کیٹیگری: مضامین

ہم یہاں روزانہ اُس علم کی بات کرتے ہیں جو زمانے میں ناپید ہو گیا ہے اور یہ علم ایسا ہے جو کتابوں میں نہیں ہوتا یہ فیض کے طور پر ملتا ہے۔تصوف، باطنی علوم ، روحانیت ،علم لدنی ان تمام موضوعات پرروزانہ نہ صرف گفتگو کی جاتی ہے بلکہ رب تک پہنچنے کا جو راستہ ہے وہ بھی متعین کیا جاتا ہے۔یہ علم کتابی علم نہیں ہے یہ علم عرفان کی مانند ہے۔ ہم کوئی عالم نہیں ہیں ، قرآن مجید کی جو باطنی تشریح سمجھ میں آئی ہے وہ لوگوں کو بیان کرتے ہیں ، عربی الفاظ کو صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھ لینا یہ ہمیں آتا نہیں ہے لیکن قرآن کی تعلیم ہمارے پاس ہے کیونکہ قرآن جب باطن میں سکھایا جاتا ہے تو جس بندے کی جو زبان ہوتی ہے اُسی زبان میں سکھاتے ہیں تو پھر اُس کو یہاں کے ترجموں کی ضرورت نہیں پڑتی ، جس طرح مولانا روم نے کہا کہ مثنوی مولوی معنوی ہست قرآن در زبان ِپہلوی۔اسی طرح شاہ عبد الطیف بھٹائی نے بھی کہا کہ یہ جو میری نظمیں اور کافیاں ہیں اِس کو سندھی زبان کا قرآن سمجھیں ،انہوں نے اپنے کلام کوفارسی اور سندھی کا قرآن کیوں کہا کیو نکہ رب نے اُن کو اُن کی زبان میں سمجھایا۔ جس طرح جب یہ قرآن اُترا تھا تو رب نے اس خطے کے لوگوں کی زبان میں اتارا تاکہ اُن لوگوں کی سمجھ میں آجائے ،جس طرح قرآن اُن لوگوں کے زبانوں کے حساب سے اُترا اُسی طرح جو ولی آتے ہیں تو اُن ولیوں کے ماننے والوں کی بہتری کے لیے، سمجھ کیلئے ان کی سمجھ میں آجائے اُس کی تفسیر اور معنی اُس ولی کے دل پر اُسی کی زبان میں اُتارے جاتے ہیں ۔ اگر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم عالم ہیں تو وہ غلط فہمی کا شکار ہیں، ہم عالم نہیں ہیں لیکن قرآن کا علم ہے۔ قرآن کے سات بطون ہیں ، لوگ صرف شریعت کے معنی کو جانتے ہیں باقی معنی وہ جانتے نہیں ہیں کہتے تو ہیں کہ قرآن کے سات بطون ہیں کیا ہیں یہ نہیں پتا ، اب انسان کے جسم میں سات لطیفے ہیں تو ساتوں لطیفے کی تعلیم بھی ہوگی نا تو پھر قرآن کے سات باطن بھی ہوں گے نا، قرآن کا جو ظاہر ہے وہ جسم کیلئے ہے اور قرآن کا جو باطن ہے وہ باطن کیلئےہے یہاں تک کہ باطنی شریعت بھی اس میں شامل ہے۔

اُمت محمدی میں کثرت اولیاء کی وجہ کیا تھی ؟

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ
سورة آل عمران آیت نمبر 110
ترجمہ: کہ ہم نے ان کو اُمت سے نکالا تاکہ یہ پوری انسانیت کو اللہ اللہ میں لگا دیں، اوریہ جو نیک راستہ ہو گا اس کا اختیاران کے پاس ہو گا اگر اہل کتاب بھی ان صوفیوں ولیوں کی طرف متوجہ ہو جائیں تو ان کیلئےبڑا اچھا ہے۔ کہ ان میں بھی بہت سارے مومن ہیں لیکن زیادہ تر وہ لوگ ہیں جوفاسق ہیں۔

اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ نبی کریمﷺ کی اُمت میں جو اولیائے کرام کا ایک نظام اللہ تعالی نے بنایا اور جس کثرت سے اولیائے کرام آئے ہیں اگر آپ یوں سمجھ لیں تو بے جا نہ ہوگا کہ جس کثرت سے بنی اسرائیل میں انبیاء آئے ہیں شاید اسی کثرت سے حضوؐر کی امت میں اولیاء کرام آئے ہیں ، وہاں انبیائے کرام دین کو سدھارتے رہے یہاں اولیائے کرام دین کو سدھارتے رہے۔ اب چونکہ بنی اسرائیل میں تو دھڑا دھڑ نبی آتے تھے تو ولیوں کے نظام کی ضرورت نہیں تھی۔ جو ولایت کا نظام نبی پاکﷺ کی اُمت میں آیا اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ آخری رسول اور آخری پیغمبر ہیں آپ کے بعد کسی نبی نے آنا نہیں ہے تو ایک بہت بڑا اشکال یہ پیدا ہو جاتا ہے کہ دین میں جب بگاڑ ہو جائے گا تو پھر دین کی تجدید کون کرے گا،اس کیلئےضرورت تھی کہ حضوؐر کی اُمت میں ولایت کا نظام مربوط ومضبوط بنایا جائے اور جو کام بنی اسرائیل کے انبیاء نے کیا اب وہ کام حضور نبی کریم ﷺکی اُمت میں جو اولیائےعلماء حق ہیں اُن سے لیا جائے، لہذا آپ دیکھیں کہ جا بجا کثرت سے اولیائے کرام آئے ،ملک شام اولیاء کرام سے بھرا ہوا ہے، ترکی میں بے شمار اولیائےکرام تشریف فرما ہوئے ، مصر اوراسپین میں بہت سے اولیا ء کرام آئے اور نارتھ افریقہ کی پٹی پر بھی آئے ، ہندوستان میں بے شمار اولیائے کرام آئے اِس کے علاوہ عراق میں تو غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی سیٹ تھی یعنی علم و روحانیت کا گہوارہ عراق اور بغداد شریف تھا ۔ پھر آپ ہندوستان میں دیکھیں ، یہاں تک کہ گلف اسٹیٹ کویت میں رفاعی سلسلہ قائم ہوا ، عراق میں اور بھی بہت سے سلاسل تھے جیسا کہ شازلیہ ہے، نیشا پوریہ ہے اس طرح کی بہت ساری شاخیں ہیں ، تو یہ جو نظام ہے ولایت کا یہ حضور نبی کریم کی امت کی خصوصیت تھی۔اولیائے کرام دیگر امتوں میں بھی آئے لیکن وہ برائے نام تھے جو کام کیا گیا وہ انبیاء سے لیا گیا لیکن حضوؐر کی امت میں دو چیزیں تھیں ۔
نمبر ۱۔ نبوت و رسالت ختم ہو گئی ہے لہذا نبوت کا ایک متبادل چاہئیے ۔ جیسے آپ کہیں کام کرتے ہیں اور آپ کو چھٹی چاہئیے تو آپ متبادل دیتے ہیں کہ یہ میری جگہ کور کرے گا ۔اب نبوت ختم ہو گئی تو نبوت کا کوئی متبادل چاہئیے جو کہ نبی کا کام کرے گا ،اس کے لئے ضروری تھا کہ ولایت کا کام نصبی ہو ، نصاب در نصاب ہو اور مربوط ہو تاکہ دین میں جب تجدید کی ضرورت پڑے تو کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔
نمبر۲۔ یہ بات بھی اسی سے منسلک ہے کہ جب آپ آخری رسول آخری نبی بن کر آگئے ہیں اور آپ کے بعد مزید کسی نے بطور نبی اور رسول آنا نہیں ہے توجب دنیا بھر میں ایک عدم روحانی استحکام ایک خلاء آجائے گا تب ہدایت کہاں سے آئے گی؟ اب آخری نبی محمد مصطفی ﷺآگئے کسی نبی نےاب آنا نہیں ہے تو دور دراز کے علاقوں میں جو مختلف اقوام بس رہی ہیں تو اب ان کو ہدایت کیسے ملے گی؟ چونکہ جو ازلی مومن ارواح ہیں ان کی تقسیم تو پورے خطے میں ہوتی ہے۔ ضروری تو نہیں ہے کہ سارے ازلی مومن مسلمانوں میں ہی پیدا ہوں ، سکھوں ، یہودیوں، ہندوئوں میں بھی مومن پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسے خطوں میں بھی پیدا ہو جاتے ہیں جہاں کوئی کسی مذہب کو مانتا نہیں ہے ۔

اولیائے حق اور اولیائے خیر کون ہیں؟

اب اللہ تعالی نے اُن اولیاء کو دو حصوں میں منقسم کیا ، ایک کہلائے اولیائے حق اور دوسرے اولیائے خیر کہلائے ، روحانیت دونوں کے پاس تھی ۔ علمائےحق کی مہارت علومِ قرآن پر تھی اور اولیائے خیر کو مذہب کے قوانین میں تھوڑا نرم رکھا گیا تو یہ دو حصہ بنے تو ایک حصہ بطورعلماء حق والا جس میں مجدد الف ثانی آئے ان کو عالم حق کہیں گے ، جیسے داتا علی ہجویری ہیں یہ بہت بڑے عالم تھے اور ان کے پاس باطنی علم تھا جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایاہے تیرے زمانے کا وہی امام حق جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے۔ تو ایک تو علماء حق کا طبقہ وہ ہوگیا جنہیں دین کی تجدید سونپ دی گئی، جیسے خود غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہیں؟ دنیا میں کوئی ایسا تھا ہی نہیں کہ جو شریعت ،طریقت ، حقیقت ، معارفت میں بھی کامل ہو۔ ولایت میں سب سے بڑا درجہ عارف کا وہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو دیا گیا ہےاور معارفوں میں سب سے بڑا درجہ مولی علی کو دیا گیا ہے، عارف وہ ہےجس کے جسم پر تجلی پڑتی ہے ایسے ولیوں کے امام غوث اعظم ہیں ۔غوث اعظم نے خاص وقتوں میں ایک دفعہ یہ کہا کہ میرے قدم اِس اُمت کے تمام ولیوں کے کاندھوں پر ہے لیکن کئی ولی ایسے گزرے ہیں کہ جن کے مریدوں نے اِس بات کو نہیں مانا ، ایک تو سلمان تونسوی کے مریدوں نے نہیں مانا کہ غوث پاک کا قدم اور دوسرے ولیوں پر ہوگا ہمارے مرشد پر نہیں ہے ، خیر سلمان تونسوی نے گالی دے کر بات ٹال دی ،اِسی طرح کچھ مریدین مجدد الف ثانی کے بھی تھے انہوں نے بھی یہ کہا، تو ان مریدین کو یہ خیال کیسے آیا؟ کوئی بات تو ہو گی نا ، وہ بات کیا تھی! وہ بات یہ تھی کہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ عارفوں کے پیران دستگیر تھے عارفوں کے ولیوں کے سردار تھے۔ولایت دو قسم کی ہوتی ہے ایک عارف والی ایک معارف والی۔

عارف کون ہے؟

جس کے جسم پر تجلی پڑے اُس کا جسم ولی بن جائے وہ عارف ہے ان کے کاندھوں پر غوث پاک کا قدم ہے ۔

معارف کون ہے؟

معارف وہ ہے جس کی کسی روح کے اوپر تجلی پڑے ۔اُن کی ولایت کا تعلق مولی علی سے ہے۔
اب جو غوث پاک نے کہا میرا قدم ولیوں کے کاندھوں پر ہے تو کاندھے تو جسم کے ہوتے ہیں نا اور جن کی ولایت ہی روح کی ہے ان کے کاندھوں کے اوپر آپ اپنا قدم کیوں رکھیں گے، اُن کا جسم تو ولی ہے ہی نہیں ، تو جو غوث پاک نے کہا میرا قدم تمام ولیوں کے کاندھوں پر ہے تو جتنے بھی عارف آئے غوث پاک کا قدم ان ولیوں کے کاندھوں پر ہے۔ اُن ہی کی ولایت پر اُن کی حکمرانی تھی ۔ ایک دن ہم نے باطن میں تحقیق کی کہ کیا کوئی ولی ایسا بھی ہے جس کے کاندھے پر غوث پاک کا قدم نہ ہو، سب سے پہلے مولی علی ظاہر ہوئے انہوں نے کہا ، جس کی ولایت کا مجھ سے تعلق ہے ان میں سے کسی کے کاندھے پران کا قدم نہیں ہے ۔غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ عارفوں کے سردار ہیں ، خود معارف تھے لیکن ان کی ڈیوٹی عارفوں پر تھی وہ معارف تھے تب ہی تو مولی علی نے آ کر نو مرتبہ اپنی زبان ان کے منہ میں ڈالی تھی، تو یہ غوث اعظم بہت بڑے عالم تھے۔اب رہ گئے امام مہدی علیہ السلام ، کیا اللہ کو گوارا ہوگا کہ جس وجود کی رگوں میں اللہ کا جثّہ توفیق الہی دوڑتا ہو ، جس وجود میں محمد رسول اللہ کی ارضی ارواح ہوں ، وہ جسم جس کے سر کے تالو پر پورا اسم ذات کھدا ہوا ہو ، وہ جسم جس کے شانوں پر کھال میں سورةیاسین لکھی ہو، وہ جسم جس کے کاندھوں پر آیت الکرسی لکھی ہو اُس وجود، اُس جسم ،اُس کاندھے پر کسی ولی کا قدم ہو۔ اس پر کون قدم رکھے گا !!
تو اللہ تعالی نے ایک مربوط ولایت کا نظام بنایا اُس کا ایک حصہ علماء حق کو دے دیا اور اس کا دوسرا حصہ اولیاءخیر کو دے دیا ، اب یہ جو علماء حق ہیں انہوں نے دین کی ذمہ داری سنبھال لی ، اب یہاں کیا ہوا ، جب سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے دیکھا کہ اب ہمارا مشن سرحدیں پار کرگیا ہے اب اس مشن میں ہندو سکھ عیسائی سب شامل ہو رہے ہیں ، پھر انجمن سرفروشان اسلام کی طرف ایک نظر دیکھا کہ اس میں تو سارے مسلمان ہیں ،اگران نمازیوں پرہیز گاروں کو کہہ دیا جائو کلب میں ناچو ، شرابیوں کو ذکر دو تو ان کا تو ایمان خراب ہو جائے گا ،اس کیلئےپھرسیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے ایک نئی تنظیم بنائی ،آج تو وہ کہتے ہیں کہ فلاں کو بھی تنظیم سے نکال دیا تھا،فلاں کو بھی نکال دیا تھا یہ بھی تو دیکھو کیوں نکالا تھا، وہ جو نئی تنظیم بنائی اس میں کہا کہ اس میں سارے گناہ گاروں کو بھرتی کریں گے جو پہلے سے ہی تلنگے تھے کہا کہ ٹھیک ہے تم شراب خانوں میں جائو اور مشن بیان کرو، وہ دین دار نہیں تھے ان کو ادھر بھیجا ، یہ ہی چیز اللہ نے کی ، علماء حق کو دین سنوارنے میں لگا دیا اور جو اولیائے خیر تھے ان کیلئےکہا أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِہ ہم نے ان کو اُمت سے نکالا تاکہ یہ پوری انسانیت کو اللہ اللہ میں لگا دیں ، پوری انسانیت کو پیغام محمدﷺ سنا دیں۔رہے یہ مسلمان ولی ہی لیکن اِن کی چوکھٹ پر سکھ بھی پہنچ گیا،ان کی چوکھٹ پر یہودی بھی عیسائی بھی ہندو بھی پہنچ گیا ۔صرف انڈیا میں ہی جائو وہاں ممبئی میں حاجی علی بابا کا مزار ہے وہاں مسلمان کم اور ہندو اور سکھ زیادہ ہوتے ہیں ، اسی طرح نظام الدین اولیاء کے مزار پر وہاں سب ملیں گے آپ کو، ہندو بھی کھڑا ہے ادب سے، سکھ بھی ادب سے کھڑا ہے ، عیسائی بھی آ رہے ہیں مسلمان بھی آ رہے ہیں ،تو ان ولیوں کو یہ تعلیم دی کیونکہ قرآن میں آگیا أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِکہ ان کو ادھر سے نکالو یہ پوری دنیا میں اللہ کی محبت کا پیغام پہنچائیں گے ۔ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ اوریہ جو نیک راستہ ہو گا اس کا اختیاران کے پاس ہو گا ۔
ان کو کیا پرواہ نیک و بد کی ۔۔۔۔جس کوچاہیں با خدا کر دیں
یہ ہے امر بالمعروف ۔ اگر ان کو امر بالمعروف کا محکمہ دیا تو پھر انہوں نے کسی کو نیکی پر لگایا تو پھر وہ ایسے لگے کہ مستقل نیکی پر لگے رہے۔ یہ زبانی تبلیغ کہ چلو نماز پڑھو چلو نیک کام کرو ، چلو یہ کرو، یہ زبانی کلامی تبلیغ کر کے بندہ ایک روز چھوڑ دیتا ہے، لیکن اگر امر بالمعروف کا حکم اللہ کی طرف سے ہو گا پھر وہ جس بندے کو بھی لگائیں گے تو وہ پھر قیامت تک امر بالمعروف پر قائم رہے گا ۔نہی عن المنکر، اس کا مطلب ہوا کہ وہ جو چیز اُن کے اندر برائی کرنے والی ہے اس کو پاک کر دیں گے ،ہمیشہ کیلئےاُس کو برائی سے جان چھڑا دیں گے ، یہ اولیائے خیر کیلئےکہا وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُم اگر اہل کتاب بھی ان صوفیوں ولیوں کی طرف متوجہ ہو جائیں تو ان کیلئےبڑا اچھا ہے۔یہ جو مسلمان صوفی آئے جن کو اللہ نے انسانیت کی تربیت کیلئےاِس اُمت سے نکالا ہے اگر اہل کتاب بھی ان کی آواز پر لبیک کہیں تو ان کےلیے بڑا اچھا ہے ۔پھر فرمایا مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ کہ ان میں بھی بہت سارے مومن ہیں لیکن زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو زبانی کلامی تو دین کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے باطن خالی ہیں ۔یعنی فاسق ہیں ۔تواللہ نے اتنے زیادہ ولیوں کا نظام اس لئےمضبوط بنایاکہ ایک تو وہ دین کا کام لینا تھا جو نبیوں کا تھا دوسرا نبوت و رسالت ختم ہو گئی تھی اب دنیا کا کیا ہو گا اس کیلئےپھر یہ جماعت ولیوں کی بنائی کہ اہل کتاب کے پاس بھی جانا جو غیر مذہب والے ہیں ان کے پاس بھی جانا ۔

سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کافیض ہر مذہب کے لئے ہے :

سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے آنے سے پہلے یہ کام جو ہوا کہ اہل کتاب کے پاس بھی جانا سب کو پیغام سنانا کا کام بڑے ہی چھوٹے پیمانے پر ہوا دیگر مذاہب کے لوگ ولیوں کے پاس تو آگئے لیکن یہ ولی چل کر نہ کسی مندر گئے، نہ کسی چرچ میں گئے، لیکن جب سیدنا امام مہدی گوھر شاہی تشریف لائے ہیں تو آپ نے اپنا پیغام سنیوں کی مسجد میں بھی ممبر پر بیٹھ کر دیا ،شیعہ کی مسجد میں بھی ممبر پر بیٹھ کر دیا ،شیعہ کی مسجد میں بیٹھ کر فرمایا ،کہ شریعت میں سب سے بڑا مقام ابو بکر صدیق کا ہے اور طریقت میں مولی علی کا ہے ، ہے کسی میں جراٴت! یہ گوھر شاہی کی مردانگی ہے۔ حق بات فرمائی۔ پاک پتن گئے تو فرمایا یہ جنتی دروازہ سب جھوٹ ہے۔جب سیدنا امام مہدی گوھر شاہی آ گئے تو سنی کی مسجد میں بھی خطاب کیا، شیعہ کی مسجد میں بھی خطاب کیا، گرو دوارے بھی چلے گئے ، مندر اور چرچ بھی چلے گئے وہان بھی وہی بات کی ، ایک دفعہ سیدنا امام مہدی گوھر شاہی امریکہ میں تھے اور میر لیاقت علی (امریکی رہائشی ) جو کہ جیلوں میں مسلمانوں کو حدیثوں کا دور سنانے جاتے تھے انہوں نے شکاگو جیل میں ٹائم لیا کہ سرکار وہاں جا کر قیدیوں سے گفتگو فرمائیں ، جب وقت طے ہو گیا اور سرکار جب وہاں تشریف لے گئے تو وہاں مختلف مذاہب کے قیدی تھے وہ سب سرکار کی صورت مبارکہ دیکھ کر ہی گرویدہ ہو گئے ،ویٹنگ روم میں ہی سکھ ،ہندو عیسائی قیدیوں کی فرمائش آنے لگی کہ ہم نے بھی ملنا ہے ، سرکار نے فرمایا بالکل تم سب آ کر بیٹھ جائو ،تو وہاں جو مسلمان تھے ان کو آگ لگی انہوں نے کہا نہیں صرف مسلمان ملیں گے کوئی اور نہیں مل سکتا تو سرکار نے فرمایا کہ ہم تو سب کیلئےہیں ، ہم اگر ملیں گے تو سب سے ملیں گے اور اگر یہاں کی انتظامیہ کا خیال ہے کہ صرف مسلمانوں سے ملو تو ہم صرف مسلمانوں سے نہیں ملیں گے ہم سب سے ملیں گے۔ تو انہوں نے کہا نہیں صرف مسلمانوں سے ملیں تو سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے فرمایا پھر ہم کسی سے نہیں ملیں گے۔آپ مسلمانوں سے بھی نہیں ملے ، واپس آ گئے ۔سرکار کا یہ عمل بتاتا ہے کہ وہ سب کیلئےآئے ہیں ، کتنا درد ہے ، کتنا انصاف ہے کہ اِن سے میں مل لیا اور اُن سے نہ ملا تو ان کے ساتھ نا انصافی ہو گی، انصاف سے بھر رہے ہیں زمانے کو۔
اب وہ جو دنیا بھر کیلئےہدایت کا بندوبست ہوتا ہے ،سرکار نےاس کو ایک مذہب کی صورت عطا فرمائی ہے یعنی اللہ کے پیغامات کی روشنی میں کہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ یہ جو ہمارا عشق ہے یہ ہم نےپوری انسانیت کے لیےکھول دیا ہے ،یہ سب کیلئےہے کوئی بھی ہو کسی مذہب کا بھی ہو ، بھلے کسی مذہب کا نہ بھی ہو تو اس کو بھی ہمارا عشق سکھائو۔یہی وجہ ہے کہ فرمان گوھر شاہی ہے

“جو کسی مذہب میں ہےلیکن اس کے دل میں اللہ کی محبت نہیں اس بندے سے وہ بندہ بہتر ہے جو مذہب میں نہیں ہے لیکن اس کے دل میں اللہ کی محبت ہے”

اب دیکھو نا حضور پاک نے جب تصوف کے بارے میں بیان فرمایا تو اپنی اُمت کو مخاطب نہیں کیا بلکہ کہا کہ” اے بنی آدم ! تیرے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ایسا ہے اگر اُس کے اصلاح ہو جائے تو پورے جسم کی اصلاح ہو جائے گی، یاد رکھ وہ تیرا قلب ہے ” ۔ تو معلوم ہوا کہ حضور کی تعلیمات میں سے یہ ایک شاخ ایسی جا رہی ہے کہ جس کے اوپر مذہب کی پابندی نہیں ہے، یہ خطاب آدم علیہ السلام کی پوری اولاد سے ہو رہا ہے۔اوراولیائے کرام نے لوگوں کو خواہ کسی بھی مذہب کے تھے روحانیت کی طرف لگایا ، سیدنا امام مہدی گوھر شاہی تو اس کومزید آگے لے گئے کہ صرف روحانیت تک نہیں بلکہ اللہ تک پہنچو ۔

خلاصہ کلام:

اُمت میں ولایت کا نظام اتنا مربوط ہے کہ ہر زمانے میں تین سو ساٹھ ولی ہوا کرتے، ایک غوث الزماں ہوتا ، تین قطب ہوتے ،چالیس ابدال ہوتے ، ڈیڑھ سو ابرار ہوتے یہ پورا تین سو ساٹھ کا عملہ ہر دور میں ہوا، ولایت کا اتنا مربوط نظام کسی امت میں نہیں تھا تو اتنا مربوط نظام حضور کی امت میں کیوں بنایا گیا؟ کیا ضرورت تھی؟ اس کیلئےدو نکات بیان کیے ، کہ ایک ضرورت تو یہ تھی کہ وہ کام لینا تھا تجدید کا جو بنی اسرائیل کے انبیاء سے لیا گیا اب چونکہ یہاں نبوت و رسالت تو ختم ہو گئی تو اب اس دین میں تجدید کون کرے گا اس کیلئےضرورت تھی کے جن پر صحیفوں کی جگہ اللہ کا کلام اترے اور پھر وہ دین میں تجدید کر سکیں ۔دوسری طرف اب پوری دنیا کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھا کہ آخری نبی آ گیا ہے تو اب باقی دنیا کا کیا بنے گا تو اسی اُمت میں سے ایک جماعت اولیاء کی نکال لی کہ تم اس مذہب سے تھوڑا آگے آ جائو مذہبی پابندیوں سے تھوڑا آگے نکلو اور ساری دنیا میں پیغام محمدﷺ کو پہنچائو کہ سب کے دل میں اللہ کا نور آ جائے ، سب مومن بن جائیں ، سب دین حنیف میں آ جائیں توحید کے پرستار بن جائیں ، شمع توحید اُن کے دلوں میں آ جائے ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 22 اگست 2018 کو یو ٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں