کیٹیگری: مضامین

یزید کا قلب آل محمدؐ کی تعظیم سے کیوں عاری تھا؟

آج دس محرم الحرام اسلامی تاریخ کا سیاہ دن ہے اور یہ سیاہی پورے اسلام پر پھیلی رہی ہے گزشتہ چودہ سو سالوں سے یہی ہوتا آ رہا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ جو کچھ یہ ہو رہا ہے اُس کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔کیا وجہ ہے کہ چارخلفائے راشدین میں سے تین خلیفہ ایسے گزرے ہیں جن کو مسلمانوں نے ہی شہید کیا اور حضورؐ کے وصال کے بعد بمشکل پچاس سال کے اندر اندر واقعہ کربلا رونما ہو گیا ۔ عمر بن خطاب کو مسلمانوں نے ہی مارا ، عثمان غنی کو قتل کرنے والے مسلمان تھے اور مولا علی کو شہید کرنے والے بھی مسلمان ہی تھے ۔اس کے بعد کربلا میں نبی پاکؐ پورے گھرانے کو شہید کر دیا گیا ۔72 افراد پر مشتمل یہ قافلہ تھا جن میں صرف ایک مرد امام زین العابدین بچا تھا کیونکہ وہ سخت بیمار تھے ، باقی سب کو شہید کر دیا گیا ۔ چھوٹے چھوٹے بچے نیزوں پر اُچھالے گئے ، بی بی زینب کے بچوں اُون اور محمد کو بھی نیزوں پر اُچھالا گیا ۔امام حسن کے بیٹے قاسم جو کہ بہت خوبصورت نوجوان تھے اُن کو بھی شہید کر دیا گیا ۔امام حسین کے فرزند علی اصغر جن کی عمر چھ ماہ تھی آپ نے اُن کو کہا کہ یہ پیاس سے بلک رہا ہے اس کو تھوڑا سا پانی دے دو ، پانی پی کر یہ چھ ماہ کا بچہ تمھارا مقابلے میں تو نہیں آ جائے گا۔ اُس کے جواب میں انہوں نے وہاں سے زہر آلود ایک تیر چلایا جو کہ علی اصغر کے حلق میں اُتر گیا اور پانی کی جگہ وہ ننھا منا سا شہزادہ خون میں لت پت ہو گیا ۔ مسلمانوں کوان قاتلوں کو پُکارنے کے لئے ایک نام مل گیا ” یزید “جس کو ظلم کے حوالے سے پکارتے ہیں ۔آج میں آپ کی سوچ تبدیل کرنا چاہتا ہوں ۔ یزید تو اُس کا نام تھا لیکن وہ مسلمان ہو کر بھی آل محمد ؐ کی تعظیم سے اُس کا قلب عاری کیوں تھا ؟ مسلمان ہونے کے باوجود بھی اس نے نبی کریم ؐ کے خاندان کی کوئی عزت و تکریم نہیں کی بلکہ اُن کو موت کے گھاٹ اُتار دیا ، اس کی کیا وجہ تھی ؟ مزید برآں یزید اکیلا تو نہیں تھا مسلمانوں کا پورا لشکر تھا ۔ یہ کیسے مسلمان تھے ، ان مسلمانوں کے اسلام میں کیسی کمی تھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ۔جب کلمہ بھی اُسی نبی کا پڑھتے تھےاور یہ بھی پتہ تھا کہ سامنے جو ہمارے شخصیت کھڑی ہے جس کا نام امام حسین ہے وہ اُس کا بیٹا ہے جس کا نام مولا علی ہے ۔مولا علی وہ ہیں جن کے لئے حضورؐ نے فرمایا کہ ” جس کا میں مولا ہوں علی بھی اُس کے مولا ہیں “۔ یہ جانتے ہوئے بھی انہوں نےاِن ہستیوں کو شہید کر دیا تو پھر اُن کے اسلام میں کیا کمی تھی ۔ کلمہ بھی وہی ، اللہ بھی وہی، قرآن بھی وہی پھر بھی اُن کو شہید کر دیا ، یہ کیسا اسلام تھا ۔حضورنبی کریم ؐ نے فرمایا کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہوتےہیں ایک کو چوٹ لگے تو دوسرے کو تکلیف محسوس ہوتی ہے ۔ایک مومن ہونے کے ناطے انہیں مومن کا احساس تھا لیکن نبی کے نواسوں کا احساس نہیں تھا !!!

دل والے علم کی عدم موجودگی یزیدیت کا موجب بنی :

اہل تشیع حضرات سے میں یہاں مخاطب ہو ں کہ آپ یزید کو نہیں بلکہ اُس کے ساتھ یزیدیت کو بھی سمجھیں تاکہ کسی دور میں کوئی یزید نکل کر سامنے نہ آ جائے ، تاکہ کربلا کا واقعہ دوبارہ نہ دوہرایا جائے ۔ اُن کے اسلام میں کیا کمی تھی ؟ ہماری بات بہت تلخ ہے لیکن یہ بتانا ضروری ہے جو کمی اُن کے اسلام میں تھی وہ کمی آج آپ کے اسلام میں بھی ہے ۔ اُن کے اسلام میں یہ کمی تھی کہ وہ زبان سے نمازیں بھی پڑھتے تھے ، روزہ بھی رکھتے تھے ، حج کو بھی جاتے تھے لیکن اقرار باللسان (زبانی اقرار)کے درجے پر ہی تھے تصدیق باالقلب نہیں تھی ۔صرف یزید میں نہیں بلکہ پورے لشکر میں نہیں تھی ، اُن کےدل اللہ کے نور سے منور نہیں تھے ، ایمان اُن کے قلب میں داخل نہیں ہوا تھا ۔ جب یہی واقعہ حضورؐ کے دور میں ہوا تو اللہ نے سورة الحجرات میں صاف منع کر دیا

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَـٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ
سورة الحجرات آیت نمبر 14
ترجمہ : اعراب نے کہا ہم ایمان لے آئے ۔ اے محمد ! ان سے کہہ دیجیے یہ اسلام لائے ہیں مومن تب بنو گے جب ایمان تمھارے دلوں میں اُتر جائے گا۔

اور ابو ہریرہ نے واقعہ کربلا سے بھی پہلے دور میں جب یہ بات کہی کہ مجھے حضورؐ سے دو طرح کے علم ملے ، ایک تو تم کو بتا دیا دوسرا بتاؤں تو تم مجھے قتل کر دو گے ۔اُس دور میں یہ دل والا علم اتنا نایاب تھا کہ جس کی کمی کی وجہ سے بہت سے لوگ منافق ہو گئے تو اُس دور کے چالیس پچاس سال کے بعد اُس علم کی محرومی کی وجہ سے کوئی یزید بن گیا ، کوئی ابن زیاد بن گیا تو کوئی شمر لعین بن گیا ۔ آج چودہ سو سال کے بعد اُس ہی علم کی کمی کی وجہ سے اگرکوئی ملا عمر بن جائے، اُسامہ بن لادن بن جائے اور پھر ایک کروڑ پاکستان کے مولوی اس علم کی محرومی کے باعث امام مہدی سیدنا گوھر شاہی پر ہی کیچڑ اُچھالیں تو کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے ۔محرومی کی بات تو یہ ہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے اس دل والے علم کی محرومی نے واقعہ کربلا بپا کیا اور آج بھی اُسی ذات پر کہ جس پر گھاؤ امام حسین کے سینے پر رکھ کر لگایا گیا ۔ آج بھی محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے جڑی شخصیت سید نا گوھر شاہی پر گھاؤ لگایا جاتا ہے اور اس کی وجہ وہی دل والے علم کی محرومی ہے ۔ جس علم کی محرومی کے باعث وہ لوگ کلمہ پڑھنے کے باوجود امام عالی مقام کو شہید کرنے کے لئے آ گئے وہی اسلام کی کمی آپکے اندر بھی موجود ہے تو پھر آج آپ کے “یا حسین” کے نعرے لگانے سے کون سی حقیقت ثابت ہو گی جبکہ تمھارا سلام بھی اُسی طرح کم ہے جسطرح یزیدکے اسلام میں کمی تھی ۔
آج اسلام میں وہی کمی موجو د ہے جس کے باعث چودہ سو سال پہلے کا مسلمان امام حسین کا قاتل بن گیا اگر وہی کمی آج کے مسلمان میں ہو گی تو آپ اس سے کیا توقع کر سکتے ہیں !!! شاید یہی وجہ تھی کہ سیدناامام مہدی گوھر شاہی نے فرمایا کہ

” اِس دور کا ہر وہ مسلمان جس کے پاس دل والا علم نہیں ہے ، جس کے دل میں اللہ کا نور نہیں ہے ، جس کے دل میں اللہ کا ذکر نہیں گونجتا ، اُس مسلمان اور دجال میں کوئی فرق نہیں ہے “

دوستوں! صرف سینہ پیٹنے سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ شیطان کسی ایک شخص کو گمراہ کرے گا لیکن واقعہ کربلا میں یزید کے ساتھ پورا لشکر کا لشکر تھا ۔سارے مسلمان اکھٹے ہو کر آل محمدؐ کے پیچھے پڑ گئے تھے ۔ یہ شیطانی چال نہیں تھی شیطان کی یہ مجال نہیں ہو سکتی ہے کہ وہ محمد الرسول اللہ کے نواسوں کو ہاتھ لگائے یا میلی نگاہ سے دیکھے ۔ابلیس کو یہ جرات نہیں ہو سکتی تھی وہ تو حقیقت جانتا تھا اس نے تو قرآن مجید میں اللہ کی قسم کھا کر کہا تھا

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ لَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
سورة ص آیت نمبر 83
ترجمہ : اے اللہ تیری عزت کی قسم ! میں پوری انسانیت کو گمراہ کر دوں گا سوائے اُن کے جو تجھ سے مخلص ہیں اور تیرے ہو گئے۔

تو کیا امام حسین مخلص نہیں تھے ، اللہ والے نہیں تھے ۔ اگر یزید بھی اللہ کا بندہ ہوتا تو پھر کیا وہ ابلیس کے بہکاوے میں آ جاتا ۔ یہاں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یزید اور اس لشکر کی اللہ یا اُس کے رسول سے کوئی نسبت نہیں تھی لیکن وہ کلمہ تو اللہ کے رسول کا ہی پڑھتے تھے ، قرآن بھی وہی پڑھتے تھے لیکن وہ کلمہ اور قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترتا تھا ، اُن کے پاس دل کو روشن ومنور کرنے کا علم نہیں تھا ۔اگر دل کو منور کرنے والا علم نہ ہو تو یہ اسلام میں سب سے بڑی کمی رہ جاتی ہے اس کے بغیر مومن نہیں بن سکتا ۔ستم ضریفی تو یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے جوحضورؐ کا گھرانہ شہید ہوا اُس کی وجوہات کو پس ِپردہ ڈال کر صرف اپنا سینہ پیٹنا اور یا علی و یا حسین کے نعرے لگانے پر اکتفا کر لیا گیا ہے ۔اب جو محمدؐ کا لخت جگر آئے ، اب جو مولا علی کا آقا آئے جس کہ لئے یہ کہا جائے کہ مہدی مجھ سے ہیں ۔ اگر آج کے دور میں بھی وہی مسلمان ہوا جو کلمہ پڑھتا تھا محمد الرسول اللہ کا اور تلوار چلاتا تھا امام حسین کی گردن پر ،تو اُس دور کے لئے اسلام نے کیا تیاری کی ہے ، اہل اسلام نے اُس دور کا کیا تخمینہ لگایا ہے ۔اگر آج کے اسلام میں بھی وہی کمی رہ گئی تو پھر امام مہدی کے ساتھ یا سلوک کیا جائے گا۔کیا صرف اسی طرح سینہ پیٹتے رہو گے یا کبھی یہ جاننے کی کوشش کرو گے کہ وہ مسلمان جو تلوار لے کر امام حسین کی گردن پر چلا رہے تھے تو اُن کےاسلام میں کمی کیا تھی ۔کیا وجہ تھی کہ وہی کلمہ اور قرآن پڑھ کر بھی محمد الرسول اللہ کے نواسوں کو قتل کر دیا ۔اسلام وہی تھی لیکن اقرار باللسان تک محدود تھا مگر تصدیق باالقلب تک نہیں گئے تھے ۔ اگر قلب میں نور آ جاتا تو حسین بھی اللہ کا نور تھے، قلب کا نور حسین کے نور کو پہچان کر جھک جاتا ۔یزید کا سر اس لئے نہیں جھکا کہ حسین سراپا نور تھے اور اُن کے دلوں میں شیطان تھا ۔

واقعہ کربلا کے کیا عوامل تھے اہل اسلام ا س پر غور نہیں کرتے :

جب کوئی حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے یا جب کوئی ٹیم ہارتی ہے تو ہارنے کے بعد وہ جائزہ لیتی ہے کہ کہاں کمی رہ گئی تھی ، ہم سےکہاں غلطی ہوئی تھی لیکن واقعہ کربلا کے پیچھے کیا عوامل کار فرما تھے اس کی کیا وجوہات تھی اس پر کوئی غور نہیں کرتا ہے ۔امام حسین کا غم منانا فطری عمل ہے جس کو اللہ کے رسول سے محبت ہو گی اس کو اللہ کے رسول کی آل کا بھی غم ہو گااور اس بات پر تو کوئی دو رائے نہیں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ واقعہ کربلا رونما کیوں ہوا ؟ جن لوگوں نے محمد الرسول اللہ کے گھرانے کو انتہائی بے دردی اور سفاکی کے ساتھ شہید کیا وہ کلمہ گو مسلمان تھے اور اُسی دور کے مسلمان تھے جو تبع تابعین کہلاتے ہیں ، اُس کے باوجود بھی ایسی کونسی کمی رہ گئی تھی کہ جس کی وجہ سے مسلمان ہو کر بھی جس کا کلمہ پڑھتے ہیں ، نماز میں جس آل پر دورود سلام بھیجتے ہیں اور اس کےساتھ ساتھ اُس آل کو قتل بھی کریں۔ اُن کے اسلام میں کیا کمی رہ گئی تھی کہ نماز پڑھیں تو محمؐداور آل ِمحمؐد پر دورود بھیجیں اور پھر نماز کے بعد آل محمؐد کو قتل کر دیں ۔ وہ کمی یہ تھی کہ اُن کا امتِ مصطفی سے تعلق نہیں تھا ، وہ زبان سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے تھے مومن نہیں بنے تھے ۔کیوں یہ لوگ اُمت مصطفیؐ کا حصہ نہیں تھے ؟ چودہ سو سال پہلے بھی اسلام کا صحیح معنی لوگوں کے اذہان میں نہیں تھا تبھی وہ دل والے علم کی طرف مائل نہیں ہوئے، مومن اوراُمتی کیسے بنتا ہے یہ چودہ سو سال پہلے بھی راز ہی تھا ، اگر یہ دل والاعلم خاص ہونے کے بجائے عام ہوتا تو واقعہ کربلا رونما نہیں ہوتا۔جن کے دلوں میں شیطان بیٹھا ہے اور زبانوں میں کلمہ ہے اگر اُن کو پتہ چل جاتا کہ مومن ایسے بنتا ہے تو یا وہ مومن بن جاتے یا پھر کافر ہی رہتے ، منافق نہ بنتے ۔

دینِ اسلام میں پوراداخل ہونے سے کیا مراد ہے ؟

آج کے مسلمان کو یہ سوچنا ہے کہ جو کمی واقعہ کربلا میں ملوث یزید کے لشکر میں رہ گئی تھی جس کی وجہ سے وہ اہل بیت کے قاتل بن گئے تھے، کہیں اسلام کی وہ کمی ہمارے اندر تو نہیں ہے اور یقیناً جس دور میں قرآن حکیم نازل ہوا تھا اُس دور کے لوگوں میں کوئی نہ کوئی اسلام کی کمی رہ گئی تھی تبھی تو قرآن ِ مجید میں حکم آیا تھا

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً
سورة البقرة آیت نمبر 208
ترجمہ:اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ۔

اگر وہ اسلام میں پورے پورے داخل ہوتے تو پھر اس آیت کی کیا ضرورت تھی ۔ اس کا مطلب ہے اُس دور میں جس کے ساتھ حضورؐ کی نظر کرم شامل حال رہی اُس کا اندر اور باہر منور ، صادق ،مومن اور مخلص ہو گیا ۔اُس دور کے مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے کہ جو پورے پورے اسلام میں داخل نہیں تھے ، اُن میں اسلام کی کوئی کمی رہ گئی تھی اور یہ اسلام کی کمی کہاں رہ گئی تھی !! امیر معاویہ اگر وہ اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو گئے ہوتے تو کیا مولا علی کے خلاف تلوار لے کر کھڑے ہو جاتے؟ کیا بی بی عائشہ اسلام میں پوری کی پوری داخل ہو گئیں تھیں ، اگر وہ پوری کی پوری اسلام میں داخل ہو گئیں تھی تو شب ِ معراج میں اللہ کے رسول کو جسمانی طور پر اللہ کا دیدار ہوا اس حقیقت کہ نہ جھٹلاتیں ۔اگر وہ پوری کی پوری اسلام میں داخل ہو گئیں ہوتیں تو اُس ہستی کے لئے تلوار کیوں اُٹھاتیں جس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُیہی حدیث ایک اور جگہ دوسری طرح سے بیان ہوئی ہے مگر الفاظ مختلف ہیں کہ ” اے مومنو! سن لو جو مجھے مولا سمجھتا ہے تو اس کا مولا علی بھی ہے اور پھر دعا میں ہاتھ اُٹھا کر فرمایا کہ اے اللہ ! جو علی کو دوست رکھے تو اُس کو دوست رکھ اور جو علی سے بغض رکھے تو اُس سے بغض رکھ”۔ نبی کی تو ہر دعا قبول ہوتی ہے تو کیا یہ دعا قبول نہیں ہوئی ہو گی ۔ اور اسلام میں حکم بھی یہی ہے کہ حب فی اللہ بغض فی اللہ ۔۔۔ کہ اللہ کے لئے ہی کسی سے محبت رکھو اور اللہ ہی کے لئے کسی سے بغض رکھ۔جب اُن لوگوں کا دین مکمل نہیں تھا ، اُن میں اسلام پورا داخل نہیں ہوا تھا اور کمی رہ گئی تھی تو اس لئے اُن کو اُمت میں شامل نہیں کیا گیا ۔ جو بھی کلمہ پڑھ لیتے تھے وہ مسلمان کہلاتے تھے لیکن قابل اعتبار جب ہو گا جب اُس کا دل کلمہ پڑھے گا۔لیکن جب اس کا دل کلمہ پڑھے گا تو نظر کس کو آئے گالہذا ہر کلمہ گو کو لوگ اعتبار کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ چودہ سو سال پہلے بھی یہی حال تھا اور آج بھی جو صرف زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں لوگ اُن کو اعتبار کی نظر سے دیکھتے ہیں ، اُن کو حضورؐ کی اُمت کا حصّہ سمجھتے ہیں ۔ آج کے مسلمان کو غور یہ کرنا ہے کہ کیا وہ اسلام میں پورے کا پورا داخل ہے ؟ اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے سے کیا مراد ہے ؟ لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ اسلام کے پانچ اراکین کی ادائیگی جیسے کلمہ ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوةٰ ادا کرنے سے وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہو گئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ اراکین تو وہ لوگ بھی ادا کرتے تھے جنھوں نے اہل بیت کو شہید کر دیا ۔ایسے لوگ بھی گزرے ہیں جنھوں نے ساری سنتوں پر عمل کر لیا پھر بھی شمر لعین ہیں ۔تو پھر پورا کا پورا اسلام میں داخل ہونا کیا ہے ؟ مسلمانیت کیا ہے؟ اگر کسی مولوی سے پوچھیں تو وہ یہی کہے گا ظاہری شریعت کی پاسداری ہی پورا کا پورا دین میں داخل ہونا ہے لیکن قرآن کا جواب کچھ اور ہے

أَفَمَن شَرَحَ اللَّـهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِ
سورة الزمرآیت نمبر 22
ترجمہ : جس نے اپنے سینے کو اسلا م کے لئے منور کر لیا تو پھر اس کا رب اُسے نور عطا کر دے گا۔

اسلام پر عمل پیرااور اُس کے حصول کے لئے جس نے شرح صدر کر لی تو پھر وہ اپنے رب کے نور کو حاصل کر لے گا۔”شرح” کا مطلب کھولنا ہے اور “صدر” کا مطلب سینہ ہے ۔ اب جو لوگ یہی کہتے ہیں کہ باطنی تعلیم کا کوئی وجود نہیں ہے تو پھر وہ آیت کو پڑھ کر چاقو لیں اور اپنا سینہ کھول لیں ۔ یہاں اس آیت میں شرح صدر سے مراد ظاہری سینہ کھولنا نہیں ہےبلکہ سینے کے اندر جو چیزیں موجود ہیں اُن کو کھولنا ہے ۔یہ بات مولا علی نے بھی فرمائی کہ ” اے انسان ! تو اپنے آپکو بہت چھوٹا سمجھتا ہے حالانکہ دونوں جہاں تیرے اندر بند ہیں تیری دوائی اور بیمارری دونوں تیرے اندر ہے لیکن تجھے خبر نہیں ہے “۔ اس سینے میں اللہ نے پانچ لطائف کو رکھا ہے لطیفہ قلب، لطیفہ سری، لطیفہ اخفیٰ، لطیفہ خفی ، لطیفہ روح، اِن کو اللہ کے ذکر اور نور سے بیدار کرنا ہے اور جب یہ بیدار ہو جائیں تو پھر شرح صدر ہو گی ۔پھر ایک وہ جگہ قرآن میں ارشاد ہوا کہ

قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ
سورة الأعلى آیت نمبر 14
ترجمہ :وہی فلاح پائے گا جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا ۔

پورا سینہ اللہ اور محمدؐ کے نور سے منور ہو گیا اور نفس جو کہ قوم جنات سے ہے جو برائی کا امر کرتا ہے ، جو بُرے کام کراتا ہے اور بُرے راستے پر ڈالتا ہے اُس کو بھی پاک کر لیا اور اللہ کا کلمہ پڑھا دیا ۔ جب سینے میں موجود لطائف اور نفس امارہ جو برائی کا امر کرتا ہے تذکیہ کے بعد پاک ہو گیا اور اللہ کے ذکر میں لگ گیا تو یہی پورے کا پورےاسلام میں داخل ہونا ہے ۔ اُس دور کے جو لوگ تھے اُن کے پاس شرح صد رکا علم نہیں تھا ، سینے منور نہیں تھے لہذا اسی لئے وہ پہچان نہیں سکے کہ سامنے کون کھڑا ہے اگر یہی کمی آج کے مسلمان میں ہو گی تو آپ اس سے کیا توقع رکھیں گے کہ وہ امام مہدی کے ساتھ کیا کرے گا!! آج نظر بھی آ رہا ہے کہ جن کے سینے میں نور نہیں ہے، جنھوں نے شرح صدر نہیں کی ، اسلام میں داخل نہیں ہوئے کلمہ صرف اُن کے زبان پر ہی جاری رہا ، آج وہ سیدنا گوھر شاہی کے گستاخ اور دشمن بنے ہوئے ہیں ۔ جب اُن کو دعوت حق دی جاتی ہے کہ آؤ تم کیوں سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں نازیبا الفاظ ادا کرتے ہو ، تو وہ لوگ سنتے نہیں ہیں گالیاں دیتے رہتے ہیں ۔ جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ علمی بحث کرو تو وہ آتے نہیں ہیں اور اس لئے نہیں آتے کیونکہ اُن کے اندر شیطان ہے ۔ وہ حق اور باطل کے امتیاز کے لئے مخالفت نہیں کر رہے ، اُن کی تنقید برائے اصلاح نہیں ہے بلکہ تنقید برائے شر ہے ۔ اگر کوئی شخص واقعی یہ جاننا چاہے کہ سرکار گوھر شاہی امام مہدی ہیں تو وہ علمی نکتہ اُٹھائے اور گفتگو کرے اور جب قرآن و حدیث سے یہ ثابت ہو جائے تو پھر اس کا سر بارگاہ گوھر شاہی میں جھک جائے گا۔ لیکن جن کے دلوں پر شیطان قابض ہے ، جن کا قرآن ، رسول اور اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ، نہ اُن کے دلوں میں اللہ کا نور ہے اور نہ اُن کے نفس پاک ہو کر نبی پاکؐ کے قدموں میں جھکیں ہیں تو پھر وہ بھلا کیسے امام مہدی گوھر شاہی کی تعظیم کر سکیں گے !!

“یہ دورِ یزید ہے اور ہر وہ دور دورِ یزید ہو گا جس میں زبانوں پر کلمہ ہو گا اور دلوں میں شیطان ہو گا خواہ وہ دورِ مصطفیٰ ہو ، وہ دورِ علی ہو یا وہ دورِ حسین ہو یا آج کا دور ہو ۔ اگر کلمہ حق صرف زبان پر رہے اور اس کا نور قلب میں داخل نہ ہو تو چودہ سو سال والا یزید اور آج بھی ایسی صورت میں جو شخص کھڑا ہے وہ یزید ہی کہلائے گا۔ آج کے اس دور میں وہ دین کہاں ہے جس کے پیامبر محمد الرسول اللہ ہیں “

مندرجہ بالا متن نمائندہ امام مہدی گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر کی 01 اکتوبر 2017 کو یوم عاشورہ پر کی گئی خصوصی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں