کیٹیگری: مضامین

انسانی جسم میں موجود أرواح اور پرندے:

فنا کئی قسم کی ہے ایک فنا تو یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کے وجود میں بہت سے روحیں رکھی ہیں پانچ آپ کے سینہ میں اور ایک روح آپ کے دماغ میں رکھی ہے اور ایک ہے آپ کا لطیفہ نفس، ان ساری روحوں کے آگے پیچھے شیاطین کے جال ہیں اور یہ آپکا امتحان ہے کہ ان شیاطین کے جال کو ختم کر کے ان روحوں تک اللہ کا نور پہنچا کر انہیں بیدار کریں ۔ آپ کے سینے میں اللہ نے چار پرندوں کو بھی رکھا ہے ان چار پرندوں کی الگ الگ خصلتیں ہیں جو سینے کی مخلوقوں کے ساتھ لگی ہوئی ہیں ، قرآن مجید میں ان پرندوں کے حوالے سے ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ بھی ہے کہ اللہ نے ان کے سینے کے چاروں پرندوں کو نکال کر پاک کیا ۔ مور ، کبوتر، کوا اورمرغ یہ چار پرندے ہمارے سینے کے لطائف کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ۔اللہ تعالی نے مرغ کو لطیفہ قلب کے ساتھ باندھا ہوا ہے ، اللہ کے فرمان کے مطابق مرغ شہوت کا نشان ہے، لہذا آپ دیکھیں کہ مرغ کتنی رغبت سے کھایا جاتا ہے، یہ مرغ انسان کے دل میں شہوت ڈالتا رہتا ہے، مرشد کامل کی نظروں سے اس مرغ کی گردن کٹتی ہے پھر ہی وہ مرغ ، مرغِ بسمل کہلاتا ہے ۔امیر خسرو کے کلام میں مرغ بسمل کا ذکر ملتا ہے آپ فرماتے ہیں
نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم
بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

ب اس مرغ کی آدھی گردن نور سے کٹ جاتی ہے تو وہ بسمل بن جاتا ہے یعنی تڑپتا رہتا ہے اور اس میں تڑپ محبت آجاتی ہے، نور سے پہلے یہ مرغ دل میں شہوت ڈالتا رہتا ہے جب گردن کٹ جائے گی تو یہ مرغ دل میں اللہ کی تڑپ ڈالتا ہے۔ اسی طرح لطیفہ سری کے ساتھ مور ہے اور ان سب پرندوں کی الگ الگ خصلتیں ہیں ، کسی کے ساتھ تکبر کسی کے ساتھ حسد، کسی کے ساتھ حرص و عناد ہے، کسی کے ساتھ بغض ہے ، یہ تمام برائیاں آپ کی شخصیت کا حصہ نہیں ہیں لیکن یہ انسان میں آئی اس لیے ہیں کیونکہ اللہ نے ان کو آپ کے سینے میں امتحان کے طور پر رکھا ہے۔آپ کہیں گے میں نے تو کوئی پرندے اپنے اندر نہیں دیکھے وہ پرندے اپنے جسموں میں اڑ رہے ہیں لیکن ان کی روحوں کو اللہ نے آپ کے جسموں میں رکھا ہے، جب آپ کے لطائف تجلی کی زد میں آتے ہیں اس وقت یہ پرندے پاک ہو جاتے ہیں اور روحانی دم درود میں آپ کے مدد گار بن جاتے ہیں ۔فرض کیا کسی نے دور دراز سے دم کا کہا اگر ہم وہاں نہ جا سکیں تو ان پرندوں کو کہتے ہیں تو وہ دو چار دن اس بندے کے سینے میں رہنے کے لیے چلے جاتے ہیں اور اس کی روح کو تندرست کر کے واپس آ جاتے ہیں ، یہ باقاعدہ روحانی نظام کے تحت ہوتا ہے۔انسان میں جو روحیں ہیں ان میں کوئی بری چیز نہیں ہے ، یہ ہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا جس کے دل میں رائی برابر بھی غرور ہوا وہ جنت کے لائق نہیں ہے۔ اب انسان کی فطرت میں تو یہ برائی ہے ہی نہیں ، یہ تکبر ان پرندوں کی وجہ سے دل میں آیا ہوا ہے، جو مومن بن چکا ہو گا اس کے دل سے یہ تمام چیزیں نکل چکی ہوں گی ناں ، اب وہ تکبر ایک کلو ہو یا رائی برابر ہو اس میں یہ تکبر ہوگا ہی نہیں لیکن جس نے اپنی ان روحوں کو چھیڑا ہی نہیں ، صرف جسمانی طور پر ہی عبادتوں میں لگے رہے تو اللہ کے یہاں ان کی کوئی گارنٹی ہی نہیں ہے۔جس نے روحوں کو منور کر لیا ان ہی کے یہ پرندے بھی پاک ہو گئے اور پھر جب ان کا لطیفہ نفس بھی منور ہو گیا تو لطیفہ نفس ، امارہ سے لوامہ اور لوامہ سے نفس الہامہ اور الہامہ سے مطمئنہ ہو گیا ، اس کے بعد اس نے قربانی دی تو وہ جو نفس امارہ کا ایک وجود تھا اس کے اوپر اللہ کا جلال پڑا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی تو اس کو کہتے ہیں اس نے اللہ کی خاطر جان دے دی۔

“جو روحانیت سے واقف نہیں ہوتے نہ ہی اس قابل ہوتے ہیں ان کو کہتے ہیں تم حج پر جاؤ تو جانور کی قربانی دو لیکن صوفی اپنے نفس کی قربانی دیتا ہے تو جب وہ اپنے امارہ نفس کی قربانی دیتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس میں انانیت بھی ختم ہوجاتی ہے اور اس میں تکبر نہیں رہتا۔جب لطیفہ انا پر لگے ہوئے شیطانی پردے “یاھو ” کی گرمی سے پھٹ جائیں ، جب تمام لطائف اور ان کے ساتھ چمٹے ہوئے پرندے پاک ہو جائیں ، قلب کے جالے ہٹ جائیں ، نفس قربان ہوجائے اور لطیفہ انا کے پردے ہٹ جائیں سب پاک ہو جائیں اوراب صرف نور وہاں رہ جائے تو ولیوں کے لیے یہی مقام فنا ہے”

فنا فی اللہ اور بقا باللہ کا مقام:

چھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب وہ اللہ کا دیدار کر لیتے ہیں تو ان کا دل نہیں چاہتا کہ وہ واپس زمین پر جائیں ، جب اللہ ان کو کہتا کہ اب تو زمین پر چلا جا تو ان ولیوں کی روح میں زلزلہ سا بپا ہو جاتا ہے، روح منتشر ہونے لگتی ہے ، تو اللہ تعالی کہتا ہے کہ چل تو پھر ادھر آ جا اور تو اکیلا مت جا میں بھی تیرے ساتھ چلتا ہوں پھر اللہ تعالی اپنی ذات سے نکلے ہوئے عکس یا تو جثہ توفیق الہی ، یا طفل نوری کو اس ولی کے ساتھ زمین پر بھیجتا ہے ، وہ خود ادھر ہی ہے لیکن اس نے اپنا کوئی عکس اس ولی کے ساتھ نیچے بھیج دیا ۔اللہ کا وہ عکس جب جسم میں داخل ہوا تو سب سے پہلے وہ تمہارے لطیفہ نفس کے جثوں کو کہتا ہے مجھ سے بغل گیر ہو تو لطیفہ نفس کے جثے اس کے جلال کی تاب نہ لا کر جل جاتے ہیں ، اب یہ نفس فنا ہو گیا ، اس کے بعد اللہ کا عکس تمہارے قلب کے جثوں کو بولتا ہے کہ مجھ سے بغل گیر ہوجاؤ تو قلب کے جثے بھی تاب نا لا کر جل جاتے ہیں ۔اب اس کا قلب بھی فنا ہو گیا پھر رب کا وہ عکس تمہاری روح کے جثوں کو بولتا ہے مجھ سے گلے ملو تو وہ بھی تاب نہ لا کر جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں جب اس بندے کے سارے لطائف جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں تو وہ بندہ فنا ہو گیا اب پھراس کی روح کی جگہ وہ خود بیٹھ جاتا ہے، حدیث بھی ہے کہ

وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ” إن الله تعالى قال : من عادى لي وليا فقد آذنته بالحرب وما تقرب إلي عبدي بشيء أحب إلي مما افترضت عليه وما يزال عبدي يتقرب إلي بالنوافل حتى أحبه فإذا أحببته كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر به ويده التي يبطش بها ورجله التي يمشي بها وإن سألني لأعطينه ولئن استعاذني لأعيذنه وما ترددت عن شيء أنا فاعله ترددي عن نفس المؤمن يكره الموت وأنا أكره مساءته ولا بد له منه ” . رواه البخاري
مشکوة شریف ۔ جلد دوم ۔ ذکراللہ اور تقرب الی اللہ کا بیان ۔ حدیث 787

یعنی میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے ، میں اس کی زبان بن جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے۔ پھر زبان اس کی ہوگی کلام اللہ کا ہوگا ۔ گفتہ او گفتہ اللہ بود۔۔۔۔گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود۔۔۔ آواز بندے کے حلق سے نکلے گی لیکن اس زبان سے نکلنے والا کلام اللہ کا ہو گا ۔حضور پاک نے جب کفار کی طرف ریت پھینکی تو اللہ نے کہا یہ تیرا نہیں میرا ہاتھ ہے۔

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ
سورة الانفال آیت نمبر 17

حضور پاک کو یہ بھی کہا۔۔۔۔من راعنی فقد را الحق، جا کر یہ کہہ دو کہ جس نے تجھے دیکھا اس نے مجھے دیکھا ۔تیرے تمام لطائف کا جل جانا ہی فنا ہونا ہے،اور جب تیرے اندر کی تمام روحوں کا جل جانا اور اس کے عکس اور اس کے نقش کا تجھ پر قابض ہو جانا بقا کی منزل ہے ۔ اسی کو” بقا باللہ ” کہتے ہیں ۔علامہ اقبال نے فرمایا کہ جب تک تو مجھ میں جلوہ گر نہ ہوا تھا اس وقت تک ہی میرا وجود تھا جب تو مجھ میں جلوہ گر ہو گیا تو اب میں نہیں ہوں ۔”میں ” تو اس باطل کا نام ہے جو تیرے آنے سے پہلے تھا، جب تو آیا تو باطل مٹ گیا ، تو ہی تو ہو گیا ، یہ ہے موحد کا ہونا اور یہ ہے توحید کی روح۔
میں جب ہی تک تھا کہ تیری جلوہ پیرائی نہ تھی
جو نمود حق سے مٹ جاتا ہے وہ باطل ہوں میں

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 23 نومبر 2017 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذکیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں