کیٹیگری: مضامین

یومِ ازل اور سابقون والی ارواح کی حقیقت :

یہ راز چھپا کر کریں گے کیا اب تو دنیا فانی ہے۔۔۔۔۔۔۔انتظار تھا جس قیامت کا عنقریب آنی ہے
دجال و رجال پیدا ہو چکے یہ بھی اک نشانی ہے۔۔۔ظاہر ہونے والا ہے مہدی بھی یہی راز سلطانی ہے
(تریاق قلب سے ماخوذ)

اللہ تعالی نے جو ہم انسانوں میں روحیں ڈالی ہیں تو یہ تین تین اقسام کی روحیں ہیں۔ایک اَمر کن سے پہلے تین کی اقسام بنائی جس کے بارے میں بُلھے شاہ نے کہاکہ کن فیکون تاں کل دی گل اے۔ تو ایک وہ قسم ہے ۔اُس قسم کو قرآن مجید نے کہا ہے سَا بِقُون سَابِقُون کا مطلب ہے جو پہلے بنے ہوئے ہیں۔ سَابِقُون یومِ ازل کے حوالے سے ہوئے۔یومِ ازل میں اللہ تعالٰی نے کہا کن فیکون تو ہوگیا تو اَمرکن سے یہاں روحوں کو بنایا۔ جب یومِ ازل میں اَمرکن سے روحوں کو بنایا ہے تو اس میں تین اقسام ہوگئیں۔
۱- جنہوں نے جنت کا انتخاب کیا۔
۲- جنہوں نے دنیا کا انتخاب کیا۔
۳- جوفیصلہ نہ کر پائے اور اُن کی تقدیر مُعلّق ہوگئی۔
یہ جو جنتی روحیں ہونگی ان کو قرآن نے کہا ہے صاحب اليمين یعنی سیدھے ہاتھ والے۔ اور دنیا دار روحوں کو اُلٹے ہاتھ والےکہا ہے اور جو فیصلہ نہ کر پائے ان کے بارے کچھ نہیں کہا بلکہ یہ مُعلّق ہیں۔ مُعلّق روحیں اگر شیطان کے قابو میں آگئیں تو شیطان ہوگئیں اور اگر رحمان کے پاس آگئیں تو ولی بن گئیں کیونکہ ان کا فیصلہ نہیں ہوا۔یہ تمام روحیں امرکن سے تخلیق ہوئی ہیں لیکن اس سے پہلے بھی تین اقسام کی اللہ نے روحیں بنائی تھیں ، اُن روحوں کو اللہ نے سَا بِقُون کہا ہے ،اب جو اوپر سابقون میں ہیں اُدھر بھی تین روحیں بنی جن میں قرب، محبت اور جلوے والی روحیں شامل ہیں ۔ایک روحوں کا گروہ اللہ نے صرف قرب کیلئے بنایا۔ جتنے بھی ولائتِ کبریٰ والے انبیاء ، مرسلین اور فقراء ہیں وہ سارے ان تین روحوں سے آئے۔ عام روحیں نہیں یعنی یہ نہیں سمجھنا کہ غوث الزمان بھی یہیں سے آئے ہوں گے،نہیں تو گستاخی ہو جائے گی اور سلطان باھو ،بابا بلھے شاہ،شاہ کمال کیتلی ؒ ،خواجہ غریب نواز اور لال شہباز قلندر جیسے بڑے لوگ یعنی واصلین ۔ اب اللہ تعالی نے تین قسم کی روحیں بنائیں ۔ایک روح کا جو گروہ تھا وہ صرف قرب کیلئے بنایا کہ تم نے میرے ساتھ رہنا ہے۔ اور دوسری روحوں کا گروہ تھا کہ تم نے مجھ سے محبت کرنی ہے۔اور جو تیسرا گروہ تھا وہ جلوے میں۔ تو اب چھ قسم کی روحیں ہو گئیں جن میں تین قسم کی روز ازل سے پہلے اور تین قسم کی روز ازل میں بنائی ۔ سابقون کے گروہ میں کوئی منافق، کافر اور دنیا دار نہیں ہے یہ سارے اللہ والے ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایاکہ

وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ
سورة الاعراف آیت نمبر 179
ترجمہ : اور بیشک ہم نے انسانوں اور جنوں میں سے اکثریت کو جہنم کیلئے پیدا کیا ہے ۔

تو کیااللہ کا اس دنیاکو بنانے کا مقصد جہنمیوں سے بھرنا تھا۔نہیں ایسا نہیں ہے، کیونکہ محبت ،قرب اور جلوے کیلئے اللہ نے پہلےہی روحیں بنا لیں تھی۔ یہ دوسرا واقعہ ہے۔تو یہ قرب ،محبت اور عشق والے سابقون سے آئے۔اور جو یومِ ازل کے دن کن فیکون سےجو روحیں بنی اُس کے اندر اگر کوئی اچھی روح رکھی بھی تووہ جنت کی لالچی رکھی۔ سابقون والی روحوں کیلئے اللہ نے دو جنتیں پہلے سے بنا دیں جس میں ایک جنت الفردوس اور دوسری جنت دارالنعیم ہے۔ اب جو پانچ جنتیں ہیں وہ یوم ِ ازل والی روحوں کیلئےہے۔جو بعد میں روحیں آئیں ان میں جنت، دنیادار اور معلق والی روحیں تھی۔یوم ازل والی روحوں میں زیادہ تر روحیں جہنمی ہیں۔

سابقون والی ارواح کواللہ نے انبیاء کے مختلف ادوار میں بانٹا:

اب اللہ تعالی نے نبیوں کے ادوّار کو بھی بانٹا ہےکہ اس نبی کے دور میں لوگوں کو فارغ کر دیں گے اوپر سے جو آئیں گے ۔اور تھوڑے سے سابقون سے دنیا میں بھیج دیتے ہیں اور کوئی بغیر باطنی تعلیم کے ہوا تو کہا کہ ان کو دنیا دار والی روحوں میں ڈال دو۔پھر جب ان کے ادوار میں وہ ڈال دی گئیں تو آپ نے دیکھا کہ قرآن میں بھرا ہوا ہےکہ قوم عاداور قومِ ثمود وغیرہ کے واقعات سےجنہوں نے نبیوں کی باتوں کو نہیں مانا۔اب نبی شکایت کرتے کہ ہمارے دور میں کوئی تو جنتی بھیج دیتے۔لیکن وہ پہلے سے منصوبہ بندی تھی۔ دوسرے نبیوں اور رسولوں کی موازنہ میں سابقون میں کثرت سےجو روحیں آئیں وہ حضورﷺ کے دور میں آئیں۔ اسی لئے جو ذات والا علم تھا یعنی شخصیت سے عشق اور محبت والا علم وہ حضوؐرسے سے پہلے آیا نہیں اورذات والا علم حضور ﷺ سے شروع ہوا جو ذات والا علم تھا وہ سابقون والی روحوں کیلئے آیا کیونکہ یہ پہلے ہی قرب میں ہیں اُن سے کیوں نمازیں پڑھارہے ہو۔ اِن کو دنیا میں ہمارا ساتھ دینے کیلئے بھیجایعنی اندھیرے میں بلب بھیجا جو روشنی پیدا کرے اور اس کا کوئی مطلب نہیں تھا۔جو اللہ نے سابقون سے دنیا میں روحیں بھیجی اُن کے نخرے بھی تھے اور ان کا طرز زندگی بھی مختلف تھا۔ یعنی سابقون والی روحیں اللہ کی رحمت بن کر زمین پر آئیں۔ اس سے پہلے کوئی اِکادُکا یعنی موسٰیؑ کے دور میں گوشت کاٹ کر جس نے دے دیا تھا وہ اُدھر سے ہی آیا تھا۔ موسٰیؑ کی تعلیم تو عاشق نہیں بناتی تھی۔ زیادہ تر جو سابقون سے آئے وہ حضور پاک ﷺکے دور میں آئے۔

امام مہدی سابقون والی روحوں کیلئے تشریف لائے ہیں :

جب امام مہدی کا دور آیا تو سابقون کا سارا کھاتہ خالی ہوگیا سارے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں۔کوئی قرب والا ہے کوئی محبت والا ہے اور کوئی جلوے والا ہے۔ اب یہ امام مہدی کے دور میں اس لئے آئے کیونکہ اِس سے پہلے تو ان کے آنے کا فائدہ ہی نہیں تھا۔ ان کو قرب ، محبت اور جلوے کی تعلیم کون دیتا اور پھر بیزار ہو کر واپس چلے جاتے۔ پہلے اِکا دکا ہی آیا جیسے بلھے شاہ نے کہا کہ کن تے کل دی گل اے اساں کب سے پریت لگائی ہو۔جو قرب والے ہیں ان کو قرب کے نور سے بنایا۔ محبت والوں کو محبت کے نور سے بنایا ۔جلوے والوں کو جلوے کی جلال سے بنایا۔یہ روحیں چمکدار ہیں کیونکہ اللہ ہی کے نور سے بنی ہیں۔ یہ وہ مقام تھا جہاں بابا گرو نانک کو غلط فہمی ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ اول اللہ نور اُپایا قدرت کے سب بندے ۔ وہ قدرت کے سابقون والے سب بندے تھے۔وہ گرونانک جی نے سابقون والوں کیلئے کہا تھا نیچے والوں کیلئے نہیں کہا تھا کہ کون بھلے کون مندے۔نیچے تو مندے بھلے دونوں ہیں لیکن تمہاری سمجھ میں تویہ نہیں آیا جب انہوں نے کہا
اول اللہ نور اپایا قدرت کے سب بندے
اک نور تے سب جگ اُچیا کون بھلے کومندے

یہ سابقون کے بارے میں بات ہورہی ہے جہاں قرب ، محبت اور جلوے والے تھے۔ اُن میں کوئی بھلے اور مندے نہیں تھے وہاں سب بھلے ہی بھلے تھے۔ وہ جو بعد میں روحیں بنائی جس میں جنت،دنیادار اور معلق تھے اس میں جہنمی اور جنتی بھی تھے اس کے اوپر تو یہ کہہ نہیں سکتے۔تو بابا گرونانک کی روح بھی سابقون سے آئی تھے۔جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر تھے ان کو جنت، دنیا دار اور معلق والی روحوں کیلئے بھیجا گیا اور پھر اس میں اکادکا سابقون سے بھیجا۔جو سابقون سے اکا دکا ہی آیا اور پورا جتھے کا جتھا قرب، محبت والا بیٹھا ہوا تھا وہ سابقون کیلئے امام مہدی نیچے آئے ہیں۔ اب جنت،دنیادار اور معلق والی روحوں میں نور ڈالنا ہے تو چمکیں گی لیکن سابقون والی پہلے ہی چمک رہی ہیں۔ نیچے والی روحیں رب کے امر سے بنیں اور اوپر والی روحیں رب کا عکس تھیں۔ نیچے والی روحوں کو امر کن کہا تو بن گئیں بس کہنے کی دیر تھی۔ اب جیسے ایک روٹی ہے اس کے جتنے مرضی ٹکڑے کرتے جاؤ اسی طرح جب اللہ نے پھونک ماری اور اس سانس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوگئے اور وہ روح کی شکل اختیار کر گئے۔

روحِ انسانی کو جسم کی ضرورت کیوں پڑی؟

اب جو سابقون والی روح ہے یہ ایک دھو ئیں کی مانند ہے لیکن اس میں چمک ہے اور جو امرکن والی روحیں ہیں یہ بھی ایک دھوئیں کی مانند ہے ۔سابقون والی روح چمکتا ہوا چاندی جیسا دھواں ہے اور امرکن والی روح مدھم جیسے سگریٹ کا دھواں ہوتا ہے ۔عالمِ ارواح میں روحیں صرف دھواں ہی دھواں تھی۔ یہی انسان کی حقیقت ہے ۔ سابقون اور امر کن والی روحوں کی کوئی شکل و صورت، ہاتھ پاؤں اور ہئیت نہیں ہے کیونکہ یہ نہ تو کوئی کلام کر سکتی ، نہ ہی بول سکتی ہیں اور نہ یہ دیکھ سکتی ہیں بلکہ یہ صرف ایک دھوئیں کی صورت میں وجود ہے۔اب جو انسانی روح ہے یہ دھواں ہے۔اگر یہ روح جہنمی ہے تو اس کے اندر سرخی مائل جیسی آگ کا شرارا دہک رہا ہوگا۔اُس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ازلی اور فطری جہنمی ہے۔ اور اگر یہ لالی نہیں ہو گی ایسے ہی مدھم دھواں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یا تو معلق والا ہے یا پھر جنت والا ہے۔اس کی شکل صورت نہیں تھی اور اب اس کو دنیا میں بھی بھیجنا ہے ۔ اب دنیا میں جا کر اس کو اعمال ، بات چیت اور اللہ سے رابطہ کرنے کیلئے اللہ نے ملائکہ کے جو عالم ہیں وہاں سے ایک ایک ملّک کو لیا ۔جیسے لطیفہ قلب ، خفی ،سرّی،اخفٰی اور انّا جو کہ ملّک ہیں اور ایک جو خود روح ہے۔ان ملّک کو اس روح کے اندر لگایا ۔ یہ ملّک تمہاری حقیقت نہیں ہیں بلکہ یہ تمہاری مدد کیلئے آئے ہیں تاکہ تم اپنی قدر بڑھاسکو۔مثال کے طور پر اب ایک دو کمرے کا گھر ہے اور اس میں معمولی فرنیچر ہے اُس کی قیمت فرض کیا ایک لاکھ ہے ۔دوسرا گھر ویسا ہی دو کمرے کا ہےلیکن اس میں جو فرش ہیں وہ ماربل کے ہیں ،ایئر کنڈیشنر ہے اور اعلٰی قسم کا اطالوی فرنیچر ہے اور اس کی قیمت پہلے گھر سے زیادہ ہوگی ۔تو یہ ملّک یعنی لطیفے تمہارے لیے مددگار بنائے گئے تاکہ نیچے جا کر یہ دیکھ، بول اور سمجھ سکے کیونکہ ابھی تو اس روح یعنی دھوئیں کو کچھ سمجھ نہیں ہے۔ اب آزمانے کیلئے اس کے اندر نفس رکھا تو اس طرح تمہارے اندر سات لطیفے ہو گئے ۔اب سات ہیں تو کسی چیز کے اندر رکھنا پڑیں گے ۔ ایک چیز ہو تو آدمی ہاتھ میں اُٹھا لے اور اگر سات ہوں تو کوئی صندوق چاہیے۔اُ س کیلئےپھر اللہ نے جسم کو بنایا۔ انسان کے دماغ میں لطیفہ انا رکھا ۔ ملائکہ میں سےلطیفہ قلب ہے جو نور کو سمجھتا ہے اور اللہ کی آوازیں پہلے بھی سنتا رہا ہے تو یہ اسلیئے رکھا تاکہ تو اس کو منور کر کے اللہ اور اُس کے دین کو سمجھ سکے۔ اسی لیے فقہہ قلب کو دی گئی کیونکہ یہ وہیں رہا ہے اور نور کو پہچاننے میں ماہر ہے۔پہلے یہ جو لطیفے تھے یہ قرب،محبت اور جلوہ والی روحوں کے نوکر تھے ۔ان لطیفوں کو روح سے بہت پہلے بنایا تھااور روح تو ابھی بنی ہے۔ یہ سارے لطیفوں کو جسم میں رکھ دیا۔لطیفہ اخفٰی کو طاقت دی گئی کہ یہ زبان کو بلوائےاور لطیفہ نفس تمہیں گمراہ کرنے کیلئے رکھا۔
اب تمہاری عبادات ،مقام اور مرتبے بڑھانے کیلئے اور اپنی مخلوق کو فیض پہنچانے کیلئے اللہ نے ایک نظام یہ بھی رکھا کہ ان لطیفوں کی اولادیں نکلی۔ قلب کے تین جثّے نکلے جیسے قلبِ سلیم، قلبِ منیب اور قلبِ شہید۔ پھر لطیفہ نفس سے چار جثّےنکلے۔روح کا کوئی جثّہ نہیں ہے تو وہ جو جسم کو بنانے کیلئے ارضی ارواح ہیں ان میں سے دو ارضی ارواح کو روح کا جثّہ کہہ دیا ایک حیوانی اور ایک نباتی۔ کیونکہ جمادی کو چھیڑیں گے تو پوری ساخت گر جائے گی اس لیے حیوانی اور نباتی کو چھیڑتے ہیں۔ تو یہ لطیفے آئے اور ان لطائف سے جثّے نکلےتو یہ انسان ہو گیا۔ روح کی اپنی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ جب اللہ تعالی نے فرمایا خلقت الادم علیٰ صورتی ہ آدم کو میں نے اپنی صورت پر بنایا۔ اب مزے کی بات یہ ہے کہ روح کی کوئی صورت نہیں ہوتی تو جب اس کا جسم بنا دیا اور روح اس میں ڈال دی تو وہ رب کی صورت ہے۔روح کی اپنی کوئی صورت نہیں ہے۔

عالمِ غیب میں روح کی ہئیت اور جسم کا تصورکیا ہے ؟

جو عالمِ غیب سے آتے ہیں وہاں روح اور جسم کا تصور نہیں ہے۔اب جیسے گلاس ہے اس کا کوئی باطن نہیں ہے بس جو کچھ یہ گلاس نظر آرہا ہے یہی ہے بس ۔ اب کیا اسے ظاہر کہیں گے ،نہیں اس کو ظاہر نہیں کہیں گے ۔ظاہر اُس چیز کو کہیں گے جس کا باطن بھی ہوتا ہے۔ جو گلاس دکھتا ہے وہ ہی اس کی حقیقت ہے۔ اسی طرح عالمِ غیب میں روحیں نہیں ہیں اور جسموں کا تصور نہیں ہے۔ یہاں روز ازل اور سابقون میں جو اللہ نے روح بنائی ہےوہ نہ تو بول سکتی ، نہ دیکھ سکتی ہے اور نہ سُن سکتی ہے۔ وہ توانائی کا ایک شکل ہے۔ لیکن جو عالمِ غیب میں ہے وہ پورا ایک وجود ہے اور وہی اس کی روح اور جسم ہے،وہ ایک ہی وجود ہے۔ اُسی وجود میں آنکھیں ،کان ، ناک ،ہاتھ اور پاؤں ہیں۔اُس وجود کی جو آنکھ ہے تو وہ آنکھ ہی ہے۔جو انسانوں کی آنکھیں ہیں وہ یہ ہے کہ جیسے ہم نے پاکستان سے چاول منگوائے اور اس کے اوپر کسی کمپنی کا نشان لگا کر بیچ دیا اور کہا کہ یہ ہمارا برانڈ ہے لیکن وہ ہم نے تو نہیں اگائے ۔ہماری کمپنی کے چاول تو سیالکوٹ سے آئے تھے۔ اسی طرح جو انسان کی آنکھیں ہیں ان آنکھوں کے پاس دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔ان آنکھوں کے پاس ایک جگہ سے صلاحیت آرہی ہے وہ جگہ ہے لطیفہ سرّی۔ اسی طرح یہ زبان ہے اور اس زبان میں بولنے کی صلاحیت نہیں ہے اِس کو بلوانے کیلئے لطیفہ اخفٰی ہے۔ جن کا اگر لطیفہ اخفٰی خراب ہوجائے تو طبی طور پر زبان اگر ٹھیک بھی ہو اور ڈاکٹر صداقت نامہ دے دیں کہ اس کی زبان میں کوئی خرابی نہیں ہے۔ اور پھر ڈاکٹر کہیں کہ اب یہ بول نہیں رہا یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ تو وہ زبان ٹھیک ہونے کے باوجود اس لیے نہیں بولتا کیونکہ اس کا لطیفہ اخفٰی بیمار ہے۔ یہ جو تصور ہے آنکھ،ناک ،کان تو ان کو بلوانے کیلئے علیحدہ علیحدہ لطائف ہیں۔اگر لطیفہ اخفٰی اللہ تعالی انگلیوں سے جوڑ دیتا تو آپ کی انگلیاں کلام کرتی۔ اگر لطیفہ اخفٰی کا رُخ کان کی طرف کردیں تو کان بولے گا اور انگلیوں کی طرف کردیں تو انگلی کلام کرے گی۔علامہ اقبال نے کہا
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو۔۔۔۔۔سکوُتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
جب اس کی باطن میں کھوج کی تو پتہ چلا کہ یہ جو درخت ،زمین اور پہاڑ ہیں یہاں سے نجانے کس کس ہستی کا گزر ہوا۔اب یہ درخت اور پہاڑ جاندار توہیں کیونکہ درختوں میں نباتی روح ہے اور پہاڑوں میں جمادی روح ہے۔لیکن یہ بول اس لیے نہیں رہے کہ ان کے اندر لطیفہ اخفٰی نہیں ہے۔تو جو دلِ فطرت شناس والاولی ہوتا ہے وہ اپنے اخفٰی کا رُخ درختوں کی طرف کر دیتا ہے جس کے ذریعے وہ درخت بتاتے ہیں کہ یہاں سے گوھر شاہی کا گزرہوا۔دلِ فطرت شناس یعنی ایسا دل جو لطیفہ روح ،جمادی روح، نباتی روح ، حیوانی روح سے منسلک ہو چکا ہو تو وہ اپنا لطیفہ اخفٰی اُدھار دے دے گا پہاڑ کو اور پہاڑ سے پوچھے گا چلو بتاؤ کہ جب موسٰیؑ آئے تھے تو اللہ کی کتنی دفعہ ان سے بات ہوئی تھی۔ جب وہ مدینے جائے گا تو پھر وہ گلیوں سے پوچھے گا کہ بتاؤ میرے آقا کہاں کہاں سے گزرے تھے۔ غارِ حرا میں جائے گا تو خاموشی سے غارِ حرا کو نہیں چومے گا بلکہ اپنے لطیفہ اخفٰی کا رُخ غار کی طرف کرے گا کہ مجھے بتاؤ حضوؐر کیسے تھے اور کیا کرتے تھے۔ یہ دلِ فطرت شناس ہے۔

جو عالم غیب سے آتے ہیں انہیں لطائف کی حاجت نہیں :

جو عالمِ غیب سے آتے ہیں ان کی روح اور جسم نہیں ہے۔اُن کا وجود ہی ان کی حقیقت ہے۔ اُن کے وجود میں ہی آنکھیں،کان اور ناک ہے۔ اُن آنکھوں کو کسی لطیفے کی ضرورت نہیں ہےاُن کے اپنے اندر دیکھنے کی صلاحیت ہے۔ اب انسان کو موت اس لیے آتی ہے کیونکہ روحوں اور جسم کواکھٹا ملایا ہے ۔روح کی الگ جنس اور جسم کی الگ جنس ہے تو بہت عرصہ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی لیے انسان کو ایک دن مرنا ہی ہے یعنی روحوں اور جسم نے الگ ہی ہونا ہے۔

جو عالمِ غیب سے آیا ہے وہ تو ایک ہی وجود ہے اُس نے الگ ہونا ہی نہیں ہے جو موت آئے۔سرکار گوھر شاہی لافانی ہےوہ زندگی عطا کرنے والا ہے۔ اُس کا موت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ موت اُس کو ہے جس کے اندر روح اور جسم کا مجموعہ بن جائے

روح کی جنس کچھ اور ہے اور روح کی خاصیت اور ہے۔جسم کی جنس بھی کچھ اور ہے اور جسم کی خاصیت بھی کچھ اور ہے۔ ایک مخصوس مدت تک روح اور جسم ساتھ رہے ہیں ۔روح بوڑھی نہیں ہوئی اور جسم بوڑھا ہو گیا کیونکہ جنس مختلف تھی۔ ایک دن جسم اور روح کو جدا ہونا ہے موت آنی ہے۔ لیکن جو عالمِ غیب سے آئے ہیں ان کا وجود ہی وجود ہے وہ تو جسم اور روح کا مرکب نہیں۔ لہٰذا جب عالمِ غیب میں جدائی کیلئے دو چیزیں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی وجود ہے اور نہ ظاہر ہے نہ باطن ہے،نہ روح ہے نہ جسم ہے وہ ہئیت ہی وجود ہے۔ تو جب ان میں حصوں میں وجود نہیں ہے ایک ثابت وجود ہے جس نے کبھی جڑنا اور علیحدہ نہیں ہونا تو موت کا سوال ہی نہیں ہوتا۔

امام مہدی سیدنا گوھر شاہی کے جسم اطہر میں تمام انبیاء کی اعلی چیزوں کا یکجا ہونا:

توجب سیدنا گوھر شاہی عالمِ غیب سے آئے ہیں ۔اب یہ جسم تو روحوں کیلئے بنائے گئے تھے اور ان روحوں کی آنکھ،زبان اور کان نہیں تھے تو ان کو بلوانے کیلئے لطیفے دئیے گئے ۔ان کو چلنے پھرنے کیلئے لطیفے دئیے گئے کیونکہ روحیں خود بولنے اور چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی لیکن وہ جو ذات عالمِ غیب سے آئی اُس کا تو وجود تھا اس لیے اسے جسم ،قلب اور کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی ۔اُس ذات کا تعلق نہ کسی نفس سے رہا ،نہ کسی جسم سے رہا وہ تو بلکل الگ تھی۔پھر وہ ایک الگ وجود رکھا گیا کہ حضور پاکﷺ کی ارضی ارواح سے جو حضورﷺ کا جسم بنا تو کہا کہ ویسا جسم بنائیں گے۔ اور جو امام مہدی کی ذات ہے اُن کا عکس اس کے اندر رکھا گیا۔ اُس عکس کیلئے وہ ارضی اروح محمؐدسے جسم بنایا گیا ۔ان کو اپنے جسم کی ضرورت نہیں تھی تو پھر ان کی اپنی ارضی ارواح کیسے ہوتیں۔ اسی لیے حضور پاکﷺ کی ارضی ارواح کو استعمال کیا گیا۔ وہ تو انسان ہی نہیں ہیں تو ان کا قلب کیسے ہوتا ہےلہٰذا آدم صفی اللہ پہلے خلیفہ کا قلب آخری خلیفہ کو دیا گیا۔امام مہدی کے وجود میں آدم صفی اللہ کا لطیفہ قلب آیا تو لطیفہ قلب کی ساری تعلیم بھی امام مہدی کے وجود میں آگئی۔لہٰذا جس طرح آپ نے ذکرِ قلب کو پھیلایا کسی نے پھیلایا ہی نہیں۔ اس طریقے سے جو حضور پاک ﷺکالطیفہ اخفٰی تھا وہ امام مہدی کے پاس اور حضور ﷺ کا لطیفہ اناّ بھی امام مہدی کے پاس تو اتنی چیزیں جو اکٹھی کر ے اللہ نے لگائی ہیں اور قرآن مجید میں کہا:

وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ
سورة يس آیت نمبر 12
سب کی اعلٰی اعلٰی چیزیں لے کراللہ تعالی نے امام مہدی میں رکھ دیں۔

امام مہدی کو سب سے افضل واعلٰی شخصیت بنا کے دنیا میں بھیجایہی وجہ ہے کہ امام مہدی سیدنا گوھر شاہی کے اپنے جثّےنہیں ہیں کیونکہ آپ عالم غیب سے تشریف لائے ہیں اور وہاں وجود ہی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں لطائف کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

کوٹری شریف میں جس وجود سے لوگوں نے ملاقات کی وہ کونسا وجود ہے ؟

9 محرم الحرام کو سیدنا گوھر شاہی تشریف فرما ہیں اور پھر آپ کے وجود اطہر پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے اور پھر سریانی زبان میں کچھ فرماتے ہیں ، اگر ذات ریاض جو عالم غیب سے تشریف لائی ہے اگر وہ اُس وجود مبارک میں ہوتی تو اُس سے بڑی کوئی اور چیز نہیں ہے تو کپکپی طاری نہ ہوتی ۔اس واقعے کے بعد سیدنا گوھر شاہی نے ارشاد فرمایا کہ ہماری ذات کہ کچھ جلوئے ہیں جن کو ہم متعارف کرانا چاہتے ہیں ، اُن جلوؤں کے نہ تو ماں باپ ہیں اور نہ ہی بچے ہیں اور نہ ہی وہ تم ذاکرین کو جانتے ہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس وجود سے لوگ کوٹری میں ملتے رہے ہیں وہ سیدنا گوھر شاہی کی ذات اعلیٰ آپ کے وجود میں کاملااً تشریف فرما نہیں ہوئی ۔ ابتدائی طور پر 9 محرم الحرام کو جو واقعہ ہوا ہے اُس میں سیدنا گوھر شاہی کی ذات والا کے خاص جلوئے آئے ہیں ذات پھر بھی نہیں آئی ہے ۔سرکار سیدنا گوھر شاہی کی صورت مبارکہ پر مبنی کئی وجود ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی ہر تصویر ایک دوسرے سے ذرا مختلف ہے ، مماثلت نہیں ہے کیونکہ کوئی تصویر کسی جلوے کی ہے اور کوئی تصویر کسی اور جلوے کی ہے ۔

سیدنا گوھر شاہی کے جُثّوں کی حقیقت :

ایک لفظ استعمال ہوا ہے “جسم ” اور ایک لفظ استعمال ہوا ہے “جَسد” اور ایک لفظ استعمال ہوا ہے “جُثّہ” ۔اگر روح اور لطائف موجود ہوں تو وہ جسم کہلائے گااور اگر خالی ہو تو جَسد کہلائے گااور جُثّہ روح اور جسم کے بیچ کی ایک چیز ہے ، نہ تو مکمل روح ہے اور نہ ہی مکمل جسم ہے ۔اسی لئے جو جُثّے ہوتے ہیں اُن میں ہڈی نہیں ہوتی ہے کیونکہ اُن میں خون کے بجائے نور ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اُردوادب میں یہ جسم پتلا ہے ، یہ جسم بہت پتلا ہے اور یہ جسم بہت موٹا ہے ۔یہ جسموں کا موٹا اور پتلا ہونا اس کو بھی اُردو ادب میں جُثّہ کہا جاتا ہے ۔جُثّے دو طرح کے ہیں ایک مکمل نوری جنکی فطرت بھی نور ہے اور وہ قلب سے نکلتے ہیں اور چار جُثّے نفس سے نکلتے ہیں اور انکی فطرت نار ہے ۔ان دونوں جُثّوں میں فرق ہوتا ہے جو لطیفہ قلب کا جُثّہ ہوتا ہے وہ آپ کے وجود کی صورت پر نکلے گااور بہت حسین و خوبصورت ہوگااور جو لطیفہ نفس کا جُثّہ ہو گا اُس کی پہچان یہ ہو گی کہ اُسکی آنکھیں بیضوی کے بجائے گول ہوں گی ۔
لیکن سیدنا گوھر شاہی کے جن وجود ہائے مبارکہ کا اظہار ہوا ہے کوئی اُن کو پہچان نہیں سکتا کہ یہ جُثّے ہیں یا وجود ہے کیونکہ اس میں ہڈی بھی ہے اور اُٹھنا ، کھانا پینا سب کچھ وجود کی طرح ہی ہے اور یہ معاملہ صرف سیدنا گوھر شاہی کے ساتھ ہے ۔اگر ایک ہزار بھی جُثّے ہوں تو ہر جُثّہ جسم کے جیسی ہی خاصیت رکھتا ہے ، جو اصل جُثّہ ہوتا ہے وہ تو آپ کے ہاتھ ہیں نہیں آئے گاجب قریب جائیں گے تو غائب ہو جائے گالیکن سیدنا گوھر شاہی کے جو جُثّہ ہائے مبارک ہیں انہوں نے کوٹری میں بیٹھ کر ڈیوٹی دی ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 4 جنوری 2019 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں