کیٹیگری: خبریں, مضامین

آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ اور انصاف کی فراہمی:

پاکستان کی عدلیہ نے ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے جھوٹے مقدمے سے بری کر دیا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ خوش آئند کئی حوالوں سے ہے کہ ایک اس فیصلے کے سنائے جانے تک آسیہ بی بی زندہ رہیں ورنہ اکثر مار دیا جاتا ہے ۔ جس کے اوپر توہین رسالت، توہین قرآن اور توہین مذہب کا الزام ہو اُسے مولوی مروا دیتے ہیں ، تو آج وہ زندہ ہیں اس حوالے سے یہ بات خوش آئند ہے ۔ خوش آئند اس حوالے سے بھی ہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب نے بغیر کسی دباؤ کے حقیقت پر مبنی فیصلہ سنایا ہے ۔ آسیہ بی بی پر توہین رسالت کے مقدمے کی شنوائی کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ سارا کا سارا جھوٹ کا پلندہ مولویوں کا گڑا ہوا ہے ۔مختلف مولویوں کے بیانات جب لئے گئے اور یہ پوچھا گیا کہ یہ واقعہ کہاں ہوا ہے تو کسی نے کہا فلاں جگہ ہوا ہے تو دوسرے کا بیان اس سے مختلف تھااور ایسا اُس وقت ہوتا ہے جب جھوٹ بولا جائے۔عدلیہ نے انصاف فراہم کر دیا اور چونکہ پاکستان میں انصاف کا ملنا ممکن نظر نہیں آتا تو لہذا ایک شخص کو انصاف ملاہے تو لوگ اس کو قابل ستائش نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں لیکن اگر حقیقی نظر سے دیکھا جائے تو یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے انہوں نے انصاف فراہم کر کےکوئی خاص کام نہیں کیا ہے بلکہ اپنا فرض پورا کیا ہے کیونکہ اُن کا منصب ہی یہی ہے کہ انصاف فراہم کریں ۔

شر پسند مولویوں کا فساد:

اس فیصلے کے بعد شر پسند مولویوں اور فسادیوں نے ملک کا جو حال کیا ہوا ہے وہ بہت دکھ کی بات ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی کہ ایک انسان جس کو توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں بند کیا گیا تھا اُس پر ثابت ہو گیا ہے کہ اس نے آپ کے نبی کی شان میں گستاخی نہیں کی۔لیکن اس کے اوپر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے ۔ پاکستان کی عوام کو جو مولویوں نے اپنے ہاتھوں میں کھلونے کی طرح لیا ہوا ہے یہ پاکستانی حکومت کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔کیا عدلیہ کے فیصلے کے بعد اس طرح کا رّدعمل کیا جائے گا اور عدلیہ پر دباؤ ڈالا جائے گاتو کیا عدلیہ اپنے فیصلے بدل لے گی ! جو اِس وقت مولویوں کا رد عمل ہے کہ زبردستی کسی کو گستاخ رسول قرار دے کر مار دوبھلے اُس نے وہ گناہ کیا ہو یا نہ کیا ہو اس سے سروکار نہیں ہے ۔جب مولویوں نے کسی کو گستاخ رسول کہہ دیا ہے تو اُسے گستاخ رسول مانو ثبوت کی کیا ضرورت ہے ۔اب جو بین الاقوامی میڈیا پر جو پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے کیا حکومت پاکستان کو اس بات کی پرواہ ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جو کچھ مولوی پاکستان میں کر رہے ہیں ، جو اُنہوں نے گاڑیاں جلائی ہیں ، عوامی املاک کو نقصان پہنچایا ہے کیا یہ عاشق رسول کا کردار ہوتا ہے ؟ کیا اسلام ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے ؟ کیا انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے جائیں ، جب آسیہ بی بی کے خلاف آپ کے پاس ثبوت نہیں ہے کہ اُس نے گستاخی کی ہے تو پھر کیا کرنا چاہیے۔ اگر نبی کریم ﷺکے دور میں یہی مولوی ہوتے اور جب آپؐ کے دور میں انصاف کیا جاتا تھا تو اگر یہودی کا کیس ہوتا تھا تو مسلمان کیس ہار جاتا تھا اور یہودی کے حق میں فیصلہ ہو جاتا تھا ۔اگر فیصلہ کرنے والا آج پاکستان میں کسی مسلمان کے برعکس، کسی یہودی ، کسی عیسائی یا کسی ہندو کےحق میں فیصلہ کر دے گا تو اُس کو یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ یہودیوں کا ایجنٹ ہےلیکن ہمارے نبی کریم ﷺ نے تو ایسا ہی کیا جو حق پر تھا اُس کو انصاف دیا ۔آج یہ جوشیطان صفت مولوی شور مچا رہے ہیں اور اس کے علاوہ میڈیا میں بھی کئی لوگ ان شیطان صفت مولویوں کے حامی ہیں جیسے اوریا مقبول جان بہت بڑا ابلیس ہے۔جو لوگ سپریم کورٹ کے فیصلے پر معترض ہیں کیا انہوں نے قرآن اور حدیث نہیں پڑھا ہوا ہے کہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جاتے ہیں اور ثبوت نہ ہو تو سزا نہیں دی جاتی ہے ۔حدیث نبوی ہے کہ کسی خبر کی تصدیق کئے بغیر آگے نہیں بڑھایا جاتا ہے ۔ارشاد نبوی ہے کہ کسی خبر کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اس خبر کی تصدیق کئے بغیر ہی آگے بیان کر دے۔
پاکستان کی عدلیہ ، فوج اور سیاسی قیادت سے درخواست ہے کہ پاکستان کو مکہ یا مدینہ جیسی ریاست بنانے سے پہلے اسے انسانوں کی ریاست بنا دیں ۔سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ، سیشن کورٹ یہ جتنے بھی عدلیہ کے ادراے ہیں ان اداروں کو مکمل آزادی دیں کہ یہ انصاف فراہم کریں اور انصاف فراہم کرتے ہوئے ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی ہو ۔ غریب کو بھی انصاف اسی طرح آسانی سےملے جسطرح امیر کو ملتا ہے ۔انصاف کی فراہمی میں کسی قسم کا امتیاز ، کوتاہی ، جانبداری سے اجتناب برتیں۔خاص کر پاکستان کی سیاسی قیادت جن کا نعرہ ہی یہ ہے کہ تحریک انصاف ، اب تحریک انصاف کو چاہیے کہ پاکستان میں انصاف کی ایسی روایت قائم کر دے کہ پاکستان میں چور اُچکے ڈرنا شروع ہو جائیں ، زیادتی کرنے والے ڈرنا شروع ہو جائیں ۔لوگوں کا حقوق غضب کرنے والے ڈرنا شروع ہو جائیں کہ اب انصاف کی فراہمی ہو رہی ہے۔

سیدنا گوھر شاہی کے خلاف جھوٹے توہین رسالت کے مقدمات اور عدلیہ سے اپیل:

اس کے علاوہ ہم پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے مودبانہ درخواست کرتے ہیں کہ سیدنا ریاض احمد گوھر شاہی کے خلاف آج سے اٹھارہ انیس سال پہلے بھی انہی مولویوں نے توہین رسالت ، توہین مذہب اور توہین مذہب کے جھوٹے مقدمات بنائے اور پھر ان جھوٹے مولویوں کی جھوٹی شہادتوں کے بعد سیدنا گوھر شاہی کے خلاف فیصلہ بھی سنا دیا گیا ۔ پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب سے انتہائی ادب کے ساتھ درخواست گزار ہوں کہ سیدنا گوھر شاہی کے اوپر جو جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں اُس فائل کو دوبارہ کھولا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔ ہم ایک غیر متشدد تحریک چلائیں گے جو کہ اس بات پر مبنی ہو گی کہ سیدنا گوھر شاہی کے خلاف جو جھوٹے مقدمات بنا کر اور اُن کی غیر موجودگی میں جب وہ تبلیغی دورے پر گئے ہوئے تھے جو سزائیں سنائی ہیں اُن مقدمات کو دوبارہ کھولا جائے اور انصاف کی فراہمی کی جائے ۔ یہی مولوی جو آج پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور فساد بپا کیا ہوا ہے ، توڑ پھوڑ کر رہے ہیں آگ لگا رہے ہیں ۔ یہی مولوی ہیں جنھوں نے آج سے اٹھارہ سال پہلے بھی سرکار گوھر شاہی کے خلاف جھوٹ کے پلندے اکھٹے کئے اور اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف جو کہ اپنے فرقے وہابی ازم کی وجہ سے سعودیہ کے دباؤ میں آ کر اس کی ایماء پرسپریم کورٹ کی جانب سے سرکار گوھر شاہی کو انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔ آج وہ بدبخت جہنمی انسان کیفر کردار کو پہنچ چکا ہے ۔ مہدی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کےپلیٹ فارم سے ہم بطور پاکستانی شہری ، پاکستان کی حکومت ، افواج پاکستان کے سربراہان اور پاکستان کی عدلیہ سے درخواست کرتے ہیں ، چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب سے درخواست کر تےہیں کہ سیدنا گوھر شاہی کے اوپر جو جھوٹے مقدمات بنائے گے اور پھر سزائیں سنائی گئیں اُس کیس کو دوبارہ کھولا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔
اُن جھوٹے مقدمات کی وجہ سے سرکار گوھر شاہی کی ذات ، سرکار گوھر شاہی کا مشن جو کہ اللہ کا مشن ہے ، سرکار گوھر شاہی کی شہرت اور ساکھ کو نا تلافی نقصان پہنچا ہے اور نقصان کا ابھی تک ہم خمیازہ بھگت رہے ہیں ۔ جسطرح نبوت کا جھوٹا دعویدار کافر ہے اسی طرح کسی معصوم پر نبوت کے جھوٹے مدعی ہونے کا دعویٰ کرنا بھی کفر ہے۔جسطرح نبی کریمﷺ کی شان میں گستاخی کرنا کفر ہے اسی طرح کسی پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانا بھی کفر ہے ۔ان مولویوں نے سیدنا گوھر شاہی پر یہ بہتان لگائے کہ معاذاللہ نقل کفر نابا شد کہ جیسے سرکار گوھر شاہی نے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہو ۔ یہ سراسر بہتان ہے ۔ سرکار گوھر شاہی تو کبھی خود کو ولی نہیں کہتےدعویٰ نبوت تو ممکن ہی نہیں ہے ۔اس وقت کے جو مولوی ہیں ان کا یہی کام ہے کہ کسی کے اوپر جھوٹا فتوی لگا دینا ، کسی کو جہنمی کہہ دینا ، اپنے کاروبار یا فرقے کی وجہ سے کسی کے اوپر بھی توہین قرآن ، توہین مذہب اور توہین رسالت کے جھوٹے مقدمے بنوا کر اپنا راستہ صاف کرنا ، یہ وطیرہ آج کل کے مولویوں کا ہے ۔ یہ دیکھ اور جان کر بہت افسوس ہوا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ان کاموں میں وہابی سلفی، دیوبندی شامل تھے اب اہلسنت و الجماعت کے لوگ بھی ان قبیح کاموں میں وہابیوں کے شانہ باشانہ چل رہے ہیں ۔معصوم لوگوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ، معصوم انسانوں پر توہیں رسالت کے جھوٹے مقدمات بنواتے ہیں اور وجوہات ان کی اپنی ذاتی نوعیت کی ہوتی ہے ۔اگر کسی وہابی کا بزنس ہے اور اس کی برابر دکان والا شیعہ ، صوفی اور ولیوں کا ماننے والا ہے اور مجھ سے اچھا اُس کا کاروبار چلتا ہے تو اپنے کاروبار کو چمکانے کیلئےمولویوں کو پیسے دے کر اس پر توہین رسالت کا الزام لگوا دیتا ہے اُس کی دوکان کو بھی جلا دیا جاتا ہے اور اُس بندے کو بھی مار دیا جاتا ہے اور اُس وہابی کا روبار چمک جاتا ہے ۔جسطرح کرائے کے قاتل ہوتے ہیں جسے پیسے دے کر لوگ قتل کرواتے ہیں اُسی طرح کا کردار آج پاکستان میں مولویوں کا ہے ۔
ان مولویوں کے حامی لوگ جو میڈیا میں بیٹھے ہیں ان کو درویش کی یہ للکار ہے کہ تمھارا وقت آ گیا ہے ایک ایسی طاقت پاکستان کو بچانے کیلئے تیار ہو رہی ہے جو مخلوق سے لے کر خالق تک کسی سے نہیں ڈرتی ہے ۔وہ طاقت ایسا انصاف فراہم کرے گی جس میں سارے انسان برابر ہوں گے ، حق تلفی کرنے والا مخلوق میں سے ہو یا کوئی اورانصاف فراہم کیا جائے گااور انصاف فراہم کرنے والی وہ ذات امام مہدی سرکار گوھر شاہی کی ہے ۔ آج ہم نے عدلیہ سے درخواست اور استدعا کی ہے سرکار گوھر شاہی کے خلاف جھوٹے مقدمات کو دوبارہ کھولواور انصاف کو فراہم کروتاکہ تمھارا مقدر سنور جائےاگر تم نے ایسا نہیں کیا تو سرکار گوھر شاہی کی اپنی عدالت انصاف کرے گی۔ یہ موقع ہے کہ ایک اچھائی کی ہے اب دوسری اچھائی کر لو ، پھر تیسری اچھائی کر لواور ایک ایسی ریت ڈالو کہ صرف انصاف ہی میسر نہ ہو بلکہ تمھارا مقدر بھی سنو ر جائے۔

ازطرف نمائندہ مہدی سیدی یونس الگوھر۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت مآب سیدی یونس الگوھر سے 01 نومبر 2018 کو حکومت پاکستان ، افواج پاکستان اور عدلیہ سے کئی گئی اپیل سے ماخوذ کیا گیا ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں