کیٹیگری: مضامین

غزوہ ہند کو جنونیت کا رنگ دے دیا گیا ہے :

غزوہ ہند سے متعلق جسے حدیث کہا جارہا ہے اسکے راویوں میں ابو ہریرہ بھی شامل ہیں، جس میں ابو ہریرہ نے مبینہ طور پر یہ کہا کہ ”اگر مجھے غزوہ ہند میں جانے کا اتفاق ہو جائے تو میں اپنا نیا اور پرانا دونوں سامان بیچ کر چلا جاؤں گا اور اگر میں وہاں شہید ہوگیا تو مجھے بہت بڑا مرتبہ ملے گا اور اگر زندہ واپس آگیا تو میں آزاد ابو ہریرہ کہلاؤں گا۔“ اور وہ اس انتظار میں تھے کہ غزوہ ہند ابھی دوچار دن میں ہونے والا ہے ۔ غزوہ ہند کا جو متن ہے اس میں دو گروہوں کی فضیلت کا ذکر ہے ان میں سے ایک گروہ وہ ہوگا جو ہند میں جہاد کریگا اور دوسرا گروہ عیسیٰ علیہ السلام جو کہ امام مہدی کے سپہ سالار ہونگے انکا ساتھ دیگا ۔ اس حدیث کو سارے دہشت گرد استعمال کرتے ہیں ، نہ صرف سارے دہشت گرد بلکہ پاکستان کی آرمی اور پاکستان کی ایئرفورس بھی استعمال کرتی ہے اور اِسکو جنونیت کا رنگ دے دیا گیا ہے ۔

”اسلامی اصطلاحات کے مطابق غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں محمد الرسول اللہ بنفس نفیس خود جسمانی طور پر شریک ہوں ۔ یہ وہابی جو غزوہ ہند کرنا چاہ رہے ہیں یہ تو حضور پاک کی حیات کے قائل ہی نہیں اور نہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر و ناظر سمجھتے ہیں تو اب یہ غزوہ کیسے کرینگے ، کیونکہ غزوے کیلئے حضور پاک کا جسمانی طور پر شریک ہونا ضروری ہے ؟ کچھ باتیں بڑی ٹیکنیکل ہوتی ہیں اور ان باتوں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے ۔ اچھا ایک بات تو یہ ہوگئی کہ اب غزوہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ حضور پاک اس میں شریک ہونگے تو وہ غزوہ ہوگا اور اگر وہ شریک نہیں ہونگے تو پھر وہ غزوہ نہیں بلکہ قتل عام ہوگا“

دوسری بات یہ کہ جب یہ حدیث کہی گئی تھی اس وقت پاکستان ایک الگ ملک نہیں بلکہ ہند (انڈیا ) کا ہی ایک حصہ تھا ۔ لہذا پاکستان اگر انڈیا پر حملہ کرتا ہے تو یہ انڈیا کا انڈیا پر حملہ کرنا کہلائے گا ۔ اسی طرح انڈیا اگر پاکستان پر حملہ کردے تو وہ بھی انڈیا کا انڈیا پر حملہ کہلائے گا ۔ وہابیوں سے کوئی پوچھے کہ پاکستان کے انڈیا پر حملے کو اس غزوے سے جوڑ رہے ہیں اس طرح تو انڈیا کا پاکستان پر حملہ بھی تو اسی غزوے کے زمرے میں آسکتا ہے ۔

ہندومذہب کا نام نہیں بلکہ قوم کا نام ہے:

لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندو کوئی مذہب ہے لیکن ہندو کوئی مذہب نہیں ہے ۔ ہند اور سندھ آدم کے دو بیٹے تھے اور یہ شروع سے دو خطے تھے ایک سندھ اور ایک ہند کہلاتا تھا ، جو سندھ میں رہتے ہیں انہیں سندھو کہتے ہیں اور جو ہند میں رہتے ہیں انہیں ہندو کہتے ہیں ، اسکا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ وقت گزرنے کیساتھ لوگ ان الفاظ کا غلط استعمال کرنے لگے ہیں ۔ سندھ میں رہنے والوں کو اب سندھی کہا جاتا ہے جو کہ غلط ہے اصل میں وہ سندھو کہلاتے تھے ۔ اسی طرح ہندو کوئی مذہب نہیں بلکہ خطہ ہند میں رہنے والے کو کہتے ہیں چاہے اسکا مذہب کچھ بھی ہو یعنی چاہے وہ پارسی ہو ، عیسائی ہو ، سکھ ہو یا مسلمان وہ ہند کا باسی ہونے کے ناطے ہندو ہی کہلائے گا ۔ کچھ لوگ انگریزی میں بھی لکھتے ہیں ہندو ازم ، یہ کوئی بات نہیں ہے ، یہ غلط ہے ۔ وہ دھرم جسکو ہندو ازم کہا جاتا ہے اسکا نام ہے سناتن دھرما اور سناتن کا مطلب ہے ”روحوں کی اولاد “۔اب آپ گوگل(Google)کرینگے تو یہ نہیں ملے گا ، نہ یہ کتابوں میں لکھا ہے ۔ سرکار امام مہدی گوھر شاہی نے فرمایا کہ

”آدم صفی اللہ کا جو دین تھا ، سناتن دھرما اس سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے ، سکھوں کے دین کے بارے میں بھی فرمایا کہ وہ بھی آدم علیہ السلام کے دین سے نکلی ہوئی ایک شاخ ہے ۔ یعنی سناتن دھرما اور سکھ ازم آدم علیہ السلام کے دین سے نکلی ہوئی شاخیں ہیں ۔ لہذا یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ سکھ ازم اور سناتن دھرما دونوں ایک ایسے مذہب کی شاخیں ہیں جو اللہ کے بھیجے ہوئے نبی نے قائم کیا “

غزوہ ہند جہاد بن النفس کی صورت میں ہو چکا ہے :

حضور پاک نے جس وقت ہند پر حملے کا ذکر کیا تو اس وقت سے لیکر اب تک ہند پر کئی حملے ہوچکے ہیں ۔ ان میں سے کونسا حملہ اس حدیث کی مطابقت میں تھا ؟ اور آج سے پہلے ہند پر جو حملے ہوئے ہیں کیا یہ حدیث ان حملوں کیلئے نہیں تھی ؟ محمود غزنوی نے سترہ (17) بار ہند پر حملہ کیا ۔ اسکے علاوہ کبھی افغانستان والوں نے حملہ کیا اور کبھی کسی اور نے حملہ کیا ، کتنے حملے ہو تو گئے انڈیا پر ۔ کیا یہ حدیث ابھی تک پوری نہیں ہوئی ، کیا یہ حدیث ابھی تک لاگو (Valid) ہے کہ بار بار حملے کرکے بندوں کو مارتے رہو اور کہو کہ اور ماریں گے ۔ اب یہ جو محمود غزنوی تھا وہ ایک نمبر کا چور اچکا تھا لیکن مسلمانوں کے نزدیک وہ ایک بہت بڑا لیڈر ہے ہیرو ہے ۔ سومناتھ کے مندر پر حملہ کرنا اور پھر وہاں سے سونے کی مورتیاں چُرا کر بیچ دینا کیا یہ اسلام ہے ؟ یعنی مورتیوں کو ہاتھ لگانا کفر ہے اور بیچنا حلال ۔ یہ تو بہت غلط بات ہوگئی نا ۔ ہند پر اتنے جو حملے ہوچکے ہیں ، کیا مسلمان اس بات کا جواب دے سکتے ہیں کہ ان حملوں کو غزوہ کیوں نہیں تصور کرتے ؟ کیا وہ غزوہ اب بھی باقی ہے ، ابھی مزید حملے بھی کرینگے ؟ اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ لوٹ مار کرکے وہاں سے آجائیں اور مسلمانوں کا ایک نیا گروہ نکل کر کہے کہ ہمیں بھی غزوہ ہند کرنا ہے ۔ انڈیا کو لوٹتے رہو اور کہتے رہو غزوہ کرنا ہے ، غزوہ کرنا ہے ۔
غزوہ ہند تو ہوچکا ہے اور وہ اس وقت ہوا جب خواجہ غریب نواز کے مرشد عثمان ہارونی نے کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ میں اسلام کو چھوڑ کر سناتن دھرما اختیار کر رہا ہوں اور مندر میں جاکر بیٹھ گئے ، تین سال بیٹھے رہے اور وہاں کئی لاکھ لوگوں کی زندگی کا محور بن گئے ۔ انہوں نے لوگوں میں اللہ کی محبت پھیلا دی ، لوگوں میں اللہ کا دین پھیلا دیا ۔ داروشیکا (دار اشکوہ) وغیرہ جو لوگ تھے مسلمان ہونے کے باوجود بھی روحانی لوگ تھے ۔ تو غزوہ ہند معلوم کس گروہ نے کیا ؟ وہ چشتیہ خاندان نے کیا ، خواجہ بختیار کاکی ، بابا فرید گنج شکر ، نظام الدین اولیاء ، خواجہ غریب النواز اور خواجہ عثمان ہارونی نے کیا ۔ اور وہ غزوہ واقعی غزوہ تھا کیونکہ جب وہ بزرگ کھڑے ہوتے تو حضور پاک بھی تشریف لے آتے اور ان بزرگوں کیساتھ مل کر لوگوں کے نفوس کی طہارت میں مدد کرتے ۔ لہذا ہند میں جہاد ہوا ہے لیکن جہاد بن النفس ہوا ہے ۔ اب یہ جو دہشت گرداسکو استعمال کر رہے ہیں کہ غزوہ کرینگے یہ سب غلط ہے، بکواس اور گمراہی ہے ۔ جو کچھ بھی غزوہ ہونا تھا وہ روحانی طور پر لوگوں کے نفوس کی طہارت اور پاکیزکی کی صورت میں ہوچکا ہے ۔ اب اگر کوئی انڈیا میں غزوہ کریگا تو اسکو سب سے بڑی مزاحمت گوھر شاہی کی ملے گی ، کوئی کرکے دکھائے ۔ تمہارے سپہ سالاروں نے بھی کتنے حملے کئے ۔ اسکو غزوہ کیوں نہیں کہتے اور آج اگر تم وہاں جاکر حملہ کرنا چاہتے ہو تو جسکی موجودگی سے جنگ غزوہ کہلاتی ہے اسکی زندگی کے تو تم قائل ہی نہیں ہو ، اسکو تو تم نے مار دیا ہے ، اب غزوہ کیسے کروگے ؟ اور حضور نے جو فرمایا کہ ” مجھے ہند سے اپنی خوشبو آتی ہے “ اس کی کوئی بات نہیں کرتا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں