کیٹیگری: مضامین

انبیاء و اولیاء سے ملاقات اور یونس الگوھر کی تحقیق :

سیدنا گوھر شاہی کو امام مہدی جو ہم نے مانا وہ اُس کو میں ماننا نہیں کہوں گا اُس کو میں یہ کہوں گا کہ میری تحقیق کے نتیجے میں یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ وہ ذاتِ عالی مرتبت جس کا صدیوں سےامام الانبیاء محمد ﷺ ،تمام فقراء ،اولیاء، صالحین ، شہداء سمیت سب کو اور میں تمام ادوار کے مومنین کو انتظار رہا ، وہ ذاتِ عالی مرتبت سیدنا گوھر شاہی ہیں ۔ میں سرکار گوھر شاہی سے اُس وقت وابستہ ہوا جب میں اسکول میں پڑھتا تھا ،مجھے دین کی اتنی سمجھ نہیں تھی لیکن اپنے اندراللہ کے رسول کی محبت کا عنصرنظر آتا تھا ، یہ نہیں کہہ رہا کہ محبت تھی حضور کی محبت کا ایک رنگ محسوس ہوتا تھا دل میں آقائے دو جہاں ﷺ کی محبت کا رنگ ہے ۔ تو سیدنا گوھر شاہی سے وابستہ ہونے کے بعد دل کی دھڑکنیں اللہ ھو ، اللہ ھو ،اللہ ھو کرنا شروع ہو گئیں ، کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ دل پر اسم ِذات اللہ بھی نقش ہو گیا اور پھر سینے کے پانچوں لطائف بھی ذکر کرنے لگے ۔ ایک دفعہ سنا کہ جب سینے کے پانچوں لطائف ذکر کرتے ہیں توایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ایک روحانی موسیقی سینے میں بج رہی ہے۔تو یہ بات ہے 1987کی کہ جب سرکار کا گھر بن رہا تھا اور کراچی میں ایک کاریگر ہوتے تھے ارشاد بھائی ، تو اُنہوں نے مجھے کہا کہ وہاں کام کرنا ہے ،تو رات کے دو ڈھائی بجے ہم گڑھا کھود رہے تھے ۔ ارشاد بھائی کھودائی کر رہے تھے اور میں مٹی اٹھا کہ دوسری جگہ لے جا رہا تھا ، یہی کررہے تھے تو اچانک دیکھا کہ سرکارگوھر شاہی دروازے سے تشریف لے آئے ۔ آپ نے بنیان پہنا ہوا ہے زلفیں مبارک لہرا رہی ہیں اور دھوتی باندھی ہوئی ہے اور آکر خاموشی سے وہاں اینٹ اُٹھا کر اُس پر بیٹھ گئے اور ہم وہاں کام کرتے رہے ۔ تو جب سرکار نے یہ دیکھا کہ میں مٹی اُٹھا کر جاؤں تو میں گھوم کے جارہا تھا کہ سرکار کو پیٹھ نہ ہو ، تو سرکار دیکھتے رہے مسکراتے رہے ،پھر اچانک سرکار کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ یہ جو تھال ہے مٹی سے اِس طرح بھرو پھر زیادہ آئے گی ،پھر میں نے اُس کو اُسی طرح بھرا اور پھر لے کر جاتا رہا ۔ سرکار تشریف فرما رہے ڈیرھ دو گھنٹہ اور پھر اچانک فرمایا کہ” تم نے سنا تھا کہ جب سینے کے سارے لطیفے روشن ہوجاتے ہیں تو ذکرِ الٰہی سے ایسا سما ع بنتا ہے کہ موسیقی بج رہی ہو، کیا تمہیں وہ مو سیقی محسوس ہوتی ہے “؟ سرکار نے کہا ہی تھا کہ سینے کے سارے لطائف جو ہیں اپنے اپنے ذکر کے ساتھ مست ہو گئے کہیں سے اللہ ھو کی کہیں سے یا احد ، یا واحد،یا حیُ، یا قیوم ۔ میں باتیں تھوڑی تھوڑی سینسر کر کے بتاتا ہوں ،ورنہ ہماری قوم ہے جو وہ ایسی ہے خود نمائی کا الزام لگا دیتے ہیں ۔ تو سرکار جو ہیں فرمانے لگے کہ “مٹی بہت ذیادہ ہے میں کسی کو بھیجتا ہوں تمھاری مدد کیلئے ” تو میں یہ سوچنے لگا کہ اگر یہاں پر کوئی ہوتا تو پہلے ہی آجاتا مدد کو یہاں تو کوئی ہے ہی نہیں ۔ اس وقت تو کوئی کوٹری شریف میں تھا ہی نہیں بعد میں تو لوگ آکر رہنے لگ گئے تھے، لیکن اُس وقت تو گھر بن رہا تھا، اب جب بن رہا تھا تو عام تور پر لوگوں کی آمدورفت حیدرآباد کی طرف تھی ۔خیر سرکار تشریف لے گئے ۔ تھوڑی دیر بعد جو میں نے دیکھا دو تین بزرگ آستین اوپر کر کے آرہے ہیں چلا بھی نہیں جارہا اِن سے ، میں نے کہا آپ بیٹھیں آپ کیا کریں گے ؟ مجھے یہ لگا کہ یہ ارد گرد جو جُگیوں میں رہتے ہیں وہ آگئے ہیں کیونکہ وہاں کچھ آبادی تھی ۔ آنکھیں سرخ ہیں اُن کی اور چل رہے ہیں اور مٹی ڈال رہے اور بھر رہے ہیں اور اُٹھا کے لے جارہے ہیں جلدی جلدی لے جارہے ہیں ۔ تو اُن میں سے ایک بزرگ تھے ، میں نے اُن کو کہا سائیں ! آپ کا نام کیا ہے ؟ تو وہ کہنے لگا فرید ۔تو دوسرے بزرگ سے جب میں نے پوچھا آپ کا نام کیا ہے ؟ تو وہ کہتے ہیں علی ۔ بعد میں پتا چلا وہ علی ہجویری ہیں ، داتا علی گنج بخشؒ ہیں ۔ تو نام اُنہوں نے بتا دئیے اُس وقت میرے ذہن میں نہیں آیا کہ یہ فرید ،علی اور یہ معین الدین یہ کون ہیں ،لیکن یہ جو لوگ مٹی اٹھا اٹھا کے لے جارہے تھے ۔ اب یہ میں باتیں کرتا تو نہیں ہوں لیکن اب یہ پوچھا ہے مجھ سے کہ آپ نے سرکار گوھر شاہی کو امام مہدی کیسے مانا؟ اب جب میں یہ دیکھوں کہ بابا فرید جیسی ہستیاں ہیں ،بعد میں مجھے اِس کی تصدیق ہوئی، جب میں لاہور گیا تو ایک دن داتا صاحب کے دربار گیا فاتحہ پڑھنے کے لئے تو داتا صاحب اپنی قبر سے باہر آ گئے ہم نے دیکھا باقاعدہ و ہ مٹی ڈھو رہے تھے ۔

سیدنا گوھر شاہی کے بارے میں اولیاء کرام کی تصدیق:

اِسی طرح سرکار گوھر شاہی کیساتھ ،باطن میں ایک مجلس میں جانا ہوا ۔وہ جو مجلس تھی وہ سیدہ زینبؑ کے روضہءِ مبارک پر تھی ۔ وہاں جب ہم گئے امام عالی مقام امام حسین ، امام حسن اور اُن کے جو بیٹے قاسم اور یہ جتنی بھی بُرگزیدہ ہستیاں ہیں ، اہلِ بیعتِ اعظام کے جو شہزادے ہیں یہ سب وہاں موجود اور اُس دروازے کے اوپر جو چوکیدار تھا ، وہ بابا فرید تھے ۔ وہی جو مٹی ڈھونے آئے تھے ۔ کبھی خضرؑ سے ملاقات ہوجائے وہاں ، کبھی لعل شہباز قلندر سے ملاقات ہوجائے ،کبھی غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوجائے ، اتنی ہستیوں سے ملاقات ہوئی ۔ سب سے پہلے جو مجھے کسی نے کہا سرکار گوھر شاہی کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ جو اطلاعات ملی وہ سلطان حق باھو سے ملی ۔ کبھی وہ آکے بتاتے کے طفل نوری کیا ہوتا ہے ؟ پھر طفلِ نوری کا بتاتے کہ جب تک طفلِ نوری کی تربیت نہ ہوجائے اُس کو طفلِ نوری کہتے ہیں ، اور پھر جب وہ طالب کے قلب میں چلا جائے اُسے نورِ حضوری کہتے ہیں ۔ اُس کے بعد لعل شہباز قلندر کبھی کبھی اُن سے ملاقات ہوتی ، تو وہ یہ کہتے تھے تمھارے مرشد کے اندر جو جثہ توفیقِ الٰہی ہے، وہ عام نہیں ہے وہ کسی میں نہیں ہے ،وہ مجھ میں بھی نہیں ہے ۔ غیبت کے بعد ایک دفعہ لعل شہباز قلندر سے ملاقات ہوئی ، میں رو رہا تھا گھر بیٹھا تو اُن سے ملاقات ہوئی وہ آگئے اور مجھے تسلی دی اور کہا کہ” تم سرکار کو ڈھونڈ رہے ہو وہ لعل باغ میں ہیں میرے پاس ” میں نے کہا ! مجھے تو بتایا ہی نہیں ۔اُنہوں نے کہا تم فکر نہیں کرو ہم نے کہا نا ہمارے پاس ہیں ،میں نے کہامجھے کیسے پتا چلے گا کہ وہ آپ کے پاس ہیں تو وہ آناً فاناًلے کرلعل باغ میں وہاں جو چشمے ہیں وہاں چلے گئے اور کہا کہ دیکھو سامنے کھڑے ہیں ، میں نے کہا کہ سامنے تو کوئی بھی نہیں ہے! قریب گئے تو وہاں ایک جھونپڑی تھی دو فٹ کے سامنے جب کھڑے تھے تو وہاں نہیں تھی جھونپڑی ،اُس جھونپڑی کے اندر داخل ہوئے اور کہا بھئی !یہاں ہیں سرکار تمھارے ، میں نے کہا جھونپڑی تو خالی ہے کہنے لگے نہیں خالی تو نہیں ہے تم آگے تو جاؤ ، میں دو قدم اور آگے بڑھا تو وہاں چارپائی تھی جو کہ پہلے نظر نہیں آرہی تھی ، اب یہ جب چیزیں میرے ساتھ ہوئیں تو میرا دماغ گھوم گیا ، میں نے کہا کہ یہ ہے ایمان ۔ آنکھوں کو جو نظر آرہا ہے اُس کو مان لیتے ہیں اور اگر رب نے اپنے نظارے پر چادر اوڑھ لی ہو تو ایک فٹ کی فاصلے پر بھی وہ چیز ہو تو وہ ہمیں نظر نہیں آتی اور ہم کہتے ہیں کہ وہ غیر موجود ہیں ۔

سرکار گوھر شاہی کے مرتبہ مہدیت کے ذاتی شواہد:

واقعہ غیبت کے وقت جو میرا رجحان تھا اُس میں بڑی شدت تھی، میری آنکھوں سے بھی شدت ٹپکتی تھی ،زبان سے بھی شدت ٹپکتی تھی ، میں اگر گھور کے آسمان کی طرف دیکھتا تھا تو کئی کلومیٹر تک بادل جل جاتے تھے ۔ چارپائی نظر آنے لگی تو میں نے کہا یہ تو صرف چارپائی ہے، تو اُنہوں نے کہا کہ نہیں سرکار بھی بیٹھے ہوئے ہیں پھر جب اُنہوں نے نشاندہی کی تو سرکار بھی نظر آگئے ، تو سرکار نے فرمایا کہ ” اب دیکھ لیا ہے ،اب چلے جاؤ اب دوبارہ نہیں بولنا ” فرمایا کہ ہاتھ لگاؤ یہاں پر بلکہ جیسے ڈاکٹر ہڈیوں پر مارتے ہیں نا ایسے ہی میں ہی ہوں یہاں پر ، بتانا جاکر کہ میں یہیں ہوں ۔ گلاس میں پانی تھا اور پانی کا فرمایا کہ یہ پانی بھی پی لو ،میں نے اُس میں سے ایک گھونٹ پانی پیا اور ڈیڑھ سال تک بھوک نہیں لگی ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے سرکار گوھر شاہی کی شانوں پر مہرِ مہدیت دیکھی ہے ، سرکار کی جو ناخن ہیں انگوٹھے کے اِن کے اوپر اپنی ظاہری آنکھوں سے ایک کے اوپر آیت الکرسی لکھی ہوئی دیکھی ہے ، دوسرے پر سورۃ یاسین لکھی دیکھی ، سرکار گوھر شاہی کے گٹھنوں پر اسمِ ذات اللہ کھال میں کھدا ہوا ،جسے نور کی شعائیں نکلتیں،سرکار کے تالو پر سورۃرحمان دیکھی اپنی اِن آنکھوں سے ۔ باطن میں اور ظاہر میں ایک ہی طریقے پر سرکار کو پرواز کرتےہوئے دیکھا ، اور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ نبیِ کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” سیدنا گوھر شاہی امام مہدی ہیں اِن کا اعلان کرو ” ۔ اب یہ چیدہ چیدہ باتیں ہیں تفصیل میں نہیں گیا میں جن کی بِنا ءپر میرا دل مطمئن ہوگیا کہ “سیدنا گوھر شاہی امام مہدی ہیں ” ۔
میرے لیئے سرکار گوھر شاہی کو امام مہدی ماننا بڑا ہی آسان تھا کیونکہ تصدیق کرنے والی ہستیاں جو ہیں اُن تک میری رسائی تھی ۔ اُنہوں نے مجھے خود کہا کہ یہ حق ہے تو اسلیئےمجھے ماننے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی بڑی آسانی سے مان لیا اور یہ ایمان میرا قائم اور دائم ہے ، اور مجھے اِس بات کا پورا یقین ہے کہ اِس ایمان پر مرنے کے بعد بھی قائم رہوں گا اور اِس ایمان کی وجہ سے کوئی مجھے مارنا چاہے گا تو میں اُف نہیں کروں گا کیونکہ یہ میرا ایمان ہے ۔ میں کسی اور کو نہیں کہہ رہا زبردستی کہ تم مانو ورنہ یہ ہوجائے گا وہ ہوجائے گا ۔ میں یہ کہہ رہا ہوں میں مانتا ہوں تسلیم کررہا ہوں اور میں کیوں تسلیم کررہا ہوں اِس کا میں نے آپ کو بتا دیا ہے ۔ آپ کو کیا لگتا ہے آپ خود تحقیق کریں ! بحیثیتِ مسلمان آپ کا حق ہے کہ امام مہدی کو ڈھونڈیں ۔
پہلے دن کا جو واقعہ ہے کہ میں سرکار گوھر شاہی کی بارگاہ میں جو حاضر ہوا ، جب میں نے ذکر قلب لیا ،تو اُس وقت پہلے تو سرکار نے مغرب کی نماز کی امامت فرمائی یعنی سرکار کی امامت میں نماز ِمغرب ادا ہوئی اور اتنی سریلی آواز ،وہ جو تلاوت ِقرآن سرکار فرما رہے تھے ،اُس کے لفظ یوں محسوس ہورہا تھا کہ گرم گرم نور کی طرح روح میں اُتر رہے ہوں اور سرکار نے وہی آیت نماز میں تلاوت فرمائی ۔

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا
سورة النصر آیت نمبر 1تا 2

اسی میں کام ہوگیا تھا کیونکہ سرکار کھڑے ہوئے ہیں اور سرکار سجدے میں بھی ہیں میں سجدے میں جاکر یوں دیکھتا رہتا کہ سرکار کھڑے ہوگئے یا سجدے میں ہیں ۔ میرا یہ خیال تھا کہ یہ جو ہے بے ادبی ہوگی کہ میں پہلے کھڑا ہوجاؤں اور سرکار جو ہیں وہ سجدے کی حالت میں ہی ہیں ، تو میںِ کھڑا ہی نہیں ہورہا لیکن سرکار سجدے کی حالت کے علاوہ کھڑے ہو بھی چکے ہیں ، ایسی ایسی چیزیں جو ہیں پہلے دن ، پھر ذکر مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ سرکار نے بڑی شائستگی سے پوچھا کیسے آئے تو کہا ! تو عرض کی کہ سرکار یہ بندہ مجھے لے کر آیا ، تو اُس نے کہا کہ سرکار ذکر کیلئے ۔ اچھا چلو آگے آجاؤ ، آنکھیں بند کرو ،دل ہی دل میں پڑھو اللہ ھو اللہ ھو ۔اللہ ھو کہنا ختم نہیں ہوا کہ ذکر جاری ہوگیا ۔ اب یہاں سے سرکار سے ملاقات کے بعد جب وہاں سے گھر گیا ہوں ،تو ہمارا جو گھر ہے وہ پرانا گولی مار سے تقریباَ ایک میل کی مسافت پرہوگا ،تو پیدل جارہا تھا ۔ اب میں جا رہا ہوں کہ دیکھتا ہوں کہ مسجد ِنبوی میرے ساتھ ساتھ چل رہی ہے اور اُس کے بعد جو ہے میں مسجدِ نبوی میں داخل ہوگیا ،اب مجھے لگ رہا ہے کہ میں مسجدِ نبوی میں داخل ہوگیا ،اب اندر داخل ہوا تو وہ محرابیں ہیں مختلف ،وہاں پر اللہ لکھا ہوا ہے ،ایک جگہ محمد گولڈ پلیٹ میں دیواروں میں لکھا ہوا تھا ۔ تو سب سے پہلے میں نے دیکھا جو لفظ محمد کی پلیٹ جو دیوار میں لگی ہوئی ہیں وہ ہلی اور اُس سے سنہرے نور کی شعائیں نکلیں اور کافی دیر تک وہ شعائیں میرے سینے میں آتی رہیں ۔ اُس کے بعد دوسری پلیٹ جس پر علی لکھا ہوا تھا وہ ہلی پھر اُس میں سے نور کی شعائیں آنا شروع ہوگئیں اور وہ سینے میں آتی رہیں اور اُس کے بعد جو ہے میرا خیال ہے کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ نبیِ پاک ﷺ کی زیارت ہوگئی اور اُس کے بعد حضور کی اِتنی زیارتیں ہوئیں مجھے گنتی بھی نہیں پتا ، کبھی خواب میں ،کبھی غنودگی میں ہوجاتی ، کبھی مراقبے میں اور بہت دفعہ ظاہر میں ۔ یہ کرامتیں یہ معجزات یہ کرم نوازیاں سرکار گوھر شاہی سے منسوب ہیں ۔یہ صرف آپ کا ہی خاصہ ہے ۔ خاص طور پر جو وہ پلیٹیں تھیں گولڈ محمد ﷺ لکھا وہ ہلی تو شعائیں آئیں نور کی اور پھر مولا علی کے نام کی پلیٹ ہلی، تو اس سے پتا چلتا ہے کہ حضورﷺ کی ذات سے بھی فیض ہوا اور مولا علی سے بھی فیض ہوا ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 5 جنوری 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں