کیٹیگری: مضامین

اس آیت کی باطنی تشریح سیدی یونس الگوھر کی بے انتہا کرم نوازی ہے جو قرآن مجید کے وہ سربستہ راز عریاں فرمارہے ہیں جس کی مدد سے دنیا کو عظمت مصطفیٰ سمجھنے میں بہت مدد ملے گی اور اگر اس تفسیر کا نور دل میں چلا جائے تو غیب کے اسرّار بھی عریاں ہو جائیں گے۔

قرآن مجید کی تفاسیر میں مفسرین کی اپنی رائے کی شمولیت:

عالم اسلام کو صدیوں سے موجود مفروضے جس میں قرآن مجید کی جو تفسیر اور تفہیم چلی آ رہی ہے اس سے منہ موڑ کر قرآن کے حقیقی معنی و تفسیر کی طرف مائل ہونے کی ضرورت ہے۔کئی مفسرین ایسے موجود ہیں جنہوں نے اس آیت کا ترجمہ بہت غلط کیا ہے اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ ہر ترجمہ کرنے والے نے انہی مفسرین کی تفسیر کو آگے بڑھایا ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے ۔ جب آپ نے پچھلے مفسرین کے ترجمے کو ہی لکھنا ہے تو پھر قرآن کی نئی تفسیر کرنے کی کیا ضرورت ہے! اسی بناء پر بہت سے لوگ نام نہاد مفسرین بن گئے ہیں ۔ جو مفسرین اس آیت کی تفسیر کررہے ہیں ان کو کم ازکم یہ تو معلوم ہونا چاہیے کہ تفسیر کیا ہوتی ہے ۔اگر آپ نے یہ لکھا ہے کہ محمود آلوسی نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اُس عالم کو یہ تفسیر کہاں سے معلوم ہوئی ہے ، جب زرا تحقیق میں جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ جس تفسیر کا حوالہ انہوں نے لکھا ہے وہ آگے کسی اور مفسر نے لکھا ہے جس کا انہوں نے حوالہ دیا ہے اور اسی طرح نقل در نقل یہ سلسلہ چلا آ رہاہے ۔دورِ حاضر میں مسلمانوں کو اپنی آنکھیں کھولنے کی اشد ضرورت ہے اور اس پر غوربھی فرمائیں کہ ایک طرف تو ہمارے پاس وحی الہی کے نتیجے میں جمع کیا ہوا کلام الہی ہے جس کو ہم قرآن کہتے ہیں اور اس کے بعد ہمارے پاس تحریر کی صورت میں احادیث ﷺ ہیں اور وہ مختلف ادوار کے راویوں سے راوی شدہ ہے ۔اس کے علاوہ ایک تیسری صورت بھی ہے جو خاموشی سے ایمانوں کو تباہ کر رہی ہےوہ یہ ہے کہ جب آپ قرآن کا ترجمہ اور تفاسیر پڑھتے ہیں تو مختلف مفسرین کی اپنی ذاتی رائےبھی اس میں موجود ہے جس کو عام عوام الناس قرآن کا حصّہ سمجھتی ہے ۔ اگر اللہ تعالی نے جہنمیوں کا قرآن میں تذکرہ کیا ہے تو مفسرین نے وہاں بریکٹ میں لکھ دیا ہے کہ یہ اشارہ یہودی اور عیسائیوں کی جانب ہے ۔ جو لفظ سمجھ میں نہیں آیا اس کے آگے لکھ دیا اس سے مُراد قرآن ہے جس کو پڑھ کر عام انسان کو یہی تاثر ملتا ہے کہ شاید یہ قرآن ہی ہے جو ہم پڑھ رہے ہیں لیکن وہ تو مفسرین کی رائے ہے جس کی دین کے معاملے میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جیسے یہ آیت ہے

وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا نَّهْدِي بِهِ مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
سورة الشوری آیت نمبر 52

اگر ایک دوسرے مفسرین کی نقل نہ کرتے تو کوئی تو صحیح مطلب لکھتا،اس آیت میں سب نے ” رُوحًا” کا ترجمہ “کتاب ” لکھا ہے۔اگر آپ قاموس المعنی اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ ” رُوحًا” کا مطلب کتاب ہر گز نہیں ہے۔اگر اہل اسلام یہ چاہتے ہیں کہ ان کا عقیدہ و ایمان درست ہواور وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوں تو پھر اسلام کو سمجھنے کی ذمہ داری جو انہوں نے مولویوں کو دے دی ہےوہ اُنھیں واپس لینا ہو گی ا وراگر دین میں دلچسپی ہے تو خود اِس ذمہ داری کو تحقیق کے زریعے اپنے کاندھوں پر اُٹھانا ہو گا۔یہ کہہ کر بات کو ٹال دیا جاتا ہے کہ ہم کون سے عالم ہیں اگر کوئی مشکل آئے گی تو عالم سے پوچھ لیں گے لیکن اگر عالم نے غلط بتا دیااور آپ گمرا ہ ہو گئے تو پھر یومِ محشر میں کون جواب دے گا۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ عالم کیسے غلط بتا سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر عالم صحیح بتا سکتا تو پھر تہتر فرقے جنم نہ لیتے، یہ فرقے عوام نے تو نہیں بنائے بلکہ انہی علماء نے بنائے ہیں ۔اب اہل اسلام کو تحقیق کی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اُٹھانا ہو گی اور خود مائل ہونا ہو گا۔تحقیق یہ ہو گی کہ چند موضوعات لے لیں جیسے روحانیت ، قلب کا ذکر کرنا،طہارت نفس ،ہدایت کیا ہے ، صراط مستقیم کیا ہے ،ایمان کے قلب میں جاگزیں ہونے کی پہچان کیا ہے ،کونسے علماء کی پیروی کرنا چاہیے اور کس کی پیروی سے دور ہونا چاہیے، ان موضوعات پر خود تحقیق کریں۔جن لوگوں کو انگریزی، اردو، ہندی آتی ہے تو تینوں زبانوں کے ترجمہ اُٹھائیں اور ان کو ملائیں اور دیکھیں کہ وہاں اُن مفسرین نے کیا لکھا ہے ۔یہی حال اس آیت مبارکہ کے ساتھ بھی ہوا ہے کئی مفسرین نے ” رُوحًا” کا مطلب کتاب اور طاہر القادری نے قرآن لکھا ہے ۔

سورة الشوری آیت نمبر 52 میں عظمت مصطفیٰ کا پہلو:

قرآن مجید کی ہر آیت ہر کسی کیلئے نہیں ہے اور اس کا معنی و مفہوم وہ بھی مختلف آیتوں میں سیاق و سباق کے حساب سے بدلتا رہتا ہے ۔سورة الشوری میں الشوری کو اردو زبان میں مشورے سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اس آیت میں کچھ باتیں ایسی ہیں کہ جو انتہائی شد ت سے قرآن کی دوسری آیتوں کی ضد ہے اگر اُن کا باطنی مفہوم و معنی نہ سمجھا جائے تو آپ کو لگے گا کہ تضاد ہے لیکن تضاد ہے نہیں ۔اللہ تعالی نے نبی پاک ﷺ کو خطاب کیا ہے اور کہا وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا اور وہ جو روح ہم نے آپ پراپنے امر سے وحی کی مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ آپ نہ کتاب جانتے تھے اور نہ ایمان جانتے تھے۔ جب نبی پاک ﷺ کی حدیث کو پڑھتے ہیں تو وہاں لکھا ہوا ہے کہ “میں یہاں آنے سے پہلے بھی نبی تھا”۔ اس آیت کے حوالے سے اگر مولویوں کی تفسیر پڑھیں تو گستاخی میں چلے جائیں گے کیونکہ اُن مفسرین کی پہنچ صرف کتابوں تک محدود ہے لہذا اپنی رائے اس میں شامل کر دیتے ہیں ۔اس کی تفسیر میں ابن کثیر ، علامہ عالوسی ، قبرسی نے لکھا ہے کہ یہاں روحا سے مراد قرآن ہے ۔جو حضوؐرکو نور تسلیم نہیں کرنا چاہتے تو جہاں نور کا لفظ قرآن میں حضوؐرکے لئے آیا تو وہاں انہوں نے کہا کہ نہیں یہاں اس سے مراد قرآن ہے جس کی وجہ سے اشکال پیدا ہو گیا۔ جہاں روح کا لفظ آیا جس سے آپ کی عظمت واضح ہو سکے وہاں مفسرین نے کہہ دیا یہاں روح سے مراد قرآن ہے جس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ روح زندگی کی علامت ہے اور قرآن زندہ ہے اس لئے یہ بھی روح ہی ہے۔صرف دورِ حاضر کے مولوی ہی گمراہی نہیں پھیلا رہے ہیں بلکہ ایک بڑی تعداد میں ایک ہزار سال پرانے تفسیروں کے نسخے ملیں گے اس میں بھی ظاہر بین ظاہر پرست مولویوں نے بڑے پیمانے پر لوگوں کو گمراہ کیا ہے ۔اگر وہ علماء جو یہ سمجھتے ہیں کہ حضوؐروحی کے بعد ہدایت پر آئے تو پھر نبی کریم نے کیوں فرمایا کہ میں یہاں اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھا۔اگر حضوؐریہاں آنےسے پہلے بھی نبی تھے تو کیا وہ نبوت معاذا للہ گمراہی کے ساتھ تھی۔ پھر نبی کریم نے یہ بھی فرمایا کہ میں انا من نور اللہ والمومنین من نوری قرآن نے بھی کہا کہ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ اب یہاں اس آیت میں جو اللہ تعالی نے فرمایا کہ
وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِّنْ أَمْرِنَا ۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے امر سے روح وحی کی ۔
مَا كُنتَ تَدْرِي مَا الْكِتَابُ وَلَا الْإِيمَانُ ۔۔۔۔۔اور آپ کو کتاب اور ایمان کا کہاں ادراک تھا۔
وَلَـٰكِن جَعَلْنَاهُ نُورًا ۔۔۔۔۔ہم نے نور کو معین و مقرر کیا ۔
نَّهْدِي بِهِ ۔۔۔۔۔اور اس کے ذریعے ہدایت کرتے ہیں ۔
مَن نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہ لیں ۔
وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ۔۔۔۔۔ اور آپ ہی تو ہیں جو صراط مستقیم کی ہدایت دیتے ہیں ۔یعنی آپ ہی ہیں جو مستحقین کو میرا جلوہ ٴ دکھائیں گے۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے فرمایاہے کہ ہم نے تمھاری روح کواپنے امر سے وحی کیا ۔عمومی طور پر وحی کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ نبیوں کے اوپر جو کلام اُترتا ہے اسے وحی کہتے ہیں لیکن وحی کے لفظی معنی کیا ہیں اس سے نا آشنا ہیں ۔جیسے الہام ہے جس کا مطلب “آنے والی آواز” ہے ۔جہاں اللہ تعالی نے قلب شہید کا تذکرہ کیا ہے وہاں لکھا ہے اُس کے اوپر اِلقا نازل ہوتا ہے اور اُس کے سننے کی صلاحیت بیدار ہو جاتی ہے ۔وحی کا مطلب سریانی زبان (وہ زبان جس میں اللہ فرشتوں سے مخاطب ہوتا ہے ) میں پھونک مارنا ہے ۔عالم غیب میں جب وہ رب سے آ کر ملتےہیں تو “احی یا” کہتے ہیں جس کا مطلب دم کرنا یعنی پھونک مارناہے ۔اس آیت میں وَكَذَٰلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا کا مطلب ہے کہ جوروح ہم نے پھونک کے زریعے داخل کی۔اب مفسرین نےیہاں ” رُوحًا” کا مطلب کتاب لکھ دیا ہے جو کہ غلط ہے ۔جیسے قرآن مجید میں سورة القدر میں آیا ہے کہ

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ

یہاں اس آیت میں اللہ تعالی نے” رُوحًا” کے بجائے ” وَالرُّوحُ” استعمال کیا ہے جس سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ ان دونوں میں فرق ہے ۔” وَالرُّوحُ” مخلوق ہے اور “” رُوحًا” میں خاص بات یہ ہے کہ اس کی حقیقت ہابرڈ ہے یعنی ایک لمحہ ایسا آتا ہے کہ وہ مخلوق پر مبنی ہوتی ہے اور دوسرے لمحے میں وہ خالق ہوتی ہے ۔جس میں یہ خصوصیات ہوں کہ کبھی مخلوق اور کبھی خالق کے رنگ میں ہو اُس کو” وَالرُّوحُ” نہیں بلکہ ” رُوحًا”کہتے ہیں ۔نبی کریم ﷺ میں ” رُوحًا” بھی تھی،اللہ والی روح ۔یہی وہ بات ہے کہ کبھی خود عاشق اور کبھی خود معشوق۔یعنی ہمارا حکم ہوا ہے یہ کہ یا رسول اللہ ﷺکبھی دنیا آپ کو دیکھے تو میں نظر آؤں اور کبھی میں دیکھنا چاہوں تو تُو نظر آئے۔دنیا دیکھے تو تیرے آئینے میں ، میں نظر آؤں اور میں دیکھوں تو تُو نظر آئے۔

دلیل نمبر 1 :

اسی وجہ سے سے نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث ہے کہ جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ

من رانی فقد رای الحق
(صحيح مسلم جلد4، ص1776، حديث 2267)
ترجمہ : جس نے مجھے دیکھا اس نے اللہ کو ہی دیکھا۔

دلیل نمبر 2 :

نبی کریم ﷺ میں ” رُوحًا” بھی موجود تھی اسی لئے قرآن مجید میں کچھ جگہ اللہ تعالی نے جب آپ غلبہ مخلوق کے تحت ہوں تو فرمایا إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ کہ اے محمدﷺ آپ کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے۔ اور جب وہ خالق کے روپ میں ہوں تو فرمایا وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ کہ آپ ہی تو صراط مستقیم کی ہدایت دیتے ہیں ۔

دلیل نمبر 3 :

سیدنا گوھر شاہی نے اپنی کتاب مقدس دین الہی میں “سوچ تو ذرا تو کس آدم کی اولاد ہے ؟” یہ بات کچھ اس طرح رقم فرمائی ہے کہ
“کسی اور آدم کو کسی غلطی کی وجہ سے ایک ہزار سال کی سزا ملی تھی اُسے سانپ کی شکل میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اب اس کی بچی ہوئی قوم جو ایک خاص قسم کے سانپ کے روپ میں ہے ۔ جنم کے ہزار سال بعد انسان بھی بن جاتی ہے اِسے “روحا” کہتے ہیں “۔
یہ آدم کی وہ قسم ہے جو ایک ہزار سال پر اپنی ہیت تبدیل کر سکتا ہے اسی لئے اسے روحا کہا جاتا ہے ، اسے اسی لئے پیدا کیا ہے تاکہ دنیا میں مثال ہو کہ اگر جانور انسان اور انسان جانور میں تبدیل ہو سکتا ہے تو مخلوق خالق میں اور خالق مخلو ق میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے ۔

دلیل نمبر 4:

ایک مشہور روایت ہے کہ ایک دفعہ جبرائیل امین حضوؐرکی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے پوچھا اے جبرائیل ! جہاں سے تو وحی لاتا ہے کیا تُو نے اسے دیکھا ہے کہ وہ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا کہ میں تو بس وحی لے کر آ جاتا ہوں لیکن کبھی دیکھا نہیں ہے میری کیا مجال۔ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اب دیکھنا ہم کہہ رہے ہیں۔جب جبرائیل امین نے وہاں دیکھا جہاں سے وہ وحی لاتے تھے وہ وہاں بھی حضوؐرہی موجود تھے ۔

دلیل نمبر 5:

ایک روایت میں مروی ہے کہ ایک دفعہ حضوؐرپاک اکیلے تشریف فرما ہیں تو بی بی عائشہ آ گئیں ۔ آپؐ نے فرمایا یہ کون آ گیا ہے ۔انہوں نے جواب دیا کہ میں عائشہ ہوں ، تو آپؐ نے فرمایا عائشہ کون ہے تو انہوں نے کہا ابو بکر کی بیٹی ۔تو آپؐ نے فرمایا ابو بکر کون ہے ، تو انہوں نے کہا کہ ابن حاقہ کے بیٹے۔تو نبی کریم نے کہا ابن حاقہ کون ہے ، اسی کیفیت میں وہ واپس چلی گئیں ۔بی بی عائشہ نے آپؐ سے دردیافت کیا کہ یارسول اللہ آپ نے مجھے پہچاننے سے انکار کر دیا تھا تو نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ کچھ اوقات ایسے ہوتے ہیں جس میں میں اور اللہ کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ہے ، یہ وہ وقت ہو گا جس میں تم آ گئی ہو گی ۔یہ وہی روحا کی طرف اشارہ ہے جس کیفیت میں خالق کا غلبہ تھا۔
وہابی تو یہ کہتے ہیں کہ معاذ اللہ حضوؐرنور نہیں ہے جبکہ اس آیت میں اللہ کہہ رہا ہے آپ کی ذات میں نور کو معیّن و مقرر فرما دیا ہے اور جس نور کو معیّن فرمایا ہے اس سے خواص کو ہدایت دیں گے۔پھر آگے فرمایا کہ لَتَهْدِي یہ جو ہدایت ہے وہ عام ہدایت نہیں ہے اس میں موجود لام خصوصیت پیدا کرتا ہے ۔ہدایت کے کئی درجات ہیں اب اگر کوئی گمراہ ہے تو اس کو ہدایت مل گئی یعنی اس کے قلب میں نور آ گیا لیکن صرف نور ہی تو آیا ہے اللہ کہاں ہے یہ نہیں معلوم۔ پھر اللہ کے قرب میں کیسے جانا ہے وہ ہدایت چاہیے۔اب اگر قرب میں بھی چلے گئے لیکن دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہیں توقرب سے اور فاصلہ طے کرنا ہے جس کیلئے ایک نئی ہدایت کی ضرورت ہے۔جسطرح ” الم” کے بارے میں کہا کہ یہ متقیوں کو ہدایت کرتی ہے ،ہم نے تو یہی سنا تھا کہ ہدایت پر وہ نہیں ہے جو گمراہ ہے لیکن اگر کوئی متقی بنا ہوا ہے تو پھر اسے ہدایت کی کیا ضرورت ہے ۔ وہ عام ہدایت سے متقی بنا ہے اب مزید آگے بڑھنے کیلئے خاص ہدایت چاہیے۔ اسی طرح جب اللہ تعالی نے قرآن میں کہا تھا وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدَىٰ۔روحانیت کے حساب سے اگر اس کا ترجمہ دیکھیں گے تو وہ یہ ہو گاکہ جب تیرے اندر طلب الہی کا بپا طوفان دیکھا اور وہ راستہ نہیں مل رہاتھا کہ میں کیسے نظر آؤں تو پھر ہم نے تجھے ہدایت تھی۔ یہاں سورة الشوری میں جس ہدایت کا ذکر فرمایا ہے یہ وہ ہدایت ہے جس کا تعلق دیدار ِ الہی سے ہے۔ جب اس آیت کا ترجمہ کیا تو مولویوں ، صوفیوں اور اسکالروں نے یہ کہہ دیا کہ اس کا مطلب کتاب / قرآن ہے ، پھر یہ بھی کہتے ہیں کہ جو قرآن مجید نبی کریم ﷺ کو دیا گیا اس کیلئے کہا گیا ہےاور آپ کے اندر نور کو مقرر کیا ہے وہ ہدایت دیتا ہے ۔تو یہ جو نور مقرر کیا ہے وہ قرآن کی طرف اشارہ ہے ۔لیکن اگر اس کا یہ مطلب مان لیں کہ وہ نور نبی کریمﷺ کے اندر مقرر کیا گیا اور وہ ہدایت دیتا ہے تو پھر اب نبی کریم ﷺتو پردہ فرما گئے ہیں تو اب اس دور میں ہدایت کیسے میسر ہو گی ! کیا یہ وہی قرآن ہے جو آج ہمارے ہاتھ میں ہے جو نبی کریم ﷺ پر اللہ نے پھونکا تھا؟ لیکن وہ تو صرف 23 سال کیلئے آیا اس سے انسانیت کو کیا فائدہ ہوا ۔ کیا اللہ کوئی ایسا کام کرے گا کہ قرآن صرف حضوؐرپاک کے لئے اُتارا ہے ، قرآن تو انسانیت کیلئے نازل ہوا ہے ۔

اہم اطلاع:

حقیقی طور پر مصطفیٰ ﷺ کے قدم رب کے قدم ہیں اگر کوئی اس بات کہ نہ مانے تو کافر ہو جائے گا کیونکہ اب “روحا” کاراز افشاں ہو گیا ہے۔نبی کریم ﷺ ابتداء سے ہی اللہ کے عشق میں مستغرق ہیں اُن کو ایمان اور کتاب کی کوئی حاجت نہیں ہے۔جبھی اللہ نے فرمایا کہ اے نبیﷺ آپ کو کیا معلوم کہ ایمان و کتاب کیا ہوتا ہے آپ تو میری ذات کے عشق میں مستغرق تھے۔آپ ؐ کو کتاب اور ایمان کی کوئی ضرورت نہیں تھی ایمان تو قلب میں نور کے داخل ہونے کا نام ہے جبکہ محمدﷺ کی فطرت نورہے ۔ جو یہ کہتا ہے کہ آپ کو کتاب اور ایمان کی ضرورت تھی وہ کافر ، مرتد اور گستاخ ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 01 اکتوبر 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کیے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں