کیٹیگری: مضامین

کیا عشقِ مجازی روحانیت میں جائز ہے؟

ماضی میں عشقِ مجازی کےذریعے بھی عشقِ حقیقی تک لوگوں نےسفرطےکیا ہے لیکن یہ کوئی پختہ اُصول نہیں ہے کہ ہرانسان کو عشقِ حقیقی کی تلاش میں عشقِ مجازی سے گزرنا پڑا ہو۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ اللہ نے اپنی ذات تک پہنچنے کیلئے انسان کو بہت سارے طریقے دئیے ہیں۔ اُن میں ایک طریقہ یہ بھی تھا جس کو بہت سارے بزرگانِ دین نے پسند کیا۔ مثال کے طورپر جیسے آج کل دنیا میں چینی کمپنی کا ایک فون ہواوے(Huawei) ہے جس کا کیمرہ بہت زبردست ہے اور اس کی بہت سی خصوصیات ہیں۔ چین نے اب یہ فون بنایا اور پہلے اس لئے نہیں بنایا تھا کیونکہ چینی قوم کی عادت ہے نقل کرنا اور جو بھی آپ اُن کے سامنے رکھو گے وہ ویسا ہی بنا دیں گے۔ کئی سالوں سے آئی فون چائنا میں بن رہا ہے اور اب اُن کو سب کچھ سمجھ میں آگیا ہے کہ آئی فون میں کیا ہے لہٰذا انہوں نے آئی فون کوشکست دینے کیلئے ایسی چیزنکالی ہے۔ ایسے بزرگانِ دین بھی گزرے جنہوں نے پہلے مریدین کوکہا کہ پہلے عشق میں مبتلا ہوجاوٴ تاکہ عشق کا مزاج اُس کو سمجھ میں آجائے اورعشق کے جذبات اُس کے اندر پیدا ہوجائیں۔ جب اُن کو عشقِ مجازی ہوگیا توپھر بزرگوں کوکوئی محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ انہوں نے اُس کا صرف رُخ اللہ کی طرف موڑدیا لیکن عشقِ مجازی صرف اُس وقت تک روحانیت میں شامل تھا جب تک اس کا اللہ کی طرف سے سلسلہ چل رہا تھا۔ جب اللہ تعالی کی طرف سے یہ بند ہوگیا تواب عشقِ مجازی کوروحانیت سے خارج کردیا گیا ہے۔ اب یہ معاملہ ختم ہوچکا ہے۔

عشق کی کتنی اقسام ہیں؟

عشق تین طرح کا ہوتا ہے، عشق نفسانی، عشق رومانی اور عشق حقیقی۔

1. عشقِ نفسانی:

یہ عشق خواہشِ نفس کی بنا پرہوتا ہے۔ اس میں شہوت یا کوئی نہ کوئی دنیاوی غرض ہوتی ہے۔ عشقِ نفسانی میں نفس کی کوئی غرض شامل ہے یا تو پیسے کیلئےکہ لڑکی بہت مالدار ہے یا بہت خوبصورت ہے۔ اس طرح کی جوچیزیں ہوتی ہیں جوآج کل لوگوں کو لڑکی یا لڑکے سے عشق ہوتا ہے جو فلموں میں دیکھتے ہیں یہ سب عشقِ نفسانی ہے اور یہ حرام ہے۔ حرام اس لئے ہے کیونکہ اس عشقِ نفسانی سے نفس کے اندر سے نارکی مقدار زیادہ نکلتی ہےاور وہ انسان کے خون میں شامل ہوتا رہتا ہے۔ وہ ایسا ہی ہے جیسےآپ حرام چیزیں کھانا شروع کردیں۔ ایک ہفتے کا عشقِ نفسانی اگر آپ کو کسی عورت سے ہوگیا تو سوسال سور کا گوشت کھانے کے برابرہے، اتنی نارپیدا ہوجائے گی۔ اگر یہ عشقِ نفسانی بیوی سے بھی ہوتو حرام ہے۔ اس لئے حضورؐ نے فرمایا کہ تم اُس سے شادی کرو جو دین دار ہو۔ بہت سے لوگ لڑکی کےحُسن، پیسے، نسبت اور خاندان کودیکھ کرشادی کرتےہیں لیکن تم اُن سےشادی کرو جودین دارہوں۔ عشقِ نفسانی میں نفس سے نار کا وبال اُٹھتا ہے جوانسان کوبہت بے چین کردیتا ہے جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگاکہ جن پرعشق کاجنون چڑھ جاتا ہےتو وہ کچھ بھی کردیتے ہیں اورماں باپ، بہن اوربھائی کوبھی فراموش کردیتے ہیں اوربالکل پاگل ہوجاتےہیں کیونکہ جوخون کےاندرنارہے اُس کی حدّت پھیل جاتی ہے۔ اُس جسم میں پھرنورداخل نہیں ہوسکتا۔ جب نورنہیں داخل ہوسکتا توپھریہ کہا گیا کہ عشقِ نفسانی رب کےراستےمیں رکاوٹ ہے۔ عشقِ نفسانی میں نفس کا تعلق نفس سےتھا جس میں ایک نفس کی ناردوسرے نفس میں منتقل ہورہی تھی۔

2. عشقِ رومانی:

عشقِ رومانی کوعام الفاظ میں عشقِ مجازی بھی کہتےہیں۔ جوعشقِ مجازی تھا یہ جائزتھا اوریہ دو انسانوں کے درمیان ہوتا ہے۔ عشقِ نفسانی میں تودوانسانوں میں نارکا ایک بندھن تھا لیکن جو عشقِ رومانی ہوتا ہے اس کی مساوات کچھ ایسے ہوتی ہیں جیسا کہ عالمِ ارواح میں روحیں اکٹھی رہ رہی ہیں تو اکٹھا رہنے کی وجہ سے اُن میں اُنسیت پیدا ہوجاتی ہے تو جوروحیں عالمِ ارواح میں اکٹھی تھیں اگرزمین پرایک ہی وقت پرآجائیں اورآمنا سامنا ہوجائے تووہ عشقِ رومانی میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ یہ جائزاس لئےہےکیونکہ یہ اُس وقت کا عشق ہےجب وہ روحیں اکٹھیں تھی اوراِن میں روحانی اُنسیت تھی۔ جب یہ زمین پرآگئیں تویہ عشقِ رومانی ہوگیا۔ یہ عشق دو روحوں میں ہے کیونکہ ان میں نفس شامل نہیں ہوتا۔ جولیلی اور مجنون تھے جیسے جو شیریں فرہاد اورسسی پنوں تھے اِن میں عشق توتھا لیکن ان کوکبھی شہوت طاری نہیں ہوئی، نہ کبھی ان کونفس کا خیال آیا اور نہ کبھی ایک دوسرے کو چھوا بلکہ بھائی بہن کی طرح رہے۔ آپ جب کسی سے عشق کرتے ہیں توپہلے چھوتے ہیں اوراس میں نفس شامل ہوتاہے لیکن عشقِ مجازی روحوں کے درمیان تھا اور یہ محبت اُس وقت پیدا ہوئی تھی جب نفس کی اس میں مداخلت نہیں تھی لہٰذا یہ پاکیزہ محبت کہلاتی ہے۔ کتاب دینِ الہی میں سیدنا امام مہدی سرکارگوھرشاہی نےفرمایا ہےکہ

پاکیزہ محبت کا تعلق بھی دل سے ہے۔

چونکہ یہ محبت پاک ہوتی ہےاوراس میں نفس کی مداخلت نہیں ہوتی تویہ اولیاءاکرام کو بات پتہ ہے کہ اس میں نفس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا لہٰذا وہ اس کو روحانیت میں بھی استعمال کرلیتے ہیں کیونکہ پھراس محبت کےبعد صرف ان کا رُخ موڑنا پڑے گاکیونکہ ان میں کوئی ناپاکی نہیں ہے۔ اس لئے پہلےیہ روحانیت میں شامل تھی لیکن پھرپنجاب میں ایک مرزا اور صاحبہ کا واقعہ ہوا جس میں وہ شہوت میں مبتلا ہوگئے تو اُس پراللہ تعالی نے عشقِ مجازی کوروحانیت سے خارج کردیا۔

3. عشقِ حقیقی:

عشقِ حقیقی صرف اللہ اور بندے کیلئے ہے اور یہ ہردین کی انتہا ہے۔
مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 8 فروری 2019 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں