کیٹیگری: مضامین

جن کو اللہ کا دیدار ہوا وہ بازار مصطفے میں کیوں نہیں بکے؟

سرکار امام مہدی سیدنا و مولانا و ملجانا گوھر شاہی کی آمد سے پہلے جن ہستیوں کو ا ﷲکا دیدار ہوا وہ با زارِ مصطفٰے میں کیوں نہیں بکے ۔وہ بازار لگا ہی نہیں۔ اور پھر جب سرکار گوھر شاہی تشریف لائے ہیں تو پھر بازارِ مصطفٰے لگا جس میں خریدار خود ا ﷲ ہے۔ اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ سرکارسیدنا گوھر شاہی سے پہلے جن ہستیوں کو دیدارِ الٰہی ہوا ہے اُن کو ا ﷲ نے کیوں نہیں خریدا۔اور بازارِ مصطفٰے جو سرکار گوھر شاہی نے لگایا ہے اِس بازار میں بِکنے والوں کو ا ﷲکیوں خریدنا چاہتاہے۔جب کہ دیدارِ الٰہی والے یہ بھی ہیں دیدارِ الٰہی والے وہ بھی تھے ۔جو امام مہدی سرکار گوھر شاہی کے پیروکار درجہ کمال تک پہنچ جائیں گے وہ دیدارِ الٰہی کرنے کے بعد درجہ کمال تک پہنچتے ہیں۔یعنی جب وہ دیدار پر پہنچتے ہیں دیدار ہو جاتا ہے تو یہ درجہ کمال نہیں ہے اس سے آگے جانا ہے ۔یہ ایک شرط ہے۔ جو سرکار گوھر شاہی سے پہلے جو ہستیاں آئی ہیں اور اُن کو دیدار ہوا ہے تو اس کا طریقہ کیا ہے اور دیدار جو ہوا ہے وہ دیدار کیا ہے۔انسان کے جسم میں سات لطیفے ہیں : لطیفہ انا، لطیفہ نفس، لطیفہ اخفٰی ، لطیفہ خفی، لطیفہ روح، لطیفہ سری،اور لطیفہ قلب۔
جسم کو پاک کرنے کے لیے ظاہری شریعت ہے اور نفس کو پاک کرنے کے لیے باطنی شریعت ہے۔ ظاہری شریعت جو ہے شریعتِ ناقصہ ہے اور باطنی شریعت جو ہے شریعتِ حقّا یعنی اصل یہ ہے۔ ظاہری شریعت سے جسم پاک کیا ، باطنی شریعت کے ذریعے نفس کو پاک کیا۔ اُس کے بعد پھر شریعت ختم ہو گئی۔ ظاہری شریعت باطنی شریعت دونوں سے فیض حاصل ہو گیا۔ جب باطنی شریعت کے ذریعے نفس پاک ہو گیا تو باطنی شریعت سے فیض حاصل ہو گیا۔اب مزید یہ شریعت آپ کو کہیں اور لے کر نہیں جا سکتی نفس کو ہی پاک کرنے میں لگی رہے گی۔ اب آپ نے تو آگے بھی جانا ہے ۔پھر جو باقی جو اوپر کے لطیفے ہیں ان کے لیے آپ کو طریقت اختیار کرنی پڑتی ہے۔ابھی تک یہ طہارت کا معاملہ ہے ۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ والی بات ہے وہ راستہ دل سے شروع ہوتا ہے۔ طریقت کا مطلب طریقہ نہیں ہے ۔طریقت جو نکلا ہے ، عربی لفظ طریق سے ۔ طریق کا مطلب ہوتا ہے راستہ اسی لیے طریقت کو راہِ سلوک کہتے ہیں۔ سلوک نکلا ہے سالک سے ۔سالک کا مطلب ہے سوال کرنے والا جیسے مرید ہوتا ہے ارادہ رکھنے والا۔ اب طریقت کی ضرورت پڑ گئی۔جب تک نفس پاک نہیں ہوگا طریقت میں جا نہیں سکتے یہ قانون رہا۔ حضورﷺ نے اپنی صحبت اور نظروں سے صحابہ کے نفس پاک کیے۔حضور کے جانے کے بعد تصوف کا ایک مروجہ قانون بنایا گیا جس کے تحت پھر لوگوں کو چلے مجاہدے کرنے پڑے کیونکہ حضور کی صحبت نہیں تھی۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ حدیثوں سے ثابت کرو کہ یہ جو صوفیاء اکرام نے چلے مجاہدے کئے کیونکہ یہ حضورﷺ نے تو نہیں کئے ۔ حضورﷺ کی صحبت سے آپ کی نظروں سے صحابہ اکرام کے نفس پاک ہو گئے تو باقی لوگوں کو حضورﷺ کی نظر اور صحبت نہیں ملی تو اُس کا متبادل یہ ہوا کہ پھر لوگوں نے چلے اور مجاہدے کئے، باطنی شریعت کو اپنایا اور نفس کو پاک کیا۔پھر جب نفس پاک ہو گیا تو اب طریقت میں داخلے کیلئے کوئی روحانی سلسلہ ڈھونڈا۔پھر طریقت میں داخلے کے لیے قلب کو زندہ کرنے والے ڈھونڈے ۔ الف اللّه چنبے دی بوٹی مرشد من وچ لائی ہو۔۔۔۔۔نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے هر جائی هو۔وہ اسمِ ذات اﷲ پھر دل کی دھڑکنوں کے اندر اب بسانے کا انتظام کیا گیا۔

مومن کے درجات:

اب مومن کے تین درجے ہو گئے ۔
۱۔ ایک مومن کا وہ درجہ جس میں اس کا صرف دھڑکن کے ساتھ ذکر چلے۔یہ درجہ صاحب ذکر کہلاتا ہے ۔
۲۔ دوسرے درجے میں ذکر کے ساتھ تصّور بھی جمےیہ درجہ صاحب تصور کہلاتا ہے ۔
۳۔ تیسرا درجہ دل پر اسمِ ذات اللہ نقش ہو یہ درجہ صاحب اسم کہلاتا ہے ۔ اسی کیلئے قرآن میں آیت آئی ہے کہ

أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ
سورة المجادلة آیت نمبر 22
ترجمہ : اعلی درجے کے مومن وہ ہیں جن کے دلوں پر ہم نے اپنا نام نقش کردیا ۔

عام دیدارِ الہی کا طریقہ کیا ہوتا ہے ؟

پھر سارے لطیفوں کو ذکر فکر میں لگایا ۔لطیفہ انا کو بھی ذکر فکر میں لگایا پھر لطیفہ انا جب ذکر فکر میں لگا تو نفس کا جو اثر ہے وہ انا کے اوپر تک ہے۔وہ جو تین پردے لطیفہ انا کے اوپر ہوتے ہیں جیسے جہاز کو جب ساحل پر لگاتے ہیں تو وہ قلعہ گاڑتے ہیں اُس سے پھر بندھا رہتا ہے جہاز اور پھر جاتا نہیں ہے۔اسی طرح لطیفہ اناکے اوپر تین پردے ہیں یہ جو نفس کی دسترس ہے اُن پردوں سے جڑی ہوئی ہے۔جب وہ پھٹ جاتے ہیں تو اس کا تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔اب پھر لطیفہ انا کو دیدار کی تعلیم ملی ،مکمل ہو گیا منظوری ہو گئی کہ ٹھیک ہے دیدار کرائیں گے۔پھر لطیفہ انا کو دیدار کی تعلیم دینے کے بعد پھر حکم ہوتا ہے کہ اب اس بندے کو چالیس دن کا روزہ رکھواؤ پھر وہ چالیس دن کا روزہ رکھتا ہے ۔چالیس دن تک یعنی آج اگر شروع ہو گیا تو چالیس دن تک نہ کھانا نہ پینا۔اب چالیس دن بعد دیدار کے بعد ہی کچھ کھائے گا پیے گا دیدارالہی تک کچھ نہیں کھا سکتا۔پھر چالیس دن کے بعد اگر وہ زندہ رہتا ہے تو اس کے بعد مرشد لطیفہ انا کو لے کرمقامِ محمود پر چلا جاتا ہے ۔یہ مقامِ محمود عالمِ وحدت میں ہےاور اس کے آگے عالمِ احدیت ہے جہاں ا ﷲ بیٹھا ہوا ہے۔ اب مرشد لطیفہ انا کو لے کر یہاں پہنچ گیا عالمِ وحدت پر اور عالمِ احدیت سے ا ﷲ آیا اور بندہ نیچے دنیا میں سو رہا ہےاُس کا لطیفہ انا اوپر ہے۔اب ا ﷲ عالمِ احدیت سے آیا اور لطیفہ انا عالمِ وحدت پر اور جب وہ دیدار ہوا تو ا ﷲ کا جو نقش تھا پورا سراپا وہ لطیفہ انا میں داخل ہو گیا۔جب وہ لطیفہ انا میں داخل ہو گیا تو اب اُس کو حکم ہوا کہ اب تُو نیچے چلا جا ،اب جو تجھے دیکھ لے وہ مجھے دیکھ لے۔جب وہ نیچے چلا گیا تو اب پھر عالمِ احدیت سے تین سو ساٹھ تجلیاں اُس پر گرنا شروع ہو گئیں ۔ ایک دفعہ دیدار ہو گیا تو اب وہ تین سو ساٹھ تجلیاں گرتی رہیں گی۔یہ تو ہو گیا عام دیدار۔

واصلین کے دیدارِ الہی کا طریقہ کیا ہوتا ہے ؟

واصلین دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ایک وہ کہ جن کو ا ﷲ تعالی اضافی ایک روح دیتا ہےیا تو طفلِ نوری یا جثہ توفیقِ الٰہی ۔طفلِ نوری دیا تو فقر میں کامل ہو گیا ،جثہ توفیقِ الٰہی دیا تو عشق میں کامل ہو گیا۔اب طفلِ نوری والا جو ہے وہ ہوش و حواس میں ا ﷲ کا دیدار کرتا ہے کیونکہ اس مخلوق طفلِ نوری کا تعلق عالمِ احدیت سے ہے۔لطیفہ انا کو تو تیار کرنا پڑا تھا ،وہ تو آئی ادھر سے ہے بارہ سال کی تعلیم لے کراس لیے وہ ہوش و حواس میں دیدار کرتے ہیں۔اسی طرح جو جثہ توفیقِ الٰہی ہے وہ ادھر سے آیا ہے لیکن اس کو پھر واپس اُدھر بھیجنے کے لیے مراقبہ لگانا پڑتا ہےاُس مراقبے میں پھر وہ اُدھر جاتا ہےپھر وہ اُس کو دیکھتا ہے۔تو یہ دیدار کے تین طریقے ہو گئے۔ایک عوام کے لیے دو خواص کے لیے۔ لطیفہ انا والا عالمِ وحدت سے ہی دیکھے گا، عالمِ احدیت میں نہیں جائے گا۔طفلِ نوری والا بھی عالمِ وحدت سے ہی دیکھے گا ،عالمِ احدیت میں نہیں جائے گا۔جثہ توفیقِ الٰہی والا عالمِ احدیت میں جا کر دیکھے گا کیونکہ وہ مخلوق ادھر سے ہی آئی۔ تو یہ دیدار والے ہوتے رہے۔اب ان کے پاس سینے میں جو رب کی صورت ہے وہ ا ﷲ کو دیکھ کے ہی آئی ہےاور ا ﷲ نے ہی دی ہےتو اُس کو خریدنے کی کیا ضرورت ہے!

جب اللہ نے اپنے حسن کو دیکھا تو کیا ہوا ؟

اب بازارِ مصطفٰے جاننے کے لیے پہلے یہ دیکھیں گےکہ جب ا ﷲ نے چاہا کہ میں اپنے آپ کو دیکھوں کہ کیسا ہوں تو کیا ہوا۔ایک دن ا ﷲ کو خیال آیا کہ وہ اپنے آپ کو دیکھے کہ کیسا ہے تو اس کا حسن جو ہے وہ ظاہر ہوا اور وہ مجسم ہو گیا۔ تو جب پھر اُس نے وہ مجسم صورت دیکھی تو مسلمان ولی کہتے ہیں کہ وہ ہلا جنبش لی ۔ہندو ولی کہتے ہیں کہ وہ ناچا۔ تو سات جنبش کھائی اُس نے ۔ایک جنبش پر اُس کے وجود سے نور برآمد ہوتا رہا اور وہ نور مجسم ہوا اور وہ طفلِ نوری بن گیا۔سات جنبشیں کھائیں تو سات طفلِ نوری ہو گئے اور یہ اُمت کے سات سلطان ا لفقراء ہو گئے ۔مجسم صورت جسے دیکھ کار اللہ ناچا عکس اوّل ہوگیا ۔ا ﷲ اس کو دیکھ کر جنبش کھاتا ہے اس کو دیکھ کر مست ہو جاتا ہے ۔ ہم نے پوچھا اے عثمان مروندی کہ جب ا ﷲ تعالٰی نے كُن فَيَكُونُ کہاتو کہتے ہیں کہ اُس وقت بھی آپ مستی میں تھےتو کدھر تھے مستی میں؟ انہوں نے کہا کہ اُس وقت جب میں مستی میں تھا تو میں ا ﷲ کے برابر میں کھڑا تھا۔میں ا ﷲ کے برابر میں کھڑا ہو کے ناچ رہا تھا۔جب اُس نے جنبشیں لیں تو غوث پاک کو انہوں نے کہا کہ یہ تیرے اندر جو طفلِ نوری ہے یہ میرے سامنے تو بنا تھا۔لال شہباز قلندر نے کہاتم فقر پر چلاتے ہو یہ چیزیں تو میرے سامنے بنی ہیں ۔تو اللہ عاشق قلندر کا ہوا اسی لیے سلطانوں کا بھی سر قلندر کے آگے جھکا۔جو دیدار ہو اہے سب کو وہ ا ﷲ کا ہوا جو اپنے عکس اوّل کے عشق میں ناچتا ہے۔جو دیدار کیا ہے طفلِ نوری نے جثہ توفیقِ الٰہی نے لطیفہ انا نے وہ ا ﷲ کا دیدار کیا۔

اب جو عکس اوّل ہے یہ امام مہدی کے جسم میں ہےاور مہدی نیچے آگیا ۔اب جب وہ نیچے آگیا تو اُس سے بھی اعلٰی چیز نیچے آگئی جو اُدھر ملتی تھی۔ تم اس کو دیکھ کر ناچ رہے ہو اور ا ﷲ اُس کو دیکھ کر ناچ رہا ہے تو تم کو کون خریدے گا۔ا ﷲ تو تمہیں نہیں خریدے گا کیونکہ اس نے تمہیں بھیک دی ہے تو یہ اپنی بھیک کو خریدے گا کیا،نہیں خریدے گا۔ اب عکس اوّل کو دیکھ کر جو اﷲ ناچتا ہے وہ امام مہدی کے جسم میں نیچے آگیا۔یہ جو نیچے آیا اس آنے والے کا نام امام مہدی گوھر شاہی ہے۔اب جب یہ نیچے آگیا تو اس نے کہا کہ روحانیت تو ہجڑوں کا کام ہے۔ اُدھر سے یہ ہوا کہ تم نے یہ کیوں کہا کہ روحانیت ہجڑوں کا کام ہے تو اُس نے کہا کہ تو خود عکس اوّل کو دیکھتا رہتا ہے تو روحانیت سے طفلِ نوری تو ا ﷲ تک جائیں گے ۔عکس اوّل تک تو روحانیت سے کوئی نہیں جائے گا ۔عکس اوّل تک تو روحانیت سے کوئی آہی نہیں سکتا یہ نظارا تو صرف ا ﷲ دیکھتا تھا۔ اب عکس اوّل نیچے آگیا۔

ایک دن سرکار گوھر شاہی نے فرمایا کہ ہم نے یوم ِمحشر میں دیکھا کہ نبیوں کی قطار لگی ہوئی ہے اور فرمایا ہمارا بندہ اُن نبیوں کی قطار سے بھی آگے کھڑا ہوا ہے۔اور ا ﷲ اس کو بڑے غور سے دیکھ رہا ہے ۔اب وہ سب سے آگے اس لیے کھڑا ہے کیونکہ عکس اوّل نیچے آگیا ۔اب جب یہ نیچے آیا تو روحانیت کا راستہ بیکار ہو گیا۔ یہ راستہ اس لیے بیکار ہوا کیونکہ یہ راستے پر چلو گے تو اوپر تک جانا پڑے گا اور پھر بھی دیدار ا ﷲ کا ملے گا جبکہ سیدنا گوھر شاہی کے اندر وہ چیز ہے کہ جس کو ا ﷲ دیکھ کے ناچااور ناچا تو سلطان ا لفقراء پیدا ہوئے۔عکس اوّل کے دیدار کے نتیجے میں سلطان بنے ہیں۔یہ تو ا ﷲ نے جب اپنے حسن کا دیدار کیا تو اُس کے نتیجے میں جو اُس کے وجود سے نوری پسینہ برآمد ہوا اُس سے یہ طفلِ نوری بنے۔اب نیچے جو چیزآگئی وہ ایسی ہے کہ اُس کو دیکھ کر ا ﷲ ناچتا ہے۔تو اب سرکار گوھر شاہی اُس کو چاہیں گے جو اُن کا طالب ہو گاجو اُن سے اُن کو مانگے گا ۔امام مہدی گوھر شاہی نے فرمایا کہ

جو امام مہدی سے ٹکرا جائے پھر ا ﷲ قسم ا ﷲ اُس سے دُور نہیں۔وہ پھر عاشق ہی عاشق ہے

امام مہدی سے ٹکرانا کیا ہے؟

امام مہدی میں جو عکس اوّل ہےاِس کا کوئی رُخ زمین پر ہی بیٹھے بیٹھے ادھر سے نکالا اور اُس کے اندر ڈال دیا ۔اب جب اُس میں ڈال دیا تو اس کو دیکھ کر ا ﷲ ناچتا ہے۔ اُس نے ایسے بندے تیار کر دئیے جن کو اندر وہ عکس اوّل کا رُخ تھا جس کو دیکھ کر وہ ناچتا ہے۔پھر اللہ آیا کہ میں اس کو لے لیتا ہوں ۔پھر وہ گوھر کے بندوں کو دیکھ کر ناچنا شروع ہو گیا ۔بُلھے شاہ نے فرمایا کہ بُلھے شاہ نے تو اسمِ ا ﷲ کے لیے نچایا۔ذات ِگوھر شاہی وہ ذات ہے جس نے بندوں کےاندر وہ حسن ڈالا جس پر خود خدا فریفتہ ہے۔عکس اوّل کا رُخ پوشیدہ تھا صرف ا ﷲ دیکھتا تھا ۔اب اس ذاتِ گوھر شاہی نے عام انسانوں میں وہ رخ ڈالا جس کو ا ﷲ دیکھ کر ناچتا ہے۔جہاں جہاں وہ انسان گیا ا ﷲ نے کہا میں اسے خرید لوں گا۔ یہ وہ ذات ہے جہاں داتا نہیں بکا، جہاں غوث نہیں بکا ، اور سیدنا گوھر شاہی نے وہ عکس ایک عام بندے میں ڈال دیا جس کی وجہ سے رب نے سب کو رد کر دیا اور عام گناہگار کھوٹے سکے کو کہا کہ میں اسے خریدتا ہوں ۔ غلام گوھر شاہی تو وہ ہے جسے دیکھ کر سلطان بنتے ہیں ۔یہ بازارِ مصطفٰے ہےاور یہ سیدنا گوھر شاہی کی خیرات ہےاور میل ہے ۔
یہ تعلیم سرکار گوھر شاہی کی عامتہ الناس کیلئے ہے جس میں سرکار گوھر شاہی اللہ کا وہ رخ انسانوں کے سینوں میں داخل فرمائیں گے جو کہ وجہ عشق ہے اسی کو دین الہی کہا گیا ہے ۔ عشق تو اللہ سے پہلے بھی لوگوں نے کیا ہے لیکن وہ دین الہی نہیں کہلایا ۔یہ اللہ کا دین ہے جس میں اللہ خود عاشق اور خود معشوق ہے ۔ اللہ معشوق جب بنے گا جب وہ اُس چیز سے عشق کرے گا جو تمھارے اندر ہے ۔ بذات خود تم اس قابل نہیں ہو کہ اللہ تم سے عشق کرے ۔ اللہ اُسی سے عشق کرے گا جس سے پہلے اُس نے عشق کیا تھا، وہ نقشہ اُسے جہاں بھی نظر آئے گا وہ اُس سے عشق کرے گا۔ یہ نہ زمین پر پہلے کبھی آیا نہ وہاں ملا یہ عکس اوّل تو مغرب میں تھا۔ یہ عکس اوّل کا زمین پر آنا سیدنا گوھر شاہی کے طفیل ہوا ہے ۔

ا ﷲ کی محبت کا حصول کیا ہے؟

محبت کا تو مذہب نے بھی طریقہ بتایا اور سکھایا ہے اور وہ مذہب کا حصہ بھی ہے۔ہر مذہب کا نچوڑ ا ﷲ کی محبت ہے۔اسلام میں بھی یہی ہے ا ﷲ کی محبت کا ذکر آیا ہے قرآن میں ۔اور ا ﷲ کی محبت کا طریقہ کیا ہے ؟ حضورﷺ کی اتباع قرآن مجید میں لکھا ہےکہ

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ
سورة آل عمران آیت نمبر 31

قرآن مجید کہتا ہے قُلْ کہہ دو إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ کہ تم ا ﷲ سے محبت کرنا چاہتے ہو فَاتَّبِعُونِي کہ میری اتباع کرو ۔تو حضورﷺکی اتباع سے کیا ہو گا پھر يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ ا ﷲتعالٰی تم سے محبت کرے گا۔ حضور کی اتباع کی وجہ سےا ﷲ تم سے محبت بھی کرے گا اور تمہارے گناہوں کو بھی بخش دے گا ۔اب معلوم یہ ہوا کہ حضورﷺ کی اتباع کرنے والوں سے بھی گناہ ہو سکتے ہیں ۔یہ ایک عجیب و غریب تصّور مولویوں نے پھیلایا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام کے اندر متقی کا کردار ایک ہوّا بنا ہوا ہے ۔ ہر آدمی سوچتا ہے کہ جو متقی ہوتا ہے اُس سے تو کوئی گناہ ہی نہیں ہوتا وہ تو اتنا پاک ہو جاتا ہے اتنا اسکا سخت زہد ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ قرآن مجید کو پڑھیں تو پہلی بات یہ پتہ چل رہی ہے کہ ا ﷲ کی محبت کا جو دینِ اسلام میں واحد دروازہ ہے وہ نبی مکرمﷺ کی اتباع ہے۔

اطاعت اور اتباع میں فرق:

اب حضورﷺ کی اتباع کی جو بات آتی ہے تو ایک لفظ ہے اطاعت اور ایک ہے اتباع۔اطاعت کا مطلب ہے جو آپ کو حکم دیا ہے وہ بجا لائیں اور اتباع میں حکم نہیں ہوتا۔اتباع کا مطلب ہے ایسے کرو جیسے میں کرتا ہوں۔اس کو متشرکین یعنی متشرکین ان لکھاریوں کو کہتے ہیں اور مترجمین جیسے کہ رینولڈ نیلسن ہیں جنہوں نے کشف المعجوب کا ترجمہ کیا تو بڑے بڑے مترجمین نے اتباع کا جو انگریزی لفظ رکھا ہے وہ ہے نقل کرنا۔ حالانکہ جب ہم انگریزی ادب پڑھتے ہیں تو نقل کے منفی مطلب آتے ہیں لیکن ان کو کوئی اور لفظ ملا نہیں تو انہوں نے کہا کہ اتباع کے لیے جو ہے نبی کی نقل کرنا۔اب جیسے سنتوں کا ذکر ہوتا ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت صرف سنتِ رسول کو محمدﷺ کے جسمانی عمل اور کام تسلیم کرتی ہے اور محمدا لر سول ا ﷲﷺ کے باطن میں کیا کیا افعال و اعمال ہوئے ہیں وہ سنت کے زمرے میں لاتے نہیں۔ لہٰذا اگر علمِ ظاہر پر ہی اکتفا کیا جائے گا تو علمِ ظاہر والے کبھی بھی محمد ا لر سول ا ﷲﷺ کی اتباع نہیں کر پائیں گے۔باطن کے بغیر اتباعِ مصطفٰےﷺ ناممکن ہے۔تو اب چونکہ باطن کے بغیر اتباع ناممکن ہے تو محبتِ الٰہی کا حصول بھی ناممکن ہے۔تو محبتِ الٰہی اُن کو ملے گی جو آپﷺ کے ظاہری افعال و اعمال اور باطنی افعال و اعمال کی پیروی کریں گے۔
جیسا کہ آپﷺ نے فرمایا ہے کہ ہماری آنکھیں سوتی ہیں ہمارا قلب نہیں سوتا۔اب سنتوں کا اجتماع کرنے والوں سے پوچھیں کہ آپ حضورﷺ کے قلب بیدار ہونے والی سنت پر کیسے عمل پیرا ہیں۔تو جاہلین یہی کہتے ہیں کہ دل تو ہمیشہ جاگا ہوا ہے سویا کہاں ہے دل سوئے گاتو مر جائیں گے۔ یہ وہ جاہلین ہیں جنہوں نے پگڑیاں باندھ کے لمبے لمبے چوغے پہن کے دنیا کو یہ تاثر دیا ہوا ہے کہ یہ بہت بڑے پیرانِ عزام ہیں بہت بڑے علماء ہیں یہ۔ لیکن یہ سنتِ رسول کی جو ابتدائی تعریف ہے اس کو بیان کرنے سےبھی قاصر ہیں۔ تو محبت کا جو حصول ہے دینِ اسلام میں ہے اتباعِ مصطفٰے ﷺسے۔محبتِ اﷲ اتباعِ رسول سے آئے گیااور اتباع ظاہری اور باطنی موافقت کا نام ہے۔ یعنی آپ کی زبان بھی اﷲاﷲ کرے اور آپ کا دل بھی اﷲاﷲ کرے۔حضور پاک ﷺ کی زبان بھی اﷲاﷲ کرتی ہے اور آپﷺ کا دل بھی اﷲ اﷲ کرتا ہے۔آپﷺ کا جسم بھی نماز پڑھتا آپﷺ کی روح بھی نماز پڑتی۔اس کا ثبوت یہ کہ شبِ معراج میں جو گئے تھے تو وہاں آپ ﷺکی روح نے نماز پڑھائی تھی۔یہ حضور پاک ﷺ کی ظاہری اور باطنی موافقت ۔ جب یہ ہو جائے گی مسلمانوں میں تو ان کو اﷲ کی محبت مل جائے گی۔
اب چونکہ باطنی تعلیم مسلمانوں میں ناپید ہو گئی ہےبا طنی تعلیم کا اس وقت اُن کو کوئی سُراغ نہیں ہے حالانکہ تاریخ بھری ہوئی ہے ۔ہمارےپاکستان میں سندھ میں ایک مقام ہے مکلی ٹھٹھہ اُس کے لیے کہتے ہیں کہ وہاں سوالاکھ ولیوں کے مزار ہیں ۔ملتان کو کہتے ہیں مدینہ الاولیا ء سوالاکھ مزار وہاں بھی ہیں ۔2.5لاکھ مزاردو شہروں میں ہو گئے تو کتنے ولی آئے وہاں پر۔تو تاریخ ہماری کتنی امیر ہے تصوف کے حوالے سے لیکن آج تصوف کا کوئی نام لیوا نہیں بلکہ اگر کوئی تصوف کا نام لیتا بھی ہے تو پھر وہ لوگوں کی جیب کاٹ رہا ہے۔جیسے مولوی دین کو مسجدوں میں بیچ رہے ہیں اس طرح آج کا بے شرع فقیر جعلی پیر دھوکے باز پیر وہ خان کاہوں میں تصوف کو بیچ رہا ہے۔اور اس کی وجہ سے غیر مقلدین میں اضافہ ہو رہا ہے۔جیسے جیسے لوگ کالج یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور قرآن کو ترجمے سے پڑھتے ہیں اور وہ ترجمہ پڑھتے ہیں جو سعودی عرب سے چھپ کے آیا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ پیر کو ماننے والے سارے مشرکین ہیں۔لہٰذا وہ باطنی تعلیم کا جو تصور ہے وہ آج پاکستان کے معاشرے میں ایک شرک کی صورت اختیا ر کر گیا ہے۔اب چونکہ باطنی تعلیم کو آپ نے جھٹلا دیا ہے تو آپ اتباعِ رسول ﷺ کر ہی نہیں سکتے۔لہٰذا محبتِ الٰہی کا جو حصول ہے وہ آپ کے لیے ناممکن ہو گیا ہے۔

اتباع گوھر شاہی حصول ِمحبت الہی ہے :

اگر اصطلاحی طور پر دیکھا جائے تو پوری انسانیت کے لیے اتباعِ گوھر شاہی حصولِ محبتِ الٰہی ہے۔سرکار فرماتے ہیں کہ زبان سے بھی اﷲاﷲ کرو اور دل سے بھی اﷲاﷲ کرو۔اس طریقے کے اندر چونکہ یہ خالص روحانی طریقہ ہے لہٰذا اس میں جتنے بھی سارے کے سارے مذاہب والے ہیں وہ سرکار گوھر شاہی کی پیروی کی وجہ سے اﷲ کی محبت حاصل کر سکتے ہیں۔ کیونکہ سرکار گوھر شاہی سب کیلئے ہیں۔ جب آپ کے دل میں اﷲ کا نور جمع ہونا شروع ہو جائے گا تو اس کی جو مخلوق ہے قلب اس کا کام ہی اﷲ سے رابطہ کرنا ہے۔جیسے ہی اس میں نور آنا شروع ہو جائے گا تو اِس کے جو خصائل ہیں وہ بیدار ہو جائیں گے۔وہ اﷲ کی نظروں میں آجائے گا اور اﷲ سے تعلق اس کا جڑ جائے گا ۔قلب سے ذکرِ الٰہی کا نور اوپر جائے گا اﷲ کا نور اوپر سے نیچے آئے گا ۔قرآن مجید میں اﷲ تعالی نے فرمایا فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ تم میری طرف نور بھیجو میں تمھاری طرف نور بھیجوں گا۔اسی طرح اللہ سےرابطہ جڑ جائے گا۔جب رابطہ اﷲ سے جڑ گیا تو اﷲ تعالی محبت عطا کر دے گا۔یہ محبت ہے۔

عشق الٰہی کیا ہے؟

عشقِ الٰہی کا تعلق جو ہے اس کیلئے دیدارِ الٰہی ضروری ہے ۔عشق دیدارِ الٰہی کے بغیر نہیں ہے۔سیدنا گوھر شاہی کی تشریف آوری سے پہلے دیدارِ الٰہی بڑا دشوار کام رہا ہے۔ نہ صرف یہ کہ دشوار کام رہا ہے بلکہ دیدارِ الٰہی کا علم صرف محمدالرسول اﷲﷺ کو عطا ہوااور وہ بھی آپ کی نبوت کا حصّہ نہیں تھا۔اُس کا ذات سے تعلق تھا۔جس سے محمد الر سول اﷲﷺ راضی ہوئے اُس کو دیا ۔یہ اﷲ کی عطا محمد الر سول اﷲﷺ کیلئے نہیں تھی بلکہ اﷲ کی یہ عطا محمد ﷺ کیلئے تھی۔بطورِ رسول دل والا علم آیا طریقت اور بطورِ محبوب وہ تیسرا علم آیادیدار الہی والا۔اب جن لوگوں کو دیدار کی طرف لے کر جانا ہوا اُن کی ابتدا جو ہے وہ مذہب سے باہر کی ۔جیسے بُلھےشاہ نے فرمایا نہ میں پنج نمازاں پڑھیاں نہ تسبا ں کھڑکایا کیونکہ اس نے آگے مذہب میں جا نا نہیں ہے جو اس کو نمازیں سیکھائیں ۔تو یہ دل والا علم مذہب کا حصہ ۔یہ جو تیسرا علم ہے یہ مذہب کا حصہ نہیں اس کا تعلق محمدﷺ کی ذات سے ہے۔تو بطورِ رسول کسی کا استحقاق نہیں کہ وہ حضور سے کہے کہ میں آپ کا اُمتی ہوں مجھے یہ تعلیم دوکیونکہ یہ صرف اُن کیلئے تھا۔اسی لیے مرشد کا کام ہوتا تھا کہ طالب کو دربارِ رسالت تک پہنچائے اور پھر حضورﷺ دیکھتےہیں کہ اس کی تقدیر میں کیا ہے کہ اس نے یہیں ٹھہرنا ہے یا آگے جانا ہے۔اُس کے بعد پھر اس کی منظوری دیدار کے علم کے لیے ہوتی۔کسی کی منظوری ہوتی کسی کی نہیں ہوتی۔کوئی اس کا متحمل ہو سکتا تھا کوئی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔اس کے لیے پھر لطیفہ انا جو دماغ میں ہوتا ہے اُس کا جو ہے لوگوں کو علم سیکھنا پڑا۔

دیدارِ الٰہی کے لیے لطیفہ انا کا علم کیوں ضروری ہے؟

لطیفہ انا کا علم اس لیے سیکھنا پڑا کیونکہ لطیفہ نفس کا تعلق ناسوت سے ہے یہ ادھر ہی گھومے گا پھرے گا ۔قلب کا تعلق ملکوت سے ہے وہ ملکوت میں ہی گھوم سکتاہے آگےتو اس کے نہیں جا سکتا ہے ۔روح کا تعلق جبروت سے ہے وہ جبروت میں ہی رہے گی تو وہ اپنے عالم سے نکل کر آگے نہیں جاسکتی ہے۔اور اﷲ تو ادھر ہے جہاں پر نہ روح جاسکتی ہے نہ قلب جا سکتا ہے تو پھر ہم کو ایسی مخلوق پکڑنی پڑے گی کہ اُس کا تعلق اُس جہان سے ہو جہاں اﷲ رہتا ہے ۔اگر اﷲ ملکوت میں رہتا تو لطیفہ انا کی تعلیم کی ضرورت ہی نہیں تھی لطیفہ قلب ہی کافی ہوتا۔ لطیفہ انا کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ لطیفہ انا کا تعلق عالمِ احدیت سے ہے۔یہ وہاں کی مخلوق ہے تو یہ مخلوق ہی وہاں پہنچ سکتی ہےتو دیدارِ الٰہی کیلئے اس کو بیدار کریں ۔اس لیے بحالتِ مجبوری لطیفہ انا کی تعلیم وہ ہر طالب کو حاصل کرنا پڑی کیونکہ یہی رسائی کر سکتا ہے اُدھر کی۔لطیفہ انا کی تعلیم حاصل کرنے بعد پھر چالیس دن کا روزہ رکھا پھر مرشد اس کے لطیفہ انا کو مقامِ محمود پر لے گیا۔وہاں جا کر پھر اُس کو اﷲ کا دیدار ہوا۔

جب اﷲ کا دیدار ہوا تو اﷲ کا نقشہ لطیفہ انا میں آگیا۔یہ جو عمل ہے اﷲ کے نقشے کا کسی کے لطیفہ انا میں آنا اس عمل کے ذریعے ایک نور کی رسّی جڑ جاتی ہے اُس رسّی کو عشق کہتے ہیں۔اس لیے دیدار کے بغیر عشق نہیں ہے۔اُس رسّی کے ذریعے تین سو ساٹھ تجلیاں پڑتی رہتی ہیں

اب یہ تو ہوتا رہا اس کی وجہ سے کیونکہ یہ تعلیم صرف محمد ا لرسول اﷲ ﷺ کے پاس تھی تو ان کی اس تعلیم کے اوپر اجارہ داری تھی۔جو حضورﷺکی غلامی میں آیا صرف اس ہی کو دیدار کا راستہ ملااور کسی کو نہیں ملا۔اور پھر سرکار گوھر شاہی نے اُس اجارہ داری کا بازارِ مصطفٰےﷺ بنا دیاکہ جو صرف اجارہ داری اُن کی تھی اُس کی پوری مارکیٹ لگادی۔

پیشانی گوھر شاہی مقام محمود ہے :

اب سرکارسیدنا گوھر شاہی زمین پر آگئے ۔ جو سرکار کی ذات ہے وہ ریاض الجنہ سے آئی۔اب جب تم پیدا ہو جاتے ہو پھر روح تمہارے اندر ڈالی جاتی ہے۔اب سرکار کی ذات آپ کے جسم میں کب آئی کس کو کیا پتہ۔روح کسی بھی جسم میں جا سکتی ہے۔اس لیے فرمایا کہ اہلِ بیت کی جو ارضی ارواح ہونگی وہ جس میں بھی ہونگی اُس کا شمار اہلِ بیت میں ہوگا ۔بھلے وہ روحیں کسی ہندو میں جائیں یا کسی سکھ میں جائیں یا عیسائی یا یہودی میں جائیں کسی میں بھی چلی جائیں وہ اہلِ بیت میں شمار ہوگا۔اب یہ جسم پیدا ہوگیا اُس کے بعد روح ڈالی گئی ۔اب سرکار گوھر شاہی کی ذات جسم میں کب داخل ہوئی یہ بھی تودیکھنا پڑے گا۔ تم انسان کب بنے ؟ پیدا ہونے کے بعد انسانیت کا ایک اور باب کھلا۔ تمہارے اندر روح لطیفے اور لطیفہ نفس ڈالا گیا اور اُس کو اوپر لکھ دیا کہ اس میں اب انسان بننے کی صلاحیت آگئی ہے۔ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے وہ بغیر روح کے پیدا ہوتا ہے ۔اب وہ روح کب ڈالی جائے گی یہ پتہ کرنا ضروری ہے۔

عام آدمی کیلئےاُس سماوی روح کا وقت پر ڈالا جانا ضروری ہے کیونکہ وہ عام ارضی ارواح ہیں۔360سیکنڈ کے اندر ساتوں لطائف ڈالنے ہیں فرشتوں نے اور ابلیس نےلطیفہ نفس مل کر۔لیکن جو بڑی ہستیاں ہیں اُن کے لیے یہ شرط نہیں ہے

سرکار گوھر شاہی کی جو ذات ریاض الجنتہ سےآئی اب ان کے اندر جو لطیفہ انا ہے وہ وہی ہے محمدالرسول ا ﷲ ﷺ والا۔تو درحقیقت پیشانی گوھر شاہی مقامِ محمود ہےکیونکہ محمود حضور پاک کے لطیفہ انا کا نام ہے۔ اب وہ لطیفہ پیشانی گوھر شاہی میں آگیا تو پیشانی گوھر شاہی مقامِ محمود ہو گئی۔یہاں سے بازارِ مصطفٰے کی ابتداہے۔پھر یہ لطیفہ قلب جو تھا یہ آدم صفی ا ﷲ کا لطیفہ قلب آیا۔اور جو لطیفہ اخفٰی ہے جس کو اوپر فتو یٰ لگا ۔ایک صحافی نے کوٹری میں پوچھا کہ آپ کی تعلیم کہاں سے آتی ہے تو فرمایا کہ جو محمدﷺ بتاتے ہیں میری زبان وہی بولتی ہے۔تو وہ اشارہ لطیفہ اخفٰی کی طرف تھا۔ یہ جو لطیفہ اخفٰی ہے سرکار گوھر شاہی کے سینے میں یہ لطیفہ اخفٰی محمد الر سول ا ﷲ کا ہےجس کا نام حامدہے۔اور ارضی ارواح بھی حضورﷺ کی ۔اس کے بعد پھر بہت سارے جثّے ہوئے ۔جو کالکی اوتار والا جثہّ مبارک ہے اس کی کمر پر” اوم ” لکھا ہوگا۔ایک جثّہ مبارک ایسا ہے جس پر داؤد خلیفہ اللہ لکھا ہوا ہے جس کے ذریعے کہا جائے گا کہ یہ داؤد کی اُمت سے ہیں، مسائے عالم ہیں ۔کل اگر ہم یہ کہیں کہ داؤد علیہ السلام کی بھی ارضی ارواح ہیں تو پھر تم بکھر نہیں جانا۔سرکار گوھر شاہی نے اُس جسم کیلئے کہا ہے جو امام مہدی کے مرتبے والا ہے جو بطور مسیحا بیت المقدس میں ظاہر ہو گاوہ یہ تھوڑی ہو گااُس جثہ مبارک کی کمر پر (STAR OF DAVID ) بنا ہوگا ۔ پھر جو کالکی اوتار والا جثہ مبارک ہے اس کی کمر پر “اوم ” لکھا ہو گا۔ قرآنِ مجید میں اس کا ذکر آیا ہے المر اس کا مطلب ہے الروالا اوم کا بھی جو ہےعطا کرے گا نام۔
اب اس کے ساتھ ساتھ سرکار گوھر شاہی کے جسم مبارک میں وہ عکس اوّل بھی آگیا جس کو دیکھ کے ا ﷲ نے رقص کیا۔تم لطیفہ انا کے ذریعے لینے جو گئے وہ ا ﷲ کو لینے کے لیے گئے جو عکس اوّل کو دیکھ کے ناچتا تھا۔جس کو دیکھ کر ا ﷲ ناچتا تھا اب وہ عکس نیچے آگیا۔اب اُس سے بھی اعلی چیز نیچے آگئی۔اب تمہیں لطیفہ انا کی ضرورت نہیں ہےکیونکہ نیچے آگیا سب کچھ۔ہمیں انا کی ضرورت اس لیے تھی کہ جہاں وہ رہتا ہے وہاں صرف یہ مخلوق جا سکتی ہے اس لئے مجبوری تھی روحانیت کو سیکھنا پڑا۔اب جب وہ نیچے آگیا تو اب روحانیت کی کیا ضرورت ہے۔نہ اب وہ چالیس دن کا روزہ رکھنا نہ اب وہ مراقبے کرنے تو اب دیدارِ الٰہی کیسے ہوگانظرِ گوھر شاہی، غلامی گوھر شاہی ۔جس کو چاہیں جس حالت میں چاہیں اپنے وجود سے ایک باطنی رُخ وہ تمہارے سینے میں ڈال دیا ۔اُدھر تو پہلے انا میں آیا تھا پھرآنکھوں میں پھردل پر آیا تھا وہ تو تین جگہ ہجرت ہوئی ۔اِدھر براہِ راست سینے میں ڈالیں گے۔اب وہ چالیس دن کے روزے لطیفہ انا کی جلالیت یہ سب کچھ عورتوں سے برداشت نہیں ہوسکتی لیکن اسی دنیا میں بیٹھے بیٹھے نظرِ گوھر اگر ڈال دے تو اب عورت اور مرد کا فرق مٹ گیا۔اب گوھر شاہی کے کرم سے عورت بھی ا ﷲ کو نہیں بلکہ جس کو دیکھ کر ا ﷲ ناچا اُس کو دیکھ سکتی ہے۔جس نے سرکار گوھر شاہی کو راضی کر لیا جس سے مالک الملک گوھر شاہی راضی ہوگئے ایک باطنی رُخ اس کے سینے میں ڈال دیا۔جیسے ہی ڈالا اُس کی ا ﷲ نے بولی لگادی ۔یہی وہ لوگ ہونگے جو یومِ محشر میں انبیاء کی صف سے بھی آگے کھڑے ہونگے۔انہی کے بارے میں فرمایا تھا ۔اور ا ﷲ ان کو بڑا گھُور گھُور کر دیکھ رہا ہو گا ۔گھُور کر کیوں دیکھ رہا ہو گا کہ اس کو دیکھ کر تو میں وہاں ناچا تھا اب اس کو میں کیا کہوں بس اس کو پیار سے ہی دیکھتا جائے گا۔یہ سب گوھر شاہی کے فضل سے ہوگاگوھرشاہی کے کرم سے ہوگااُن کی غلامی سے ہوگا ۔کلی اختیار آپ کی تقدیر کا سرکار گوھر شاہی کے نعلین ِ مبارک میں ہے۔غلامی گوھر شاہی کا آسان طریقہ پرچارِ مہدی میں ہے۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 25 اور 26 دسمبر 2018 کوالرٰ ٹی وی یو ٹیوب لائیوسیشن میں کی گئی گفتگو سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں