کیٹیگری: مضامین

پس منظر اور حقائق

یوم ازل سے ہی اختلاف چلا آرہا ہے، جب اللہ تعالی نے دنیا اور جنت کے لذات دکھائے اور ارواح کو انتخاب کیلئے مدعو کیا۔ جنہوں نے دنیا کے لذات کا انتخاب کیا، دنیا اِن کے مقدر میں لکھ دی گئی اور وہ اِس طرح ازلی دنیادار قرار پائےاور وہ جنہوں نے جنت کے لذات کا انتخاب کیا جنت اُن کے مقدر میں لکھ دی گئی اور وہ ازلی جنتی کہلائے۔ ایسی بھی ارواح تھیں جو کوئی فیصلہ نہ کرپائیں اُن کی تقدیر معلق کردی گئی۔ دنیا میں آکر جس کے ہتھے چڑھ گئیں اُسی کی ہوگئیں۔
مذہب کی تعلیم سن کر اور جنت کی تعریفیں سن کر بہت سی ازلی دنیادار ارواح بھی مذہب اختیار کر لیتی ہیں لیکن ایسے لوگ محض ظاہری تعلیم تک ہی محدود رہتے ہیں اور باطنی علم اُن کو سمجھ میں نہیں آتا پھر یہی لوگ فرقہ واریت اور خون ریزی میں ملوث ہوجاتے ہیں کیونکہ اِن کی ازلی تقدیر ان کو جہنم کی طرف کھینچتی ہے۔
کوئی اُمت یا گروہ ایسا نہیں جس میں سارے مومنین ہوں ہر اُمت ہر گروہ میں منافقین ہوئے ہیں۔ مومن وہی بنتے ہیں جن کو دل والا علم بھی حاصل ہوجاتا ہے۔
سیدنا امام مہدی گوھرشاہی نے جب تحریکِ باطن کا آغاز فرمایا تو بے شمار لوگ اس حلقے میں شامل ہوگئے،کچھ جاسوس بھی گھس آئے اور کچھ ایسے بھی شامل ہوگئے جن کو فقیری اور ولائت کا شوق نہیں تھا بلکہ کشف و کرامات کے شیدائی تھے۔ ایسے لوگ شامل ہوکر بھی روحانیت سے کوسوں دور رہے۔ اللہ تعالی جس کو چاہتا ہے اُس کو نور سے ہدایت دیتا ہے۔ ایمان و ولائت میراث نہیں ہیں۔
مولی علی کرم اللہ کی شہادت کے بعد امام حسن علیہ اسلام خلیفہ مقررہوئے لیکن آپ نے اُمت کی وحدت کی خاطر امیر معاویہ سے ایک معاہدہ کیا اور معاہدہ کے پیش نظر آپ خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ معاہدہ کی رو سے امیر معاویہ اپنے خاندان سے اپنی مرضی سے کسی کو خلیفہ نامزد کرنے کا مجاز نہیں ہوگا بلکہ اُمت کے متفقہ فیصلے سے خلیفہ منتخب کیا جائے گا۔ امیر معاویہ نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے وصال کے فورا بعد اپنے بیٹے کو خلیفہ منتخب کرلیا ۔ امیر معاویہ نے خلافت کو وراثت بنا لیا اور یہی فتنہ آگے چل کر واقعہ کربلا کا باعث بنا۔
یہی کچھ سیدنا امام مہدی گوھر شاہی کے فرزندان ِناہنجار نے کیا۔ سب سے پہلے تو امام مہدی سیدنا گوہر شاہی کی گوشہ نشینی و غیبت کو انتقال قرار دیکر ہزاروں محبان گوہر شاہی کے ایمان برباد کئے پھر تعلیمات گوہر شاہی اور مشن پر وارث بن کر بیٹھ گئے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ فرزندان باطنی علم اور اسلام کی تعلیم سے قطعی طور پرنابلد ہیں اور آئے دن مضحکہ خیز حماقتیں کرتے ہیں۔پھر اِن فرزندان نے وہی کام کیا جو منافقین اور خوارجین نے بی بی فاطمہ کے ساتھ ظلم کیا تھا۔سیدنا گوھر شاہی کی لختِ جگر فرح ناز کی جائیداد پر ناجائز قبضہ کرلیا اور شہزادی کو گھر سے نکال دیا۔ محترمہ فرح ناز کے شوہر شہزاد بھائی کو بھی پرچارِ مہدی کرنے کی پاداش میں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا۔
دوستو! وہ وقت اب زیادہ دور نہیں ہے جب ان ظالموں پر قہر الہی نازل ہوگا۔ بس آپ حق و باطل میں تمیز کرنا سیکھ لیں اور ان ظالموں کی شیطانی چالوں کو ناکام بناتے رہیں۔

از یونس الگوہر

حالیہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں