کیٹیگری: مضامین

آدم صفی اللہ کو علم الاسماء کی وجہ سے فضیلت حاصل ہوئی :

اللہ نے اس دنیا میں کل چودہ ہزارآدم بھیجے۔ سوائے آخری آدم صفی اللہ کے تمام آدموں کو اِس دنیا میں، دنیا ہی کی مٹی سے بنایا گیاالبتہ آخری آدم،آدم صفی اللہ کو جنت میں جنت کی مٹی سے بنایا گیا۔جن لوگوں(آدموں )کو یہاں زمین کی مٹی سے بنایاگیا تھا،ابلیس وغیرہ سے انکی کوئی دشمنی نہیں تھی،انکو گمراہ کرنے کیلئے یہاں پر جو جنات تھے وہی کافی تھے،وہ لوگ انہی سے گمراہ ہوجاتے تھے۔اِن آدموں میں سے کسی آدم کو اللہ نے تنہا بنایااور کبھی جوڑوں کی شکل میں بنایا۔بہت سے آدم ایسے بھی آئے جو عورت کی صورت میں تھے۔ان آدموں اور انکی اولاد کی اللہ تک پہنچ نہیں تھی بلکہ اسکا تصور بھی نہیں تھا ۔ انکی عبادتیں خشک تھیں اور خون خرابہ اور قتل و غارت کرتے رہتے تھے۔ فرشتوں نے سب آدموں کا حال دیکھا ہوا تھا لہذا جب اللہ نے آخری آدم (آدم صفی اللہ)کو جنت میں بنانے کی ابتدا کی تو انہوں نے اعتراض کیا کہ تو کیوں پھر سے آدم کو بنا رہا ہے یہ زمین پہ جاکے پھر فساد اور خون خرابہ کریگا تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔اِس دفعہ جو آدم بنا رہا ہوں میں اسکو علم الاسماء(اسماء کا علم )دوں گا لہذا یہ پچھلےآدموں سے افضل ہوگا۔جب آدم صفی اللہ نیچے آئے تو انکے دو بیٹوں(ہابیل و قابیل) میں قتل و غارت گری ہوگئی اورایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔کوے نے انکو دفنانا سکھا دیا۔اِس آخری آدم کو اللہ نے عظمت والا بنا کر بھیجا لیکن اس عظمت والے آدم میں بھی قتل و غارت شروع ہوگئی۔اِس آدم کی اولاد میں جنکو عظمت ملی وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔آخر میں بات یہاں آکے ختم ہوتی ہے کہ آدم صفی اللہ کی اولاد کو خصوصی امتیاز تب حاصل ہوگا جب وہ پچھلے آدموں کی اولاد سے مختلف ہونگے ۔ یہ پچھلے آدموں کی اولاد سے تبھی افضل ہونگے جب علم الاسماء کے حامل ہونگے کیونکہ اُس علم کی وجہ سے ہی آدم صفی اللہ کو عظمت ملی تھی اور اُسی علم کی وجہ سے اُسکی اولاد کو فضیلت ملے گی۔

علم الاسماء کیا ہے ؟

اب یہ جانیں کہ علم الاسماء(ناموں کا علم )ہے کیا؟جاہل ، اجڈ ، گنوار مولویوں اور عالموں نے اسکا مفہوم ہی بگاڑ دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اس چیز کا نام پانی ہے ، اس چیز کا نام چشمہ ہے اور اس چیز کا نام چھت ہے ، یہی علم الاسماء یا ناموں کا علم ہے۔کوئی ان جاہلوں سے پوچھے کہ پچھلے آدم کی جو اولادیں تھیں کیا اُنکو مختلف چیزوں کے ناموں کا پتہ نہیں تھا؟جب انکو بھی پتہ تھا اور تم کو بھی پتہ ہے تو خصوصیت کہاں ہوئی؟علم الاسماء اللہ کے مختلف اسماء(ناموں )کا علم ہے صرف نام نہیں بلکہ ہر اسم کا علم ہے ۔اور وہ علم یہ ہے کہ اللہ کے مختلف اسماء(ناموں)کے ذریعے نور کیسے بنایا جائے اور اس نور سے اپنی روحوں کو کیسے منور کیاجائے۔اللہ نے یہ علم آدم صفی اللہ اور اسکی اولاد کو دیا۔اُن میں جو بھی مرسل آیا اسکو خصوصی علم دیکر بھیجا گیا کسی کولطیفہ قلب کا علم ، کسی کو لطیفہ روح کا ، کسی کولطیفہ سری کا ، کسی کولطیفہ خفی کا تو کسی کو لطیفہ اخفیٰ کا اور حضور پاک کولطیفہ انا کا علم بھی دیا۔اِن علوم کے ذریعے آدم صفی اللہ اور اسکی اولاد کے پاس فضیلت آئی۔اگر آپکے پاس یہ علم نہ ہو تو آپکی کوئی فضیلت نہیں ہے۔جیسا کہ اگر آپکا سارا خاندان پڑھا لکھا ہو لیکن آپ نہ ہوں تو آپکے گھر میں موجود لائبریری آپ کیلئے بیکار ہے ، پڑھے لکھے ہوتے تو اس سے استفادہ حاصل کر سکتے تھے۔

ہر مرسل کو اللہ کے علیحدہ اسم کی تعلیم ملی :

ہر مرسل کو اللہ تعالیٰ کے ایک علیحدہ اسم کی تعلیم ملی۔با الفاظ دیگر ہر امت کو اللہ کے الگ الگ اسم کا نور ملا ، کسی کو یا رحمان ، کسی کو یا قدوس اورکسی کو یا وہاب کا اسم اور نور ملا۔اُن مرسلین کو اللہ کے صفاتی اسماء کا علم ملا جسکی وجہ سےاُن مرسلین(اور انکے اولیاء)کی پہنچ صرف اللہ کی صفات تک رہی۔اسی لئے اُن میں سے کسی کو صرف اللہ سے رابطے ، کسی کو اللہ کی محبت اور کسی کو اللہ سے کلام کرنے تک رسائی ملی لیکن حضور پاک ﷺکو خصوصیت سے اللہ کے ذاتی نام (یعنی اسم ذات )کی تعلیم ملی جسکی وجہ سے اُنکی (اور انکی امت کے اولیاء کی)رسائی اللہ کی ذات تک ہوسکی۔
آج جو انسانیت کی صورتحال ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی مذہب میں وہ علم الاسماء نہیں رہا۔ہر مذہب میں لوگ جس نام سے بھی رب کو پکارتے ہیں اس نام سے نور بنانے کا طریقہ اُنکے پاس نہیں رہا اور نہ اُنکو اِس بات کا شعور رہا کہ ہم کو اپنی روحوں اور قلوب کو منور کرنا ہے۔حالانکہ یہ باتیں قرآن مجید میں صاف صاف لکھی ہوئی ہیں کہ مومن تب بنوگے جب نور تمہارے دلوں میں آجائیگا لیکن مولویوں نے اسکی تاویلات بنا رکھی ہیں کہ جب تم نے صدق دل سے کلمہ پڑھا تھا تو نور خودبخود اندر آگیا۔لیکن اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے،اگر قلب میں نور آیا ہوتا تو نور کی تاثیر انکی ذات سےبھی جھلکتی نظر آتی۔

”نور کو اندر قلب اور روح تک پہچانے کیلئے ہی تو علم کی ضرورت پڑتی ہے جسکو علم الاسماء کہتے ہیں جو اللہ نے آدم صفی اللہ کو سکھایا تھا،اِس علم کے بغیر نور قلب و روح میں داخل نہیں ہوسکتا“

پچھلے آدموں کی اولاد بھی اللہ کی عبادت کیا کرتی تھی لیکن وہ صرف ظاہری(یعنی زبانی یا جسمانی)عبادت تھی اور ظاہری عبادت سے نور قلب اور روح میں داخل نہیں ہوسکتا اُس کیلئے روحانی تعلیم کی ضرورت پڑتی ہے جسکو اللہ نے علم الاسماء کہا ہے۔

انسانیت کی موجودہ صورتحال :

آج دنیا اور انسانیت دوبارہ اُس مقام پر پہنچ گئی ہے جہاں آدم صفی اللہ کے آنے سے پہلے تھی۔کسی بھی مذہب والے سے پوچھو کیا تمہارا اللہ سے رابطہ ہے؟کہے گا نہیں۔اگر آپ اللہ سے رابطے میں نہیں ہیں تو حضور پاکﷺ کی اُمت کو تو چھوڑو تم آدم صفی اللہ کی امت میں سے بھی نہیں ہو کیونکہ ادنا ترین جو مرشد ہیں وہ آدم صفی اللہ ہیں۔آپکے پاس نہ آدم کی تعلیم ہے ، نہ ابراہیم کی تعلیم ہے ، نہ موسیٰ کی تعلیم ہے ، نہ عیسیٰ کی تعلیم ہے اور نہ آپکے پاس حضور پاک کی تعلیم ہے ، تو سب بیکار ہوگیا۔یہ جو اِس وقت منظرنامہ بن گیا ہے کہ مذاہب والے تو سب موجود ہیں،اُنکی کتابیں بھی موجود ہیں لیکن جس علم سے فضیلت ملی تھی وہ علم نہیں ہے۔اِس وقت آپ جو عبادت کر رہے ہیں ایسی روکھی سوکھی جسمانی عبادات تو پچھلے آدم بھی کرلیتے تھے ۔فضیلت تو اُنکو ملی جنہوں نے دل (قلب) کا علم سیکھا اور اپنی روحوں کو منور کرکے اپنے دلوں کی آواز کو اللہ کی ذات تک پہنچایا۔وہ فضیلت والے ہوگئے،آپ تو نہیں ہیں،آپکا تو وہی حال ہوگیا ہے جو آدم صفی اللہ کے آنے سے پہلے انسانوں کا تھا۔اب چونکہ سارے مذاہب سے روحانیت چلی گئی تو سارے مذاہب کی فضیلت بھی ختم ہوگئی اور اِس صورتحال کو قرآن کریم نے اِس طرح بیان کیا ہے ،

یا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّـهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
سورۃ المائدہ آیت نمبر 54
ترجمہ:اے ایمان والو تم میں جب لوگ اپنے اپنے ادیان سے پھر جائینگے تو عنقریب اللہ ایک ایسی قوم کیساتھ آئیگا کہ اللہ اُن سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ایمان والوں پر نرم اور کافروں پر غالب۔اللہ کی راہ میں جدوجہد کرینگے اورکسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرینگے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔

یعنی اے لوگو ! جب تم اپنے اپنے ادیان سے پھر جاؤگے تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو لائیگا کہ وہ اللہ سے محبت کرتے ہونگے اور اللہ اُن سے محبت کریگا۔اِس وقت یہ صورتحال ہوگئی ہے کہ ہر مومن اپنے دین سے پھر چکا ہے،کسی بھی دین میں کوئی مومن نہیں بچا اور یہ وہ وقت ہے جو مندرجہ بالا آیت میں اللہ نے بیان کیا ہے۔ اب بھی اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ امام مہدی کا زمانہ نہیں ہے تو وہ قرآن مجیدکی توہین کر رہا ہے۔آپ قرآن مجید کی اِس آیت کو دیکھ لیں اور جس دور اور جن حالات میں ہم رہ رہے ہیں اُنکو دیکھیں تو آپکو یہ جاننے میں زیادہ دشواری نہیں ہوگی کہ ہم اُسی دور سے گزر رہے ہیں جس کیلئے فرمایا تھا کہ لوگو جب تم اپنے اپنے دین سے پھر جاؤگے۔اب چونکہ لوگ اپنے ادیان سے پھر گئے ہیں لہذا ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کہے کہ جی کسی بھی ٹوٹے پھوٹے مذہب کو کسی مکینک کے پاس لیجا کر اُسکی مرمت کروالو۔ایسا نہیں ہے۔اگر مرمت ممکن ہوتی تو اللہ تعالیٰ شروع میں ہی کسی ایک دین کو بھیج دیتا اور قیامت تک اُسکی مرمت ہوتی رہتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ایک دین گیا پھر دوسرا دین آیا پھر تیسرا۔جب آدم کا دین قابل مرمت نہیں رہا تو ابراہیم کے ذریعے دوسرا دین آگیا۔اُس میں گڑ بڑ ہوئی تو موسیٰ کا دین آگیا،اُس میں گڑ بڑ ہوئی تو عیسیٰ کا دین آگیا،اُس میں گڑبڑ ہوئی تو حضور پاک آگئے۔اب تو اِس دین میں بھی گڑبڑ ہوگئی ہے۔اس دور کیلئے حضور پاک نے بھی فرمایا تھا لا یبقیٰ من الاسلام الّا اسمہ و لا یبقیٰ من القرآن الا رسمہ (دورِ آخر میں اسلام میں سے کچھ باقی نہیں رہے گا سوائے نام کے اور قرآن میں سے کچھ باقی نہیں رہے گا سوائے رسومات کے)۔یعنی حضور پاک نے بھی اِس دین کے خاتمے کی پیش گوئی فرما دی تھی۔

آج کہیں بھی اسلام کا وجود باقی نہیں رہا :

مسلمان کہتے ہیں کہ امام مہدی تمام دنیا میں اسلام پہنچا دینگے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ جو اسلامی ممالک ہیں اُن میں تواسلام ہےنہیں تم پوری دنیا کی بات کر رہے ہو۔بظاہر اسلامی ممالک کہلانے والے ممالک تک میں اسلام موجودنہیں ہے۔اِسی طرح گھر کو دیکھ لیں،آج کونسا ایسا گھر ہے جہاں اسلام قائم ہے۔اسلام دَر و دیوار پہ قائم نہیں ہوتا،اسلام لوگوں کی زندگیوں میں قائم ہوتا ہے۔زبان سے سب ہی شریعت ِمصطفی کے نفاذ کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن کتنا عرصہ ہوگیا ہے ، کہاں ہے شریعت مصطفی؟مسلمانوں کی ساری باتیں ہی جھوٹی ثابت ہوئی ہیں۔شریعت مصطفی کا نفاذ کہاں ہونا ہے ؟ شریعت ِمصطفی کا نفاذ تو اپنی جانوں پر ہوگا، اپنی زندگیوں پر ہوگا،اُسکا نفاذ کسی عمارت کے اوپر تو نہیں ہوگا۔مسلمان یہی باتیں کرتے آرہے ہیں کہ ملک میں شریعت ِمصطفی کا نفاذ ہو،شریعت قائم ہو۔آجکل یہی نعرہ طالبان والے لگا رہے ہیں لیکن آپ دیکھ لیں اُنکی شریعت کیسی ہے۔حضور پاک نے منع فرمایا تھا کہ دوران جنگ بھی عورتوں اور بچوں پر کوئی ہاتھ نہ اٹھائے،بیماروں کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔لیکن دیکھ لیں یہ کیا کر رہے ہیں۔عورتوں کو بھی مار رہے ہیں،بچوں کو بھی مار رہے ہیں،یہ ہے اِنکی شریعت۔سنتے سنتے کان پک گئے کہ شریعت مصطفی کا نفاذ ہوگا، شریعت مصطفی کا نفاذ ہوگا۔اتنے سالوں سے یہ بات ہورہی ہے اُسکے باوجودابھی تک تو کچھ نہیں ہوا۔اِسی طرح کشمیر کیلئے خانہ کعبہ میں دعائیں ہورہی ہیں،فلسطین کیلئے دعائیں ہورہی ہیں ۔ بس دعائیں ہورہی ہیں اور کچھ نہیں ہورہا۔سب یہی کہہ رہے ہیں کہ اے اللہ ہم تو عیاشی کر رہے ہیں ہم کو جو پیٹرول کا پیسہ آیا ہے اس سے ہم نے عیاشی کرنی ہے ہم فلسطین کی مدد نہیں کرسکتے تو ہی مدد فرما۔لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اب اس دنیا سے منہ موڑ لیا ہے،وہ تو دیکھنا ہی نہیں چاہتا وہ تو بیزارہوچکا ہے۔

لوگوں کی نمازاور عبادات اللہ تک نہیں پہنچ رہی:

یہ مولوی اور مولویوں کے پٹھو اور ٹٹوسیدنا اما م مہدی گوھر شاہی کی بارگاہ میں بدکلامی اور گستاخی کرتے ہیں،یہ جاہل لوگ ہیں انکو کیا معلوم اسلام کیا ہے،انکو کیا پتہ قرآن مجید کیا ہے،حدیث کیا ہے ۔ اِن لوگوں کو کچھ نہیں پتہ یہ تو بس بھیڑ چال میں لگے ہوئے ہیں۔اِنکے باپ نے ایسا کیا یہ بھی ویسا ہی کررہے ہیں۔اِنکے باپ کے باپ نے جو کیا،اسکے باپ نے بھی وہی کیا۔بھیڑچال میں لگے ہوئے ہیں۔ آنکھوں پہ پٹی باندھی ہوئی ہے۔نماریں پڑھ رہے ہیں لیکن یہ نہیں پتہ کہ کیوں پڑھ رہے ہیں اور نماز پڑھنے کا کیا فائدہ ہے۔روزہ رکھ رہے ہیں لیکن روزے کا پتہ ہی نہیں کہ کیوں رکھ رہے ہیں۔روزہ رکھ کر ہالی وڈاور بالی وڈکی ننگی ننگی فلمیں دیکھتے ہیں۔کسی سے پوچھو کہ تم اتنی سخت گرمی میں روزہ رکھ رہے ہو تمہیں پریشانی نہیں ہوتی تو کہتا ہے روزہ تین فلموں کی مار ہے اور کیا ہے،تین فلمیں دیکھ لو بس روزہ ختم ۔ بیڈ یا صوفے پر بیٹھ کر ائیر کنڈیشن لگا کے سارا دن اگر آپ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلمیں دیکھتے رہیں اور شام کو اٹھ کر افطار کرلیں تو کیا یہ روزہ ہے؟پاکستان میں جو سنجیدہ مزاج لوگ ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ روزے کیساتھ نماز بھی پڑھو،نماز کے بغیر روزہ نہیں ہوگا۔لوگ کہتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرما۔اُن لوگوں کی اگر ایک نماز بھی اوپر پہنچ جاتی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُنکو مستقل نماز کی توفیق مل جاتی کہ اُسکی نماز اللہ تک پہنچ گئی تھی۔لیکن یہ اللہ تک جاہی نہیں رہی،آپکی بات اللہ تک پہنچ ہی نہیں رہی۔رمضان کے علاوہ گیارہ مہینوں میں تو نماز پڑھی نہیں اس مہینے میں آکر نماز پڑھ لی اِس نماز کا،ایسے روزے کا کوئی فائدہ تو نہیں لیکن لوگ بس پڑھ رہے ہیں ایک عادت سی ہوگئی ہے روزہ رکھنے اور نماز پڑھنے کی۔

انسانوں کی موجودہ حالت اللہ کے بیزار ہونے کا ثبوت ہے:

ملک پاکستان میں لوگوں کو دیکھا کہ خود رشوت لیتے ہیں لیکن دوسرے کو رشوت لیتے دیکھیں تو کہتے ہیں یار دیکھو کیسا زمانہ آگیا ہے حضور پاک نے تو فرمایا تھا کہ رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔یعنی خود تو رشوت لے رہے ہیں لیکن دوسروں پہ تنقید کرتے ہیں۔یعنی احساسختم ہوگیا ہے۔اگر آپکے اندر ابھی تک کوئی بھیجہ ہے اور آپ خود کو تیس مار خان سمجھتے ہیں تو بکواس کرنے اور تنقید کرنے کے بجائے قرآن شریف کھول کےسورۃ المائدہ کی آیت نمبر 54 پڑھیں جس میں لکھا ہوا ہے کہ”اے مومنو جب تم اپنے ادیان سے پھر جائوگے تو اللہ تعالیٰ اپنی قوم کو لیکر آئیگا“
باالفاظ دیگر اب اللہ انسانوں سے بیزار ہے۔جب اللہ کی ہمت جواب دے گئی کہ اب انسانوں سے بھلائی کی کوئی امید نہیں ہے،جب اللہ مایوس ہوگیا تبھی دیکھیں انسان کی اب کیا حالت ہوگئی ہے۔آج کے معاشرے پر ایک نظر دوڑائیں تو آئے دن یہ خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ کوئی بہنوں کے ساتھ زنا کر رہا ہے تو کوئی باپ کیساتھ کر رہی ہے۔ماں نے اپنے بارہ سالہ بیٹے کیساتھ زنا کیا،بتائیے کیسا زمانہ آگیا ہے۔لوگوں میں انسانی جبلت نہیں رہی۔انسانوں سے انسانیت چلی گئی ہے۔انسان صرف صورت کا رہ گیا ہے سیرت انسان کی نہیں رہی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے منہ پھیر لیا ہے۔آپ لڑتے جھگڑتے رہیں ، سنی، شیعہ ،وہابی، عیسائی، یہودی ،صیہونی سب ایک دوسرے کو مارتے رہیں کیا فرق پڑتا ہے؟اللہ تو تم سے منہ موڑ کے بیٹھا ہوا ہے۔

نبی ایک روحانی مکینک ہوتا ہے جو دین میں پیدا ہونے والی خرابی کو صحیفے کی مدد سے دور کرتا ہے:

اِس وقت تمام مذاہب کے لوگوں کے اندر عظمت ختم ہو چکی ہے اور یہ واپس اپنی اصلیت پر آگئے ہیں۔مزید یہ کہ نبی بھی سارے ختم ہوچکے ہیں،اسکے علاوہ جس جس لطیفے پر علم آنا تھاوہ لطیفے بھی پُر ہوگئے ہیں۔ جب نبوت ختم ہوگئی تو کسی بھی مذہب کی مرمت کیسےکی جائےگی؟پہلے تو صحیفے کے ذریعے مرسلین کے مذاہب کو مرمت کیا جاتا تھا۔اور یہ کام نبی کیا کرتا تھا۔انبیاءدراصل مکینک ہی تھے ، روحانی مکینک کہ جب مرسل کا دین یااسکی کتاب میں کوئی رَد و بدل ہوجاتا،کوئی مسئلہ ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ انبیاء کو صحیفے بھیجتا جسکے ذریعے وہ اُس دین کو ٹھیک کردیتے تھے۔چونکہ حضور پاک ﷺآخری نبی تھے اور نبوت ختم ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے عارضی طور پردین میں تجدید کروانے اور اُسکو درست کروانے کا کام بنی اسرائیل کے نبیوں سے لیا تھا وہی کام( نبوت کے ختم ہوجانے کی وجہ سے)علماء حق سے لیا ۔ لیکن آج ولایت بھی ختم ہوچکی ہے ۔ جب ولایت ختم ہوگئی تو علماء حق بھی ختم ہوگئے۔یہ جو کتابیں آپ پڑھتے ہیں،ان کتابوں کو پڑھ کر کوئی عالم نہیں بنتا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے کہ

علماء من صدری ، سادات من صلبی و فقراء من نور اللہ تعالیٰ

کہ علماء کا تعلق میرے صدر (سینے ) سے ہے ، سادات کا تعلق میرے نطفے سے ہے اور فقراء کا تعلق اللہ کے نور سے ہے ۔ اب جنکے سینے حضور پاک کے سینے سے جڑے ہونگے تب ہی تو حضور کے سینے سے انکو علم ملیگا ۔ کتابیں پڑھ کے جو عالم بن گئے ہیں وہ عالم تو نہیں ہیں حضور پاک نے تو ایسے لوگوں کو عالم نہیں کہا ۔ عالم وہ ہے جسکو حضور پاک کے سینے سے فیض اور علم ملا ہو ۔

کیا اللہ کی مرضی کے خلاف اسلام میں فتنہ و فساد بپا ہوسکتا تھا ؟

جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث میں حضور پاک نے ارشاد فرمایا کہ علماء کا تعلق میرے سینے سے ہے۔سینے سے تعلق کیا ہوتا ہے؟سینے سے تعلق سے مراد قلب کا قلب سے رابطہ ہوجانااور جڑ جانا۔اب دین کی تجدید کا جو کام بنی اسرائیل کے نبیوں نے کیا،انکے اوپر صحیفے بھیجے جاتے رہے لیکن نبوت کے ختم ہوجانے کی بناء پر عارضی طور پر اللہ تعالیٰ نے اُسکا متبادل بندوبست یہ کیا کہ حضور پاک کی اُمت کے اندر اتنی باطنی ہمت والے علماء حق،جنکا باطنی تعلق حبل اللہ کے ذریعے اللہ سے جڑا ہوا ہوگا بھیجے جائینگے اور اللہ تعالیٰ صحیفے کے بجائے الہام کے ذریعے دین ِمصطفی کی تجدید فرمائے گا۔بنی اسرائیل کے دور میں نبی کے ذریعے صحیفے کو بھیجا جاتا اور اِس صحیفے کے ذریعے جو آسمانی کتاب تھی اسکے اندر ہدایت کو دوبارہ بحال کیا جاتا۔اسلام میں وہی کام اولیاءاور علماء حق کے قلوب میں الہام بھیج کر کیا جاتا رہا۔ولایت ختم ہونے کے بعد اب علماء حق کا وجود نہیں رہا۔کتابوں کو پڑھ کر کوئی عالم نہیں بنتا۔عالم حق وہ ہوتا ہے جسکے پاس سینے کا علم ہو۔چونکہ وہ علم ہی نہیں رہا تو اب اسلام کیسے مرمت ہوگا۔ویسے بھی مدت پوری ہوجانے کے بعد نہ آدم کا دین مرمت ہوا ، نہ ابراہیم کا ، نہ موسیٰ کا اور نہ عیسیٰ کا۔اِسی طرح حضور پاکﷺ کے دین میں جو فتنہ و فساد آگیا ہے اسکو بھی ٹھیک نہیں کیا جاسکتا اور ٹھیک کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ضرورت کیوں نہیں ہے کہ ہر دین کی ایک معیاد ہے۔

”کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ اللہ تو چاہتا ہو کہ اسلام کو کبھی گزند نہ پہنچے،اسلام سدا بہار رہے اور اُسکے اندر کوئی فتنہ و فساد پیدا نہ ہو لیکن اللہ کی خواہشات کے برخلاف دنیا میں انسانوں کی طاقت سے اسلام میں فساد پیدا ہوگیا ہو“

اور اب اللہ ناراض ہے کہ میری اجازت کے بغیر یہ فتنہ و فساد کیسے ہوگیا؟ایسا تو نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا تو اگر اِس دین میں بھی فتنہ و فساد پیدا ہوگیا ہے تو پھر آپکو جاننا پڑیگا کہ اُس میں اللہ کی رضا شامل ہے ۔ ہر دین کی ایک حد یا معیادہوتی ہے اور ہر دین کے اوپر ایک خاتمے کا ٹیگ لگا ہوا ہوتا ہے جو کہ آپکو نظر نہیں آتا ۔ لہذا دین اسلام بھی ختم ہوچکا ہے۔حضور پاک ﷺنے ایک حدیث میں فرمایا کہ

يختم الدين كما بنا فتح
ترجمہ :کہ جس دین کا آغاز میں کر رہا ہوں (امام مہدی کی آمد پر ) یہ دین ختم ہوچکا ہوگا۔

اسی طرح قرآن میں ایک جگہ آیا ہے کہ

لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
سورۃ یونس آیت نمبر 49
ترجمہ:ہر امّت کیلئے خاتمے کا ایک وقت مقرر ہے۔جب آ جاتا ہے انکے خاتمے کا وقت تو وہ نہ ایک ساعت پیچھے رہ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں ۔

یعنی اللہ کی طرف سے ہر اُمت کیلئے ایک معیاد یا مدت مقرر ہے اور یہ مدت نہ ایک گھڑی (ساعت) کم ہو سکتی ہے اور نہ ایک گھڑی زیادہ۔اور اُس معیاد کے ختم ہوجانے پر اُس دین میں فتنہ و فساد بپا ہوجاتا ہے جسکے بعد اُس دین کو مرمت نہیں کیا جاسکتا۔بنی اسرائیل میں انبیاء آتے رہے اور اُنکے ادیان کی مرمت ہوتی رہی لیکن ایک وقت ایسا آتاہے جسکے بعد وہ دین ٹھیک ہونے کے بجائے ایک نیا دین آجاتا۔یعنی اگر دین کی معیاد ختم نہیں ہوئی تو وہ دین مرمت ہوتا رہے گا اور اگر معیاد ختم ہوگئی تو پھر مرمت نہیں ہوگا بلکہ ایک نیا دین آجائیگا۔حضور پاک کی اُمت میں بھی شکست و ریخت جاری رہی۔اتنے سارے منحوس جو آگئے اس دین میں۔زبردستی لوگوں کو اُس دین میں داخل کیا گیا،کسی کو انڈونیشیا سے پکڑ لیا کسی کو کہیں اور سے پکڑ کر اس دین میں داخل کر دیا گیا۔جس کو داڑھی بنانے کی تمیز نہیں تھی وہ امام بن کے بیٹھا ہوا ہے ۔ یعنی جنکو سرے سے پتہ ہی نہیں کہ اسلام کیا ہے،قرآن کیا ہے بس دیوبندیوں نے جاکے انکو سکھا دیا کہ مولانا الیاس کاندھیلوی کی یہ کتاب لے لو ، یہ تبلیغی نصاب ہے ، بس اِسی کو پڑھ لو،قرآن و حدیث کو پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔یہ جتنے بھی وہابی اور دیوبندی ہیں انکو صرف اپنا تبلیغی نصاب فضائل الاعمال یاد ہے اور یہ کتاب ہی اِنکے دین کا مرکز و محور ہے۔بحث کیلئے میں نے بھی کتاب فضائل اعمال خریدی تھی۔آپ یقین کریں میں نے جتنے بھی لوگوں کو دیکھا،بحث بھی کی۔بحث کے بعد پتہ چلا کہ جتنے بھی قصے کہانیاں اِس کتاب میں ہیں وہ ان کو رٹے ہوئے ہیں اسکے علاوہ اگر کوئی حدیث سنادو تو کہیں گے کہ یہ تو حدیث ہی نہیں ہے۔یہ نہیں کہیں گے کہ ہمیں اِسکا علم نہیں ہے۔یعنی اگر آپ نےکوئی حدیث بیان کی ہے اور وہ اُنکی کتاب میں نہیں ہے تو کہیں گے یہ حدیث جھوٹی ہے۔یہ میرا ذاتی تجربہ ہے۔یہ نہیں کہیں گے کہ یار میں نے یہ حدیث کبھی سنی نہیں بلکہ کہیں گے یہ حدیث جھوٹی ہے ، یہ حدیث ہے ہی نہیں۔جو کچھ اُس کتاب کے اندر لکھا ہے وہی انکا دین ہے۔اُن لوگوں کا کہنا ہے کہ دیکھو اِس کتاب میں کتنے باب ہیں، قرآن کا نچوڑ ہے یہ کتاب۔اس میں سب چیزیں رکھ دی گئی ہیں،اس میں حدیثیں بھی ہیں،اس میں قرآن شریف کی تفسیر بھی ہے اسکے اندر پتہ نہیں کیا کیا بھر دیا ہے اب اسکی موجودگی میں قرآن کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔لوگوں نے اِس کتاب کے قصے کہانیاں رٹے ہوئے ہیں،دین کا تو علم ہی نہیں ہے۔
اب چونکہ علماء حق کا وجود نہیں رہا لہذا دین میں تجدید وغیرہ کا کام بھی نہیں ہوسکتا۔یہ مولوی، یہ دنبہ کھانے والے ، چرغہ کھانے والے ، حلوے مانڈے کھانے والے یہ لوگ علماء حق تھوڑی ہیں یہ تو علماء سو اور علماء شرار ہیں۔عالم حق وہ ہوتا ہے جسکا سینہ منور ہو اور جسکو فیض اور علم حضور پاک کے سینے سے ملا ہو۔اب وہ تعلیم ناپید ہوچکی ہے،حبل اللہ کٹ گئی،ولایت بھی ختم ہوگئی اور لوگوں کا اللہ سے رابطہ نہیں رہا۔اگر اللہ نے کوئی تجدید کرنی ہوتی تو وہ رابطہ نہیں کاٹتا۔اللہ نے جس دین کی تجدید کرنی ہوتی ہے تو وہ اُس دین کے اندر ولایت کا نظام زندہ و جاوید رکھتا ہے اور اُسی نظام کے ذریعے لوگوں کا رابطہ اللہ سے جڑا رہتا ہے۔جب آپکا اللہ سے رابطہ قائم نہیں رہا تو آپکو ہدایات کہاں سے ملیں گی؟ تعلق ہی نہیں جڑا،رابطہ ہی قائم نہیں ہوا تو ہدایاتکہاں سے آئینگی۔لہذا اب اسلام میں مرمت نہیں ہوسکتی ، باقی ادیان جو اس سے پہلے آئے تھے ان میں بھی مرمت نہیں ہوسکی تبھی تو نئے ادیان آئے تھے۔اِس وقت حالت یہ ہے کہ جتنے بھی مذاہب ہیں وہ سب ختم ہو کر فتنہ و فساد کا شکار ہوچکے ہیں۔اِس دور میں مندرجہ بالا آیت کی ہمیں کامل مثال ملتی ہے کہ اے مومنو جب تم اپنے اپنے دین سے پھر جائو گے۔تو اب انسان یہ سن لیں ، ہندو بھی سن لیں ، یہودی اور عیسائی بھی سنیں اور مسلمان بھی سن لیں کہ اب تم انسانوں کا زمانہ نہیں رہا اب تو اللہ تم سے بیزار ہوگیا ہے۔انسان کے پاس انسانیت نہیں رہی۔اب اللہ اپنی قوم کو لیکر آگیا ہے۔اور اللہ کی قوم کا مزاج تمہارے جیسا نہیں ہے۔اور اللہ کی قوم پر کوئی حدیث بھی لاگو نہیں ہوتی ، نہ کوئی دلائل آتے ہیں کہ بھئی اللہ سے محبت کیلئے ذکر و فکر کرو ۔ نہیں ، اُدھر یہی لکھا ہوا ہے کہ بس وہ اُن سے محبت کریگا وہ اُس سے محبت کرینگے۔

اللہ کی قوم پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے :

سوال یہ ہے کہ اللہ کی قوم کہاں ہے؟اِسکا جواب یہ ہے کہ ہم اللہ کی قوم کے لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں اور اپنے دوستوں کو بھی ڈھونڈنے کیلئے بھیجتے ہیں ۔ کسی کو ہم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ بھیجتے ہیں تو کسی کو ملیشیا اور سنگاپور ۔ اُنکو ساری دنیا میں بھیج رہے ہیں کہ جاؤ اللہ کی قوم کو ڈھونڈو ۔ اللہ کی قوم کسی ایک ملک میں نہیں آئیگی ، دوچار بندے ادھر ٹپکا دئیے دوچار بندے اُدھر ٹپکا دئیےتاکہ پورے خطے پر رحمت کا سایہ رہے۔اب ہم انکو کیسے ڈھونڈتے ہیں؟جب موسیٰ علیہ السلام سے اللہ نے کہا کہ تجھ سے بڑا بھی ایک عالم(حضرت خضر )ہے تو موسیٰ نے کہا میں اُس سے ملنا چاہتا ہوں ، کہا کہ وہ تو سمندروں میں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا میں ڈھونڈ لونگا ۔ تو اللہ نے کہا کہ یہ ایک مچھلی ہے اسکو ہاتھ میں رکھو جہاں سمندر میں چلتے چلتے یہ مچھلی گر جائے تو اسکا مطلب ہوگا کہ خضر وہیں پر ہیں۔وہ مچھلی موسیٰ علیہ السلام کے اُمتی کے ہاتھ سے پہلے ہی گر گئی تو وہ سمجھے کہ خضر علیہ السلام کا علاقہ آگیا ہے۔ خوب ڈھونڈا لیکن وہ نہیں ملے۔موسیٰ علیہ السلام بدگمان ہوگئے کہ اللہ نے تو کہا تھا جہاں مچھلی گرجائے وہیں پر ہونگے ، یہ کیا ہے ہم کو تو ملے ہی نہیں ۔ وہ واپس آگئے ، جب اللہ تعالیٰ سے بات چیت ہوئی تو اللہ نے کہا کہ تیرے اُمتی کے ہاتھ سے مچھلی پہلے ہی گر گئی تھی،چلو اب دوبارہ جاؤ۔دوبارہ گئے تو پھر کوئی اِسی طرح کا چکر ہوگیا تو پھر خضر علیہ السلام نے دُور سے خود ہی اُنکو آواز دی کہ اے عالم تجھے اپنے اطراف کا علم نہیں ہے اور دعویٰ کرتا ہے عالم ہونے کا،میں اِدھر بیٹھا ہوا ہوں اِدھر آجا۔ پھر وہ اُدھر چلے گئے۔اِسی طرح ہم بھی اللہ کی قوم کو تلاش کرنے جارہے ہیں۔اللہ کی جو قوم ہے وہ ایسا نہیں کہ انکے جسم کوئی نرالے ہونگے۔تم میں اور ان میں صرف روحوں کا فرق ہوگا ، جسموں کا فرق نہیں ہوگا۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ اللہ کی جو قوم آئیگی اسکے جسم مختلف ہونگے۔اب وہ قوم اِس دنیا میں آئیگی تو جیسے جسم یہاں انسانوں کے ہیں ویسے ہی جسم اُنکے بھی ہونگے۔فرق صرف روحوں کا ہوگا ، تمہارے اندر انسانوں کی روح ہےاور انکے اندر اللہ کی قوم کی روح ہوگی۔جس طرح یہ بھی لوہا ہے وہ بھی لوہا ہے باہم ایک دوسرے کے قریب لائیں تو کوئی کشش نہیں ہوگی۔ایک لوہا دوسرے کو بلائے گا کہ آ مجھ سے گلے مل لیکن ایک لوہا اِس طرف پڑا رہیگا دوسرا دوسری طرف ۔ لیکن اگر یہ لوہا اللہ کی قوم کا ہوا یعنی مقناطیس ہوا تو کھینچ لے گا۔تو ہم اللہ کی اُس قوم کو ایسے ڈھونڈتے ہیں کہ ہمارے پاس اسم ”را ریاض “کا مقناطیس ہے ۔ ہم لوگوں کو ”را ریاض“ کا اسم دیتے ہیں ۔ جسکی روح میں گھس جاتا ہے وہ اللہ کی قوم کا ہی ہوتا ہے، اللہ کی قوم کا نہ ہو تو یہ نام گھستا ہی نہیں۔اگر کسی کی روح میں را ریاض نہ گھسے اُس سے دوبارہ کلام نہیں کرنا،پوچھو کیوں؟وہ انسان ہوگا اور انسانوں سے تو اللہ بیزار ہوگیا ہے اب تم اُنکی صحبت میں کیوں بیٹھتے ہو؟جب تمہیں پتہ چل گیا کہ تو اُسکی قوم کا ہے تو اُسکی قوم والوں میں بیٹھ،اب انسانوں کی قوم میں کیوں رہتا ہے۔

یہ دور عبادات کا دور نہیں ہے :

یہ جو دور ہے،یہ اللہ کی قوم کا دور ہے۔یہ پوجا پاٹ کا دور نہیں ہے،نہ یہ نمازوں کا دور ہے ، نہ یہ روزوں اور قربانیوں کا دور ہے ، یہ صرف عشق کا دور ہے ، محبت الہیٰ کا دور ہے۔یہ وہ دور ہے کہ وہ تم سے محبت کرے اور تم اس سے محبت کرو۔یہ قرآن کا پیغام ہےاور یہی سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کا پیغام ہے۔انسانوں سے اللہ اب بیزار ہوچکا ہے اور وہ اپنی قوم کو لے آیا ہے۔اسکی قوم آہستہ آہستہ جمع ہورہی ہے۔تم لوگوں میں سے جسکی روح میں اسم را ریاض چلا گیا بس وہ اسکی قوم سے ہے اور جسکے اندرنہیں گیا وہ نہیں ہے۔جھوٹ بول کے کیا ملیگا،اگر کوئی کہےکہ جی میرا ذکر چلتا ہے۔چلتا ہے تو ٹھیک ہے،یہ تو قبر میں جاکے پتہ چلے گا کہ چلتا ہے یا نہیں چلتا۔اگر اللہ کی قوم کا ہوا تو کیا منکر نکیر آئینگے تیرے پاس؟اگر آگئے تو پھر سمجھ جانا کہ یہ تو بڑا مسئلہ ہوگیا ہے کیونکہ انکو اللہ کی قوم کے پاس آنے کی جرات نہیں ہے۔اور اگر انکو اللہ کی قوم کے پاس آنے کی جرات نہیں ہے تو سرکار گوھر شاہی کے غلام کی کیا شان ہوگی۔
اب یہ بات دنیا کو بتانی پڑیگی کہ یہ سارے دین ختم ہوگئے ہیں ، کسی میں فیض نہیں رہا ، کسی کا اللہ سے تعلق نہیں رہا ، نہ انکی مرمت ہوسکتی ہے ، نہ انکی تجدید ہوسکتی ہے ، یہ سب خراب ہوگئے ہیں، باسی ہوگئے ہیں ، بیکار ہوگئے ہیں۔اب اللہ نے اپنی قوم کو متعارف کروانے کا منصوبہ بنایا ہے۔چونکہ اس نے اپنی قوم کو متعارف کروانا ہے ، اسی لئے اُس نے اپنا دین بھی متعارف کروادیا ہے۔اُسکی قوم کے لوگ یوم ازل میں اُس سے محبت کرتے تھے۔سیدنا گوھر شاہی نے اپنی تصنیف لطیف ”دین الہیٰ“ میں ارشاد فرمایا ہے کہ

”آخری زمانے میں اللہ تعالیٰ کسی ایک خاص روح کو دنیا میں بھیجے گا جو ان روحوں کو تلاش کرکے اکٹھا کریگا اور انہیں یاد دلائے گا کہ کبھی تم نے بھی اللہ سے محبت کری تھی ایسی تمام روحیں خواہ کسی بھی مذہب یا بے مذہب اجسام میں تھیں اس کی آواز پر لبیک کہیں گی اور اسکے گرد اکٹھی ہوجائیں گی ۔ وہ رب کا ایک خاص نام ان روحوں کو عطا کریگا جو قلب سے ہوتا ہوا روح تک جا پہنچے گااور پھر روح اس نام کی ذاکر بن جائیگی۔وہ نام روح کو ایک نیا ولولہ ، نئی طاقت اور نئی محبت بخشے گا۔اس کے نور سے روح کا تعلق دوبارہ اللہ سے جڑ جائیگا ۔“

رابطہ دوبارہ جڑنے سے مراد یہ ہے کہ اِس دنیا میں آنے سے پہلے وہاں رب سے محبت کرتے تھے ، نیچے آئے تو رابطہ کٹ گیا ، جب وہ اسم اندر جائیگا تو رابطہ دوبارہ جڑ جائیگا ۔

مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل ہی قافلہ مہدی ہے:

اہل اسلام سن لیں اور عیسائی اور یہودی بھی سن لیں کہ یہ سارے مذاہب تمہارے لئے بیکار ہوگئے ہیں۔نہ تو تمہاری توریت تمہیں ظلم کرنے سے روک رہی ہے ، نہ تمہاری انجیل ظلم کرنے سے روک رہی ہے اور نہ تمہارا قرآن تمہیں ظلم کرنے سے روک رہا ہے۔جب اِن مذاہب میں طاقت نہیں رہی تو تم میں روحانی طاقت کدھر سے آئے گی۔اب تم سے کچھ ہو ہی نہیں رہا،اسکا مطلب ہے کہ اب تم اللہ کی نظروں سے گر گئے ہو،اللہ نے تم سے نظریں پھیر لی ہیں،اب اللہ کو تم سے کوئی امید نہیں ہے اور اب اُس نے اپنی قوم کو متعارف کروایا ہے۔تم دیکھنا کہ اُسکی جو قوم ہے وہ غالب ہوگی اور اُسکی قوم کا جو گروہ ہے وہی قافلہ مہدی ہے۔آگے جاکے پتہ چلے گا کہ مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کیا ہے۔ہم اللہ کی قوم کی تربیت کر رہے ہیں اور اللہ کے دشمنوں سے لڑنے کیلئے حضرت عیسیٰ تیاری کر رہے ہیں۔ہم اللہ کی قوم تیار کرہے ہیں ، اسکو محبت کرنا سکھا رہے ہیں اور وہاں حضرت عیسیٰ نفرت والوں کو ختم کرنے کیلئے اپنی تیاری کررہے ہیں۔اس پیغام کو آگے بڑھائیں کہ اب ان مذاہب میں مرمت نہیں ہوسکتی ، یہ مذاہب بالکل ناکارہ ہوچکے ہیں۔آپ یقین کریں اب یہ مذاہب بھی رائٹ آف ہوچکے ہیں۔ان مذاہب کے صرف چھوٹے چھوٹے پارٹس لوگوں کے پاس موجود ہیں،کوئی اسلام کی کار کی گدی نکال کے اس پر بیٹھا ہوا ہے ، کسی کے ہاتھ میں اسٹیئرنگ ہے وغیرہ وغیرہ۔ایک گروپ کہتا ہے یا علی مدد ، یہ اسلام کا ایک پارٹ ہے پوری گاڑی نہیں ہے۔کوئی ولیوں کے نعرے لگا رہا ہے یہ بھی اسلام کا ایک پارٹ ہے،کوئی اہل بیت کے نعرے لگا رہا ہے،یہ سب پارٹس ہیں۔پورا اسلام یہ ہے کہ ولیوں کی بھی تعظیم کرو،اہل بیت کی بھی تعظیم کرو ،انبیاء کی بھی تعظیم کرو،اندر بھی پاک کرو باہر بھی پاک کرو یہی صراط مستقیم ہے۔اب تم ایک ہی طرف لگے ہوئے ہو۔اسلام اب کباڑ خانےمیں چلا گیا ہے ، وہاں کباڑی اسلام کے چھوٹے چھوٹے پارٹس لگا کر اپنی دکان پہ بیٹھے ہوئے ہیں ۔کسی نے اہل بیت کا پارٹ رکھا ہوا ہے ، کسی نے ولیوں کا پارٹ رکھا ہوا ہے تو کسی نے صحابہ کا پارٹ رکھا ہوا ہے الغرض کسی نے کچھ رکھا ہوا ہے کسی نے کچھ۔اب یہ مذہب اسکریپ میں چلا گیا ہے ،
رائٹ آف ہوگیا ہے۔اب اللہ کو اس سے دلچسپی ہی نہیں ہے۔اب نئی انتظامیہ آگئی ہے۔
اللہ نے چودہ ہزارآدم بنائے اور آخری آدم جنت میں بنایا لیکن وہ تجربہ بھی کوئی زیادہ کامیاب نظر نہیں آتا۔اب یہ تو نہیں ہوسکتا کہ وہ ایک اور آدم بنائے ، اب کہاں بنائے گا۔جنت سے آگے عالموں میں تو مٹی بھی نہیں ہے۔ جنت میں تو مٹی وغیرہ ہے ، عالم جبروت میں تو مٹی وغیرہ بھی نہیں ہے۔جنت کی مٹی سے بھی دوبارہ نہیں بنائے گا کہ وہ تجربہ پہلے ہی کرچکا ہے۔یہ لطیفے وغیرہ بھی ختم ہوگئے،اب وہ نئے لطائف بھی نہیں بنا سکتا۔تو اب یہ کہ وہ انسانوں سے بیزار ہوگیا ہے ، آدم وادم نہیں بنائے گا بلکہ اب وہ اپنی قوم کو لا رہا ہے۔اللہ کی قوم کے اندر اللہ کی صفات ہیں ، وہ انسانوں کی طرح نہیں ہیں۔

مسلمانوں کا اللہ سے تعلق ختم ہوچکا ہے:

لوگوں کو اللہ کا پاس ہی نہیں رہا ہے۔لوگوں کا اللہ سے تعلق تو اُسی دن ٹوٹ گیا تھا جب پاکستان میں سنیوں نے اسم ذات اللہ کی توہین کی تھی ۔ صلوۃ و سلام پڑھنے والے مسلمانوں نے جوتے مار مار کے یہ کہتے ہوئے اللہ کے نام کی توہین کی تھی کہ یہ گوھر شاہی والوں نے بنایا ہے۔جوتے مارے ، ڈنڈے مارے اور اسکوآگ لگا دی۔کیا تاریخ میں کبھی ایسا ہوا ہے ؟ ہم مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے لوگ اللہ کی محبت کی بات کرتے ہیں۔لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ گوھر شاہی والوں نے اللہ کا نام لکھا ہے لہذا اسکو مارو ، اسکی گستاخی کرو۔اسکا مطلب ہے کہ انکا اللہ سے تعلق نہیں ہے۔نہ صرف یہ کہ اللہ سے تعلق نہیں رہا بلکہ اللہ کے دشمن ہیں ، اللہ کے نام پر جوتے برسا رہے ہیں ، آگ لگا رہے ہیں۔

”لوگوں کا اللہ کی گستاخی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ اُن سے بیزار ہوچکا ہے۔یہ جو زمانہ ہے انسانوں کا نہیں ہے لہذا انسان کتے سے بھی زیادہ بری موت مر رہا ہے کیونکہ انسانوں کی بھی معیاد پوری ہوگئی ہے اب تو اللہ کی قوم کا زمانہ ہے ۔ ہاں اگر کسی نے اللہ کی قوم میں بھرتی ہونا ہے چاہے وہ انسان ہی کیوں نہ ہو تو پھر ہم سے رابطہ کرے “

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں