کیٹیگری: مضامین

اس دنیا میں تذکیہ نفس، تذکیہ قلب اور دیگر صفائے قلب کو منور کرنے کے بعد روحانی مقامات اور طیر و سیر کرنے کے بعد ، مرتبہ ملنے کے بعد جنت میں جائیں گے اور پھر وہاں حورو قصور اور محلات ، الغرض یہ کہ نفس کی آسائش اور آسانی کی ہر ایک چیز موجود ہو گی جس کی نفس خواہش کرے گا۔ اس کے انعام کے بدلے میں ایسی کوئی چیز ملنی چاہیے کہ ساری زندگی جو آرام میں گزاری ہے اس کی نفی نہ کی ہو ۔اور اگر کوئی واقعتا طالب ِ مولا تھا دنیا میں اور اُس نے ہر وہ کام کیا جو طالبِ مولا بننے کے لئے کرنا چاہیے تو پھر اس کو جنت پر ٹرخا دینا اور حوروں کے حوالے کر دینا کچھ موضع نہیں لگتا ہے ۔ یہ ہمارا خیال ہے اللہ ہر شے پر قادر ہے جو اس کی مرضی ہو گی وہ کرے گالیکن جو عقل ہم کو دی گئی ہے اس کو دیکھتے ہو ئے اعتراض کرتے ہیں ۔ جو محبت کے جذبات ہمارے سینے میں آ گئے ہیں وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ جس کی خاطر دنیا چھوڑی ، چین و سکون اور آرام چھوڑا ، اگر آخر میں وہ نہ ملے تو کیا فائدہ ہے ۔
با یزید بسطامی کا جب اللہ سے ہم کلامی کا سلسلہ شروع ہوا تو اللہ تعالی نے ایک دن اُن سے پوچھا کہ اے بایزید تو عبادت جنت کے لئے کرتا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ پھر اللہ نے پوچھا کہ کیا دوزخ سے خوف سے عبادت کرتا ہے تو بایزید نے کہا کہ نہیں دوزخ کے خوف سے بھی تیری عبادت نہیں کرتا وہ تو کافروں کا مقام ہے ۔ تو پھر اللہ تعالی نے پوچھا کہ پھر عبادت کس کے لئے کرتا ہے ؟ تو بایزید بسطامی نے کہا کہ میں عبادت تیری لئے کرتا ہوں ۔ پھر اللہ تعالی نے پوچھا کہ اگر میں نہ ملوں تو ؟ تو بایزید نے ایک لمبی آہ بھری اور جان دے دی اور آخری الفاظ یہ تھے کہ اگر تو نہ ملے تو زندگی بیکار ہے ۔ صرف میرا نکتہ نظر یہ نہیں ہے بلکہ جو بڑے بڑے اوّلیا ء کرام گزرے ہیں ، جن کی اللہ سے گفتگو بھی ہوئی ہے ان کا بھی یہی نکتہ نظر ہے ۔ بہت سے بزرگان دین اور اہل اللہ آئے ہیں ان میں سے بہت سے لوگوں نے اس چیز کو اظہار کیا ہے کہ اگر تو نہ ملے تو سب بیکار ہے ۔ اور ہم یہ آپ کو باور کرانا چاہتے ہیں کہ سرکار گوھر شاہی نے اپنی کتاب مقدس دینِ الہی کے پہلے صفحے پر لکھا ہے ۔ یہ کتاب جنت کے متلاشیوں کے لئے نہیں ہے بلکہ ” یہ کتاب اللہ کے متلاشیوں اور اللہ سے محبت کرنے والوں کے لئے ایک تحفہ ہے ” (دین ِالہی) ۔ جو صرف اللہ سے اللہ کو چاہتے ہیں ۔

سرکار گوھر شاہی کے فیض کی ابتدا کم از کم اللہ ہے :

ہماری تعلیم کا پہلا نکتہ ہی یہاں سے شروع ہوتا ہے ۔ سرکار گوھر شاہی نے اللہ سے نیچے کی بات نہیں کی ہے ۔ اب یہ ہماری خوش قسمتی اور سرکار گوھر شاہی کی تعلیم کا معیاریا سرکار کا روحانیت کو دیکھنے کا معیار ہے کہ کم از کم اُس کو بھرتی کر رہے ہیں جس کی طلب اللہ ہے اور سرکار کی تحریر اور تقریر سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ آپ نے لوگوں ، حق پرستوں کو ، رب کے متلاشیوں اور ہر اُس شخص کو جو کسی بھی دین سے جڑا ہے اُ سے کی توجہ جنتوں ، دیگر خواہشات اور جو منصوبے انسان کے ذہن میں پل رہے ہیں اُن سب سے ہٹا کر سرکار گوھر شاہی نے اُن سب کا رخ اللہ کی طرف موڑنے کی تلقین کی ہے ۔ میں دینِ الہی سے ایک اقتباس کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ جو لوگ اس حلقے میں ، دینِ الہی میں شامل ہونا چاہ رہے ہیں اتنا آسان نہیں ہے ۔ یہ جو سرکار گوھر شاہی کی تعلیم اور ہستی ہے ، یہاں پر جو کم از کم آرزو پوری کی جائے گی تو وہ اللہ کی ہے ۔ اگر اللہ سے نیچے کی بات کرنی ہے تو یہاں نہ آئیں ۔اور ایک بات اور بھی ہے کہ یہ جو سرکار گوھر شاہی کا سلسلہ مہدی ہے آپ نے تحریراً اور تقریراً واضح فرما دیا ہے کہ اس قافلے اور سلسلہ مہدی میں وہ لوگ آ کر بھرتی ہوں گے کہ جنھوں نے یوم ِ ازل میں ہی رب کی گواہی میں کلمہ پڑھ لیا تھا۔ اگر آپ کی خواہش اللہ سے نیچے نیچے ہے تو پھر یہاں آنا اپنا وقت ضائع کرنا ہے کیونکہ آپ کو کچھ نہیں ملے گا۔ سرکار گوھر شاہی کے یہاں جو سب سے نچلے درجے کا فیض ہے وہ دیدار ِ الہی ہے اگر اس سے نیچے کوئی چیز آپ کو چاہیے تو وہ یہاں سے نہیں ملے گی۔ فرمان گوھر شاہی بھی ہے کہ “ہمارے پاس اللہ سے کچھ کم نہیں ہے “۔ کتاب مقدس دین ِ الہی میں واضح طور پر سرکار گوھر شاہی نے لکھ دیا ہے کہ یہ اُن کے لئے جو اللہ کی ذات کو چاہتے ہیں ۔

” تما م دین اس دنیا میں نبیوں کے ذریعے بنائے گئےجبکہ اس سے پہلے خود عشق، خود عاشق ، خود معشوق تھا ۔ اور وہ روحیں جو اُس کے قرب ، جلوے اور محبت میں تھیں وہی عشق الہی ، دینِ الہی اور دین حنیف تھا۔پھر اُن ہی روحوں نے دنیا میں آکر اُس کو پانے کےلئے اپنا تن من قربان کر دیا ۔ یہ پہلے خاص تک تھا، اب روحانیت کے ذریعے عام تک بھی پہنچ گیا ”
(دینِ الہی صفحہ نمبر 25)

معلوم یہ ہوا کہ جب حضورپاکؐ تشریف لائے چالیس سال کی عمر ہوئی ، اعلان نبوت کیا پھر اسلام بنایا ، اس سے پہلے اسلام نہیں تھالیکن ہمارے مسلمان کہتے ہیں کہ اسماعیل ؑ اور ابراھیم بھی مسلمان تھے ۔ جب ہم نے دینِ الہی میں یہ پڑھا کہ اللہ اس دنیا سے پہلے خود عشق، خود عاشق اور خود معشوق تھا تو بڑی پریشانی ہوئی کہ یہ کیا بات ہے کہ اللہ نے یہ سارے مرتبے خود اپنے پاس رکھ لئے۔ پھر سرکار نے توفیق عطا فرمائی تو سمجھ میں آیا کہ ایک دن اللہ کا جی چاہا کہ میں خود کو دیکھوں کیسا ہوں یہ اُس طرف اشارہ ہے ۔ جیسے انڈیا کہ ایک مشہور فلم “تال” ہے جس میں ایک گانے میں “کھچ کا ذکر ہے کہ ” مینوں کھچ پیندی اے” ۔ اب یہ کھچ یا کشش کیا ہے ؟ جس چیز کو ہم شہوت کہتے ہیں یہ کشش بھی وہی چیز ہے ۔اب یہ جو کشش ہے یہ کہاں سے آئی ہے ۔

اللہ خود عشق، خود عاشق اور خود معشوق کیسے؟

جب اللہ نے خود کو دیکھنا چاہا اور سامنے ایک عکس نمودار ہو گیا تو اُس عکس کو دیکھ کر اللہ کو وہی کشش ہوئی ، اُسی کشش کا نام “عشق “ہے ۔ اور یہ کشش عبادتوں سے نہیں پیدا ہوتی ہے اور یہ ہی اس کشش کا کسی مذہب سے تعلق ہے ۔ پھر اللہ کا عشق کیا ہوا ؟ اللہ نے جب اپنے حسن کو دیکھا تو وہ کشش پیدا ہو رہی ہے ، میلان جو پیدا ہو گیا اور رب اس کی وارفتگی میں مدہوش ہو گیا اگر اس حسن کا ایک ایک ایک قطرہ ہر سینے میں پڑ گیا تو پھر وہ کشش وہاں بھی آ جائے گی ۔

“سیدناگوھر شاہی اُس حسن کے طوفان بپا کرنے آئے ہیں جس کو دیکھ کر رب کو کشش ہوئی تھی اور عشق نمودار ہوا تھا۔وہ جو خدا کا حسن ہے سرکارگوھر شاہی وہ حسن دلوں میں قطرہ بہ قطرہ ڈالنے آئے ہیں۔ پھر جس جس سینے میں وہ حسن استقرار پکڑے گا رب کی کشش وہاں آ جائے گی ۔پھر اللہ زبان اور رنگ و نسل کو نہیں دیکھے گا بلکہ جس جس سینے میں وہ کشش ہو گی اللہ اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا اور وہ عاشق الہی میں منتقل ہو جائے گا ”

اب اس خاکے میں تین چیزیں اللہ سے جڑی ہوئی ہیں ایک اللہ ہے ، ایک قرب ہے اور ایک محبت کا جذبہ ہے ۔ دوسری طرف جب اللہ کو خیال آیا کہ میں خود کو دیکھوں تو سامنے ایک عکس نمودار ہوا جسے حسنِ مجسم کہتے ہیں اُس حسنِ مجسم کو دیکھ کر اللہ کو انتہائی شدت کی کشش پیدا ہوتی ہے ۔اب خاکے میں اللہ اور حسنِ مجسم کے درمیان جو لائن ہے وہ وہی کشش ہے جو حسنِ مجسم کو دیکھ کر پیدا ہوئی ، اسی کشش کا نام “عشق ” ہے ۔ اور سامنے جو عکس نمودار ہوا ہے وہ اللہ کا حسن ہے ۔ اب جو کام کرتا ہے وہ “فاعل “ہے اور جو کام ہوتا ہے وہ” فعل” کہلاتا ہے اور جس کے اوپر وہ کام ہو رہا ہے وہ “مفعول” ہے ۔ اب یہاں کشش اللہ کو ہو رہی ہے تو اللہ “فاعل ” ہوا یعنی عاشق ۔ “فعل” عشق ہو گیا اور جس سے عشق کیا جا رہا ہے وہ “معشوق” ہو گیا ۔

امام مہدی کے آنے سے پہلے عشق، قرب، محبت اور جلوہ تھا:

اما م مہدی کے آنے سے پہلے پہلے اللہ ہے، عشق ہے ، قرب، محبت اور جلوے والی روحیں ہیں ۔ یہ جو بھی قرب ، محبت اور جلوے والی ارواحیں ہیں یہ سب بازارِ دینِ الہی ہے ۔ یہ دین وہاں پر اوپر چل رہا ہے پھر اُن میں سے کسی ایک کو بھیجا کہ جاؤ تم دین بناؤ دنیا کے لئے ، انہوں نے پھر اُس حساب سے عیسائی، یہودی، جین مت ، اسلام ، ہندوازم مذہب بنا لئے ، یہ سارے مذہب اسی دنیا میں بنائے گئے ہیں ۔ ہر انسان کے دو مذہب ہیں ایک اُس کے جسم کے لئے اور ایک اُس کی روح کے لئے ۔ اب جو روح کے لئے دین رکھا اس کی تشہیر نہیں کی گئی ، چھپا چھپا کر رکھا،پھر اگر کوئی اللہ کے پاس پہنچ گیا تو دیکھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ،نہ کوئی نماز ، نہ کوئی روزہ ۔بس اللہ کے دیدار میں مست ہیں ۔اسی کو دینِ الہی کہا گیا کہ تو مجھے دیکھ لے اور میں تجھے دیکھ لوں ۔ جو اللہ تک پہنچ گیا اُس کو وہ دینِ الہی مل گیا ۔جو نیچے نیچے رہے ان کو پتہ ہی نہیں ہے کہ دینِ الہی کیا ہے ۔ اب اللہ کا جو مین مقام ہے وہ عاشق ہے یہی وجہ ہے کہ دنیا میں لوگ صرف عاشق ہی بنے ۔ فضیل بن عیاض اور لال شہباز قلندر جیسے لوگ عاشق بنے جو معشوق والا فیض تھا اس پر لکیر لگی ہوئی تھی۔معشوق کے نخرے ہوتے ہیں اگر آپ نے عشق کرنا ہے تو قربانی دینی ہو گی ۔اسی وجہ سے اللہ نے عاشق کے لئے بہت سخت ریاضتیں اور مشقتیں رکھیں ہیں، 36 سال جنگلوں میں ریاضتیں کرتے رہے بہت سخت اللہ نے معیار رکھا۔ اور جو پہنچ بھی گیا ان میں سے کسی کی کھال اُترو ا دی ، کسی کے بچے چھین لئے، یہ سب تاریخ میں موجود ہے ۔

امام مہدی حسنِ مجسم کا فیض لے کر آئے ہیں:

جب محمد ﷺ کے آنے کے بعد عاشق کا سارا فیض ختم ہو گیا تو اب آخری زمانے کے لئے اللہ نے حسنِ مجسم کا فیض رکھا ۔اب حسنِ مجسم کا فیض متعارف کیا جا رہا ہے جس میں اِ س حسنِ مجسم نے جس کو فیض دے دیا ،جس جس سینے میں وہ قطرہ چلا گیا وہ اللہ کا منظورِ نظر ہو جائے گاکیونکہ اس میں وہ نور ہے جس کو دیکھ کر اللہ مست ہوتا ہے ۔ اگر ا س کا فیض تمھارے سینے میں آ گیا تو پھر تمھیں اللہ کو راضی نہیں کرنا وہ تو گارنٹی ہے کہ راضی ہی ہے ۔ کیونکہ جو نقطہ نور تمھارے اندر آئے گا وہ حسنِ مجسم کا ہو گا، جس کو دیکھ کر وہ سوچتا نہیں بلکہ جنبشیں کھاتا ہے۔ اس کے لئے کہا گیا کہ جو ازل سے ہی رب کا متلاشی ہے صرف انہی لوگوں کو اس سلسلے میں داخلہ ملے گااس سے نیچے کی بات نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ فیض انتہائی خاص فیض ہے ۔ دیدار ِ الہی کرنے کے لئے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتی ہے اور یہاں اگر آ گیا تو رب خود سامنے ظاہر ہو گاکیونکہ اُس کا نور ہے جو کہ رب کا حسن ہے اگر وہ تیرے اندر آ گیا تو تو محسن ہو گیا۔ انہی کے لئے ارشاد ہوا کہ ان اللہ قریب من المحسنین ۔ یعنی جن میں میرا حُسن سما گیا میں انہی کے ارد گرد ہوں ۔

سمجھنا یہ ہے کہ جب اللہ نے چاہا کہ اپنے آپ کو دیکھے تو اسکا ایک عکس نمودار ہو گیا اور اللہ اور اس کے بیچ ایک رشتہ کشش پیدا ہو گیا جو لال نکات سے واضح کیا ہے یہ عشق کہلاتا ہے، اللہ کی ذات “عاشق” ، وہ جذبہ “عشق “ہے اور جو اسکا حسنِ مجسم ہوا وہ “معشوق”ہے، اب یہ تین درجے جو ہیں یہ پورا کا پورا “وجود اللہ” ہے۔ اسے تکونِ الہیہ بھی کہتے ہیں ۔ یہ ہمارے مشاہدے اور تجربے اور ایمان کی بات ہے، ہمیں لوح محفوظ دیکھنے یا جبرائیل سے پوچھنے کی حاجت نہیں ہے، یہ ہم نے خود دیکھا ہے۔
اللہ کا وجود بس یہ ہی ہے، اللہ کے سامنے جو عکس پڑا وہ اسی کے اندر سے نکلا ہوا حسن ہے تو وہ اس کا ہی حصہ ہے، اس حسن اور اللہ کے بیچ میں جو ایک رشتہ اور جو ایک کھنچاؤ پیدا ہوا ہے وہ بھی اللہ کا ہی حصہ ہے۔

اللہ کا دین وجود ِ گوھر شاہی ہے:

“حسنِ مجسم کو دیکھنے کے بعد اللہ نے جو جنبشیں کھائیں وہ کیا ہیں؟ ، جسطرح اچھلنے کودنے سے پسینہ انسان کے مساموں سے پسینے کا اخراج ہوتا ہے اسی طرح اللہ جنبش کھاتا ہے تو نور نکلتا ہے، جو جنبش کے ذریعے نور نکلا وہ ذات کا حصہ نہیں ہے، یہ جو نور کی شعائیں نکلی ہیں ، یہ جو طفل نوری ہیں یہ ذات کا حصہ نہیں ہیں ، ان کو اللہ کی تصویر کہہ سکتے ہیں لیکن یہ اللہ کی ذات کا حصہ نہیں ہیں، ذات کا حصہ ہے ، اللہ، عشق اور وہ عکس اوّل”

جو حسنِ مجسم ہوا وہ اللہ کی ذات سے نکلا ہے۔ اسی لیے ہم اُس کو اللہ کی ذات کا حصہ کہتے ہیں اور جو اللہ نے جنبشیں لیں تو اس کے وجود سے نور نکلا، جب ہمارا پسینہ نکلتا ہےتو کیا ہم پرواہ کرتے ہیں کہ کہاں گرا؟ ہمارے اندر سرنج ڈال کر اگر خون نکالا جائے تو وہ تو کسی کے کام آ سکتا ہے لیکن ہمارے ہی اندر سے اگر پسینہ نکلتا ہے تو وہ کسی کے کام نہیں آتا۔ سوائے اِس کے کہ اس پسینہ کی ذریعے ہماری بیماری کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔اس تصور پرذرا غور فرمائیے!

سات طفل نوری جو بنے اس کو کہا جاتا ہے”فقر” ۔ فقر کا مطلب ہے قلاش ہونا ، جس طرح آدمی کے پاس پیسہ نہ ہو تو بنک کرپٹ کہلاتا ہے، اُسی طرح اس کو فقر اس لیے کہا گیا کہ اب اس میں کچھ باقی نہیں بچا ہے اور یہ ان ہی کے پاس جائے گا اور جنکے پاس جائے گا اُن کے پاس بھی کچھ نہیں بچے گا پھر وہ اللہ کو لیکر آئیں گے۔
اس کا اللہ کی ذات سے تعلق نہیں ہے اس کا تعلق حضورﷺ سے ہے، الفقرو فخری والفقرو منی۔۔۔۔یہ بہت گہری بات ہے، اس کو سمجھنے کی کوشش کرو، فقر کا تعلق حضور کی ذات سے ہے اللہ سے نہیں۔ اللہ کا تعلق اُس حسنِ مجسم سے ہے ۔

“جس ہستی میں وہ عکس اوّل آ گیا ہے اُس سے ملنا اللہ سے ملنا ہےکیونکہ جو کچھ اُس میں آیا ہے وہ اللہ کی ذات کا حصہ ہے ، اُس کے آنے کی وجہ سے گوھر شاہی کے قدموں میں بھی اللہ کا نقش، ہاتھوں میں بھی اللہ کا نقش، کانوں پر بھی اللہ کا نقش، سیدنا گوھر شاہی کی انگلیوں پر آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے، کہیں سورہ مزمل، کہیں سورہ رحمان لکھی ہوئی ہے یہ اُس عکس اوّل کی وجہ سے ہے جواللہ کی ذات کا حصہ ہے اور ایسا حصہ جس پر اللہ کو فخر ہے، جس کو دیکھ کر وہ وارفتگی میں سات جنبشیں لے چکا تھا، یہ دینِ الہی ہے، اس سے پہلے والاجو دینِ الہی تھا جو اس طرف کا دین ِالہی تھا جہاں قرب جلوے اور محبت والی روحیں تھیں لیکن یہ دینِ الہی کا ظاہر تھا یہ اللہ کو چاہنے والے تھے لیکن جو دینِ الہی امام مہدی لے کر آئے ہیں یہ وہ دینِ الہی ہے جس میں اللہ چاہے گا! وہ اللہ کو چاہنے والا دینِ الہی ہے اور اس میں اللہ کسی کو چاہے یہ وہ دینِ الہی ہے”

ایک عشق الہی یہ ہے کہ آپ اللہ سے عشق کریں لیکن یہ اللہ کا دین نہیں ہوا، اللہ کا دین وہ ہوگا جس میں “فاعل” اللہ خود ہوگا ، جس طرح آپ مسلمان ہیں اسلام پر عمل پیرا ہیں تو یہ آپ کا دین ہوا نا ، اگر اللہ کا دین ہوگا تو” فاعل” اللہ ہوگا۔اب اللہ کس بات کا فاعل ہے؟ وہ اپنے حسن سے عشق کر رہا ہے یہ اس کا” فعل” ہے، تو اُس حسن سے ہی عشق کرنا دینِ الہی اصل ہے۔یہ جو منصور حلاج وغیرہ کر کے چلے گئے یہ بس نام کا ہی دینِ الہی تھا۔اللہ کا دین وہ ہے جس میں “فاعل” اللہ ہے، اللہ کے سامنے اسکا حسنِ مجسم ہوا جس سے ایک کشش کا رشتہ قائم ہوگیا ، جس میں “فاعل” اللہ تھا، اس حسنِ مجسم کو دیکھنا اصل دینِ الہی ہے۔قرآن مجید میں آیا
یا رسول اللہ جب اللہ کا دین قائم ہوجائے تو تم بھی اپنا رخ اُس دین کی طرف کر لینا کیونکہ اللہ کا بھی رخ اُدھر ہی ہے۔سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے بھی فرمایا تیرے اندر جب اللہ کا نور آ گیا تو تیرا رخ بھی ادھر ہو جائے گا جس طرف اللہ کا رخ ہے،اور اللہ کا رخ اُس حسنِ مجسم کی طرف ہے۔
اللہ کا دین عشق ہے لیکن اس نے عشق اپنے حسن سے کیا، اب وہ حسن ہے کہاں؟ پہلے سب سے چھپا ہوا تھا ،مغرب میں تھا اب وہ جسمِ گوھر شاہی میں ہے ، اگر اِس کو انصاف کے ساتھ بیان کیا جائے تو یہ ہوگا کہ “اللہ کا دین وجودِ گوھر شاہی ہے” کیونکہ اُسی سے تو وہ عشق کرتا ہے، گوھر شاہی سے عشق کرنا دینِ الہی ہے۔اب اس میں اللہ اور ہم ، ہم دین ہوگئے، وہ بھی اُسی سے عشق کرتا ہے ہم بھی اُسی سے عشق کرتے ہیں ، ہم دین ہوگئے نا جس طرح پیر بھائی ہوتا ہے ۔ اللہ کا دین عشق ہے وہ اپنے حسن ،اپنے عکس اوّل سے عشق کرتا ہے اور وہ عکسِ اوّل امام مہدی کے وجود میں ہے تو جس سے وہ عشق کرتا ہے وہ امام مہدی کے جسم میں ہے تو امام مہدی کے نخرے کتنے ہوں گے!! دینِ الہی وہی ہوگیا ۔ دین ِاسلام محمدؐ کی ذات، بمصطفی برساں خیشت را کہ دیں ہمہ اوست۔۔۔کہ حضور تک رسائی حاصل کر لے کہ وہی دین ہے۔ اسی طرح عکسِ اوّل جو ہے وہ امام مہدی کے جسم میں ہے،اللہ اُس سے عشق کرتا ہے تم بھی اس سے عشق کرو، وجود ِگوھر شاہی میں اللہ کا حسن جھلک رہا ہے جس پر اللہ خود شیدا ہے، آپ بھی اُس پر شیدا ہو گئے تو یہ ہی دینِ الہی ہے لیکن آپ اُس پر شیدا اسی وقت ہونگے جب اُس حسن کا کوئی حصہ سیدنا گوھر شاہی آپ کے جسم میں بھی ڈال دیں گے پھر آپ دینِ الہی میں داخل ہو گئے۔
انسان کو عشق کرنا صحیح آتا ہے یا اللہ کو عشق کرنا صحیح آتا ہے ؟ ظاہر ہے اللہ کو!!! تو یہ جو سلطان وغیرہ کھڑے تھے یہ کیا عشق کریں گے، ان کا کیا عشق ہے، اصل عشق تو وہ ہے جو اللہ نے اپنے عکس اپنے حسن سے کیا تھا، وہ عشق جو اللہ نے اپنے حسن سے کیا وہی عشق امام مہدی زمین پر بانٹنے آئے ہیں ، اب کیا کوئی بلھا عشق کرے گا! یہ جو ظاہر ہوا یہ مختلف ہے، اللہ کا نام اتنا سادہ سا ہے تین چار ڈنڈے ہی تو ہیں ، کبھی بادلوں میں کبھی نسوں میں نظر آجاتا ہے یہ انسان خود ہی سوچتا رہتا ہے۔امام مہدی کا فیض عشقِ الہی ہے۔ اب عشقِ الہی بھی دو قسم کا ہو گیا ، یہ وہ عشق الہی ِنہیں ہے جس میں انسان اللہ سے عشق کرے ، ہم اُس عشق الہی کی بات کر رہے ہیں جو اللہ نے اپنے حسن سے عشق کیا جس میں فاعل اللہ خود ہے، اُس عشق اور اِس عشق میں زمین آسمان کا فرق ہو گیا۔ جس عشق میں انسان فاعل ہے اس عشق کی کوالٹی اللہ پرمنحصر نہیں ہے کیونکہ انسان کر رہا ہے لیکن اِس عشق کی کوالٹی کیا ہو گی جو اللہ اپنے حسن سے کر رہا ہے اور اس حسن کے قطرے تمہیں بطفیل سرکار گوھر شاہی امام مہدی مل جائیں وہ تو پھر نا قابل بیان ہے۔یہ وہی تعلیم ہے سیدنا گوھر شاہی کی جس میں آپ کو اُس عشق کا قطرہ ملے گا جو عشق اللہ نے اپنے حسن سے کیا ہے۔اب جسطرح سے فقر باکمالیت اور فقر باکرم ہے ، فقر باکمالیت طفل نوری سے نکلا ہے اور فقر باکرم جس ہستی کو مل گیا اس نے اپنی مرضی سے آگے کسی کو لگا دیا یہ ایسے ہی ہے جیسے صحابی اور پھر تابعین ہے لیکن اِس میں اُن کا حضور سے تعلق ہو گا ،اللہ سے نہیں ، فقر طفل نوری کے ساتھ اس طرف ہے۔ اللہ کا جو حسنِ مجسم ہوا وہ فقر نہیں ہے اس کو فقر کہنا گستاخی ہے۔ وہ مدہوشی ہے۔ وہ اللہ نے محسوس کیا ہے۔ یہاں پر آپ اس سے منسلک ہو جائیں گے جو اللہ کی معشوق ہے، اللہ کے وجود کے اندر جو ذات اسکی معشوق کا درجہ رکھتی ہے اس سے آپ کا تعلق ہو رہا ہے ، اب وہاں دیکھا نہیں جائے گا یہ کتنا گناہ گار ہے جس میں بھی اللہ کا نور ہوا ، ایک کرن بھی اللہ کے نور کی آگئی تو ہھر بس تو اللہ کے عشق میں چلا گیا، اس کی نظروں میں آ گیا، پیوستہ ہو گیا اوردوسری طرف بہت کچھ کرنا پڑا پھر بھی کچھ نہیں ملا۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کی 04 ستمبر 2017 کی یو ٹیوب پر لائیو گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں