کیٹیگری: مضامین

ابتداء سے انتہا تک کے تین ادوار:

جب سے اللہ نے کائنات بنائی ہے ابتدا سےلے کر آخر تک ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اوراُن میں سے پانچ اولعزم مرسل آئے اور تین سو تیرا تین (313)دین قائم ہوئے ۔ پھر ان پانچ مرسلین میں سے بہت سے اولیاءاس دنیا میں آئے۔ولیوں نے جس تعلیم کو آگے بڑھایا وہ تعلیم باطنی تعلیم تھی ، انبیاء نے جس تعلیم کو آگے بڑھایا وہ ظاہری تعلیم تھی ۔ پہلا دور دین ،انبیاءو مرسلین کا ہےدوسرا دور فیض کا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے لے کر انتہا تک دنیا میں تین دور رکھے ہیں ، پہلا دور دین کا ہے جس میں انبیاء و مرسلین جڑے ہیں، دوسرا دور رحمت کا ہے جس سے اولیاء، فقراء اور درویش جڑے ہیں ۔ پہلے دور میں دین دار لوگ ہوئے پھر دین میں جو کمزور ہوئے اُن کے لئے رحمت کا دور شروع ہوا ، ولیوں کی صحبت اورنظر رحمت سے اُن لوگوں کے گناہ جلے اسی لئے اسے رحمت کا دور کہا جاتا ہے ۔ تیسرا اور آخری دور امام مہدی کا دور ہے ، وہ دور عشق کا ہے ۔ یہ دور دین اور نظر رحمت سے بھی افضل ہے کیونکہ یہ عشق کا دور ہے ۔ پہلے جو دین اور رحمت کے دور گزرے ہیں وہ تمام چیزیں اس عشق کے دور میں ہوں گی لیکن اِس کے علاوہ فضیلت والا علم بھی اس میں آ گیا ۔

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
سورة آل عمران آیت نمبر 103
ترجمہ: اور اللہ کی حبل کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقہ نہ ڈالو۔

اِس دور میں ولایت ختم ہو چکی ہے یعنی جو حبل اللہ اوپر سے آکر ولی کو جڑتی تھی وہ اب اس دور میں کٹ گئی ہے ۔پہلے وہ حبل اللہ نبیوں اور رسولوں کو لگتی تھی ، پھر جب مرسل کا دور شروع ہوا تو اُن کی اُمت کے ولیوں کو بھی لگنے لگی اور اُسی حبل اللہ کو پکڑنے کا حکم ہوا ۔ جس کے ہاتھ میں وہ حبل اللہ تھی اُن کے اعمال میں کوئی فرق نہیں آیا ۔وَلَا تَفَرَّقُوا۔۔۔۔ سے مراد لوگوں نے لے لیا کہ فرقوں میں نہ بٹو لیکن اس سے مراد فرقہ نہیں تھا۔ اس سے مراد یہ تھا کہ محمدالرسول اللہ کے سینے سے حبل اللہ جڑی ہے محمد الرسول اللہ جوعمل کرتے ہیں تم اگر اس سے جڑ جاؤ گے تو تمھارے اعمال بھی محمد الرسول اللہ کے اعمال جیسے ہوں گے ۔ اگر نہیں جڑو گے تو تمھارے اعمال اور محمد الرسول اللہ کے اعمال جو تمھارے لئے سنت ہیں اسمیں فرق ہو گا ۔ فرق یہ ہو گا کہ اُن کے اعمال قلب اور جسم کے ساتھ اور تمھارے اعمال صرف جسم سے ہوں گے لہذا فرق ہو جائے گا۔صرف سنت کو اختیار نہیں کرنا ہے بلکہ جسطرح محمد ﷺ نے کیا ہے اسی طرح آپ نے بھی کرنا ہے ، جب حضوؐرنے نماز پڑھی تو جسم نماز میں اور دل اللہ میں اور جب تم نے نماز پڑھی تو جسم نماز میں اور دھیان دنیا میں تو پھر سنت محمدی ادا کہاں ہوئی !! اُس حبل اللہ کو پکڑ کر رکھنا تھا تا کہ فرق پیدا نہ ہو ورنہ اعمال میں فرق آ جائے گا۔ اب وہ حبل اللہ اس دور میں چلی گئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ تھا کہ ہر خطے میں ایک ایک نبی بھیجیں گے تو ایک ہی حبل درکار ہو گی ۔

“اُمتیں اسی لئے بنائیں گئیں کہ ترسیلِ فیض کا کوئی مربوط و مضبوط نظام ایجاد نہیں ہوا کہ وقتِ واحد میں کُل انسانیت کو اللہ سے جوڑا جائے۔ مختلف خطوں میں ستر ہزار ، اسّی ہزار لوگ جڑے ۔اللہ کی طرف سےایسی کوئی حبل ایجاد نہیں ہوئی جو کُل انسانیت کے لئے ہو ، لہذا اب ولایت ہی ختم ہو گئی اور عشق آ گیا ۔ جب عشق آ گیا تو اُس نے کہا کہ پہلے ایک حبل اوپر سے نیچے آتی تھی اور اب سینہ گوھر شاہی سے سات سات حبل اوپر جا رہی ہیں ، پھر اندازا لگائیں کہ فیض کا عالم کیا ہو گا”

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 7 مارچ 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں