کیٹیگری: مضامین

امام مہدی کے حوالے سے ہم گذشتہ پندرہ سالوں میں متعدد بارتفصیلی گفتگو کر چکے ہیں لیکن جتنی بار اس موضوع پر گفتگو کر لیں یہ محسوس ہوتا ہے ابھی بہت ضرورت ہے۔ لائیو اسٹریم (Livestream) اور یو ٹیوب (YouTube) کی مدد سے ہماری بات عام لوگوں تک جا رہی ہے۔ہمار ا مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس عوام تک پہنچنے کا کوئی زریعہ نہیں تھا ۔جس طرح مولویوں کے پاس مساجد کی شکل میں پلیٹ فارم موجود ہے، اسی طرح مذہبی تنظیمیں کہیں بھی تمبو گاڑ کر اپنی گفتگو کرلیتے ہیں اور اپنی بات لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں ۔
سیدنا گوہر شاہی کو اور آپ کے ماننے والوں کو دنیا بڑی عجیب نگاہوں سے دیکھتی آئی ہے۔سیدنا گوہر شاہی نے عوام یا انجمن سرفروشان کے سامنےکبھی عالم غیب یا اللہ برادری کی بابت کچھ نہیں فرمایا۔جن موضوعات پر میں گفتگو کرتا ہوں سرکار نے اِن موصوعات پر گفتگو نہیں فرمائی نہ ہی یہ کہاکہ میں امام مہدی ہوں اس کے باوجودبھی اتنی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔لوگوں کے مزاج میں اتنی شدید مزاحمت نظر آتی ہے کہ کفر کے فتوے تو لگانے سے جب دل نہ بھرا تو بات یہاں تک پہنچی کہ گوہر شاہی کے ماننے والے احمدی اور قادیانیوں سے بھی زیادہ بڑے کافر ہیں ۔مسلمانوں میں اتنی زیادہ نفرتیں پھیلانے کہ ذمہ دار مولوی ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ کمیونٹی میں سیدنا گوہر شاہی کا ذکر کرنے پر رکاوٹیں آئیں بلکہ اس نفرت نے ہمارے کاروبار کو تباہ کرنے کی بھی بڑی کوششیں کیں ۔دنیا کی مخالفت اپنی جگہ ہے لیکن فطری طور پر امام مہدی کو تسلیم کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔

مخالفت کی بنیادی وجہ :

سیدنا گوہر شاہی کی بارگاہ سے سنا کہ اگر کوئی شخص تلاوت قرآن کرے تو شیطان کہتا ہے کرنے دو اس کا نفس تو ناپاک ہے ، الٹا قرآن اس پر لعنت بھیجے گا میں کیوں روکوں ۔ یا نماز پڑھے تو شیطان ایک کونے میں کھڑا ہو کر ہنستا ہے کہ لگا رہ ،جس چیز سے نماز اوپر جانی ہے وہ دل تو میرے ہاتھوں میں ہے جب جی چاہے گا موڑ دوں گا۔الغرض آپ کوئی بھی عبادت کرنا چاہیں ، شیطان اس سے نہیں روکتا کیوںکہ وہ جانتا ہے یہ ساری عبادتیں بے کار ہیں ، اچھا ہےلگا رہے اور اسی میں اس کو مطمئن کر دوں ۔لیکن سیدنا گوہر شاہی فرماتے ہیں کہ جیسے ہی کوئی قلب کو بیدار کرنے کی تعلیم کی طرف جاتا ہے تو شیطان اس کو روکتا ہے کہ اگر اسم ذات اللہ اس کے قلب میں داخل ہو گیا تو یہ میرے ہاتھوں سے گیا، اس لیے وہ اپنا پورا زور لگاتا ہے کے کسی بھی طرح اسم ذات اللہ اس کے قلب میں داخل نہ ہو جائے۔

مثال:

جب بایزید بسطامی جنگل میں وردو وظائف کرتے تو شیطان دور کھڑا دیکھتا رہتا لیکن جب اسم ذات اللہ کی طرف آ تے تو شیطان قریب آ کر تنگ کرتا۔ ایک دن وہ تنگ آ گئے اور ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے بھاگے کہ اس کو چھوڑوں گا نہیں ، اوپر سے آواز آئی بایزید یہ ڈنڈوں سے نہیں مرتابلکہ یہ اللہ کے نور سے مرتا ہے۔ سرکار فرماتے ہیں کہ ایک وقت یہ بھی آیا کہ جب وہ نور اعلی نور ہو گئے اور درجہ کمالیت پرپہنچ گئے تو ان کے وجود مبارک کی برکت سے شہر بسطام سے جادو گر چلے گئے کہ اب ہمارا جادو یہاں نہیں چلتا ان کی روحانیت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے۔دل میں اللہ کا نام داخل کرنے کا کام اتنا زیادہ اہم ہے کے اس کام کے کرنے سے انسان مومن بن سکتا ہے۔ اس لیے شیطان اپنی پوری کوشش کرتا ہے ۔اب یہ جو احمدی ، قادیانی وغیرہ ہیں ان میں نور تو نہیں تھا نہ ہے تو لوگوں نے ان کی ظاہری باتوں کو پکڑ کر ہی ان کا بائیکاٹ کر دیا۔شیطان کواُن سے اتنی آگ نہیں لگتی ۔ہمارا مشن ہی نور پھیلانا ہے تاکہ جو شیطان تمہاری عمر کے ساتھ ساتھ اندر پل رہا ہے وہ باہر نکل جائے اسی لیے شیطان کو ہمارے کام سے مرچیں لگتی ہیں ۔جوسرکار گوہر شاہی کے سامنے ادب سے آگئے ، نظروں میں آ گئے وہ محفوظ ہو گئے۔اور جو لوگ ملنے ہی نہیں آئے ایسے لوگوں کو شیطان گھیرے ہوئے ہے اور ان کی سربراہی کر رہا ہے۔کچھ بھی کرو کوئی شریعت کا مسئلہ نکالو، ان کو کافر قرار د ے دو تاکہ کوئی ان کے پاس جائے ہی نا ۔ شیطان نے اللہ کی پلاننگ کے حساب سے چلنا ہے، اس نے تو اللہ کو کہہ دیا ہے ۔

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلاَّ عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
سورۃ ص ، آیت 81
ترجمہ : تیری عزت کی قسم جتنی بھی جمیعت انسان ہے ان سب کو گمراہ کر دوں گاسوائے ان کے جو تیرے ہو گئے۔

یہ وہ ہیں جنہوں نے مرتبہ اخلاص کو حاصل کرلیا،خالص ہو گئے۔اب سکھ بھی یہ باتیں کہتا ہے ’’واہے گرو کی فتح واہے گرو کا خالصہ‘‘ اس سے مراد ہے خالص ہونا ۔آپ اگر مولویوں اور عالموں کی باتیں سنیں گے تو اُن کی (Vocabulary) اتنی خراب ہے کہ یہ جو الفاظ استعمال کرتے ہیں اس کا پریکٹیکل مطلب نہیں ہے۔ مولوی اورعالم بھی خالص ہو جائو جیسی باتیں کہتے ہیں لیکن نہ تو اس کا مطلب معلوم ہے نہ طریقہ۔

تعلیمات گوہر شاہی نے بتایا خالص ہونا کیا ہے:

انسان کے اندر چھ روحیں رحمانی ہیں اور ایک روح شیطانی ہے جس کا نام لطیفہ نفس ہے۔ اس کے علاوہ چار پرندے بھی سینے میں برائی لے کے بیٹھے ہیں ،کسی میں حرص و حسد ، کسی میں طمع ، کسی میں شہوت اور کسی میں تکبر ہے۔ یہ بیماریاں اللہ نے لطائف کے ساتھ لگائی ہیں ۔صبح سے شام تک نار سن رہے بول اور دیکھ رہے ہیں ،نار میں سانس لے رہے ہیں نار خون میں دوڑ رہی ہے ، اب بھلے جتنے چاہے توحید کے نعرے لگائیں یا جتنی دفعہ چاہے سورۂ اخلاص پڑھیں مرتبہ اخلاص پر فائز نہیں ہوں گےتاوقت یہ کہ اپنے پورے وجود سے غیر اللہ کو نکال دیں ، نس نس میں نور چلا جائے ، ہر لطیفہ منور ہو جائے اور اپنی اپنی جگہ اللہ کے ذکر سے آباد ہو جائے ۔لطیفہ نفس پاک ہو کرکم سے کم پاک ہو کر الہامہ بن جائے ۔ آپ کے قلب و قالب میں میں نار کا ایک زرہ بھی نہ رہے جب قلب منور اور پاک ہو جائے اوراند ر صرف اللہ کا نام اور اللہ کا نور رہ جائے اور شیطان مکمل طور پر باہر نکل جائے گا تب آپ خالص ہو جائیں گے۔ جب تک اندر شیطان ہے، نفس ناپاک ہے، سینے کے پرندے اندر ہی موجود ہیں آپ نا خالص اور ناپاک ہیں اور شیطان کی یہ ہی کوشش ہے کسی کو خالص نہ بننے دے۔کیونکہ اگر خالص بن گیا تو پھر وہ قانون کی قید میں ہو گا۔کیونکہ شیطان نے کہہ دیا ہے کہ جو تیرے خالص بندے ہوں گے ان کو میں گمرا ہ نہیں کر سکتا۔

’’سیدنا گوہر شاہی امام مہدی علیہ السلام نے جو تحریک چلائی ہم اس کو تحریک ِاخلاص، تحریک ِتقوی اور تحریک ِعشق کا نام دیں گے‘‘

وہابی ، دیو بندی ، اہل حدیث طبقہ جو تصوف کو نہیں مانتا ان کی جانب سے ہونے والی مخالفت پرتو ہم اپنےدل کو سمجھا لیتے ہیں کہ یہ تصوف کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ لیکن جب اہل سنت والجماعت، ان میں بھی وہ جواحمد رضا خان فاضل بریلوی کو مجدد تسلیم کرتے ہیں، اور ولیوں کے ماننے والے، گیارہویں منانے والے ، ربیع الاول منانے والوں نے بھی جب سیدنا گوہر شاہی کی دل والی تعلیم کی مخالفت کی تو مخالفت چاروں طرف سے ہونے لگ گئی ۔
جبکہ سیدنا گوہرشاہی کی ذات نےعظمت مصطفیؐ کے بارے میں جس طرح تشریح بیان کی وہ آج تک کسی نے نہیں کی۔سیدنا گوہر شاہی فرماتے ہیں ساتوں لطیفے پاک ہونے کے بعد ذکر قربانی بھی لگ جائے۔ یعنی اپنے قلب پر تصور کیا اور جسم کے سات ٹکڑے الگ ہو کر علیحدہ علیحدہ ذکر اللہ کریں اس وقت بھی تو محمد مصطفی کے دیدار کے لیے ناپاک ہے۔ اس پر بھی نام نہاد مدعیان عشق رسول سیدنا گوہر شاہی کے خلاف ہو گئے، یہ کیسا معیار ہے عشق مصطفی کا؟ ادب مصطفی ، مقام مصطفی کیا ہے یہ فقط سیدنا گوہر شاہی نے بتایا۔ ذکر کیا ہے فکر کیا ہے یہ صرف سیدنا گوہر شاہی نے بتایا۔ہم سمجھتے تھے باطنی علوم، علم لدنی، اللہ کی محبت ، حضور کی ذات کے حوالے سے گفتگو ، عالم غیب کے راز افشا ںہونے سے سب سرکار کے قدموں میں جھک جائیں گے لیکن اس کے برعکس ہوا۔ جس ذات نے یہ کہا کہ ذکر قربانی کے مرتبہ پر پہنچنے کے بعد بھی تو دیدار مصطفی کے لیے ناپاک ہے اس ذات پر مولویوں نے توہین رسالت کا فتوی لگادیا ۔یہ سب کیا تھا؟ بات اہل حدیث ،بریلوی، وہابی ،دیوبندی کی دشمنی کی نہیں تھی بلکہ یہ دشمنی شیطان کی تھی جن کے اندر شیطان گھسا ہوا تھا وہ کوئی بھی تھا دشمنی پر اتر آیا۔

ثبوت :

جب اہل خانہ اور انجمن سرفروشان اسلام کے لوگوں کے سینوں سے ایمان رخصت ہو گیا تو وہ ہی مولوی جو سیدنا گوہر شاہی کے مخالف تھے کفر کے فتوے لگاتے تھےآج ان کے ساتھ شیر و شکر ہیں۔اب ایسی کون سے تحریک چلی کے کل تک جو گوہر شاہی اور گوہر کے ماننے والوں کے خون کے پیاسے تھے اب ان سے دوستی کا ہاتھ ملا رہے ہیں ، ذکر کر رہے ہیں ان کے ساتھ نعتیں پڑھ رہے ہیں کھانے کھا رہے ہیں اور ان کو اچھا کہہ رہے ہیں ۔ہم بتاتے ہیں ایسا کیوں ہے کیونکہ جس شیطان نے ان کو سیدنا گوہر شاہی کے خلاف کیا تھا اب اس شیطان نے ان مولویوں کو کہہ دیا ہے اب جا سکتے ہو وہاں اب میری ان سے دشمنی نہیں رہی ۔کیونکہ اب وہاں کوئی ایسا بیٹھا نہیں جو اس شیطان کو تمھارے کو سینوں سے نکالے تو اب دشمنی کا جواز نہیں بنتا۔ اللہ نے کہا ایمان غارت جاتے ہیں اللہ شعور نہیں دیتا۔ آپ دیکھ لیں خاندان اورانجمن والے آج ان ہی کے ساتھ بیٹھے ہیں جنہوں نے سیدنا گوہر شاہی کی بارگاہ میں ناقابل بیان حد تک گستاخی کی ،جن لوگوں نے سرکار پرتوہین اسلام اور توہین رسالت اور کفر کے فتوے لگائے۔پہلے انجمن کی مخالفت اس لیے ہو رہی تھی کیونکہ پہلے وہاں حق تھا اب مخالفت اس لیے نہیں ہو رہی کیونکہ اب وہاں حق نہیں ہے۔ اب مہدی فائونڈیشن کی مخالفت زور و شور سے ہو رہی ہے اس مخالفت کی سب سے بڑی وجہ یہ ہی ہے کے اس تعلیم سے دلوں سے شیطان نکل جاتا ہے ،ابھی شیطان نے دلوں میں مورچہ لگا رکھا ہے اور تم نے رب کو بھی پانا ہے ، اسی لیے ہم تحقیق کی دعوت دیتے ہیں۔

’’جس نے چالیس دن تک روزآنہ ہونےوالی گفتگو صحیح نیت سے سنی اس کے سینے سے شیطان نکل جائے گا‘‘

مسلمانوں کو اتنا بھی شعور نہیں ہے کہ دیکھ لیں کے جس کی نظر سے دل میں اللہ اللہ شروع ہو جائے تو وہ منجانب اللہ ہی ہو گا۔دل کے منکے سےاللہ اللہ کرنا انسان کے بس کی بات ہوتی تو اس کے ہاتھ میں پتھر کی تسبیح نہ ہوتی۔سیدنا گوہر شاہی کا در و ہی در ہے جس کی نوید بلھے شاہ نے دی تھی
نہ میں پنج نمازاں نیتی نہ تسباح کھڑکایا
بلھے نوں ملیا مرشد جو ایویں جابخشایا

وہابی سنی، شیعہ، دیوبندی ، بریلوی الغرض تمام فرقوں کو دیکھ لیں سکون سے ہیں ایکا ہے،منظم ہیں ، شیطان نے ان کو جوڑکر رکھا ہے مساوات قائم کر رکھی ہے تاکہ ان گروہوں میں کوئی دراڑ نہ آئے کیونکہ یہ میری فوج ہیں ۔جن کو خود رب کا معلوم نہیں ان کی تبلیغ یا کا وشوں سے کوئی رب تک کیسے پہنچے گا! پیر ہو یا فقیر ،مولوی ہو یا مفتی ،عالم ہو یا درویش ، سیدنا گوہر شاہی کی آمد اور تعلیم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی تھی۔مولویوں کو ابلیس کا خلیفہ کہہ دیا اور پیروں کے لیے فرمایا پیر! اگر سات دن میں قلب جاری نہ کرے تو بوری میں بند کر کے دریا براوی میں بہا دو۔ ایسی باتیں جب سنی تو ان سب نے ایکا کر لیا کے ہماری تو دکانیں بند ہو جائیں گی لہذا مخالفت شروع کر دی۔ لیکن ان میں اتنی جرات نہیں تھی کہ یہ کہیں کہ ہم اپنی دکانیں بچانے کے لیے مخالفت کر رہے ہیں بلکہ یہ اعتراض کرتے کہ آپ نماز کا کیوں نہیں کہتے ۔ آپ نے فرمایا ہمیں کہنے کی کیا ضرورت ہے جب اللہ نے قرآن میں نماز کو فرض کر دیا ہے کافی ہے ، تم کو نہیں پتہ نماز پڑھنا ہے کیا ضرور ی ہے ہم بھی کہیں ۔ہاں یہ ضرور فرمایا، جو نماز تم پڑھ رہے ہویہ نمازیں ہیں جو تمہارا ایمان تباہ کر دیتی ہیں ۔سیدنا گوہر شاہی نے فرمایا جن نمازیوں کے دل میں نہ ایمان ہو نور، الٹا ان کا دل کالا ہو جب ایسے نمازی نے کسی دن بے نمازی کو بڑی حقارت سے دیکھا تو بڑے تکبر سے سوچا اس سے تو میں بہتر ہوں اس تکبر نے اس کو ڈبو دیا۔اسی تکبر نے فرشتوں کے سردار عزازیل کو راند ِ درگاہ کر دیا جس کیے سجدوں سے کوئی جگہ خالی نہ تھی۔

’’سیدنا گوہر شاہی کی تعلیم کی مخالفت کی اول و آخر وجہ یہ ہی ہے کہ آپ کی تعلیم انسان کوخالص بناتی ہے‘‘

خالص کون ہے؟

جس کے باطن سے، جس کے جسم سے، جس کی روحوں سے شیطان اور ہر قسم کا غیر اللہ نکل گیا ہو اور وہاں اللہ کا نام اور اللہ بس گیاہو ، یہ تحریک صرف گوہر شاہی نے چلائی ہے ۔لہذا سب سے زیادہ پریشانی شیطان کو ہوئی تو جس کالے سینے والے کو دیکھا اس کا مسلک کوئی بھی ہو جس جس میں شیطان تھا اس کو گوہر شاہی کے خلاف محاذ بنانے میں ساتھ ملا لیا۔ذہنوں کی اس پراگندگی کی وجہ سے ہماری رسائی عام پبلک تک نہ ہو سکی نہ ہمیں پذیرائی مل سکی۔اگر یہ سب نہ ہوتا تو ہم عام مسلمانوں میں جا کر قلب سے ذکر اللہ کی تعلیم دیتے ، امام مہدی کی بات کرتے۔اب ضروری ہے کہ یوٹیوب (YouTube) کی ان محافل کے ذریعہ سے عام لوگوں کو سیدنا گوہر شاہی کی اس شدت کی مخالفت کی وجہ معلوم ہو۔ہم یہ تعلیمات عام لوگوں کے سامنے بیان کر رہے ہیں اب عوام فیصلہ کرے اس میں کیا غلط ہے؟ سوائے اس کے کہ یہ تعلیم براہ راست شیطان کو للکار ہے، کہ اب توان کے سینوں میں نہیں رہ سکتا!تجھے نکال دیں گے۔ہماری براہ راست شیطان سے جنگ ہے،جس جس کے سینے میں شیطان بیٹھا ہے وہ ہمارے خلاف شیطان کے قافلے میں شامل ہوتا گیا۔

’’مہدی فاؤنڈیشن تحریک اخلاص ہے جس کا کام دنیا بھر میں ہونے والی شیطانی اور ابلیسی مخالفت کا مقابلہ کرنا ہے، اب وقت آ گیا ہے ہم لوگوں کو للکاریں‘‘

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں