کیٹیگری: مضامین

کافرین اور منافقین میں فرق:

کافرین کا طبقہ:

سورة المنافقون مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔ حضورؐکے زمانے میں ابتدائی طورپردوطرح کے ہی لوگ تھے۔
1۔ ایک وہ طبقہ تھا کہ جوانکاری رہا، جنہوں نے دینِ اسلام اورنبی پاکؐ کوجھٹلایا تووہ لوگ کفار کہلاتے ہیں۔
2۔ دوسرا طبقہ وہ تھا کہ جودینِ اسلام میں داخل ہوگیا۔ ہم یہاں پرایک بہت اہم باریک نکتہ بیان کرنا چاہتے ہیں کیونکہ علمائےکرام نے اُس نکتے کے حوالے سے عوام الناس کوغلط اطلاع دی ہے مثلاًیہ کہ بہت سارے یہودی جوکہ اسلام اورنبی کریمؐ کے مخالف تھے۔ وہ لوگ بھیس بدل کرآتے اورکہتے کہ ہم اسلام قبول کرنا چاہتے ہیں اوروہ بظاہراسلام قبول کرلیتے، کلمہ بھی پڑھ لیتےاورکہتے کہ ہم مسلمان ہیں اورموٴمن ہوگئے ہیں لیکن یہ اُن کی نیت نہیں تھی۔ وہ توجاسوسی کیلئے آتے تھے اورنیت کرکےآتے تھےکہ ہم نےایمان نہیں لانا اوراسلام قبول نہیں کرنا ہےلیکن ہم نے محمد الرسول اللہ اور آپؐ کےرفقاء کویہ تاثردینا ہےکہ جیسےہم نےاسلام قبول کرلیا ہے۔ اس طبقے کوعلمائےکرام نےمنافق کہا ہے۔ لیکن وہ منافق نہیں تھے بلکہ کافرتھے۔ مسلمانوں کےسامنے آکرکہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور تمہارے ساتھ ہیں اورجب وہ اپنےکافردوستوں کے پاس جائیں اورکہیں کہ دیکھا ہم نےاُن کوکیسا دھوکہ دیا تو یہ منافقت کہاں ہے بلکہ یہ تودھوکہ ہے۔ اِن کومنافق نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ کافرہیں۔

منافقین کا طبقہ:

1۔ ایک منافقوں میں طبقہ وہ تھا کہ جوایمان لایا اورجب مشکلات پڑیں تووہ اندرسےٹوٹ گیا۔ جب امتحانوں میں پڑا توپھراُس کا جواندرتھا وہ اتنا مضبوط نہیں تھا۔ اُس نے کہا کہ وہ ایسے ہی ٹھیک ہے۔ جب امتحان میں پڑنے کےبعد اُن لوگوں نے اپنا ذہن بدلا ہے اُس کے بعد اللہ تعالی نے اُن کے دلوں پر مہرلگادی۔ ایک گروہ منافقین کا وہ ہےجوایمان لائے لیکن پھرامتحانوں میں زلیل وخوار ہو گئے، اندرونی طورپرانہوں نےاپنی ذمہ داریاں بدل لیں اور وہ امتحانوں میں کامیاب نہیں ہوئے کیونکہ اُس وقت جومسلمان ہوتا جاتا تھا توسارے قبیلے اُس کا سماجی بائیکاٹ کردیتے تھے، لوگوں سے میل جول ختم ہوجاتا، کاروبارختم ہوجاتا اورجولوگوں کی قبائل کےاندرعزت تھی وہ عزت خاک میں مل جاتی۔ اب یہ جوبہت سارے مسائل تھےاِن تمام مسائل کوبرداشت کرنا اوراُس کے باوجود بھی اسلام پر ثابت قدم رہنا یہ ایک کڑا امتحان تھا۔ جواِس میں کامیاب رہتے تھے اللہ تعالی اُن کومضبوطیِ ایمان عطا فرماتا تھا۔ جن لوگوں کے اِن معاملات میں پاوٴں اُکھڑجاتے تھے اوراُن کا ارادہ متزلزل ہوجاتا تھا توپھروہ لوگ منافقوں کےزمرے میں آئےکہ پہلےاُنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اوراچھی نیت کے ساتھ کیا تھا یعنی کوئی دھوکہ دینے کیلئے نہیں آئے تھے لیکن بعد میں جو مشکلات پیش آئیں وہ اُس کےمتحمل نہیں ہوسکے۔ جیسےہمارے ساتھ مشکلات ہیں توجب ہم کہتےہیں کہ ہم سرکارگوھرشاہی کے ماننےوالے ہیں توبلاوجہ ہرمسلمان ہم سےکترانے لگتا ہے، ہمارا سماجی بائیکاٹ کردیتا ہے، ہم سے کوئی لین دین نہیں کرنا چاہتا لیکن ہم جوکچھ بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کریں اُس کے باوجود بھی وہ محفلوں میں آکرگالیاں دیتا ہے۔ اسی طرح کا ماحول وہاں تھا کہ جب کوئی دینِ اسلام قبول کرلیتا تھا توپھریہ مسائل پیش آتے۔ ہرانسان کا ایک سماجی دائرہ ہوتا ہے جس میں اُٹھتا اور بیٹھتا ہے اوراُس کےدوست ہوتےہیں اورپھرایک وقت آتا ہےکہ جب وہ نیا دین اختیارکرلیتا ہے توجو اُس کا سماجی دائرہ ہے وہ اُس کواپناتا نہیں ہے توپھروہاں سے اجتماعی طورپرظلم وستم شروع ہوجاتا ہے۔ یہی حال وہاں ہوتا تھا کہ جواِس کےمتحمل ہوجاتے تھے، جواِس کوبرداشت کرلیتے تھے اور جن کواپنے دوستوں اورسماجی دائرے سے زیادہ اپنا ایمان زیادہ پیارا تھا تواللہ تعالی اُن کوثابت قدمی عطا فرماتا۔ ایک تویہ لوگ تھے جومشکلات کا سامنا نہ کرسکے اورپھسل گئے۔ یہ منافقین کا طبقہ ہوگیا۔
2۔ منافقین کا دوسرا طبقہ اصل منافقین کا ہے۔ یہ جولفظ نفاق ہے یہ نفق سے نکلا ہے۔ اگرآپ دبئی وغیرہ سے سرنگ (زمین دوزراستہ) سے گزرے ہیں توسرنگ کےباہرنفق لکھا ہوتا ہے۔عربی زبان میں نفق سرنگ کوبولتے ہیں کہ ایک طرف سے داخل ہواوردوسری طرف سےنکل جائے۔ منافق اُسے کہتے ہیں کہ جس کے دل میں سُرنگ ہو کہ وہ نور آئے اور نیچے سے نکل جائے۔ نفق یہ ہوتا ہے کہ جسطرح کسی کے دل کی سرجری اور بائی پاس ہوتا ہے توپاوٴں سے نس کا حصہ کاٹ کے وہ دل میں لگادیتے ہیں۔ اسی طریقے سے شیطان اِن لوگوں کے اوپرنارکا ایک ایسا خرطوم اُس کے دل کو باندھ کربٹھا دیتا ہے کہ جوبھی نورآرہا ہے وہ اُس سے ہٹ کرضائع ہوجاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل کے گرد جوایک لاکھ اسی ہزارزنارہوتے ہیں وہ زائل نہیں ہوسکتے۔ اب یہ ہوا کہ حضورؐ کے دورمیں ظاہری طور پرتوبہت سارے لوگوں نے دینِ اسلام قبول کرلیا تواب ایک مرحلہ طےہوگیا کہ اُنہوں نے کلمہ پڑھا اورحلقہ بگوشِ اسلام ہوگئے، مسلمان بن گئے اوراسلام میں داخل ہوگئے۔ ابھی تو انہوں نے حضورؐ کی صحبت اختیارکرنی تھی اورحضورؐکی صحبت میں رہ کرحضورؐکی محبت سیکھنا تھی اورنبی پاکؐ کی صحبت میں بیٹھ کرابھی توانہوں نے تزکیہ نفس کرنا تھا اورحضورؐ کی نظروں سے ابھی توانہوں نے اپنے قلوب کوبیدارکرنا تھا لیکن ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا تھا۔ سیدنا سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ

حضورپاکؐ کوتین طرح کا علم حاصل ہوا۔ ایک عام کیلئے، ایک خاص کیلئے اورایک صرف اُن کیلئے۔ عام علم دوہوگئے جن میں ایک ظاہری علم اورایک باطنی علم یعنی دل والا علم۔ جنہوں نے ظاہری علم کےساتھ ساتھ باطنی علم بھی حاصل کیا وہ صحابی یا رسول اللہ کہلائےاورولیوں سے بھی اعلیٰ مقام حاصل کرکے چلےگئے۔ جنہوں نےحضورپاکؐ کےدورمیں ظاہری علم کے اوپرہی قناعت کی وہی منافق ہوئے۔

یہ منافق وہ ہیں کہ جن کے اندردل والا علم سرائیت نہیں کرتا ہے۔

سورة المنافقون میں منافقین کی نشانیاں:

إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ یا رسول اللہ! جب یہ منافقین تیرے پاس آتے ہیں۔ قَالُوا توکہتے ہیں نَشْهَدُ کہ ہم شہادت دیتے ہیں۔ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللَّـهِ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اب اللہ فرماتا ہے کہ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ اور اللہ کومعلوم ہے کہ آپ اُس کے رسول ہیں۔ وَاللَّـهُ يَشْهَدُ اوراللہ شہادت دیتا ہے إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ کہ یہ جو منافقین آکرکہہ رہے ہیں کہ آپ اللہ کےرسول ہیں یہ سارے کے سارے کاذب ہیں یعنی جھوٹ بول رہے ہیں۔ جھوٹ کیا بول رہے ہیں کیونکہ بات توانہوں نے حضورؐ کے حوالے سے صحیح کہی کہ وہ اللہ کے رسول ہیں لیکن یہ سچ بولنا بھی اللہ کے نزدیک کذب ہوگیا۔ کذب اس لئے ہوگیا کیونکہ صرف زبان کہہ رہی ہے لیکن اندردل تسلیم نہیں کررہے۔ جسطرح ہمارے اوپرلوگ بہتان لگاتے ہیں کہ یہ قادیانی ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ لآ اِلَهَ اِلّا اللّهُ مُحَمَّدٌ رَسُوُل اللّهِ ہم قادیانیوں اوراحمدیوں پرلعنت بھیجتے ہیں کیونکہ جوختمِ نبوت کا منکرہے وہ کافرہے۔ لیکن ہماری ان باتوں کے باوجود بھی لوگ ہمیں کافراورقادیانی کہتے ہیں۔ یہ دل کی بیماری ہے۔ اب اللہ تعالی یہ فرمارہا ہے کہ منافقین آپ کے پاس آکرکہتےہیں کہ ہم شہادت دےرہےہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اوراللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم کومعلوم ہےکہ آپ اللہ کےرسول ہیں لیکن اللہ اِس بات کی شہادت دیتا ہے کہ یہ جومنافقین کہہ رہے ہیں آپ اللہ کےرسول ہیں یہ جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ انکی صرف زبان کہہ رہی ہے اِنکا دل نہیں کہہ رہا۔
جسطرح محمد یونس الگوھر نے واقعہ غیبت سے پہلےہی سرکارگوھرشاہی کےمرتبہ مہدی کا علم اُٹھا رکھا تھا اورغیبت آنے سے فرق یہ پڑا کہ اُس پرچارِ مہدی کی تحریک اورشدّت میں صرف اضافہ ہوا۔ جولوگ پہلے ہماری اِس تحریک کوجھٹلاتے رہے، جھوٹ بولتے رہے اوربہت بڑے بہتان لگاتے رہے لیکن جب آج اُنہوں نے دیکھا کہ یہ گزشتہ بیس سال سے لگے ہوئے ہیں اوراب پوری دنیا میں یہ پھیل گئے ہیں اوریہ مشن عروج اورترقی پرجارہا ہے تواب وہ بھی لوگوں کوبیوقوف بنانے کیلئے کہتے ہیں کہ ہم بھی مانتے ہیں کہ سرکارگوھرشاہی امام مہدی ہیں۔ اوراُس کےجواب میں ہم کہتے ہیں کہ ہاں ہمیں معلوم ہے کہ سرکارگوھرشاہی منجانب اللہ امام مہدی ہیں لیکن یہ جوانجمن والے ہیں یہ کاذبین ہیں۔
قرآن نے منافقوں کی ایک اورنشانی بیان کی ہے کہ اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً کہ یہ جوقسمیں کھاتے ہیں اِن قسموں کواپنی ڈھال بنا رکھا ہے۔ آپ دیکھیں گےکہ بات بات پرلوگ قسمیں کھاتے ہیں کہ اللہ کی قسم، حضورپاکؐ کےگنبدِ خضرا کی قسم اوربارباریقین دلانے کیلئے قسمیں کھاتے ہیں۔ اسی لئے دینِ اسلام میں قسم کھانا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ایک حدیث شریف میں آیا ہےکہ جوزیادہ قسمیں کھاتا ہے وہ جھوٹا ہوتا ہے۔ ہربات میں قسم کھانا اورمنافق اپنے موٴمن ہونے کے بارے میں قسمیں کھاکرصحابہ کرامؓ کویقین دلاتے ہیں۔ فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ کہ درحقیقت یہ اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ کہ جوکچھ یہ کررہے ہیں بہت ہی برُا کر رہے ہیں۔

منافقین کے مختلف واقعات:

کراچی پاکستان میں سیدنا امام مہدی گوھرشاہی کوامام مہدی کہہ کرمُکرجانا:

تاریخ کے اوراق اُٹھا کرآپ دیکھیں توآپ کومعلوم ہوگا کہ غیبت سے پہلے جوسرکارگوھرشاہی کے ماننے والوں میں ایک ذاکرین کی بڑی تعداد تھی وہ کُھلے عام ببانگِ دہل یہ کہتے تھے کہ سرکار گوھر شاہی امام مہدی ہیں۔ اسی طرح کراچی میں ایک شخص بہادرعلی تھا جوسڑک پرہزاروں کے ہجوم میں کھڑے ہوکرلاوٴڈ سپیکرپرکہا کہ وہ سرکارگوھرشاہی کوامام مہدی مانتا ہے۔ جب غیبت کے بعد ہم (یونس الگوھر) اُن کے پاس کراچی گئے اورکہا کہ پرچارِمہدی کی تحریک میں ہمارا ساتھ دو تو اُس نے کہا کہ وہ سرکارگوھرشاہی کوامام مہدی نہیں مانتے۔ ہم (یونس الگوھر) نے اُس کویاد دلایا کہ کراچی میں ایک بہت بڑا مجمع ہوا اور جلوس نکلا ہوا تھا جس میں ہزاروں لوگ اور پولیس والے کھڑے ہوئےتھے توآپ کواُس وقت ڈرنہیں لگا تھا اورآپ نے ببانگِ دہل کہا تھا کہ میں سرکار گوھر شاہی کوامام مہدی مانتا ہوں توآج کیا وجہ ہوئی کہ آپ اپنے ہی اُس دعوے کے خلاف بات کررہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اُس وقت وہ غلطی پرتھے۔

پرچارِامام مہدی کرنے پرپتھراوٴ:

پاکستان میں 2004 میں جب ہم گجرات میں تھے تووہاں انجمن سرفروشانِ اسلام کے لوگوں نے پولیس والوں کوبلالیا اورکہا کہ یہ گوھرشاہی کوامام مہدی مانتے ہیں توپولیس ہمارے لوگوں کواُٹھا کرلے گئی اوروہ پولیس اسٹیشن چلے گئے لیکن ایم ایف آئی کا کوئی بندہ نہیں ڈرا، وہ وہاں پرگئے توانجمن سرفروشانِ اسلام کے لوگوں نے وہاں کاغذ پرلکھ کر دیا کہ انجمن سرفروشانِ اسلام سرکار گوھر شاہی کوامام مہدی نہیں مانتی اورایم ایف آئی کے لوگوں نے لکھ کردیا کہ ہماری گردنیں اُتاردو لیکن ہم سرکار گوھر شاہی کےوفادارہیں، ہم سرکارگوھرشاہی کو امام مہدی مانتے ہیں اورمانتے رہیں گے چاہے تم ہمیں ماردو۔ پھراُس کے بعد فیصل آباد میں انجمن سرفروشانِ اسلام نے مسجدوں میں اعلان کروادیا کہ یہ ایم ایف آئی والے گستاخِ رسول ہیں اور یہ گوھر شاہی کوامام مہدی کہتے ہیں۔ ڈھائی سو، تین سوافراد جن میں مرد، عورتیں اورچھوٹے بچے بھی تھے وہ سرکارگوھرشاہی کی تصاویر والے بینر بنا کر کھڑے ہوئے ہیں اوروہاں سے مولویوں کا پتھراوٴ ہو رہا ہے لیکن کسی کوبھی پتھرنہیں لگا اورپتھراوٴ کے بیچ میں ہیں۔ اب وہ لوگ اگرآج کہیں کہ ہم سرکارگوھرشاہی کوامام مہدی مانتے ہیں تو سوچوہے کھاکر بلی حج کوچلی والی بات ہوگئی۔ جو روحانیت کی بات تو کرتا ہو، جو ذکرِقلب کی بات توکرتا ہولیکن سرکارگوھرشاہی کی عظمت کی بات اُس کوبرداشت نہ ہوتی اوراُس کے تَن بدن میں آگ لگ جائے تواُس سے بڑا منافق اورمردود کون ہوگا! ذکرِقلب اورباطنی تعلیم سے تو پریشانی نہیں لیکن سرکارگوھرشاہی کے نام سے تمہیں کیا پریشانی ہے، سرکارگوھرشاہی نے تمہارا کیا بگاڑا ہے اورپھراُس کے بعد محمد یونس الگوھر کے کتنے دشمن بن گئے اور گالیاں دیتے ہیں، صرف اس لئے کہ میں (یونس الگوھر) سیدنا گوھرشاہی کی عظمت کا پرچارکرتا ہوں اور میری زندگی کا مرکز و محور سرکار گوھر شاہی کی ذات ہے، ورنہ ہم نے کسی کا کیا بگاڑا ہے! انجمن سرفروشانِ اسلام میں کم سے کم ساڑھے ستانوے فیصد زکوٰة کے مطابق منافق ہوئے۔ یہ طریقت کی زکوٰة ہے کہ اگر سوماننے والے ہیں توساڑھے ستانوے فیصد اُن میں سے منافق ہونگے تو جو ڈھائی فیصد لوگ باقی رہ گئے ہیں وہ سارے میرے (یونس الگوھر) کے پاس آکرلگ گئے۔

سیدنا امام مہدی گوھرشاہی کی ذات سے بغض رکھنا:

1996 میں سرکارگوھرشاہی نے نشترپارک کراچی پاکستان میں خطاب فرمایا اورکُھلے عام فرمایا کہ اب تھوڑی امام مہدی کے بارے میں بھی بات کرلیتے ہیں اورفرمایا کہ امام مہدی کے بارے میں بھی بہت شوراُٹھا ہوا ہے۔ اس بات کوچوبیس سال ہوگئے ہیں۔ پھر سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنے علم کی روشنی میں کہا ہے کہ امام مہدیؑ کا ظہور ہونے والا ہے۔ اُس کے بعد سرکار گوھر شاہی نے شیخ ناظم کا نام لیا اورفرمایا کہ لندن میں ایک شیخ ناظم ہوتے ہیں اُن کوعلمِ استخارہ پرعبور حاصل ہے، اُن کوسرکارگوھرشاہی نے ولی نہیں کہا لیکن آج پاکستان میں بہت سارے انجمن والے ذاکرین شیخ ناظم کوولیِ کامل کہہ رہے ہیں۔ پھر تمہارے مرشد تو گوھر شاہی نہیں ہیں کیونکہ تم توسرکارگوھرشاہی کے خلاف بول رہے ہو۔ یہ گمراہ ترین لوگ ہیں جن کو سرکار گوھر شاہی سے مطلب نہیں تواب اِن کو یہ لگ رہا ہے کہ اِس موضوع کواُٹھاوٴ، اپنا یوٹیوب چینل بناوٴاوراچھے سارے اِن کودیکھنے والے بن جائیں تاکہ اِن کا روٹی پانی چلتا رہے۔ اُس تقریرمیں سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ شیخ ناظم نے دس ہزارامریکن کو مسلمان بنایا، یہ تونہیں فرمایا کہ موٴمن بنایا اوریہ تو نہیں فرمایا کہ مُرید بنایا۔ اگرسرکارگوھرشاہی اُسکو ولی تسلیم کرتے ہیں توپھریہ فرمائیں گے کہ دس ہزارامریکن کواُس نے مرید کیا لیکن آپ نے فرمایا کہ اُس نے دس ہزارامریکن کومسلمان بنایا۔ شیخ ناظم کوانجمن والے کہتے ہیں کہ وہ ولیِ کامل ہے۔ انجمن سرفروشانِ اسلام میں جوذاکرین نے پرچار کیا ہے وہ شیخ ناظم، واصف علی واصف اور پیرکاکی تاڑصفدرحسین کا پرچارکیا ہے لیکن جب سرکار گوھر شاہی کا نام آتا ہے توانجمن والوں کوسانپ سونگھ جاتا ہے۔ وہ ذکرِقلب کے فضائل بیان کرتے ہیں، رسول اللہ کی نعتیں بھی پڑھتیں ہیں اور غوث پاک کے بھی دیوانے ہیں لیکن اِن کواگر بغض ہے تووہ سرکارگوھرشاہی کی ذات سے ہے۔ اب یہ لوگ منافق نہیں ہیں توکون ہیں!
سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ شیخ ناظم جن کوعلمِ استخارہ پرعبورحاصل ہے اُنہوں نے بھی اپنے علم کی روشنی میں کہا کہ امام مہدی کا ظہورہونے والا ہے۔ اُس کے بعد اپنے مخصوص اندازمیں آوازِ گوھر شاہی اور اپنے مخصوص اندازمیں صوتِ مبارک چہکی اور فرمایا کہ وہ توکہتے ہیں کہ ظہورہونے والا ہے لیکن ہم کہتے ہیں کہ امام مہدی کا ظہور ہوچکا ہے اور وہ تمہارے ہی پاکستان میں ایک دینی جماعت کے رہبرہیں اورولیوں کواُن کا چہرہ دکھا دیا گیا ہے کہ یہ تمہارا امام مہدی ہے۔ اب اللہ تعالی اُن کیلئے بندوبست کررہا ہے کہ پوری دنیا میں اُن کومتعارف کرائے، یہ 1996 کی بات ہے۔ اب جوسرکارگوھرشاہی نے فرمایا کہ پاکستان میں ایک دینی جماعت کے رہبرہیں تووہ دینی جماعت کونسی تھی! کیا انجمن سرفروشانِ اسلام کے لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ وہ ہماری جماعت تو ہو ہی نہیں سکتی تووہ سرکارکوئی اور جماعت کا ذکرکررہے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں پرمنافقین نے سیدنا گوھر شاہی کی راہ میں روڑے اٹکائے اوریہ اپنے ایمانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

منافقین کا نئے بھیس میں لوگوں کوگمراہ کرنا:

1994 میں جب روزنامہ جنگ لندن سے RAGS انٹرنیشنل کے ذریعے خبرشائع ہوئی کہ چاند میں سرکارگوھرشاہی کا چہرہ نمایاں ہوگیا ہے۔ پھرسرکارگوھرشاہی کے نام سے بقلم خود یہ خبراخبار میں آتی ہے اورعارف میمن اوروصی محمد قریشی سے پاکستان میں صحافی پوچھتے ہیں کہ چاند میں چہرے کے بارے میں وضاحت کریں تووہ وہاں سے مُکرجاتے ہیں توکیا ابھی آپ موٴمن ہیں! سیدنا گوھرشاہی کے قولِ مبارک سے انحراف کرتے ہیں اورجھٹلادیتے ہیں لیکن پھربھی آپ موٴمن کے موٴمن ہیں؟ پرچارِمہدی کی تحریک جاری رہی، کراچی پہنچ گیا اورہمارے پپوبھائی کی والدہ صغرہ باجی وہاں پرآئیں اورانہوں نے میری(یونس الگوھر) تقریر کھڑے ہوکرسنی اورپھربہت ہی بدتمیزی کے ساتھ کہنے لگیں کہ تم آج گوھرشاہی کا اتنی محبت اورعقیدت سے نام لے رہے ہوتوجب وہ لال باغ سے آئے تھے ہم نے پناہ دی تھی، ہم نے کپڑے پہنائے تھے جس کے اوپرندیم نے اُن سے کہا کہ آپ ایسی بات کرکے سرکارگوھرشاہی کی بارگاہ میں گستاخی نہ کریں تواُس کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ میں تم کواب دیکھتی ہوں اورباہرجاکراُنہوں نے کہا کہ یہ جومحمد یونس الگوھرہے یہ گوھر شاہی کے امام مہدی ہونے کا پرچارنہیں کررہا بلکہ یہ توکہہ رہا ہے کہ میں خود امام مہدی ہوں۔ پھر اُنہوں نے پوری تنظیم میں یہ خبرپہنچا دی کہ محمد یونس تواپنے امام مہدی ہونے کا پرچارکررہا ہے۔ یہ تحریک آپ کے سامنے جوآج پہنچی ہے آپ کواندازہ ہی نہیں ہے کہ اِس میں کتنی آنکھوں کا خون ملا ہوا ہے،کتنی آنکھوں کی بینائی اِس کی نظرہوچکی ہےاورکتنے دلوں کا خون اِس کی نظر ہوچکا ہے اورکتنے بدبخت منافقوں کوآج تک ہم نے صرف اورصرف مشن کی خاطر برداشت کررکھا ہے جس کوعام حالات میں آپ پانچ منٹ برداشت نہ کریں۔ منافق یہی کہتے کہ آج جب بیس سال گزرنے کے بعد دیکھتے ہیں کہ اب توہزاروں اورلاکھوں لوگوں کا مجمع جمع ہوکرسرکارگوھرشاہی کے امام مہدی ہونے کی حقیقت کومان گیا ہے توآج وہ پھرپیسہ چمکانے کیلئے آگئے ہیں کہ ہم کو دیکھو ہم خاندان والے ہیں اورکہتے ہیں کہ وہ بھی سرکارگوھرشاہی کوامام مہدی مانتے ہیں۔ صرف اورصرف لوگوں کومزید گمراہ کرنے کیلئے آج سارے کےسارے منافقین ایک نئے بھیس کے ساتھ لوگوں کے سامنے آرہے ہیں۔

تصدیقِ قلب نہ ہونے کی کسوٹی کیا ہے؟

جب منافقین نبی پاکؐ کے پاس آکرکہتے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تواللہ تعالی نے فرمادیا کہ اللہ تعالی کومعلوم ہے کہ آپ اللہ کےرسول ہیں لیکن یہ منافقین کاذب ہیں۔ اللہ تعالی اِس حقیقت سے اپنے حبیبِ مکرمؐ کوآگاہ فرمارہا ہے کہ اے حبیبؐ! یہ منافق جب تیری خدمت میں حاضر ہوتے ہیں توبڑے جوش وخروش سے آپ کی رسالت کی گواہی دیتے ہیں۔ اے حبیبؐ! اللہ تعالی جانتا ہے کہ آپ واقعی اُس کے رسول ہیں لیکن اللہ تعالی اِس بات کی بھی شہادت دیتا ہے کہ یہ منافقین جھوٹے ہیں۔ زبان سے یہ جوکچھ کہہ رہے ہیں اِن کے دل اِس کی تصدیق نہیں کرتے۔ اسی طرح بہت سارے لوگ ہیں جوزبان سے کہہ دیتے ہیں کہ ہم بھی سرکارگوھرشاہی کوامام مہدی مانتے ہیں لیکن اب کسوٹی کیا ہے کہ یہ نہیں مانتے! کسوٹی یہ ہے کہ جب غیبت کے بعد باطنی طورپرسرکار گوھر شاہی سے ملاقاتیں ہوئیں اُس میں سرکار نے سمجھایا اوربہت آسانی پیدا فرمائی۔ سرکار گوھر شاہی فرماتے ہیں کہ

عالمِ غیب میں ہمارا اپنا جہان ہے جس کا نام ریاض الجنتہ ہے۔ امام مہدیؑ کی مرضی کہ وہ ایک بندے کو وہاں لے جائیں یا کڑوڑوں کو۔

ہمارے ذہن میں یہ بات سوال بن کرکے اُٹھتی کہ آپ نے امام مہدی کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے آپ نے اپنی ذات کی طرف اشارہ کیوں نہیں کیا کیونکہ وہ جہان توآپ کا ہے۔ ہم نے سرکارکی بارگاہ میں دوبارہ سے جملہ پیش کیا کہ سرکار یہ جوجملہ ہے اس میں یہاں امام مہدی ہے یا آپ کا نام ہے تو پھر فرمایا کہ نہیں امام مہدی لے کرجائیں گے۔ پھرجب غَیبت ہوگئی تواُس کے بات ہمیں مشکل پیش آئی تو ہم نے سرکارگوھرشاہی کی بارگاہ میں عرض کیا کہ سرکارہمیں اب بتادیں کہ اس کا کیا مطلب ہے کیونکہ وہ جہان امام مہدی کا تونہیں ہے وہ آپ کا ہے توآپ نے یہاں امام مہدی کیوں فرمادیا توفرمایا کہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جومجھے امام مہدی دل سےمانے گا اُسی کے دل میں یہ بات بھی پیدا ہوگی کہ ہم ریاض الجنة والے کے اوپرایمان لاتے ہیں۔ جومنافق ہوگا وہ کہے گا کہ یہ سب باتیں جو بنائی ہوئی ہیں، راریاض کا ذکرہے، یاگوھرکا ذکر ہے، ضم کی تعلیم ہے اورعالمِ غیب کے جوقصے ہیں یہ سارے کےسارے قصے یونس الگوھرکے اپنے من گھڑت بنائے ہوئے ہیں، سرکارنےتواِن کے بارے میں کبھی فرمایا ہی نہیں ہے۔ وہ منافقین ایسی باتیں کرکے اپنے نفاق کومزید آگے بڑھائیں گے۔ پھرہم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں سیدنا امام مہدی سرکارگوھرشاہی کا نورداخل ہوگیا، جن کے دلوں میں اللہ ھوکا ذکرصرائیت کرگیا اورجن کے دلوں میں اللہ نے اپنا نام ثبت کردیا اُن کا اگلا مرحلہ یہی تھا کہ وہ اُس ریاض الجنة والے پربھی ایمان لائیں۔ قرآن مجید میں بھی ہے کہ

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ
سورة البقرة آیت نمبر 3

اب امام مہدیؑ کی تعلیم پرایمان لاوٴ گے اور اُنکے غیب پرایمان نہ لاوٴ، یہ کیسے ممکن ہے! جب تم اللہ تعالی پرایمان لائے تواللہ نے بھی اپنے غیب کے بارے میں فرمایا کہ ایمان لاوٴ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ ۔ ایسا تونہیں ہوسکتا کہ تم موٴمن بن جاوٴاوراللہ کے غیب پر ایمان نہ لاوٴاورموٴمن رہو۔ یہ جودینِ الہی کی تعلیم ہے اور یہ ریاض الجنة کے حقائق یہ دونوں ساتھ ساتھ امام مہدی کے پیروکارکے دل میں ہونگے ۔ اگر ایک بھی کم ہے تو امام مہدی کے ماننے والا نہیں ہے۔ ایسا توہوسکتا ہے کہ کوئی سرکار گوھر شاہی کوامام مہدی ماننے کا اقرارکرلے لیکن عالمِ غیب کے اسرارکونہ مانے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی عالمِ غیب کے اسرارپرایمان لے آئے اورامام مہدی کونہ مانے۔ اِس حقیقت کوچھپایا تو نہیں جاسکتا کیونکہ امام مہدیؑ کا تعلق عالمِ غیب سے ہے اسی لئے تواللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ

فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ
سورة یونس آیت نمبر 20
ترجمہ: میں بھی انتظارکررہا ہوں تم بھی انتظارکرو۔

منافقین فوراً قسمیں کھائیں گے۔ جھوٹا شخص جانتا ہے کہ لوگ اُس کی بات نہیں مانیں گے تواپنے آپ کوسچا ظاہرکرنے کیلئے وہ ضرورت اوربلاضرورت قسمیں کھاتا ہے۔ یہی حالت اِن منافقین کی بھی تھی کہ ہربات پرقسمیں اُٹھاتے اوراپنے آپ کو پکےّ اورسچے موٴمن ثابت کرنے میں لگے رہتے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اُنہوں نے اپنی قسموں کوڈھال بنایا ہوا ہے اوراِس کی آڑمیں وہ طرح طرح کے فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ایک تویہ کہ مسلمان اِن کے ساتھ وہی سلوک رکھیں جواہلِ ایمان کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے۔ جیسے بہت سے لوگ ہیں جن کواندرسے محمد یونس الگوھرسے شدید نفرت ہے اوراندرسے اُنہیں سرکارگوھرشاہی سے کوئی سروکارنہیں لیکن سرکارگوھرشاہی کے ماننے والوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے اوراُن کوبیوقوف بنانے کیلئے ایک دودن بعد اورایک دو ہفتے بعد اورایک دومہینے بعد کوئی سرکارگوھرشاہی کی تصویرِمبارک اپنی پوسٹ پرلگادیں گے کہ سرکار گوھر شاہی امام مہدی ہیں تاکہ لوگوں کو یہ گمان پیدا ہوکہ یہ توسرکارگوھرشاہی کوماننے والا ہے۔ فیس بُک پرتم سرکارگوھرشاہی کی تصویرِمبارک لگا کرلکھ دو کہ سرکارامام مہدی ہیں توکیا اِس سے یہ پتہ چل جائے گا کہ تم سرکارگوھرشاہی کے ماننے والے ہواورتمہارے دل میں ایمان اورنور آگیا ہے کیونکہ یہ کام تومنافق بھی کرسکتا ہے اوریہ کام توکوئی بھی کرسکتا ہے۔ آپ کے نزدیک نجانے کیسے یہ معیاربن گیا ہے کہ جس نے سرکارگوھرشاہی کی تصویریں لگارکھی ہیں وہ موٴمن ہی ہوگا۔ منافق بھی تواللہ اوررسول کا نام لیتے ہیں توکیا منافق سرکارگوھرشاہی کی تصویریں اپنی آئی ڈی پرنہیں لگا سکتے اورکیا تم کوگمراہ کرنے کیلئے اوردھوکہ دینے کیلئے منافق ایسا نہیں کرسکتے ہیں؟

منافق ایسا کرسکتے ہیں۔ منافق وہ ہیں کہ بظاہردین میں لگے رہیں گے لیکن اِن کا جواندرہے وہ اِن کوصدق کی طرف نہیں آنے دے گا۔

ایک مطلب “صدق” کا ہوتا ہے سچا لیکن صدق جولفظ ہے یہ سریانی زبان سے آیا ہے۔ سریانی زبان میں صدق کا معنی تصدیق ہے۔ حدیث میں ہے کہ

اقرار باللسان وتصدیق با لقلب
ترجمہ: زبان اقرارکرے اوردل اس کی تصدیق کرے۔

جوکچھ تمہاری زبان نے کہا ہے وہ تمہارا دل اُس کی تصدیق کرے گا توتم موٴمن بنوگے۔ وہ تصدیق تب ہوگی جب زبان کہے قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ کہ کہہ دے اللہ ایک ہے اوردل کہے اللہ اللہ۔ زبان دلیل کے ساتھ منوارہی ہے کہ اللہ اللہ اوردل بغیردلیل کے مان رہا ہے کہ اللہ ہی اللہ ۔
قرآن میں منافقت کیلئے اوربھی فرمایا گیا ہے کہ اِس منافقت کی وجہ سے اللہ تعالی نے اِن کے دلوں پرمہرلگادی۔ فَطُبِعَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ کہ اِن کے دلوں پراللہ تعالی نے مہرلگادی۔ جب اللہ تعالی نے دلوں پر مہر لگادی تو یہ ہوا فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ کہ جب دلوں پرمہرلگ جائے گی توپھراُس کےبعد بات سمجھ نہیں آئے گی۔ آپ اُن کوبتاتے رہیں کہ حضورپاکؐ نے مولیٰ علی کویہ تعلیم دی کہ غمض عینک یا علی وسمک فی قلبک لا الہ اللہ محمد الرسول اللہ کہ اے علی اپنی آنکھوں کو بند کر لے اور سن اپنے قلب میں لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ۔ قرآنِ مجید میں یہ آیا اورحدیث میں یہ آیا کہ زبان بھی اللہ اللہ کرے اوردل بھی اللہ اللہ کرے لیکن سب کچھ آپ بیان کردیں اوراُس کے بعد حال یہ ہوگا کہ رات بھر وہ یوسف اور زلیخا کا قصہ سنتے رہے اورصبح اٹھے توپتہ چلا کہ کہہ رہے ہیں کہ زلیخا مرد تھی یا عورت تھی۔ عبداللہ ابنِ ابی جومنافقوں کا سردارتھا صورت کے اعتبارسے بہت خوبصورت تھے اور نگاہیں اُن کے چہروں پرجم کررہ جاتی تھیں اوراِن کے ساتھ ساتھ پرلےدرجے کے باتونی اورچرب زبان تھے۔ اِنکی گفتگوسُن کرانسان عش عش کراُٹھتا تھا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اگراِن کے جسموں کو دیکھے توبہت دلکش معلوم ہوتے ہیں ۔ اِن کی گفتگوسُنی جائے توجازبیت اوراثرہوتا ہے لیکن یا رسول اللہ! اگراِن کی حقیقت پرنظرڈالیں توپتہ چلے کہ جمالی خربوزے ہیں یعنی باہرسےخوبصورت اوراندر سے پھیکے۔ اسلامی کمالات تو کُجا اِن میں توانسانی خوبیوں کا نام ونشان تک نہیں ہے۔ قرآنِ مجید نے اِن کو خُشُبٌ اور مُّسَنَّدَةٌ سے تشبیح دے کراِن کی لہوئیت کوعیاں کردیا۔ خُشُبٌ کا معنی لکڑی ہے تو یہ منافقوں کے بارے میں جوچند آیات آئی ہیں اِس کا ذکرآیا ہے۔ یہاں پرخصوصی طورپریہ کہ وَإِذَا رَأَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ أَجْسَامُهُمْ وَإِن يَقُولُوا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ یا رسول اللہ! ان کے جو جسم ہیں اورخوبصورتی ہے اورِان کی باتیں کرنے کا جواندازہے وہ دیکھ کر آپ تعجب میں ہوجاتے ہونگے کہ اتنے حسین وجمیل اور اتنی اثرانگیزباتیں کرنے والے ہیں تویقیناً یہ موٴمن ہی ہونگے لیک اگراِن کے اندرجھانکا جائے تو اِن کے دل بیمار ہیں۔ اِن کے دلوں میں نورنہیں ہےاوریہ منافق ہیں۔

سیدنا امام مہدی گوھر شاہی سے اللہ کی توقعات:

امام مہدیؑ کی جوذاتِ والا ہے اللہ تعالی نے جتنی توقعات امام مہدیؑ سے رکھی ہوئی ہیں آپ ہمیں تاریخ کے ورق جھنجھوڑکراورکھنگال کربتائیں کہ کسی نبی، مرسل اورکسی ہستی سے اِس کے عشرے عشیربھی توقعات اللہ نے رکھی ہوں۔ امام مہدیؑ نہ نبی ہیں، نہ مُرسل ہیں اورنہ ولی ہیں اور توقعات ایسی رکھی ہیں جوایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمروں سے بھی مجموعی طورپرنہیں رکھی گئیں۔ مجموعی طورپرایک لاکھ چوبیس ہزارپیغمبر، جمیعت المرسلین، جمیعت الانبیاء، جمیعت الاولیاء، جمیعت الفقراء اورپوری مجموعی طورپر سب کو اکٹھا کردیں سب سے اتنی توقع نہیں کی جتنی اکیلے مہدیؑ سے اللہ تعالی نے توقعات رکھ لی ہیں۔ پھرحدیث میں یہ بھی آگیا ہے کہ

محمد الرسول اللہ نے جس طریقے سے دینِ اسلام کوقائم فرمایا تھا اسی طریقے سے منہاج النبوة پر، حضورؐ کے عمل اور سنت پرامام مہدیؑ ازسرِنو دین کوزندہ کریں گے۔

حضورؐ نے داڑھیوں اوراماموں کوزندہ نہیں کیا بلکہ محمد الرسول اللہ نے لوگوں کے دلوں کوزندہ کیا تھا۔ یہ طریقہ منہاج النبوة ہے اور یہ حضورؐ کی ذات پراورسنت پرعمل پیرا ہوتے ہوئے دین کی خدمت کا طریقہ ہے۔ سرکارگوھرشاہی نے فرمایا ہے کہ وضو کے مسائل سیکھنے ہیں توعالم کے پاس چلے جاوٴ، نماز کیسے پڑھنی ہے اوراُس کے ارکان کیسے ادا کرنے ہیں مولوی سے سیکھ لو۔ دل کی درستگی، فسادِ قلب کے علاج اور اصلاحِ باطن کیلئے دورِ گوھر شاہی پرآجاوٴ۔ باقی وہ کام گوھر شاہی نہیں کرتے جوکتابوں میں لکھے ہوئے ہیں اور عام آدمی بھی کرسکتا ہے۔ سیدنا گوھر شاہی کے پاس تم اُس کام کیلئے آوٴ جوکام کہیں سے نہ ہوتا ہو۔ سلطان باھو نے کہا کہ عیسٰیؑ مردے زندہ کردیتے تھے جوکچھ عرصے بعد پھر مرجاتے تھے تو سلطان باھونے کہا کہ یہ کوئی بڑی کرامت تھوڑی ہے کہ مُردوں کوزندہ کیا کیونکہ کچھ عرصے کے بعد وہ پھرمرگئے۔ اُنہوں نے کہا کہ کرامت تو یہ ہے کہ حضورپاکؐ کی اُمت کے جوخاص ولی ہیں اگروہ کسی مُردہ قلب کوزندہ کردیں توپھراُس کوکبھی موت نہیں آتی۔ پھرغوث پاکؓ نے کہا کہ ہمارا انڈہ ایک ہزارانڈوں کے برابر ہے تو یہ بھی عظمت کی ایک نشانی ہے۔ پھرسرکارگوھرشاہی نے فرمایا کہ صحیح انڈے میں سے چوزہ نکالنے کوہم کرامت نہیں سمجھتے۔ علامہ اقبال نے پیر جماعت علی شاہ کو کہا کہ
اِس قوم کے انڈے گندے ہیں
پھینک دو اِن کو گلیوں میں

پیرجماعت علی شاہ نارووال پاکستان میں ایک بہت اچھے بزرگ گزرے ہیں جن کوعلامہ اقبال نے کہا کہ اِس قوم کے انڈے گندے ہیں یعنی اِس قوم کے دلوں کے اندرمرض آگیا ہے دلوں کے اندر بیماری آگئی ہے تواِن کواُٹھا کرپھینک دو کیونکہ اِن کی اصلاح نہیں ہوسکتی۔
سیدنا امام مہدی گوھرشاہی نے فرمایا کہ صحیح انڈے میں سے چوزہ توہرکوئی نکال لیتا ہے توہم اِس کوکرامت ہی نہیں سمجھتے۔ سلطان باھو نے کہا کہ مُردہ دل کونظرڈال کے زندہ کردیتے ہیں اورامام مہدیؑ نے فرمایا کہ صحیح انڈے میں سے چوزہ نکال دیا توکونسی بڑی کرامت ہوئی۔ اُنہوں نے فرمایا کہ کرامت تو یہ کہ وہ انڈہ سڑگیا ہواور زندگی ختم ہوگئی ہو تواُس میں سے پھرتندرست چوزہ نکال کردکھا تو اُس کو ہم کرامت کہیں گے۔ اِس کوکرامت اس لئے کہا کہ اگرتم ولی ہوتوتمہیں نظرِکیمیا عطا ہوگئی اورتم نے دل پرنظر ڈالی تودل زندہ ہوگیا۔ فرض کیا کہ جس نے نظرڈالی ہے وہ سلطان حق باھو، خواجہ غریب نواز اور بابا فرید ہیں توانہوں نے لوگوں کے دل اللہ اللہ سے جاری کردئیے۔ پھرایک دل ایسا آگیا کہ دل میں بیماری تھی مرض تھا اورایک دل ایسا آگیا جس کے اوپرلطیفہ قلب نہیں تھا صرف گوشت کا لوتھڑا تھا تواب اسکا مرض کیسے دورہوگا! اِس کا مرض دورکرنے کا جوعلم تھا وہ اللہ تعالی نے آدم صفی اللہ کودیا تھا۔ اب آدم صفی اللہ تک پہنچنے کیلئے پورا ایک چینل ہے کہ
۔ آپ نے حضورؐ کودرخواست دینی ہے،
۔ حضورؐ نے اللہ سے منظوری لینی ہے،
۔ اللہ سے منظوری لینے کے بعد پھرآدم صفی اللہ تک پہنچنا ہے
۔ اورپھرآدم صفی اللہ خصوصی طورپراُس مرض کودورکرنے کیلئے یا توخود تشریف لائیں یا پھرمرشد اگرقابل ہے تواُن سے روحانی طورپردم ملائے اورپھریہ کرے یعنی یہ ایک خاص کام ہے۔
اس کیلئے اتنا سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ مرشد کوبھی سب کے ترلے منت کرنے پڑتے ہیں تو پھرعام ولی جوہوتے ہیں جیسا کہ سلطان حق باھو، بابا فرید اورخواجہ غریب نوازہیں توجب انہوں نے دیکھا کہ دل میں مرض ہے تو یہ بھگا دیتے ہیں۔ جیسا کہ کراچی پاکستان میں ہمارے علاقے میں ایک مدرسہ بنا اوراُدھرایک بندہ تھا جس کے دل میں مرض تھا توجب بھی سرکارگوھرشاہی اُس پرکرم کرنے کا سوچتے تووہ اُس سے ایک یا دو گھنٹے پہلے سرکارکے خلاف کوئی بات بول دیتا کیونکہ اُس کے دل میں مرض تھا۔ دل کے مرض کا ولی کے پاس علاج نہیں ہے تواِس دل کی تعلیم آدم صفی اللہ کودی تھی اور تم براہِ راست آدم صفی اللہ سے بات بھی نہیں کرسکتے کیونکہ پہلے حضورپاکؐ کے پاس جانا پڑے گا۔ اگرمرشد حضورپاکؐ کے پاس چلا گیا تواگرحضورپاکؐ مرشد سے پوچھیں کہ جس کا مرض دورکرنا ہے اِس کا میری شریعت اوراُمت میں کیا کردارہے کہ اِس کی کتنی شریعت صحیح ہے، کتنا نمازی اورپرہیزگارہےاوراِسکی اپنی کتنی دلچسپی ہے کیونکہ ایسے ہی کہانی آگے نہیں بڑھے گی۔ جو ولی ایسے بندے کے مرض کیلئے فائل آگے بڑھاتے تھے جس نے ساری زندگی اِنکی خدمت میں گزاردی ہو۔ اُس کیلئے یہ بات آگے بڑھاتے تھے کہ اِسکے دل کا مرض دورکریں۔ اس لئے فرمایا کہ صحیح انڈے میں سے چوزہ نکالنا کرامت نہیں ہے۔ گندہ انڈہ اُس دل کوکہتے ہیں کہ جس کے اندرمرض ہواوردل کا مرض وہ ہے کہ جیسے تم قرآن پڑھو گے تومرض بڑھے گا، نمازیں پڑھو گے تومرض بڑھے گا اوراللہ اللہ کرے گا تومرض بڑھتا چلا جائے گا۔ قرآں مجید میں اِن لوگوں کیلئے ہی اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ

فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا
سورة البقرة آیت نمبر 10
ترجمہ: ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا ہے۔

جب اللہ اللہ کرنے سے مرض بڑھے گا تو پھرتم اِسے ذکرِقلب میں کیسے لگاوٴگے۔ اس لئے اِن کو بھگا دیتے تھے۔ اب جوامام مہدیؑ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک کرامت یہ ہے کہ مرض والا گندہ انڈہ ہے تواُس کے اندرسے چوزہ نکال کے دکھا توامام مہدیؑ کیلئے یہ کام اتنا آسان کیوں ہے؟
امام مہدیؑ کیلئے آسان اِس لئے ہے کہ امام مہدیؑ کیلئے قرآن نے کہا کہ

وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ
سورة یس آیت نمبر 12
ترجمہ: ہم نے ساری خصلتیں اور ساری کی ساری عظمتیں جمع کرکے ایک وجود میں رکھ دی ہیں اُس کا نام مہدیؑ ہے۔

سارے مرسلین، انبیاء، اولیاء، فقراء، محسنین، مقربین، صالحین کی اورساری کی ساری عظمتیں ایک قدمین شریفین میں رکھ دیں اور سیدنا امام مہدی گوھرشاہی کی نظرکردیں۔

سیدنا امام مہدی گوھرشاہی کے وجودِ مبارک کا راز:

جس طرح امام مہدی کیلئے حضورپاکؐ کی ارضی ارواح کواُن کے جسم میں ہی روک لیا گیا تھا کہ جب امام مہدیؑ نے آنا ہوا تووہ حضورپاکؐ کی ارضی ارواح نکلیں گی تواُس سے نیا جسم بنے گا اور وہ جسمِ مہدی ہوگا۔ قرآن مجید میں آیا ہے ہے کہ

وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَیٰ
سورة الضحی آیت نمبر4
ترجمہ: اورآپ کیلئے دوسرا دورپہلے دورسے بہترہوگا۔

اُس جسم کا آنا ہی وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَیٰ ہے کہ یہ تمہارا دوسرا دورہے۔ ارضی ارواح حضور پاکؐ کی تھی توامام مہدی توعالمِ غیب سے آئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ حضورپاکؐ کی ارضی ارواح امام مہدیؑ کودی جائیں گی تواُنکی اپنی کدھرہیں! اُنکی اپنی ہے ہی نہیں کیونکہ وہ توعالمِ غیب سے آئے ہیں اوروہاں ارضی ارواح نہیں ہوتی ہیں۔ جہاں سے امام مہدیؑ آئے ہیں اُدھرلطائف بھی نہیں ہوتے۔ جسم کوبنانے کیلئے حضورپاکؐ کی ارضی ارواح دی گئی ہیں جوکہ سب سے بہترین اورافضل واعلٰی ہیں۔ اسی طرح لطائف بھی نہیں ہوتے تویہ جوامام مہدیؑ کے وجود میں لطیفہ قلب ہے یہ اُنکا نہیں ہے توپھریہ لطیفہ قلب آدم صفی اللہ کا ہے۔ سیدنا گوھرشاہی کے وجودِ مبارک میں لطیفہ قلب اُن کا اپنا نہیں ہے کیونکہ جہاں سے وہ آئے ہیں وہاں لطائف ہوتے ہی نہیں ہیں۔ سیدنا گوھرشاہی کے سینہ مبارک میں جولطیفہ قلب ہے وہ پہلے خلیفہ آدم صفی اللہ کا ہے اورآخری خلیفہ کے جسم میں دھڑک رہا ہے۔ پہلا خلیفہ اورآخری خلیفہ مل گئے۔ اسی لئے ہمارے ہندو بھائی کہتے ہیں کہ جوکالکی اوتار ہوگا وہ وشنوکا اوتارہوگا۔ وہ شنکربھگوان کا اوتارہوگا توشنکربھگوان تو آدم صفی اللہ کو ہی کہتے ہیں۔ اب آجاوٴمرض والو! توجس نے مرض کا علاج کرنا ہے وہ سیدنا گوھرشاہی کے جسمِ مبارک میں طاقت موجود ہے۔ اب کسی کے آگے مِنّت کرنے کی حاجت نہیں ہے۔ یہ کرامت ہے کہ گندے انڈے میں سے چوزہ نکال کردکھاوٴتوکرامت مانیں گے کیونکہ پیچھے طاقت اِس قلب کی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سیدنا گوھرشاہی کا بچہ بچہ اسمِ ذات کوتقسیم کررہا ہے۔ جس کا جی چاہتا ہے کہ ہمیں ذکردینے کی اجازت دوتوہم اُسے اجازت دے دیتے ہیں کیونکہ جہاں سے ذکرِقلب شروع ہوا وہ چیز سینہٴِ گوھرشاہی میں موجود ہے۔ اسی لئے کہیں جانے کی حاجت ہی نہیں ہے۔ قلب ہویا نہ ہو ایک اشارہٴِ گوھرشاہی پورے کے پورے وجودِ طریقت وباطن کو دوبارہ سینے میں لے آتا ہے۔ یہ کہنے کوکہا ہے کہ یہ کرامت ہے تویہ کرامت ولیوں کیلئے ہوگی کہ اگراُنہوں نے گندے انڈے میں سے بچہ نکال لیا۔ اگر”تم” یہ کرکے دکھاوٴ تو سرکارگوھرشاہی نے فرمایا کہ یہ کرامت ہوگی لیکن یہ اپنے لئے نہیں فرمایا کیونکہ یہ تمہارے بس کی بات نہیں تھی اورتم نے کردی تو اس لئے کرامت ہے۔ اگردیگراولیاء گندے انڈے میں سے بچہ نکال دیں گے توکرامت ہوگی۔ یہ اپنے لئے نہیں فرمایا کہ ہم کریں گے تو کرامت ہوگی کیونکہ اپنے لئے نہیں ہے۔ اگرہندووٴں کو یہ کہا جائے کہ مندرجانا چھوڑدو کیونکہ یہ گوھرشاہی بھگوان شنکرہے، اسی کے قدموں میں ماتھا ٹیک دے، اِس سے بڑا کوئی حق نہیں ہوسکتا۔ اسی کی تصویریں اُٹھا کرمندرمیں لگاوٴ، اسی تصویرکوپوجو اوراسی کے قدموں میں اپنے ماتھے ٹیک دوکیونکہ یہ چلتا پھرتا بھگوان ہے، یہ چلتا پھرتا شیولنگم ہے اوریہ چلتا پھرتا شنکر ہے۔ یہ شیوسینا ہے جودلوں کی تقسیم کررہی ہے، دلوں میں عشقِ الہی بانٹ رہی ہے اور بھگوان کی نسبت، اللہ کی نسبت لوگوں کودے رہی ہے۔ یہ جوسینا ہے یہ جوامام مہدی کی فوج ہے جودلوں کی طاقت اور دلوں کا ہتھیارلوگوں کودے رہی ہے درحقیقت یہ شیوسینا ہے۔ شنکربھگوان کی فوج جودلوں کا ہتھیار بانٹ رہی ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی سیدی یونس الگوھر سے 24 اپریل 2020 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں قرآن مکنون کی خصوصی تشریح سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں