کیٹیگری: مضامین

مشربِ محمدی کا قانون اور امام مہدی گوھر شاہی کی آل کی حقیقت

مولانا روم نے اپنی مثنوی میں فرمایاکہ اللہ نے کبھی بھی کسی جاہل کو اپنا دوست نہیں بنایایعنی اللہ نے کبھی بھی کسی ایسے شخص کو اپنا دوست نہیں بنایا جس کا قلب سیاہ ہواور مولانا روم کا یہ جو قول ہے قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

ا للَّـهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ
سورة البقرة آیت نمبر 257
ترجمہ : اللہ تعالیٰ مومنوں میں سے اپنا دوست بناتا ہے اور اُن کو پھر ظلمات سے نکال کر نور کی طرف گامزن کر دیتا ہے ۔

پھر سرکار امام مہدی سیدنا گوہر شاہی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ امام مہدی کو وہ لوگ پہچانیں گے اور ساتھ دینگے جن کے دلوں میں نور ہوگا ۔ پہچاننا بھی ہے اور ساتھ بھی دینا ہے۔ اب آپ لوگوں نے یہ فرق سمجھنا ہے کہ پہچاننا کیا ہے اور سرکار کو امام مہدی زبان سے کہنا کیا ہے۔ آپ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ جو سرکار کو امام مہدی مان رہا ہے وہ پہچان کی بنیاد پر کہہ رہا ہے یہ جملہ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ محض منافقانہ طور پر زبان سے کہہ رہا ہو۔ اب دو اشخاص اگر مثال کے طور پر ہوں اور دونوں سرکار کو امام مہدی کہتے ہوں تو اس میں سے پتہ کیسے چلے گا کہ کس نے پہچان کی بنیاد پر یہ جملہ کہا اور کوئی منافقانہ طور پر کہہ رہا ہے ۔ جس نے پہچان کی نور کی بنیاد پر یہ جملہ کہا ہے وہ ساتھ بھی دے گا۔ اور جس نے صرف زبان کلامی یہ جملہ کہا ہے کہ جی ہم بھی مانتے ہیں اُس نے پہچانا نہیں ہے اگر اس نے پہچانا ہوتا تو وہ ساتھ دے رہا ہوتا۔
یہ جو تعلیم ہے یہ تعلیم بڑی ضروری ہے ۔ کئی باتیں ایسی ہیں کہ جن کے اظہار سے میں نے ہمیشہ ہچکچاہٹ سے کام لیا ہے اُن باتوں کو غیر ضروری سمجھا ہے مثلا یہ کہ سرکار سے ہی تعلق ظاہر کرنے والے لوگ جو پاکستان میں رہتے ہیں بنام انجمن سرفروشانِ اسلام اُن کی غلاظتوں پر، اُن کے عقائد پر عوامی سطح پر میں گفتگو کرنے سے گریز کرتا رہا اُس کی جو سب سے بڑی وجہ ہے وہ یہ ہے کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ جو دنیا بھر میں سرکار گوہر شاہی کی شخصیت سے متاثر ہوکر لوگ اس قافلے میں شامل ہوں اُن کا تذکرہ کرنے سے اُن کے دماغ میں اُلجھن پیدا نہ ہوجائے گا ۔ لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ وہ لوگ اُن نئے آنے والے ساتھیوں کی آئی ڈیز پر گمراہ کن میسج بھیجتے ہیں اور میسج بھیج کر اُن کو اُلجھن کا شکار کرتے ہیں اور پھر اگر عقیدہ درست ہو نیتیں درست ہوں تو سرکار کا ماننے والا کسی بھی راسخ العقیدہ پیروکارِ مہدی سے دنیا کے کسی شہر میں ملاقات بھی کرسکتا ہے اُس سے گپ شپ بھی کرسکتا ہے رابطہ بھی رکھ سکتا ہے بھلے اُس کا تعلق مہدی فاؤنڈیشن سے ہویا نہ ہو۔ بات یہ نہیں ہے کہ مہدی فاؤنڈیشن میں جو لوگ موجود ہیں اُن پر پابندی ہے کہ وہ کسی غیر مہدی فاؤنڈیشن والے سے رابطہ نہیں کرسکتے، ایسا نہیں ہے ۔ اگر کسی کا عقیدہ درست ہو اور اس سے بات کرنے کی بنا پر عقیدے میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو تو پھر تو اجازت ہے۔ اور اگر عقیدے میں بگاڑ ہے اور منافقین کا ٹولہ ہے منافق اُسی کو کہتے ہیں کہ جو بظاہر یہ ظاہر کرے کہ میں مومن ہوں لیکن اُس کے قلب میں بیماری ہو۔ تو ایسے لوگ اپنی آئی ڈیز پر سرکار کی تصاویر بھی لگاتے ہیں سبحان اللہ بھی کہتے ہیں لیکن بس یہی کچھ کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے ۔ اور پھر جب یہ دیکھتے ہیں کہ مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کا جو مشن ہے وہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور لوگ جوق در جوق سرکار گوہر شاہی کے فیوض و برکات سے اپنا دامن تر کر رہے ہیں تو اُن کے اندر کا جو بغض اور حسد اور بدباطنی ہے وہ اُن کو اس بات پر مجبور کر تی ہے کہ یہ جو قافلہ بڑھ رہا ہے اس قافلے کو منتشر کیا جائے اِس کو روکا جائے۔

جس ذات کا دم بھرتے ہیں اس کے مرتبے کو ماننا لالچ نہیں ہے:

کچھ تو ایسے لوگ ہیں بظاہر سرکار گوھر شاہی سے وابستگی کا اظہار کرنے والے جو یہ کہتے ہیں کہ جی ہم تو ذات کے ماننے والے ہیں اور جو مرتبۂ مہدی کے ماننے والےلوگ ہیں وہ تو لالچی کتے ہیں لہٰذا ہم تو امام مہدی کا پرچار نہیں کرینگے کیونکہ یہ تو لالچی لوگوں کا کام ہے ۔ اگر ایسا ہی ہے اور اگر یہ سچ ہے تو پھر تم حضور ﷺ کی نبوت ، رسالت اور ختمِ نبوت پر اتنا زور کیوں دیتے ہو؟ تمہارے اس قول سے یہ بات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے اگر تم اس قول میں سچے ہو کہ یہ نبوت و رسالت کا ذکر کرنا ختمِ نبوت پر زور دینا یہ ،معاذ اللہ ،فضول باتیں ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس ذات کا دم بھر رہے ہواُس ذات کا جو مرتبہ ہے اُس مرتبے کو ماننا لالچ کیسے ہوا؟ پھر تم جشنِ شاہی کیوں مناتے ہو؟ دینِ الٰہی میں سرکار گوہر شاہی نے بقلم خود یہ مندرج فرمایا ہے کہ” ہر مرتبے کا ہر معراج کا تعلق پندرہ رمضان سے ہے”۔ تو تمہارے قول کے مطابق جشنِ شاہی منانا لالچی کتوں کا کام ہوگیا۔ کیونکہ وہ تو مرتبے کی خوشی ہے اور تم جشنِ شاہی کے دن ہی مرتبے کو جھٹلا رہے ہو۔ اس سے ثابت یہ ہوتا ہے ایک تو ہے تعلیم کا نہ ہونا اور دوسرا ہے انسان کا ازلی بدبخت ہونا ۔ یہ سب بہانہ بازی ہے کہ یہ لالچی لوگوں کا کام ہے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرتبے کو ماننے والے لالچی ہیں تو جس نے یہ مرتبہ دیا ہے وہ کون ہے ، اللہ کون ہے؟ محمد رسول اللہﷺ کو نبوت و رسالت کا مرتبہ کس نے دیا ؟ اللہ نے دیا، سیدنا گوہر شاہی کو مرتبۂ مہدی کس نے دیا ہے ؟ اللہ نے دیا ہے ۔ اللہ نے یہ مرتبہ دیا اور ہم نے مان لیا۔ تو اللہ مرتبہ دے اور ہم مان لیں توہمیں مومن کہلانا چاہئےکہ اللہ نے کوئی چیز کوئی نعمت عطا فرمائی اور ہم نے اس کو مانا ۔ اگر اللہ نے مرتبہ دیا ہو اور ہم نہ مانیں تو ہم کافر ۔ یہ کون سی زبان بول رہے ہیں طلعت اور بابر کے تربیت یافتہ ذات کے لوگ کہ مرتبۂ مہدی کو ماننے والے لالچی ہیں، مرتبۂ مہدی کو ماننے والے تو مومن ہیں قرآنِ مجید کی نظر میں۔ کوئی ہستی آئی ہے جو بغیر مرتبے کے ہو؟ مرتبہ تو تعین کرتا ہے کس قدر فیض ہوگا، کتنا فیض ہوگا،کہاں تک لے کے جائیگااورکون کون مانے گا؟ ان تمام منازل کا تعین مرتبہ کرے گا۔

قلب کی سیاہی اور مہر زدہ ہونا کیا ہے ؟

سرکار گوہر شاہی کا مرتبہ اگر بتایا نہ جائے تو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ سرکارگوہر شاہی کے جو فیو ض و برکات ہیں اُن کا دائرہ کار کتنا وسیع ہے۔ جب سرکار گوہر شاہی کا مرتبۂ مہدی ہم نے تسلیم کیا اور قبول کیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ وہ ہستی ہے یہ وہ ذاتِ والا ہے کہ جس کے فیوض و برکات کسی ایک گروہ کے لئے کسی ایک مذہب کے لئے کسی ایک ملک ، کسی ایک قوم کے لئے نہیں ہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے ہیں۔ چہ مسلم چہ کافر چہ زندہ چہ مردہ۔ اب یہ باتیں سمجھ میں اُس کوا ٓتی ہیں کہ جس کے قلب میں نور ہو۔ یہ باتیں ہوں یا کوئی اور بات ہو جس کا دین سے تعلق ہو سیدنا گوہر شاہی کا معاملہ ہو یا محمد رسول اللہ کا معاملہ ہو یا ہدایت کا معاملہ ہو یا ولایت کا معاملہ ہو یا امامت کا معاملہ ہو اللہ نے اپنی سمجھ اور دین کی سمجھ، اپنے انبیاء کی سمجھ، اپنے مرسلین کی سمجھ، اپنے مہدی کی سمجھ قلب کے منور ہونے سے قرار دی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ دین کو اور رب کو اور ان ہستیوں کو سمجھنے کی توفیق قلب کو دیتا ہے دماغ سے نہ رب کو سمجھا جاسکتا دماغ سے نہ دین کو سمجھا جاسکتا اور دماغ اور عقل سے نہ امام مہدی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔

“جن کے دلوں میں نور ہے اُن کے دلوں کو اللہ تعالیٰ فقہہ عطا فرماتا ہے اور جب دل سیاہ ہوجائیں تو پھر نصیحت اثر نہیں کرتی۔ ایک تو ہے دل کا سیاہ ہونا اور ایک ہے دل کا مہر زدہ ہوجانا، اگر دل سیاہ ہو تو گناہوں سے ہوتا ہے اور دل پر اگر قفل پڑا ہو تو قفل گناہوں سے نہیں لگتے، قفل کفر سے لگتے ہیں”

دلوں پر قفل کفر کی وجہ سے لگتے ہیں۔ اگر دل سیاہ ہو تو گناہوں سے ہوتا ہے اور اُس کا علاج کیا ہے ؟لکل شئی صقالا، صقالۃ القلوب ذکر اللہہر چیز کو دھونے کے لئے کوئی نہ کوئی ہتھیار ہے کوئی نہ کوئی آلہ ہے کوئی نہ کوئی ذریعہ ہے ۔ جس طرح اب ہمارے منہ پر گرد آجاتی ہے پسینہ آتا ہے میل آتا ہے تو ہم صابن سے منہ دھو لیتے ہیں ۔ واشنگ لکوئڈ سے منہ دھو لیتے ہیں ۔ کپڑوں کو دھونا ہوتو صابن سے کپڑے دھو لیتے ہیں۔ اسی طرح دل کو بھی دھونے کا ذریعہ اللہ کے رسول نے بیان فرمایا لکل شئی صقالا صقالا جو ہے اُس کو عربی میں آپ یوں سمجھ لیں کہ صابن کو کہتے ہیں، دھونے والی چیز۔ لکل شئی ژقالا ہر چیز کے لئے کوئی نہ کوئی صابن ہے صقالۃ القلوب اور دلوں کا جو صابن ہے ذکر اللہ وہ اللہ کا ذکر ہے۔ تو گناہوں سے دل سیاہ ہوتا ہے اور پھر اُس کو دھونے کے لئے اللہ کا ذکر ہے۔ تومعلوم یہ ہوا کہ دل سیاہ ہے تو دین کو ،رب کو سمجھنے کی صلاحیت اُس میں نہیں ہے ۔ جب اُس انسان کا دل اللہ کے ذکر سے دھل جائے گا تو دھلنے کے بعد دین کی اور رب کی سمجھ بوجھ اُس میں آنا شروع ہوجائے گی۔ تو جن کے دل سیاہ ہیں اُن کے دل سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں ۔ لیکن یہ محرومی عارضی ہے، جب ذکر اللہ قلب میں داخل ہوگا تو قلب کو دھو دے گا اور قبل جب چمکنے لگے گا تو اللہ کی طرف سے اُس میں سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے گی۔ لیکن اگر کسی کے قلب پر قفل لگا ہوتو یہ قفل اِس بات کا اشارہ ہے کہ ہمیشہ کے لئے اللہ نے اُس قلب کو اس صلاحیت سے محروم کردیا ہے کہ اس قلب کے ذریعے کبھی اُس بندے کا تعلق اللہ سے جُڑ پائے گا یا ذکرِ اللہ اُس میں داخل ہوپائے گا۔ تو جن کے دلوں پر قفل لگ جاتا ہے جن کے دلوں پر ختم ، مہر لگ جاتی ہے تو اُن سے بھلائی کی اُمید کرنا کہ کبھی وہ سرکار کو مان لیں گے کبھی مرتبۂ مہدی کو مان لیں گے، کبھی دین کو سمجھ جائیں گے، کبھی قرآن اور حدیث اور دینِ الٰہی کی کتاب میں جو سرکار نے تعلیم بیان فرمائی ہے اُس کو سمجھ جائیں گے یہ محض ایک نادانی ہے اور یہ ایک خیالِ فسوں ہے۔ قرآنِ مجید فرماتا ہے : اُس خاص قسم کے لوگوں کے لئے جو نبی پاک ﷺ کی محفل میں آکے بیٹھتے تو تھے لیکن تمسخر اُڑاتے تھے مذاق اُڑاتے تھے ۔ اُن لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
سورة البقرة آیت نمبر 6 تا 7
یا رسول اللہ ﷺ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو جھٹلا دیا ہےاُن کو سمجھانا وقت ضائع کرنا ہے۔ آپ ان کو ڈرائیں دھمکائیں ان کو کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے یہ کبھی مومن نہیں بن سکتےکیونکہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، سماعت ختم کر دی ہےاور بصیرت پر بھی مہر لگا دی ۔ اُن کے لئے سخت عذاب ہے ۔

یا رسول اللہ ﷺ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو جھٹلا دیا ہے سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ان کے اوپر وقت ضائع کرنا ہے ۔ ایک جیسا ہے کہ آپ ان کو سمجھائیں یا نہ سمجھائیں اثر تو ہوگا نہیں۔ آپ سمجھائیں گے تو دلوں میں طاقت نہیں سمجھنے کی نہ سمجھائیں گے تو بھی نہیں سمجھیں گے تو فائدہ کیا ہوا سمجھانے کا أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ آپ ان کو ڈرائیں دھمکائیں ان کو کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے۔ خوفِ خدا میں وہ روتا ہے جس کے دل میں نور ہو۔ جس کے دل کو نصیحت کا اثر ہوتا ہو۔ اب دیکھیں کیا مسلمانوں کو نہیں پتہ کہ سات جہنم بنائی ہیں اللہ نے ؟ پتہ ہے ناں۔ گناہ نہ کریں ، زیادتی نہ کریں ، بہتان نہ لگائیں لیکن لگا رہے ہیں لگاتے ہیں کیوں لگاتے ہیں کہ خدا کا خوف دلانے والی جو صلاحیت ہے اُن کے دلوں میں وہ ختم ہوچکی ہے۔ سرکار گوہر شاہی غیبت میں ہیں اور بہت جلد تشریف فرما ہونگے جس کے دل میں نور ہوتا ہے اُس کو یہ بھی خیال آتا ہے کہ کوئی غلط کام نہ کروں میں سرکار کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اور جو سورہ فاتحہ اور مغفرت پڑھ کے بیٹھ جائے کہ قصہ ختم ہوگیا اب اُس کو کیا خوف آئے گا إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ کہ یہ کبھی مومن نہیں بن سکتے لا یومنون، یہ کبھی بھی مومن نہیں بن سکتے ۔ اب آگے اللہ نے یہ بات بھی فرمائی ہے کہ مومن کیوں نہیں بن سکتے ۔ فرماتا ہے کہ خَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ کہ اللہ نے مہر لگا دی ہے ان کے دلوں پر وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ کہ ان کی سماعت ، ان کی سننے کی جو صلاحیت ہے ۔ اب یہ جو سننے کی صلاحیت ختم کردی جائے تو ایسا نہیں ہوتا ہے کہ آدمی کو وہ آواز نہ آئے بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسے آپ کبھی کوئی میچ دیکھ رہے ہیں یا کوئی ٹی وی پر فلم دیکھ رہے ہیں اور آپ کادھیان وہاں پر ہے اور آپ کے برابر میں بیٹھ کر دو چار آدمی کوئی باتیں کر رہے ہیں آواز تو آپ کو آرہی ہے لیکن آپ کا دماغ فلم لگا ہوا ہے آپ کو پتہ نہیں چلے گا کہ کیا ہورہا ہے۔ یا آپ اپنی سوچوں میں غلطاں ہیں سوچ و بچار میں لگے ہوئے ہیں اور ارد گرد کے لوگ کچھ باتیں کر رہے ہیں اور آپ کو آواز تو آرہی ہے لیکن آپ کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ پھر اگر آپ اچانک اُس سے کہیں ہاں جی تم سن رہے ہو۔ نہیں معذرت چاہتا ہوں میں سن نہیں پایا کیا کہا تھا تم نے ۔ آواز تو آرہی تھی اُس کو لیکن اُس کو ایک لفظ پتہ نہیں کیا کہا تھا کیونکہ اُس کا دھیان کہیں اور ہے۔ اسی طرح ان سے جب آپ ہدایت کی بات کرینگے تو ان کے کانوں میں آواز تو جائے گی لیکن سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا۔ جب ہم کسی کو سنتے ہیں تو صرف آواز کا ہمارے کانوں میں آنا کافی نہیں بلکہ ہماری توجہ بھی ساتھ رہے۔ کانوں میں آواز آئے اور جو کہا جارہا ہے اُس کو توجہ حاصل ہو تو کانوں کا کام سمجھنا نہیں ہے صرف آواز کو رسیو کرنا ہے ۔ کانوں کا کام سمجھنا نہیں ہے صرف آواز کو وصول کرنا ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہےخَتَمَ اللَّـهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ اور ان کے سماعت کے اوپر بھی اللہ نے مہر لگا دی ہے کہ آواز آتی رہے سماعت مدد نہ کرے ان کی کہ کیا کہا جارہا ہے۔ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ اور ان کی جو بصیرت ہے اُس پر بھی مہر لگا دی۔ یعنی اگر کوئی شخص لاکھوں کروڑوں پاؤنڈز آپ پر خرچ کر رہا ہے او رآپ اُس پر یہ الزام لگائیں کہ اس کی نظر میرے پیسوں پر ہے تو سارے لوگ ہنسیں گے کہ دماغ خراب ہوگیا ہے اس کا ۔ تو وہ جو کچھ کر رہا ہے اس کے لئے وہ اُسے نظر نہیں آرہا۔
تنظیم انجمن سرفروشانِ اسلام اور اہلِ خانہ کے قریبی لوگ، انہوں نے سیدنا گوہر شاہی کی بیس سالہ محنت پر پانی پھر دیا ہے ۔ مرتبۂ مہدی کو جھٹلانااُن کا قومی فریضہ بن گیا ہے لیکن آج سیدنا گوہر شاہی علیہ الصلوۃ والسلام کی نظرِ کرم کا ثمر یہ ہے کہ سرکار گوہر شاہی کے حق کو کسی نے دبایا نہیں دبانے کی کوششیں کیں لیکن دبانے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔ سرکار گوہر شاہی اور آپ کے مشن کے بیشمار دشمن ہیں لیکن وہ دشمن منہ میں انگلیاں ڈال کے پھرتے رہتے ہیں اور سرکار گوہر شاہی کا مشن مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اور کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ مہدی فاؤنڈیشن ہم نے بنائی ہے ۔ سرکار گوہر شاہی کی تحریر ہمارے پاس ثبوت کے طور پر موجود ہے جس میں آپ نے ایم ایف آئی کا ذکر فرمایا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ ایم ایف آئی ضم کی تعلیم دیتی ہے۔ سرکار گوہر شاہی کا خاندان کچھ چھوٹا خاندان نہیں ہے۔ سرکار گوہر شاہی کے بھائی بھی ہیں۔ طارق صاحب، پرویز اختر صاحب، ذوالفقار صاحب۔ یہ بھائی ہیں۔ سرکار گوہر شاہی کی بہنیں بھی ہیں۔ یہ سرکار گوہر شاہی کی بڑی کرم نوازی ہے کہ آج کی تاریخ میں جب میں یہ بات کر رہا ہوں تو سرکار گوہر شاہی کے خاندان کی جو اکثریت ہے وہ مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کا حصہ ہیں۔ کہیں کہ سرکار آپ کا بڑا کرم ہے ۔ْ سرکار گوہر شاہی کے خاندان کی اکثریت ، جیسا کہ سرکار کے جو بہنوئی ہیں ، ایک ناصر صاحب ہیں وہ سرکار کے بہنوئی ہیں ، تو اُن کی والدہ یعنی سرکار کی ہمشیرہ ، وہ ایم ایف آئی کے ساتھ ہے۔ اُن کے بیٹے عثمان یہ ایم ایف آئی کے ساتھ ہیں۔ پھر سرکار کی دوسری بہن کے شوہر جن کا نام محبوب ہے ۔ محبوب بھائی سرکار کے بڑے چاہنے والے ہیں وہ ایم ایف آئی کا حصہ ہیں۔ محبوب بھائی کے بیٹے شہزاد گوہر ، محمد ندیم ، یہ ایم ایف آئی کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہزاد کی بہن جو اشفاق کے گھر میں ہے شعیب بھائی کے گھر میں ہے وہ ایم ایف آئی کا حصہ ہے۔ اب سرکار گوہر شاہی کے خاندان میں جو دجالی اور کافرین اور منافقین اور مرتدین رہ گئے ہیں وہ بیٹے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ دُور پرے کے رشتے دار ہیں جیسا کہ شبیر ہے دور پرے کا رشتہ دار ہے ۔ قریبی نہیں کہوں گا میں اُس کو۔ یہ بیٹے ہیں: حماد ریاض، طلعت محمود، مدثر عرف حاجی، بابر شاہ، یہ بیٹے ہیں۔ اب ان بیٹوں کا اپنا کردار کیا ہے اور اللہ کی مرضی ان کے بارے میں کیا ہے وہ سمجھئے۔ اب ذرا توجہ کی ضرورت ہے۔

مشرب محمدی کا قانون اور امام مہدی کا مشرب:

آپ نے بسا اوقات مجھ سے سنا ہوگا کہ روحانیت میں مشرب ہوتے ہیں۔ جس طرح آدم صفی اللہ کو اللہ تعالیٰ نے قلب کی نبوت دی ۔ ایک ظاہری علم دیا ایک باطنی علم دیا۔ تو باطنی علم آدھا اُن کے اپنے لئے آدھا اُن کی اُمت کے ولیوں کے لئے ۔ اسی آِطرح ابراہیم علیہ السلام کو دو علم دئیے ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ آدھا اُن کے اپنے لئے اور آدھا اُن کی اُمت کے لئے ۔ اب ابراہیم علیہ الصلواۃ و السلام کے جو ولی ہونگے اُن کا مشرب ہو گا مشربِ ابراہیمی اور اُن کا جو قدم ہوگا آدم کے ولیوں کا قدم آدم کے قدم پر، ابراہیم کے ولیوں کا قدم ابراہیم علیہ السلام کے قدم پر ہوگا۔ آدم صفی اللہ کے ولیوں سے وہی کرامات سر زد ہونگی جو آدم سے ہوئی تھیں ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کے ولیوں سے وہی کرامات سرزد ہونگی جو ابراہیم علیہ السلام سے ۔ جیسا کہ ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام آگ میں کود پڑے تو ابراہیم علیہ السلام کے جو اولیا ءہیں ان سے بھی اس کرامت کا اظہار ہوا وہ بھی آگ پر پیدل چلے ۔ اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کے جو ولی ہونگے وہ اُن کے قدم پر ہونگے ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے جو اولیا ہونگے وہ اُن کے قدم پر ہونگے۔ اُن کے احوالِ زندگی بھی ویسے ہیں ہونگے جیسے عیسیٰ علیہ السلام کے تھے۔ اور جو محمد رسول اللہ ﷺ کی اُمت کے اولیا ہونگے تو اُن کا مشرب، مشربِ محمدی کہلائے گا۔ اُن کے احوال بھی حضور کے احوال کا پرتَو ہونگے۔ امام مہدی سیدنا گوہر شاہی کا مشرب محمدی ہے۔ بلکہ احادیث میں تو اتنا لکھا ہے کہ “وہ ہو بہو ہمشکلِ مصطفیٰ ، ہم سیرتِ مصطفی ہونگے “۔ امام حسنؓ کا آدھا وجود حضورؐ کے جیسا تھااور امام حسینؓ کا آدھا وجود حضورؐ کے جیسا تھا۔ وہ امام حسن جو تھے وہ اوپر سے حضوؐر کے ہم شکل تھے اور امام حسینؓ کا نچلا حصہ جو تھا جسم کا وہ حضورؐ کے جیسا تھا۔ اور امام مہدی جو ہیں وہ سر سے پاؤں تک ہمشکلِ مصطفی ﷺ ہیں۔ اور سیرت کا یہ عالم ہے کہ احادیث میں یہ آیا کہ امام مہدی کا نام بھی محمد ہوگا۔
توامام مہدی کے جو احوال ہونگے مشربِ محمدی کی وجہ سے وہ محمد ﷺرسول اللہ جیسے ہونگے۔ تو نبی پاک ﷺ کی بیٹی کو فیض ہوا ۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا کوئی بیٹا نہیں بچا۔ امام مہدی کا مشرب مشربِ محمدی ہوگا لہٰذا اُن کے حالاتِ زندگی بھی حضورؐ جیسے ہونگے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کو فیض ہوگا اور بیٹی سے آل چلی۔ آل تو بیٹوں سے چلتی ہے ناں لیکن حضورؐ کی آل تو بیٹی سے چلی ۔ بیٹی سے آل کیوں چلائی؟ کیونکہ کسی بیٹے کو اس سلسلے میں رکھنا نہیں تھا پیدا بھی ہوگئے تو اُن کا انتقال ہوگیا۔ تو اسی طریقے سے امام مہدی کا بھی فیض بیٹی کو ہوگا بیٹوں کو نہیں ہوگا۔ اور پھر ہم نے اکثر سرکار کی بارگاہ سے سنا کہ اس مشن کی خاطر ہم نے اپنے پانچ بیٹوں کی قربانی دی ہے۔ تو ہم یہ سوچتے تھے کہ بھئی پانچ بیٹے کہاں قربان ہوئے ہیں ، دل میں خیال آتا تھا۔ لیکن اب جب وہ پانچ بیٹے دجال بن کے سامنے آئے ہیں تو اب معلوم ہوتاہے کہ وہ یہی قربانی تھی۔ اللہ کی طرف سے وہ کرم نوازیاں ان کے اوپر ہیں ہی نہیں یہ اللہ کے قانون کے خلاف ہے ۔ اب یہ جو آل آل کا راگ الاپتے ہیں تو یہ بتائیں کہ حضور پاکﷺ کے کتنے بیٹے تھے آل میں شامل ۔تم توبیٹے ہو آل تو وہ ہوگی ناں جو بیٹی سے نکلے گی جس بیٹی کو تم نے اپنے گھروں سے کن پٹی پہ گن رکھ کے نکال دیا تم آل کہاں سے ہو؟ کیا حضور کے بیٹے آل میں ہیں زندہ ہی نہیں بچے۔ تو جو حضوؐر کی آل ہے وہ کون ہے؟ حضور کی آل وہ ہے جو آپ کی بیٹی سے چلی تو یہ جو دینی باریک بینیاں ہیں ان کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ چیز سامنے آتی ہے کہ آل تو وہ ہے جو نازو کی اولاد ہوگی۔ یہ وہ خنزیر ہیں جن کو صرف کیچڑ اُچھالنا آتا ہے لوگوں کی عزتیں برباد کرنا آتی ہیں۔ نہ ان کے پاس علم ہے نہ ان کے پاس عقل ہے نہ ان کے پاس سرکارگوہر شاہی کا دامن ہے، نہ ان کو سرکار گوہر شاہی کی ذات کا پاس ہے۔ یہ میں نے آپ کو روحانی اور قرآنی اور دینی مثالیں دے کے بتایا ہے کہ آل کون ہے۔ اگر ان میں ایک شخص بھی علم رکھتا ہے تو آکے بات کرلے۔ نبی کریم ﷺ کی آل کون ہے؟ فاطمہؓ کی اولاد۔ محمد رسول ﷺ کی اولاد کون ہے؟ فاطمہؓ کی اولاد۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی اولاد کہاں سے شروع ہوئی ؟ فاطمہؓ کی اولاد جو ہے وہ آلِ محمدﷺ کہلاتی ہے۔ تو سرکار گوہر شاہی کی آل بھی اگر نکالیں گے تو وہ کہاں سے نکلے گی جو نازو باجی کی اولاد ہوگی ۔ کہ اگر سرکار گوہر شاہی کی آل ہوگی بقدم آلِ محمدﷺ، کیونکہ یہ اپنے آپ کو امام حسین امام حسن سے ملاتے ہیں ناں۔تو اس لئے ذرا گفتگو کرتے ہیں۔

عظمت آل گوھر شاہی ہونے میں نہیں بلکہ نسبت گوھر شاہی میں مضمر ہے:

“امام مہدی کی آل مشربِ محمدی کے تحت بقدمِ مصطفی ہوگی تو پھر کیا ہوگا وہ آل آئے گی بیٹی سے، حضور کی کتنی بیٹیاں ہیں ۔ کبھی آپ نے سنا کہ جو عثمانِ غنیؓ کے نکاح میں جو دو بیٹیاں آئیں اُن کا آل میں کسی نے ذکر کیا ہو، اُن کو ذوالنورین کہا جا تا ہے۔ تو مشربِ محمدی کے تحت امام مہدی کی جو اولاد ہونی چاہئے ۔ یہ لفظ غور کریں کہ جو ہونی چاہئے کیسی ہونی چاہئے تکنیکی اعتبار سے ، کہ سرکار گوہر شاہی کی جو لختِ جگر ہیں فرح ناز باجی اُن کی اولاد آلِ گوہر شاہی بنتی ہے ۔ لیکن حقیقت کیا ہے؟ باطن میں کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ لہٰذا نازو باجی کی آل بھی آلِ گوہر شاہی نہیں ہوگی”

سرکار گوھر شاہی نے اپنی کتاب مقدس دینِ الٰہی میں فرمایاکہ دو قسم کی ارواح ہوتی ہیں ایک سماوی روح اور ایک ارضی روح۔ ارضی روح کا کام جسم کو بنانا ہے۔ جب کوئی بندہ مرجاتا ہے تو اُس کی ارضی ارواح نکال کے رکھ لیتے ہیں فرشتے ، پھر کوئی نیا بچہ پیدا ہوتو اس میں وہی ڈال دیتے ہیں۔ تو یہ ارضی ارواح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ پاکیزہ لوگوں کی پاکیزہ ارواح ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ حضور پاکﷺ کی ارضی ارواح کو امام مہدی کے لئے روکا گیا تھا۔ اور جو اہلِ بیت کی ارضی ارواح ہیں وہ ارضی ارواح جس بھی جسم میں ڈالی جائیں گی وہ آل میں شامل ہونگے۔ میرا یہ عقیدہ بن گیا تھا ابتدائی دنوں میں کہ سرکار کے وجودِ مبارک میں حضور ﷺ کی ارضی ارواح ہیں تو لا محالہ فی سبیلِ منطق یعنی ہم نے یہ اخذ کیا کہ نازو باجی کے اندر پھر بی بی فاطمہؓ کی ارضی ارواح ہونگی اور گفتگو کے دوران ایک دن سرکار کی بارگاہ میں بیٹھا تھا تو میں نے اس بات کا ذکر کیا تو سرکار نے انکار کردیا۔ سرکار نے فرمایا نہیں ، نازو میں بی بی فاطمہؓ کی ارضی ارواح نہیں ہیں تو میں نے پوچھا پھر سرکار کس میں ہیں؟ تو فرمایا کہ انڈیا میں ایک لڑکی ہے اُسکی حجرِ اسود میں تصویر بھی ہے اُس لڑکی کے اندر بی بی فاطمہؓ کی ارضی ارواح ہیں۔اب بات جو سچی ہوتی ہے وہ تھوڑی سی ترش لگتی ہے۔ لیکن اللہ کا سسٹم کچھ ایسا ہے ، جیسا اُس نے سسٹم بنایا ہے اُ س کے تحت چلیں گے ناں۔ تو آپ اپنے ذہن میں ان حقائق کو رکھیں۔ اب بی بی فاطمہؓ کی ارضی ارواح نازو باجی کے جسم میں نہیں ہیں تو کیا اس سے یہ سمجھ لیں اُن کا کوئی مقام اور مرتبہ نہیں ہے ۔ یہ ارضی ارواح ہوں یا نہ ہوں اس سے آپ کی روحانیت اور مرتبے پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ فرض کیا کہ غوث پاکؓ جو ہیں بھئی غوث پاکؓ کی ارضی ارواح اگر کسی کے اندر آگئیں تو غوث پاکؓ کی ارضی ارواح ہونے کی وجہ سے کیا اُس کو کوئی روحانی رعایت ملے گی یا نورانیت ملے گی؟ نہیں۔ ایک آدمی ہے جس کی دو بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں اُس کے جسم میں عبدالقادر جیلانیؒ کی ارضی ارواح ڈالیں لیکن اُس کو اُن سے کوئی فیض ہی نہیں تھا کیونکہ جب وہ ارضی ارواح اُس کے جسم سے نکل گئیں جب وہ ارضی أرواح غوثِ اعظم کے جسم سے نکل گئیں تو غوثِ اعظم کے مرشد، غوثِ اعظم کی روحانیت ، غوثِ اعظم کے مرتبے سے اُن کا تعلق ٹوٹ گیا۔ سمجھ گئے۔ یعنی پچھلے جنم میں جو مرشد تھا اُس سے تعلق اگلے جنم میں نہیں ہوگا ظاہر میں نیا مرشد پکڑنا پڑے گا ۔ یہ دینِ الٰہی میں لکھا ہے میں تو نہیں کہہ رہا اپنی طرف سے۔ مرتبے کا تعلق ارضی ارواح سے نہیں ہوتا اگر مرتبے کا تعلق ارضی ارواح سے ہوتا تو امام مہدی کے جسم میں کبھی بھی حضور پاکﷺ کی ارواح نہ آتیں کیونکہ وہ نبی ہیں اور امام مہدی نبی نہیں ہیں۔ تو جب مرتبے سے تعلق ہے نہیں تو بی بی فاطمہؓ کی ارضی ارواح آ بھی جاتیں باجی نازو کے جسم میں تو کیا فرق پڑتا ۔ اگر اُن کی عظمت ہوگی تو نسبتِ گوہر شاہی سے ہوگی۔ سرکار گوہر شاہی کے وجودِ مبارک میں جو حضور پاک ﷺ کی ارضی ارواح آئیں تو اُس سے سرکار کی عظمت میں تو کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ اُن ارضی ارواح کی قسمت بدل گئی کہ اُن کو پناہ سیدنا گوہر شاہی نے عطا فرمائی۔ جس کو سرکار گوہر شاہی سے جیسا فیض ہوگا اُس کا مقام ویسا ہوگا بھلے وہ کسی کی بھی آل میں سے ہو۔ایک دن سرکارگوھر شاہی ناشتہ فرما رہے تھے انگلینڈ میں ، تو ناشتے کے دوران گفتگو ہوئی کہ سرکار آپ نے بڑا کرم فرمایا ہم لوگ اتنے گناہگار تھے ہمیں ذکر دے دیا ہم ذاکر بن گئے ورنہ کہاں ہم ذاکر بن سکتے تھے تو سرکار نے فرمایا کہ یہ ہمارا علم ایسا ہے کہ اگر یہ علم ایک ایسے شخص کو مل جائے کہ جس کو اُس کی ماں نے بغیر نکاح کے جناتھا اگر یہ علم اُس کو مل جائے تو اُس سے زیادہ کوئی پاک نہیں ہوگا۔تو فرق کیا ہوا ؟ تعلیم گوہر شاہی کا، فرق کیا ہوا، نسبتِ گوہر شاہی کا، فرق ہوا نظرِ گوہر شاہی کا۔

“تمہاری عظمت اس میں نہیں ہے کہ تمہارے جسم میں مولا علیؓ کی ارضی ارواح ہیں یا بی بی فاطمہؓ کی ۔ تمہاری عظمت اس میں نہیں ہے کہ تمہارے جسم میں امام حسینؓ کی ارضی ارواح ہیں یا امام حسنؓ کی ۔ تمہاری عظمت اس میں نہیں ہے کہ تمہارے جسم میں غوثِ اعظم کی ارضی ارواح ہیں یا نہیں۔تمہاری عظمت کا نشان گوہر شاہی کی نسبت میں ہے۔ تمہاری عظمت کا نشان سیدنا گوہر شاہی کی غلامی میں ہے۔ تمہاری عظمت سیدنا گوہر شاہی کے جوتوں میں چھپی ہے۔ تمہاری عظمت سیدنا گوہر شاہی سے وفا میں چھپی ہے۔ اور جو لوگ جانتے نہیں حقیقت بس وہ بلند و بانگ دعوے کرتے رہتے ہیں نہ اُن کا دین سے تعلق ہوتا ہے نہ اُن کا سرکار گوہر شاہی کی ذات سے کچھ تعلق ہوتا ہے “

اب جن کے پاس ذرا بھی علم ہے تو صرف اسی ایک نکتے پر غور کرلیں کہ حضورؐ کی جو آل ہے وہ بیٹی سے نکلی ہے۔یا تو آپ یہ کہیں ، طلعت شاہ، بابر شاہ، حماد شاہ، جتنے بھی شاہ ہیں یا تو یہ کہیں ان کی ماں کا نام کیا ہے؟ کیا ان کی ماں کا نام امینہ بیگم ہے یا نازو باجی ہے کیونکہ آل اگر نکلتی تو نازو باجی سے نکلنی ہے ناں تو آل کس کو کہیں گے؟ بی بی فاطمہؓ کی نسل کو آل کہا گیا یا حضوؐر کی؟ تو وہ جو حضرت عثمان کے گھر دو بیٹیاں تھیں جن کی وجہ سے اُن کو ذوالنورین کہا جاتا ہے ۔ یہ لقب اسی لئے پڑا کہ اُن کے گھر میں یکے بعد دیگرے ، ایک کے بعد دوسری، ایک ہی وقت میں نہیں ۔ یکے بعد دیگرے ایک کا انتقال ہوگیا تو دوسری بیٹی بھی دے دی۔ تو حضور کی دو بیٹیاں عثمانِ غنیؓ کے گھر میں تھیں اُن کے عقد میں تھیں اس کی وجہ سے اُن کا لقب ذوالنورین پڑ گیا۔ وہ آل میں شامل کیوں نہیں کرتے۔ حضوؐر کی بیٹی آل میں شامل نہیں۔ کیوں نہیں؟ کیونکہ حضوؐر کی بیٹیوں کی ماں فاطمہؓ نہیں تھیں۔ آل فاطمہؓ سے نکلی ہے۔ اور بی بی فاطمہ کاجو امتیاز ہے وہ یہ ہے کہ جو بی بی فاطمہ سے پیدا ہوگی آل وہی آلِ محمدؐ کہلائے گی اس آل میں مولا علی کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ صرف وہی آلِ محمد کہلائی جو بی بی فاطمہ کے بطن سے پیدا ہوئی۔ مولا علیؓ نے اور بھی شادیاں کی تھیں جو دوسری شادیاں کیں اور جو وہاں سے اولاد ہوئی وہ علوی کہلاتی ہے آلِ محمدؐ نہیں کہلاتی۔ اگر مولاعلی کی وجہ سے آل ہوتی تو جو دوسری شادیاں تھیں وہ بھی آل میں شامل ہوتیں۔ تو معلوم یہ ہوا کہ یہاں پر جو آل ہے نا بیٹوں سے چلی نہ شوہر سے چلی ۔ نہ بیٹوں سے اور نہ شوہر کے نطفے سے۔ یہ پھر کون سا نطفہ تھا جس سے آلِ محمد چلی ؟ یہ طفلِ نوری کا نوری نطفہ تھا جس سے آلِ محمد چلی۔ یہ حقائق جو میں بیان کرتا ہوں یہ حقائق ایسے ہیں کہ جو خود ساختہ حلالی بنے ہیں اُن کو حرامی قرار دے دیتے ہیں ۔ یہ حقائق ایسے ہیں کہ جو خود ساختہ آل بنے ہوئے ہیں اُن کو یہ حقائق حرامی قرار دے دیتے ہیں ۔مشربِ محمدی کی وجہ سے حضورؐ کی بیٹی کو فیض ہوا۔ اسی طرح امام مہدی کی بیٹی کو بھی فیض ہوگا اور بیٹوں کو نہیں ہوگا وہ آل میں شامل نہیں ہیں۔ تو میں نے آپ کے سامنے مشربِ محمدی کا ایک قانون رکھا ہے۔

صالح آل ہونے کے لئے منور قلب ضروری ہے:

پھر آجائیے سورۃ ھود، نوح علیہ السلام کا مکالمہ ، نوح علیہ السلام نے جب اُن کی قوم نافرمان ہوگئی توا للہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میں اب تمہاری قوم پر عذاب نازل کرونگا۔ لہٰذا جو تم کو مانتے ہیں تم اُن کو جمع کرلو ۔ ایک کشتی بنا لو اُس کشتی میں بیٹھ کے تم نکل جاؤ اور باقی کا جو ہے ہم سنبھال لیں گے۔ نوح علیہ السلام کی جو بیوی تھی وہ کافرہ تھی وہ اُن کو نبی نہیں مانتی تھی اور نوح علیہ السلام کا جو بیٹا تھا وہ بھی اُن کو نبی نہیں مانتا تھا۔ جو اُن کو ماننے والے تھے کشتی میں سب بیٹھ گئے اورکشتی رواں دواں ہونے کے لئے تیار تھی۔ بیٹا اور بیوی بیٹھے نہیں۔ بیٹے کو ڈوبتے ہوئے دیکھا نوح علیہ السلام نے بیٹے کو ڈوبتے ہوئے دیکھا تو دعا نہیں کی بلکہ یہ لفظ دیکھیں آپ جو قرآنِ مجید نے لفظ استعمال کئے ہیں۔

وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ۖ فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ
سورة ھود آیت نمبر 45 تا 46

وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ تو نوح نے پکار کرکے اپنے رب کو پکارا، دعا نہیں کی۔ اے رب! پکارتااُس وقت ہے آدمی جب پریشانی کا عالم ہو، اُمیدیں ختم ہورہی ہوں تب وہ پکارتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ دعا کی ۔ پکارا۔ نَادَىٰ پکارا نُوحٌ رَّبَّهُ تو اُس نے اپنے رب کو چیخ کرکے کہا فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي تو اُس نے کہا کہ اے رب میرا بیٹا میری آل میں سے ہے اُس کو بچا لے۔ تو اس کے بعد جو ہے اللہ تعالیٰ نے کیا کہا کہ قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تیرا بیٹا صالح نہیں گمراہ ہے۔ یہ تو عام ترجمہ ہے۔ اب اس کا خاص ترجمہ کیا ہے کہ جو تیرا بیٹا ہے یہ تو تھا کافر لہٰذا بات سمجھنا آسان ہوگئی۔ کافر مانا ہی نہیں، اقرار ہی نہیں کیا تو بات سمجھنا آسان ہوگئی کہ وہ صالح نہیں ہے ۔ لیکن اگر ایسی بات ہوتی تو یہاں گمراہ کہا جاتا ۔ اللہ نے یہاں جو صالح لفظ استعمال فرمایا ہے، اگر اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ آپ کے سینے میں بھی قرآنِ مکنون ہو ، لوحِ محفوظ تک رسائی ہو تو پھر آپ کو اس کے معنیٰ کیا پتہ چلیں گے ؟ کہ اگر وہ بندہ ظاہر میں نوح علیہ السلام کو مانتا بھی ہوتا اُن کو نبی بھی مانتا عبادات بھی کرتا اور پھر بھی یہ جملہ کہا جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ تیرا بیٹا تیری آل میں سے نہیں ہے کیونکہ اُس کا سینہ منور نہیں ہے۔ صالح اُس کو کہتے ہیں جس کے قلب کی اصلاح ہوگئی ہے۔

ان فی جسد بنی آدم مضغتہ اذا صلحت صلح الجسد کلہ الا وھی القلب
بحوالہ مشکوة شریف
ترجمہ : اے بنی آدم تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر اسکی اصلاح ہو جائے تو پورے وجودکی اصلاح ہو جائے ،یاد رکھ وہ تیرا قلب ہے۔

تو قلب کی اصلاح کا پیغام حضور پاک ﷺ نے دیا ہے۔ جن کے قلب کی اصلاح ہوگئی جن کی قلب منور ہوگئے وہ صالح ہیں۔ زبان سے اقرار کرنے والا بھی ہوتا وہ نوح کا بیٹا اور اُس کے سینے میں اگر نور نہ ہوتا تب بھی وہ آل نہ ہوتا۔ تو آل ہونے کے لئے شرط کیا ہے؟ کہ سینے کا فیض جاری ہو۔ سینہ منور ہو قلب میں نور ہو۔ اگر زبانی جمع خرچ ہی رہتا کہ جی ہاں ہم بھی امام مہدی مانتے ہیں ۔ یہ وہ نسل ہے اگر یہ کہہ بھی دے ہم امام مہدی مانتے ہیں تب بھی یہ گوہر شاہی کی آل نہیں ہوسکتے کیونکہ یہ غیر صالح ہیں۔ صالح وہ ہے جس کے قلب کی اصلاح ہوگئی ہے۔ اور جس کے قلب کی اصلاح ہوگئی ہے وہ بہتان نہیں لگاتا ہے کہ میرے باپ کو زہر دیا ہے اس نے، جو صالح ہوجائے وہ بہتان نہیں باندھتا۔ کیا صالحین کا شیوہ بہتان باندھنا ہے!جو صالح ہوجاتا ہے اُس کے لئے حدیث ہےکہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ
جامع ترمذی ، جلد دوم ، حدیث 1071
ترجمہ : مومن کی فراست سے ڈرو کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔

کہاں گئی مومن کی فراست جو سرکار گوہر شاہی کے ایک چاہنے والے پر اتنے بڑے بڑے بہتان باندھے ۔ کہاں گئی قلب کی بصیرت ،کہاں گیا نظروں کا نور ، کیوں نہیں دیکھ سکیں پردے کے پیچھے کیا ہے؟ ورنہ ہم سے پوچھو ہم بتاتے ہیں۔ آنکھوں میں نور تب آئے گا جب قلب نورانی ہوگا۔ یاد کیجئے نبی پاکﷺ نے کیا فرمایاکہ تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے کہ اگر اُس کی اصلاح ہوجائے تو اُس کی اصلاح سے نور پورے جسم میں پھیل جائے گا ہاتھوں میں ،کانوں میں، آنکھوں میں زبان پر۔ کبھی حق کو نہیں جھٹلائے گا وہ جس کی رگوں میں نورِ الٰہی دوڑتا ہو، کبھی نہیں جھٹلائے سیدنا گوہر شاہی کے مراتب کو جس کے وجود میں نظرِ گوہر شاہی دوڑ رہی ہو۔تو اللہ تعالیٰ نے کہا اے نوح! تیرا بیٹا تیری آل سے نہیں ہے کیونکہ وہ غیر صالح ہے اُس کے قلب کی اصلاح نہیں ہوئی ہے۔ آل میں وہ ہوگا جس کے قلب کی اصلاح ہوگی یہ قرآن کا فیصلہ ہے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 13 جون 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں مشرب محمدی کے قانون کے مطابق آل گوھر شاہی کی حقیقت کے موضوع پر کئی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں