کیٹیگری: مضامین

کاملین کا فیض اُن کی زندگی اور وصال کے بعد ایک ہی ہوتا ہے :

روحانیت ،تصوف یہ ایک ایسی تعلیم ہے کہ جس میں نہ صرف یہ کہ انسان کو قربانیاں دینا پڑتی ہیں بلکہ وہ چیزیں بھی قربان کرنا پڑتی ہیں جو عام انسان کے حوصلے اور ہمت سے ماورأ ہیں ۔ دنیا کا سب سے مشکل کام اپنے نفس کو مراحلِ نفی سے گزارنا ہے۔ اپنی اہمیت کو زیرو کرنا ہے۔ نہ صرف یہ کہ دوسروں کی نظر میں بلکہ سب سے پہلے اپنی ہستی میں اپنی ذات کی نفی کرنا ہے۔ جو لوگ تلوار اُٹھا کے جہاد کرتے ہیں ہوسکتا ہے اُن ایک ہزار تلوار اُٹھا کے جہاد کرنے والوں میں ایک بھی اتنا بڑا مرد نہ ہو جو اپنی ذات کی نفی کرنے کی بہاردری رکھتا ہو۔ سرکار امام مہدی گوہر شاہی نے فرمایا
دینی پڑتی ہے قربانی جان و مال کی اس راہ پہ چلنے والوں کو
پھر بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے یہ سودا اُن صابرین جیالوں کو

نفس کی قربانی اور نفس کی نفی دینِ اسلام کا سب سے اہم ترین رُکن ہے اور یہ باتوں سے نہیں ہوتامن عرفہ نفسہ فقد عرفہ ربہ قرآن کہتا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ جن کو نبی پاکﷺ کی ظاہری صحبت ملی وہ اس لحاظ سے خوش قسمت ترین لوگ تھے کہ نفس کو پاک کرنے کے لئے اُن کو کوئی جتن نہیں کرنے پڑے کیونکہ ولیوں کے اوپر جو اللہ کی تجلیاں گرتی ہیں ہر اُس ولی پہ جو ولایتِ کبریٰ یا دیدارِ الٰہی والا ہوتا ہے اُس پر روزانہ تین سو ساٹھ تجلیاں گرتی ہیں اور ایک تجلی ،نظرِ رحمت سات کبیرہ گناہوں کو جلاتی ہے اور جو تجلی تین سو ساٹھ دفعہ ولیوں پر پڑتی ہے وہ تجلی چوبیس گھنٹے ہر وقت نبی پاک ﷺ پر پڑتی۔ تو بڑے خوش نصیب تھے وہ لوگ جن کو حضوؐر کا ظاہری زمانہ مل گیا اور حضوؐر کی صحبت میں بیٹھنے سے ہی اُن کے نفس پاک ہوگئے۔ہمارے مذہب میں علمائے کرام کہتے ہیں کہ صحابی وہ ہوتا ہے جس نے ایمان کی حالت میں حضورﷺ کی صحبت میں وقت گزارا۔ اگر ایمان ظاہری زبان سے اللہ کی واحدانیت حضوؐر کی رسالت کا اقرار کرنے کا نام ہے تو پھر صحبت میں گزارے ہوئے لوگوں میں سے کچھ منافقین کیسے ہوگئے؟ تو معلوم یہ ہوا کہ حضور ﷺ کی صحبت کا اثر ظاہری زمانے میں بھی ظاہری نہیں تھا۔ نبی پاک ﷺ کی وہ صحبت اُن لوگوں کے کام آئی جن کے دلوں میں نور چلا گیاتھا یعنی مومن بن گئے تھے اور جن کے دلوں میں نور نہیں گیا تھا اُن میں سے کچھ خوارج ہوگئے اور کچھ منافق ۔ہم نے سنا ہے کہ کامل ذات کا فیض زندگی میں وصال کے بعد اُس کی قبر سے یکساں رہتا ہے تو حضور پاکﷺ سے بڑا تو کوئی کامل نہیں آیا ۔ تو نبی پاک ﷺ کے مزار پر جو لوگ جاتے ہیں وہ تجلیوں کی زد میں کیوں نہیں آتے جبکہ حضور پاکﷺ کی حدیث بھی ہے کہ

عن ابن عمر قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من زارنی قبری بعد موت کان کمن زرانی فی حیات
راوی ابنِ عمر ۔دار قطنی 2/278
ترجمہ : جس نے میرے وصال کے بعد میری قبر کی زیارت کی اُس نے گویا ایسے میری زیارت کی جیسے وصال سے پہلے ظاہری زندگی میں زیارت کی جاتی ہے۔

یہ باطنی تعلیم کی طرف اشارے کے لئے حدیث ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر وقت جو تجلی ظاہری زندگی میں گرا کرتی تھی وہ تجلی مزار شریف پر گرتی ہے۔ لیکن اتنے لوگ مدینہ منورہ جاتے ہیں تجلی کی زد میں کیوں نہیں آتے؟ مدینہ منورہ جا کے نعت شریف پڑھ کے بھی تجلی کی زدمیں نہیں آتے۔ اب حضور پاکﷺ کے مزار پر جو جاتے ہیں ہروقت تجلی بھی اُدھر پڑتی ہے دوسرا حدیث میں بھی لکھا ہے جس نے میری قبر کی زیارت کی۔ تو پھر تمہارے مولویوں کے ڈبل اسٹینڈرڈ کیوں ہیں۔ جب قبرِ انور کی زیارت کرنے والے کو بھی ظاہری زندگی کی زیارت جیسا معاملہ ہوگا تو پھر وہ صحابی کیوں نہیں ہے۔دراصل تمہارے دین کو مولویوں نے بگاڑ دیا ہے۔ جو اسلام تم کو سمجھایا اور دکھایا گیا وہ اسلام نہیں ہے اسلام کے نام پر فراڈ ہے۔ حضوؐر کے مزار پر جا کے بھی اگر تم کو فیض نہیں ہو رہا تو کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کیونکہ حضوؐر کے پاس ظاہری طور پر ملاقات کرکے بھی بہت سے لوگوں کو فیض نہیں ہوا تھا ظاہری زندگی میں جا کے تو حضوؐر کے پاس لوگ کہہ دیتے تھے کہ میں ایمان لانا چاہتا ہومجھے مسلمان بنا دیں تو آپ اُس کے زبان اور قلب کو کلمہ پڑھاتے تھے اور دل کی دھڑکنیں اللہ اللہ کرنے لگ جاتی تھیں ۔ وہ مومن بن جاتا تھا اس طرح صحبت کا فائدہ ہوتا تھا ۔ اب مزار پر جا کے تم حضورﷺ سے ذکرِ قلب کیسے لو گے؟ سب سے پہلی بات تو یہ کہ حضورﷺ کے دَور میں جب لوگ اسلام قبول کرنے آئے اُن کو یہ کہنا نہیں پڑا کہ ہمیں ذکرِ قلب چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے دین پر ایمان لاتے ہیں تو حضورﷺ نے اُن کو ظاہری و باطنی کلمہ پڑھا دیا۔تم جب حضورﷺ کے مزار پہ جاتے ہو تو تمہارے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ ہم تو اُمتی ہیں تمہارے ذہن میں کبھی یہ بات ہی نہیں آتی کہ یا رسولؐ اللہ! میرے قلب کو بھی کلمہ پڑھادیں۔دوسری بات یہ کہ اگر کہہ بھی دو تو تمہاری آواز حضوؐر تک کیسے پہنچے گی ؟ یہ علم تمہارے پاس نہیں ہے۔حضور ﷺ کا فیض ویسا ہی جاری ہے جیسا ظاہری حیات میں تھا اور قیامت تک جاری رہے گا جتنے بھی مرسلین ہیں سب کا فیض قیامت تک جاری رہے گا۔ تم کو حضور ﷺ تک پہنچنے کے لئے اب وسیلوں کی ضرورت پڑے گی تاکہ کوئی تمہاری بات کو حضور ﷺ تک پہنچادے۔ اب ان ولیوں کے ذریعے حضور پاکﷺ تک تمہاری رسائی ہوتی ہے۔ اس تعلیم کو پنپنے نہیں دیا گیا۔ اس تعلیم کو شرک اور بدعت کہا گیا اور ان میں ابنِ تیمیہ جیسے لوگ پیش پیش تھے

دورِ حاضر میں خواجین کی تعداد میں اضافہ کیوں ہوا ہے ؟

ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ دینِ اسلام میں مومنوں کی تعداد بہت ہی قلیل رہی ہے منافقین کی تعداد ہر دور میں زیادہ رہی ہے۔ پھر ایک وقت آیا کہ خوارجین کی تعداد بڑھ گئی۔ آج جس زمانے میں ہم جی رہے ہیں یہ وہ زمانہ ہے کہ جس میں کوئی خال خال ہی مومن ہوگا۔ منافق زیادہ ہیں اور دینِ اسلام کے نام پر پیروکاروں کی جو اکثریت ہے وہ خوارجین کی ہے ۔ خوارج ہونے کے لئے ضروری نہیں ہے کہ آپ دینِ اسلام سے لا تعلقی کا اظہار کردیں جیسا کہ علمائے کرام آپ کو بتاتے ہیں خوارج وہ ہے جس کے سینے میں اللہ کا نور نہیں رہا۔ جب نور نہیں رہا تو وہ اُمت سے خارج ہوگیا ۔ یہ جو شیعہ سنی وہابی دیوبندی ہیں ان کے سینوں میں نور نہیں ہے نہ ہی اُن میں سے کوئی نور کی بات کرتا ہے لہٰذا وہ اُمت سے نکل کر خوارجین میں چلے گئے۔ابنِ تیمیہ کے پیروکار یا وہ لوگ جو اپنے مذہب کی فقہ اور فہم ابنِ تیمیہ اور ابنِ جوزی، ابنِ قیم اور محمد بن عبدالواب نجدی جیسے لوگوں یا قرآن سے لیتے ہیں وہ اس باطنی تعلیم کے دشمن ہوجاتے ہیں اور پھر ہمارے دور میں اگر کوئی طاہر القادری جیسا اچھا عالم ہوا بھی ، تو وہ بیچارہ بھٹک گیا اور بھٹکنے کی وجہ آپ کے علم کا مکمل انحصار اور محتاجگی کتابوں پر ہونا تھی ۔جب آپ اہلِ نظر ، اہلِ الہام ، اہلِ باطن ، اہلِ ولایت نہیں ہیں صرف کتابوں کو پڑھ کر تاریخ کو سمجھیں گے، کتابوں کو پڑھ کر دین کو سمجھنا چاہیں گے تو جو کچھ بھی کتابوں میں لکھا ہے وہ آپ کے یقین کا حصہ بن جائے گا جیسا کہ ابنِ تیمیہ صوفیاء کا سب سے بڑا دشمن تھا اور کتابوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ وہ عبدالقادر جیلانیؒ کا ماننے والا تھا اور اوپر سے بدقسمتی یہ کہ آپ کی قوم کے پاس سمجھ بوجھ بھی نہیں ہے اگر ہوتی تو اتنی سی بات بھی آپ کو سمجھ میں نہ آتی کہ اگر کوئی یہ کہے کہ مجھے کرکٹ سے شدید نفرت ہے اور روزانہ کرکٹ بھی کھیلے ۔ آپ پریشان ہوجائینگے کہ یار یہ بات سمجھ میں نہیں آئی ، روزیہ کرکٹ کھیلتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے کرکٹ سے نفرت ہے ۔ اسی جب آپ یہ پڑھیں کہ ابنِ تیمیہ صوفیوں کا دشمن تھا تصوف کو شرک کہتا تھا اور پھر یہ جملہ بھی پڑھیں کہ وہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا پیروکار بھی تھا تو پھرآپ کہیں گے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ لیکن چونکہ کامن سینس نہیں ہے اس لئے آپ دونوں باتیں پڑھتے ہیں اور آگے لوگوں کو بیان کرتے جاتے ہیں کہ وہ سچے آدمی ہیں غوثِ اعظمؓ کو ماننے والے ہیں ۔ روحانی اصطلاحات یہ نہیں ہوتیں کہ وہ غوث اعظمؓ کا پیروکار تھا پیروکار نہیں ہوتے مرید ہوتے ہیں ۔

ابن تیمیہ کے کافرانہ عقائد نے عالم اسلام کا ذہن خراب کر دیا ہے:

غوث پاکؓ کے دور میں آپ کے اوپر جو پانچ سو فتوے لگے تو کیا وہ فتوے لگانے والے علماء ولیوں کے ماننے والے ہونگے ؟ غوثِ اعظمؓ شریعت میں اتنے کامل تھے کہ کسی مولوی یا کسی عالمِ دین کے پاس اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ اُن کے کسی فعل پر انگلی اُٹھائے ۔ وہاں مجذوبوں یا بلھے شاہؒ والا رنگ نہیں تھا ۔ غوثِ اعظمؓ ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی شریعت میں کامل تھے۔ طریقت اور حقیقت میں بھی کامل تھے۔ تو جب آپ کا ہر عمل و فعل عین شریعت کی رو سے تھا پھر کسی عالمِ دین کو کیسے جرات ہوسکتی تھی کہ وہ آپ کے اوپر فتویٰ لگائے۔ تو پھر وہ کون تھے؟ وہ وہی ہونگے جو صوفیوں کو مشرک سمجھتے تھے۔ تصوف کو بدعت سمجھتے تھے۔ ابنِ تیمیہ کا یہ جملہ آپ دیکھیں وہ کہتا ہے کہ” جو حضور ﷺ کی قبر کی زیارت کرے گا وہ بدعتی ہوجائے گا “۔ اس بات پر اُس کو سزا بھی ہوئی تھی۔ اب ابنِ تیمیہ کہتا ہے کہ حضورﷺ کی قبرِ انور کی زیارت کرنے والا بدعتی ہے اور حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے میری قبر کی زیارت کی اُس نے گویا ایسے زیارت کی جیسے اُس نے میری حیات میں میری زیارت کی ہو۔ تو کیا یہ براہِ راست حضورﷺ کے فرمودات کا انکار کرنا نہیں ہے؟ یہ حضور ﷺ کی تعلیم کے خلاف نہیں ہے؟ لیکن اُس کے باوجود بھی پاکستان میں مسلمانوں کی اکثریت خاص طور پر وہابی، دیو بندی ،اہلِ حدیث ابنِ تیمیہ کو فالو کرتے ہیں۔ اب جب اس طرح کی باتیں پھیل گئیں کہ یہ کرنا حرام ہے وہ کرنا حرام ہے۔ کل میں نے ابنِ تیمیہ کی کتاب پڑھی ہے میں تو پریشان اور حیران تھا کہ یہ بندہ مسلمان ہے۔ جو شخص ذکرِ اللہ کے بارے میں ایک قاعدہ اور قانون بنا دے اور کہے کہ اس طرح اللہ کا ذکر کرنا جائز اور اس طرح ذکر کرنا ناجائز ہے اور اس طرح چیخ چیخ کراللہ کا ذکر کرنا حرام ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ

فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّـهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا
سورة البقرة آیت نمبر 200
اے مومنو! جب تم دورانِ حج کعبے میں جاؤ تو اتنی شدت سے چیخ چیخ کرکے اللہ کا ذکر کرو جیسے زمانہ جاہلیت میں تم اپنے آباؤ اجداد کرتے تھے اور پھر اُس کے بعد فرمایا کہ بلکہ اُس سے بھی زیادہ شدت سے اللہ کا ذکر کرو ۔

بکہ قرآن مجید کی اس آیت کے برعکس مسلمانوں کا شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ کہتا ہے کہ چیخ چیخ کر ذکر کرنا حرام ہے۔سرکار سیدنا گوھر شاہی سے ملنے کے بعد پہلی دفعہ میں نے سرکار کی لکھی ہوئی ایک چھوٹی سی کتاب مینارہ نور پڑھی جس کے آخری صفحات پر سرکار نے دلائل دئیے ہوئے ہیں کہ کتنے مفسرین اور اکابرینِ دین ذکرِ جہر کے حامی اور کتنے مخالف ہیں۔ یہ جملہ پڑھ کر میں بڑا چونکا کہ اللہ کے ذکر کے مخالفین بھی ہیں!اور اُن میں بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ جبکہ قرآن مجید میں لکھا ہے کہ تم دھیمی آواز سے اللہ کا ذکرکرو یا اونچی آواز سے ، اللہ سب سنتا ہے سب جاننے والا ہے۔ ایسے دَور میں کہ جب عالمِ اسلام کا ذہن خراب کردیا گیا ہو ،ہر چیز مشکوک بنا دی گئی ہو نماز کیسے پڑھیں ، رفع یدین کریں یا نہ کریں ۔ ایک شک یہاں پیدا کردیا گیا ہوکہ ذکرِ الٰہی کھڑے ہوکر کریں یا بیٹھ کر کریں ، دھیمی آواز سے کریں یا تیز آواز سے ۔ اولیاء اللہ کے پاس جائیں اُن سے دین کے علوم سیکھیں یا نہ سیکھیں اس میں شک پیدا کردیا گیا ہو۔ وسیلہ کیا ہے اس میں شک پیدا کردیا گیا ہو ۔ ابنِ تیمیہ کہتا ہے کہ میرے نزدیک وسیلہ جائز ہے لیکن وہ وسیلہ نبی اور اللہ کے بیچ کا ہے اور صرف وحی الٰہی اُترنے کے لئے اس کے بعد وہ وسیلہ ختم۔ کسی ولی یا فقیر کا کوئی وسیلہ نہیں ہوتا۔ انسان کو وسیلے کی ضرورت صرف اُس وقت پڑتی ہے جب اللہ کا کلام نبی کے اوپر آنا ہو۔ اب وہ آگیا محمد رسول اللہ ﷺ پر قرآن نازل ہوگیا اس کے لئے ہمیں وسیلے کی ضرورت تھی اب قرآن آچکا ہے اب وسیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ شفاعت کے بارے میں کہتے ہیں کہ جن کے اعمال اچھے ہونگے جو مومن ہونگے اُن کی شفاعت ہوگی گنگہاروں کی شفاعت نہیں ہوگی۔ بھئی جب مومن ہونگے تو اُن کی شفاعت کی کیا ضرورت ہوگی۔ یعنی آپ کی تاریخِ اسلام میں ایسے ایسے چغت گامڑاور بیوقوف گدھے شیخ الاسلام بن کے بیٹھے ہیں جبکہ قرآن مجید کہتا ہے

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
سورۃ المائدہ آیت 35

اب اگر اللہ تعالیٰ مومنوں کو کہہ رہا ہے تو اُن کے قلب میں نور آچکا ہے، دل منور ہوچکا ہے اُس کے باوجود بھی اُن کو وسیلہ چاہئے ۔ ڈھونڈو!کیا وسیلہ کہیں کھو گیا ہے جو آپ ڈھونڈیں گے؟ اگر کھویا نہیں توپھر ڈھونڈنے کی کیا حاجت ہے؟ اگر صرف محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات ہی وسیلہ ہوتی تو وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ کی ضرورت کیوں پیش آتی؟ اس کا مطلب ہے کہ یہ وسیلہ حضورﷺ کی ذات پر ختم نہیں ہوا ،یہ آگے بڑھا ہے ۔ وسیلے کا فیض پھر مولا علیؓ کو ملا ہے۔ کہ تم اب لوگوں کو مجھ سے جوڑتے جاؤ ۔ پھر مولا علیؓ سے ولایت و وسیلہ آگے بڑھا ولیوں کے ذریعے سینہ بہ سینہ چلتا آیا ۔ نقشبندی بھی اسی وسیلے سے جُڑے، چشتیہ ، قادریہ ، سہروردیہ خاندان سب وسیلوں کے ذریعے ہی حضورﷺ کی ذات تک پہنچے۔ اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ جی میرا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے ، ولیوں کا ماننے والا ہوں، آقا علیہ السلام کا اُمتی ہوں لیکن بندے کو دیکھ کے بات کرنی چاہئے۔ اہلِ حدیث آجائے گا تو آپ اُس کے موقف پہ آجائیں گے وہابی آئے گا تو آپ اُس کے موقف پہ آجائیں گے۔ آپ اُس کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ غلط ہیں۔ اگر آپ صحیح ہیں تو پھر آپ اُس کے عقیدے کی تعریف کیوں کر رہے ہیں اگر وہ گمراہ ہے تو۔ہم کیا کرتے ہیں۔ ہم مولا علیؓ کی تعریف کرتے ہیں ہم مولا حسینؓ کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ اہلِ بیت کی تعریف اور توصیف بیان کرتے ہیں۔ اُن کے محاسن ، مناقب ، فضائل بیان کرتے ہیں۔ اُن کی افادیت ، اُن کے تعلق کی افادیت اُن کی محبت کی ایمان میں اہمیت بیان کرتے ہیں لیکن ہم اہلِ تشیع کے گانے یا ترانے نہیں گاتے۔ ہم توحید کا ذکر کرتے ہیں لیکن توحید کا وہ رُخ پیش کرتے ہیں جو اللہ کے رسولؐ نے مولا علی و غوثِ اعظمؓ نے دیا ہے۔ ہم کسی غلط عقیدے کی تعریف نہیں کرسکتے کیونکہ قرآن مجید میں اللہ کا حکم ہے کہ

وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 42
ترجمہ : حق کے ساتھ باطل کو نہ ملاؤ خاص طور پر جب تم جانتے ہو کہ حق کیا ہے ۔

سیدنا گوھر شاہی کی تحریکِ اخلاص اوراُسکی مخالفت:

پھر ایسے عالمِ نفاق و کفر میں کہ جب غیر یقینی ، بے ایمانی، بدعتیں ،شرک، زندیقی اپنے انتہا کو پہنچ چکی اور صراطِ مستقیم و دین کا نشان باقی نہیں رہا سیدنا گوہر شاہی نے اپنے قدم رنجا فرمائے اور وہ تصورِ توحید و رسالت دینے کی کوشش کی جو تصورِ توحید و رسالت اللہ چاہتا ہے ۔ ولائت کا وہ تصور پیش کیا جو مولا علیؓ کو دیا گیا تھا ایمان ، نمازو روزے کا وہ تصور پیش کیا جو اللہ اور اُس کا رسول چاہتا ہے۔ تو ہزاروں فرعون سیدنا گوہر شاہی کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔ کبھی شاہ تراب الحق کے اندر بیٹھا ہوا فرعون، کبھی حمادی خبیث کے اندر بیٹھا ہوا فرعون ، کبھی طاہر القادری مردود میں بیٹھا ہوا فرعون۔ جگہ جگہ آکر بیٹھ گئے۔
جب سرکار گوہرشاہی نے تحریکِ ذکر و فکر کا آغاز فرمایا اور تحریکِ اخلاص چلائی اور یہ فرمایا کہ جہاں زبان اللہ اللہ کرتی ہے وہاں تمہارا دل بھی اللہ اللہ کرے ۔ جب تم نماز میں جاؤ اور اپنے دل کو کہو کہ قل ھو اللہ احد کہہ دے اللہ ایک ہے تو وہ اپنے دکھڑے نہ سنائے بیوی بیمار ہے بچہ بیمار ہے ڈیوٹی سے لیٹ ہوگیاگھر میں آٹا نہیں ہے بلکہ وہ تصدیق کرے کہ جو تیری زبان پڑھ رہی ہے ناں قل ھو اللہ احد وہ حق ہے۔ سرکار گوہر شاہی نے آئینِ صلوٰۃ عطا فرمایا کہ زبان قرآن کی تلاوت میں ، جسم رکوع و سجود میں اور دل تصدیق میں لگا ہو تب نمازِ حقیقت ہوتی ہے۔ رہ گیا ہاتھ کا اُٹھانا یا جھکانا ہاتھ اوپر ہوں یا نیچے دل اور دل کے نور کو اس سے کوئی غرض نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لا صلوٰۃ الا بحضور القلب۔ تم لگے رہے وضو میں۔ داڑھی کا مسح ٹھیک نہیں ہوا ،یہ ناخن ابھی پورا تَر نہیں ہوا، داڑھی ابھی پوری بڑی نہیں ہوئی، ٹخنوں سے اوپر پائجامہ نہیں تھا ، میرے ابھی ماتھے پر کالا نشان (کلنک کا ٹیکہ ) نہیں لگا۔ ماتھا رگڑ رگڑ کے آپ متقی اور پارسا بننے کی کوششوں میں لگے رہے اور جب دین کا سچا سبق دینے والا آیا تو سارے شیطان اپنے اپنے ممبروں سے اُتر کر سرکار گوہر شاہی کے خلاف صف آراء ہوگئے۔ یہ وہابی، یہ دیو بندی ، یہ اہلِ حدیث ، یہ سُنّی، یہ بریلوی ، یہ شیعہ ، ایک آنکھ ایک دوسرے کو نہیں بھاتے لیکن سیدنا گوہر شاہی کے خلاف سب اکٹھے ہوگئے۔ وحدت طاری ہوگئی، سب جُڑ گئے، بھائی بھائی ہوگئے ۔ اللہ کے نام پر جو کبھی بھائی بھائی نہیں ہوئے، اللہ کے رسول کے نام پر جو کبھی بھائی بھائی نہیں ہوئے تھے، قرآن ایک ہی تھا اُس کے باوجود کبھی بھائی بھائی نہیں ہوئے لیکن سیدنا گوہر شاہی کے خلاف سب بھائی بھائی ہوگئے۔ کیوں کہ مومن آپس میں بھائی بھائی اس لئے تھے کہ سب میں مومنوں میں اللہ کا نور تھا ۔ ایک محمد کا نور ایک قرآن کا نور تھا اور اِن میں ایک شیطان کی نار ہے۔ سب کے دلوں میں شیطان بیٹھا ہوا ہے۔ جب گوہر شاہی حق کے ساتھ سامنے آئے سب اکٹھے ہوگئے ۔ اپنی دانست میں انہوں نے یہ سوچ لیا کہ گوہر شاہی کو ہم اُٹھنے نہیں دینگے ۔ بڑے بڑے مفتی آتے بڑے بڑے عالم سرکار گوہر شاہی کے پاس آتے اور کہتے کہ ہم سے بنا کے رکھو ورنہ ہم تمہیں اُٹھنے نہیں دینگے اور جواب میں سرکار گوہر شاہی یہ فرماتے کہ مجھے کسی کی مخالفت سہنے کی کیا ضرورت ہے مجھے کسی سے گٹھ جوڑ کرنے کی بھی کیا ضرورت ہے۔ میں تو بالکل الگ تنِ تنہا رہنا چاہتا ہوں۔ لیکن ایک آسمانی ہاتھ ہے جو مجھے کہتا ہے کہ یہ میرا حق ان تک پہنچاؤ۔ جن کا مجھے حکم ہے اُن کے حکم کے مطابق میں یہ پیغام دنیا تک پہنچا رہا ہوں میں اپنے حق سے ہٹ نہیں سکتا ،میں وہی کہوں گا جو مجھے کہا گیا ہے۔
ہزار خوف ہوں لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق

سرکار گوہر شاہی نے جو بات نجی طور پر اپنے دو چار مریدوں کو بٹھا کے کہی وہی بات ہزاروں کے مجمع میں منبرِ رسولؐ پر بیٹھ کر کہی۔ ہے کوئی ایسا مرد، ہے کوئی ایسا بریلوی ، ہے کوئی ایسا سُنی جو شیعہ کی امام بارگاہ میں جائے منبر پر بیٹھے اور یہ کہے کہ شریعت میں سب سے بڑا درجہ ابوبکر صدیقؓ کا ہے۔ اور یہ سیدنا گوہر شاہی نے کہا ۔ یہ ہے زبانِ حق، یہ ہے مردِ حق، یہ ہے مردِ قلندر۔ جس نے تنہائی میں جو بات کہی ہزاروں کے مجمعے میں بھی وہی کہا۔سیدنا گوہر شاہی نے کسی کی خوشامد نہیں کی۔ جس طرح آج آپ دیکھتے ہیں کہ اگر طارق جمیل صاحب طاہر القادری کے پاس آجائے تو طاہر القادری صاحب آقا علیہ السلام کا ذکر ہی بھول جائیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے تو سب کچھ اللہ کی خاطر کیا۔ حضور ﷺ کا نام لینا بھول جاتے ہیں۔ اپنے عقیدے کو ہی چھوڑ دیتے ہیں لیکن مردِ حق، مردِ قلندر جس کے عمل اور قول سے حق ثابت ہوا ہے وہ سیدنا گوہر شاہی کی ذاتِ معظم ہے۔ جو بات اپنے پیروکاروں کو بٹھا کر کمرے میں کہی وہی بات اہلِ تشیع کے امام بارگاہ میں جاکے ہزاروں کے مجمعے میں اُن کے سامنے کہی جو اس بات کو مانتے نہیں۔ جب یہ مردِ قلندر پاکپتن گیا بابا فرید کے مزار پر دربارِ گوہر شاہی سجایا گیاتو سیدنا گوہر شاہی نے فرمایا کہ یہ جو بابا فرید کے مزار پر جنتی بہشتی دروازہ ہے یہ غلط ہے۔ بابا فرید نے اس دروازے کا نہیں کہا ۔ انہوں نے کہا تھا جو میرے رستوں لنگ گیا یعنی جو میرے راستے پر چلا وہ جنتی ہے ۔ لوگوں نے سمجھا کہ یہ اپنے پیچھے دروازے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں ۔ سیدنا گوہر شاہی نے فرمایا کہ اس بہشتی دروازے سے زیادہ محترم چیز تو خانہ کعبہ ہے حضور پاکﷺ کا دربار ہے اُدھر جا کے بھی جب جنتی کی گارنٹی نہیں تو اس دروازے سے گزر کے تم جنتی کیسے ہوسکتے ہو؟ ۔ یہ ہے مردِ قلندرجو حق کی بات کہتا ہے ۔ گلی اور محلوں میں جاکر مسجدوں میں خانقاہوں میں جا کر درگاہوں جھوٹے پیر فقیروں کو جا کے سیدنا گوہر شاہی نے حق سنایا ۔ کبھی خوشامدی لہجہ اختیار نہیں فرمایا۔ جس نے ڈنکے کی چوٹ پر پوری جراٴت کے ساتھ اللہ کی توحید، اللہ کے اخلاص اور حضور ﷺ کی رسالت ، آپ کی محبت اور آپ کی ضرورت و اہمیت کا کھلے عام پرچار کیا ہے ۔ یہ وہ جراٴت ہے جس کے بعد اس ذات کو جراٴتِ عمر فاروق کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایسی جرات والا مردِ حق سیدنا گوہر شاہی ۔ جب مولویوں ،مفتیوں ، شیعوں ، بریلویوں ، وہابیوں نے یہ جان لیا کہ یہ کسی کی خوشامد نہیں کرتے ، نہ جھکتے ہیں نہ بکتے ہیں نہ ان کو کسی کی مخالفت کا ڈر ہے۔ یہ تو واقعی حق ہے ۔
اب ہم نے مل جل کر اس حق کو دبانا ہے اور بڑی کوششیں کرنی ہیں۔ پاکستان کی ایجنسیاں بھی مل گئیں۔ مولویوں کو یہ ڈر ہوا کہ ہم نے جو لوگوں کو بیعت کیا ہوا ہے گوہر شاہی تو ہماری پول پٹی کھول رہا ہے ۔ لوگوں کو حقیقت بتا رہا ہے ۔ ہماری تو دُکان بند ہوجائے گی۔ انہوں نے پھر مخالفت شروع کردی۔پھر جھوٹے پیر فقیروں کے بارے میں بھی کہہ دیا کہ یہ ولائت وراثت نہیں ہے۔ بھئی تیرا دادا پیر تھا تو تُو کیسے پیر ہوگیا۔ یہ وراثت نہیں ہے۔ وراثت ہوتی تو نبوت ہوتی ۔ جب نبوت وراثت نہیں ہے نبی کا بیٹا نبی نہیں ہوسکتا تو ولی کا بیٹا ولی کیسے ہوسکتا ہے۔ گدی نشین بھی مولویوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ سب نے ایکا کرلیا۔اس کے بعد لاہور میں موچی دروازے پر سیدنا گوہرشاہی نے خطاب ایسا فرمایا کہ قرار دادِ پاکستان کے وقت اُس جگہ پر کامیاب جلسہ کرنے والا صرف محمد علی جناح تھا۔ اس کے بعد سے تاوقت سرکار کے قدمِ مبارک وہاں پڑے کوئی اس جگہ کو جلسہ کر کے بھر نہیں سکا اور جب میرا گوہر شاہی وہاں آیاتو وہ جگہ جو بھرتی نہیں تھی اب نظر نہیں آرہی تھی۔ بیٹھے ہوئے ہیں شہنشاہ۔ ایک انتہائی محتاط اندازے کے مطابق وہاں پر ستّر لاکھ انسان موجود تھے اور غوثِ اعظم کی مجلس میں زیادہ سے زیادہ ستّر ہزار افراد تھے۔ پہلے تو مسئلہ تھا مولویوں کے لئے کہ ہمارے مرید چلے جائیں گے اور گدی نشینوں کے لئے کہ ہمارے نذرانے چلے جائیں گے اب سیاستدانوں کے کان کھڑے ہوگئے کہ کہیں ہماری سیٹ نہ چلی جائے۔ پھر ایجنسیوں آرمی والوں کو یہ ہوا کہ کہیں ملک کی بھاگ ڈور ہمارے ہاتھ سے نہ چلی جائے۔ کہیں گوہر شاہی آیت اللہ خمینی جیسا انقلاب نہ لے آئے۔ سرکار گوہر شاہی کا یہ رعب و دبدبہ یہ اندازِ جلالانہ اور کردارِ معشوقانہ دیکھ کر سب بے چین ہوگئے ۔ کھڑے ہوکرکے میٹنگزکرنے لگے کہ یہاں پاکستان میں تو گوہر شاہی انقلاب لے آئیں گے۔ یہ امام خمینی جیسا انقلاب لانے والے ہیں۔ اب یہ موقع تھا کہ سارے شیطان ایک جگہ جمع ہوگئے۔سیاستدان بھی گوہر شاہی کا دشمن، ایجنسی والے بھی گوہر شاہی کے دشمن ،آرمی بھی گوہر شاہی کی دشمن، مولوی بھی گوہر شاہی کے دشمن، گدی نشین بھی، میڈیا والے بھی ، سب گوہر شاہی کے دشمن ہوگئے۔ خاندان والے بھی گوہر شاہی کے دشمن۔ اب دیکھیں ناں سرکار کا جو بیٹا ہے حماد ، طلعت ، بابر، یہ کیا کہتا ہے کہ جو سرکار گوہر شاہی کو امام کہتا ہے وہ شیطان کے شکنجے میں ہے۔ کہتا ہے (معاذ اللہ)گوہر شاہی امام مہدی کہاں ہیں وہ تو صرف ایک ولی ہیں ۔ تو یہ جو رسم چلی ہے دشمنئ گوہر شاہی کی اس میں سب شامل ہوتے گئے۔ بھئی الا ماشاء اللہ جب ذکر کرتے ہیں تو اکثریت کا ذکر کرتے ہیں۔ اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے سیاستدان ہی دشمن ہوگئے یا ساری فوج ہی دشمن ہوگئی یا سارے ایجنسی والے ہی دشمن ہوگئے یا سارے گھر والے ہی دشمن ہوگئے یا سارے اہلِ خانہ ہی دشمن ہوگئے یہ مراد نہیں ہے ۔ اِلا ماشاء اللہ کوئی ایک آدھ ایسا بھی ہوتا ہے جس پر رب کا کرم ہولیکن یہ جو دشمنی کا گراف ہے یہ ہر معاشرے کے ہر ڈیپارٹمنٹ میں تھا ۔عدلیہ گوہر شاہی کی دشمن ، پولیس گوہر شاہی کی دشمن، سیاستدان ، نیتا، راج نیتی گوہر شاہی کے دشمن۔ فوج گوہر شاہی کی دشمن۔ اور اس کے باوجود بھی گوہر شاہی گوہرشاہی۔ تیرا شاہی میرا شاہی گوہر شاہی گوہر شاہی۔ کوئی اس آواز کو روک نہیں سکا ۔ اس کے بعد کیا ہوا کہ سرکار گوہر شاہی نے کرم کی بدلیاں، کرم کے بادل پاکستان کے خطےسے ہٹا لئے، اُن کو محروم کردیا۔ ورنہ یہ مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کی تحریک پاکستان سے چلنی تھی لیکن اُن کی گستاخیوں ، ہٹ دھرمیوں اور کفر نے اُن کو اس فیض ، نعمت اور سعادت سے محروم کردیا۔ایسا نہیں ہے کہ ہم ڈرتے ہیں ۔ ہماری آنکھ اور کان اور ہماری زبان میں تو عشق ہے ۔ عشق تو کسی سے نہیں ڈرتا۔ عشق تو اندھا ہوتا ہے۔ بلھے شاہؒ نے کہا کہ جب مرشد سے عشق ہوجائے تو پھر
اے عشق بلھے شاہؒ اوکھا اوّلاّ صورت ہے صنم دی عرشِ معلی
تے یار بِنا نہ کوئی اللہ بھانویں رب نال جھگڑا پَے جاوے

بلکہ ایک حدیث شریف میں تو یہاں تک آیا کہ العشق النار یحرق اِلا معشوقکہ عشق ایک آگ ہے معشوق کے علاوہ سب کو جلا دیتی ہے ۔ عشق کی آگ میں عاشق سمیت سب جل کر خاکستر ہوجاتے ہیں ۔

یہ دور سیدنا گوھر شاہی کی رحمتوں اور انقلاب عشق کا دور ہے:

اب وقت آرہا ہے انقلابِ عشق کا ۔ اب فیضانِ عشق کی خوشبوئیں پھیلنا شروع ہونگی ۔ اب اطاعت و بندگی شرمائے گی۔ یہ ایک ٹرانزیشن پیریڈ ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں ۔جس طرح ہم اگر کاروں کی بات کریں تو ہم ایک بڑے ہی ٹرانزشن پیریڈ سے گزر رہے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ صرف پیٹرول کی گاڑیاں ہوتی تھیں۔ پھر ڈیزل بھی آیا۔ لیکن ڈیزل کی گاڑی مہنگی تھی۔ کیوں کہ ڈیزل سستا تھا۔ پھر پیٹرول بھی چلا گیا ۔ اب ڈیزل سے بھی لوگ تنگ آگئے۔اب پھر انہوں نے ہائی بڑڈ نکالی آدھا تیتر آدھا بٹیر، آدھا کھوتا آدھا گھوڑا۔ دو طرح کا انجن جو گاڑی بیٹری سے بھی چلائے پیٹرول سے بھی چلائے۔ پھر الیکٹرک کار آگئی۔ سائنسدانوں نے یہ سوچ لیا ہے کہ پیٹرول اب زیادہ دن چلے گا نہیں تو انہوں نے پھر اب الیکٹرک کاریں بنانا شروع کردیں اور لوگوں کو الیکٹرک کاروں کی طرف راغب کرنے کے لئے کہا کہ جن کے پاس الیکٹرک کاریں ہیں وہ روڈ ٹیکس بھی نہ دیں،بھی آپ کے معاف ہیں ۔ پیٹرول کے انجن والی گاڑیاں ، ڈیزل کے انجن والی گاڑیاں ابھی بھی چل رہی ہیں لیکن الیکٹرک گاڑیاں بھی مارکیٹ میں آرہی ہیں۔ بہت سے لوگ بنا رہے ہیں جیسے مرسیڈیز ، مٹسوبشی ۔ بی ایم نے بھی بنا دی۔سب سے پہلے ٹیسلا نے بنائی۔ اب یہ سب بنارہے ہیں۔ یہ ایک ٹرانزیشن پیریڈ ہے۔اسی طرح سب سے پہلے جب نبی آتا ہے تو اطاعت اور بندگی اور عبادات و زہد ہوتا ہے۔ نبوت کے بعد پھر ولائت آتی ہے جس کو نظرِ رحمت کا دَور کہا گیا ہے ۔ پھر چلو جی عبادات و اطاعت اور بندگی جو ہے تھوڑا سا ہاتھ ہَولا رکھو۔ پھر نظرِ رحمت سے اُن کو چلاتے ہیں ۔ اب یہ ٹرانزشن پیریڈ ہے کہ سخت بدنی، جسمانی عبادات ،بندگی ، اطاعت ، زہد ، پارسائی سے گزرتے گزرتے پھر ہم نظرِ رحمت کی طرف آئے۔ جب نظرِ رحمت کی طرف آئے تبھی لوگوں نے کہا ناں کہ
نہ میں پنج نمازاں نیتی نہ تسبا کھڑکایا ۔۔۔۔۔بلھے شاہؒ نوں ملیا مرشد جنے ایویں جا بخشایا
اُس کے بعد سلطان صاحب نے بھی کہا کہ
جس منزل نوں عشق پہنچاوے ایمان نوں خبر نہ کائی ہُو ۔۔۔۔۔میرا عشق سلامت رکھیں باہومیں ایمان نوں دیاں دھروئی ہُو
پھر یہ دَور بھی آگیا کہ اب عشق کی سلامتی کی دعائیں سلطان حق باہو نے مانگیں اور پھر یہ دَور آگیا کہ عشق سلامت نہیں صرف عشق دستیاب رکھو۔تو یہ ایک ٹرانزیشن کا پیریڈ گزرا ہے۔
آپ ابتدائی زمانے کی بات کو اِس دَور میں ڈھونڈیں گے ۔ سب سے پہلے تو اگر لوگ یہ کہیں ناں کہ نہیں ہم تو اُس اسلام پر عمل کرینگے جو چودہ سو چالیس سال پہلے بلالِ حبشی نے کیا تھا ۔ ارے بھائی ! رہنے دو یار! آج کے دور میں اگر آپ کہیں کہ مجھے 1.1لیٹر پیٹرول گاڑی چاہئے نہیں ملے گی۔ زمانہ چلا گیا۔ پہلے گاڑیاں بڑی بور ہوا کرتی تھیں وِنڈو ہاتھ چڑھاؤ ہاتھ سے نیچے کرو۔ راستہ دیکھنے کے لئے ہم جب امریکہ میں اِدھر اُدھر جاتے تو ایک آدمی بیٹھ کے نقشہ ہی دیکھ رہا ہے ۔ چلو اِدھر جاؤ جی اُدھر جاؤ جی اگر دیر سے بتایا تو سو میل کی چھٹی۔ لیکن اب سب کچھ گاڑیوں میں میں لگا ہوا ہے۔ اب واپس پچھلے زمانے میں جانا چاہتے ہو کہ بارہ سال کا چلہ کرکے اپنا نفس پاک کروگے۔ اب تو وہ دَور آگیا ہے کہ ایک ہی نظر میں نفس بھی پاک ہورہا ہے قلب بھی دُھل رہا ہے ۔ اب تو ایک ہی نظر میں ساتوں لطیفے بھی چل رہے ہیں ۔ یہ مردِ قلندر، مردِ حق سیدنا گوہر شاہی کی نظر کاکمال ہے۔نظر ایسی تو پہلے کبھی آئی ہی نہیں۔ سخی ایسا تو پہلے کبھی آیا ہی نہیں۔ مہرباں ایسا تو پہلے کبھی آیا ہی نہیں اور آئے گا بھی نہیں کیونکہ ہم آخری زمانے میں ہیں۔ اس کے بعد کوئی زمانہ نہیں ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا لا نبی بعدی اور امام مہدی نے فرمایا لا زمانہ بعدی
تو یہ سیدنا گوہر شاہی کی کرم نوازیوں کو سمیٹنے کا دَور ہے۔ اس بات کا دَور ہے کہ پہلے ہم سمجھیں کہ سرکار گوہر شاہی نے جو روحانی سپر مارکیٹ بنائی ہے کیا وہاں پر پریمئم پروڈکٹس ہیں اور کون سی پروڈکٹس سیل پہ لگی ہوئی ہیں سرکار گوہر شاہی کی سپر مارکیٹ میں بہت ساری پروڈکٹس ایسی ہیں جو سیل پر ہیں۔ کیوں سیل پر ہیں؟ کیونکہ اُن کا فیشن اب نہیں رہا ۔ جیسے ذاکرِ قلبی بننا ، جیسے دیدارِ الٰہی کرنایہ سیل پر ہیں۔ فیشن میں جب کوئی نئی چیز آتی ہیں وہ بڑی مہنگی بِکتی ہے۔ ہوسکتا ہے ایک دو مہینے بعد سستی ہوجائے لیکن ابھی وہ بڑی مہنگی ہے۔ غفور بھائی تو کہتے ہیں اِن کو فری میں دے دیں سخی ہیں لیکن ان کو روحانیت سمجھ میں نہیں آتی۔ ظاہر ہے کوئی پیسے تو نہیں لگتے لیکن اُس کے لئے جو ظرف آپ کو بنانا ہے ۔ ظرف کیا ہوتا ہے جیسے آپ کا فون ہے اُس میں آپ کا میموری کارڈ دس جی بی کا ہے۔ چار جی بی میں گانے ڈال دئیے ، چار جی بی میں فوٹو ڈال دئیے اور دو جی بی میں ایپس بھر دیں دس جی بی پورا ہوگیا۔ اب مزید تو نہیں آسکتا ناں اُس میں۔ تو وہ جو دس جی بی گنجائش ہے وہ ظرف کہلائے گا۔ آپ کے اندر ظرف تو اتنا بھی نہیں ہے کہ تیس دفعہ آپ کا دل اللہ ہُو کہہ لے اور آپ کہیں جی آپ تو سخی ہیں ریاض الجنہ لے جائیں بس۔ بات کو سمجھو! یہ صرف سخاوت کے اوپر مبنی نہیں ہے۔ جس کی بارگاہ میں حاضر ہونا چاہ رہے ہو اُس کے آنے کے لئے اپنی چوکھٹیں بھی تو اونچی کرو۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 29 دسمبر 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں