کیٹیگری: مضامین

الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛفِيهِ ۛهُدًى لِّلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ ۗ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَـٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ

قرآن کا فیض کہاں سے ملتا ہے؟

تفہیم دین کے اس سلسلے میں ہم قرآن کی ان سورتوں اور آیات پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے جو کہ روحانیت کے قریب ترین ہیں۔ قرآن محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ قرآن کاعنوان ہے”انسان”۔ قرآن میں سب کچھ انسان کے بارے میں ہے۔ پورا قرآن “الف” کا نچوڑ ہے اور اللہ بھی الف سے شروع ہوتا ہے اور انسان بھی الف سے شروع ہوتا ہے۔ الف کا ایک سرا اللہ کے پاس اور دوسرا سرا انسان کے پاس ہے اور یہی صراطِ مستقیم ہے۔ سورة البقرة جس لفظ سے شروع ہوتی ہے وہ الم ہے۔ الم تین حروف ہیں ۔ جب ہم کسی کتاب کو زیرِ مطالعہ لاتے ہیں تو ہر کتاب مختلف مضامین پر مشتمل ہوتی ہے اور ہر مضمون کے چھوٹے چھوٹے پیرا گراف ہوتے ہیں جن پر شہ سرخی لکھی ہوتی ہے۔ پھر نیچے دئیے جانے والے پیرا گراف میں اس کی تفصیل لکھی جاتی ہے۔ اسی طرح “ا” “ل” “م” تین حروف ہیں جن کوحروفِ مقطعات کہتے ہیں۔ عام طور پر یہی مانا جاتا ہے کہ حروفِ مقطعات کا مطلب کوئی نہیں جانتا اور مفسرین کے مطابق حروفِ مقطعات کا علم صرف حضور پاکؐ کو دیا گیا ہے جو کہ آپؐ کے سینے میں مخزن الاسرار کی طرح محفوظ ہے۔ کچھ اورعالمِ دین کہتے ہیں کہ یہ اللہ اور حضور پاکؐ کے درمیان کی بات ہے۔ اب حضور پاکؐ کی مرضی ہے کہ وہ ان کا راز انبیاء، صالحین اور مقربین پر کھول دیں۔ تمام صوفیاء کرام کا کہنا ہے کہ جس کی بھی روحانی رسائی حضور پاکؐ تک ہوجائے تواُس پرقرآن کی اصل ہیئت نصیب ہوتی ہے۔ اگر تیری رسائی حضورؐ کے سینہ مبارک تک نہیں ہے تو قرآن تیری سمجھ میں کبھی نہیں آسکتا۔ ابھی جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ صرف الفاظ کا مجموعہ ہے جس میں مختلف جملے اور مضمون ہیں لیکن ہمارے پاس وہ نور نہیں ہے جو قرآن کے ہر لفظ میں موجود ہے کیونکہ یہ کلامِ الہی ہے۔ یہ صرف قرآن کی بات نہیں ہے بلکہ جو بھی کلامِ الہی ہو یعنی توریت، زبور اور انجیل سب میں اللہ کا نور موجود ہے۔ قرآن میں لکھے الفاظ تو ہم پڑھ لیتے ہیں لیکن اللہ نے کیا فرمایا ہے یہ ہمیں صرف محمد رسول اللہ بتا سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے کہا کہ
بمصطفی برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
محمد رسول اللہ کی ذات دین اسلام کا وجود ہےاور قرآن محمدؐ کے “م” میں چھپا ہوا ہے۔ سینہ مصطفی میں چھپا ہوا ہے قرآن حضورؐ سے جدا نہیں ہے۔ قرآن حضور پاکؐ کی ذات کا حصہ ہے اور جس نے قرآن کو حضورؐ سے جدا سمجھا وہ گمراہ ہو گیا۔ یوں سمجھ لیں کہ قرآن ایک صفت مصطفی ہے۔ قرآن کو حضورؐ سے الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ جبرائیلؑ نے جو قرآن حضورؐ کو دیا وہ ان کے قلب پر نازل ہوا اور وہ قرآن وہیں ہے۔ یہ قرآن جو کتابی صورت میں ہمارے ہاتھ میں ہے اِس کتابی قرآن میں فیض نہیں ہے۔ جو قرآن فیض دینے والا ہے وہ حضور نبی کریمؐ کے سینہ مبارک میں ہے۔

الم کی باطنی تشریح:

سورة البقرة کے مضمون میں جو شہ سرخی ہے وہ ہے “الم”۔ الم کے بعد رکنے کا حکم ہے اور اس سے آگے جو آیت آ رہی ہے اس میں الم کی تشریح ہے۔ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ یعنی “الم” ایک کتاب ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ ذَٰلِكَ کا مطلب ہوتا ہے “وہ” اور عربی میں ھذا کو “یہ” کہتے ہیں ۔ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ کہ وہ کتاب۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ کتابی صورت میں جو قرآن ہے وہ تو ہمارے ہاتھ میں ہے تو پھر یہ کتاب وہ تو نہ ہوئی لیکن پھر وہ کتاب کہاں ہے! وہ کتاب حضورؐ کے سینے میں ہے لیکن یہاں پر بھی غلطی ہو گئی کیونکہ جب قرآن اترا تھا تووہ کتاب کی صورت میں تو تھا ہی نہیں تو جو کتاب حضورؐ کے سینے میں ہے تو یہ اشارہ اس طرف بھی نہیں ہے۔ جو وحی الہی حضورؐ کے سینے پر نازل ہو رہی تھی وہ اس سے دور تھا تبھی ذَٰلِكَ کہا گیا ہوگا ۔ ابھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب تو ہمارے ہاتھوں میں ہے اور قرآن نے کہا کہ یہ الم وہ کتاب ہے تو پھر وہ کتاب جس کو الم کہا گیا ہے وہ کہاں ہے! قرآن نے خود کہا ہے وہ اللہ کے رسول کے قلب کے اوپر نازل ہوئی تو ہم یہ سمجھیں گے کہ یہ ہاتھوں والی کتاب نہیں ہے بلکہ جو حضورؐ کے سینے میں ہے اس کی بات ہے۔ سوال یہ ہے کہ حضورؐ کے قلب میں قرآن ہوتے ہوئے ذَٰلِكَ کیوں کہا گیا! ذَٰلِكَ اس لئے کہا گیا کہ وہ وحی جلی کی طرف نہیں بلکہ وحی خفی کی طرف اشارہ تھا۔ یہ الگ قرآن ہے جو دنیا کو بتانے والا قرآن ہے۔ ایک چھپانے والا قرآن ہے اور یہ جو الم ہے یہ وہ کتاب ہے جو تیرے سینے میں چھپا ہوا ہے۔ ایک تو وحی جلی ہے جو عام ہے سب کو بتانی ہے اور ایک وحی خفی ہے جو خواص کیلئے ہے۔ یہ جو الم والی کتاب ہے وہ ذَٰلِكَ میں ہے۔ اب اس کو دُور اس لئے کہا گیا کہ وہ بھی تو حضورؐ کے سینے میں تھا۔ اس کو دور اس لئے کہا گیا کہ یہ جو باطنی تعلیم ہے یہ آدمؑ کے سینے میں بھی ہے، ابراہیمؑ کے سینے میں بھی ہے، عیسٰیؑ کے سینے میں بھی ہے اور حضورؐ کے سینے میں بھی ہے تو ایک ہی حصہ ہے۔ اس تعلیم کا باقی حصہ تو چار اور مرسلین کے سینہ مبارکہ میں ہے اس لئے ذَٰلِكَ کہا گیا ۔ الم کی تعریف یہ ہوئی کہ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛفِيهِ کہ الم یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ گارنٹی ہی گارنٹی ہے کہ یہ جو وحی جلی والی کتاب ہے یہ کتابی صورت میں ہے اور اس میں توشک ہی شک ہے۔

الم والی کتاب کس کو ہدایت دیتی ہے؟

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ

يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
سورة البقرة آیت نمبر26
ترجمہ: بہت سوں کو ہدایت دے دیتا ہوں اور بہت سوں کو گمراہ کر دیتا ہے۔

لیکن الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛفِيهِ کہ یہ جو الم والی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے بلکہ گارنٹی ہی گارنٹی ہے اور یہ کس کو ہدایت دیتی ہے یہ بھی قرآن نے بتا دیا۔ الم والی جو کتاب ہے وہ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ کہ صرف متقیوں کو ہدایت دیتی ہے۔ اب اگر مولویوں کے مفہوم اور ترجمے پر جائیں تو کتابی قرآن میں لکھا ہے يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا کہ بہت سوں کو ہدایت کر دیتا ہے اور بہت سوں کو گمراہ کر دیتا ہے تو یہ دونوں آیتیں ایک ہی قرآن کے بارے میں تو نہیں ہو سکتیں۔ وحی جلی والا قرآن وہ ہے جو سب کے ہاتھ میں کتاب کی صورت میں ہے اور ایک وحی خفی والا قرآن ہے جو سینہ مصطفی یعنی ایسی جگہ میں چھپا ہوا ہے کہ جہاں سے وہ قرآن سینہ بہ سینہ نکلتا ہے۔ زبانی طور پر نہیں نکلتا کیونکہ وہ چھپا ہوا ہے۔ کبھی کبھی عالمِ جلالیت میں اگر باطنی قرآن کی کوئی آیت حضورؐ کی زبان سے ادا ہو جاتی تو اللہ اس کو ظاہر میں منسوخ کر دیتا تھا تاکہ عام لوگوں تک نہ پہنچے۔ یہ جو منسوخ والی بات ہے یہ صرف اسی لئے ہے کے اگر باطن کا علم ظاہر میں نکل گیا تو اس کو منسوخ کیا جائے گا۔ صرف یہ وجہ ہے ورنہ آپ ہمیں بتائیں کہ کیا اللہ کے کلام میں کوئی غلطی ہو سکتی ہے! اگر نہیں ہو سکتی تو پھر منسوخ کیوں کیا! منسوخ ظاہر والوں کیلئے کیا کہ یہ تمہارے لئے نہیں ہے۔ الم والی جو کتاب ہے ایک تو یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ذَٰلِكَ ہے اور وہ دور ہے یہاں نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس میں شک نہیں ہے کہ جن کو اس کتاب تک رسائی مل گئی ان کو پھر گارنٹی ہی گارنٹی ہے۔ ان کیلئے قرآن میں آیا ہے کہ

فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
سورة البقرة آیت نمبر38

جن کو وہ کتاب مل گئی وہ پھر نہ عذاب سے ڈرتے، نہ جہنم سے ڈرتے اور کسی چیز سے نہیں ڈرتے۔ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ میں متقی اُس کو کہتے ہیں جس کا قلب اور نفس پاک ہو گیا ہو۔

غیب پرایمان لانا کیا ہے؟

الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کہ وہ لوگ جوغیب پر ایمان لے آئے ہیں۔ ایک چیز تو ہے کسی نے زبانی کلامی بتایا اور آپ نے سنا اور ایمان لے آئے۔ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کہ عالمِ غیب پر ایمان لانا یہ ہے کہ عالم غیب ہے کو آپ جھٹلا نہیں سکتے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ

فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّـهِ
سورة یونس آیت نمبر20

عالمِ غیب میں جو ہیں ان کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا تو ایمان لاوٴ۔ وہ کون ہیں یہ معلوم نہیں لیکن ان سب پر ایمان لانا ہے۔ غیب موجود ہے اور تمہاری رسائی نہیں ہو سکتی ۔ اب جب کوئی غیب سے آئے گا تو وہ ُبرھان (دلیل) لے کر آئے گا۔ ابھی تو آپ نے اجتماعی طور پر انکھیں بند کر کے سب مان لیا کہ عالم غیب برحق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ غیب ہے۔ اب اگر اس غیب کا راز کھلتا ہے تو پھر اللہ تعالی اس کو ایک برھان دے کر بھیجے گا۔ جب وہ برھان آپ دیکھیں گے تو آپ کو یقین آجائے گا کہ غیب ہے اور ایمان تو آپ پہلے ہی لا چکے ہیں۔ اگر آپ کے دل میں گڑ بڑ ہوگی کہ غیب میں کچھ نہیں ہے اورعالمِ غیب کہانی ہی ہے تو پھر آپ کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ سب سے پہلا کام هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ کے بعد جو بتایا ہے وہ یہ ہے کہ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ اور پھرفرمایا کہ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ کہ وہ صلوة کو قائم کرتے ہیں پڑھتے نہیں ہیں۔ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ اور جو باطنی رزق نور کی شکل میں حُبِ الہی، عشقِ الہی اور اسرارِالہی کی صورت میں اللہ نے ان کو عطا کردیا ہے۔ مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ کہ وہ نعمت الہی، وہ اسرارِالہی اور وہ خزانہ نور وہ اپنی ذات تک محدود نہیں کرتے۔ يُنفِقُونَ کہ وہ اس خاص نوری رزق کا اللہ کے بندوں کو بھی فیض پہنچاتے ہیں کہ اس کے سینے میں بھی نور الہی آجائے اور اس کے سینے میں بھی اسمِ ذات کا چراغ جل جائے۔ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ یہ ظاہری رزق کی بات نہیں ہو رہی۔ ظاہری رزق بہت کھلاتے ہیں کیونکہ ہر آدمی دین میں ہو یا نہ ہو بھوکے پر ترس کھا کر اُس کو کھانا کھلا دیتا ہے۔ پھر وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ کہ جو لوگ اس پرایمان لے آئے ہیں جو آپ پر نازل ہوا ہے اور وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ آپ سے پہلے آنے والے رسولوں پر بھی جو نازل ہوا ہے اس پر بھی ایمان لے آئے ہیں۔ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ تو صرف یہی وہ لوگ ہیں جن کا واقعاتاً آخرت پر یقین ہے۔

جو بھی مرسل آیا ہے اُس کو کلمہ ملا ہے۔ حضرت آدمؑ کو لا الہ الا اللہ آدم صفی اللہ، حضرت ابراہیمؑ کو لا الہ الا اللہ ابراہیم خلیل اللہ، حضرت موسٰیؑ کو لا الہ الا اللہ موسٰی کلیم اللہ، حضرت عیسٰیؑ کو لا الہ الا اللہ عیسٰی روح اللہ اور حضرت محمدؐ کو لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔

لا الہ الا اللہ ایک بیج ہے جو اس مرسل کے سینے میں ڈالا جاتا ہے اور جو اس مرسل کے نام کے ساتھ چپک جاتا ہے تو یہ کلمہ دراصل سینہ مصطفی کی اندرونی صورت ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ ایک چنگاری ہے جو سینہ مصطفی میں بار بار اچھل اچھل کر کلمہ پڑھتی ہے۔ یہ اس بیج سے نکلتی ہے اور یہ بیج محمد الرسول اللہ کے پاس اللہ کی طرف سے وافر مقدار میں دیا گیا تاکہ یہ بیج آپ امتیوں کے سینوں میں داخل کریں اور عام آدمی کافر زبان سے کلمہ پڑھ کر رد کفر کرے اور اسلام میں داخل ہو۔ پھر یہ کلمہ نبی پاکؐ کی نظر سے اس کے قلب میں ڈالا جائے تو وہ مومن ہوجائے۔ الم درحقیقت مصطفیؐ کی ذات ہے۔ “ا” سے اللہ، “ل” سے لا الہ الا اللہ اور اس کا بیج بھی محمد الرسول اللہ میں ہے اور “م” سے محمد الرسول اللہ تو وہ تو محمدؐ خود ہی ہیں۔ الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ وہ ہستی مصطفیؐ کا نام ہے۔ قرآن نے کہیں پر کہا ہے کہ یہ ھدی لناس ہے اور کہیں کہا ہے یہ ھدی للمتقین ہے۔ اسی لئے بہت سے غیر مسلم محقق مترجم اس طرح کے لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ قرآن اپنی ہی بات کی تردید کرتا ہے اور قرآن مجید میں تضاد ہے جبکہ قرآن مجید میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ آپ کو وہ سمجھ نہیں آرہا۔ جب کہا گیا ھدی لناس تو وہ ہدایت قرآن میں ہی موجود ہے اور جب کہا گیا ہے ھدی للمتقین تو پھر وہ باطنی علم کی طرف اشارہ ہے۔ قرآن مجید میں ایسی نصیحتیں اور حکایتیں بھی موجود ہیں جن سے کوئی مسلمان یا غیر مسلم فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ھدی لناس پوری انسانیت کیلئے ہے اور کوئی بھی انسان کا دین کوئی بھی ہو ساری انسانیت کیلئے ایک ہی باب کھول دیا گیا ہے کہ ساری انسانیت کو یہ راستہ دکھائے گا۔ کہیں فرمایا ھدی للمتقین تو وہ قرآن کا خاص حصہ ہے جو حضورؐ کے باطن میں موجود ہے۔ یوٴمنون بالغیب کہ غیب پر ایمان لانا ہے۔

غیب کا علم تک کس کی دسترس ہے؟

غیب کے بارے میں بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ جو بات آپ کو معلوم نہیں وہ غیب ہے۔ وہابیوں اور سنیوں میں یہ جھگڑا چلتا ہے کیونکہ وہابی کہتے ہیں حضورؐ کو غیب کا علم نہیں ہے اور سنی بریلوی کہتے ہیں حضورؐ کوغیب کاعلم ہے۔ پھر ایک جھگڑا یہ بھی چلتا ہے کہ وہابی یہ بھی کہتے ہیں کہ حضورؐ کے پاس جو بھی علم ہے وہ عطائی ہے یعنی اللہ کی طرف سے عطا ہوا ہے لیکن سنی بریلوی کہتے ہیں جو بھی ہے وہ حضورؐ کا ذاتی علم ہے۔ لفظ غیب کے بارے میں مسلمان کچھ جانتے نہیں ہیں اس لئے جو بات اُن کو معلوم نہ ہو اس کو وہ غیب کہہ دیتے ہیں۔ جیسا کہ اگر کہا جائے کل کیا ہوگا تو کہتے ہیں ہمیں کوئی غیب کا علم تھوڑی ہے کہ ہم بتائیں کل کیا ہوگا تو جو چیز ان کی دسترس میں نہیں ہے، جوچیزعلم میں نہیں ہے جیسا کہ مستقبل ہے ان کی دسترس کے باہر ہے اس کو یہ غیب سمجھتے ہیں۔ اب قرآن میں ہی ایک جگہ یہ آیا ہے کہ

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ
سورة الانعام آیت نمبر59
ترجمہ: اور اللہ کے پاس غیب کی چابیاں ہیں جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔

اگر یہ چھپی ہوئی ہوتی تو اس پر تالا کیوں ہوتا اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے توغیب کو چابیاں کیوں لگائی ہوئی ہیں! جس کے پاس یہ چابیاں ہیں اس کی رسائی وہاں ہوجاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ وہاں کا مالک بھی ہوگیا۔ ہم نے غیب پر ایمان لانا ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے اس کے پاس غیب کی چابیاں ہیں۔ اب چابیاں ہیں تو اس کا مطلب ہے غیب میں خزانہ ہے۔ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّـهِ کہ کوششیں بہت کی گئیں کہ یا رسول اللہ ہمیں غیب کے بارے میں بتائیے اور حضور پاکؐ نے آرزو مندی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں یقیناً عرض بھی کی ہو گی۔ جب ایک مقام پر فرمایا رب زدنی علما جس کا مطلب ہے مجھ میں اس علم کا اضافہ کر۔ یہ نہیں فرمایا کہ میرے علم میں اضافہ کر، یہ غلط ترجمہ ہے۔ ربِ زدنی کہ اے میرے مولا۔ زدنی کہ مجھ میں اضافہ کر اس علم کا یعنی مجھے وہ دے دے۔ اب اس کا جواب اللہ کی طرف سے کیا آیا ہےاس کا کہیں کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ عالم غیب کی کنجیاں اللہ کے پاس ہیں اور اب وہاں کیا ہے لَا يَعْلَمُهَا کوئی نہیں جانتا۔ إِلَّا هُوَ کہ وہاں کیا ہے! اب انسان کے طور پر ہمارا کیا فرض بنتا ہے کہ ہم غیب پرایمان لائیں الذین یومنون بالغیب سب سے پہلے یہ ہی کہا ہے اور اس کے بعد میں نمازیں آئی ہیں۔ رب زدنی علما کہ میرے علم میں اضافہ کر، یہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ اس کا اصل معنی ہے مجھ میں اس علم کا اضافہ کر۔ جس طرح آپ میں وٹامن کی کمی ہوجاتی ہے تو وہ کمی آپ کے اندر ہے۔ کسی اور کے اندر ہو سکتا آئرن کی کمی ہو اور کسی اور کے اندر کسی اور چیز کی کمی ہو تو آپ کے اندر اس وٹامن کی کمی ہے۔ اس وٹامن کا اضافہ آپ کے اندر ہونا چاہئے تو آپ کی صحت بحال ہوگی۔ اب رب زدنی کا جملہ حضور پاکؐ نے تب فرمایا تھا کہ جب وہ معراج شریف میں عرشِ الہی پر پہنچ گئے ہیں، اللہ کا تخت و تاج اور اللہ کی کرسی بھی دیکھ لی ہے۔ اب اللہ جو پیچھے سے چلتا ہوا اپنی کرسی کی طرف آیا ہےتو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اللہ ہر وقت اپنے تخت وتاج پر بیٹھا رہتا ہے۔

جب حضورؐ نے دیکھا کہ اللہ اپنے تخت و تاج کی طرف پیچھے سے چل کر آیا ہے اور حضورؐ نے دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ پیچھے کیا ہے تو وہاں رسائی نہیں ہوئی تو اُس وقت حضورؐ نے فرمایا کہ رب زدنی علما کہ وہاں کیا ہے یہ جاننے کی مجھ میں سکت نہیں ہے تو وہ علم دے تا کہ میں وہاں بھی جان سکوں تو یہ وہاں کے علم کیلئے ہے۔

وہ کونسے لوگ ہیں جواللہ کی طرف سےہدایت پرہیں؟

یہ جتنی بھی تشریح ہے یہ ساری کی ساری الم والی کتاب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ الم والی کتاب میں کوئی شک والی بات نہیں ہے۔ اگر اس کتاب تک آپ کی رسائی ہو گئی تو پھر اللہ ملے ہی ملے پھر رب راضی ہی راضی ہے۔ الم قرآن مجید کے اندرایک کتاب ہے جیسے کتاب سے چھوٹی کوئی چیز بنے جس میں کم صفحات ہوں اُس کو کتابچہ کہتے ہیں۔ کتابچہ نکلا ہے کتاب سے اور جس طرح اگرایک مضمون چند عنوانات پر مشتمل ہو تو اس کو کہتے ہیں صحیفہ اور جامع کتاب کی صورت ہو تو اسے مصحف کہتے ہیں چونکہ حضورؐ نبی بھی ہیں اور رسول بھی ہیں۔ رسالت بھی آئی ہے اور نبوت کے ذریعے مصحف بھی ملا ہے اور قرآن بھی ملا ہے۔ أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ کہ یہ جو لوگ ہیں جن کی رسائی الم تک ہو گئی ہے یہ متقی ہیں اور ان کو الم والے قرآن نے ہدایت دے دی ہے۔ ان کی صفات کیا ہیں! الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ تو یہ جو لوگ ہیں جنہوں نے نماز قائم کرلی ہے، جو باطنی رزق اللہ نے ان کو دیا ہے وہ اپنی ذات تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اللہ کی مخلوق کو فیضیاب کرتے ہیں۔ عالم غیب پراُن کا کامل ایمان ہے اور یہ جو لوگ ہیں أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں جن کا تعلق الم سے ہوگیا ہے۔ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور یہی لوگ کامیاب ہوںگے۔

اللہ تعالی کی طرف سے کون لوگ موٴمن نہیں بن سکتے؟

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ “الم” کے بارے میں ہے اور یہ باطنی علم ہے تو اس کی تشریح بیان کرکے اب اللہ اس کے مخالف گروہ کی بات کر رہا ہے إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا کہ جن لوگوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے۔ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ تو ان کے اوپر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ أَأَنذَرْتَهُمْ کہ آپ ان کو ڈرائیں یا دھمکائیں کوئی اثران لوگوں پر نہیں ہونے والا۔ لَا يُؤْمِنُونَ کہ وہ کبھی بھی موٴمن نہیں بن سکتے کیونکہ خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ کہ اللہ تعالی نے ان کے قلب کی زندگیوں کو ختم کر دیا ہے اور مہر لگا دی ہے۔ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ اور ان کی سماعت کو بھی ختم کر دیا ہے۔ ظاہری سماعت نہیں کیونکہ کافر تو بولتے سنتے ہیں تو یہ ظاہری سماعت کی بات نہیں ہو رہی بلکہ یہ باطنی سماعت کی بات ہے۔ جیسے لوگ کہتے ہیں کہ امام مہدیؑ آئیں گے تو آسمان سے آواز آئے گی اور اگر اللہ نے تیری باطنی سماعت ختم کر دی ہوگی تو تجھے وہ آواز کیسے آئے گی! تم انتظار میں ہی رہنا اور ابھی جو بڑی بڑی راتوں میں کہا جاتا ہے کہ جبرائیل آکر مصافحہ کرتے ہیں تو کتنے لوگ جبرائیلؑ کو دیکھتے ہیں اور کتنے لوگوں کو جبرائیلؑ کی آواز آتی ہے۔ اللہ ہر روز خطاب فرماتا ہے اور عالم ملکوت تک آواز آتی ہے۔ اللہ کی آوازیں تو روز گونجتی ہیں لیکن تم صاحبِ قلب نہیں ہو۔ مولانا روم نے فرمایا کہ
گر تو سنگ صخره و مرمر شوی
چون به صاحب دل رسی گوهر شوی‌‌

اگر تم سنگ مرمر کی طرح پتھر بن گئے ہو۔ جامد تو کسی صاحبِ دل کے پاس چلا جا وہ تجھے گوھر بنا دے گا یعنی موتی بنا دے گا۔ اب اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ جن لوگوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے ان کو تبلیغ نہ کرو۔ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُو سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ آپ ان کو ڈرائیں دھمکائیں وہ اسی دنیا میں ملیں گے کہ آپ ان کو سمجھائیں کہ تم اتنی گستاخیاں کیوں کرتے ہو اور تم کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا لیکن آپ دیکھتے ہیں ان کو ڈر لگتا ہی نہیں ہے۔ لوگ کلمہ پڑھ کر بھی جھوٹی قسمیں کھا لیتے ہیں، اللہ کے ولیوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں اوراُن پر بہتان لگاتے ہیں۔ اللہ تعالی نے تو فرمایا ہے کہ میرے ولی سے جس نے دشمنی کی میں اُس سے اعلانِ جنگ کر لیتا ہوں لیکن یہ بات سننے کے بعد بھی کتنے مولوی ہیں جو ولیوں کی مخالفتیں کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے اُن کے اندر کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ختم کر دیا ہے۔ اس لئے نبی پاکؐ کو حکم ہوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ کہ آپ ان کو ڈرائیں یا دھمکائیں کوئی فرق نہیں پڑتا، یہ مومن بن نہیں سکتے کیونکہ جن چیزوں سے مومن بنتا ہے وہ قلب ہے اور اللہ نے قلب پر مہر لگا دی اور قلب کی زندگی کو ختم کر دیا۔ خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ کہ ان کی باطنی آنکھوں پر بھی پٹی باندھ دی اورغِشَاوَةٌ کہ پردے ڈال دئیے۔ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ اور ان لوگوں کیلئے بڑا عظیم عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اب یہ دو گروہ ہیں جن کی تشریح بیان کی گئی ہے۔

پہلا گروہ وہ ہے “الم” سے جن کو ہدایت ہوئی ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جنہوں نے جھٹلایا تو ان کے ساتھ یہ ہوا کہ ان کے لطائف کو اللہ نے تباہ و برباد کر دیا۔ جب تیرے لطائف کی زندگیاں ختم ہو جائیں، تیرے قلب، لطیفہ سری، لطیفہ اخفی اور جب ان تمام لطائف کی زندگیاں ختم ہو جائیں تو پھر آپ کو تبلیغ کرنا ہی بیکار ہے کیونکہ آپ موٴمن بننے کے قابل ہی نہیں رہے۔

اگر کوئی نامرد ہو تو کیا وہ شادی کرتا ہے! جھوٹ بول کر شادی ہو تو جائے گی لیکن بیکار ہے کیونکہ اس میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہے اور اگر صلاحیت ہی نہیں ہے تو وہ عمل بیکار ہو گیا۔ اسی طرح موٴمن بننے کیلئے بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالی نے تیرا قلب سلامت رکھا ہو، تیرے اندر روحوں کو سلامت رکھا ہو اور تیرے اندر زندگی کی رمق باقی ہو لیکن جن لوگوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے تو اللہ تعالی نے سزا کے طور پر ان کے دلوں پر تالے ڈال دیئے ہیں، باطنی سماعت اور باطنی بصیرت کو ختم کر دیا ہے اور اس کے بعد مزید غشاوہ یعنی پردے بھی ڈال دئیے ہیں ۔

قرآن میں کون لوگ خود کوموٴمن سمجھتےہیں؟

وَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ کہ اور وہ لوگ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم تو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان لائے ہیں اور وہ موٴمنین ہیں۔ اچھا اب غور کیجئیے کہ اللہ نے فرمایا ہے وہ انسان اب ان کو اللہ نےموٴمن نہیں کہا ہے بلکہ اللہ نے فرمایا ومن الناس تو کچھ انسان یہ کہتے ہیں کہ آمَنَّا بِاللَّـ کہ ہم اللہ پر ایمان لائے، آخرت پر ایمان لائے اور ہم موٴمن ہیں لیکن یہ اُن کا لوگوں کا کہنا ہے جیسے یہاں بہت سے لوگ کہتے ہیں ہم گوھر شاہی کو مانتے ہیں وہ ہمارے مرشد ہیں اور کوئی کہتا ہے وہ ہمارے ابو ہیں، کوئی کہتا ہے وہ ہمارے بھائی ہیں، کوئی کہتا ہے وہ ہمارے شوہر ہیں تو ہم سے بڑا کون ہوگا! جس طرح بابر، طلعت، حماد، غفران اوران کی اولادیں ہیں تو آپ ان کی حرکتیں اور دعوے بھی دیکھیں کہ ہم تو ان کی اولاد ہیں تو ہم سے زیادہ اور کون مان سکتا ہے! اسی طرح اللہ نے یہاں مثال دی ہے وَمِنَ النَّاسِ کہ کچھ انسان ایسے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں تواللہ یہاں لوگوں کا دعوی بتا رہا ہے کہ اللہ اِن کو موٴمن نہیں مان رہا ہے۔ اللہ نے ان کو انسان کہا ہے کہ کچھ انسان یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم تو اللہ پراور یومِ آخرت پر ایمان لےآئے ہیں تو ہم موٴمن ہیں۔ اب اللہ فرما رہا ہے يُخَادِعُونَ اللَّـهَ کہ یہ اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ جس طرح کوٹری والے سمجھ رہے ہیں کہ وہ سرکارگوھرشاہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اسی طرح اللہ نے ان کیلئے فرمایا ہےکہ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا کہ یہ اللہ کو اور موٴمنوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ یہ مومن نہیں ہیں اور اپنی طرف سے فریب دے رہے ہیں۔ اس طرح بہت سارے لوگ ہماری ایم ایف آئی میں ہیں جو سرکار گوھر شاہی کو مانتے نہیں ہیں لیکن صرف تماشہ دیکھنے کیلئے آتے ہیں لہذا ایم ایف آئی کے لوگوں کو چاہئیے ہر کسی پر بھروسہ اور یقین نہ کریں کیونکہ وہ زبان سے ہی کہے گا کہ میں تو سرکار گوھرشاہی کا ماننے والا ہوں اور امام مہدی مانتا ہوں تو آپ کہیں گے کہ سرکار کو امام مہدی مانتا ہے یہ تو ہمارا بھائی ہے لیکن یہ تو اس کا دعوی ہے اور اس کے دل میں کیا ہے یہ تو آپ کو نہیں پتہ اور دل میں کیا ہے وہ اعمال کے ذریعے پڑھا جا سکتا ہے۔ ایک انسان کا عمل ہے اور ایک اس کا دعوہ ہے توعمل اوردعوے کو دیکھو۔ مصیبت کے وقت تیری زبان سے کیا نکلتا ہے اور جب مصیبت پڑے تو تیری زبان سے ماں اور بھائی کا نام نکلے تو من کا نام کیسے ہو گیا! مومن تو وہ ہے کہ جب اس پر کوئی مصیبت پڑے تو فطری طور پر اس کی زبان سے اللہ نکلتا ہے۔

اللہ تعالی کی نظرمیں کون لوگ خود کو دھوکہ دے رہے ہیں؟

اللہ تعالی بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ اور ایمان والوں کو یہ فریب دے رہے ہیں۔ وَمَا يَخْدَعُونَ اور وہ ہمیں فریب نہیں دے سکتے۔ إِلَّا أَنفُسَهُمْ کہ وہ دھوکہ صرف اپنے آپ کو دے رہے ہیں۔ وَمَا يَشْعُرُونَاور ان کو پتہ ہی نہیں ہے۔ جس طرح ایم ایف آئی میں کچھ لوگ سمجھتے ہیں ہمارا تو یونس الگوھر پراور دوسرے لوگوں پر ایک تاثر بن گیا ہے کہ ہم تو بہت مقرب ہوگئے ہیں اور ہم سرکار کے بہت بڑے ماننے والے ہیں اور یہ کیسے موٴمن ہیں ان کو ہمارے بارے میں پتہ ہی نہیں ہے کہ ہم تو ان کی جڑیں کاٹے جا رہے ہیں۔ یہاں سے جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی سازشیں اور ان کی جاسوسی ہماری پکڑ میں نہیں آ رہی بظاہر تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کو روحانیت کا کیا پتہ اور اگر ان کو روحانیت کا پتہ ہوتا تو یہ بتاتے ہمیں کہ ہم ان کے خلاف چپکے چپکے سازشیں کر رہے ہیں لہٰذا وہ اس فریب میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم نے امام مہدی اور ان کے کارندوں کو دھوکہ دے دیا۔ ان کو یہ نہیں پتہ کہ جو سامنے بیٹھ کر روزانہ بولتا ہے وہ شاید اس لئے بیان نہیں کررہا تاکہ تم یہاں ٹکے رہو کیونکہ ہو سکتا ہے اس کا یہ گمان ہو کہ یہ ہماری باتیں سنتا رہے اور یہ الفاظ جن میں نور ہے وہ اس کے کانوں میں جاتے رہیں تو ہوسکتا ہے سال چھ مہینے بعد اس کے دل میں نور چلا جائے، جاسوسی کیلئے آئے لیکن ایمان والا ہو کر جائے کیونکہ فقیر کا دل بہت بڑا ہوتا ہے۔
دل دریا سمندوں ڈونگے کون دلاں دیاں جانے ھو
ان لوگوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اللہ اور موٴمنوں کو فریب دینے کے چکروں میں ہیں لیکن ان کو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہ اپنے آپ کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ پھراللہ تعالی نےفرمایا کہ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ کہ بات دراصل یہ ہے کہ یہ جو دعویدار ہیں کہ ہم موٴمن ہیں ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ان کے قلوب میں بیماری ہے۔ اب یہ ہوا کہ یہ اللہ اور موٴمنوں کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ ہم تو موٴمن ہیں اور اللہ فرما رہے ہیں کہ ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ فَزَادَهُمُ اللَّـهُ مَرَضًا کہ اللہ روز ان کی بیماری کو بڑھاتا رہتا ہے اور جب بیماری بڑھتی رہتی ہے تو ان کی جاسوسی چالاکیاں بھی بڑھتی رہتی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ دیکھو ہم کتنے کامیاب ہیں کہ ہم نے تو ایم ایف آئی کی جڑیں کاٹ دیں، ہمارے پاس تو یہ رازآگیا ہمارے پاس تو وہ راز آگیا، ہم تو ایسا کر دیں گے اور ہم تو ویسا کر دیں گے۔ وہ یہ نہیں جانتا کہ یہ جو تم سیانے بن رہے ہو یہ تیرے دل کی بیماری ہے جو اللہ روز بڑھا رہا ہے۔ اللہ روز ان کے مرض میں زیادتی کرتا ہے۔ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ اوراللہ نے ان کیلئے بڑا ہی عظیم عذاب تیار کررکھا ہے۔ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ اور یہ عذاب کیا ہے! یہ ہمارا جواب ہے ان کیلئے جو انہوں نے کذب کیا ہے۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم کیوں ہر وقت ہنگامہ آرائی اور فتنہ فساد کرتے رہتے ہو، تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے۔ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ تو کہتے ہیں کہ اچھا ہمیں کہہ رہے ہوکہ ہم فتنہ اور فساد کر رہے ہیں بلکہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں اور ہم فساد کہاں کر رہے ہیں! یہ منافقین کا حال ہے۔ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ کہ یہی ہیں جو فساد کرنے والے ہیں لیکن ان کو خود پتہ نہیں ہے۔ ہر فسادی یہی کہتا ہے کہ وہ اصلاح کررہا ہے اور ہر چور یہی کہتا ہے وہ چور نہیں ہے۔ ہر فسادی یہ کہتا ہے وہ تو صحیح ہے، وہ تو لوگوں کی مدد کررہا ہے، اُس نے تو لوگوں کی زندگی سنواردی ہے اور اُس نے تم کو گمراہی سے بچا لیا ہے۔ جس طرح یہ وہابی دیوبندی کہتے ہیں ہم اسلام کا کام کر رہے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہوئے ہیں لیکن پوری دنیا میں انہوں نے اسلام کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور اپنے آپ کو اصلاح کرنے والا سمجھتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ کہتے ہیں قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ۔ لیکن خبردار ہوجاوٴ کہ جن کے دلوں کی زندگیاں ختم ہو گئی ہیں، جن کے قلب ختم ہو گئےاور لطائف برباد ہو گئے ہیں یہ صرف دنیا میں فساد کریں گے۔ دین کی آڑ میں کہیں گےکہ ہم سے بڑا تو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور ہم سے بڑا اصلاح کرنے والا نہیں ہے لیکن اللہ نے فرمایا کہ یہی فساد کرنے والے ہیں اور ان کو خبر نہیں ہے کیونکہ ان کو ہم نے شعور نہیں دیا ہے۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا كَمَا آمَنَ النَّاسُ اور جب ان کو کہا جاتا ہے کہ جیسے باقی ایمان لائے ہیں تم بھی ایمان لے آوٴ جس طرح ایم ایف آئی میں بھی بہت سے لوگ ہیں ہروقت ان کو کسی نہ کسی سے کوئی نہ کوئی پریشانی چلتی رہتی ہے، ہر وقت کوئی نہ کوئی شکوہ اور شکایت کرتے ہیں اور جب ان کو کہتے ہیں کہ باقی بھی تو لوگ ہیں کوئی امریکہ چھوڑ کر کوئی اپنا گھر بار چھوڑ کر آیا ہے چپکے سے لگے ہوئے ہیں تم کو اتنی پریشانی ہو رہی ہے بلا وجہ تم بھی باقی لوگوں کی طرح صبروشکر سے گزارا کرو۔ جب یہ کہا جاتا ہے وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا کہ جس طرح باقی انسان ایمان لائے ہیں تم بھی ایمان لے آوٴ تو کہتے ہیں قَالُوا أَنُؤْمِنُ كَمَا آمَنَ السُّفَهَاءُ کہ ہم ان کی طرح بیوقوف تھوڑا ہیں اور تم کہہ رہے ہو ہم ان کی طرح موٴمن بن جائیں۔ یہ تو بیوقوف لوگ ہیں، اپنا گھر بار چھوڑ چھاڑ کر لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہم ان کی طرح مومن نہیں بن سکتے۔ خبردار ہو جاوٴ بیوقوف یہ خود ہیں لیکن موٴمنوں کو بیوقوف کہہ رہے ہیں۔ اب یہاں آپ نے تکرار دیکھی ہوگی تو وہ تکرار کیا ہے! فساد خود کرتے ہیں اور بات لوگوں پر ڈالتے ہیں، جاہل خود ہیں اور کہتے دوسروں کو ہیں، بیوقوف خود ہیں اور کہتے دوسروں کو ہیں، یہ ایک المیہ ہے۔آپ کے سامنے آکر اگر کوئی کہے فلاں جاہل ہے تو سمجھ جاوٴ وہ اپنی تعریف کر رہا ہے۔ قرآن میں تو یہ لکھا ہوا کہ ہم ان بیوقوفوں کی طرح ایمان لے آئیں، ہم بیوقوف تھوڑی ہیں اور اللہ نے فرمایا خبردار یہی بیوقوف لوگ ہیں لیکن ان کو کچھ پتہ ہی نہیں ہے۔

اللہ تعالی کن کوموٴمن بناتا ہے؟

موٴمن بننے کیلئے قلب کی زندگی کا ہونا ضروری ہےجیسا کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ یا رسول اللہ! جن لوگوں نے حق کوجھٹلادیا ہے اب برابر ہے کہ آپ ان کو ڈرائیں یا دھمکائیں کوئی فرق پڑنے والا نہیں ہے کیونکہ لا یوٴمنون کہ یہ مومن نہیں بن سکتے کیونکہ خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ کہ اللہ نے ان کے قلوب کو ختم کر دیا ہے۔ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ تو یہ باطنی چیزیں ہیں ان کا ختم ہو جانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ بندہ موٴمن نہیں بن سکتا کیونکہ موٴمن بننے کا تعلق انسان کے قلب سے ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ

وَمَن يُؤْمِن بِاللَّـهِ يَهْدِ قَلْبَهُ
سورة التغابن آیت نمبر11
ترجمہ: جس کو اللہ موٴمن بناتا ہے اس کے قلب کو ہدایت دیتا ہے۔

اگرآپ کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور آپ کے قلب کی زندگی کو اللہ نے ختم کر دیا ہے تو اب آپ موٴمن نہیں بن سکتے۔ جب آپ موٴمن نہیں بن سکتے تو حضورؐ کو ارشاد ہوا کہ ان لوگوں کو تبلیغ کرنا بیکار ہے۔ اب یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ وہ موٴمن ہیں تو یہ حضورؐ کے ماننے والوں میں سے لوگ ہوںگے۔ کافروں کیلئے تو یہ بات نہیں کہی جا رہی لیکن ان کے ساتھ مسئلہ کیا تھا، ان کے اندر کی چیزیں کس وجہ سے اللہ نے ختم کر دی اور ان کی زبان پر یہی رہا کہ ہم مومن ہیں لیکن ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی اور ان کا دعوہ یہی رہا اور اللہ نے ان کے دماغ سے یہ بات چھین لی ہے کہ ہم بیوقوف بنے ہوئے ہیں۔

اللہ نے کن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موٴمن بننے کاحکم دیا؟

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا کہ یہ جو لوگ ہیں ان کی طرح تم موٴمن بنوتو یہ کون لوگ ہیں!

حضورؐ کے دور میں تو وہ لوگ تھے جو اصحاب صفہ تھے۔ ان کی اللہ نے مثال دی ہے کہ ان کی طرح ایمان لاوٴاور پھر حضورؐ کے دور کے بعد جو اللہ تعالی نے حوالہ دیا ہے وہ طبقہ تابعین اور تبع تابعین کا ہے اور صالحین، مقربین اور اولیا اللہ کا طبقہ ہے جن کے ایمان کی اللہ قرآن مجید میں مثالیں دے رہا ہے کہ ان کی طرح ایمان لاوٴ۔ یہاں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہم ان کی تقلید اور پیروی کریں تبھی تواللہ فرما رہا ہے ان کی طرح ایمان لاوٴ۔ ہم ان کی طرح ایمان تبھی لائیں گے جب ہم ان کی تقلید کریں گے۔

اب ان لوگوں کو دیکھ کر یہ کہتے ہیں کہ یہ تو بیوقوف ہیں یہ چبوترے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کا جو ظاہر تھا وہ تو یہی تھا کہ وہ چبوترے پر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ حضورؐ کی صحبت میں بیٹھتے اور اللہ کی طرف سے آیا کہ یہ جو چبوترے پر بیٹھے ہیں ان کی طرح ایمان لاوٴ تب ہم مانیں گے۔ اللہ تعالی نے نبی پاکؐ کے ان غلاموں جو صرف حضور پاکؐ کے درشن اور دیدار کیلئے بیٹھتے تھے تاکہ چہرہ مصطفی کا دیدار ہو جائے اور کوئی مراد ان کی نہیں تھی۔ یہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے کہ تیری ایک نظر کے محتاج ہیں صرف اسی لئے گھر بار چھوڑ کر تیرے آستانے پر آ کر بیٹھ گئے ہیں تاکہ تو ایک نظر ان کو روز دیکھ لیا کرے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ

وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ
سورة الکھف آیت نمبر28
ترجمہ: اور اپنے نفس کو صابر بنا لیں کیونکہ یہ تیرے رب کا ذکر کرنے والے ہیں اور ان کی مراد تیرے چہرے کو تکتے رہنا ہے اوران سےاپنی آنکھیں پھیرنہ لینا۔

یہ اصحاب صفہ کیلئے ہے کہ آپ کے نفس کو ناگوار بھی گزرتا ہے کہ ان سے بدبو آ رہی ہے، بال مٹی میں اٹے ہیں، کپڑے میلے کچیلے ہیں لیکن آپ صبر فرمائیں کیونکہ یہ صبح شام اسی میں لگے رہتے ہیں اور ان کی مراد ہے کہ تیرے چہرے کو تکتے رہیں۔ یہ تو آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھنے کیلئے ترسے بیٹھے ہیں اور ان کوکچھ نہیں چاہئیے۔ یہ آپ کے دیدار کیلئے یہاں پر گھر بار چھوڑ کر، عیش و آرام چھوڑ کراور سارے کا سارا مال و متاع دنیا کا چھوڑ کر یہاں بیٹھ کر صبح شام تیرے رب کو یاد کرتے ہیں اور تیرے چہرے کو تکنا چاہتے ہیں تو اپنی نگاہیں ان سے پھیر نہ لینا۔ پھراللہ تعالی نے فرمایا کہ

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا
سورة الکھف آیت نمبر28
ترجمہ: ایسوں کی بات نہ ماننا کہ جن کے قلب کو ہم نے اپنے ذکر سے غافل کر رکھا ہے۔

اور یہ تو وہ لوگ ہیں جن کے قلب ہمارے ذکر سے منور ہیں۔ یہاں اللہ مثالیں دے کر فرمارہا ہے کہ ان لوگوں کی طرح موٴمن بنو۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں کی زندگی کیسی ہے جو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس میں لگ گئے اور وہ کہتےہیں کہ یہ تو بیوقوف ہیں ہم اگر ان کی طرح لگ گئے تو ہماری عیاشیاں، چین اور سکون ختم ہوجائے گا۔ جن لوگوں کی اللہ نے مثال قرآن میں دی ہے کہ ان کی طرح ایمان لاوٴ تواللہ تعالی ان پر فخرفرمایا ہے کہ ایسے ایمان کو میں پسند کرتا ہوں۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلً
سورة المزمل آیت نمبر8
ترجمہ: اپنے رب کے اسم میں مستغرق ہوجاوٴاورسارے رشتے ناطے توڑ کر صرف اسی کا ہوجاوٴ۔

پھرایمان ہاتھ آئے گا ورنہ آدھا اللہ کی طرف آدھا دنیا کی طرف تو یہ نفاق ہے اس میں کچھ نہیں ملے گا۔ یہاں كَمَا آمَنَ النَّاسُ سے جو مراد ہے وہ اصحاب صفحا کی ہے کہ ان کی طرح موٴمن بن جاوٴ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ تو بیوقوف ہے۔ اس طرح ایمان کون لائے گا اور اس طرح کا ایمان لانے میں تو شیطان کی سیٹ پر بیوی آکر بیٹھ جائے گی، اس طرح کا مشکلات اور مصیبتوں والا ایمان تو لوگوں کو پسند نہیں ہے، لوگ تو ایسا ایمان چاہتے ہیں کہ ہم جو بھی حرام کر رہے ہیں وہ بھی کرتے رہیں ایک دوسرے کی ٹانگیں بھی کھینچتے رہیں، فراڈ بھی کرتے رہیں، بے ایمانی بھی کرتے رہیں، بہتان بھی لگاتے رہیں، ہم سب کچھ بھی کرتے رہیں اور ہم موٴمن بھی بنے رہیں۔ ایسا تھوڑی ہوتا ہے یہ تو آپ کے کردار کو سنوارنا پڑتا ہے، “میں” نکالنی پڑتی ہے اور رب کو یہ ثبوت دینا پڑتا ہے کہ میرے لئے تجھ سے زیادہ قیمتی اوراہم کچھ نہیں ہے۔ یہ زبان سے نہیں عمل سےثابت ہوتا ہے۔ بچہ بیمار ہو اور تم جاہی نہیں رہےتو یہ عمل بتا رہا ہے کہ یہاں بیٹھا ہے اس کی نظر میں یہاں بیٹھنا زیادہ ضروری ہے۔ یہ اس کا ایمان ہے۔ عمل سے ثابت کرنا پڑتا ہے زبان سے نہیں کہ مجھے سب سے زیادہ آپ سے پیار ہے۔
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری

اللہ تعالی نے جن کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان کی طرح ایمان لاوٴ تو اللہ کی نظر میں ان لوگوں کا ایمان کتنا محبوب ہوگا۔ اگر ہم کہیں کے نظام الدین اولیاء کی طرح ایمان لاوٴ تو آپ کیسے ایمان لائیں گے، بابا فرید کی طرح ایمان لاوٴ تو آپ بابا فرید کی طرح کس طرح ایمان لائیں گے! بابا فرید نے تو چھتیس سال جنگل میں چلہ کیا اس کے بعد بھی رب نہیں ملا تو کنویں میں الٹے لٹک گئے تھے تو آپ بابا فرید کی طرح ایمان کیسے لائیں گے کہ یہ کون سا طریقہ ہے کونئیں میں الٹے لٹک جاوٴ لیکن اللہ نے ان کیلئے ہی کہا ہے کہ ان کی طرح ایمان لاوٴ۔ یہ اولیاء، صالحین اور فقراء کا طبقہ وہ طبقہ ہے جس کی تجویزاللہ نے قرآن میں دی ہے کہ موٴمن بننا ہے تو ان کی طرح موٴمن بنو۔ ان کی طرح موٴمن نہیں بنو گے تو ہمیں منظور ہی نہیں ہے۔ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا اب یہ جو لوگ ہیں لَقُو کا مطلب ہے ملاقات کرنا اور جب یہ موٴمنوں سے ملتے ہیں قَالُو آمنا کہتے ہیں کہ ہم تو موٴمن ہیں۔ کئی بندے ایم ایف آئی میں ایسے ہیں جو یہاں لکھتے ہیں بہت عزیزسیدی اور باقی نجی زندگی میں لوگوں کو فون کرکے کہتے ہیں کہ میں تو نہیں مانتا یہ سب فراڈ اور جھوٹ ہے میں تو ان کو بیوقوف بنا رہا ہوں اور کوئی ایم ایف آئی والا مل جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہاں جی سیدی تو بہت پہنچے ہوئے ہیں اور اللہ تعالی نے ان کو بہت کچھ دیا ہے ہم تو ان کا بڑا ادب کرتے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں ان لوگوں ہی کیلئے فرمایا ہے کہ اور جب یہ لوگوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم توموٴمن ہیں۔ وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ اور جب یہ اپنے دیگر شیطان نما لوگوں کے پاس تنہائی میں ملتے ہیں اور ان کا کافروں میں اپنا کوئی ساتھی ہوتا ہے تو کہتے ہیں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں، وہاں تو ہم فساد کرنے گئے تھے۔ پھر ایک دن جاسوسی کرتے کرتے کیا ہوتا ہے وہ موٴمن بن جاتا ہے اور کہتا ہے نہیں یہ تو صحیح لوگ ہیں۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 27 مارچ 2020 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ ہے۔

متعلقہ پوسٹس
دوست کے سا تھ شئیر کریں