کیٹیگری: مضامین

کیا اولیاء کرام عالم ناسوت میں موجود دوسرے سیاروں پر جا سکتے ہیں؟

عالم ناسوت میں مختلف عالم ہیں جیسےاللہ نےسات سیاروں پر انسانوں کو آباد کیا ، پھر وہاں پر ہدایت اور گمراہی کے لئے بھی بندوبست کیا ہو گااور پھر عالم ِارواح میں جو روحوں کے محلے ہیں ان میں بھی ترتیب کچھ مختلف ہو گی کہ کن روحوں کو زمین پر پیدا ہونا ہے اور کن روحوں کو مریخ پر پیدا ہونا ہے ۔جب ہم قرآن شریف میں پڑھتے ہیں کہ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔۔تو ہم یہی سوچتے ہیں کہ اللہ نے بہت سارے عالم بنائے ہیں اور وہ سب کا رب ہے ۔ وما ارسلنک الا رحمت العالمین ۔۔ہم اکیسویں صدی میں رہنے کے باوجود ابھی تک اتنی ترقی نہیں کر سکے کہ ہم یہاں سے دوسرے سیارے مریخ پر جا سکیں ۔لیکن ایک بات ہے کہ صدیوں پہلے ایسا ہوا ہے کہ انسانوں کی کچھ تعداد روحانی سفر کرنے کے بعد اللہ تک پہنچی ، اس سے مراد یہ ہے کہ وہ انسان روحانی طور پر زمین کے مدار سے نکل کر ایک نئے نظام میں داخل ہوئےجسکو عالم ملکوت کہتے ہیں جو نور کا جہان ہے جہاں نوری مخلوق فرشتے رہتے ہیں۔ اِس جہان سے نکل کر عالم جبروت پھر وہاں سے عالم عنکبوت ، عالم لاہوت اور عالم ہاہوت ،پھر عالم وحدت سے گزر کر عالم احدیت تک پہنچ جاتا ہے۔لیکن کسی بھی روحانی ہستی ، اولیاء کرام ، فقراء کو یہ سوچ کبھی نہیں آئی کہ سیارہ زمین سے لوگوں کو اٹھا کر کسی دوسرے سیارے پر لے جائیں جہاں پر ان ہی کے جیسی مخلوق آباد ہے۔
قریب چار یا ساڑھے چار سو سال پہلے نہ جانے کس کی درخواست پر مریخ سے کچھ لوگ زمین پر بھیجے گئے اُن کا مقصد تعلیمات فقرحاصل کرنا تھا۔ اس وقت زمین پر سلطان حق باھو ڈیوٹی پرمامور تھے، اس سے ایک بات تو یہ ظاہر ہو رہی ہے کہ سلطان حق باھو جسمانی طور پرمریخ جانے کے قابل نہیں تھے۔یہ بات اتنی ہی عجیب اور حیران کن ہے جتنی یہ بات ذہن کو متحیر کر دیتی ہے کہ کوئی روحانی سفر کر کے تمام باطنی عالموں سے گزر کر نہ صرف اللہ تک پہنچ سکتا ہے بلکہ اس کو دیکھ بھی سکتا ہے لیکن اُسی انسان کا، اسی نظام شمسی جس میں وہ رہتا ہے اُس کے کسی دوسرے سیارے پر جانا اور رہنا ناممکن ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر سیارے کی آکسیجن مختلف ہے ، وہاں ایٹم کی ویلینسی الگ ہے۔

“سیدنا گوھر شاہی نظام شمسی کے تمام سیاروں پر تشریف لے جا چکے ہیں چاند، سورج، مریخ، عطارد ، ذحل ، مشتری اور وہاں پر جہاں تک ممکن ہوا زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں عشق کی شمع بھی روشن کی ہے۔جب کوئی اللہ کا ولی ہو جاتا ہے تو اللہ کی تجلیات اس پر گرتی ہیں اسطرح اللہ کی ان تجلیات کا ایک دائرہ اس ولی کے چاروں اطراف میں پھیلا ہوتا ہے یہ دائرہ ان لوگوں کو نظر آتا ہے جن کی باطنی آنکھ کھل چکی ہو۔سیدنا گوھر شاہی کی تجلیات کا دائرہ کار اتنا وسیع و عریض ہے کہ جو تمام نظام شمسی پر محیط ہے۔سیدنا گوھر شاہی حاظر و ناظر ہیں اگر حاضر و ناظر کسی کے لیے جچتا ہے تو صرف سیدنا گوھر شاہی کی ذات پر جچتا ہے اور یہ بات ہم انتہائی ذمہ داری اور وثوق سے کہہ رہے ہیں کیونکہ حق کسی کے ثابت کرنے کا محتاج نہیں ،حق اپنا ثبوت خود ہوتا ہے “

سیدنا گوھر شاہی انسانیت کے لئے اُمید کی کرن ہیں :

اللہ بہت بہت بہت عظیم ہے اور بہت ہی قدرت والا ہے سارا جہان اس کا ہے ،وہ ہر جگہ موجود ہے لیکن نظر کہیں نہیں آتا کیا کبھی کسی نے اِس اللہ کو اپنی پکار پر پہنچتے دیکھا ہے ؟ یہ تو ایسا ہی ہو گیا کے پانی پانی تو ہر جگہ ہے لیکن پیاس بجھانے کے لیے ایک قطرہ نہیں ملتا۔اور اِدھر دوسری طرف ایسا پانی ہے جس کو لوگ جانتے بھی نہیں ہیں لیکن جیسے ہی کوئی پیتا ہے پیاس بجھ جاتی ہے، پہچان بڑی بات نہیں ہے بات ہے پیاس بجھاتا ہے یا نہیں ۔

“کسی بھی مشکل وقت میں آپ صرف اتنا کہیں “المدد گوھر شاہی ” اور پلک جھپکنے سے پہلےسرکار گوھر شاہی کی مدد آ پہنچے گی”

اللہ ہر جگہ تو موجود ہے لیکن ہو سکتا ہےکہ وہ سننا نہ چاہتا ہو، نہ دیکھ رہا ہو، یا پھر وہ انسانوں کی مشکلات سے بے پرواہ ہے۔سیدنا گوھر شاہی کو پہچان کا شوق نہیں ہے ،ہم سرکار کا پرچار اس لیے کر رہے ہیں تاکہ سوئے ہوئےلوگوں میں حق کو پہچاننے کی جستجو پیدا ہو۔ کچھ بھی ہو عظمت کا یہ پرچار رکنے والا نہیں کیونکہ سیدنا گوھر شاہی دنیا کے لیے اُمید کرن ہیں ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کی 02 ستمبر 2017 کی یو ٹیوب پر لائیو گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں