محبت میں نماز نہیں پڑھ رہے بلکہ وہ جنت کی لالچ میں نماز پڑھتے ہیں ، میں جہنم کو بجھا دوں گی تاکہ لوگ بغیر خوف کے اس کی عبادت کریں اور جنت کو جلا دوں گی تاکہ لوگ بغیر لالچ اس کی عبادت کریں ۔
اس کو اسلام نے اخلاص کا نام دیا ہے، مثال کے طور پر اگرآپکی عزت کسی اور کی وجہ سے بھیک میں ملے تو ایسی عزت کا کیا فائدہ اسی طرح سوچیں اگر اللہ کو کیسا لگے گا کہ اس کو مجھ سے کوئی دل چسپی نہیں ہے یہ جنت و حور اور محلات کے چکر میں ہے ، آپ کی تو نیت میں فتور ہے اور اللہ نے کہا انما اعمال بالنیات جو کچھ عمل کر رہے ہو اس کا دارو مدار اس کام کے پیچھے چھپی نیت پر ہے۔ مغربی ممالک میں کسی جرم کی سزا سنانے سے پہلے اس جرم کے مرتکب مجرم کی نیت بھی دیکھی جاتی ہے ، فرض کیا کسی کے ہاتھ میں بندوق تھی جوکہ حادثاتی طور پر چل گئی اور اس کی گولی سے کوئی شخص مر گیا تو یہ دیکھا جائے گا کہ یہ حادثہ تھا اس کی نیت مارنا نہیں تھی، یہاں اگر نیت نہیں دیکھیں گے تو وہ شخص قاتل کہلائے گا اگر نیت دیکھ لی جائے گی تو کہیں گے یہ عمداً قتل نہیں ہوا بلکہ ایک حادثہ تھا اسی طرح اللہ تعالی بھی اعمال سے زیادہ نیتیں دیکھتا ہے نہ وہ شکلیں دیکھتا ہے اور نہ اعمال دیکھتا ہے ۔ایک حدیث شریف میں لکھا ہے کہ ایک صحابی نے رسول اللہ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ یوم محشر میں کیا بخشش اعمال کے ذریعے ہو گی تو آپ نے فرمایا نہیں اللہ کے فضل سے بخشش ہو گی تو صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ آپ کی بخشش کیسے ہو گی تو آپ نے فرمایا میں بھی اللہ کے فضل سے بخشا جائونگا ، تو ہمیں اللہ کا فضل نہیں بھولنا ہے ورنہ یہ ہو گا کہ جس دن پانچ وقت کے نمازی بن گئے تو نمازوں کا تکبر آنا شروع ہو جائے گا۔

کیا عبادات سے بھی تکبر پیدا ہو جاتا ہے ؟

کچھ لوگوں کو پیسہ کا تکبر ہوتا ہے کچھ کو خوبصورتی کا تکبر ہوتا ہے اسی طرح کچھ لوگوں کو عبادات کا بھی بڑا تکبر ہوتا ہے ،آپ دیکھیں کہ اگر آپ پانچ وقت کی نماز باقاعدگی سے پڑھتے ہیں تلاوت قرآن باقاعدگی سے کرتے ہیں تو آپ کے ذہن کے ایک بڑے کونے میں یہ بات ٹہر جائے گی کہ آپ نے تو جنت میں ہی جانا ہے کیونکہ میں اتنا پارساء جو ہوں پھر ایک دن کسی گناہ گار کو یا بے نمازی کو بڑی حقارت سے دیکھیں گے کہ میں اس سے بہتر ہوں ۔ہمارے دلوں میں گند اورغلاظت ہے تب ہی ہم تینتیس مرتبہالحمد للہ پڑھنے کے بعد لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ نہیں پڑھ رہا تو سوچتے ہیں یہ کتنا گھٹیا ہے، اسی طرح جو آدمی شراب نہیں پیتا اس میں یہ تکبر ہوتا ہے کہ میں نےتو کبھی بوتل منہ کو نہیں لگائی جب بھی کسی شرابی کو دیکھے گا تو کہے گا کتنا گندا ہے، اگر یہ گناہ کسی مرحلے پر کر گزرے ہونگے تو یہ تکبر نہیں آئے گا نفس کہے گا تو نے بھی تو پی تھی، کبھی کبھی اپنی انانیت کو توڑنے کے لیے آدمی ایسے کام بھی کرتا ہے کہ جو بظاہر گناہ ہوتے ہیں لیکن وہ کرنا ضروری ہو جاتے ہیں اگر وہ نہ کریں تو نفس کی اکڑ اور انانیت بڑھ جاتی ہے اور وہ کلب جانے والوں بوتل والو ں کو حقارت سے دیکھتا ہے اور یہ تو اللہ کو پسند ہی نہیں ہے اللہ تیرے تکبر کو دیکھ رہا ہے اللہ تیری پارسائی کو نہیں دیکھ رہا ۔ تصوف میں اس کی مثالیں بھی ہیں جیسا کہ ایک بہت بڑے بزرگ با یزید بسطامی رمضان کے مہینے میں ایک دن بازار سے روٹی کھاتے ہوئے گزرے مریدوں نے دیکھا تو توبہ توبہ کرتے ہوئے بھاگ گئے وہ مرید جو خود بھی روزہ توڑ دیتے تھے وہ نہیں بھاگے ، بایزید نے پوچھا سب بھاگ گئے تم کیوں نہیں بھاگے تو انہوں نے کہا آپ سے ہمیں ہدایت ملی ہے ہمارا خیال ہے جو بھی عمل آپ نے کیا ہے اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ہو گی ہمیں کیا حق پہنچتا ہے ، تو بایزید بسطامی نے کہا ، جب مریدین آ کر ہاتھوں کو بوسہ دیتے ہیں عزت کرتے ہیں تو انکی تعریف اور عزت کرنے سے میرا نفس بڑا موٹا ہو گیا تھا اور اگر نفس میں انانیت آجائے اور نفس موٹا ہو جائے تو ایسا نفس عبادتوں سے صحیح نہیں ہوتا اس کے لیے ملامت ہے تو میں نے سوچا ایک روزہ توڑنا پڑے گا گناہ ہے لیکن خیر ہے اس کی قضا کر لیں گے لیکن اگر اس نفس کو قابو نہیں کیا تو اس کی قضا نہیں ہو سکتی۔تصوف ایسی چیز ہے جس میں مختلف ذریعوں اور طریقوں سے نفس کی انانیت کو توڑنا پڑتا ہے، نفس کشی کرنا پڑتی ہے ، نفس صرف باتوں سے پاک نہیں ہوتا نفس صرف نور سے پاک نہیں ہوتا یہ پورا ایک پیکیج ہے۔اسی طرح کوئی آپ کو گالیاں دیتا ہے برا بھلا کہتا ہے اللہ کی طرف سے اسکا اجر ملتا ہے۔
بایزید بسطامی کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک شخص ان کی مخالفت کیا کرتا تھا جب آپ کو پتا چلا تو آپ نے اس کا وظیفہ مقرر کر دیا ۔ایک دن اس بندےکی بیوی نے اپنے شوہر کو کہا نمک حرامی چھوڑ تو ان کو برا بھلا کہتا ہے برائی کرتا ہے اور وہ تجھے وظیفہ دیتے ہیں اب یہ برائی بند کر دے کیونکہ تو انکا نمک کھا رہا ہے تو یہ بات شوہر کو سمجھ آ گئی اس نے برائی کرنا بند کر دی تو بایزید نے اس کا وظیفہ بھی بند کر دیا ، اب وہ شخص بایزید کے پاس پہنچا کہ میرا وظیفہ کیوں بند کیا انہوں نے کہا جب تو میری برائی کرتا تھا تو تیری برائی کرنے سے میرے گناہ جلتے تھے تو میرا ملازم تھا میں تجھے اسکا معاوضہ دیتا تھا اب تو نے میری برائی کرنا چھوڑ دی ہے تواب میرے گناہ نہیں جل رہے تو اب میں تجھے کس بات کا معاوضہ دوں ؟ جو لوگ برائی کرتے یا جھوٹا الزام لگاتے ہیں تو ان کو پتا نہیں ہے کہ بغیر تصدیق کے برائی اور بہتان لگانے والوں کاا للہ کیا حال کرے گا !! تو ہو سکتا ہے کہ آپ سچی بات کہتے ہوئے بھی ڈریں ۔اللہ نے قرآن میں فرمایا غیبت کرنے اور بہتان لگانے والوں کا حال ایسا ہی ہے کہ جیسے اپنے مردار بھائی کا گوشت کھانا ۔اللہ کے رسول نے فرمایا

عَنِ النَّبِيِّ ( صلى الله عليه و آله ) فِي وَصِيَّةٍ لَهُ لأبي ذر : ” يَا أَبَا ذَرٍّ إِيَّاكَ وَ الْغِيبَةَ ، فَإِنَّ الْغِيبَةَ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

ہمارے معاشرے میں زنا کا کتنا زیادہ پرو پیگینڈا ہےلیکن حضور پاک نے فرمایا زنا کرنا چھوٹا گناہ ہے اس سے بڑا گناہ گار وہ ہے جو غیبتیں کرتا ہے ، پیٹھ پیچھے برائی کرتا ہے۔ پیٹھ پیچھے برائی وہی کرے گا جو بزدل ہے اور جو کچھ بول رہا ہے وہ جھوٹ ہے۔ اگر سچ ہے تو منہ پر کہہ دیں ، تو غیبت کرنا کتنا بڑا گناہ ہے تب ہی تو رسول اللہ نے فرمایاالْغِيبَةَ أَشَدُّ مِنَ الزِّنَا اگر کوئی اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنے والا ہوں اور آپ کہہ دیں جہنمی ہیں تو یوم محشر آپ کے کہنے پر تو فیصلے نہیں ہوں گے، فیصلہ تو اللہ اور اُس کے رسول نے کرنا ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر کی 14 نومبر 2017 کو یوٹیوب لائیو پر کئے گئے سوال کے جواب سے ماخذ کی گئی ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں