کیٹیگری: مضامین

عمومی اور خصوصی فیض والے لوگ :

سرکار گوھر شاہی کو جاننے والوں میں دو گروہ ہیں ایک عمومی فیض والے اور ایک خصوصی فیض والے۔بہت سارے لوگ سیدنا گوھر شاہی کے بارے میں جانتے ہیں اور بہت سارے لوگ سیدنا گوھر شاہی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ان جاننے والوں کے بھی دو گروہ ہیں ایک وہ جن کوسرکار گوھر شاہی سے فیض ہوا ہے اور دوسرا گروہ وہ ہےجنھوں نے مولویوں اور اخبارت سے منفی پروپگینڈا سنا ہے توانکا جاننا ایک افواہ پر مبنی ہے ۔ سنی سنائی بات کو سچ ماننا گناہ ہے۔جو لوگ سرکار گوھر شاہی سے ملے نہیں نہ سرکار گوھر شاہی سے گفتگو کی نہ ہی سرکار گوھر شاہی کی تعلیمات کو سنا بس جو کچھ مولویوں اور اخبارات سے سنا انہوں نے اس کوحق سمجھ لیا ، فی نفسہی یہ بہت بڑا گناہ ہے ، سنی سنائی بات کو سچ سمجھ لینا نقصان کا باعث بھی ہے اور بدگمانیاں بھی پیدا کرتا ہے اور انسان کوحقیقت سے دور بھی رکھتا ہے ۔
دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جو سرکار گوھر شاہی کو فیض حاصل کرنے کے بعد جانتا ہے ۔ اب فیض حاصل کرنے والوں میں دو گروہ ہے ۔ ایک وہ جنھوں نے عمومی اور ایک وہ جنھوں نے خصوصی فیض حاصل کیا ہے جوعمومی فیض والے ہیں وہ اسی کی روشنی میں سیدنا گوھر شاہی کوجانتے ہیں جتنا فیض انہیں ملا ہے ۔جو خصوصی فیض والے ہیں وہ سرکار گوھر شاہی کو اسقدر جانتے ہیں جسقدر فیض انہیں ملا ہے۔

عوام الناس میں سیدنا گوھر شاہی کا تعارف:

سرکار گوھر شاہی کا تعارف اور تعلیم لوگوں کے توسط سے آگے بڑھا مختلف لوگ مختلف انداز میں سیدنا گوھر شاہی کا تعارف اور تعلیمات لوگوں کو بتاتے آئے ہیں اور سامنے والے نے کیا سمجھا اسکا دارومدار بتانے والی کی تعلیم سمجھ اور اسکو ملنے والے فیض پر ہے ۔ حق بیان کرنا بھی ایک وصف ہے۔لوگوں کو حق بیان کرنے کا طریقہ نہیں آتا کبھی کبھی ہم حق بات کہنے کے لئے باطل طریقہ اختیار کر لیتے ہیں جس سے حق مشتہر ہونے کے بجائے مخفی ہو جاتا ہے اور لوگ متنفر ہو جاتے ہیں ۔ سیدنا گوھر شاہی کی ذات کے حوالے سے یو ٹیوب ،لائیو اسٹریم ،فیس بک لائیو پر کوئی کامل گفتگو نہیں ہوئی اور جو گفتگو اب تک ہوئی وہ نجی سطح پر ہم اپنے ہی لوگوں سے کرتے رہے ہیں ۔عوام الناس تک صحیح تعارف نہیں پہنچا ہے ۔

صحیح تعارف نہ پہنچنے کی وجوہات :

عوام الناس تک سیدنا گوھر شاہی کا صحیح تعارف پہنچانےکی ایک صورت تو یہ ہے کہ لوگوں سے براہ راست تعلق ہو اور وہ کسی ایسی جگہ جمع ہوں جہاں عام لوگوں سے رابطہ ہو ،گفت و شنید ہو بحث ہو اور اس کے لئے کسی پلیٹ فارم کی ضرورت ہوتی ہے جیسا کہ مسجد ہے مسجد میں لوگ نماز پڑھنے جاتے ہیں اور مولویوں کوبغیر کسی محنت کے اپنی بات کرنے کےلئے لوگ میسر آجاتے ہیں یہ انکے لیے پلیٹ فارم ہے لیکن ہمارے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں۔ سیدنا گوھر شاہی کے خلاف منفی پروپگینڈا کئے جانے کی وجہ سے اکثر ناعاقبت اندیش ، غیرشرعی ،غیر مقلد پیر فقیر ہمارے بارے میں لوگوں کو غلط سلط بتاتے رہے جس کی وجہ سے ہمارے اور لوگوں کے درمیان رابطے کا فقدان پیدا ہو گیا اور اس وجہ سے سرکار گوھر شاہی کا صحیح تعارف، صحیح تعلیم لوگوں تک نہیں جا سکی اور جب سیدنا گوھر شاہی کا صحیح تعارف پیش کیا جانے لگا تو وہ لوگ جنہیں عمومی فیض ہوا تھا وہ خصوصی فیض والوں کے سامنے آ کر اکڑ کر کھڑے ہو گئے کہ جو تم بیان کر رہے ہو یہ تو سیدنا گوھر شاہی کی تعلیم ہی نہیں ہے ۔ لہذا ایک کشمکش کا دور رہا اور پھر 27 نومبر 2001 کو جب سیدنا گوھر شاہی نے عارضی روپوشی یا غیبت اختیار فرما لی اس کے بعد لوگ منتشر ہوگئے اور اس انتشار کے باعث ہمارا مشن دوبارہ اُسی مقام پر آ گیا جہاں سے بیس سال پہلے چلے تھے ۔

دیدار الہی کے بعد عقل اللہ کی طرف کھنچتی ہے:

انسان اس وقت تک ناقابل اعتبار ہے جب تک اس کا قلب اور عقل سلیم نہ ہو جائے ۔ لوگ عقل سلیم کا لفظ استعمال تو کرتے ہیں لیکن بس اسی طرح جسطرح قل ھو اللہ ھو احد اللہ الصمد کا معنی سمجھتے ہیں ۔ انسان کوعقل سلیم اس وقت میسر ہوتی ہے جب سر میں واقع لطیفہ انا منورہوجاتاہے اگر آپ کے سوچنے والی مخلوق میں صرف نار ہی ہے تو وہ عقل آپ کو دنیا کے فائدے کا سبق ہی پڑھائے گی کاروبار کی اہمیت جتائے گی اور جب وہ عقل نور سے منور ہو جاتی ہے اور جب اسکے چاروں طرف نور ہی نور ہوتا ہےتو پھر وہ عقل بدل جاتی ہے پھر وہ عقل عشق کے تابع ہو جاتی ہے ۔علامہ اقبال نے ایک بات سمجھانے کی کوشش کی لیکن لوگ سمجھ نہ سکے۔
بہتر ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل ۔۔۔۔لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے۔۔۔نظارے کی ہوس ہے تو لیلی بھی چھوڑ دے
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔او بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

جن کی عقل اللہ کے نور سے منورجاتی ہے پھر انکی عقل انہیں نور والوں کی طرف کھنچتی ہے ۔ جو جس کام میں طاق ہوتا ہے وہ سب کو اسی کام کے فوائد اور مشورے دینے لگتا ہے اسی طرح جب لطیفہ انا میں نور آ جاتا ہے اور عقل نورانی ہونے کی وجہ سے پھر اسکو صرف نور ہی سمجھ آتا ہے اب عقل اسی کام کی طرف راغب کرتی ہے جس کام سے نور ملے۔اب اگر لوگ اللہ کو جاننا چاہتے ہیں تو سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کا فرمان ہوا کہ جب کسی کو لطیفہ انا کے ذریعےاللہ کا دیدار ہو جاتا ہے تو لطیفہ انا میں اللہ کانقش آ جاتا ہے پھرعقل انسان کو اللہ کی طرف کھینچتی ہے پھر اسکی سمجھ میں نماز اور روزہ نہیں آتا ، نہ قرآن سمجھ آتا ہے۔جیسے بلھے شاہ نے کہا
اساں عشق نماز جدوں نیتی ہے ۔۔۔۔ سانوں بھل گئے مندر مسیتی اے
وہ کیسے بھول گئے؟ وہ عقل کی بات کر رہے ہیں ، بات یہ نہیں ہے کہ بھول گئے ، ہے نظروں کے سامنے لیکن دل اس جانب مائل نہیں ہوتا ، یعنی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔

قرآن کی مدد سےاللہ کو نہیں جانا جا سکتا:

جو اللہ کو جاننا چاہتے ہیں تو مولویوں کے لیکچرسن کر یہ نہیں ہوگا اور ولیوں کی گفتگو سے فیض تو ہوگا نور تو ملے گا لیکن اللہ سمجھ میں تب بھی نہیں آئیگا ، اللہ کو سمجھنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپکو دیدار الہی حاصل ہوجائے کیونکہ لطیفہ انا کا کام عقل کو کنٹرول کر نا ہے جب وہ لطیفہ انا اللہ کے روبرو ہو جائے گا تواللہ کے حسن سے تر ہو جائیگا اور پھر کسی اور چیز کے لئے جگہ نہیں بچے گی۔ اسی طرح جب انسان کا جب لطیفہ انا اللہ کے روبرو ہو جاتا ہے توپھر وہ اللہ کو سمجھنے لگتا ہےاللہ کا مزاج اس کو سمجھ آنے لگتا ہے ۔
قرآن مجید اللہ کا کلام ہے جو اللہ کی ایک صفت رحمن کے نور سے بنا ہے وہ لوگ بیوقوف ہیں جو اللہ کی ایک صفت ، صفت رحمان سے بنے ہوئے قرآن کو ہاتھ میں لے کر اللہ کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں یہ تو ایسا ہو گیا کے کسی اچھی ڈرائیونگ کرنے والے ٹیکسی ڈرائیور سے آپ اسکی شخصیت کا اندازہ لگاتے ہیں ، ٹیکسی چلانا تو اسکا ایک فن اور ایک صفت ہے ، ٹیکسی چلانے سے یہ پتا تو نہیں چلے گا کہ وہ کتنا اچھا یا کتنا برا شخص ہے۔اسی طرح قرآن اللہ کا کلام ہے اللہ کی ایک صفت رحمن سے متصف ہے قرآن سے آپ اللہ کو جان ہی نہیں سکتے۔
اگرکسی کا مرشد ایسا ہو جسکو دیدار الہی نہ ہوا ہو صرف صفاتی نور کے ذریعے اللہ سے ہم کلام ہوا ہو وہ اپنے مرید کو کیا بتائیگا کہ اللہ کیا ہے ؟اللہ کو جاننے اور اس کا عرفان حاصل کرنا کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ لطیفہ انا اللہ کے روبرو ہوجائے اور لطیفہ انا سے جڑی جو عقل ہے اس عقل کے اوپر اللہ کا حسن طاری ہوجائے پھر اس انسان کی عقل اسے کہے گی کیا نماز پڑھنا اور کیا روزے رکھنا اور کیا نور کے پیچھے دوڑنا سیدھا اللہ کے پاس جا کر بیٹھ جا یعنی اس کی عقل اسے سیدھا اللہ کے پاس کھنچے گی ۔

کیسے پتا چلے کہ گوھر شاہی کون ہیں ؟

لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ گوھر شاہی کون ہیں لیکن اب یہ انہیں کون بتائے گا اور کیسے پتا چلے گا؟ ہم نے اوپر ذکر کیا کہ سیدنا گوھر شاہی کو جاننے والوں میں دو گروہ ہیں ایک گروہ وہ ہے کہ جنہوں نے زرد صحافت کی وجہ سے منفی پروپگینڈا ہی سنا ، جنہیں سیدنا گوھر شاہی کے خلاف انصاف کے تقاضوں سے مبرا جھوٹ پر مبنی مضامین پڑھنے کو ملے جس کے باعث وہ لوگ گمراہ ہوتے گئے اور سرکار گوہر شاہی کو جان ہی نہیں سکے اورایک گروہ نےفیض کی مدد سے سیدنا گوھر شاہی کو جاننے والا۔ فیض یافتہ لوگوں کو بھی ہم نے دو گروہوں میں منقسم کیا ہےاس میں ایک گروہ ایسا ہے جس کو عمومی فیض ہوا اور ایک گروہ ایسا ہوا کہ جس کو خصوصی فیض ہوا ۔

عمومی اور خصوصی فیض کی تشریح:

جن کوعمومی فیض ہوا وہ اس فیض کی روشنی میں سیدنا گوھر شاہی کو اسی قدر جانتے ہیں جتنا انہیں فیض ہوا یعنی کسی کا قلب جاری ہوا، کسی کا لطیفہ روح ، کسی کا لطیفہ نفس اور کسی کا لطیفہ انا بھی جاری ہوا یہ سارا فیض (سات لطیفوں کا فیض ) عمومی فیض ہے ، یعنی ذکرقلب سے لے کر دیدار تک عمومی فیض ہے ۔اگر سیدنا گوھر شاہی سے خصوصی فیض والا دیدار الہی دین الہی میں داخل ہوگیا تو یہ بھی عمومی فیض ہی ہوا ہے۔ عشق الہی کا اکتساب ، عشق الہی کی بانٹ ، عشق الہی کی تقسیم عشق الہی کی جودو سخا جو سیدنا گوھر شاہی کے لب ہائے مقدسہ سے حاصل ہو رہی ہے یہ سرکار گوھر شاہی کی ایک ادنی سی صفت ہے اب اس ایک صفت( جسکا گوھر شاہی سے تعلق ہی نہیں )سے متصف ہو کرآپ پوری ذات گوھر شاہی کو کیسے جانیں گے ؟؟
سیدنا گوھر شاہی کی اس ایک صفت سے ہی لوگوں کو نعمت عظمی تو مل رہی ہولیکن سرکار گوھر شاہی بارے میں وہ کچھ نہ جان سکیں تو پھر یہ فیض عمومی ہی ہے، پھر یہ فیض صفاتی ہی ہے اگر اس فیض سے سرکار گوھر شاہی کی جانکاری ہو جاتی تو پھر یہ فیض خصوصی ہوتا۔

“فیض گوھر شاہی سے اللہ کا عرفان ملنا عمومی فیض ہے، جس فیض سے آپ ذات گوھر شاہی کو جان پائیں وہ خصوصی فیض ہے”

لطیفہ انا کو دیدار الہی ہوگیا اور لطیفہ انا سے جڑی عقل پر اللہ سوار ہوگیا اب وہ عقل آپکو اللہ کی طرف ہی بھیجے گی ،گوھر شاہی کو کیسے جانے گی، ہے کوئی ولی ، کوئی فقیر ، کوئی درویش جو اس بات کو جھٹلادے اور یہ بھی کہہ دے کہ ہاں میں دیدار الہی کے بعد گوھر شاہی کو جان پایا ہوں ، دیدار الہی کے بعد تو عقل کا دروازہ بند ہو گیا اب تم اللہ کے علاوہ کسی کو جان ہی نہیں سکتے کیونکہ لطیفہ انا جس کے ساتھ مشغول ہو گیا اسی تک محدود ہو گیا ، لطیفہ انا اگر نور میں مشغول ہے تو تیری عقل تجھے نور کی طرف دھکیلے گی ، لطیفہ انا اگر مشغول باللہ ہو گیا تو تیری عقل تجھے اللہ کی طرف دھکیلے گی۔

ذاتی مشاہدہ:

1999 میں سیدنا گوھر شاہی نے پاکستان سے انگلینڈ ہجرت فرمائی سفر کے دوران قریبی لمحات سرکار کے ساتھ گزارے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ سرکار مجھے 45/46 سیکنڈ تک گھورتے رہے ،انگلینڈ آنے کے بعد میرے سرمیں درد رہتا اور آنکھیں خون کی طرح لال رہتی اگر یہ درد رات میں شروع ہوتا تو رات رات بھر بٹھا رہتا سرکار نے ایک دن سر پر ہاتھ رکھ کر چیک کیا اورفرمایا کہ نہیں یہ کوئی شیطانی مخلوق نہیں ہے یہ توتمھارا لطیفہ انا ہے جو بھوکا ہے تم اس کے ساتھ یاھو کا ذکر ملایا کرو میں نے سرکار کی بارگاہ میں عرض کی کہ میں چاہتا ہوں کہ میری ایک ایک روح صر ف آپ کا نام لے ، سرکار کی بارگاہ سے جواب آیا کہ اگرلطیفہ انا کو غذا نہیں ملے گی تو اندھے ہوجاؤ گے ، تو عرض کیا کہ دل گواراہ نہیں کرتا چاہے کچھ ہو جائے اب کسی اور کا نام نہیں لے سکتا ، اندھا ہوتا ہوں تو ہو جاؤں ۔

سایہ غیر نشیمن پہ گوارا نہ کروں ۔۔۔۔۔تو نہ مل پائے تو بن تیرے گزارا نہ کروں
(منظوم کلام “رخسار ریاض” سے ماخوذ)

اگرسرکار آپ اپنا نام نہیں ڈال رہے ہیں تو کسی اور کا نہیں ہوگا ۔پھر اس کے بعد سرکار کا نام تو نہیں آیا کیونکہ یہ مخلوقیں اللہ کے مختلف ناموں کے نور سے بنی ہیں جیسا کہ لطیفہ انا یا ھو کے نور سے بنا کہ اب یہ صرف یا ھو ہی کرسکتا ہے ۔ یا گوہر ۔۔۔ یا را ریاض نہیں کر سکتا ۔لطیفہ انا پانی کے بلبلے کی طرح ہوتا ہے جب کسی کے لطیفہ انا میں یا ھو کا ذکر جاتا ہے تو لطیفہ انا پھولنا شروع ہو جاتا ہے اور جو بھی اس کے سامنے آتا ہے اسی کا عکس اس میں سے جھلکتا ہے، جب میرے انا کو یا ھو کا ذکر نہیں دیا گیا تو ایک دن میں نے دیکھا سرکار نے لطیفہ انا کے اوپر اپنا ایک عکس بٹھا دیا ۔ اب اس عکس کی وجہ سے کبھی وہ عکس گوشت میں کھد جاتا ہے اور کبھی وہ عکس گالوں میں ابھرجاتا ہے ۔ ہم سب کو حق کہتے ہیں لیکن جب سے وہ عکس آیا تو اب عقل کہتی ہے کہ گوھر شاہی کے علاوہ باقی سب فراڈ ہے ۔

راز کی بات :

تمام انبیاء اولیاء ، مرسل اللہ کی ذات سب حق ہے لیکن یہ ایک ٹیکنیکل ایشو ہے، اگر لطیفہ انا کو اللہ کا دیدار ہو جائے، اب دو ہیں ایک” الا “ہے ایک” اللہ” ہے۔جب جبرائیل وہاں تھا وحی لانے والا تھا تو اس کا نام “الا “تھا ۔اللہ نے اس کا نام “الا” رکھا تھا ۔ایک عالم ذاتیہ اور ایک عالم انسانی جسکو عالم کونیہ بھی کہتے ہیں۔ ان عالموں کو جوڑنے کی وجہ سے انہیں جبرائیل کا لقب ملا ہے ، عربی میں” جبر” کا مطلب ہے پل یعنی دو سمتوں کو جوڑنے والا اور جبرائیل کا مطلب ہوا کے دو مختلف عالموں کو جوڑنے والا وسیلہ ۔ جبرائیل کا نام” الا “ہے ۔ جب اللہ کا عکس لطیفہ انا میں آتا ہے تو اللہ کا عکس لطیفہ انا پر قابض ہو جاتا ہے پھر اللہ کے علاوہ اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

گوھر شاہی کو جاننے کے لئے ضروری ہے کہ عقل گوھر شاہی سے متصف ہو :

دعوے کرنے والے بہت ائیں گے لیکن صرف وہی سرکار گوھر شاہی کو جان سکتا ہے ، اتنا ہی جانے گا جتنا لطیفہ انا کی طرف آیا ہے پوری کائنات میں کسی کے لطیفہ انا کو عکس ریاض عطا نہیں ہوا ہے کیونکہ یہ طریقہ ہی نہیں ہے یہ تو عطا ہوتی ہے جس پر دل آ جائے ، مٹی کے بنے انسانوں پر سیدنا گوھر شاہی کا اگر دل آ گیا تو پھر یہ سرکار گوھر شاہی کی عطا ہے کسی کا استحقاق نہیں ہے یہ تو مالک الملک گوھر شاہی کی عطا ہے اور انکی مرضی ہے جس کو چاہیں عطا کر دیں ۔ابھی تک یہ معاملہ کسی کے ساتھ نہیں ہے ،لیکن آگے چل کر جس کو چاہیں عطا کر دیں وہ مالک ہیں ، یہ ہو گیا سرکار گوھر شاہی کو خصوصی جاننا!!

سرکار گوھر شاہی کو عمومی جاننا کیا ہے ؟

زمانہ جو تعارف سننا چاہتا ہے میں اس طرف آتا ہوں ! لوگ دین دار ہو کر بھی بھونڈی باتیں کرتے ہیں ۔ بہت سے مولویوں اور مسلمانوں کا اعتراض ہے کہ سرکار گوھر شاہی کا اسٹیل کا کارخانہ تھا جہاں چولہے بناتےتھے لیکن حضورپاک بھی تو بکریاں چراتے تھے تم نے حضور پاک کی نبوت کو رد کر دیا صرف اس وجہ سے کہ وہ بکریاں چراتے تھے ڈاکہ تو نہیں ڈالتے تھے ، چوری تو نہیں کرتے تھے کسی کا حق تو نہیں مارتے تھے، اسلام نے کیا کہا ہے کہ رزق حلال کماؤتو جو کام وہ کرتے تھے اس میں پریشانی والی بات کیا تھی؟ حضور پاک بکریاں چراتے تھے اور سرکار گوھر شاہی نے اسٹیل کا خارخانہ کھولا اس میں تو کوئی برائی نہیں ہے ۔ اگر حضور پاک بکریاں چراتے تھے تو کیا انکی نبوت کو رّد کر دیں گے! اگرسرکار گوھر شاہی کا اسٹیل کا کارخانہ تھا تو کیا اس وجہ سے آپ کے مرتبہ مہدی کو رد کر دیں گے ؟ عقل کے ناخن لو جو باتیں تم گوھر شاہی کے خلاف کہتے ہو اگر یہ باتیں بانی اسلام کے لیے ہوں تو دین اسلام تم کو مرتد قرار دے دیگا ۔
پھر لوگ ایک اور اعتراض کرتے ہیں کہ سرکار گوھر شاہی تو گوجرخان میں پیدا ہوئے ؟ تو اس میں کیا ہوا ؟حضور پا ک بھی تومکہ میں پیدا ہوئے اور سرکار گوھر شاہی گوجر خان میں پیدا ہوئے یہ مکہ تو آج مکرم و معظم ہے نا جب حضور پاک وہاں پیدا ہوئے تھےاس وقت تو یہی مکہ کفر کا گڑھ تھا آپ کو وہاں بھیجا ہی اس لئے گیا کہ وہاں کفر ختم ہو اور توحید کی شمع روشن ہو ،لوگوں کے دل منور ہوں ،کفر و الحاد سے لوگوں کو چھٹکارا ملے اور لوگ کی زندگیوں میں ایمان داخل ہوجائے ۔ کعبے میں اُس وقت تین سو ساٹھ بت رکھے تھے ، ذرا سوچیں اگر کعبے میں کفر وشرک ہوتا تھا تو کیا مکہ کی گلیوں میں توحید کے نعرے لگائے جاتے ہونگے!! جب حضور پاک وہاں مبعوث ہوئے تو انہوں نے وہاں کی غلیظ رسومات کو مٹایا ۔کوئی مقام افضل نہیں ہوتا کیونکہ مکہ میں تو ابوجہل بھی پیدا ہوا تھا، اسی طرح گوجر خان میں پیدا ہونےکی اہمیت نہیں ہے کیونکہ

” کسی بھی مقام پر پیدا ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے کوئی کہیں بھی پیدا ہو سکتا ہے ، زبان اور جگہوں سے کچھ نہیں ہوتا انسان کی روح سے اس کا مقا م بنتا ہے ” اگر جگہوں یا زبانوں سے ایمانوں میں فرق پڑتا تو بتاؤ ابو جہل کیوں ابوجہل ہے؟؟ وہ تو بڑی فصیح و بلیغ عربی بولتا تھا”

ہدایت و عظمت کا تعلق ان جگہوں یا ان بولیوں میں نہیں ہے عظمت کا تعلق اس بات میں مضمر ہے کہ آپ کا قلب کتنا منور ہے ، آپ کی روح کتنی منور ہے ، آپ کو رب کا کتنا قرب حاصل ہے ، سیدنا گوھر شاہی گوجر خان میں پیدا ہوئے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، اب جیسے حضرت علی خانہ کعبہ میں پیدا ہوئےلیکن حضور پاک تو خانہ کعبہ میں پیدا نہیں ہوئے تھے اگر حضور پاک پیدا نہیں ہوئے تو اسکا مطلب ہے خانہ کعبہ میں پیدا ہونے کی کوئی خاص بڑی بات نہیں ہے لیکن شیعہ اس کو بڑی عظمت سمجھتے ہیں لیکن حضرت علی جس وقت وہاں پیدا ہوئے اس وقت تو خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے وہ تو غلاظت میں ڈوبا ہوا تھا ! فتح مکہ ہوا تو حضور پاک نےکعبہ کو بتوں سے پاک کیا دھویا ، اگر خانہ کعبہ میں پیدا ہونا عظمت کی دلیل ہے تو حضور پاک وہاں کیوں پیدا نہیں ہوئے۔ لوگوں نے قصے کہانایاں بنا کر ، اپنی رائے اپنا بغض شامل کر کے ، لوگوں کے اذہان کو غلیظ بنا رہے ہیں خراب کر رہے ہیں اور جھوٹی عظمت کے مینار کھڑے کر رہے ہیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔
ہمیں عربی زبان بولنا نہیں آتی پھر بھی اللہ نے ہمیں قبول کر لیا تھا ، قلب اللہ اللہ کرنے لگ گیا تھا، اگر عربی بولنا اتنا زیادہ اہم ہوتا تو پھرعربیوں کے علاوہ کوئی اور مسلمان نہیں ہوتا ، قرآن شریف میں آیا

اِنَّآ اَنْزَلْنَاہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْن
سورۃ یوسف آیت نمبر 2
ترجمہ : ہم نے قرآن شریف کو عربی میں اس لیے نازل کیا تاکہ تمہاری سمجھ میں آجائے۔

تو ہماری زبان تو عربی نہیں ہے اب پھر یہ سندھی پنجابی پٹھان ، اردو بولنے والے کہاں جائیں ؟ کیا اس سے یہ مراد لے لی جائے کہ اللہ میاں نہیں چاہتے کہ قرآن ہماری سمجھ میں آئے؟حضور کے بعد ولائت کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں ان اولیاء اللہ پر قرآن مجید کے الہام انکی اپنی زبانوں میں آتے تھے ، شاہ عبد الطیف بھٹائی کی زبان سندھی ہے تب ہی تو انہوں نے کہا کہ میری شاعری قرآن مجید کی آیتیں ہیں ، مولانا روم نے بھی شور مچایا کہ میری مثنوی کو شاعری مت سمجھنا یہ فارسی کا کلام ہے۔ ادھر میاں محمد بخش صاحب نے بھی سیف الملوک لکھ کر اسے کہہ دیا یہ قرآن ہے۔جہاں جہاں اہل ایمان روحیں آتی رہیں اس مقام پر اللہ نے ان کو اسی زبان میں فیض دیا ، نہ زبان کی اہمیت نہ جگہ کی اہمیت ہے۔
لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ رمضان میں مرنے والا جنتی ہے تو اب رمضان کے مہینے میں دہشت گردی کے واقعات پرلوگ شور کیوں مچاتے ہیں ، تمہاری تو رمضان میں مرنے کی خواہش تھی نہ اب جب مارے جا رہے ہو تو روتے کیوں ہو؟مرو اور سیدھے جنت میں جاؤ! اس کا مطلب ہے صرف کہتے ہی تھے حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔
کچھ مکہ اور مدینہ میں مرنا چاہتے ہیں ، آپ بتائیں جو کافر وہاں رہتے تھے جب انکی موت کا وقت آتا تو کیا اللہ جبرائیل کو بھیج کرانہیں مکہ اور مدینہ سے باہر نکالوا دیتا تھا؟ کہ نکلو مدینہ سے اور باہر جا کر مرو، اگر ایسا ہوتا تو کوئی بھی کافر منافق مکہ مدینہ میں نہ مرتا، اللہ انہیں مکہ بدر ،مدینہ بدر کرا دیتا۔
حضور پاک مکہ میں بکریاں چراتے تھے پھر بعد میں خدیجہ الکبری نے انہیں کام پر رکھ لیا اور قافلے کے ہمراہ تجارت کی غرض سے شام تک سفر کر کے آئے ، آپ نے بکریاں بھی چرائی ، نوکری بھی کی ، نوکری ہی کہیں گے کیونکہ اپنا مال تو لے کر نہیں گئے تھے۔ اگر سیدنا گوھر شاہی اسٹیل کا کارخانہ کھول لیں چولہے بنائیں تو لوگوں کو اسلام بھول جاتا ہے ، حضور پاک کی مثال بھول جاتی ہے ، سارے انبیاء کرام کی مثال بھول جاتی ۔اسٹیل کا کارخانہ ہی کیا ہے حق حلال کی روزی کمائی ہے حرام نہیں کیا، نہ منبر پر بیٹھ کر دین کو بیچا ہے!! کام سے مرتبہ کا کیا لینا دینا ہے ، کیا فرق پڑتا ہے کہ اسٹیل کے چولہے بنائیں یا سونے کے چولہے بنائیں یہ سب بکواس کی بات ہیں ۔

آ ج کے علماء ناموس مصطفی بیچ رہے ہیں :

حلال کمانا حضور پاک کی سنت ہے ، سیدنا گوھر شاہی نے بھی حضور کی طرح حلال کمایا ہے کسی کا مال نہیں مارا ، دین نہیں بیچا، فرقہ نہیں بنائے، تم تو منبر رسول پر بیٹھ کر دین اور ناموس مصطفی بیچ رہے ہو۔ سیدنا گوھر شاہی نے جو بھی کام کیا اس میں نقصان ہوا،ایک دن جبرائیل علیہ السلام نے آ کر کہا آپ اس لیے آئے ہی نہیں ، بالاخر کام دھندے کو خیر باد کیا اور اس عشق کے روشن الاؤ کو لیےجنگلوں میں چلے گئے۔ تین سال کا عرصہ جنگل میں گزارا، ابھی جنگل میں ہی تھے تو نہ صرف حضور کا گنبد خضراء بلکہ پوری کی پوری مسجد نبوی اڑتی ہوئی آئی ، جن کو علم نہیں ہے وہ حیرت سےکہتے ہیں مسجد اڑ کر آ سکتی ہے؟ وہ بتائیں کیا رابعہ بصری کے لیے کعبہ نہیں آیا تھا؟ یا اللہ نے رابعہ بصری کے بعد ریٹائیرمنٹ کا فیصلہ کر لیا ہے! یا قرآن میں کہیں لکھا ہے کہ اب کوئی کرامت یا معجزہ یا کرشمہ نہیں ہو گا جو کچھ ماضی میں حضور پاک ، عیسی علیہ السلام۔ یا بزرگان دین کے ساتھ ہو گیا اب اسی پر گزارہ کرو۔ جو پہلے کرشمے ہوتے تھے وہ آج کیوں نہیں ہو سکتے؟ کعبہ آ سکتا ہے تو گنبد خضرا کیوں نہیں آ سکتا !!
حضور پاک کا گنبد خضرا اڑتا ہوا آیا اور اس میں سے محمد رسول اللہ برآمد ہوئے اور سیدنا گوھر شاہی کو گلے لگایا اور پیغام دیا کہ آپ اس امت کے امام مہدی بن جائیے ، سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا ، میں آپ سے بڑی محبت کرتا ہوں لیکن اب یہیں اسی جنگل تک رہنا چاہتا ہوں دنیا میں نہیں جانا چاہتا ، تو حضور پاک چلے گئے، پھر اللہ نے لال شہباز قلندر کو بھیجا، وہ بھیجنا کیا تھا؟ وہی جسہ توفیق الہی شیر والا آیا تھا ، اب اس جسہ توفیق الہی اور اس جسہ توفیق الہی کی دوستی تھی لہذا قائل کرنے میں کامیاب ہو گئے، سیدنا گوھر شاہی نے کہا انہیں انکار نہیں کر سکتے لہذا آپ اللہ کی طرف سے اس بھاری امانت اور بوجھ کو لیکر جنگل چھوڑ کر دنیا میں آگئے۔ حیدرآبار شہر کے ایک چوک پر صبح سے رات تک کھڑے رہے ارادہ یہ تھا کہ آتے جاتے لوگوں کو دیکھوں کہ یہ کتنے گندے ہیں ان پر کتنے جنات ہیں کیونکہ ان پر میری ڈیوٹی لگنے والی ہے تو ہزاروں لوگ گزرے ہونگے لیکن ان میں ایک شخص ایسا نہیں تھا جس میں درجنوں نہیں سینکرڑوں جنات نہ گھسے ہوں ۔

سرکار گوھر شاہی کا پیغام سینوں میں شمع توحیدروشن کرنے کی دعوت ہے:

یہ انسانیت کا عالم ہے کہ اس میں شیطانی جنات گھسے ہوئے ہیں۔ کسی میں خبیث جن ، کسی میں شریر جن گھسے ہوئے ہیں ، کسی میں مردود جن گھسے ہوئے ہیں ، کسی میں شہوانی جن گھسا ہوا ہے ۔ سیدنا گوھر شاہی تمہیں اِن غلاظتوں سے نکالنے کے لیے، شمع توحید تمہارے سینوں میں روشن کرنے کے لیے دعوت دے رہے ہیں کہ آؤ نہ تمہیں بیعت کر رہے ہیں نہ تم سے نذرانہ طلب کر رہے ہیں ، یہ ایک راز ملا ہے کہ کس طرح تمہارے دل کو اللہ کے ذکر سے آباد کرکے تمہارا تعلق اللہ سے جوڑ دیں ، اگر تمہارے دل میں اللہ کا نور آگیا تو دعا دے دینا ورنہ تم دے کیا سکتے ہو۔ یہ سرکار گوھر شاہی کا مشن ہےاور یہی سرکار گوھر شاہی کا پیغام ہے ۔ سرکار گوھر شاہی فرماتے ہیں کہ بخشش اور شفاعت امتی کی ہو گی لیکن آج تم امت نہیں رہے آج تو کوئی سنی بن گیا ، کوئی شیعہ ، کوئی وہابی ، کوئی دیو بندی اہل حدیث بن گیا کوئی مرزئی بن گیا ،آپ نے فرمایا امتی میں نور ہوتا ہے ۔حضور پاک کا ارشاد ہے کہ انا من نور اللہ والمومنین من نوری کہ میں اللہ کے نور سے بنایا گیا ہوں اور مومنین کو میرے نور سے بنایا گیا ہے۔اگر تم مومن ہو ، حضور کے نور سے بنے ہوئے ہو تو پھر تم ، سنی وہابی شیعہ دیوبندی کیوں ہو؟ آج تم کیوں نہیں کہتے کہ میں امتی ہوں تمھارا یا رسول اللہ ۔ تمہارے معیار جدا جدا کیوں ہیں ، ایک کے نزدیک اہل بیت عظام افضل ہیں تو دوسرے کے یہاں اصحابہ کی محبت افضل ہے۔ ، تیسرے کے یہاں محمد رسول اللہ کی محبت سب سے افضل ہے چوتھے کے نزدیک اللہ کی محبت افضل ہے یہ تو امتی کامعیار نہیں ہے امتی وہ ہے کہ جس کے سینہ میں اللہ کی محبت بھی ہو، رسول اللہ کی محبت بھی ہو ، اہل بیت کی بھی ہو ، صحابہ کرام کی بھی ہو، فقراء کی بھی ہو، ، اس کے بعد ہر انسان کی محبت ہو کسی کو نقصان پہنچانے والا نہ ہو ۔

“سیدنا گوھر شاہی نے کیا فرمایا کہ جب تمہارے سینوں سے نور نکل گیا تو شیطان آ گیا تو سنی شیعہ وہابی بنتا گیا اب دوبارہ وہ نور تمہارے سینوں میں آ جائے تو خدا کی قسم کبھی نہیں کہو گے میں سنی ہوں شیعہ ہوں وہابی ہوں مرزئی ہوں صرف یہ ہی کہو گے امتی ہوں تمہارا یا رسول اللہ”

امت کو بنانے کا پیغام ۔ شیرازہ اسلام جو بکھر چکا تھا دوبارہ اسکو اپنے پیروں پر کھڑے کرنے کا پیغام ، اور جب فرقہ پرست عناصروں کی دکانیں اس پیغام سے بند ہونے لگیں تو وہ کیونکر خوش ہوتے ، انہوں نے اپنی دکان کو بچانے کے لیے اس پیغام کو دبانے کا فیصلہ کر لیا، لہذا سارے شیطان اکھٹے ہو گئے ، بریلوی شیطان، سنی شیطان، اہل سنت والجماعت کا شیطان ، تبلیغی جماعت کا شیطان ، شیعہ کا شیطان ، مرزئی کا شیطان ، یہ سارے شیطان ہی توتھے امت تو نہیں تھے تو یہ سارے اکھٹے ہو گئے اور گوھر شاہی کے خلاف کفر کے فتوے جاری کر دیئے ۔لوگ ایک بہتان یہ بھی لگاتے ہیں کہ سیدناگوھر شاہی نماز سے روکتے ہیں لیکن سیدنا گوھر شاہی کا فرمان ہے کہ میں نماز کے منکر کو کافر جانتا ہوں ۔ایک ایک بات جو لوگوں نے گوھر شاہی کی مخالفت کی مد میں رکھی وہ جھوٹ اور بہتان کا پلندہ تھا ، سیدنا گوھر شاہی نے تو یہ فرمایا کہ نماز حقیقت کی تلاش کرو ،ان نمازوں کو چھوڑ دو جن سے تم تباہ ہو رہے ہو، نمازوں سے تباہ بھی ہو سکتے ہیں ! یہ گوھر شاہی کا پیغام نہیں ، یہ قرآن کا پیغام ہے۔

فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ
سورۃ الماعون آیت نمبر 4 تا 5
ترجمہ : تباہی ہے ایسے نمازیوں کے لیے جو نماز حقیقت سے غافل ہیں۔

سیدنا گوھر شاہی نے نماز سے کبھی نہیں روکا بلکہ لوگوں کو نماز حقیقت کی طرف دعوت دی ہے ۔ نماز حقیقت کیا ہے؟محمد رسول اللہ نے فرمایا ، لا صلوۃ الا بحضور القلب ، تیرا قلب اگر حاضر نہیں تو تیری نماز ہوئی ہی نہیں اب بھلے آپ نماز پڑھتے رہی۔ وہ ہو ہی نہیں رہی تو وہ عمل ضائع ہو رہا ہے نا ، سیدنا گوھر شاہی فرماتے ہیں تمہاری نمازیں ضائع ہو رہی ہیں ، قلب کو اللہ اللہ میں لگا لو ، تاکہ تمہیں حقیقی نماز میسر آ جائے، انہوں نے اسی بات کو توڑ موڑ کر کہہ دیا کہ گوھر شاہی نماز کے قائل نہیں ، کتنی بڑی بددیانتی ہے اوریہ بددیانتی وہ لوگ کر رہے ہیں جو دین کے ٹھیکیدار ہیں ،عام آدمی کی لغزش معاشرے کو نہیں بگاڑتی لیکن اگرعالم دین کا قدم لرز جائے تو یہ غلط قدم پوری امت کو تباہ کر دیتا ہے ۔آج اس امت کا شیرازہ اسی لئے بکھر گیا ہے آج اس امت کے علماءکے دلوں میں نوٹوں کی لالچ بھری ہوئی ہے ، عشق مصطفی نکل گیا ہے ، نور توحید نکل گیا ہے ۔ انکے سینوں میں تعلیم مصطفی باقی نہیں رہی ۔ جن کی عقلوں پر پردے پڑ چکے ہوں جن کے قلوب پر قفل لگ چکے ہوں انہیں سیدنا گوھرشاہی کا پیغام ان کی سمجھ میں کیسے آئیگا؟ سیدنا گوھر شاہی کا یہ پیغام تو انکے لیے جو اللہ اور اسکے رسول کا عشق چاہتے ہوں اپنی زندگیوں میں انقلاب لانا چاہتے ہوں اپنی نمازوں کو اللہ تک پہنچا کر الصلوۃ معراج المومنین کا درجہ دینا چاہتے ہوں ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کی 8 جولائی 2017 کی نشست سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں