کیٹیگری: مضامین

اللہ کے بیٹےہوتے ہیں اس قصّے کا آغاز کہاں سے ہوا؟

اللہ نےہرمرسل کو ایک اسم دیا تھالیکن عیسیٰ علیہ السلام اور محمد الرسول اللہ کے ساتھ کچھ اور بھی معاملات ہوئے ہیں ۔اللہ تعالی نے عیسیٰ کو اپنا نام “یا قدوس” عطا کیا کہ وہ اپنی اُمت کے دلوں میں یہ نام جاری فرمائیں دوسری بات یہ کہ “یاقدوس ” اللہ کی صفات کی روح بھی تھی وہ روح بھی عیسیٰ کو عطا فرمائی ۔بائبل میں آیا ہے کہ اُن کے اندر کلمتہ اللہ موجود تھا وہ یہی بات ہے عیسیٰ کے اندر وہ روح ِقدس اضافی تھی ۔ عیسائیوں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی تو انہوں نے اس کا کچھ اور ہی مطلب لے لیا۔دوسرا عیسیٰ کی پیدائش کا جو معاملہ ہے وہ قرآن مجید میں بہت صراحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہےچونکہ بی بی مریم کو ظاہری طور پر کسی مرد نے ہاتھ نہیں لگایا اور وہ حاملہ ہو گئیں اور پھر جبرائیل امین نے آ کر بشارت دی کہ تمھارے یہاں نبی پیدا ہو گا۔جب عام لوگوں کو یہ بات پتہ چلی کہ بی بی مریم کو کسی مرد نے چھوا نہیں ہے اور یہ جو حاملہ ہوئیں ہیں یہ قدرتی امر ہے تو یہاں سے انہوں نے یہ بات اخذ کر لی کے عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں ۔قرآن مجید میں سب کچھ صراحت کے ساتھ آ گیا لیکن میرا خیال یہ ہے کہ قرآن مجید عیسیٰ کے جانے کے چھ سو سال بعد نازل ہوا ہے اور اس میں اللہ کی طرف سے اس کی وضاحت آئی ہے کہ عیسیٰ کی تخلیق اللہ نے ویسے ہی کی جیسے جنت میں آدم صفی اللہ کی کی تھی ۔اللہ نے کہا ہو جا تو ہو گیا ، اسی طرح اللہ تعالی نے بی بی مریم کی طرف دیکھ کر امر ِکن کی طاقت استعمال کی تو وہ حاملہ ہو گئیں۔

إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
سورة آل عمران آیت نمبر 56
ترجمہ : بیشک عیسٰی کی مثال اﷲ کے نزدیک آدم علیہ السلام کی سی ہے، جسے اُس نے مٹی سے بنایا پھر اسےفرمایا ’ہو جا‘ پس ہو گیا۔

اب یہ سب قرآن میں چھ سو سال بعد آیا ہے لیکن جب یہ سب کچھ وہاں ہو رہا تھا اگر اُس وقت اس طرح کی باتیں صحیفوں میں آ جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا ۔اب یہ جو کہانی ہے کہ اللہ کے بیٹے ہیں، یہ کوئی نئی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ آدم صفی اللہ کے آنے سے شروع ہوئی ہے ۔ اِس دنیا میں ایک آدم نہیں بلکہ چودہ ہزار آدم آئے ہیں۔ اب اگر دنیا کے اطراف نظر دوڑائیں تو مختلف شکلوں کے لوگ نظر آتے ہیں ، کوئی گورا ہے تو کوئی کالا ہے اور ہم ایشیائی بھی ہیں ہماری رنگت اور عادات و اطوار بھی مختلف ہیں ۔ہمارا مزاج بھی مختلف ہے۔اگر امریکہ چلے جائیں تو ریڈ انڈین بلکل مختلف ہیں ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ چلے جائیں تو وہاں کے بھی جو مقام لوگ ہیں وہ بڑے مختلف ہیں ۔چائنا اگر چلے جائیں تو اِن کی شکلیں اور مزاج بالکل مختلف ہیں ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ یہ سارے ایک ہی آدم کی اولاد ہیں ۔سوائے ایک آدم صفی اللہ کےاس دنیا میں چودہ ہزار آدم آئے اور اُن سب کو اللہ نے یہیں زمین پر اسی زمین کی مٹی سے بنایا اور اُن کو کوئی روحانی علم نہیں دیا ، وہ ظاہری عبادتیں کرتے تھے ۔قتل و غارت ، خون خرابہ یہی اُن کی فطر ت میں تھا ۔اُ ن کی ابلیس سے دشمنی بھی نہیں تھی کیونکہ اُن کے پاس عظمت والی تعلیم نہیں تھی اورابلیس سے وہ عبادت میں بڑھ نہیں سکتے تھے لہذا ابلیس کو اُن آدموں سے حسد بھی نہیں ہوا ، چھوٹے موٹے شیطان ہی اُن کو گمراہ کرنے کے لئے کافی ہوتے تھے۔پھر اللہ ان تمام آدم کی اولادوں سے تنگ آ گیا ، پھر اللہ نے جنت میں جنت کی مٹی سے آخری آدم صفی اللہ کو بنانے کا حکم دیا ۔جب فرشتوں نے جسم بنانا شروع کیا تو وہ سمجھ گئے یہ تو انسان بنایا جا رہا ہے تو پھر اُن فرشتوں نے اللہ سے اعتراض کیا کہ اے اللہ! تو پھر آدم کو بنا رہا ہے یہ تو نیچے جا کر دنگا فساد کرے گاکیا ہم تیری پاکی بولنے کے لئے کافی نہیں ہیں ۔

وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۖ قَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ ۖ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
سورة البقرة آیت نمبر 30
ترجمہ : اور جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، انہوں نے عرض کیا: کیا تُو زمین میں کسی ایسے شخص کو نائب بنائے گا جو اس میں فساد انگیزی کرے گا اور خونریزی کرے گا؟ حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہتے ہیں اور پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اللہ نے فرمایا: میں وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔

قرآن ِ مجید کا یہ واقعہ اِس اَمر کی دلالت کرتا ہے کہ فرشتوں نے پچھلے آدموں کا حال دیکھا تھا جبھی تو اللہ کے سامنے اعتراض کیا اگر اللہ نے ایک ہی آدم بنایا ہوتا تو فرشتوں کی کیا مجال ہے کہ وہ اللہ سے کہتے کہ یہ زمین پر جا کر دنگا و فساد کرے گا۔اب آدم صفی اللہ کو جنت میں جنت کی مٹی سے بنایا، وہ جنت میں رہے اور بعد میں زمین پر آئے تو پچھلی جو اُمتیں موجود تھیں اُن سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے بتایا کہ میں جنت سے آیا ہوں تو وہ یہ سمجھے کہ یہ آسمانوں سے آئے ہیں اور یہ اللہ کے بیٹے ہیں ۔لہذا آدم صفی اللہ کے آنے کے بعد اللہ کے بیٹے ہونے کا تصور نکلا ہے۔اُ س کے بعد جب لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ بی بی مریم کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا اور وہ حاملہ ہو گئیں اور بچے کی ولادت بھی ہو گئی ۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ یہ بچہ کہاں سے آیا ہے اور اِس کا باپ کون ہے ؟ تو بی بی مریم نے اُن لوگوں کو کہہ دیا کہ اسی سے پوچھ لو یہ کون ہے ۔ عیسیٰ بمشکل ایک ہفتے کہ ہوں کہ وہ بول پڑے کہ میں اللہ کا نبی ہوں ۔اب قانون تو یہ ہے کہ نبوت کا اعلان چالیس سال کی عمر میں کیا جاتا ہے لیکن عیسیٰ چالیس دن کے بھی نہیں ہیں اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ میں اللہ کا نبی ہوں ۔

“صحیح اطلاعات نہ ہونے کی وجہ سے ہر مذہب میں غلط عقائد آئے ہیں ۔ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس میں اطلاعات کا صحیح ہونا بہت ضروری ہے خاص طور پر مذہب ، ادیان اور دھرموں کے معاملے میں ۔ اگر مذہب میں درست اطلاعات نہیں ہوں گی تو لوگ گمراہ ہو جائیں گے اور فرقوں میں تقسیم ہو جائیں گے “

اور آج کے معاشرے میں ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ کسی نے صحابہ کرام کی عظمت پڑھ لی تو انہوں نے حق چار یار کا نعرہ لگا دیا ۔کچھ لوگوں نے اہل بیت عظام کو پکڑ لیا ہے ۔ مذاہب میں جو مذہبی شخصیات آئیں ہیں انہوں نے یہ کیا کہ ایسی کہانیاں بناؤ جو انسان کی عقل کو ورطہ حیرت میں ڈال دے اور وہ ڈر و خوف میں مبتلا رہے۔مسلمانوں کا ملا ہو یا عیسائیوں کا پادری ہو یا ہندوؤں کا پنڈت ہو، اِن سب نے ایک فن سیکھ لیا ہے کہ عوام کو خوف میں مبتلا رکھواور یہ خوف انسان کا سب ے بڑا دشمن ہے ۔اب جب ہم لوگوں کو حقیقت بتاتے ہیں تو وہ اتنا محظوظ نہیں ہوتے ۔

اولیا اور صحابہ کے کردار کو لکھنے والوں نے دیو مالائی بنا دیا ہے:

مومن کون ہے ، اللہ کا ولی کسے کہتے ہیں یہ آج کے دور میں کوئی جان ہی نہیں سکتا کیونکہ ایک زمانہ گزر گیا ہے جب اولیا کرام آتے تھے ، اب ہم نے اُن اولیا کے قصے کتابوں میں پڑھے ہیں اور جنھوں نے یہ کتابیں لکھی ہیں انہوں نے ایسی ایسی باتیں لکھیں ہیں کہ اُن کو پڑھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ ہم تو کسی قابل ہی نہیں ہیں ، اُن کے قدموں کی خاک بھی نہیں ہیں وہ تو بہت افضل لوگ تھے۔اتنا اس میں گلیمر ڈال دیا ہے کہ وہ ایک دیو مالائی کہانی لگتی ہے ۔جیسے طاہر القادری صاحب نے حضوؐرکا ایک واقعہ سنایا کہ نبی کریم نے ابو بکر صدیق سے فرمایا کہ ہم تمھارے گھر رات میں آئیں گے، اس کے بعد یہ بات آئی گئی ہو گئی۔اس بات کو ڈھائی سال گزر گئے اور ایک دن رات گئےحضوؐراُن کے گھر پہنچ گئےاور دیکھا کہ ابو بکر اپنے گھر کےدروازے پر کھڑے ہیں۔حضوؐرنے مبینہ طور پر کہا کہ لگتا ہے ابوبکر تمھیں ہمارے آنے کا علم ہو گیا تھا، تو ابو بکر نے جواب دیا یا رسول اللہ آپ نے ڈھائی سال پہلے کہا تھا کہ ہم تمھارے گھر آئیں گے بس اُس وقت سے روزانہ رات کو دروازے پر کھڑا رہتا ہوں کہ نہ جانے کب آپ تشریف لے آئیں ۔۔۔اسی طرح کا ایک اور قصہ سننے میں آتا ہے کہ ایک بیٹے سے اُس کی ماں نے پانی منگوایا اور وہ سو گئی ، وہ بیٹا رات پھر پانی کا گلاس لے کر کھڑا رہا لیکن اسے ٹیبل نہیں ملا کہ وہ وہاں رکھ دے ۔ اب ہمیں اتنا زیادہ الجھا دیا ہے کہ پریشان ہو جاتے ہیں ماں کی خدمت کریں تو سارا وقت وہیں لگ جائے گاپھر عبادت کس وقت ہو گی۔ اور اگر ماں کی خدمت میں سارا وت لگے رہے تو باپ کے حقوق کہاں جائیں گے ۔اگر ماں باپ کی خدمت میں ہی لگے رہیں گے تو دین کی خدمت اور اللہ کو راضی کیسے کریں گے !! ہم نے اپنی کتابوں میں جان بوجھ کراسقدر جھوٹ لکھ دیا ہے کہ اب ہمیں گزرے ہوئے مسلمان ہیرو لگتے ہیں اور اپنی طرف نظر ڈالیں تو بجائے حوصلہ افزائی کے ہماری حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔جو مثالیں ہمارے اطراف میں موجود ہیں ان کو دیکھ کر ہم چاہ کر بھی ایسا ایمان پیدا نہیں کر سکتے۔
میں یہ بات سمجھانا چاہتا ہوں کہ وہ علم جس سے انسان میں عظمت آتی ہے ، اسکا من پاک ہوتا ہے ، جس سے اللہ سے تعلق جڑتا ہے ، اور جب تعلق جڑ جاتا ہے تو وہ اللہ کو بھی نہیں پکارتا کیونکہ پکارنے سے پہلے اللہ اُس کی حاجت روی کر دیتا ہے اور جب انسان کا دل اللہ سے نہ جڑا ہو ، تعلق باللہ نہ ہو تو پھر کسی کا بھی وسیلہ دے دو بیکار ہے ۔اس تعلق کو جوڑنے کے لئے بس ہمیں تگ و د و کرنی ہے اور یہ تعلق تصوف کے زریعے جڑتا ہے ۔لوگ سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں آکر پوچھا کرتے کہ آپ بتائیں کون عظیم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنی روحوں کو اللہ کے نور سے چمکاؤ، آباد کرو اوربیت المامور میں اُن کی محفل تک پہنچو جہاں سارے انبیا ہیں پھر اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا سب کس کے آگے جھکے ہوئے ہیں ۔تم اپنے اندر وہ استطاعت پید ا کرلو کہ تم خود حقیقت شناس بن جاؤ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر کی 12 نومبر 2017 کی یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے خطاب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں