کیٹیگری: مضامین

لطیفہ نفس انسان کے جسم میں شیطان کا جاسوس ہے اور قوم جنات سے اسکا تعلق ہے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ہمارے جسم میں کیوں ڈالا گیا ہے ۔ آدم صفی اللہ کو عالم ملکوت میں واقع جنت میں بنایا گیا جسکی وجہ سے انکی فطرت ملکوتی ہو گئی لیکن جب آدم صفی اللہ کو یہاں عالم ناسوت میں بھیجا گیا تو یہاں کی چیزیں اُنکو پسند نہیں آتی اور اُنسیت پیدا نہیں ہوتی لہذا اس دُنیا میں انسان کا دل لگانے کیلئے اللہ تعالی نے لطیفہ نفس رکھا ہے ۔لطیفہ نفس انسان کو دنیا کی طرف راغب کرتا ہے کیونکہ عالم ناسوت اسکا جہان ہے اور انسان یہاں عارضی طور پر ہے ۔ لطیفہ نفس کی ہی وجہ سے انسان کا دل یہاں دنیا میں لگا ہوا ہے ۔ انسان جب اس نفس کو پاک کر لیتا ہے تو اس دنیا کا مزا ختم ہوجاتا ہے اور پھر انسان کی تڑپ اللہ کیلئے ہو جاتی ہے ۔لطیفہ نفس انسان میں بطورِ امتحان لگایا گیا ہے ۔ نفس کی متضاد مخلوق لطیفہ قلب بھی انسان کے اندر رکھا گیا ہے جسکا تعلق عالم ملکوت سے ہے، اگر عالم ملکوت کی تڑپ کو بیدار کرنا ہے تو اس کی مخلوق لطیفہ قلب کو بیدار کرنا ہو گاجسکی وجہ سے ملکوتی اثرات اُسمیں ظاہر ہوں گےاور وہ آپ کو ملکوت کے مزے کی طرف راغب کرے گا۔جو ناسوت سے تعلق رکھنے والی مخلوق لطیفہ نفس ہے وہ آزاد ہے اور اسکی غذا ہر وقت اسے مل رہی ہے۔ لہذا و ہ طاقتور ہے اور اس نے انسان کو دنیا کیطرف لگایا ہوا ہے اور جو ملکوتی مخلوق لطیفہ قلب آپکےاندر ہے وہ خوابیدہ ہے ۔ جب سوئی ہوئی مخلوق لطیفہ قلب کو اللہ اللہ میں لگائیں گے اور اسمیں اللہ کا نور داخل ہو گا تو پھر وہ بیدار ہو جائے گی اور وہ تقاضہ کرے گی کہ مجھے ملکوتی مزا چاہیے۔

طہارت نفس کیسے حاصل ہو ؟

نفس کو پاک کرنے کے طریقے صرف روحانیت میں ہیں ، رسومات پر مبنی جو ظاہری خشک عبادات ہیں ان سے نفس پاک نہیں ہوتا ہے ۔ نفس کی غذا نار ہے لہذا “نار” کی خوراک روک کر اسے نور کی غذا پر لگانا پڑتا ہے ۔ لیکن اس کام کیلئے نفس شکن کی ضرورت ہوتی ہے ، ہر دور میں کوئی نہ کوئی نفس شکن ہوتاہے اسے ڈھونڈیں اگر نہ ملے تو پھر ہمارے پاس آ جانا ۔نفس کی طہارت کے حوالے سے چند نکات ہم بتا دیتے ہیں ۔
۱۔ یہ جو ہماری الرٰ ٹی وی پر روزانہ محفل ہوتی ہے اگر اس میں شامل ہوں تو اس سے بھی طہارت نفس آنا شروع ہو جائے گی ۔ یہ محفل سننا بالکل ایسے ہی ہے جیسے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ عام لوگوں کا نفس امارہ ہوتا ہے اگر کثرت و شدت کے ساتھ ظاہری عبادات کی جائیں تو اس کی شکل امارہ سے تبدیل ہو کر “نفس لوامہ” ہو جاتا ہے ۔
۲۔ اسکے بعد کا مرحلہ نور کے بغیر طے نہیں ہوتا ہے ۔نفس لوامہ سے آگے کے مرحلے پر جانے کیلئے دو طرح کا نور چاہیے جس میں ایک تو یہ ہے کہ نفس خودکلمہ پڑھ لے اور کلمے سے جو نور بنے وہ اسکی غذا بن جائے اسکے بعد مرشد اُسکو اپنی نظروں سے نور پلائےپھر وہ طہارت کی طرف بڑھتا ہے ۔

نفس کو کیسے قتل کیا جاتا ہے ؟

قرآن مجید میں نفس کے قتل کے حوالے سے لکھا ہے کہ

فَاقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ
سورة البقرة آیت نمبر 54
ترجمہ : اپنے نفس کو قتل کرو۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہ لفظ “قتل ” اردو اور ہندی دونوں میں استعمال ہوتا ہے اور ہم اسکا ایک ہی مطلب سمجھتے ہیں کہ کسی کو ماردو۔ قتل سے ہی لفظ قتلہ نکلا ہے جس کے معنی ہیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ۔جیسے اگر کسی انسان کو مار دیا جائے اور اسکے جسم کے اعضاء کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر دئیے جائیں تو یہ قتل کہلاتا ہے ۔ لطیفہ نفس کے اندر چار جن بند ہیں جن کی قوت ملکر ایک نفس بنا ہے اور نار سے اُسے جوڑا ہوا ہے جب اسمیں نور جائے گا تو اسکے ٹکڑے ہونا شروع ہو جائیں گےپہلے نفس امارہ نکلے گا، پھر نفس لوامہ ، پھر الہامہ اور آخر میں نفس مطمئنہ ہو جائے گا۔ یہاں اس آیت میں قتل سے مراد تزکیہ نفس ہے ۔

سیدی یونس الگوھر کی جانب سے طہارت نفس کیلئے نسخہ کیمیا:

اگر کوئی گھر بیٹھے طہارت نفس حاصل کرنا چاہے تو اس کیلئے یہ نسخہ کیمیا ہے کہ باوضو ہو کر جائے نماز پر بیٹھ جائے اور سرکار سیدنا گوھر شاہی کے چہرہ مبارک کا تصور کرے جو اوپر موجود ہے ۔اور نفس کے اوپر “مہدی برحق گوھر شاہی” کی ضربیں لگائے۔اس سے نہ صرف نفس پاک ہو جائے گا بلکہ نفس سرکار گوھر شاہی کی غلامی میں آ جائے گا۔آزمائش شرط ہے ۔اسکے علاوہ اگر کسی کو کسی اور لطیفے کو بیدار کرنا ہے تو اس کیلئے بھی یہی فارمولا ہے کہ چہرہ گوھر شاہی کا تصور کریں اور مہدی برحق گوھر شاہی کی اُس لطیفے پر ضرب لگائیں ، ہو سکتا ہے پندرہ یا بیس منٹ ہی کریں تو وہ لطیفہ بیدار ہو جائے ۔

کائنات میں عرش الہی سے جو تجلی گرتی ہے اس میں اتنا نور نہیں ہو گا جتنا سرکار سیدنا گوھر شاہی کے چہرہ اقدس کے تصور سے نور ملتا ہے

آنکھیں تیرے حسین تصور میں بند ہیں
دنیا سمجھ رہی ہے کہ نیند آ گئی مجھے

جسطرح رب کے اسم کا اذن ہوتا ہے اُسی طرح رب کے اسم کے تصورکا بھی اذن ہوتا ہے ۔ یہ ذکر اور تصور ہماری مرضی سے نہیں ہوتا ہے ، یہ وہبی (رب کی عطا) ہےاور جو تصور اسمِ ذات کا انسان کی اپنی کوششوں سے ہوتا ہے وہ ناپائیدار ہوتا ہے اور جو تصور رب کی طرف سے عطا ہوتا ہے اس کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے ۔ جب ہم سرکار گوھر شاہی کے چہرہ مقدسہ کا ذکر کریں اور چہرہ انور کے تصورکا ذکر ہو تو اس کا لطف ہی کچھ اور ہے ۔ آپ تصور کریں اسکے بعد پھر مالک کی مرضی ہے جس کو چاہیں گے اپنے رُخ انور کا تصور عطا فرما دیں گےلیکن وہ تصور بھی جو عطا ہو گا وہ نقاب اور حجاب میں رہے گا۔جب تمھیں ضرورت ہو گی تب وہ سامنے عریاں ہوگا ، جتنی سینے میں طاقت ہو گی تب تک کیلئے عریاں ہو گاپھر دوبارہ وہ مجتہب ہو جائے گا۔جتنی سینے کو سیرابی کی ضروت ہے وہ کر کے پھر وہ متحجب (کسی نے خود حجاب ڈالا ہوا ہو ) ہو جائے گا۔جتنا ذکر بڑھے گا اُتنا تصور عریاں ہوتا رہے گااور ایک وقت یہ آئے گاکہ آپ کا تصور اور سینہ ایک ہو جائے گا۔پھر تصور کی جگہ جثہ گوھر شاہی لے لے گا۔پہلے پہل جثہ گوھر شاہی سینے کا ایک پھیرا لگا کر جائے گاجب تک ظرف پیدا نہ ہو جائےپھر جب ظرف بڑھ جائے گاتو جثہ گوھر شاہی دن میں دو چکر لگائے گااور پھر آہستہ آہستہ اس میں شدت آ جائے گی۔جب جثہ مبارک سینے سے نکل کر باہر جائے گاتو اندر کی روحیں اس کے قدم پکڑ لیں گی اور جب یہ کیفیت ہو گی تو پھر جثہ مبارک کا مستقل قیام ہو جائے گا۔پھر شدت میں اور اضافہ ہو گا تو ایک اور جلوہ ہائے مبارک آ جائے گا۔ اسطرح تین جثے قلب کے سینے میں سما سکتے ہیں ۔لیکن سرکار سیدنا گوھر شاہی کا ایک جثہ ایک سیکنڈ کیلئے گزر جائے تو وہ نظر رحمت جو تین سو ساٹھ مرتبہ ولی پر پڑتی ہے ، وہ نظر رحمت اگر چالیس سال تک پڑتی رہے تو اس سے زیادہ نور جثہ گوھر شاہی کے گزرنے سے مل جائے گا۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 7 جون 2019 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کیے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں