کیٹیگری: مضامین

انبیاء و مرسلین سے گناہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ بچا لیتا ہے:

سرکار گوھر شاہی کے فرمان ذیشان کے مطابق صرف انبیاء و مرسلین معصومین ہوتے ہیں۔جب ہم معصومین کہتے ہیں تو انگریزی زبان میں اس کا لفظ (Innocent) استعمال ہوتا ہےلیکن جو لوگ انگریزی زبان پر مہارت رکھتے ہیں وہ معصومین کے لئے (Infallible) کا لفظ استعمال کرتے ہیں یعنی غلطیوں سے مبّرا۔شیعہ اور اہلِ سنت والجماعت کے مطابق بھی تمام انبیاء و پیغمبراور تمام مرسلین معصوم ہیں اور ان انبیاء اور مرسلین کے علاوہ اہلِ بیت کے چودہ افراد اور بھی ہیں جنہیں چودہ معصومین بھی کہا جاتا ہے۔ ہمیں یہ تو نہیں پتہ کہ آیا ان کی معصومیت انبیاء و مرسلین کے برابر ہے یا نہیں لیکن ہم نے سنا یہی ہے کہ انبیاء و مرسلین کے علاوہ چودہ معصومین بھی ہیں۔
حالیہ فلپائن کے صدر نے اپنی ایک تقریر میں نہایت غصے میں یہ کہا کہ آدم صفی اللہ نے جنت میں غلطی کیوں کی تھی ؟ وہ بائبل کو بھی برا بھلا کہہ رہا تھا کہ بائبل نے یہ کیوں کہا ہے کہ ازلی گناہ تھا جو اُن سے سرزد ہواجبکہ ہر شخص ازلی گناہ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ۔اگر میری یہ گفتگو فلپائن کے صدر تک پہنچ جائے تو میں انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ بائبل اللہ کا کلام ہے اور یہ ہر ایرے غیرے نتھو خیرے کا کام نہیں ہے کہ آدم صفی اللہ جیسے مرسل پر نقطہ چینی کرے۔ دراصل لفظ ازلی گناہ کو صحیح طریقے سے سمجھا نہیں گیا۔ ازلی گناہ آپ کے جسم میں موجود لطیفۂ نفس کی طرف اشارہ ہے اور یہ لطیفۂ نفس ہی ہے جو برائی کا حکم دیتا ہے۔ جب نبی پاک ﷺ سےصحابہ کرام نےلطیفہ نفس کے بارے میں پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ ہر شخص کے ساتھ ایک شیطان جن پیدا ہوتا ہے صحابہ نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ بھی پیدا ہوا تھا؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا ہاں! میرے ساتھ بھی شیطان جن پیدا ہوا تھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ آپ ﷺ پر کوئی اثر کرتا آپﷺ کے جسم کی صحبت نے اُسے پاک کردیا۔اب ایک بات جو ہر شخص کے لئے سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی نبی اور پیغمبر اس دنیا میں بھیجے گئے انہوں نے اپنی نبوت کا اعلان چالیس سال کی عمر میں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی نبی یا پیغمبر چالیس کی عمر کو پہنچتا تو اللہ تعالیٰ اُسے پاک کردیتا ، اُسے روحانی بنا دیتا اور اُس کے نفس کو پاک کردیتا۔ اپنی نبوت یا رسالت کے اعلان اور تعیناتی سے پہلے وہ غلطی کرسکتا ہے تاہم غلطی سے پہلے اللہ تعالیٰ اُسے روک دیتا ہےیعنی انبیاء و مرسلین سے غلطی کا احتمال ممکن ہے لیکن اللہ تعالیٰ اُن کی حفاظت کرتا ہے انہیں ایسا نہیں کرنے دیتالہٰذا وہ عملی طور پر معصوم ہیں۔ رہی بات فقراء و اولیاء کی تو فقراء و اولیاء کا نبوت و رسالت سے نچلا درجہ ہے یعنی انبیاء و مرسلین کے مقابلے میں اولیاء و فقراء نچلے درجے میں آتے ہیں البتہ اولیاء کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی سے پہلے گناہ سے بری ہوں اُن سے غلطی ہوسکتی ہے یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ گناہ ہوسکتا ہے۔ اولیاء و فقراء و درویش مکمل طورپر پاک ہونے سے پہلے ، اپنے روحانی مقام کی آخری حد پر پہنچنے سے پہلے اگر کوئی غلطی کر لیں تو یہ بالکل ممکن ہے۔

نفس مطمئنہ ہونے سے پہلے اولیاء سے غلطی کا احتمال ہے:

فضیل بن عیاض اور ابو بکر حواری اور کئی دوسرے بڑے بڑے صوفیوں کے بارے میں ہے کہ وہ ڈاکو تھے۔ پاکستان میں بھی ایک درویش تھا ایوب خان کے دور میں جس کا نام تھا سجاول جو پنڈی میں رہتا تھا وہ پاکستانی روبن ہُڈ تھا۔ وہ امیر لوگوں کو لوٹ کر غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ بشمول پاکستانی فوج اور پولیس کوئی بھی اُس کو گرفتار نہ کرسکا ۔ ایک موقع پر پاکستانی فوج نے اُس کو گھیر لیا تھا اور جب وہ اُس کے قریب گئے اور اُس کو گرفتار کرنے ہی والے تھے کہ وہ اپنی جیپ سمیت غائب ہوگیا اور پھر ایوب خان نے اُس کو ایک پیغام بھیجا کہ تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا بس ایک دفعہ مجھ سے مل لو اور پھر وہ اُس سے ملنے آیا۔ تو شریعت کے مطابق جو شخص لوگوں کو لوٹتا ہے اُس کے ہاتھ کاٹ دینے چاہئے لیکن یہ شخص پاکستان میں امیروں کو لوٹتا تھا اور دوسری طرف اپنے پاس ایک پیسہ بھی نہیں رکھتا تھا ۔ وہ سب کچھ ضرورت مندوں کو دے دیتا تھا جو کہ واقعی ایک اچھا عمل ہے۔ شریعت کے مطابق یہ غلط تھا لیکن وہ اللہ کا دوست تھا اور پھر علامہ اقبال نے بھی کہا ہے: اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی یعنی اگر تمہارے دل میں اللہ کا عشق ہے اور تم کسی مذہب میں نہیں ہو پھر تم ٹھیک ہو۔ تو وہ جو روحانی رہنما مقرر ہوتے ہیں اپنی تقرری کے بعد وہ گناہ نہیں کرینگے۔ اگر وہ گناہ کرتے ہیں جو کہ ناممکن ہے تو وہ اپنے مریدوں کی کیا رہنمائی کرینگے ۔ کیونکہ قرآنِ مجید میں ہے اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جس پر تم خود عمل نہیں کرتے۔ مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ روحانی رہنما ، میں اِن الفاظ پر زور دے کر کہہ رہا ہوں کہ منجانب اللہ ، آج میں یہ کیوں کہہ رہا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ہر مرشدِ کامل جعلی ہے اور یہی وجہ ہے کہ لوگ اب سوال کرتے ہیں کہ کیا مرشدِ کامل سے غلطی ہوسکتی ہے ؟ کیونکہ انہوں نے اُن کو غلطی اور گناہ کرتے ہوئے دیکھا ہے یا شاید پاکستان میں جب کسی روحانی رہنما کے مرید وں سے پوچھا جاتا ہوگا کہ آیا مرشدِ کامل گناہ کرسکتا ہے تو وہ کہتے ہونگے کہ ہاں وہ گناہ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ نبی نہیں ہے ۔ یہ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ سے وِلایت یا وَلایت کا انعام ملنے سے پہلے وہ گناہ کرتے ہونگے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم نفس کے اپنی تمامیت پر پہنچنے اور نفسِ مطمئنہ میں تبدیل ہونے کے بعد تمہارے گناہ کرنے کا کوئی چانس نہیں ہے اور اگر تم گناہ کرتے ہو تو پھر تمہارا نفس مطمئنہ نہیں ہے۔انیباء و مرسلین اور مرشدین جو بھی منجانب اللہ مقرر ہے اُسے حالتِ صحو میں رہنا پڑتا ہے ۔
مومن کی حد ہے کہ نفس پاک ہوجائے۔ جب نفس پاک ہوجاتا ہے تو نفس الہامہ ہوتا ہے یعنی نفس ملہمہ۔ نفسِ ملہمہ ہوگیا تو پاک ہے۔ یہاں پر بھی گناہ کا احتمال نہیں رہتا ۔ ملہمہ کا مطلب ہی یہی ہے کہ گناہ کرنا چاہے گا تو مرشد کی طرف سے الہام آجائے گا مت کرو تو گناہ نہیں ہوپائے گااور اگر کسی کی تصدیق ہے کہ وہ ملہمہ ہے اور پھر وہ گناہ بھی کر رہا ہے تو پھر وہ جان لے کہ وہ ملحمہ نہیں رہاہے بلکہ ملحمہ والی حالت سے نیچے آگیا ہے۔ملحمہ سے وہ نیچے آسکتا ہے لیکن مطمئنہ کے بعد قابل اعتبار ہوجاتا ہے۔ملہمہ تک آجانا یہ مومن کا مقام ہے اس کو کہتے ہیں کہ یہ نفس پاک ہوگیا ہےلیکن اگر اُس کی روحانی حالت وہ نہ رہے جو ملحمہ کے وقت ہوتی ہے اور کسی وجہ سے نور میں کمی آجائے تو ملحمہ سے وہ دوبارہ لوامہ بن سکتا ہے۔ یہاں پر چانسز ہیں اور مطمئنہ صرف تجلی سے بنتا ہے۔ مطمئنہ صرف ولیوں کے لئے ہے۔ مومن کے لئے مطمئنہ نہیں ہے۔ اب ملحمہ کے بعد اگرتُو فنا فی الشیخ بن گیا ہے پھر مطمئنہ کے برابر ہوگیا ہے کیونکہ شیخ کی کوئی چیز تمہارے اندر آگئی لہذا وہ گناہوں سےروک کے رکھے گی یعنی اگر اُس کو گنا ہ کا اشتباہ بھی ہو تو اندر سے وہ گناہ کر نہیں پائے گا۔لہٰذا مرشدِ کامل سے گناہ نہیں ہوسکتااور اگر مرشدِ کامل سے بھی گناہ ہونگے تو پھر حق کی کسوٹی کیا رہ جائے گی تاہم تقرری سے پہلے یہ ممکن ہے کہ مرشد کامل سے گناہ سر زد ہو جائے لیکن ایک دفعہ جب وہ اللہ کا دیدارکر لیتے ہیں اور نفس مطمئنہ ہو جاتا تو ہر روز اللہ تعالیٰ کی تین سو ساٹھ تجلیات پڑتی ہیں ۔ ایک نظرِ رحمت سات کبیرہ گناہ جلاتی ہے لہٰذا مرشد کامل گناہوں سے مبّرا ہوجاتے ہیں۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 5 جولائی 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں