کیٹیگری: مضامین

شجرة النور کیا ہے؟

اللَّـهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّـهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

سورة النور آیت نمبر 35

شجر مبارکہ جب قرآن مجید میں نور کے ساتھ شجر مبارکہ کا ذکر آئے تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ کلمہ شریف کی طرف اشارہ ہے ، کیونکہ کلمہ مبارکہ ایک نوری درخت کی مانند ہے ۔ایک حدیث شریف میں بھی آیا کہ یہ کلمہ مبارکہ لا الہ الا اللہ ایک ایسے درخت کی مانند ہے کہ جس کی جڑیں مومن کے قلب میں ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں عرش الہی پر ہوتی ہیں۔آپ نےہماری باطنی احوال کے بارے میں گفتگو کے دوران اکثر سدرہ المنتہی کے ایک درخت کا ذکر سنا ہو گا وہ درخت ہم نے دیکھا ہوا ہے شجرہ مبارکہ اسی درخت کی طرف اشارہ ہے جس سے اسم ذات اللہ کی کونپلیں پھوٹتی ہیں ۔ ہم جوعلم بیان کرتے ہیں وہ نتیجہ تعلیم نہیں ہے یعنی وہ علم ہم نے کتابوں میں نہیں پڑھا وہ علم عرفان کا نتیجہ ہے۔سیدنا گوھر شاہی امام مہدی کی کرم نوازیوں کا نتیجہ ہے، جو دیکھا ہے وہ بیان کیا ہے۔یہ آیت جس جملے سےشروع ہو رہی ہے وہ جملہ قرآن میں اللہ تعالی نے کئی جگہ استعمال کیا ہے، وہ جملہ ہے اللہ نورالسماوات والأرض لیکن سورہ النور کی اس آیت میں ا للہ نورالسماوات والارض کی تشریح بھی بیان ہو گئی ، ہم انتہائی جذبہ تہنیت کے طور پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اللہ نے قرآن مجید میں یہ آیت شامل کر دی، اس بات کو میں اللہ کے فضل و کرم سے تعبیر کرتا ہوں ۔ اگر ہم اس آیت کو نبی کریمﷺ کی شان میں اللہ کیطرف سے کہی ہوئی نعت کہیں تو نرا حق ہو گا۔حسان بن ثابت نے جو کہا کہ وما احسن منک لم ترقط عینی وہ تو عمومی الفاظ ہیں ۔ایک تعریف حقیقت پر مبنی ہوتی ہے ایک تعریف وہ ہے جو اپنے جذبات کی رو میں بہہ کر کی جاتی ہے، حسان بن ثابت نے جو کچھ بھی کہا وہ ان کے اپنے جذبات کا نتیجہ ہے لیکن اللہ تعالی نے یہاں جو فرمایا ہے وہ حقیقت ہے یہ نبی کریم کے سینہ مبارکہ کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے، یعنی سینہ مصطفی میں کیا ہے وہ بتایا جا رہا ہے۔
اللَّـهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کا ہی نور ہے ۔ مَثَلُ نُورِهِ اور اس کے نور کی مثال دی جائے تو وہ یوں ہےكَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ، کہ جیسے دیواروں میں چھوٹے چھوٹے طاق بنے ہوئے ہوتے ہیں ، اور اس طاق میںفِيهَا مِصْبَاحٌ ، یعنی چراغ ہے۔طاق کیا ہے؟ طاق سے مراد پسلیاں ہیں اور اس میں جو چراغ ہے وہ قندیل میں رکھا ہوا ہے اور وہ جو قندیل ہے اس کی چمک دمک ایسی ہے جیسے چمکدار ستارہ۔ اب یہ جو طاق کہا پھر اس کے بعد مصباح کہا اس کے بعد الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ کہا یعنی قندیل کہا اس کے بعد پھر اس کو ستارے سے تعبیر کیا ہے یہ تمام چیزیں کیا ہیں ؟یہ حضور نبی کریم کے سینے میں جو لطائف ہیں یہ ان کی چمک دمک کہ ایک لطیفہ دوسرے لطیفے میں دوسرا لطیفہ تیسرے میں ، تیسرا لطیفہ چوتھے لطیفے میں اور چوتھا لطیفہ پانچویں لطیفے میں ہے اور جو قلب مصطفیٰ میں چھن چھن کر چراغ جل رہا ہے، قلب مصطفیٰ میں جو مبارک شجر موجود ہے یہ اس کی طرف اشارہ ہے ۔ اب یہ جو شجر مبارکہ جس کو اللہ نے بیان کیا ہے یہ طفل نوری کی طرف اشارہ ہےاور اللہ نےیہ بھی کہا وہ شجر زیتون کے درخت کی مانند ہے جس طرح زیتون کا تیل چمکدار ہوتا ہے اس میں تو آگ لگانا پڑتی ہے تب جلتا ہے لیکن اس شجر مبارکہ میں اتنی تپش ہے کہ اس کو آگ نہ بھی لگائو تو جلنے کو تیار ہے اس کو جلانا نہیں پڑتا۔اِس سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم کو اللہ تعالی نے اپنے نور کی وہ قسم عطا کی ہے، ایک تو وہ تیل ہے جس کو آگ لگائو تو جلے گا اس سے مراد یہ ہو گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ازل میں کلمہ پڑھ لیا تھا ان کے یوم ازل میں ایمان لکھا ہوا ہے لیکن حضور ﷺکے سینہ میں جو یہ مبارک چیز رکھی ہوئی ہے اس کے لیے کہا کہ وہ ایسا ہے کہ جس کو آگ نہ بھی دکھائو تو وہ جل پڑے گا یعنی جن کے مقدر میں ایمان نہ ہو توسینہ مصطفیٰ سے ان کو بھی ایمان نصیب ہو جائے گا۔اور اس کے بعد کہا ہے کہ اوریہ جو بیچ میں کلمہ مبارکہ کا اسم ذات اللہ کا مبارک درخت لگا ہوا ہے نہ یہ شرق کی طرف ہے نہ یہ غرب کی طرف ہے۔ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ

سورة النور میں شرق اور غرب کیا ہے؟

کچھ عرصہ پہلے ہم نے بتایا تھا کہ اللہ کے دو بازو ہیں اللہ کے دائیں بازو کی طرف نبی کریم ﷺہیں اُس کو شرق کہا جاتا ہے اور اللہ کے بائیں بازو کو غرب کہتے ہیں اس طرف امام مہدی ہیں۔ تو نبی کریم کے سینے میں جو چیز رکھی گئی ہے نہ یہ شرق کی طرف ہے نہ یہ غرب کی طرف ہے یہ بیچ میں ہے اس سے مراد یہ ہے کہ شرق کی طرف ہونا یہاں سے انبیاء اور مرسلین نکلے ہیں مذاہب کے ذریعے صراط مستقیم کو قائم کیا گیا ہے، دوسری طرف غرب میں امام مہدی ہیں لوگ اُن کے ذریعےاللہ تک پہنچیں گے بغیر کسی مذہب و دین کے اور یہ جو سینہ محمد میں ایک چیز رکھی ہے نہ یہ شرق نہ یہ غرب اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور مذہب والوں کو بھی فیض دے سکتے ہیں اور بغیر مذہب کے بھی کسی کو نواز سکتے ہیں۔اس کے بعد فرمایا، یہ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ ہے اوراس ذات سے اللہ ہدایت کس کو دے گا؟يَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ جس کو اللہ پسند کرے گا اسے اپنے نور سے ہدایت دے گا۔یہ ہدایت سب کے لیے نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کے بہت سارے لوگ حضوؐر کو نور نہیں مانتے، کچھ نور مانتے ہیں لیکن زبانی کلامی، اگر وہ حضوؐر کو نور مانتے ہیں تو نور والے سے نور لینے کا طریقہ کیوں نہیں ڈھونڈتے؟اب بہت سے صوفی اسکالرز بھی ہیں ،شیخ بھی ہیں، بہت سے شیخ طریقت بھی ہیں بہت سے شیخ حقیقت بھی ہیں لیکن اُن کو اگر کہا جائے کہ نور کی ہدایت کیا ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں قرآن شریف سے ہدایت لینا، قرآن مجید سے ہدایت لینے کے بارے میں تو اللہ نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ

يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا
سورة البقرة آیت نمبر 26
ترجمہ : بہت سے لوگ اس سے ہدایت پا جاتے ہیں بہت سے لوگ اس سے گمراہ ہو جاتے ہیں۔

اور یہ جو نور کی ہدایت ہے اس کے لیے کہا اللہ جس کو چاہے گا دے گا،اور اللہ جس کو ہدایت دے گا وہ گمراہ تو نہیں ہو سکتا تو پھر نور کی ہدایت قرآن کی ہدایت تو نہیں ہوئی نا کیونکہ کتاب کی ہدایت کی گارنٹی نہیں ہے کہ تو ہدایت پائے یا گمراہ ہو کیونکہ قرآن سے بہت سے لوگ ہدایت پا جاتے ہیں بہت سے گمراہ ہو جاتے ہیں لیکن یہ وہ ہدایت ہے کہ جس کو کہايَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُیہاں جو لام لگایا ہے یہ عام نور کی طرف اشارہ نہیں ہے،لِنُورِهِ یہ اُس خاص نور کی طرف اشارہ ہے جو نور سینہ مصطفی میں چراغ کی مانند جل رہا ہے۔يَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ اس نور کی طرف اللہ اس کو ہدایت دیتا ہے جسے وہ چاہتا ہے اور یہ جو تصوف ہے اور یہ جو صالحین اوراولیاء کا ٹولہ ہے اس میں ہدایت اسی قندیل سے ہوتی ہے جوسینہ مصطفی میں موجود ہے۔

سینہ مصطفیٰ میں موجود قندیل سے کسے ہدایت ملتی ہے؟

یہ ہی بات سیدنا گوھر شاہی امام مہدی نے پاکستان کوٹری شریف میں صحافیوں کو انٹرویو دیتے ہوئےفرمائی کہ جو محمد رسول اللہ مجھے بتاتے ہیں میں وہ آگے لوگوں کو بیان کر دیتا ہوں، وہ یہ ہی بات تھیيَهْدِي اللَّـهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ یہ ہے سینہ مصطفی کا تعارف اور اس نور سے ہدایت عام آدمی کو نہیں ملتی یہ ہدایت اس کوملتی ہے جس کو اللہ چاہے، جو اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں اب تمہارے پاس صرف اتنا سوال رہ جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوچھو کہ تم مجھے چاہتے ہو یا نہیں؟اب ہم کو اتنا جاننا ہے کہ سورہ نور میں اللہ نے نور کی ہدایت اور سینہ مصطفی کا جو یہ تعارف پیش کیا ہے اور پھر آخر میں کہا ہے کہ یہ جو مصباح کے اندر زجاج ہے اور اس کے اندر یہ جو درخت مبارک ہے اور اس میں یہ نور جو جل رہا ہےتو اس سے ہدایت اللہ تعالی اپنے پسندیدہ بندوں کو دے گا جس کو اللہ تعالی چاہے گا، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ہم کو یہ ہدایت دیناچاہتا ہے یا نہیں ، اور یہ پوچھنے کے لیے ہم کس کے پاس جائیں، کیا ہم طاہر القادری صاحب کے پاس چلے جائیں کہ تم اللہ سے رابطہ کر کے ہمیں بتا دو کہ یہ نور والی ہدایت میں لینا چاہتا ہوں کیا اللہ تعالی مجھے یہ ہدایت دے دے گا؟
یا پھر ہم ایسا کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے سراج الحق کے پاس چلے جاتے ہیں ، مولانا فضل الرحمان کے پاس چلے جاتے ہیں کہ یہ جو اللہ نے سورہ نور میں پہلے سینہ مصطفی کا تعارف پیش کیا ہے پھر فرمایا ہے کہ سینہ مصطفی میں جو خاص نور پیوستہ ہے اس سے ہدایت میں ان لوگوں کو دونگا جس کو میں چاہوں گا، اب ہمیں معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا ہم اس فہرست میں شامل ہیں کہ جن کو اللہ تعالی اس خاص نور سے ہدایت دے گا اور یہ ہم کو کون معلوم کر کے بتائے گا؟ طاہر القادری صاحب تو اللہ سے بہت قریب ہوں گے آقا علیہ السلام کا انقلاب لے کر آ رہے ہیں نا، مصطفوی انقلاب لے کر آ رہے ہیں اللہ سے رابطے میں تو ہوں گے نا؟ یا پھر مولانا الیاس قادری صاحب کہ جب اللہ نے جب سنتوں کا ٹینڈر کھولا تھا تووہ سارا ان ہی کو مل گیا باقی کوئی اور سنتوں پر عمل پیرا نہیں ہے، ان سے ہی پوچھ لیتے ہیں تو یہ کیسے معلوم ہو گا؟ یا ہم خود ہی قیاس کر لیں کہ جی اللہ تعالی ہم کو چاہتا ہے، ااگر ہم یہ قیاس کر لیں تو ہر فرقہ والا خود ہی یہ قیاس کر کے بیٹھا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بریلوی راہ راست پر ہیں ؟کیا شیعہ، سنی ، وہابی، دیوبندی، اہلحدیث یہ سب راہ راست پر ہیں؟ اگر یہ راہ راست پر ہوتے اور اِس قندیل مصطفی سے انہیں فیض ہو چکا ہوتا تو پھریہ بریلوی ، سنی، وہابی ،شیعہ نہ کہلاتے یہ محمد رسول اللہﷺ کے امتی کہلاتے ۔ اچھا جس طریقے سے یہ شمع سینہ مصطفی میں جل رہی ہے، اُسی طریقے سے ایک چھوٹی قندیل آپ کے سینے میں بھی جلے گی جب آپ کو ہدایت نصیب ہو جائے گی۔ جو چیز سینہ مصطفی کے لیے کہی ہے اور حضوؐر کی تو شان ہی نرالی ہے ،حضوؐر کو تو اللہ نے اپنا قرب اپنا عشق اپنی محبت اور نور عطا کیا ہے اسکی تو کوئی مثال ہی نہیں ہے وہ تو صرف حضوؐر کی ذات تک محدود ہے لیکن عام غلام مصطفیٰ کا حال کیا ہو گا ؟

أُولَـٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ
سورة المجادلة آیت نمبر 22

ان کے دلوں پر اسم ذات اللہ نقش ہو گاوہاں سینہ مصطفی میں پورا درخت ہے اور یہاں اسم ذات اللہ کے درخت کی ایک کونپل مل جائے گی اس کے ذریعے تیرے دل میں بھی ایک عشق الہی کا پودا لگ جائے گا۔

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّـهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ
سورة آل عمران آیت نمبر 191

پھر حال تیرا ایہ ہو گا کہ کھڑے بیٹھے اور کروٹوں کے بل بھی ذکر الہی میں مصروف ہو گا سلطان حق باھو نے فرمایا کہ جو دم غافل سو دم کافر ۔پھر تیرا حال یہ ہوگا کہ جس لمحے تو اللہ کے ذکر سے غافل ہو گیا اس لمحے تو اپنے آپ کو کافر گردانے گا ۔

مومن کے درجے اور ذکر کی تعداد:

سیدناغوث اعظم کے حوالے سے جو کتب منسوب کی جاتی ہیں ان کے مصنف آپ خود تو نہیں ہیں آپ کی مجلس کے خطبات کو آپ کےکچھ مریدین نے قلم بند کر لیا کرتے جنہیں بعد میں کتابی صورت دے دی گئی اور بعد میں وہ غوث پاک کی کتابیں ہی سمجھی جانے لگیں کیونکہ ہے تو سارا علم ان ہی کا۔تو غوث اعظم کے جو خطبات ان کتابوں میں ملتے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میرا مرید ذاکر ہو گا اور ذاکر میں اس کو مانتا ہوں جس کا قلب اللہ کا ذکر کرے، زبانی ذکر تو طوطا بھی کر لیتا ہے تو کیا طوطا اگر ذکر کرنا شروع کر دے تو کیا وہ غوث پاک کا مرید بن جائے گا ؟ نہیں بنے گا ،تو پہلی شرط تو یہ ہو گئی کہ جو بھی غوث پاک کا مرید ہو گا وہ ذاکر قلبی ہو گا اور ذاکر قلبی وہ ہوتا ہے کہ جس کا دل اللہ اللہ کرتا ہے اس کے بعد ہم نے یہ سنا کہ غوث اعظم رضی نےاللہ رب العزت سے ستر مرتبہ وعدہ لیا ہے کہ میرے مرید کا خاتمہ بالایمان ہو گا اب یہ پریشانی والی بات ہو گئی کہ آپ کا مرید وہ ہے جو ذاکر قلبی ہے اور ذاکر قلبی وہ ہوتا ہے کہ جو مر بھی رہا ہوتا ہے پھر بھی اس کا دل اللہ اللہ کر رہا ہوتا ہے ، بھئی ظاہری زبان سے جس کا اختتام کلمہ پر ہو وہ بنا حساب کتاب جنت میں جائے گا اور جو زبان قلب سے اللہ کا ذکر کرتا ہے اس سے زیادہ مرتبہ تو اس کا ہے جس کا قلب اور ذاکر قلبی کی موت کیسے ہو گی کہ مرنے کے بعد بھی ڈیڑھ منٹ تک اس کادل اللہ اللہ کرتا رہتا ہے تو وہ مر بھی رہا تھا اور اس کا دل اللہ اللہ کر رہا تھا حتی کے مر بھی گیا لیکن اس کے بعد بھی اسکا دل ڈیڑھ منٹ تک اللہ اللہ کرتا رہا جب ذاکر قلبی کو یہ سعادت میسر آگئی کہ مرنے کے بعد تک بھی اس کا دل ڈیڑھ منٹ تک اللہ کرے گا تو پھر اس دعا کی کیا ضرورت تھی کہ میرا مرید بغیر ایمان کے نہیں مرے گا ۔
جب اس پر تحقیق کی تو پتا یہ چلا کہ مومن کے درجے ہوتے ہیں اور ان کے ذکر کی تعداد بھی ہوتی ہے ایسانہیں ہوتا کہ اگر تیرا ذکر چلتا ہے تو ہر وقت تیرا دل اللہ اللہ کرے گا کسی کا دل روزآنہ تیس ہزار ذکر کرتا ہے کسی کا دل چالیس ہزار کسی کا دل روزآنہ پچاس ہزار کسی کا دل روزآنہ ساٹھ ہزار ذکر کرتا ہے ، اب یہ جو ذکر کی تعداد ہے اس تعداد سے مرتبے بھی جڑے ہوئے ہیں کہ اگر تیرا دل روزآنہ بہتر ہزارمرتبہ ذکر کرنے لگ جائے تو پھر اللہ تعالی کو تجھے فقیر کا مرتبہ نوازنا ہو گا اور فقیر کا مرتبہ نوازنے سے پہلے تیری آزمائش ہو گی ، بہت سارے لوازمات ہیں، لہذا فرشتے چاہتے ہی نہیں کہ تیرا ذکر بہتر ہزار تک پہنچ جائے لہذا وہ ذکر کو کھینچ کر رکھتے ہیں ، ستر ہزار ذکر ہونے دیں گے یا انہتر ہزار ہونے دیں گے بہتر نہیں ہونے دیں گے بہتر ہزار ذکر ہو گیا تو زکوۃ بھی بدل جائے گی ،نماز بھی بدل جائے گی ،تیرا قرآن بھی بدل جائے گا تیرا حج بھی بدل جائے گا ۔دل کی دھڑکنوں کی تعداد ہے جس طرح جہاز کی ایک پوٹینشیل اسپیڈ ہوتی ہے مثال کے طور پر 747 کی رفتار608 میل پر گھنٹہ تک جا سکتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ جتنا بھی زور لگا دو یہ اس سے آگے نہیں جائے گا ،لیکن یہ اس رفتار تک جاتے نہیں ہیں 500 پر اڑائیں گے یا 530 /540 تک جائیں گے۔ اسی طرح یہ جو انسانی دل ہے یہ ایک گھنٹے میں تین ہزار تک دھڑکتاہے اور جب ذکر اس کے ساتھ مل جائے تو ایک گھنٹے میں چھ ہزار مرتبہ دل دھڑکتا ہے اور چوبیس گھنٹے میں ایک لاکھ چوالیس ہزار مرتبہ دھڑکتا ہے، سوا لاکھ عبادت کی حد ہے ،اب جب سوا لاکھ عبادت ہو جائے تو اس کے بعد عبادت کی حد ختم ہو جاتی ہے اس کے بعد عشق شروع ہو جاتا ہے ۔دل کے ذکر کرنے کی جو حد ہے وہ ایک لاکھ چوالیس ہزار ہے لیکن جن لوگوں کا ذکر ایک لاکھ چوالیس ہزار ہو جاتاہے ان کو سانس بھی بڑی مشکل سے آتا ہے ، ہتھیلیوں سے گرمائش نکلتی رہتی ہے پائوں ہمیشہ جلتے رہتے ہیں ۔یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اندر نور کی دکان لگی ہوئی ہے ۔جس کا ذکر سوا لاکھ ہو گا صرف اس کا قلب ہی ہر وقت اللہ اللہ کرتا ہے ، اگر ذکر سوا لاکھ تک پہنچ گیا تو پھر تیرا شمار اللہ کے عاشقوں میں ہو گا، جنت الفردوس کا حقدار ہو گا دیدار الہی کا مستحق ہو گا، اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف ہو جائیں گے۔
جب حضور نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے موقع پر ایک فاتح کے روپ میں مکہ میں داخل ہوئےتو یہ آیت نازل ہوئی کہ یا رسول اللہ ہم نے تمہاروں کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیےتمام صحابہ کرام کےلیے یہ نہیں کہا صرف ان کے لیے یہ کہا کہ جن کے ذکر سوا لاکھ تک پہنچ گئے تھے ۔اگر کسی کا ذکر دل سوا لاکھ نہ ہو تو جتنا اس کا ذکر مقرر ہے اتنا ذکر کر کے دل خاموش ہو جائے گا ، سلطان صاحب نےکہا جو دم غافل سو دم کافر کہ جب تیرا دل خاموش ہے اللہ اللہ نہیں کر رہا تو اس دم تو کافر ہے یہ بات انہوں نے ان فقیروں کو کہی تھی کہ جن کے دل کا ذکربہتر ہزار تھا اور وہ خود سلطان الفقراء تھے، لوگ اپنے آپ کو فقیر سمجھتے ہیں اصل فقیر وہ ہے جو ایک لمحے کے لیے بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہ ہو ، لیکن یہ انسان کے اختیار میں نہیں ہےیہ اللہ کے اختیار میں ہے جس کو وہ چاہے گا ، اسی لیے غوث پاک نے اپنے مریدوں کے لیے دعا کی کیونکہ ان کے کسی بھی مرید کا ذکر سوا لاکھ نہیں تھا کہ جب ان کو موت آئے بھلے اس کا قلب اپنی تعداد پوری کر چکا ہو اپنے فضل سے مرتے وقت اس کا ذکر جاری کر دینا تاکہ حالت ایمان میں اس کی روح پرواز کرے۔اب تم کو اللہ نور کی ہدایت دینا چاہتا ہے یا نہیں اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ کوئی کامل ذات تم کو ٹکرائے اب وہ کامل ذات کون ہے اس کی تشریح بھی اسی آیت میں ہے۔

فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّـهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
سورة النور آیت نمبر 36

یہ مضمون ابھی جاری ہے کہ حضور کے سینے سے وہ قندیل اب کہاں جا کر جڑے گی یہ قندیل ان گھروں میں جائے گی اور وہ گھر مٹی گارے والے گھر نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد ہے کہ کچھ اجسام ایسے ہیں ان میں جو دل ہیں ان کو اللہ نے اپنا گھر کہا ہے ۔ایک حدیث شریف میں آیا قلب مومن بیت الرب کہ قلب مومن اللہ کا گھر ہے یہاں فِي بُيُوتٍ سے مراد وہ کامل ذات ہستیاں ہیں کہ جن کے دلوں میں اللہ رہتا ہے جن کے دلوں میں اللہ کا اسم ہر وقت گونجتا رہتا ہے ، وہ کامل ذات ہستیاں خواجہ غریب نواز ،داتا علی ہجویری، سلطان حق باھو ، سائیں سہیلی سرکار، شاہ کمال کیتلی رضی اللہ تعالی عنہ ، غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ،جن کے قلب میں ہر وقت اللہ کا نام گونجتا رہتا ہے جب یہ ہستیاں دنیا سے چلی جاتی ہیں تو پھر ان کے مزاروں پر اللہ کا نام گونجتا رہتا ہے جن مومن وہاں پر جاتاہے تو ادھر بھی اللہ وہاں بھی اللہ تو رقت طاری ہو جائے گی۔

سیدنا گوھر شاہی اسم ذات اللہ کی قندیل عطا فرما رہے ہیں :

اب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ سیدنا گوھر شاہی نے اذن ذکر قلب اسم ذات کا اذن عام فرما دیا ہے ۔ اسم ذات کے اذن سے کیا مراد ہے؟ اذن ذکر قلب کیا ہوتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا ہم تم سے ذکر قلب کیوں لیں ، اللہ کا ذکر ہے ہم خود کر لیں گے تم سے اجازت کیوں لیں تو ہم نے کہا ٹہر جائو یہ تم نے کیسے کہہ دیا ہم اجازت دے رہے ہیں ، ہم اجازت نہیں دے رہے ہم یہ کہہ رہے ہیں اللہ سے اجازت لینی ہے ، اب اللہ سے اجازت کیسے لیں گے؟ جن لوگوں کو اللہ تعالی اذن و ارشاد کے مرتبے پر فائز کرتا ہے وہ لوگوں کو ذکر قلبی سکھاتے ہیں، جب لوگ اذن ذکر قلبی لینے اراداتا ًاور نیتاً کرکے جاتے ہیں تو وہ کہتےہیں اپنی آنکھیں بند کرو جس طرح حضور نے علی کو کہا تھا غمض عینیک یا علی واسمع فی قلبک لا الہ الا اللہ کہ اے علی اپنی آنکھیں بند کر اور اپنے دل سے سن کلمہ کی آواز آ رہی ہے ۔
ہم تم سے تین دفعہ آواز کے ساتھ آواز ملا کر اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو کا اقرار لیتے ہیں جب تم نے یہ اقرار کر لیا پھر وہ کامل ذات اب یہاں تو کوئی کامل ذات تو کیا کوئی کامل مرید بھی نہیں ہے، ہم تو غلامان گوھر شاہی ہیں ، ہماری یہ جرات نہیں کہ ہم کہیں سیدنا گوھر شاہی کامل ذات ہیں کیونکہ جو تصرف اور جو فیض ہم نے سیدنا گوھر شاہی کا ملاحظہ کیا ہے اس کو دیکھ کر کبھی بھی یہ مغالطہ ہم کو نہیں ہو سکتا کہ یہ کامل ذات ہیں ۔ اب سرکار گوھر شاہی کیا کریں گے، فرمایا جس نے تین دفعہ اللہ ھو کا اقرار کیا اس کے حلیے کوبیت المعمور میں لے کر جاتے ہیں اللہ پوچھتا ہے کیوں لے کر آئے ہو تو کہتے ہیں تجھ سے دوستی کرانے کے لیے، اگر اللہ تعالی کہے مجھے اس سے دوستی نہیں کرنا تو پھر ختم ، انہی کے لیے کہا جاتاہے اللہ تعالی نے اس کو رد کر دیا ، جنکا حلیہ اللہ کے پاس پیش کیا جائے تو کوئی مرد قلندر کوئی کامل ذات یا اس سے بڑی ہستی انسان کا حلیہ اللہ کے پاس جب پیش کرے کہ اِس کو ازن ذکر قلب چاہئیے اور اللہ انکار کردے تو اس بندے کو کہا جائے گا اب یہ مردود ہے اللہ نے اس کورد کر دیا ہے،ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ اور جن کو اللہ رد کر دے اس کے لیے قرآن میں آیا کہ جس کو اللہ رد کر دے ہر گز نہ وہ پائے گا کوئی وکیل ۔اور جن کو اللہ ہدایت دینا چاہتا ہےا ن کے لیے سورہ کہف میں اللہ نے فرمایا وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا کہ جس کو گمراہ کرتا ہوں اس کو ولی نہیں دیتا لیکن جس کوہدایت دیتا ہے اسے تو ولی کی صحبت میسر آئے گی۔اللہ اگر ہدایت نہ دینا چاہے تو وہ صاف منع کر دیتا ہے کہ میں نے اس سے دوستی نہیں کرنی، لیکن اگر وہ کسی کو اپنادوست بنانا چاہتا ہے تو اس کے کچھ لوازمات ہیں پہلے حضوؐر اس کو باطن میں اوکے کریں گے کہ یہ مجھ سے محبت رکھتا ہے ،مجھ پر درود پڑھتا ہےاس کا عقیدہ صحیح ہے ، اس نے ماضی میں کوئی گستاخی نہیں کی ، مستقبل میں کسی گستاخی کا اندیشہ نہیں ہے ،تو حضور پاک ﷺ کی مہرلگ جائے گی اس کے بعد مرشد کی باری ہے کہ تم گارنٹی لو کہ یہ سیدھا سیدھا چلتا رہے گا تو پھر ہم کہانی آگے بڑھاتے ہیں ،جب مرشد گارنٹی لے لیتا ہے تو پھر اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہوتا ہے اس کا قلب جاری کر دیا جائے پھر اللہ تعالی کی طرف سے دو موکلات اس کے سینے میں داخل کیے جاتے ہیں جو اس کے دل کی دھڑکنوں کے اندر اللہ ھو اللہ ھو ملاتے ہیں، بندہ سمجھتا ہے میری مشق سے اللہ ھو قلب میں ملا ہے ، نہیں ایسا نہیں ہے وہ موکلات دل کی دھڑکنوں میں اللہ اللہ ملاتے رہتے ہیں ، یہ تو ہو گیا عام ذکر اللہ ، ایک خاص ذکر اللہ سیدنا گوھر شاہی نے متعارف کرایا ہے جس کے لیے فرشتوں کی ضرورت نہیں کہ وہ دل کی دھڑکنوںمیں اللہ اللہ ملائیں اب یہ جو اسم ذات اللہ آیا ہے یہ وہ اسم ذات اللہ ہے کہ جس اسم میں اسم اللہ کی روح بھی موجود ہے، یہ وہ اسم ہے جس میں اس کی روح کی وجہ سے صفت تکلم بھی ہے وہ جو اسم ذات پہلے آیا تھا وہ دل کی دھڑکنوں میں ٹکراتا تھا تب دل کی دھرکنیں اللہ اللہ کرتی تھیں وہ دھڑکنوں کی آواز تھی اسم اللہ کی آواز نہیں تھی اور یہ جو امام مہدی لے کر آئے ہیں یہ دھڑکنوں کا محتاج نہیں ہے یہ نام خود اچھلتا ہے اور اس لفظ اللہ میں سے آواز نکلتی ہے اللہ اللہ اور یہ بس جا کر خود ہی بیٹھ جاتا ہے یہ ہے اسم ذات اللہ کی قندیل ۔کیا کسی کا دل جادو کے ذریعے اللہ اللہ کر سکتا ہے ؟ کیا کسی کا دل اس کی اپنی کوشش سے اللہ اللہ کر سکتا ہے ؟ نہیں یہ صرف اللہ کے اذن سے ہو سکتا ہے اب اگراس محفل سے ہر ماہ آٹھ سو لوگوں کا دل اللہ اللہ کر رہا ہے تو اللہ کتنا مہربان ہے اور جن کے ذریعے ہو رہا ہے تو یا تو وہ اللہ والے ہیں یا پھر منجانب اللہ ہیں ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 5 اپریل 2018 کو یو ٹیوب لائیو پر براہ راست کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں