کیٹیگری: مضامین

کیا مرنے کے بعد جنت میں وہی کچھ ملے گا جس کو دنیا میں ترک کیا ؟

دنیا میں لاکھوں لوگ ہیں ایسے ہیں جنہوں نے محنت مشقت کر کےمال و دولت اکھٹا کی اب ان کے پاس خوبصورت عورت بھی ہے شاندار محل نما گھر ہیں کاریں ہیں ، یعنی وہ لوگ جو دنیا میں ہر طرح کی آسائشوں سے جی بھر کر لطف اندوز ہو گئے ، اور اگر مرنے کے بعد جنت میں جا کر بھی دنیا کی آسائش سے بہتر لیکن اسی قسم کی آسائشیں ان کی منتظر ہونگی تو یہ چیز خاصی  بے مزہ اور مایوس کن سی لگتی ہے اور اسی بات نے ہم کو گوھر شاہی کے قدموں سے چمٹا کر رکھا ہے کہ سرکار ہم کو وہاں لے کر جائیں گے جس جگہ کا خواب کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، جس کے بارے میں کسی کان نے نہیں سنا ، جس کی خواہش کسی دل نے نہیں کی، وہ ایسا مخفی جہان ہے جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ،نہ کسی نے بتایا  اور وہاں جو انعام اور جو نعمت ہے اس سے لطف اندوز وہ نہیں ہوگا جو میرے ہی اندر تو ہے لیکن مجھ سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور وہ ہے میرا لطیفہ نفس۔ اور جنت میں جو نفس دئیے جائیں گے وہ نفس قدسی ہونگے، قدسی نفوس بھی آپ کا حصہ نہیں ہیں ۔یہ تو بہت بُرا سودا ہے۔
قرآن میں ہے جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی نفس خواہش کریں گے۔ لیکن روح کا کیا ہو گا؟ روح کو کیا ملے گا؟ فرض کیا میری لاٹری نکلتی ہے اور پیسے دینے والا کہتا ہے آکر پیسے لے جاؤ لیکن ساتھ ایک بندہ لاؤ وہ پیسے اس کو دیں گے، نام میرا ہے اور پیسے کسی اور کوملیں گے یہ کیا بات ہوئی، ساری زندگی لگا کر میں نے نفس کو پاک کیا ، ساتوں لطائف جگانے میں گزار دی ،عورتیں چھوڑیں ، گھر بار چھوڑا، سارے لذات دنیا چھوڑے اور آخر میں وہ ساری چیزیں جو چھوڑی تھیں جنت میں جا کر انعام کے طور پر وہی ساری چیزیں ملیں گی جس کی نفس خواہش کریں گے اور نفس بھی کونسا ؟ میرا جو نفس تھا وہ تو قبر میں جل سڑ کر مر گیا ، جنت میں نیا نفس ملے گا قدسی نفس جو مزے کرے گا۔

جنت میں نفس قدسی ڈالے جائیں گےلیکن روح کے لئے کیا ہے؟

قرآن پڑھیں یہ ہی کہہ رہا ہے! سوال تو یہ ہے کہ مجھے کیا ملے گا؟ جنت میں قدسی نفس ڈالے جائیں گے اور جسم بھی ایسے ملیں گے جو کبھی ختم نہیں ہونگے، تو اب کیا ہو گا مزے تو سارے قدسی نفس کے آئیں گے، ہماری روح کا کیا ہوگا !! دنیا میں اللہ اللہ کر کے بیدار کیا اور وہاں جا کر روح بیچاری پھر سو جائیگی تو وہاں جنت میں روح کی کیا غذا ہے روح کے لیے کیا آسائش ہے؟ قرآن نے گو صرف یہ کہا وہاں ہر وہ چیز ہوگی جسکی نفس خواہش کریں گے ۔تو معلوم یہ ہوا کہ کچھ بھی غلط نہیں ہے بس ہمیں عارضی طور پر یہاں کے لیے منع کیا گیا ہے کہ یہ سب غلط کام یہاں نہیں کرو یہاں نماز روزے کرو کیونکہ وہاں جانا ہے اور وہاں جا کر یہ ہی کچھ کرنا ہے۔ تو اب سوال اٹھتا ہے کہ وہ کام یہاں غلط کیسے ہوا جس کی وہاں اجازت ہے۔ جنت میں روح کے لیے کیا ہے؟تو اتنی باگ دوڑ اتنے مرتبے حاصل کرنا کس لیے ہے؟
بڑے بڑے ولی جنت میں جب جائیں گے ان میں قدسی نفس ڈالے جائیں گے جو وہاں مزے کریں گے تو یہ ولی وہاں کیا کریں گے؟میں نے دنیا میں سب چھوڑ دیا زہد ، تقوی ایسا کیا کے ان گناہ کے کاموں سے نفرت ہو جائے گی لیکن جنت میں حوریں آ  جائیں گی تو دماغ خراب ہو جائے گا وہاں میں کیسے دل کو سمجھاؤں گا؟ دنیا کی زندگی میں ہر وقت یہ ہی حدیثیں پڑھیں کہ عورت کو نہیں دیکھنا نگاہ جھکا کر رکھنا ہے اور جنت میں حور اپنی تمام حشر سامانیوں سے سامنے آ جائیگی  تو وہاں نگاہ نیچی نہیں کرنی ، یہ کیسا مذاق ہے؟جنت میں اللہ نہیں ملے گا، وہاں حوریں ہونگی۔دنیا میں جس نے چالیس سال تک ہر قسم کی پرہیز گاری  کی اس مشقت و مجاہدے کی  وجہ سے اس کی جب برے کاموں سے دور رہنے کی عادت پڑ گئی تو وہاں جا کر وہ انسان اپنے اس تقوے اور پرہیز گاری کا کیا ہو گا؟ہم نے جنت دیکھ لی ہے اس لیے یہ باتیں کر رہے ہیں ۔قرآان میں کہاں لکھا ہے وہاں جنت میں اللہ بھی ملے گا؟ روحوں کا انعام جنت میں کیا ہو گا؟کیا آپ نے سمجھ رکھا ہے جنت میں قرب الہی ملے گا؟ نہیں ،اللہ نے اپنا قرب دینا ہوتا تو اپنے پاس رکھتا ،جنت میں اللہ نہیں ملے گا، وہاں حوریں آپ کے پاس ہونگی۔

سرکار گوھر شاہی انسانیت کو اپنی ذات انعام کے طور پر عطا کر رہے ہیں :

یہ محلات ، یہ غلماں اور یہ حوریں کیا یہ آئیڈیا آپ کو پسند آتا ہے؟ شاید ٹھرکی قسم کے لوگوں کویہ آئیڈیا پسند آ سکتا ہے کہ وہاں محلات میں ہیرے جواہر جڑے ہونگے ، ان کو بیچ بیچ کر کھائیں گے۔ فرض کیا کہ دنیا میں اگر سونے کی قیمت زیرو کر دی جائے اور سونے کی دکانوں والے سونا اٹھا اٹھا کر باہر پھینک دیں  کہ لے جاؤ جتنا مرضی اور آپ اپنے گھر کی ہر چیز سونے کی بنا لیں  تو کیا اس کا کوئی فائدہ ہو گا؟ کسی بھی چیز کی اہمیت اس کی قیمت ہے، اب جنت میں جو زمرد ، یاقوت کے محلات ہونگے وہاں ان کی کوئی قدروقیمت ہی نہیں ہو گی ، جنت میں نفس ہی نفس ہے ۔ جنت میں بطور انعام جو دیا جائے گا وہ نفس کو ملے گا، روح کا اس میں کوئی ذکر نہیں ہے ،روح کو کچھ نہیں ملے گا اس بات نے بڑا دل برداشتہ کیا ۔کیونکہ دل یہ کہتا ہے جو چیز یہاں چھوڑ دی خود کو پاک صاف کر لیا اب وہاں جا کر اس سے افضل و اعلٰی لیکن ویسی ہی چیز تحفے میں ملے تو دل کو یہ گوارا نہیں ہے۔ دنیا میں جس چیز پر لعنت بھیجتے رہے اور جنت میں یک نہ شد ستر ستر دے رہا ہے، شادی شدہ انسان کا دنیا میں ایک سے دل بھر جاتا ہے وہاں ستر ستر دے رہا ہے یہ کیا ہے؟

“ایسے میں سیدنا گوھر شاہی کا پیغام آیا کہ تمہاری روح کو ضم کریں گے یعنی  براہ راست روح کی آسائش مل رہی ہے اور وہ آسائش بھی ایسی کہ رب کی ذات تیری روح میں اور تیری روح رب میں ،اس سے بڑھ کر تو کوئی انعام ہو ہی نہیں ہو سکتا، یہ ہے اصل تقوی ، یہ ہے اصل طہارت، یہ ہے اصل پاکیزگی، اس کو کہتے ہیں کہ یہ  انعام ہے۔ ذات تمہاری ذات سے تعلق رکھ رہی ہے۔ ضم کر رہے ہیں اس بات پر تو قلم توڑ دینا چاہئے۔ہزار بات کی ایک بات کہہ دی ہے”

روح تو جنت میں جا کر نکھٹو کی نکھٹو رہی اس کو کیا ملے گا! حوروں کا ہم کیا کریں گے ، لعنت ہے ایسی حوروں پر ، کیا اسی لیےگھر بار چھوڑا تھا ، گریبان چاک کیا تھا ؟ کیا حوروں  اورمحلات ، عیاشی اور آسائیش کے لیے ساری ذلت و رسوائی  برداشت کی ؟؟  لعنت ہے ایسی جدو جہد پر ، ساری زندگی اپنی ذات کو مٹا کر اپنی نفی کر کے اپنے اندر سے غلاظت صاف کر کے باہر پھینکنے میں بیت گئی اور آپ دوبارہ اُن ہی چکروں میں ڈال دو گے کتنا ناکام آئیڈیا ہے، ہمیں تو یہ آئیڈیا پسند نہیں آیا۔
یہ تو وہی ہو گیا جیسے کوئی مولوی لوگوں کے سامنے بڑی تمیز سے اسلامی حدود میں رہتے ہوئے  بات کرتے ہیں نہ عورتوں کو تاڑتے ہیں نہ ناچ گانا سنتے نہ دیکھتے ہیں ،نہ شغف ہے اور جیسے ہی اندر حجرے میں جاتے ہیں تو سب کچھ کرتے ہیں ۔ لوگوں کو دکھانے کے لیے کہتے ہیں سب حرام ہے اور حجرے میں سب حلال ہے! لیکن اس کردار کو ہم کب تک برا کہتے رہیں گے؟ مسجد کے اندر قرآن و حدیث کی باتیں ، طہارت ، پردے حجاب اور نقاب کی باتیں ہو رہی ہیں ،عورتوں کو نہ دیکھنے کی بات ہو رہی ہے ، لونڈوں کو چھوڑ دینے کی بات ہو رہی ہے، کوئی گناہ نہیں ہو گا اور جیسے ہی حجرے میں گئے سب جائز، اس کردار کو آپ برا کیسے کہیں گے؟ جب آپ کے اولیاء ، اصفیا، صالحین ، انبیاء سارے کے سارے جب اس دنیا سے رخصت ہو کر جنت میں جائیں گے یہ ہی کچھ کریں گے۔ مسجد سے حجرے کا فاصلہ جتنا ہے ،اس دنیا سے جنت کا فاصلہ بھی اتنا ہی ہے۔ یہ کردار غلط ہے تو وہ کردار صحیح کیوں ہے؟؟؟

اصل طہارت تو یہی ہے کہ بس گوھر گوھر کرنا ہے :

سیدنا گوھر شاہی نے محبت اور عشق کے متلاشیوں کے لیے نہ کوئی جنت بنائی  نہ کوئی حوریں بنائیں نہ حوروں کا وعدہ کیا، سیدنا گوھر شاہی اپنی ذات پیش کر رہے ہیں ! کہ تو مجھ میں آ جا میں تجھ میں آ جاؤں ۔ یہ طہارت کی بات ہے ، یہ عشق و محبت کی بات ہے! یہ تقوی ہے، یہ اپنائیت اور قرب ہے، اپنائیت تو اس کو کہیں گے کہ سیدنا گوھر شاہی کی ذات تیری ذات کے اطراف میں اس طرح محیط ہو جائے کہ تیرا ایک ایک انگ سیدنا گوھر شاہی کی ذات سے ڈھک ہو جائے تو پورا کا پورا گوھر شاہی میں سمو لیا جائے، آغوش گوھر شاہی میں آ جائے، اب تو نظر نہ آئے یہ اپنائیت ہے، یہ محبت ہے، یہ عشق ہے، یہ پاکیزگی ہے، یہ طہارت ہے، اصل حق یہی ہے ، اور اسی بات نے ہمیں بڑا متاثر کیا ، اس کے بعد وہ رستہ ہی چھوڑ دیا اور گوھر کے رستے پرچل پڑا۔
جس طرف وہ نظر نہیں آتے ہم وہ رستہ ہی چھوڑ دیتے ہیں
کعبہ بنتا ہے اس طرف کو ریاض جس طرف رخ وہ موڑ لیتے ہیں

جب طہارت انسانوں کو سمجھ میں آ گئی تو پھر یہ ہی سمجھ میں آ ئیگا کہ گوھر گوھر کرنا ہے !جب حق اور سچائی سمجھ  میں آ گئی ، جب کسی زہد اور مجاہدے کی ،جب کسی نفی کی جب کسی غلاظت کو دور کرنے کی بات سمجھ آئیگی تو پھر وہ یہ ہی کہیں گے کہ جس غلاظت کو اٹھا کر باہر پھینکا تھا اب انعام کے طور پر اس ہی غلاظت کو میں اپنے گلے میں نہیں ڈال سکتا کیونکہ یہ تو میں نے پھینک دیا تھا ۔پھر شہوت ہو تو اُس ذات میں مزید گھس جانے کی ہو ، اور اندر ، اور اندر، عشق در عشق جمال در جمال، جلال در جلال اُسی میں سماتے رہیں اُسی میں کھوتے رہیں۔ یہ آئیڈیا بہت زبردست ہے ۔ جنت میں نفس قدسی اور حوروں کا آئیڈیا توبڑا بورنگ ہے ۔اگر پسند ہے تو تمہارا تو کوئی اعتبار ہی نہیں ہے، یہاں کی عورتوں کو اِس امید پر چھوڑ رہے ہو کہ وہاں اِس سے اچھی عورتیں ملیں گی ، تم تو کتے کے کتے رہے ، لعنتی کے لعنتی رہے تمہار ے اندر سے غلاظت کہاں نکلی ہے؟ یہ نمازیں ،یہ حج۔ یہ روزے اس لیے  کہ ان عورتوں کو چھوڑ کر اِس سے اچھی عورتیں حاصل کر لیں تو پھر یہ سب رب کے لیے کہاں ہوا؟ یہ تو آپ کوالٹی کے لیے لگے ہوئے ہیں !!اللہ کی محبت کہاں گئی! تقوی اور طہارت کی بات کہاں گئی؟ زہد کہاں گیا؟ زہد کا مطلب تو ہے سب غلاظتیں سب عیاشی چھوڑ دینا! اور جب یہ سب چھوڑا تو اس کا انعام دوبارہ وہ سب غلاظتیں ؟؟
محبتِ الہی ،عشقِ الہی کا یہ انعام کیوں کہ پھر سے وہ سب گلے میں ڈال دیا جائے ، لعنت ہے ایسے انعام پر۔ محبت ِالہی کا انعام اللہ کا قرب ہونا چاہیے ، نہ حور نہ محلات اورنہ  غلماں آگے پیچھے ہونے چاہئیں ، اللہ کے عشق کا انعام یہ ہونا چاہیے کہ دائیں اور بائیں اُس کے قرب میں جگہ ملے اگر ایسا نہیں تو یہ جنت اٹھا کر دوزخ میں ڈال دو۔
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں رلائے کیوں!

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کی 2 ستمبر 2017 کی یوٹیوب پر کی گئی خصوصی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں