کیٹیگری: مضامین

آدم صفی اللہ سے پہلے آدموں پر کئے گئے تجربات:

آدم صفی اللہ سے پہلے اللہ تعالٰی نے تیرہ ہزار نو سو ننانوے آدم بھیجے جن میں سے اللہ نے کوئی قوم فاسقوں کی بنائی اور کوئی مشرکوں کی بنائی اور کوئی مرتدوں کی بنائی۔ فاسق وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ میں یہ بھی کردوں گا اور وہ بھی کردوں گا لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتے ، یہ فسق ہے ۔ اللہ نے پوری کی پوری قوم ہی ایسی بنائی جو فاسق تھی۔ تیرہ ہزار نو سو ننانوے آدم اور ان کی جو نسلیں اللہ نے بنائی ہیں اور ان کے اندر جو اللہ نے تجربات کئے ہیں وہ اس لیے کئے کہ اگر ساری قوم فاسق ہو تو پھر معاشرہ کیسا ہو گا اور اگر ساری قوم مشرکوں کی ہو تو پھر معاشرہ کیسا ہوگا اور اگر ساری قوم جاہلوں کی ہو تو کیسا ہوگا۔ یہ سب تجربات کرکے اللہ نے مختلف کردار جمع کئے ۔آدم صفی اللہ سے پہلے جتنے بھی آدم آئے ان کے پاس دل اور نفس کو پاک کرنے کی تعلیم نہیں تھی۔ جب اُس زمانے میں یہ تعلیم نہیں آئی تھی تو اس وقت کوئی گناہ کر کے ندامت سے روتا تو یہ رونا سب سے افضل عبادت تھی ۔ کیونکہ ان کے پاس نہ نفس کو پاک کرنے کی تعلیم تھی اور نہ دل کو پاک کرنے کی تعلیم تھی تو پھر اگر کوئی گناہ کرکے رو پڑتا تو اللہ کی نظر میں یہ سب سے عظیم ترین فعل ہوتا۔اُس زمانے میں جو لوگ ریاکاری کرتے اور دنیا کو دکھانے کیلئے رب کی عبادت کرتے تو اس سے ان کا نفس بگڑتا جاتا۔ اللہ تعالٰی نے آدم صفی اللہ کو بنانے سے پہلے مختلف تجربات کئے تھے ۔ وہ تجربات ناکام ہوگئے تھے کیونکہ وہ بغیر نفس اور دل کو پاک کئے عبادت کرتے تھے اور اس عبادتوں سے ان کے اندر مزید تکبر اور بغض پیدا ہوتا تھا ۔اس لیے جو لوگ گناہ کرتے اور روتے نہیں تھے ان کو تباہ کردیا اور جو صرف عبادتیں کرتے تھے ان کو بھی تباہ کردیا۔ اگر اللہ عبادت سے ملتا ہے تو ان عبادت کرنے والوں کو کیوں تباہ کیا؟ کیونکہ وہ لوگ عبادت کرکے تکبر کرتے تھے لیکن روتے نہیں تھےاور عبادتیں کرکے ان کے دلوں میں تکبر بڑھتا اور پھر ریاکاری کیلئے عبادتیں کرتے ۔اس لیے اللہ تعالٰی نے ان کی عبادتوں کو قبول نہیں کیا۔ لہٰذا جس بندے کی بھی عبادت کرنے سے پہلے نیت رب کو راضی کرنا نہ ہو اور عبادت صرف دنیا کو دکھانے کیلئے کی جائے تو وہ اللہ کی نظر میں اصل مشرک ہے۔

نبی کریم ﷺ کے دور میں آدم صفی اللہ سے پہلے کی اقوام:

اللہ تعالٰی نے ابرہیم ؑاور حضورﷺکو کیوں کہا تھا کہ مشرکوں میں سے نہ ہوجانا؟جب حضرت ابراہیم ؑآئے تو انسانوں کےاندر بہت سارے انسان ایسے تھے جو پچھلے آدم کی نسل سے تھے۔ابراہیم ؑ کو یہ کہا تھا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نہ اُٹھنا بیٹھنااوران لوگوں پر رحم نہ کرنااوروہ کبھی بھی ہدایت کے راستے پر نہیں چلیں گے کیونکہ وہ پچھلے آدم کی اولادمیں سے ہیں اور اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں بھی فرمایا کہ

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
سورة یونس آیت نمبر 105
ترجمہ :اور مشرکوں میں سے نہ ہوجانا

اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم مشرک ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکوں سے رسم و مراسم قائم نہ کرنا ، ان سے بات چیت نہیں کرنا اور نہ ان مشرکوں کو اللہ کا پیغام دینا کیونکہ یہ ان کی تقدیر میں نہیں ہے۔حضورﷺ کے دور میں بھی مکہ مکرمہ میں بے شمار ایسے لوگ تھے جو آدم صفی اللہ کی نسل سے نہیں تھے۔ اب ان میں دو گروہ ہوگئے۔ ایک گروہ کافر تھا۔ آدھا گروہ ایسا تھا جنہوں نے اقرار کرلیا اور اسلام میں داخل ہوگیا لیکن ان کیلئے نفس اور دل کو پاک کرنے کا علم نہیں تھا اس لیے ان کے دلوں اور نفوس میں نور نہیں گیا اور صرف زبان سے ہی اللہ اللہ کرتے رہے۔ وہ منافق اس لیے ہوئے تھے کیونکہ ان کیلئے نفس اور دل کو پاک کرنےکی تعلیم نہیں تھی جب کہ دینِ اسلام میں ہے کہاقرار باللسان وتصديق بالقلبزبان اقرار کرے اور دل اس کی تصدیق کرے۔ان لوگوں کی زبان نے اقرار کرلیا لیکن قلب نے تصدیق نہیں کی کیونکہ قلب کو پاک کرنے کی تعلیم ان کیلئے نہیں تھی۔ ان منافقوں کے پاس نفس اور قلب کو پاک کرنے کا ذریعہ نہیں تھا ۔کوئی اولولعزم باطن کی تعلیم نہیں آئی تھی۔ جب وہ عبادت کرتے اور گناہ کرنے کے بعد نہیں روتے تو وہ باطنی طور پر مشرک کہلاتے۔” آج کے دور میں بھی اگر کوئی نفس اور دل کو پاک نہیں کر رہا ہے اور صرف عبادتیں کر رہا ہے تو وہ مشرک ہے۔” پھر جب حضورﷺ ان لوگوں کے پاس جاتے اور کہتے کہ کلمہ پڑھو تو پھر اللہ تعالٰی نے حضورﷺ کو فرمایا کہ

أفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّـهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّـهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
سورة الجاثیۃ آیت نمبر 23
ترجمہ: یا رسول اللہ ﷺ!کیا آپ نے اس کا کردار نہیں دیکھا ہے جس نے اپنے نفس کی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔

ان لوگوں کا اٹھنا، بیٹھنا ، مسجد میں جانا، روزے رکھنا ، ذکروفکر کرنا ، خیرات و زکوۃ ، عمرہ اور حج کرنا سب کچھ صرف اپنی تعریف و توصیف کیلئے ہے۔ یہ لوگ مشرک ہیں کیونکہ نفس اور دل کو پاک کرنے کی تعلیم ان کیلئے نہیں تھی۔ جب اللہ تعالٰی نے حضورﷺ اور ابراہیم ؑ کو کہا کہ مشرکوں میں سے نہ ہوجانا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ جو نسلیں پچھلے آدم سے چلی آرہی ہیں ان لوگوں سے دور رہنا اور ان کے ساتھ شامل نہ ہوجانا۔ اللہ تعالٰی نے بہت سے نبیوں کیلئے کہا کہ وہ اللہ کے نیک بندے تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔ وہ اللہ کے نیک بندے تھے اور مشرک تو نہیں ہوں گے پھر اللہ نے بار بار کیوں کہا کہ وہ مشرکین میں سے نہیں تھے ۔ کیونکہ وہ اللہ تعالٰی شرک کے عمل کی بات نہیں کر رہا اور یہ نہیں کہہ رہا کہ ان سے شرک کے عمل کی توقع ہے بلکہ اللہ تعالٰی یہ فرمارہے ہیں کہ وہ قوم ایسی تھی جس کی فطرت میں شرک تھا۔ تو جو فاسق ہے وہ فاسق ہی رہے گا اور جو جاہل ہے وہ جاہل ہی رہے گا اور جوظالم ہے وہ ظالم ہی رہے گا۔ بلکہ اللہ تعالٰی نے اُن لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے سے منع فرمایا تھا اور پھر انہی فاسقوں کی قوم کیلئے اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا

وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
سورۃالمائدۃ آیت نمبر 108
ترجمہ: اور اللہ فاسقوں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

اس آیت کی مزید تشریح کی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ فاسق کو ہدایت مل سکتی ہے لیکن اگر کوئی فاسقوں کی قوم میں سے ہے تو اُن کو اللہ ہدایت نہیں دیتا۔ قرآن کی یہ آیت بتارہی ہے کہ پوری پوری قوم فاسق تھی جیسے قوم عاد اور قوم ثمود۔پھر اللہ تعالٰی نے جو قرآن میں شرک اور توحید کا کہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ توحید کی تعلیم آگئی ہے تاکہ بندہ اور رب مل جائیں اور مشرک وہ تھے جن کے پاس نفس اور دل کو پاک کرنے کی تعلیم نہیں تھی اور وہ سب کچھ اپنے نفس کی خواہش کیلئے کرتے تھے۔ان مشرکین سے ملنے سے اللہ نے منع فرمایا تھا۔”اللہ نے شرک یہاں بطورِ عمل نہیں بلکہ بطورِ قوم لیا ہے اور فسق بطورِ عمل نہیں بلکہ بطورِ قوم لیا گیا ہے”۔اللہ نے مشرک ان قوموں کو کہا جن کو آدم صفی اللہ سے پہلے بطورِ تجربات بنایا۔

دلیل:

۱۔جب قابیل نے ہابیل کو مارا تھا تو قابیل کے ساتھیوں پر اللہ کی لعنت پڑی اور لعنت کے نتیجے میں ان کے سینوں پر اللہ نے مہر لگادی۔ قابیل کی قوم کو اللہ نے قوم الجاہلین کہا ۔ جب نوح ؑ نے اللہ تعالٰی کو کہا کہ میرے بیٹے کو بچالیں تواللہ تعالٰی نے جواب دیا کہ

قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ
سورۃھود آیت نمبر 46
ترجمہ:اے نوحؑ !تیرا بیٹا تیری آل سے نہیں ہے کیونکہ وہ غیر صالح ہے اور پھر اگر تم نے آیندہ ایسا سوال کیا تو تمہارا شمار جاہلین میں سے ہوگا۔

اس آیت کی مزید تشریح یہ ہے کہ اللہ نے نوحؑ کو یہ نہیں کہا کہ تم جاہل بن جاؤ گے بلکہ یہ کہا کہ اگر تم اپنے بیٹے کا ساتھ دو گے تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ تم ان کے ساتھ ہوگئے ۔
۲۔یونسؑ اسرائیل میں پیدا ہوئے اور وہ مومن تھے۔ان کی قوم اللہ کو مانتی تھی اور اللہ کی فرمانبردار تھی۔یونسؑ کے پڑوس میں ایک گاؤں تھا اور اس گاؤں کے لوگ لڑائی جھگڑا کرتے تھے ۔لیکن یو نسؑ کی قوم شریف تھی۔ اللہ تعالٰی نے یونس ؑ پر وحی نازل فرمائی اور کہا کہ اے یونس! اب وقت آگیا ہے کہ تم اپنی نبوت کا اعلان کردو اور اپنے دشمن قبیلے میں جاکر تبلیغ کرو۔ یونسؑ نے اللہ سے کہا کہ میری تو اُس گاؤں کے لوگوں سے دشمنی ہے اور آپ مجھے وہاں نبی بنا کر بھیج رہے ہیں۔اس بات پر یونسؑ پریشان ہوگئےاور جویونسؑ کے ساتھی تھے انہوں نے کہا کہ تم وہاں نہ جانا کیونکہ وہ تمہیں ماریں گے۔ یونس ؑ اللہ کے نبی ہوتے ہوئے اس لیے ڈر رہے تھے کیونکہ وہ ان تمام نبیوں کا حال دیکھ چکے تھے جن میں ایک بھی بندہ ایمان نہیں لایا تھا اور کئی قوموں نے انبیاء اور رسولوں کو قتل کردیا۔ پھر یونسؑ نے سوچا کہ وہ اللہ سے چھپ جائیں اور انہوں نے چھپنے کیلئے کسی دوسرے گاؤں جانے کا فیصلہ کیا۔ لہٰذا یونسؑ کشتی میں بیٹھ گئے کہ یہ کشتی مجھے کسی دوسرے مقام پر لے جائے گی۔ وہاں طوفان آگیا اور کشتی چلانے والے نے کہا کہ کشتی سے سامان پھینک دو ورنہ کشتی ڈوب جائے گی۔ پھر سامان پھینکنے کے باوجود کشتی ڈوب رہی تھی۔ پھر کشتی پر سوار لوگوں نے کہا کہ اب کوئی بندے کو پھینک دیتے ہیں اور انہوں نے قرعہ اندازی کی۔ تین دفعہ قرعہ اندازی کرنے پر یونسؑ کا نام آیااور یونس ؑ کو انہوں نے کشتی سے پھینک دیا۔ جیسے ہی یونسؑ کو پھینکا تو طوفان ختم ہوگیا۔یونسؑ کو وہیل مچھلی نے پورا کا پورا ہڑپ کرلیااور یونسؑ تین دن تک مچھلی کےپیٹ میں رہے۔مچھلی کے پیٹ میں یونسؑ نے یہ تسبیح کی

لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ
سورۃالانبیاء آیت نمبر 87

سُبْحَانَكَنفس کو پاک کرنے کے کلمات ہیں۔ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ کہ میں نے بہت ظلم کیا۔پھراللہ تعالٰی نے یونسؑ کی دعا کو قبول فرمایا اور مچھلی نے یونسؑ کو ساحل پر پھینک دیا۔پھریونسؑ نے تبلیغ کی اور ان کی تبلیغ کامیاب ہوگئی اور لوگ اللہ والے ہوگئے۔

قرآن مجید میں فاسقوں کی قوم کا اشارہ:

اللہ تعالٰی حضورﷺ کو فرمارہےہیں کہ

وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِن يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ كَأَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ يَحْسَبُونَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ قَاتَلَهُمُ اللَّـهُ أَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
سورة المنافقون آیت نمبر 4

جب آپ ان پر نظر ڈالیں گے تو ان کے جسموں اور عبادتوں کو دیکھ کر آپ حیرت زدہ ہوجائیں گے۔ جب وہ بولیں گے تو آپ ان کی گفتگو سنیں توایسا لگے گا کہ یہ بغیر جذبات کے لکڑی کا بانس کھڑا ہوا ہے۔ ان کی عبادتیں خشک ہیں۔یہ آپ کے دشمن ہیں۔ان لوگوں کو آپ ماردیں۔اب اللہ اُن لوگوں کیلئے کہہ رہا ہے

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّـهِ لَوَّوْا رُءُوسَهُمْ وَرَأَيْتَهُمْ يَصُدُّونَ وَهُم مُّسْتَكْبِرُونَ
سورۃالمنافقون آیت نمبر 6

آپ ان کیلئے مغفرت مانگیں یا نہ مانگیں ان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اللہ نے انہیں معاف ہی نہیں کرنا۔اللہ انہیں ہدایت نہیں دیتا جو فاسقین کی قوم میں سے ہے۔

هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا وَلِلَّـهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ
سورۃالمنافقون آیت نمبر 7

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ لوگ تو اسلام کے نام پر پیسہ دے رہے ہیں اور جو حضورﷺ کے چاہنے والے ہیں ان کے اوپر کیوں خرچ ہو رہا ہے۔ ان کے جواب میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ سارے زمین اور آسمان کے خزانے اللہ کے پاس ہیں لیکن یہ منافق لوگ نہیں سمجھتے تھے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ
سورۃالمنافقون آیت نمبر 9

تمہاری دولت اور اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے روکے گی ۔۔ یہاں ذکر اللہ سے مراد ذکرِ قلب ہے کیونکہ تمہاری اولاد اور دولت تمہیں زبان سے ذکر اللہ کرنے سے نہیں روکے گی۔ اس لیے ذکرِ قلب کے راستے سے مت رکنا ۔ کیونکہ اگر تمہارے پاس حرام کا مال ہوا اور تمہاری اولاد مومنوں میں سے نہ ہوئی تو وہ تمہیں رب کے راستے سے روکے گی۔

فاسقین اور مشرکین کی قوموں میں سے کچھ کو محمدﷺ اور امام مہدیؑ کے دور میں بھیجا:

اللہ تعالٰی نے آدم صفی اللہ سے پہلے مشرکین اور فاسقین کی قوموں میں سے کچھ کو حضورﷺ کے دور میں بھیجا اور ان لوگوں نے حضورﷺ کو تنگ بھی کیا۔پھر جو فاسقوں، مشرکوں ، مردودوں ، اور مرتدوں کے اصل سردار تھے ان کو سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے دور میں بھیجا۔ جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے تھے تو اللہ نے ان سے کہا کہ تم نے اپنی قوموں کیلئے مجھ سے شکوے کئےتھے کہ اے اللہ میری قوم کو ایسا کیوں بنایا۔ پھر اللہ نے کہا کہ ان سب قوموں کو اکٹھا جمع کرکے میں محمدﷺ اور مہدی ؑ کیلئے بھیجوں گا اور تم دیکھنا کہ وہ ان قوموں کو کیسا اکٹھا کریں گے اور دیکھنا کہ ان کو کتنی تکلیفیں پہنچائی جائیں گی لیکن وہ ڈٹے رہیں گے۔ یہ سب قومیں اللہ نے مہدی ؑ اور محمد ﷺ کیلئے بنائیں۔امام مہدی کے دور میں محبت والی قوم بھی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ
سورۃالمائدۃآیت نمبر 54
ترجمہ: اے مومنو! جب تم اپنے دین سے پھر جاؤ گے تو اس کے بعد اللہ تعالٰی اپنی قوم کو لائے گا ۔ وہ قوم اللہ سے محبت کرے گی اور اللہ ان سے محبت کرے گا۔

یہ قوم پوری محبت والوں کی ہے۔ اب جس کا سینہ منور ہو رہا ہے تو وہ اسی قوم میں سے ہے ۔

قرآن کا دل میں نہ اترنا کیا ہے؟

آج سے چودہ سو سال پہلے کیا ہوا تھا یہ کتابوں میں نہیں لکھا۔ جو تعلیم ہم تک پہنچی ہے اس تعلیم میں بڑے پیمانے پر گڑبڑ ہو چکی ہے۔ قرآنِ مجید کا جو مفہوم بیان کیا جا رہا ہے وہ چند لوگوں کی لکھی ہوئی تفاسیر کی روشنی میں بیان کیا جارہا ہے۔ قرآن مجید کے مفہوم میں گڑبڑ ہونے کا ذکر کیا جائے تو اس کا ثبوت یہیں سے مل جاتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک فرقہ جو قرآن کا مفہوم بیان کرتا ہے وہ دوسرے فرقے کیلئے قابلِ قبول نہیں رہتا ہے۔ اِس دور میں قرآن کے تہتر فرقوں کی بنا پ تہتر ترجمے ہوں گے۔اب قرآن مجید کے کونسے مفہوم کو صحیح سمجھا جائے اور کس مفہوم کو صحیح نہ سمجھا جائے ، یہ ایک ایسا معمہ ہے جس کے اوپر آپ صدیوں بحث و مباحثہ اور گفت و شنید کریں لیکن اس کا نتیجہ لاحاصل ہے۔ یہ حق سے محرومی اور قرآن مجید کے مفہوم کا ناپید ہو جانا اس لیے ہے کیونکہ قرآن ہمارے قلب میں نہیں اُترا۔ بہت آسان سی بات ہے کہ جو بات ہم لوگوں سے سنتے ہیں اور اگر وہ ہماری ہی زبان بول رہا ہو تو جو کچھ ہم نے سنا ہے ہم اسے قبول کرلیتےہیں۔اسی طریقے سے قرآن مجید کو سمجھنے کیلئے ہمیں دماغ کا نہیں بلکہ دل کا استعمال کرنا ہے۔ دین اور قرآن کو سمجھنے کا جو کام ہے وہ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا ہےکہ وہ کام دل کا ہے۔ دنیاوی باتیں دماغ میں آئیں گی تو ہم سمجھ جائیں گےاور قرآن جب دل میں جائے گا تو اس کی فقہ آپ کو اللہ کی طرف سے عطا ہوگی۔ جب قرآن آپ کی زبان تک ہی محدود رہے اور قرآن آپ کے دل میں داخل نہ ہو تو پھروہ آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گا۔فرقہ واریت اور قرآن مجید کو نہ سمجھنے کی وجہ علمِ باطن سے دوری ہے۔اگر قرآن مجید کا بیج اسمِ ذات اللہ دل کی دھڑکنوں میں اُتر جائے ،آپ کا قلب بیدار ہوجائے،آپ کا قلب اللہ کے ذکر سے منور ہوجائے اور دائمی ذکرِ الٰہی قلب میں استقرار پکڑ لے تو اس کے نتیجے میں نور بنتا ہے اور وہ نور اللہ سے رابطے کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالٰی کی بارانِ رحمت اس قلب پر نازل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔پھر اس نور کی بارش سے دل ، فقہ اور فہم و ادراک کے تالے کھلتے ہیں۔ یہ چیز وقت کے ساتھ ختم ہوتی گئی۔

توحید کیا ہے؟

توحید ایک فعل ہے اور یہ واحد سے نکلا ہے اور اسی سے وحدت نکلی ہے۔توحید کا مطلب اکٹھا کرنا ہےاور توحید ِ اللہ کا مطلب ہے کہ اللہ سے جڑ جاؤ۔توحید کا جو لفظی مطلب ہے وہ دو کو ایک کرنا ہے۔ اسلام کا بھی یہی مطلب ہے کہ مکمل سپردگی ۔

شیعوں کا ماتم کرنا کیسا ہے؟

ماتم ان لوگوں کا عمل ہے جن لوگوں نے امام ِ حسین ؑکو خطوط لکھ کر بلایا تھا اور جب پھر مسلم بن عقیل وہاں پہنچے تو ان کے پیچھے چالیس ہزار کوفیوں نے نماز پڑھی اور جب سلام پھیرا تو سب غائب تھے۔ امام حسین کی شہادت کی خبر جب کوفہ پہنچی تو جن لوگوں نے امام حسین کے ساتھ بے وفائی اور دغا بازی کی تھی تو ان لوگوں نے شہادت کی خبر سن کر ماتم کیا تھا۔ اُن لوگوں کے بارے میں مولٰی علی نے فرمایا تھاکہ کوفی لا یوفی۔ وہ لوگ ماتم کررہے تھے اور رورہے تھے کہ ہم سے بہت بڑی خطا ہوئی اور ماتم کے دوران بی بی زینب کا وہاں سے گزرہوا۔ بی بی زینب نے فرمایاکہ اب رونے کا کیا فائدہ ہے ۔امام حسین نے اپنے چھ ماہ کے بیٹے علی اصغر کو ایک بوند پانی کیلئے ہاتھوں میں اٹھایا کہ یہ بلک بلک کر رورہا ہے اور ایسا تو نہیں ہوگا کہ یہ ایک بوندھپانی پی کر تلوار اُٹھا لے اور تمہارے مقابلے میں آجائے۔ اس کے جواب میں کوفیوں نے تیر پھینکا جو حلق میں چلا گیا۔ ساتھ سے آٹھ سال کی بچی سکینہ کا باپ جب جنگ کیلئے جانے لگا تو وہ اپنے باپ سے پوچھتی ہے کہ بابا جان آپ کے شہید ہونے کے بعد میں یتیم ہو جاؤں گی ۔ اس کے والد نے کہا کہ ہاں تم یتیم ہوجاؤ گی لیکن اللہ اور رسول تمہارے ساتھ ہیں۔ پھر بچی نے اپنے والد سے کہا کہ باباجان جاتے ہوئے میرے سر پر اس طرح ہاتھ رکھ کر جائیں جس طرح یتیموں کے سر پر رکھتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے جھوٹے دعو ؤں کی وجہ سے یہ حالت ہوئی انہوں نے ماتم کرکے اپنے آنسو بہائے لیکن یہ ایسا گناہ نہیں ہے جو ماتم کرکے اور آنسو بہا کر معاف کردیا جائے۔ آپ نے یزیدیت کو روکنا ہے اور کربلا د وبارہ اس دنیا میں رونما نہ ہو ، اس کو روکنا ہے۔ اس کو روکنے کیلئے یہ دیکھنا پڑے گا کہ یزید کیسے بنتا ہے اورامام حسین کیسے بنتا ہے۔امام حسین وہ تھے جن کا سینہ علمِ باطن سے مزین تھا۔امام حسین وہ تھے جن کی آنکھوں اور سینے میں رب کے نین نقش تھے اور یزید وہ تھا جس کے سینے میں نہ نورإ الٰہی تھا اور نہ حبِّ رسول تھی۔یزید زبان سے کلمہ پڑھتا تھا اور جسم سے نماز پڑھتا تھا لیکن وہ باطنی علم سے محروم تھا۔اگر تم بھی صرف زبان سے یا حسین یا حسین کہتے رہو گے لیکن تمہارے سینوں میں نور نہیں ہے تو یزیدیت اور تم میں بہت ہی کم فاصلہ ہے۔ تم بظاہر حسینی ہو ۔ وہ باطنی علم جس کی محرومی کی وجہ سے امیر معاویہ کا بیٹا ملعون بن گیا تو تم بھی اُنھی خطوط پر چل رہے ہو۔امیر معاویہ کے بیٹے کی زبان پر بھی کلمہ تھا اور تمہاری زبان پر بھی یاحسین ہے لیکن دل میں حُسین نہیں ہے۔ زبان پر مولٰی علی ہے لیکن دل میں نہیں ہے۔لوگ یا اللہ بھی کہتے ہیں لیکن مومن نہیں بنے توتم یا علی کہنے سے کیسے مومن بن جاؤ گے۔ حُسینی وہ ہے جس کی رگوں میں خون کے ساتھ نور دوڑتا ہے خواہ وہ حُسین اکسٹھ ہجری والا ہو یا پندروی صدی والا ہو۔کیا امامِ حسین ؑ دنیا میں صرف اپنے آپ کو دکھانے کیلئے آئے تھے کہ مجھے دیکھ لو میرے جیسا کوئی نہیں یا ان کے پاس تعلیم بھی تھی کہ میں حُسین ہوں تم کو حُسینی بنانے آیا ہوں اور حُسینی بنانا جسم سے نہیں بلکہ روح سے ثابت ہے۔ جب تک ان فرقوں کو اور ان کے تصورات اور فلسفوں کو بے نقاب نہیں کیا جائے گا ، تمہارے ذہنوں سے شیعہ، سنی، وہابی، دیوبندی ، بریلوی اور اہلحدیث کے بت نہیں گریں گے ۔اُمت کا تصور زندہ کرنے کیلئے سب سے پہلے تہترفرقوں کے بت گرانے ہوں گے۔ یہ بت دل میں نہیں دماغ میں بنے ہوئے ہیں۔ان دماغ میں بنے بتوں کو گرانے کیلئے نور چاہیے جو دماغ کو چیرتا ہوا دل میں چلا جائے اور دل میں اسمِ ذات کا ایسا لنگر لگادے کہ پھر پوری جوہنود شیطان بھی مل کر تمہارے ایمان کو کمزور نہ کرسکے۔ آج کے دور کا نفس شکن صرف نفس شکن نہیں ہے بلکہ بت شکن بھی ہے۔ تمہارے دماغ میں جو شیطان بت ہے اس نے تمہیں شیعہ، سنی، وہابی، اور بریلوی بنایا ہے ۔اسی موقع کیلئے علامہ اقبال نے فرمایا

بیاںمیں نکتہ توحیدآتوسکتاہے
ترےدماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئے!

جو دماغوں میں بت خانے بنے ہوئے ہیں ان بتوں کا نام وہابی، سنی، شیعہ ، بریلوی، قادیانی اور اہلحدیث ہے۔یہ سب شرک ہے۔

کیا اولیا ء اللہ سے مانگناشرک ہے؟

وہابی کہتے ہیں کہ کسی ولی اللہ سے مانگنا شرک ہے اور صرف اللہ سے مانگو اور کہتے ہیں کہ اللہ سے مانگنے کیلئے وسیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ شرک نہیں ہے کیونکہ ولیوں کو اللہ نے بھیجا ہے۔ جب تم نے یہ کہا کہاهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ مجھے سیدھا راستہ دکھا۔پھر اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو کہتا ہے کہ مجھے یہ کہو کہصِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ان کا راستہ جن پر تم نے اپنی نعمت عطا کی ہے۔یہ الفاظ اللہ نے کہے ہیں لیکن اللہ نے یہ الفاظ انسانوں کو دے دئیے ہیں کہ اس طرح مجھ سے مانگو۔ یہ اُن ولیوں سے مانگنا ہے جن پر اللہ تعالٰی نے اپنی رحمت نازل فرمائی ہے۔ اللہ یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ براہ راست مجھ سے مانگو لیکن اللہ نے کہا کہ مجھ سے کہو کہ ان لوگوں کا راستہ دکھا جن کو میں نے اپنی نعمت دی ہے۔ پھر اللہ تعالٰی نے فرمایاغَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَان لوگوں کے راستے پر نہیں چلنا کہ جن کو دیکھ کر تو غضب ناک ہوجاتا ہے ۔ یہ ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ جب کسی سے پہلی مرتبہ ملیں تو اُس کو دیکھ کر بلاوجہ غصہ آتا ہے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو پہلی دفعہ میں ہی دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ اسی طرح بہت سے لوگ ہیں جو قرآن اور نماز پڑھتے ہیں تو اللہ کو غصہ آتا ہے۔ اسی لیے گناہ کرنا اور اللہ کو غصہ دلانا مختلف عمل ہیں۔ جب آپ گناہ کرتے ہیں تو اللہ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ کہ اللہ رحم اور معاف کرنے والا ہے۔یہاں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب تم گناہ کرو گے تو اللہ کوغصہ نہیں آئے گا۔ توگناہ کرنا گمراہی نہیں ہے بلکہ انسانی کمزوری ہے کیونکہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے

إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا
سورۃالٔاحزاب آیت نمبر 72

اسی لیے گناہ کرنا انسانی کمزوری ہے لیکن گمراہی نہیں ہے۔اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی نے سنتِ رسول ﷺ پر عمل نہ کرتے ہوئے داڑھی کٹوالی ،کسی کی نماز قضا ہوگئی اور رمضان میں روزہ نہیں رکھا تو اللہ غصے میں آجائے گا لیکن اللہ ان چیزوں سے غصہ نہیں ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے کہ

هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ
سورۃالحدید آیت نمبر 3
ترجمہ: وہ ہی پہلے اور آخر میں ہے۔ اور جو باطن میں ہوتا ہے وہ ظاہر میں بھی ہوتا ہے۔

جب اللہ تعالٰی تمہیں ہدایت دینے کیلئے کسی انسان کے سینے میں اپنے نین نقش بھرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ میں اب اس کے ہاتھ بن گیا ہوں جس سے یہ پکڑے گا ، اب میں اس کے پاؤں بن گیا ہوں جس سے چلے گا ، اب میں اس کے کان بن گیا ہوں جس سے یہ سنے گا ، اب میں اس کی آنکھیں بن گیا ہوں جس سے یہ دیکھے گا اور اب میں اس کی زبان بن گیا ہوں جس سے یہ بولے گا تو پھر ان ہستیوں کے پاس جا کر بیٹھنا اور ان کو ہاتھ لگانا رب کو ہاتھ لگانا ہے۔ ان ہستیوں کا کلام سننا رب کو سننا ہے اور وہ تجھے دیکھ لیں تو گویا رب نے دیکھا ہے۔ ا ن ہستیوں کا دامن چھوڑ کے اور ان کو رد کرکے تم مسجد میں جا کر کھڑے ہو اور پھر کہتے ہو کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہ اللہ مجھے ہدایت دوتو پھر اللہ کو غصہ آتا ہے ۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ جہاں میں نے ہدایت رکھی ہے اُس ذات کو جھٹلا کر پھر میرے پاس آتے ہو کہ مجھے ہدایت دے دو ۔ اس عمل سے اللہ کوغصہ آتا ہے۔ اللہ تعالٰی نے نبی کریمﷺ کو حدیثِ قدسی میں فرمایا

من عادیٰ لی ولیاً فقد آذنتہ بالحرب
صحیح بخاری- کتاب الرقاق- حدیث نمبر 6502
ترجمہ:جس نے میرے کسی ولی کی مخالفت اور عداوت کی، میرا اس سے اعلانِ جنگ ہے۔

اولیاء اللہ سے کیوں مانگتے ہیں؟

مشرکینِ مکہ وہ لوگ تھے جن کا کسی دین سے تعلق نہیں ہے ۔جب ان کے قبیلوں کا کوئی سردار مرتا تھا تو اُن سرداروں کا بت بنا کر انہیں پوجتے تھے اور انہیں ہی خدا سمجھتے تھے۔ پھر اللہ یومِ محشر میں ان مشرکین سے پوچھے گا کہ جس کو تم خدا کہتے تھے وہ کہاں ہے؟ لیکن وہاں جواب دینے کیلئے کوئی نہیں ہوگا۔ پھر اللہ تعالٰی اُن پتھروں کو بلائے گا اور ان میں موجود جمادی روحوں کو کہے گا کہ مجھے سجدا کرو تو وہ روحیں سجدہ کریں گی۔ پھر اللہ تعالٰی ان مشرکین سے کہے گا کہ جن بتوں کو تم خدا سمجھتے تھے وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں۔ ولیوں نے کبھی نہیں کہا کہ مجھے اللہ کہو اور نہ ہی کہا کہ شرک کرو ۔ولیوں نے یہ کہا کہ ہمارے وسیلے سے تم رب تک پہنچ سکتے ہو ۔ ولیوں کے وسیلے سے شفاعت بھی ہوسکتی ہے۔جو لوگ محبت میں ولیوں کی قبروں کو چومتے تھے اور حضورﷺ کے نا م کو چومتے تھے تو یہ لوگ جب یومِ محشر میں کہیں گے کہ میں محمدﷺ کو خدا مانتا تھا توحضورﷺ وہاں اللہ سے کہیں گے کہ یہ بندہ مجھ سے محبت کرتا تھا۔ اپھر اللہ اس بندے کی شفاعت فرمادے گا اور کچھ لوگ یومِ محشر میں کہیں گے کہ میں غوث پاک کو خدا مانتا تھا تو غوث پاک اللہ سے کہیں گے کہ یہ میرا سچا مرید ہے۔پھر اس بندےکی بھی شفاعت ہوجائےگی۔ یوم ِ محشر میں نسبت دیکھی جائے گی کہ جس کی تم نے خدمت کی ہے وہ اللہ والا تھا یا نہیں۔ اگر اللہ والا ہوگا تو تیری شفاعت کرانے کیلئے یومِ محشر میں موجود ہوگا۔پھر اللہ ان نسبتوں کی لاج رکھے گا۔جو بندہ اپنے مرشد کو خدا سمجھتا ہوگا تو وہ بھی سرخروہوگااور اللہ کو پتہ ہے کہ اس نے اپنے روپ دنیا میں بھیجے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے حضورﷺ کو حدیثِ قدسی میں فرمایا:

وما تقرب إلي عبدي بشيء احب إلي مما افترضت عليه
صحیح بخاری- کتاب الرقاق- حدیث نمبر 6502

جو میرا بندہ ہے وہ میرے قرب کے ذریعے میری محبت کو پالیتاہے۔ جب وہ میری محبت کو پا لیتا ہے تو میں اسے مار دیتا ہوں ۔جب میں اس کو مار دیتا ہوں تو اس کی خون بہا مجھ پر لازم ہوجاتی ہے ۔ پھر میں اس کو دعیت دیتا ہوں یعنی میں اسی کا ہوجاتاہوں اور اس کی رگوں میں بس جاتاہوں۔ پھر وہ انسان مر گیا اور رب اس کے مکھڑے میں جی رہا ہے۔ یہ وہ ہستیاں جن کو اللہ نے اپنا دوست بنایاہے۔

قتال القلوب:

سب سے بڑا ظلم یہ نہیں ہے کہ کسی کی گردن کاٹ دی جائے بلکہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ کسی کے ایمان کو تباہ کردیا جائے ، ولایت کے تصور کو پامال کردیا جائے ، باطنی علم کے تصور کو پامال کردیا جائے اور اس علم کو چند بہترنفوس تک محدود کردیا جائے تاکہ پوری امت اس علم سے محروم ہوکر مشرک مرے۔ کوئی سنی ہوکر مرے کوئی وہابی ہوکرمرے کوئی شیعہ ہوکر مرے لیکن امتی بن کر کوئی نہ مرے ، یہ بہت بڑا قتال ہے اوریہ قتال القلوب ہے ۔ یہ بہت بڑا جہاد ہے۔صرف جسم سے سر کو جدا کرنا ظلم نہیں ہے ۔جو کربلامیں ظلم ہوا اس سے بڑا ظلم یہ ہے کہ تمہار ے کفر کی گستاخیوں کی تلواریں جو سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے اوپر چلتی رہی ہیں اور جس نے دنیا کے سینوں میں سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے خلاف منفی پروپیگنڈا قائم کر رکھا ہے اور آج دنیا فیضِ امام مہدی سے محروم ہوچکی ہے ، اس سے بڑا کوئی کربلا نہیں ہے۔ یہ سب سے بڑا کربلا ہے جس میں روحوں پر گستاخی کی تلواریں چلائی جارہی ہیں۔

آج کے دور میں اہلِ بیت کی مختلف اقسام میں کیسے شامل ہوا جائے ؟

۱۔اہلِ بیت مصطفٰےﷺ:بیت کو عربی زبان میں گھر کہتے ہیں تو اہلِ بیت کا مطلب گھر والے ہے۔ اللہ تعالٰی نے حضورﷺ کو اہلِ بیت کہا تھا۔ یہاں گھر سے مراد وہ گھر نہیں ہے جہاں حضورﷺ رہتے ہیں بلکہ یہ وہ گھر ہے جہاں روحِ احمد مقیم ہے اور روحِ احمد جسمِ محمد میں رہتی ہے تو جسمِ محمد گھر ہے۔ جس کا بھی تعلق محمدﷺ کی ذات سے جڑگیا وہ اہلِ بیت میں شامل ہوگیا۔ جس کا بھی تعلق سینہ مصطفٰے ﷺ سے جڑ گیا تو وہ اہلِ بیت میں شامل ہوگیا۔ محمدﷺ کا گھر جس میں وہ رہتے تھے وہ فانی تھا لیکن جسمِ محمدﷺ لافانی ہے تو اہلِ بیت بھی لافانی ہے۔ اُس دور میں بھی اہلِ بیت میں شامل ہوئے تھے اور اس دور میں بھی اہلِ بیت میں شامل ہوسکتے ہیں۔ سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ ایک شریعت محمدی ہے جو جسموں کو نماز پڑھاتی ہے اور ایک شریعت احمدی ہے ۔ اگر تم شریعت احمدی حاصل کرلو تو جہاں بیت المعمور میں سب انبیاء نماز پڑھتے ہیں تو تم آج بھی اس نماز میں شامل ہوسکتے ہو ۔ تعلیمِ مصطفٰےﷺ اور تعلیمِ امام مہدیؑ انسان کو یہاں سے اٹھا کے اس نماز میں کھڑا کرنے کو تیار ہے جو حضور پاک ﷺ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو نماز پڑھائی تھیاورتم چودہ سو سالوں سے انسان کے ساتھ ظلم کررہے ہو کہ مولا علی جیسا کوئی نہیں ہے۔ کچھ لوگ حضورﷺ کی شان کوگھٹانے میں لگے ہوئے ہیں جنہوں نے حضورﷺ کو نور ماننے سے بھی انکار کردیا اور کچھ لوگ حضورﷺ کی شان کو بڑھانے میں ایسے لگے کہ انہوں نے کہا سب کچھ حضورﷺ ہی ہیں اور باقی سب کو چھوڑ دو۔ یہ دونوں راستے غلط ہیں ۔ سہی راستہ یہ ہے کہ جس کو اللہ نے جتنی عزت دی ہے اس کو تسلیم کرو ۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا :

وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ
سورۃآل عمران آیت نمبر 26
ترجمہ:اور جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کرے۔

اللہ تعالٰی نے اپنی مخلوق کو کہا ہے کہ تم کسی کی عزت کو نہ گھٹا سکتے ہیں اور نہ بڑھاسکتےہیں۔اگر آپ عزت بڑھائیں گے تو لوگ بیوقوف بن جائیں گے لیکن اللہ کے ہاں اس کی اتنی ہی عزت رہے گی جتنی اللہ نے دی ہے۔
۲۔اہلِ اللہ :اللہ کی اہلِ بیت میں سات سلطان الفقراءہیں۔وہ سات طفلِ نوری اللہ کے گھر عالمِ احدیت میں اللہ کا طواف کرتے رہتے ہیں۔یہ اللہ کے اہلِ بیت ہیں کیونکہ عالمِ احدیت اللہ کا گھر ہے۔ جو تمہارے اندر لطیفہ انا ہے یہ بھی عالمِ احدیت سے آیا ہے تو جن کو لطیفہ انا سے اللہ کا دیدار ہوگیا وہ بھی اہلِ بیت میں شامل ہوگئے۔ جب تم اہلِ بیت میں یعنی اللہ کے گھر میں شامل ہوگئے تو اس کے بعد کعبہ نے تمہارا تعواف کرنا شروع کردیا۔ جیسےہی تمہارے اندر کی ارواح اللہ کے عالم ِ احدیت والے گھر میں داخل ہوئیں اور اس کے گھر میں رہنا شروع ہوگئیں تو نیچے والے کعبہ کو حکم ہوا کہ اب تم اس بندے کے گرد تعواف کرو کیونکہ یہ میرے گھرمیں مقیم ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ رابعہ بصری کا تعواف کرنے کیلئے خانہ کعبہ آگیا۔ پھر ایسے لوگ بھی ہوئے جن کا خانہ کعبہ نے تعواف کیا۔ ایسی ہستیاں بھی آئیں جن کا پورا عالمِ احدیت تعواف کررہا ہے اور یہ سب ہستیاں سرکار گوھر شاہی کے جثہ ہائے مبارک ہیں۔ یہاں جثے کا مطلب نفس یا قلب کا جثہ نہیں ہے بلکہ سرکار گوھر شاہی کا وجودِ مبارک ہے جو روح سے خالی ہے۔ سرکار گوھر شاہی کے جو مختلف جلوہ ہائے مبارکہ زمین پرآئے ہیں جنہوں نے مشن کا کام کیا ہے ان میں وہی جثے ہیں جن کا عالمِ احدیت تعواف کرتا ہے۔ ا ن جلوؤں نے جو جوتے پہنے ،جو موزے پہنے،سرکار سے جڑا ہوا کپڑا جس کو پسینہ لگ گیا اور تم نے اس کو سونگھ لیا تو نجانے کتنے اسمِ اللہ کے بیج تمہارے اندر داخل ہوجائیں گے۔ سرکار سے جڑا ہوا کوئی کپڑا جس پر سرکار کا پسینہ لگا ہوا ہو اور آپ اس پسینے کو سونگھ لیں تو کم سے کم آپ ذاکرِ قلبی بن جائیں گے۔اگر سرکار نے پانی میں اپنی زبان مبارک ڈالی اور تمہیں کہا کہ یہ پانی پی لو تو پھر تمہیں روحانیت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سرکار کے لعابِ دہن کے ساتھ ایک جرثومہ داخل ہوجائے گا ۔ جب وہ جرثومہ تمہارے خون میں جائے گا اور نس نس میں مہک پھیلادے گا تو پھر تم اہلِ بیت میں شامل ہوجاؤ گے۔ حدیث میں آیا ہے کہ

مومن کے منہ کا لگا ہوا کھانا اگر کوئی کھائے تو اس میں شفاعت ہے

جب ہم ولیوں اور فقیروں کا بچا ہوا کھانا تبرک سمجھ کرکھاتے ہیں تو یہ غلط ہے کیونکہ اس کھانے کے اندر جو جرثومے ہیں وہ فائدہ تب پہنچاتے ہیں جب مرشد اپنی مرضی سے کھلائے۔ لعابِ دہن میں جرثومے خود نہیں ہوتے بلکہ مرشد اپنی مرضی سے اپنے لعاب میں جرثومہ ڈالتاہے۔ جو انبیاء، مرسلین، اولیاءاللہ، صالحین اور فقراء ہیں ان کے سینوں میں اللہ کا نور یا اللہ کا فعل یا اللہ کی کوئی صفت یا اللہ کا نین نقش یا اللہ کا جثہ توفیق الٰہی یا وصل والی چیز موجود ہوتی ہے ۔ ان کا اللہ سے تعلق ہوتا ہے تو یہ اللہ والے کہلاتے ہیں ۔ اللہ والے کو اہل اللہ کہتے ہیں۔ان سے مانگنا نہ صرف جائز ہے بلکہ ان سے مانگنا ہی فقط اللہ سے مانگنا ہے کیونکہ یہ اللہ سے کسی نہ کسی طریقے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ جیسا کہ خواجہ غریب نواز سے مانگنا کہ خواجہ مجھے بچہ دے دو تو یہ جائزہے کیونکہ یہ اہل اللہ ہیں۔غوثِ اعظم سے مانگنا کہ اے غوثِ اعظم! میری مدد کریں تو یہ مانگنا جائز ہے۔ جب تم نماز میں کہتے ہو کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْکہ مجھے ان لوگوں کا راستہ دکھا جن پر تم نے اپنی نعمت عطاکی ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالٰی نے اپنی نعمت عطا فرمائی ہے۔ جب آپ ان کے پاس جائیں گے تو پھر ہی آپ کو پتہ چلے گا کہ ان کا راستہ کیا ہے۔ پھر وہ بتائیں گے کہ یہ راستہ ہے اس پر چلو تو یہ مدد ہوگئی۔ اگر اس معاملے میں مدد مانگ سکتے ہیں تو پھر کوئی بھی مدد مانگ سکتے ہیں۔یہ سب اہل اللہ ہیں اور ان سے مدد مانگنا نہ صرف جائز ہے بلکہ صرف ان سے ہی مدد مانگنا فقط اللہ سے مدد مانگنا ہے۔ کیونکہ اللہ تمہارے سامنے نہیں ہے لیکن اللہ نے ان کو اپنے نمائندے بنا کر تمہارے لیے بھیجا ہے اور انہی سے مدد مانگنا اللہ سے مدد مانگنا ہے۔
۳۔امام مہدی کے اہلِ بیت :جو ارضی ارواح جسمِ محمدﷺ میں تھی اُسی ارضی ارواح سے جسمِ مہدی بنا ہے۔ پھر جو بندہ جسمِ محمد سے جڑگیا تو وہ اہلِ بیت میں شامل ہوگیا۔ اسی طرح اب جس بندے کا تعلق امام مہدیؑ کے وجودِ مبارک سے جڑگیا اور رسائی ہوگئی گا تو وہ بندہ امام مہدی کے اہلِ بیت مہدی ہے۔ سرکار امام مہدی گوھر شاہی کا دیا ہوا اللہ کا نام جس کے بھی دل میں اُتر گیا ہے وہ سرکار کی اہلِ بیت میں شامل ہے۔ وہ بندہ سکھ ہو ہندو ہوعیسائی ہو مسلمان ہو یہودی ہو اورکوئی بھی زبان بولتا ہو تو وہ اہلِ بیت گوھر شاہی ہے۔ اللہ ھو سے ذاکرِ قلبی بنتا ہے لیکن اس سے جسمِ مہدی سے تعلق نہیں جڑے گا۔ اب ایک خاص نام صرف اللہ ہے اور اگر یہ تمہارے اندر چلا گیا تو تمہارا تعلق جسمِ مہدی سے جڑ جائے گا۔ اللہ ھو جسمِ مہدی سے نہیں آیا ہے کیونکہ اللہ ھو حضورﷺ کے ذریعے غوث پاکؓ تک آیا تھا اور پھر وہ غوث پاک سے کنجی امام مہدی تک آئی ۔ لیکن اللہ امام مہدی کا اپنا اسمِ ذات ہے اور یہ تمہیں جسمِ مہدی سے جوڑے گا۔ یہی اللہ ہے اور یہی الرا ہے۔ پھر جسمِ مہدی کے اندر ذاتِ ریاض بھی ہے اور راریاض کا ذکر جس کی روح میں چلا جائے گا وہ ذاتِ ریاض تک چلا جائے گا کیونکہ راریاض سرکار کی مرضی کے بغیر تمہارے اندر جاہی نہیں سکتا ہے۔

مشرک کی کیا پہچان ہے؟

جن میں اللہ نہیں ہے اور ان سے اللہ کے متعلق کوئی چیز مانگنا اور اللہ کی نسبت سے جو تعظیم کی جاتی ہے وہ تعظیم کرنا شرک ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر کسی میں اللہ نہیں ہے تو اس سے پانی مانگنا شرک ہے بلکہ ہدایت مانگنا شرک ہے۔کیونکہ پانی تو کوئی بھی پلا سکتا ہے لیکن ہدایت صرف اللہ ہی دے سکتا ہے اس لیے ہدایت مانگنا شرک ہے۔اسی طرح وہ لوگ جو دین دار ہونے کا دعوی ٰکرتے ہیں جن میں بڑے بڑے مفتی اور علماءہیں اور ان کے اندر شیطان بیٹھا ہواہے۔ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے صحابہ اکرام کو نصیحت فرمائی اور کہاکہ

اتقوا عالم الجاہل قیل من العالم الجاہل یا رسول اﷲ قال عالم اللسان و جاہل القلب یعنی اسود
بحوالہ زمرۃ الابرار

صحابہ کرام یہ بات سن کر بڑے حیران ہوئے کہ عالم بھی اور جاہل بھی ، تو انہوں نے سوال کیا کہ عالم جاہل کیسے ہو سکتا ہے ؟ تو آپؐ نے فرمایا کہ جاہل عالم وہ ہے جس کی زبان پر علم ہے لیکن اس کے قلب میں جہالت ہے یعنی قلب سیاہ ہے ۔ حضوؐر کی اس تشریح کے بعد واضح ہو گیا کہ جہالت دل کی سیاہی اور تاریکی کو کہتے ہیں ۔ سیاہی وہ جو نور کی ضد ہو اس کو جہل اور ظلمت کہتے ہیں ۔ایسے علماء کی آپ اللہ کی وجہ سے عزت کرتے ہیں لیکن وہ عالم نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی شرح صدر ہوئی ہے ۔ایسے علماء کی تعظیم کرنا شرک ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا
سورۃالکھف آیت نمبر 28
ترجمہ:ایسے لوگوں کی اطاعت نہ کرنا جن کے قلب کو میں نے اپنے ذکر سے غافل کر رکھا ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کی تعظیم کرنا شرک ہے کیونکہ ان میں اللہ نہیں ہے۔ جب ان میں اللہ نہیں ہے اور اللہ کی وجہ سے ان کی تعظیم کرنا شرک ہوگا۔ کیونکہ ان میں اللہ نہیں ہے اور تم شیطان کی تعظیم کررہے ہو، اسی لیے یہ شرک ہے۔ جو بندہ مرگیا اس کو مرنے کے بعد قبر میں دفنادیا اور اس کی قبر میں کوئی لطیفہ یا جثہ نہیں ہے جو ذکر کرے ، نہ کوئی نفس ایسا ہے جو نماز پڑھتا ہو، نہ کوئی قلب زندہ ہے ، قبر میں صرف تاریکی ہے اور بوسیدہ ہڈیاں ہیں ۔ اس انسان کی قبر پر جاکر سجدہ کرنا شرک ہے کیونکہ اس کی قبر میں توشیطان آگیا۔لیکن اگر تم کسی داتا صاحب ، خواجہ صاحب کے مزار پر چلے گئے توان کی قبروں میں ان کے لطیفہ قلب زندہ ہیں ،لطیفہ نفس نمازیں پڑھ رہے ہیں اور لطائف اللہ کا ذکر کررہے ہیں ۔ان قبروں میں نور ہی نور ہے تو ان کی تعظیم کرنا تم پر فرض ہے اور یہ شرک نہیں ہے۔شرک کرنا اس کی تعظیم ہے کہ جو رب والا ظاہرکرے لیکن حقیقت میں وہ رب والا نہیں ہے ۔ جس طرح جو رب کی عبادت کرے لیکن رب کی عبادت میں نیت رب کو پانا نہ ہو اور عبادت صرف دنیا کو دکھانے کیلئے کررہاہو تو وہ بھی مشرک ہے۔

بت بنانے اور ان کی پوجا کرنا کیسے عام ہوا؟

Statue کو اردو میں مجسمہ، عربی میں صنم کہتے ہیں اور صنم کا مطلب بت ہے۔ قدیم زمانوں میں انسانوں کی یادگار کیلئے کیمرے نہیں تھے کہ جس میں انسان کی تصویر یادگار کیلئے محفوظ کرلی جائے۔ اس لیے انسانوں کی یادگار کیلئے مجسمے بنائے جاتے تھے۔اگر آپ یہی سمجھیں کہ مجسمے صرف بت پرستی کیلئے بنائے جاتے ہیں تو آپ غلط ہیں۔ آج بھی بہت سے ممالک میں یادگار کیلئے انسانوں کے مجسمے بنے ہوئے ہیں جیسا کہ بھارت میں جواہر لعل نہرو اور ایندیرا گاند ی کے مجسمے بنے ہوئے ہیں۔یہ مجسمے صرف یادگار کے طور پر بنائے گئے۔ یہ یاد کا ایک طریقہ تھا کہ جو لوگ ان سے ملے نہیں ہیں وہ ان مجسموں کے پاس جاکر اندازہ لگالیں کہ یہ کیسے دکھتے ہونگے۔ یہ مجسمہ بنانے کی رسم آدم صفی اللہ کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل سے نکلی۔ جب قابیل نے ہابیل کو ماردیا تو ہجرِ اسود ہابیل والوں کے پاس رہ گیا اور وہ اس کی تعظیم کرتے تھے۔ ہابیل والوں کو پتہ تھا کہ ہجرِ اسود میں رب کی صورت ہے۔ہابیل والوں نے رب کی صورت کی تلاش میں مجسموں کی صورت میں مختلف صورتیں بنانی شروع کردیں کہ کوئی ایک صورت تو رب کی صورت جیسی ہوگی جس کے ذریعے ہماری بخشش ہو جائے گی۔ یہ رب کی تلاش میں بت بنانا اللہ کی نظر میں جائز ہے۔ اگر کسی انسان کا رب سے تعلق نہ ہو اور اس کا بت بناکر اسے پوجنا ناجائز ہے کیونکہ اس کے اندر نور نہیں ہے ۔ اگر تمہارے گوشت کے جسم میں نور نہ ہونے کی وجہ سے جِن داخل ہوسکتے ہیں تو اُس بت میں بھی نور نہ ہونے کی وجہ سے جن داخل ہوسکتے ہیں۔جس کے اندر نور نہیں ہوگا وہ جن کے گھر کی مانند ہے۔لہٰذا ان بتوں میں جن گھس جاتے۔ انسان کے پاس باطنی آنکھیں نہیں ہیں اور جب وہ دیکھتا کہ یہ بت پتھر کا ہے اور اس سے بولنے کی آواز آرہی ہے تو اس انسان کا عقیدہ مضبو ط ہوجاتا کہ یہ بھگوان ہے۔ جب فتح مکہ کے بعد نبی پاک ﷺ خانہ کعبہ میں بتوں کو توڑ رہے تھے اور ساتھ ساتھ قرآن کی یہ آیت پڑھ رہے تھےکہ

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ
سورۃالاسراء آیت نمبر81
ترجمہ:اور حق آ گیا ہے اور باطل جا رہا ہے۔

خالد بن ولید جو ایک صحابی تھے جب انہوں نے ایک بت کے اوپر تلوار چلائی تو وہاں سے چنگاریاں نکلیں تو وہ پریشان ہوگئے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ پریشان مت ہو کیونکہ ان بتوں میں شیطان جن ہیں۔تین سو ساٹھ بتوں میں سےتین سو انسٹھ بتوں کو توڑ کر پھینک دیا اور ایک پتھر کو حضور ﷺ نے کیوں نہیں توڑا؟ وہ پتھر ہجرِ اسود تھا لیکن یہ بھی ایک پتھر ہے ،بےجان چیز ہے اور انسان اس پتھر کے آگے جھک گیا۔ اس کے اندر شیطان بھی نہیں گیا کیونکہ یہ ایسا پتھر ہے جس کے اندر شیطان گھس نہیں سکتا۔ اگر ہجر اسود میں شیطان گھس نہیں سکتے تو اور بھی پتھر ہونگے جن میں شیطان گھس نہیں سکتا۔ جیسا کہ اگر تم کسی ولی اللہ کے بت کے آگے جھکتے ہو تو تم بت کے آگے نہیں بلکہ جس کا بت ہے اس کے آگے جھک رہے ہو کیونکہ اس ولی کی اللہ سے نسبت جڑی ہےاور اللہ کی نسبت کی وجہ سے اس ولی اللہ کے بت میں شیطان گھس نہیں سکتا۔ جس طرح مسجدِ نبوی میں حضورﷺ کی جو قبرِ انور ہے اور ممبر ہے اس کے اعتراف میں ایک دائرہ بنایا اور اس کے اوپر پہرہ لگایا کہ اس دائرے کے اندرتک شیطان کی دسترس نہیں ہوگی۔ جب امام مہدیؑ مدینے میں جائیں گے تو اس خطے کا نام ریاض الجنتہ ہے وہاں کھڑے ہونگے اور امام مہدی ؑکے خاص پیروکار بھی اس خطے میں کھڑے ہونگے تو دجال کا جادو اس خطے پر نہیں چلے گا ۔ اور وہاں شیطان داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کا اللہ نے وعدہ لیا ہے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ ہجر اسود جنت سے آیا ہوا پتھر ہے اور اس خطے کیلئے کہا کہ یہ جنت سے لایا ہوا ٹکڑا ہے۔ وہ جنت سے لائی ہوئی حضور پاک ﷺ کی ارضی ارواح ہیں۔ یہ ارضی ارواح اس خطے میں تھیں اس لیے اللہ نے ان کی حفاظت کی۔ اگر اللہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ لے سکتا ہے تو جس کے سینے کے اندر قرآن ہے اس کی حفاظت بھی کرسکتا ہے۔ پھر جو بتوں کو پوجنا شرک ہوا وہ بت ان لوگوں کے تھے جو نہ نبی تھے نہ ولی تھے بلکہ عام لوگوں کے بت تھے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں ان لوگوں کو کہا کہ تم ان کی عبادت مت کرو ۔ یعنی ان بتوں کی عبادت جو لوگ کررہے تھے وہ نہ نبی کے تھے اور نہ کسی ولی کے تھے۔اگر نبی یا ولی کےبت تھے تو ان نبیوں اور ولیوں نے یہ نہیں کہا کہ ہمارے بت بناؤ۔اگر کسی نبی یا ولی نے کہا کہ ہمارے بت نہ بنانا تو پھر ان کے بت بنانا گناہ ہے لیکن اگر انہوں نے کہہ دیا تو پھر اس میں اللہ کی اجازت ہوگی۔

شرک کی اصل حقیقت کیا ہے؟

جب کوئی خاص بت یا انسان ہوتا یا کوئی خاص شے ہوتی تو عربی میں اس سے پہلے اللگاتے ہیں۔لاتاورمناةبت تھے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں تھی۔ ان کے بارے میں قرآن مجید میں بھی آیا ہےکہ

أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ
سورۃالنجم آیت نمبر 19-20

لات اور مناة اللہ کے جرثومے تھے اور روح کی شکل میں انسانی جسم میں زمین پر آئے۔ ان کی صورت ،سیرت اور طاقت کو دیکھا تو لوگ ان کو پوجنے لگ گئےاور پھر ان کے مجسمے بنا لئے گئے۔لاتکا جو مجسمہ تھا یہ خاص مجسمہ تھا۔ اس لیے اس خاص مجسمے سے پہلے وہ لوگ اللگاتے۔اگر لاسے پہلے اللگادو تو اللہ ہوگیا۔یہ وہاں پربہت مسئلہ پیدا ہوگیا تھا کہ کافر بھی اللہ کا ذکر کرتے تھے اور مسلمان بھی اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ جو کافر لاتکاذکر کررہے ہیں وہ اپنے بت کا ذکر رہے ہیں اور اپنے بت کو خاص بنانے کیلئےوہ ال لاتکہہ رہے ہیں۔اللہ اپنے نام کی کاٹ نہیں کرسکتا تھا تو اللہ نے کافروں کو کہا کہ اللہ کے دوسرے نام بتاؤ لیکن کافروں نے کہا صرف اللہ اللہ۔ اللہ نے کہا کہ بسم اللہ الرحمان الرحیمیہ ہماراپورانام ہے۔حضورﷺ کے دور میں جو اللہ نے اپنے ننانوے صفاتی ناموں کا انکشاف فرمایا اُس کی وجہ ہی یہ تھی کہ لاتکےساتھ امتیاز کیا جاسکے۔جب خانہ کعبہ میں کھڑے ہوکر مومن بھی اللہ کا ذکر کررہے ہیں اور مشرک بھی اللہ کا ذکر کررہے ہیں تو تمیز کرنا بہت مشکل تھا کہ مشرک کونسے اللہ کا ذکرکرہے ہیں اور مومن کونسے اللہ کا ذکرکررہے ہیں۔ اللہ تعالٰی نے جو فرمایا کہ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُپھر مسلمانوں کو یہ سمجھایا کہ اللہ ایک ہے جو آسمانوں پر ہے اور یہ جو مشرکین لاتکواللہکہہ رہے ہیں اس کو اللہ کی ذات میں شریک نہ ٹھہراؤ۔ یہ سب شرک کی کہانی اس بت لات کوردکرنےکیلئےتھی کیونکہ اس بت کا نام بھی اللہ تھا۔ اللہ کی نظر میں یہ شرک کی اصل حقیقت ہے

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے27-29 جنوری 2019 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں