کیٹیگری: مضامین

مہدی فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے آمد ِمہدی اورتصورِمہدی اور مامور من اللہ امام مہدی کی پہچان جیسے اہم اور نازک ترین موضوعات پرہم متعدد بار مفصل و مدلل گفتگو کرتے رہے ہیں،اس مرتبہ جو بات آج کی گفتگو کا محرک بنی ہے وہ مرتبہ مہدی کے خلاف ایک انتہائی مذموم اور گھناؤنی سازش ہے جسے بے نقاب کرنا بہت ضروری ہے۔

ایک اسکالر کا امام مہدی کے خلاف آرٹیکل:

یہ کسی المیے سے کم نہیں ہےکہ دینی عالم ہوں یا انٹرنیٹ پر بیٹھے جز وقتی عالم اپنی ناقص معلومات سے دین کے بارے میں بہت غلط تاثر پھیلا رہے ہیں جیسا کہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں انٹرنیٹ پر ایک یہودی اسکالر کاآرٹیکل موجود ہے جس میں تصور مہدی کو مکمل طورپر غلط رنگ دیا گیا ہے جس کا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں،جس بات نے ہمیں چونکا دیا وہ یہ ہے کہ اُس اسکالر نےامام مہدی کاانتہائی خوفناک روپ بیان کیا ہے کہ وہ اسلامی مہدی نہ صرف جھوٹا مسیحا اور دجال ہو گا بلکہ وقت آنے پر خدائی کادعوی بھی کرے گا۔اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ خدائی کا دعوی شیعہ،وہابی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ صوفی ہونے کی وجہ سے کرے گا کیونکہ نہ تو شیعہ مانتے ہیں کہ انسان رب ہو سکتا ہے نہ وہابی ایسا مانتے ہیں۔لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ صوفی خود اللہ ہو جاتا ہے یہاں اس نےمنصوربن حلاج کی مثال دی ہے کہ اس نے بھی انا لحق کا نعرہ لگایا تھا،مولانا رومی کی مثال بھی دی ہے کہ جب بندہ راہِ خدا میں مکمل ہو جاتا ہے تو وہ اللہ ہی ہو جاتا ہے۔اِن باتوں کو آڑ بنا کر کہا کہ وہ جھوٹا مہدی بھی مسلم اور خاص طور پر صوفی پس منظر سے ہوگا۔ایسا صوفی جوانسانیت کا دشمن ہو گا،تمام عیسائیوں اور یہودیوں کو قتل کر دے گا،صلیب کو توڑ کر یروشلم میں اسلامی سلطنت کو قائم کرے گا۔
اس طرح کے آرٹیکل کا سارا ذمہ اس اسکالرپر نہیں ڈال سکتے کیونکہ اُس کے ان خیالات کا ذمہ دار دین اسلام کی وہ کتب ہیں جن میں اسلام کا حقیقی تصور مسخ کر دیا گیا ہے،وہ احادیث ہیں جن کو توڑ موڑ دیا گیا ہے جن کی سند کا کسی کو معلوم نہیں۔ذہن نشین رہے کہ احادیث کی پہلی کتاب بانی اسلام حضرت محمد مصطفی کے دنیا سے پردہ فرمانے کے دوسو سال بعد مرتب کی گئی تھی،جس شخص نے یہ کام انجام دیا ان کا نام محمد اسماعیل بخاری تھا جو بخارا کے رہنے والے تھےاِسی لیے اُن کی احادیث پر مبنی کتاب کو بخاری شریف کہا جانے لگا جس میں حضور سے منسوب کردہ چالیس ہزار احادیث موجود تھیں۔
اس اسکالر کے مطابق امام مہدی عیسیٰ کے ساتھ مل کر صلیب کو کیوں توڑیں گے،سور کو ماریں گےاوراسلامی حکومت قائم کریں گے یہ بات سن کر آپ کو سوچنا چاہئے کہ جب حضور نے اپنے دور میں اپنے ارد گرد رہنے والے ہزاروں یہودیوں اور عیسائیوں کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو کام محسن ِانسانیت بانی اسلام نے نہیں کیا تو امام مہدی جو کہ مسیحائے عالم ہیں تمام انسانیت کے نجات دہندہ ہیں وہ ایسا کام کیوں کریں گے۔ اور اب تو ویسے بھی دین اسلام ختم ہو چکا ہے اِس وقت اسلام کے نام پر جو نظر آ رہا ہے وہ دہشت گردی انتہا پسندی ، مذہبی شدت پسندی تو ہے اسلام ہرگز نہیں ہے۔نفرت، ظلم شدت پسندی اور غلاظت کو اسلام کا نام دیا ہوا ہے اس سے بڑھ کر غلاظت اور کیا ہو گی کہ پانچ سال کی بچی سے زیادتی کر کے اس کو مار دیں اور اس کو سنت کا نام دیں۔اِس وقت دنیا میں ایسا کوئی عالم موجود نہیں جوصحیح معنوں میں اسلام کا حقیقی چہرہ لوگوں کودکھا سکے۔اسلام کو مسخ کیا جا چکا ہے، قرآن کے مفہوم کو بگاڑ دیا گیا ہے ،اِس وقت اسلام اور قرآن کی آڑ لے کر نفرت بوئی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ آج بیان کیا جانے والا اسلام ، آج کا قرآن اور آج بیان کی جانے والی حدیثیں کروڑوں لوگوں کو حق سے دور بہت لے جا چکی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج شیعہ فرقہ کا تصورمہدی بالکل مختلف ہے ، بریلوی امام مہدی کے بارے میں کچھ اور خیال رکھتے ہیں اور وہابیوں اور دیگر فرقوں کا تصور مہدی بھی الگ الگ ہے ۔ ذرا سوچیں احادیث میں جس امام مہدی کا ذکر ہے اس کو توڑا موڑا نہ جاتا تو آج سب جدا جدا تصور لئے مہدی کا انتظار نہ کر رہے ہوتے۔اسلام اور قرآن و حدیث میں ردو بدل ہو جانے کے بعد اگر یہودی یا عیسائی اسکالرز اِسی تصور کو سچ مان لیں تو وہ جان لیں کہ وہ isis کے نقش قدم پر چل رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے لیڈر کو امام مہدی مانتے ہیں جس نے دنیا میں خون کا بازار گرم کر رکھا ہے۔
ہم دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم سچے اور حقیقی منجانب اللہ امام مہدی کے پیرو کار ہیں ہمیں ہندوئوں، عیسائیوں ، یہودیوں سب سے محبت ہے۔کیونکہ ہم جانتے ہیں تمام انسانوں کو رب نے بنایا ہے ،مختلف انبیاء اپنے اپنے زمانے میں دنیا پر اللہ کے حکم سے دین قائم کرنے پر مبعوث ہوئے ان میں سے کوئی دین بھی غلط نہیں ۔ نہ ہی ابراہیم غلط تھے نہ موسی اورعیسیٰ علیہ السلام کی بات ہی الگ ہے کوئی مانے یا نہ مانے ہم تو ان کو خدا مانتے ہیں، گوشت پوست کے وجود میں چلتا پھرتا خدا۔

”امام مہدی کسی انسان کےدشمن نہیں ہیں کیونکہ امام مہدی انسانیت کے مسیحا ہیں بھلے اس کا دین کوئی ہو۔امام مہدی مذہبی شخصیت نہیں ہیں بلکہ ایک ایسی عالمگیر ہستی ہیں جن کا پوری انسانیت سے تعلق ہے“

انسانیت پر کڑا وقت:

اس وقت دنیا بہت کڑے وقت سے گزر رہی ہے ناانصافی تو پہلے ہی بھگت رہے تھے اوپر سے مذہبی رہنمائوں نے بھی دونوں ہاتھوں سےاپنی کسر پوری کی اور شیطان جو انسان کا ازلی دشمن ہے وہ اپنے کام میں لگا وہ ستم الگ ہے۔مذاہب نے لوگوں سے شعور و بصیرت تو چھینی ہے ان کے دل بھی ایسے سخت کر دئیے کہ انسانوں سے انسانیت نکال کر انہیں حیوانوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ اُس اسکالرنےاُن احادیث پر اکتفا کیا جن کے مستند ہونے میں شبہ ہے اس کے علاوہ اسلام کی اصل صورت بگڑ چکی ہے اب اسلام کے بہتر ٹکڑے کر دئیے گئے۔ایک فرقہ جس حدیث کی بات کرتا ہے تو دوسرے فرقے والا اُس کو تسلیم نہیں کرتا،اور اِن جیسے کتابی اسکالرز کتابوں پر مبنی غیر مستند معلوماتی مواداکھٹا کر کے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں،یہ بہت عظیم گمراہی ہے اور آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اورعیسیٰ علیہ السلام مل کر عشق الہی کے فروغ کا کام کریں گے کسی دین کا نفاذ نہیں کریں گے،اِس وقت یہ صورتحال ہے کہ دین اسلام سوائے دردِ سری کے کچھ اور نہیں،جس وقت محمد رسول اللہ دین اسلام کی شراب لائے تھے اُس وقت کے اسلام کا خمار اور سرورکچھ اور تھا آج جسے آپ دیکھ رہے ہیں وہ کسی شرابی کی لڑکھڑاہٹ اور بد مستی کے سوا کچھ اور نہیں۔اُس اسکالر نے یہ بات بھی اپنی تحریر میں شامل کی کہ دجال مبینہ طور پر قرآن ہی سے یہ ثابت کرے گااللہ نے کہا ہے کہ عورتیں تمہاری کھیتی ہیں جس رستے سے چاہے داخل ہو جاؤ،حقیقت یہ ہے کہ قرآن ہو یاانجیل اللہ نے صاف اور سیدھی بات کے بجائے پہیلی کے انداز میں گفتگو کی ہے جسے عام لوگ آسانی سے سمجھ نہیں سکتے اور آج ہمارے ہاتھوں میں جو کتابیں موجود ہیں وہ شدید ترین گڑ بڑ کا شکار ہیں،ایک تو اللہ نے کتابوں میں الجھن رکھی ،سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ ترجمہ کرنے والوں نےان کتب کے ترجمہ کر کر کے مزید اُلجھنوں کا جال بُن دیا،اُن ہی کی آڑ لے کر ایک دوسرے سے نفرتوں کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

”آؤاپنے دلوں کو محبت سے بھر لو اور اس نفرت سے جان چھڑا لو،بھول جاؤ کون کیا ہے،تم سب ایک رب کی مخلوق ہو تمہاری جلد کے رنگ جدا جدا ہو سکتے ہیں لیکن تم سب کے خون کا رنگ ایک ہے،اگر تمہارے دل پاک ہوجائیں گے توتمہارا رب تم سب کوایک نظر سے دیکھے گا۔اِس وقت تمام انسانوں کے دل غلاظت اور سیاہی سے اٹے ہوئے ہیں اوردلوں کی یہ سیاہی نہ صرف اِس دھرتی پر بلکہ انسانیت پربوجھ ہے“

یاد رکھیں امام مہدی بارہویں امام ہرگز نہیں ہیں جبکہ اُس اسکالر نے اس بات پر بہت زور دیا ہے،جان لیجئے بارہویں امام،امام ابو حنیفہ تھے۔امام سے مراد مذہبی رہنما ہےاورامام مہدی محض ایک مرتبہ کا نام ہے جو مسلمانوں نے اُن کو دیا ہے،امام مہدی اُن کا ذاتی نام نہیں ہے۔مہدی کا معنی چاند والا،اس مرتبہ کا اسلام سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔کتاب مقدس انجیل کے مطابق دجال،دجال کے نام سے نہیں جانا جائے گا دجال کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ مہدی اور عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے گا۔جیسا کے احمدیہ جماعت کے رہنما نے عیسیٰ اور مہدی ہونے کا دعوی کیا تھا،اِسی طرح کبھی انڈیا سے،کبھی افریقہ سے،کبھی ایشیاء سےمہدی اورعیسیٰ ہونے کے بہت سے جھوٹے دعویدار بھی دنیا میں آئے ہیں۔ ایسے گمراہ کن دعویدار محض دنیا کو بیوقوف بنا رہے ہیں کیونکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اُسی عیسی علیہ السلام نے دنیا میں واپس آنا ہے جنہیں بی بی مریم نے جنم دیا تھا۔
دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈا پھیلایا جا رہا ہے کہ آنے والا مہدی یہودیوں کو ختم کر دے گا،جبکہ سیدنا را ریاض گوہر شاہی امام مہدی نے تو فرمایا”اسرائیل سے مکہ تک کی زمین یہودیوں کی ہے اور خدا کی جگہ،اُن کا یہ حق انہیں واپس دلائیں گے“۔سیدنا گوہر شاہی نے اِس رازکو بھی افشاں فرمایا کہ حجر اسود میں عیسیٰ علیہ السلام ،بی بی مریم اور بہت سے انبیاء کی تصاویر موجود ہیں یہی وجہ ہے کے یہ پتھر ہر مذہب والے کے لیے مقدس ہے۔

”سیدنا گوہر شاہی منجانب اللہ مہدی ہیں جن کا صدیوں سے انتظار ہے آپ دین اسلام کے فروغ کی بات نہیں کرتے آپ کی تو تعلیم ہی محبت ہے۔آپ کا فرمان ہے تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے دل میں اللہ کی محبت ہے“

امام مہدی لوگوں کا دین ٹھیک کرنے نہیں آئیں گے اُس کے لئےتو انبیاء آئے اور چلے گئے امام مہدی انسانیت کو رب سے جوڑنے کے لیے آئیں گے جس کا تعلق رب سے جڑ گیا رب کی نظر میں وہ ہی سب سے بہتر ہے بھلے وہ دین دار ہو یا بے دین۔
یہودی یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام میں امام مہدی کا جو تصور ہے معاذ اللہ اسلام کا امام مہدی ہی دجال ہے۔اُس بندے نے اپنے آرٹیکل میں تین چار پیرے اِس بات کو ثابت کر نے میں لگائے ہیں نہ تو کوئی شیعہ لیڈر اپنے آپ کو خدا کہتا ہے۔اسلام میں انسان میں خدا کا تصور صرف تصوف میں ہے،صوفی ازم میں مرشد کو خدا کہتے ہیں یہ شر ہے، پھر اُس نے کہا منصور بن حلاج نے کہا”انا الحق“۔پھرہم آپ تو تصوف کو سمجھتے ہیں لیکن دنیا میں کتنے مسلمان یا عیسائی ہیں جو تصوف کو سمجھتے ہیں وہ تو بات سن کر بس ہاں اور نہ کرتے ہیں۔دنیا بھر میں کوئی بھی امن اور محبت کی بات نہیں کر رہا،جیسا کہ احمدی ہیں ان کا بھی یہ نعرہ ہے کہ”محبت سب کےلئے نفرت کسی سے نہیں“ لیکن کتنے یہودیوں کو اپنی مسجد میں عبادت کے لیے بلارہے ہیں،ان کا نعرہ زبانی کلامی ہے۔لیکن ہم کسی بھی مذہب میں آسانی سے داخل ہو کر اپنا پیغام بھی دے دیتے ہیں اور وہ مان بھی لیتا ہے،ایسی تحریک کوئی نہیں ہے۔محسوس یہ ہوتا ہے باطل قوتیں ہماری راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے تیار ہو رہی ہیں ۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بائبل،تورایت اور قرآن پر مفصل تحقیق کرنے کے بعد ایک کتاب مرتب دیں۔اُس یہودی کی بات کسی حد تک ٹھیک ہے کہ دجال اسلام سے متعلق ہو گا لیکن دجال اسلامی مسایا نہیں ہے بلکہ مہدیت کا جھوٹا دعوے دار ہو گا۔
بائبل کے مطابق عیسیٰ کے جھوٹے دعویدار آئیں گے تو کیا مرتبہ مہدی کے جھوٹے دعویدار نہیں آئیں گے!!دجال کے لیے لازم ہے کہ وہ مہدیت کا جھوٹا دعویدار ہوگا۔تصوف میں مرشد کو خدا سمجھتے ہیں تو کیا عیسائیت میں یہ تصور نہیں ہے،ہولی ٹرینیٹی میں بھی تو یہ ہی ہے۔قبالہ کی تعلیم کے اندر بھی اتحاد باللہ کا تصور موجود ہے۔عیسائیوں میں اس وقت عیسی علیہ السلام کو کوئی بھی خدا نہیں سمجھتا ہاں خدا کے بیٹے کی حد تک مانتے ہیں۔اسلام پر اب جتنی ریسرچ کر رہے ہیں وہ پہلے کبھی نہیں ہوئی اب جو ریسرچ ہو رہی ہے وہ من پسند چیز نکال کردوسروں کو گالی دینے انگلی اٹھانے کے لیے ہے۔دنیا کا کوئی ایسا مذہب نہیں آیا جس میں شدت پسندی نہ ہو۔قرآن میں لکھا ہےکہ کافر جہاں ملے مار دو،لوگ اس کو سمجھ نہ سکے یہ بات صرف میدان جنگ کے لیے تھی، بعد میں منسوخ ہو گئی لیکن قرآان میں آج بھی ہے،ان الفاظ کو اٹھاتے ہیں اور عمل کرتے ہیں موقع محل نہیں دیکھ رہے۔مذہب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مذہب آپ کوتنگ نظر بنا دیتا ہے۔یعنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لی،اب فجر کا وقت،اب اشراق کا اب یہ اب وہ،بیت الخلا جاؤ تو فلاں آیت پڑھو،بیوی کے پاس جاؤ تو یہ پڑھو،کھانا کھائو تویہ دعاکرو،یہ سب کیا ہے یہ انسان کو باندھ دیا ہے۔کسی اور دین کا پتا نہیں ایسا ہے یا نہیں لیکن مسلمانوں میں ہے۔یہودی بھی اپنے دین پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔
کسی بھی دین پر سختی سے عمل کرنے والے انسان کا ذہن کھسک جاتا ہے۔کسی بندے کا ہاتھ دکھ رہا ہو پھر بھی کہتے ہیں کہ سیدھے ہاتھ سے پانی پیو۔دین میں بہت سی چیزیں ادباً اور احتراماً ہیں،نہ کرو تو مضائقہ نہیں،جیسا کہ داڑھی ہے۔کیا ان احتیاطوں سے ہم متقی ہو گئے؟دین پر عمل صرف ریا کاری اور دکھاوا ہے اور کچھ نہیں ہے۔
سیدنا گوھر شاہی کا کھربوں مرتبہ شکر ہے کے ہمارے ذہنوں کو کشادہ کیا،خدا صرف مذہبی لوگوں کا ہی نہیں ہے بلکہ زمین پر بسنے والے ہر انسان کا رب ہے۔شدت پسندی کیا ہے،میں تم سے الگ ہوں میں ٹھیک ہوں تم غلط،تم کو جینے کا حق نہیں اس لیے مار دیا۔اگر کوئی غلط کام کر رہا ہے وہ اس کے اور خدا کے مابین ہے،اللہ نے اس کے لیے یوم جزا رکھا ہے لیکن تم نے اس کے لیے روز یوم جزا بنا رکھا ہے۔ہوسکتا ہے آج نہیں تو کل وہ رب والا ہوجائے۔یہ مذہبی لوگ ہی ہیں جنہوں نے آپس میں لوگوں کو لڑا رکھا ہے۔سلطان حق باھو نے چار سو سال پہلے احادیث کی تحقیق کی اور چالیس احادیث کے سوا تمام کو جھوٹا بیان کر دیا۔سیدنا گوھر شاہی سے پوچھا کہ یہ چالیس تو ٹھیک ہیں تو فرمایا چار سو سال پہلے ٹھیک ہونگی اب یہ بھی مشکوک ہیں۔حضور نے علی کو علم کا دروازہ کہا لیکن علی سے شاذ و نادر ہی کوئی حدیث ملے گی،لیکن بی بی عائشہ سے تین لاکھ احادیث مروی ہیں ۔جب قرآن کا مفہوم تبدیل کر دیا تو حدیث کیا کرے گی اب یہ حدیثوں کا زمانہ نہیں۔بخاری شریف کو اب صحیح بخاری کہتے ہیں اگر یہ مستند تھی تو تم نے صحیح کیوں کی،اور جو سچی حدیث تھی اس کی دلیل کہاں سے لائیں گے تو اس وجہ سے وہ سچی حدیث نکال دی۔ابھی کہتے ہو یہ حدیث فلاں ابن فلاں سے مروی ہے،تو دو سو سال میں جو لوگ گزرے وہ کہاں تھے،دو سو سال تک تو قرآن نہیں تحریر ہواتھا۔دو سو سال کے عرصے میں کربلا بھی ہوا تھا اس بارے میں بھی تو کچھ لکھا نہیں گیا تو اب کس طرح لوگ اس پر ایسے بات کر رہے ہیں جیسے یہ تمام منظر ان کا آنکھوں دیکھا ہے۔باتوں میں ملاوٹ ہونا تھی اسی لیے اللہ نے اپنی نشانیوں کو بھیجا جو ہر قسم کی آمیزش اور ملاوٹ سے پاک ہیں۔اب منجانب اللہ ظاہر ہوئی ان نشانیوں کی مدد سے ہی امام مہدی کو پہچانا جا سکتا ہے۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں