کیٹیگری: مضامین

حضرتِ عشق کی حقیقت:

فرمانِ گوھرشاھی ہےکہ اللہ تعالیٰ کی ذات خود عشق ہے اورخود عاشق ہےاور خود معشوق ہے ۔سندھ کی سرزمین کتنی خوش نصیب ہےسب سے پہلےلعل شہباز قلندر کا وہاں قیام ہوا،اس کے بعد سرکار گوھرشاہی نے بھی اپنا مسکن بنا لیااورسچل سرمست نے بھی سندھ کی سرزمین کو اپنا مسکن بنایا۔یہ سچل سر مست جو ہیں یہ کوئی معمولی ہستی نہیں ہیں انہوں نے فرمایا کہ
“بن عشقِ دلبر کے سچل کیا کفر کیا اسلام ہے”
یعنی سچل سرمست کا مقام ایسا ہےکہ میں ایک مثال کے طور پر کہہ رہا ہوں اگر یہ چھینک ماریں تو کئی منصور حلاج پیدا کر دیں بہت بڑا مقام ہےاور پھر سرکار گوھر شاہی ! اگر آپ کوٹری شریف سے ایک سیدھی لائن کھینچیں تو وہ سیدھی حجر ِاسود پہ جا کہ ختم ہو گی،جس طرح چار کونے ہیں تو حجرِاسود کا کونہ اس سمت میں ہےجہاں ہند ہے۔حضرتِ عشق تو اللہ کی ذات ہے،

آیت تطہیراور درجہ معصومیت پر فائز ہونا کیا ہے؟

عشق کی حقیقت تو کوئی بھی نہیں سمجھ سکا، کچھ لوگ عشق کے بھکاری بن گئے ہیں ،اس کی حقیقت تو کوئی بھی نہیں سمجھ سکا،عشق کیا قربانی مانگتا ہے؟عشق وہی قربانی مانگتا ہے جو کربلا نے لی ،جب میری پہلی مرتبہ امامِ حسین عالی مقام سے ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیاکہ آپ مجھے یہ فرمائیےکہ طہارت اور پاکیزگی کیا ہے؟ تو آپ نے فرمایاکہ جس طرح نفس کو پاک کرناطہارت کہلاتی ہے جوکہ شریعت کی طہارت ہے، اسی طرح طریقت کی طہارت یہ ہے کہ یہ جو تیرا جسم ہے نا یہ بھی غلاظت ہے،اس کو بھی اتار کہ ایسے رکھ دے کہ جس طرح تو اپنا لباس اتار کے رکھ دیتا ہے،پوری طہارت تب ملے گی جب یہ اپنا وجود نکال کر کے اپنے ہاتھ سے دے گااور آپ نے یہ بھی فرمایاکہ اللہ کی طرف سے موت آئے،وہ تو سب کو آنی ہےاگر طبعی موت تُو مر گیاتو پھر بیکار گیاتو اس کو پہلے سے اٹھا کر پھینک دے،اس جسم کو ایک لباس سمجھا کرجس طرح لباس اتار کر رکھ دیتے ہیں اسی طرح یہ لباس اتار کر کے رکھ دے۔
عشق کے لئے سب سے پہلےتو انسان کو اپنے نفس کی قربانی دینی پڑتی ہے،نفس کو پاک کرنا پڑتا ہے۔نفس کو پاک کرنے کے بعد عشق کے لئے (ولایت کے لئے نہیں)پھر وہ جو انانیت کا بت ہےاس کو توڑنا پڑتا ہےاور اس کے بعد آخری جو چیز ہے،جس چیز کے ہونے کے بعد انسان ،انسان نہیں رہتا،وہ کرنی پڑتی ہے،وہ کیا ہے؟تیرے دل میں اللہ تعالیٰ نے دو نسبتیں رکھی ہیں ایک ہے نسبتِ الٰہیہ اور ایک ہے نسبتِ آدمیہ۔نسبتِ آدمیہ جو ہےوہ ایک خون کا لوتھڑا ہےاور وہ تیرے دل کے اندر ہے۔ذکر ِقلب جاری ہونے کے با وجود بھی وہ خون کا لوتھڑا تیرے دل میں ہی رہتا ہے،جب تک وہ تیرے دل میں ہےتوُ انسان ہے،اور جب وہ خون کا لوتھڑا تیرے دل سے نکل گیاتو اب تُو آدم کی اولاد سے نکل گیا،اسی کے اندر گناہ کرنے کی صلاحیت ہےایک تو وہ گناہ کرنے کی صلاحیت ہے جو لطیفہِ نفس کو حاصل ہے،نفس برائی کا امر کرتا ہےیہ الگ ہے ،ایک اور بھی ہے وہ تیرے دل میں ہے۔اب یہ بات جو ہے پہلی اور آخری دفعہ کہہ رہا ہوں میں،زندگی میں دوبارہ بھی نہیں کہوں گا،جب اللہ تعالیٰ نے آیتِ تطہیرنازل کی تو آیتِ تطہیر یہی تھی کہ اُس خون کہ لوتھڑے کو جو ایک گندا قطرہِ خون تھا وہ اللہ نے ان کے دلوں سے نکال دیا،جس کے دل سے وہ نسبتِ آدمیہ والا گندا قطرہ خون کا نکل گیا تو وہ اللہ کی بارگاہ میں درجہِ معصومیت پر فائز ہوا۔وہ نجاست ظاہر میں کدھر لگی ہوئی تھی؟ہر طرح کی رجس وہی ہے نا،اسی کو پکڑ کےیہ ایک لاکھ اسی ہزار جالے بیٹھے رہتے ہیں،اسی کی وجہ سے حسد ،تکبربار باردل کی طرف آتا ہے،اللہٗ باہر پھینکتا ہے،بھئی بار بار دل کی طرف کیوں آرہا ہےکہیں اور جا،وہ اس کی وجہ سے آرہا ہے۔جب تک عورت میں حسن رہے گامرد اس کے پیچھے آئیں گے حسن چلا جائے گا کوئی نہیں آئے گا۔
ایک مرید تھا غوثِ اعظم کااس نے غوث پاک کو مدد کے لئے پکاراتو غوث پاک کی آواز آئی جو تیرے ہاتھ میں دینار ہیں یہ پھینک دے زمین پہ،اس نے پھینک دیئے شیطان چلا گیاتو اس نے پوچھا غوث پاک سےکہ یہ دینار پھینکنے سے شیطان کیوں گیاتو غوث پاک نے کہا کہ یہ جو دینار ہےیہ جو دولت ہے یہ شیطان کی میراث ہے،شیطان کی میراث تُو نے اپنے ہاتھوں میں لی ہوئی ہےتو شیطان کا حق بنتا ہے تجھ پر حملہ کرے،اب وہ تو شیطان کی میراث ہاتھوں میں تھی،اگر کسی کے دل میں ہو تبھی تکبّر بار بار حملے کرے گا نا ذاکرِقلبی بننے کے بعد بھی۔وہ جو دل کے اندر گندہ قطرہ ہےخون کا وہ جب نکل جاتا ہے،وہ نکلتا نہیں ہے،یا تو وہ اللہ نے نکالا ہےیا وہ گوھر شاہی نے نکالا ہے۔آیتِ تطہیر کا مطلب ہی یہی ہے کہ وہ جو گندہ خون کا قطرہ ہے وہ نہ ہو،وہ ایسے نہیں جاتا،وہ 360 تجلّیوں سے بھی نہیں جاتا،درجہِ وِلایت پر پہنچنے کے با وجود بھی وہ نہیں نکلتا،اس کو نکالنے کے لئے اللہ ہے بس ،اور پھر وہ کام جو ہے سرکار گوہرشاہی نے بھی کیا،اگر وہ چیز نکل جائےتو پھر کیا ہو گا،فرض کیا وہ تیرا نکل گیا اب تُو غوث پاک کے سامنے گیاتو ویسا ہو جائے گا،تُو حضور پاک کے پاس جائے گا تو ویسا ہو جائے گا،اللہ کے سامنے جائے گا تو ویسا ہو جائے گا۔اس قطرےکے ہونے کی وجہ سے تیری حقیقت رکی رہی تھی جیسا تھا ویسا ہی رہتا تھابھلے بادشاہ کے سامنے بیٹھ جاتا تھا۔جب وہ نکل گئی تو اُسی دریا کا قطرہ ہے نا تُو ویسا ہی نظر آئے گا۔تو جن کو درجہِ عشق عطا ہو گا،وہ قطرہ پہلے نکالا جائے گا،وہ قطرہ ایسے ہی نہیں نکلتا ہےلیکن حضرتِ عشق کی ڈمانڈ یہی ہےکہ وہ قطرہ نکلا ہوا ہو۔اب صبح سے شام تک ہم کو لوگ اتنا تنگ کرتے ہیں اتنا تنگ کرتے ہیں لیکن وہ جو دل ہےوہ بار بار معاف کر دیتا ہے،کوئی بغض اکھٹا نہیں ہوتا،کوئی تکبر نہیں آتا،وہ ہوتا ہی نہیں ہے،وہ چیز کا نکل جانا طہارت ہے۔بلّھے شاہ کو بھی جب یہ حاصل ہو گئی ناتب انہوں نے کہا کہ” نہ میں آدم حوا جایا”۔۔۔۔ہم نے بلھے شاہ کو یہ بات ماری تھی پھر یہ کہ آدم حوا جایا کب سے نہیں ہو؟ تمھارے تو والدین بھی تھے ناوہ تو آدم کا ہی طریقہ تھا ناتولّد ہوئے نا اپنے ماں باپ کے گھرتو آدم اور حوّا جایا کیوں نہیں ہوا توُ؟ہوا نا؟ہے نا آدم حوّا جایاتو پھر ایک وقت آیا نا جب وہ قطرہِ خون نکلاتو تیرا تعلق،نسبتِ آدم ختم ہو گئی،تُو نے کہا کہ نا میں آدم حوّا جایاتو صحیح صحیح بات بتائو نا،جو الفاظ تم نے لکھے ہیں شاعری میں کہ نہ میں آدم حوّا جایانہ کچھ اپنا نام درایایہ بلھے شاہ تیرے پیو دا نا اے،نہ کوئی اپنا نام درایا تو بلھے شاہ کس کا نام ہے،ولیوں نے بھی الجھایا ہے ایسے آکے،قوم تو یہ پہلے ہی الجھی ہوئی ہےتو ولیوں نے بھی آکے الجھایا ہی،کوئی اگر رائے تھی تو ولیوں نے پہاڑ بنا کر بتایاکہ یہ جی یہ تو یہ شان ہے یہ تو وہ شان ہےکسی نے سیب اُٹھا کر کھا لیا پھر سیب کھانے کے بعد یاد آیاارے یہ کس کا تھا بھئی اتنے زاھدوپارسا ہو توپہلے سوچتے ناکہ بھئی وہ بھوک لگ رہی تھی سیب نظر آیا کھا لیاکھانے کے بعد خیال آیا کہ مجھے تو پتہ ہی نہیں یہ کس کا ہے،پہلے سوچتے نا بھئی ،اس کے بعد میں نے ۱۵ سال تک نوکری کی،ہم سے تو نہیں ہوتا ہم کو تو کوئی کیلا یا سیب نظر آئے ہم کھا لیتے ہیں کھانے کے بعد بھی خیال نہیں آتاکس کا ہےبھئی سامنے رکھا ہوا ہے کسی کا ہوتا تو اس کے پاس ہوتا نا،اب اگر سامنے پڑا ہوا ہے تو یہ اللہ کا ہےاور اللہ کا اور بندے کا تو کھاتا چلتا ہے۔وہ قطرہِ خون جب نکل جائے گا دل سےتو نسبتِ آدم ختم ہو گئی،اب یہیں رک جاؤں یا اور آگے جاؤں؟
وہ جب قطرہِ خون نکل گیاوہ نسبتِآدم چلی گئی اب تُو آدم کی اولاد سے نہیں ہےبس تُو اب اللہ کا بندہ ہےپھر اس کے اندر سے نسبتِ الہٰیہ بھی ہےوہ ایک قطرہِ نور ہےجب وہ بھی نکال دیا تو اب اس کی مخلوق سے بھی خارج ،اب تجھے کوئی بھی اوپر سے نیچے آکے ضم کر سکتا ہے،پہلے تُو اِدھر سے نکلا پھر تُو اُدھر سے،پھر جب وہ جگہ خالی ہو گی تو وہ عکس آکے ادھر بیٹھے گا۔پھر وہ جب نکلے گا نا تو اس کی جگہ آکے ایک قطرہ (ٹی لیف) کی طرح،وہ آکے اُدھر بیٹھ جائے گایہ حضرتِ عشق کی بات ہےاور عشق کے اوپر کوئی سواری نہیں کرتا ہے،کیوں؟ عشق خود سوار ہے،جس کے اوپر بھی عشق چڑھتا ہےتو عشق جو ہے وہ سوار بن جاتا ہے،اب جیسے لعل شہباز قلندر ہیں ان کے اوپر سواری کون کر رہا ہے حضرتِ عشق،وہ سوار ہیں اور قلندر پاک سواری بن گئے،سوار وہ ہے عشق۔اور سرکار گوہرشاہی عشق کو ساری دنیا کے لئے عام کر رہے ہیں ۔ایسی باتیں سن کے یہ تو صرف گالی دے رہے ہیں صحابہ ِکرام کے دور میں تو مار دیتے تھےانھوں نے کہا ابو ہریرہ نے،دوسرا علم تم کو بتاؤں تو تم مجھے قتل کر دو۔ہم تو بتا رہے ہیں پھر بھی صرف گالیاں سن رہے ہیں،قتل تو نہیں کر رہا کوئی صحابہِ کرام کے دور میں تو قتل کر دیا کرتے تھےاس کا مطلب ہے کہ انسانیت میں تھوڑی اب (civilization)آتی جا رہی ہے۔

قطرہِ آدم کیسےنکالا جاتا ہے؟

وہ قطرہ دل سے یوں کر کے نکال دیتے ہیں۔آپ نے یہی پوچھا ہے نا کہ کیسے نکالتے ہیں یوں کر کے نکال دیتے ہیں ،لیکن یوں کر کے نکالنے والی جو ذات ہےاس کا نام ہے سیدنا گوہر شاہی ،صرف وہ ہی یوں کر کے نکال سکتے ہیں اور کوئی نہیں۔اب دیکھو اس قطرے کے نکل جانے کا اثر ہےکہ اگر کوئی عیسیٰ کی تعریف کرتا ہےتو بھی دل خوش ہوتا ہےکوئی موسیٰ کی تعریف کرے تو بھی دل خوش ہوتا ہے،کوئی گرو نانک دیو جی کی بھی تعریف کرے تو بھی دل خوش ہوتا ہے،کوئی بابا فرید کی تعریف کرتا ہے دل خوش ہوتا ہے،کوئی رام جی کا نام لے تو بھی دل خوش ہوتا ہےاور کوئی ابراہیم کا نام لے تب بھی دل خوش ہوتا ہےسب اپنی عقیدت کے تحت جس کے آگے جھکے ہوئے ہیں سب رب کے ہی روپ ہیں رام رحیم بھگوان اللہ سب ایک ہی چیز ہےیہ مختلف روپ ہیں لیکن چیز تو ایک ہی ہے،میں دلیل بھی دے دیتا ہوں اس کیاللہ توالیٰ نے تو دھمکی دی ہوئی ہے قرآن میں اگر دو الٰہ ہو جاتے تو فتنہ ہو جاتا تو یہ آرام سے مندر کیوں بنے ہوئے ہیں ،اس کا مطلب ہے کہ اللہ کو پتہ ہے کہ ہر جگہ میں ہی پوج رہا ہوں کسی اور کو پوج رہے ہوتے تو اللہ تہس نہس کر دیتا یہ بہت بڑی دلیل ہے نا؟ قرآن شریف میں لکھا ہے نا کہ اگر دو الٰہ ہوتے تو فتنہ اور فساد ہو جاتااب تم اگر سمجھتے ہو کہ ہندوؤں کا بھگوان کوئی اور ہےکرسچن کا (God)کوئی اور ہے،مسلمانوں کا اللہ کوئی اور ہےتو پھر یہ فساد کیوں نہیں ہے،اللہ ٹکنے دیتا کسی اور معبود کو؟اللہ تو ٹکنے نہیں دیتا نا ، اب آرام سے مندروں میں بھی پوجا ہو رہی ہے،گرجا گھروں میں بھی ہو رہی ہے ،مسجدوں میں بھی ہو رہی ہےاس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی (Understanding)کلیئر ہےکہ جی مسجد مندر ہر جگہ مجھے ہی پوجا جا رہا ہےچپ کر کے بیٹھے رہو،یہ اصل حقیقت ہے۔ہندو ہو سکھ ہو عیسائی ہو مسلمان ،سب ایک ہی رب کو پوجنے والے ہیں اگر تم سمجھتے ہو ہندوؤں کا بھگوان کوئی اور ہے تو تمہارے دماغ میں خلل واقع ہےیہ ایک ہی ذات کے پرتو ہیں کوئی رام کہہ کے بلا رہا ہے کوئی رحیم کہہ کے بلا رہا ہے

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 25 جنوری 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں لائیو گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں