کیٹیگری: مضامین

ہمارے ملکوں میں لوگوں نے دین اور مذہب کو کاروبار بنایا ہوا ہے ، جو دین اور تصوف سے واقف نہیں ہیں وہ بڑے بڑے پیر و فقیر بن کر بیٹھے ہوئے ہیں اورلوگوں کو اللہ کے راستے اور اللہ کی راہ سے روکا ہوا ہے۔اگر کوئی ولی اللہ ، پیر طریقت نہ ہو اور لوگوں کو بیعت کرتا ہو ، مرید بناتا ہو، چندے نظرانے لیتا ہو اور مریدین کو دینے کیلئے کوئی فیض اُس کے پاس نہ ہو تو ایسے آدمی کا یومِ محشر میں کیا مقام ہو گا۔جسطرح عام لوگوں کا خیال ہے کہ ہر آدمی شریعت پر عمل پیرا ہے تو کیا ہر آدمی شریعت پر عمل پیر اہے ؟ بہت سے لوگوں کو یہ گمان ہے کہ وہ شریعت پر عمل پیرا ہیں ، اور اگر کسی کو دیکھتے ہیں کہ اس کی داڑھی چھوٹی ہے یا داڑھی نہیں ہے تو اُس کی تمام اچھائیوں کو رد کردیتے ہیں ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ آپ کو ایسا علم عطا کر دیں کہ آپ حق اور باطل کو مکمل وضاحت کے ساتھ ایسا سمجھ لیں کہ پھر کبھی دنیا میں آپ کو دھوکہ نہ ہو سکے۔یہ سیدنا امام مہدی گوھر شاہی علیہ الصلوة والسلام کی کرم نوازی ہے کہ آپ نے یہ فیضان طریقت، یہ فیضان عشق فہم و ادراک ، یہ فیضان قرآن کریم ، یہ فیضان قرآن مکنون کا علم عام کر دیا اور ہم آپ کے شکر گزار ہے ۔آپ نے کائنات میں ہدایت کی جو شمع روشن فرمائی ہے وہ ایسی شمع ہدایت ہے کہ اُس سے نہ صرف دل منور ہو رہے ہیں بلکہ ذہن بھی کشادہ اور منور ہو رہے ہیں ۔سیدنا گوھر شاہی کی نسبت کے طفیل آج ہم شریعت بھی سمجھ پائیں ہیں، طریقت کو بھی سمجھ لیا ہے اور طریقت پر گامزن بھی ہو گئے ہیں ۔دلوں کو منور کرنے کا طریقہ بھی سیکھ لیا ہے اور دلوں کو منور بھی کر رہے ہیں اور اُس کے بعد تلاش یار میں سراغ یا ربھی مل گیا ہے ۔سب سے پہلے یہ دیکھنا ہو کہ یہ مولوی جو دن رات شریعت کا راگ الاپتے ہیں ، کبھی کسی کے چہرے ،کسی کی داڑھی توکبھی کسی کے لباس پر تنقید کرتے ہیں ،کبھی صرف اُس کی داڑھی کو دیکھ کر اُس کی ہر اچھائی کو رد کر دیتے ہیں کہ اس سے کیا سنت کی اُمید کی جا سکتی ہے ۔جس دور میں ہم رہ رہے ہیں یہ وہ دور ہے کہ جس میں ایسی ایسی مذہبی تحریکیں اور تنظیمیں بنی ہوئی ہیں جنھوں نےبجائے عالم اسلام کی خدمت کرنے کہ ہر ملک اور شہر میں فتنہ بپا کر رکھا ہے ۔ ہم لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ کونسی شریعت ہے جس کے بغیر آپ کو رب نہیں ملتا ۔شریعت کے وہ کونسے اسباق ہیں جن کو آپ کسی حال میں چھوڑ نہیں سکتے ۔

صوفی کی نظر میں شریعت کی تشریح:

آج ہم جو بات کہہ رہے ہیں اس کو اپنے دل سنہرے حروف سے لکھ لیں ۔شریعت کے دو جز ہیں ایک ظاہری شریعت اور ایک باطنی شریعت ۔ ظاہری شریعت جسم کو پاک کرتی ہےاور باطنی شریعت نفس کو پاک کرتی ہے۔

ظاہری شریعت:

ظاہری شریعت بمثال سنت غیر موکدہ ہے اور جسم کی پاکی پر مبنی ہے۔ظاہری شریعت کو شریعت ِ ناقصہ کہا جاتا ہے۔ ناقصہ اس لیے کہا گیا کہ معلوم نہیں ہے کہ باطنی شریعت اس کے ساتھ ملی ہوئی ہے یا نہیں،معلوم نہیں ہے کہ جس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے وہ نفس کی طہارت میں بھی جار ہا ہے یا نہیں۔اسلئیے ناقص سمجھا جائے گا۔ اگر آپ صرف اپنی داڑھی کو بڑھا رہے ہیں اور شریعت کے مطابق مناسب لباس پہن رہے ہیں لیکن آپ نفس کو پاک کرنے کی کوشش نہیں کر ر ہے تو یہ شریعتِ ناقصہ ہے۔ کیونکہ ہر کوئی داڑھی بڑھا سکتا ہے اور داڑھی بڑھانے کیلئے آپ کا تعلق مذہب سے ہونا ضروری نہیں ہے۔ہر آدمی داڑھی بڑھا سکتا ہے اور ہر عورت حجاب پہن سکتی ہے ۔حجاب پہننا تقو یٰ کی علامت نہیں ہے۔ہر عورت حجاب اور نقاب کر سکتی ہے لیکن کیا پتہ وہ صرف عبادت لوگوں کو دکھانے کیلئے کر رہی ہو۔ اگر کسی نے حجاب ، نقاب اور اپنے پورے جسم کو ڈھانپا ہوا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ پاکیزہ ہے۔ رب کی نظر میں اصل پاکیزگی دل کی پاکیزگی ہے۔ عورتوں کا حجاب پہننا ، آدمیوں کی داڑھیاں بڑھانا اور صوفیوں کی طرح لباس پہننا ، یہ سب شریعت کے قوانین ناقص ہیں۔ کیونکہ جب کوئی اس کو کرتا ہے تو یہ اس کے دل کی پاکیزگی کی نشاندہی نہیں کرتا۔ستم ظریفی تو یہ ہے ہ ہمارے اسلامی ممالک پاکستان ، انڈیا ، بنگلادیش اور سب مسلم ممالک میں لوگ آپ کے چہرے کو دیکھیں گے اور اگر آپ کی داڑھی ہوئی تو وہ آپ کی عزت کریں گے لیکن وہ یہ نہیں دیکھیں گے کہ آپ دل سے کتنے پاک ہو۔ ہمارے ممالک کے لوگ آپ کے حجاب اور نقاب کو دیکھیں گے تو وہ آپ کو سلام کریں گے اور سمجھیں گے کہ آپ بی بی فاطمة الزہراء کے برابر ہیں۔ لیکن اگر کسی عورت نے پینٹ اور شرٹ پہنی ہوئی ہے تو لوگ کہیں گے کہ اس کو کوئی حیا ء نہیں ہے۔حیا ء ایمان کا حصہ ہے اور کردار میں حیا ء صرف تب آتی ہے جب دل اللہ کے نور اور ذکر اللہ سے منور ہو۔ دل میں ایمان ، ذکراللہ اور نوراللہ کے بغیر آپ کے پاس کبھی بھی حیاء نہیں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ اَلحَياءُ جُزمِنَ الايمان۔ آج کے مسلمانوں کے مطابق ، داڑھی اور نمازکی ادائیگی ایک سرٹیفکیٹ ہے کہ اب آپ کسی بھی گناہوں میں مشغول ہونے میں آزاد ہیں۔ یہ اسلام نہیں ہے۔لوگ آپ کو شریعت ِ ناقصہ کے آئینے میں دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں ۔ قرآن کے مطابق شریعت ِ ناقصہ حقیقی معیا ر اور الہی کسوٹی نہیں ہے ۔

باطنی شریعت:

باطنی شریعت سنت موکدہ ہے اور نفس کی پاکی پر مبنی ہے۔ شریعت پر عمل کرنے والے بہت سے لوگ اللہ کے قریب تھے لیکن انہوں نے کبھی داڑھی کو نہیں بڑھایا تھا اور کبھی مسجد یا مندر میں داخل نہیں ہوئے تھے ۔ مسجد میں داخل اور داڑھی نہ بڑھانے کے باوجود بھی اللہ کی رحمت ان پر گرتی تھی ۔ جب یہ لوگ کہتے کہ بارش تو بارش ہوجاتی تھی اور پہاڑوں کوکہتے کہ حرکت میں آؤ تو وہ حرکت میں آجاتے تھے کیونکہ ان کے دل اللہ کی رحمت سے منور تھے۔ وہ شریعتِ ناقصہ کو نہیں اپناتے تھے بلکہ وہ شریعتِ کاملہ یعنی شریعتِ حقا کو اپناتے تھے۔ اصل شریعت نفس کی شریعت ہے جس میں میں آپ نفس کو پاک کرتے ہیں۔ باطنی شریعت آپ کو شرک سے دور کرے گی۔جب آپ زبان سے کلمہ پڑھتے ہیں تو آپ صرف کفر سے دور ہوتے ہیں لیکن اپنے اندر شرک سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے کلمے کو لطیفہ نفس سے پڑھنا بہت ضروری ہے۔ اگر کلمے کا نور آپ کے نفس میں داخل نہیں ہوتا ہے اور آپ کا نفس مسلمان نہیں ہوتا ہے تو آپ باطنی مشرک ہیں۔ قرآن مجید میں بھی آیا ہے کہ

أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّـهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّـهِ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
سورة الجاثية آیت نمبر 23
ترجمہ: یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ ایسے شخص کی اصلاح کرلیں گے جس نے اپنے نفس کو اور اس کی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ۔

اللہ تعالٰی نے محمد ﷺ کو فرمایا کہ ایسے لوگوں کی اصلاح نہ کرنا کیونکہ آپ کبھی بھی ایسے لوگوں کی اصلاح نہیں کرسکتے جنہوں نے اپنے نفس کو اپنا معبود بنایا ہوا ہے۔ کوئی بھی شخص اپنی زبان سے یہ نہیں کہتا کہ میرا نفس میرا معبود ہے لیکن آپ ان لوگوں کے عملوں اور حرکات سے دیکھیں گے ۔اگر آپ اللہ کی عبادت اللہ کو خوش کرنے کیلئے نہیں کرتے بلکہ لوگوں کی نظروں میں مشہور ہونے کیلئے کرتے ہیں کہ دیکھو میں کتنا عبادت گزار ہوں ،مجھ میں کوئی نقص نہیں ہے اور میں پانچ وقت مسجد میں جاتا ہوں ، یہ شرک ہے۔ آپ ایسے لوگوں کی کبھی بھی اصلاح نہیں کرسکتے۔شریعت کا جو سب سے اہم جز ہے وہ باطنی شریعت ہے جو نفس کو پاک کرتی ہے۔ اگر آپ شریعت پر عمل کرلیتے تو کامیاب ہو جاتے اور شیعہ ، سنی، وہابی اور دیو بندی نہ بنتے۔ کیونکہ شریعت پر جو عمل پیرا ہوتا ہے اس کی قرآن نے گارنٹی لےلی ہے کہ

قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ
سورة الأعلى آیت نمبر 14
ترجمہ : جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔

ہاں خود کو پانی سے پاک نہیں کرنا ہے بلکہ تزکیہ نفس کرنا ہے۔ جو شریعت پر عمل کرنے کا دعویدار ہو تو اس کو کہو کہ پہلے اُس شریعت کا ذکر کرو جو شریعت اندر کو پاک کرتی ہے اور جس شریعت کی گارنٹی اللہ نے خود لی ہے۔ ان چیزوں کی گارنٹی اللہ نے نہیں لی کہ جس نے داڑھی کو بڑھایا وہ جنت میں چلا جائے گا۔ قرآن میں اللہ نے باطنی شریعت کی گارنٹی لی ہے جس میں نفس کو پاک کرنا ہے۔ جن چیزوں کی اللہ نے گارنٹی لی ہے اُن پر مسلمان عمل پیرا نہیں ہیں۔ اور اللہ تعالٰی قرآن میں یومِ محشر کی بھی گارنٹی دیتا ہے کہ

يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
سورة الشعراء آیت نمبر 88-89

اللہ نے جس کی گارنٹی لی ہے وہ نفس کو پاک کرنا ہے جس پر آپ عمل پیرا نہیں ہیں اور نہ تم قلب کو پاک کر رہے ہو جس کی گارنٹی یومِ محشر میں اللہ نےدی ہے۔آپ شیعہ ، سنی، وہابی اور جھوٹے پیروں میں لگے ہو اور داڑھیاں ناپ رہے ہو۔ نفس کو پاک کرنے کی کامیابی اس لیے ہے کہ جس کا نفس پاک ہو گیاوہ کبھی بھی مشرک نہیں ہوسکتا ۔جب بھی وہ نماز پڑھے گااور اگر ساری زندگی میں دو رکعت بھی پڑھی تو خالص نیت کے ساتھ رب کیلئے پڑھے گا۔ یہ تعلیم بیان کر نے کیلئےابو ہریرہ کانپ گئے تھے ۔ ابو ہریرہ نے فرمایا کہ مجھے دو طرح کا علم ملا ہے۔ایک تم کو بتا دیا اور اگر دوسرا بتاؤں تو تم مجھے قتل کردو کیونکہ دوسرا علم یہ کہتا ہے کہ یہ سارے سجدے ،نمازیں اور قرآن پڑھنے کے باوجود بھی تم مشرک ہو۔ بڑی بڑی داڑھیاں والے، عمرے اور حج کرنے والے اور کتابوں کو لادنے والے،تہجد گزاروں کو جب یہ باطنی علم کہے گا کہ تم مشرک ہو تو وہ تم کو قتل ہی کریں گے۔

باطنی شریعت کی گارنٹی اللہ نے کیوں لی؟

اطنی شریعت کے ذریعے تیری نیتیں پاک ہو جائیں گی۔ اب جب بھی تم نیک عمل کرو گے تو دنیا کو دکھانے کیلئے نہیں کرو گے بلکہ خالص رب کیلئے کرو گے۔ وہ نماز کی دو رکعات بھی کافی ہوں گی۔اللہ نے جب منافقوں کا ذکر کیا تو حضورﷺ کو قرآن میں کہا کہ
إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّـهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّـهَ إِلَّا قَلِيلًا
سورة النساء آیت نمبر 142
یا رسول اللہ ﷺ !یہ منافقین آپ کو بار بار کہتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو یقین جانیئےاس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ ہمارے رسول ہیں۔ لیکن یہ جو منافق کہہ رہے ہیں یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔اور پھر اللہ تعالٰی نے یہ بھی فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ ان منافقین کی کثرتِ عبادت کو ملاحظہ فرمالیں تو آپ حیرت زدہ ہوں گے کہ یہ تو بہت عبادت گزار لوگ ہیں ۔ لمبی لمبی نمازیں، قرأت ،اور داڑھیاں آپ کو حیرت میں ڈال دیں گی۔ یاد رکھنا کہ

کثرتِ عبادت نفاق کی نشانی ہےاور کثرتِ ذکر ایمان کی نشانی ہے۔ مومن قلیل عبادت کرتا ہے اور منافق قلیل ذکر کرتا ہے۔منافق کازور ظاہری عبادات پر ہوتا ہے کیونکہ اس نے دنیا کو مرعوب کرنا ہے کہ میرے مومن ہونے پر شک نہ کرنا۔اورجو مومن ہوں گے ان پر آپ شک کرنے لگ جائیں گے کہ یہ مومن نہیں ہے کیونکہ اس کی نماز قضا ہوگئی

جو نماز شروع ہونے سے پہلے مسجد میں بیٹھا ہوا ہے ، مسجد کے جھاڑو بھی لگاتا ہے ، اور پانچ وقت کا نمازی بھی ہے اور پھر یہ جب کسی سے لین دین کرے گا تو دھوکہ زنی کرے گا، جھوٹ بولے گا اور وعدہ خلافی کرے گا۔ یہ آپ گرہ لگالیں کہ جو کثرتِ عبادت میں پایا جائے تو مشکوک ہو جائیں کہیں یہ منافق تو نہیں ہے۔ کیونکہ اگر اُس کے دل میں نور چلا جاتا تو وہ اللہ میں مصروف ہوجاتا۔نبی کریم ﷺ دن رات عبادت کرتے تو اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ تھوڑا آرام بھی کرلیا کریں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے فرمایا

أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَك۔ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ
سورة الشرح آیت نمبر 3 – 1

أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ یا رسول اللہﷺ کیا ہم نے آپ کا سینہ مبارک کھول نہیں دیا ؟ آپ کی خاطر آپ کی تمام روحوں کو کشادہ نہیں کر دیا ؟ کیا آپ کی شرح ِ صدر نہیں ہو گئی؟ وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَك الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ اور ہم نے آپ کی کمر سے وہ عبادتوں کا بوجھ ہٹا دیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ یا رسول اللہ اب بھی ساری رات آپ عبادت میں کھڑے رہتے ہیں ۔اس جسمانی عبادت سے جو آپ کے پاؤں سوج جاتے تھے آپ کی کمر میں درد ہو جاتا تھا اس کو ختم کرنے کیلئے ہی تو آپ کے سینے کی مخلوقوں کو بیدار کیا۔ تاکہ عبادت کا کام سینے کی مخلوقیں کریں اور آپ اپنے جسم کو آرام دیں۔ اصل عابد کی پہجان یہ ہے کہ اس کے سینے کی مخلوقیں نکلتی ہیں اور عبادت میں مصروف ہوتی ہیں۔ اور جس کا سینہ تنگ ہو، نور داخل نہ ہو تو اس کا سارا دارومدار جسمانی عبادت پر ہوتا ہے۔ جس کا سینہ منور ہو جاتا ہے اللہ تعالٰی اس پر سے جسمانی عبادتوں کا بوجھ ہٹا دیتا ہے، یہ ایک ایمان کی نشانی ہے۔اللہ تعالٰی نے تمہارا محورو مرکز محمد کی ذات بنائی تھی۔ تم محمدﷺ کو بھول کر عبادت کی کثرتوں میں لگ گئے۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ۔ اور جو رسول اللہ ﷺ تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز آجاؤ۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا نمونہ بھی پیش کیا ۔ ایک دفعہ نبی پاک ﷺ نے آواز دی کہ ابو بکر ،ابو بکر لیکن ابوبکر نہیں آئے۔ تھوڑی دیر کے بعد ابوبکر پہنچے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر آنے میں دیر کیوں ہوگئی تو کہنے لگے کہ یا رسول اللہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے وہ آیت سنی نہیں کہ

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا
سورة الحشر آیت نمبر 7
ترجمہ:جب اللہ کا رسول بلائے تو سب کچھ چھوڑکےآجاؤ۔

ابوبکر شرمندہ ہوئے اور شرمسار ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ﷺ آئندہ میں ایسا ہی کروں گا۔ جن عمر بن خطاب اور ابوبکر صدیق کو تم نے ماڈل بنایا ہے ان کا ماڈل بنانا قرآن کا حکم نہیں ہے۔ قرآن کا حکم ہے کہ محمد الر سول اللہ ﷺ کو ماڈل بناؤ۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عمر بن خطاب اور ابوبکر کا مرتبہ کم ہے لیکن وہ ماڈل نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا
سورة الأحزاب آیت نمبر 21

لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ کہ تمہارے لیے محمد الر سول اللہ ﷺ کی ذات نمونہ ہے اور محمد کی ذات کی طرف آنا ہے تو آجاؤ ۔ اور اگر اللہ تک آنا ہے تو محمد تک پہلے پہنچو۔ محمدالرسول اللہ ﷺ تک پہنچنے کے بعد لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّـهَاگر اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّـهَ كَثِيرًا اور اس دن بھی کامیابی حاصل کرنی ہے اور اللہ کے دربار تک پہنچنا ہے تو ذکر کی کثرت اختیار کرو۔ کثرت کا عربی میں معنٰی ہے کہ بے شمار۔ کثرت کا لفظ اس وقت استعمال کرتے ہیں جب آپ گن نہ سکیں۔ ورنہ قرآن میں یہ لکھا ہوتا کہ دس لاکھ ، ایک ارب یا ایک کھرب دفعہ ذکر کرلو۔ تعداد نہ ہو اور کثرت کا لفظ آئے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ذکر اتنا ہو کہ گنتی ٹوٹ جائے اور گن نہ سکیں کہ اللہ کا نام کتنی دفعہ لیا۔ اتنا ذکر تب ہی ہوسکتا ہے جب کئی زبانیں ہوں گی۔ ایک موقع پر سیدنا گوھر شاہی نے ارشاد فرمایا کہ جو قلب ہے یہ ایک گھنٹے میں تین ہزار سے لے کر چھ ہزار تک دھڑکتا ہے اور چوبیس گھنٹے میں ایک لاکھ چوالیس ہزار دفعہ دھڑکتا ہے۔ عبادت کی جو حد ہے وہ سوا لاکھ ہے۔ اور دل چوبیس گھنٹے میں عبادت کی حد سے گزرگیا۔ اور جب دل کے جثے یعنی قلبِ سلیم کے جثے پر تجلی پڑ جائے تو اللہ تعالٰی اس کی ستر زبانیں پیدا کرتا ہے۔انسان کے جسم میں ساڑھے تین کروڑ نسیں ہیں تو وہ ذکر نس نس میں چلا گیا۔ اس لیے شیطان نہیں چاہتا کہ تم ذاکرِ قلبی بنو۔ یہ مت سمجھو کہ جو رب کی بہت زیادہ عبادت کرتا ہے وہ رب کے بہت قریب ہے ۔ رب عبادت سے نہیں ملتا ۔ عبادت دل کو صاف کرنے کیلئے کرتے ہیں۔ اگر اس عبادت سے دل صاف نہ ہو تو پھر وہ عبادت بیکار ہے۔ جس طرح پیسہ مختلف اشیاء خریدنے کا ذریعہ ہے لیکن اگر وہ پیسہ پر رکھا رہے تو اس پیسے سے روٹیاں نکل کر نہیں آئیں گی ۔پیسے کو روٹی خریدنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو عبادت ہے اور وہ صرف عبادت ہی رہے مگر دل صاف نہ ہو تو پھر وہ عبادت بیکار ہی ہوگئی۔ جب تم نہاتے ہو تو ایک ہی صابن سے نہاتے ہو کیانکہ ایک ہی صابن سے جسم صاف ہو جاتا ہے تو تم کو عبادت بھی اتنی کرنی ہے کہ ایک دل صاف ہوجائے اور جب دل صاف ہوگیا تو تم اللہ سے جڑ گئے۔ پھر تم اللہ اللہ میں لگ جاؤ ۔

منور قلبی کے بعد زور عبادت کے بجائے محبت الہی پر ہوتا ہے :

یہی وجہ ہے کہ غوثِ اعظم ؓ نے فرمایا کہ” جب کوئی مقامِ وصل پر پہنچ گیا اور پھر اس نے عبادت کا ارادہ کیا تو اس نے کفر کیا”۔ آج جو سیدنا گوھر شاہی کے خلاف مولوی فتوئے دیتے ہیں یہ بات محمدالرسول اللہ سے شروع ہوئی ہے غوثِ اعظم تک گئی ہے ، مجد د الف ثانی تک گئی ہے ان کو بھی آئینہ دکھایا گیا ہے کہ جب سینہ منور ہوجائے تو زور عبادتوں پر نہیں ہوتا بلکہ زور محبتِ الٰہی پر آجاتا ہے۔ ٍاور یہ بات سرکار گوھر شاہی نے شروع نہیں کی ۔ یہ اللہ نے شروع کی ہے اور حضورﷺ کو روکا ہے کہ اتنی عبادت نہ کیا کر یں کہ کیا ہم نے آپ کا سینہ منور نہیں کیا اور کیا ہم نے آپ کی کمر سے عبادتوں کا بوجھ ہٹا نہیں دیا۔ پھر غوث ِ اعظم نے وصل پر پہنچنے کے بعد بھی کہا کہ عبادت کا ارادہ کیا تو فقط کفر کیا۔ مجدد الف ثانی بھی ایک دن مسجد میں نماز پڑھنے کیلئے گئے تو دیکھا کہ ایک آدمی مسجد میں سو رہا ہے ۔ آپ ولی تھے تو اچھا گمان رکھتے تھے۔ مجدد الف ثانی جب آدمی کو سوئے ہوئے دیکھا تو سوچا کہ شاید نماز پڑھ کے سویا ہوگا اور اس آدمی کو سونے دیا۔ظہر کی نماز کا وقت تھا اور نماز پڑھا کے مجدد الف ثانی چلے گئے۔ پھر عصر کے وقت جب مجدد الف ثانی نماز پڑھانے کیلئے مسجد میں آئے تو دیکھا کہ وہ آدمی ابھی تک سورہا ہے۔ ان کو تھوڑی سی فکر لاحق ہوئی لیکن پھر اچھا گمان رکھتے ہوئے سوچا کہ نماز پڑھ کے سویا ہو گا۔ کیونکہ جو ولی ہوتے ہیں جب تک یہ آپ کو گناہ کرتے دیکھ نہ لیں زبان سے ولی کہہ نہیں سکتے کہ تم گناہگار ہو۔لیکن عصر اور مغرب کے درمیان کا جو وقت ہے وہ آپ مسجد میں ہی گزارتے تھے کیونکہ یہ آپ کا معمول تھا۔ عصر اور مغرب کے دوران مجدد الف ثانی دیکھتے رہے کہ وہ آدمی سویا ہو ا ہے۔ یہاں تک کہ مغرب کی آذان ہوگئی اور جماعت کھڑی ہونے لگی ۔ جب جماعت کھڑی ہونے لگی تو آدمی سویا ہوا تھا۔ پھر مجدد الف ثانی کو پورا یقین ہو گیا کہ اس آدمی نے نماز نہیں پڑھی۔ مجدد الف ثانی اس آدمی کے پاس گئے اور اس کو اٹھا یا اور کہا کہ یا تم نماز پڑھو یا مسجد سے نکل جاؤ۔ نماز کھڑی ہونے لگی تو وہ آدمی نے اٹھنے کے بعد زور سے کہا کہ مولانا صاحب ٹھہر جائیں ۔ پھر اس آدمی نے پہلے ظہر کی نیت کی اور کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ سورج مغرب سے واپس آگیا۔ اس کے بعد عصر کی نماز پڑھی ۔ اس کے بعد مغرب کے وقت آکر انہوں نے مجدد الف ثانی کو کہا کہ آپ تو اہل ِنظر ہیں ، مجھے جگانے سے پہلے بہتر نہیں تھا کہ آپ میرا حال دیکھ لیتے کہ میں تو اسی کے پاس بیٹھا ہوا تھا جس کی تم نمازیں پڑھتے ہو۔ اگر کوئی سو رہا ہے ، بیٹھا ہو یا گپ شپ میں ہے تو یہ گمان نہ کرو کہ وہ رب سے غافل ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کا جسم ہی تمہارے پاس ہو اور اس کے اندر کی مخلوقیں رب کے پاس بیٹھی ہوئی ہوں۔ جس طرح محمد الر سول اللہ ﷺ مغرب کے وقت اپنے جو چہیتے صحابہ اکرام کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کررہے تھے ۔تو ایک مسلمان وہاں آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ ! نماز کا وقت نکلتا جارہا ہے اور تم اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھے گپیں لڑا رہے ہو۔ طریقت کا قانون ہے کہ جو آنکھ سے نظر آئے وہ دھوکہ ہو سکتا ہے اور جو کانوں سے سنیں وہ بھی دھوکہ ہو سکتا ہے ۔ یہ بات ان صحابہ کو سمجھ میں آگئی تھی جو نماز کے وقت حضورﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے لیکن نماز میں نہیں تھے۔ اس وقت ان صحابیوں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ہم کو مریخ والوں کے بارے میں کچھ بتائیں تو ان صحابیوں کے کہنے پر آپ ﷺ نے ان تمام صحابیوں کے لطیفہ نفس کو نکال کر مریخ کی مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے تو صرف جسم کو ہی دیکھاحضور ﷺ صحابہ کے ساتھ مریخ میں نماز پڑھ رہے تھے لیکن ا ن کے جسم وہاں مریخ کے بارے میں باتیں کررہے تھےکہ یا رسول اللہ وہاں پر بھی اسلام پھیلا ہے یا نہیں اور وہاں کے لوگ کیسے ہیں اور وہاں کے ولی اور صحابہ کیسے ہوتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ چلو وہاں چلتے ہیں ۔ شریعت میں نماز کی پابندی جسم کیلئے بالکل عارضی ہے۔ جسم کی عبادتیں بالکل اتنی ہیں جتنا زبان کا اقرار ہوتا ہے اور پھر تصدیق ِقلب کیلئے فورا ً آگے بڑھ جاؤ ۔ اسی طرح جو عبادتیں ہیں یہ انسان کے نفس کیلئے ہیں۔ اسی لیے آپ ﷺنے فرمایا کہ

الصَّلٰوةُ هِيَ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِ
سيوطی،شرح سنن ابن ماجه، 1 : 313 ، رقم : 4239
ترجمہ:نماز مومن کی معراج ہے۔

نماز مومن پر فرض ہے کہ جب تیرا قلب اور نفس منور ہو جائے پھر ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھنی ہے چاہے وہ دونوں چیزیں جسم کے اندر بیٹھ کر پڑھیں یا نکل کر پڑھ لیں۔ مومن جسم کا نام نہیں ہے کیونکہ اگر جسم کا نام ہوتا تو دل میں نور اُتارنے کی شرط کیوں تھی۔ اسی لیے نماز مومن پر فرض ہے اور مومن کی ساخت پاک دل اور پاک نفس ہے۔ یہ دونوں چیزیں مل کر اگر جسم میں ہوں تو جسم کے ساتھ نماز پڑھ لیں اور اگر جسم کے باہر کہیں گئی ہوئی ہوں تو وہی پر پڑھ لیں۔ اسی لیے باطنی شریعت ضروری ہے جو نفس کو پاک کرتی ہے۔ جب یہ حاصل ہوجائے تو اب لوگ تجھے بُرا نہ سمجھیں اس لیے تم ظاہری شریعت بھی اپنا لو۔ پھر داڑھی بھی رکھ لو ، ٹوپی بھی پہن لو اور اب داڑھی اور ٹوپی پہنو گے تو اب لوگوں کو دھوکہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ تمہارا نفس اور قلب پاک ہے اور جب لوگ کہیں گے کہ یہ ایماندار ہوگا تو تم ایماندار ہی ہو گے اور لوگوں کا اعتبار نہیں ٹوٹے گا۔ اگر داڑھی بھی ہوئی ، ٹوپی بھی ہوئی، امامہ بھی ہوا ، ہاتھ میں تسبیح بھی ہوئی اور لوگوں نے سمجھا کہ ایماندار ہوگا پھر تم نے جھوٹ بول دیا ، کسی عورت پرنظر ڈال کر اس کی عزت تباہ کردی تو لوگ تمہاری ظاہری شریعت کو دیکھ کر بد زن ہو جائیں گے ۔ یہ ہو چکا ہے کیونکہ آج داڑھی والوں کو لوگ اچھا نہیں سمجھتے اور نفس پرست اور شہوت پرست سمجھتے ہیں۔ اسی لیے کہ انہوں نے داڑھی رکھی ہے ، امامہ باندھا ہے لیکن اس نفس کو پاک نہیں کیا جس کی اللہ تعالٰی نے گارنٹی لی ہے۔ اللہ تعالٰی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ
سورة الأعلى آیت نمبر 14
ترجمہ:اگر تم نے تزکیہ نفس کرلیا تو یقین کرو کامیاب ہو جاؤ گے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 21 جنوری 2019 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں