wahhabism-image

ہمارا ایمان ہے کے حضور پاکﷺ حیات النبی ہیں، کل بھی ان کی صحبت موجود تھی اور آج بھی موجود ہے۔

جب سے اللہ نے یہ دنیا بنائی اور انبیاءکو بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا تو ہر نبی کے دور میں ایک گروہ ایسا موجود رہا جس نے انبیاء کو تسلیم نہیں کیا اور یہ نعرہ لگایا، رب کی دھرتی رب کا نظام! جس دھرتی پر عیسی علیہ اسلام پیدا ہوئے وہاں پر رہنے والوں نے بہت سے انبیاء کو ٹھکرایا، پھر جب حضور نبی کریمﷺ تشریف لائے تو انہی لوگوں نے کہا قرآن کافی ہے حضورﷺ کی ضرورت نہیں ہے۔

خوارج کا کیا مطلب ہے؟

خوارج جمع کا صيغہ ہے، انگریزی میں اس کا قریب ترین مطلب یہ ہو گا outsider or pseudo muslims۔
لوگ سمجھتے ہیں کے یہ وہ لوگ ہیں جو کبھی قوم کا حصہ تھے لیکن پھر ان کو قوم سے نکال دیا گیا، یہ غلط مطلب ہے خوارج کا مطلب اخراج نہیں ہے، عربی میں باہر جانے والے دروازے کومخرج کہتے ہیں ۔ان خوارجین کو کبھی دین سے نکالا نہیں گیا، کیونکہ یہ کبھی بھی دین کا حصہ نہیں تھے۔

وہابیوں کی تاریخ اور وہابی ازم کہاں سے شروع ہوا:

1921 میں فرقہ وہابیہ کا آغاز سعودی عرب سے ہوا۔ آل ِ سعود جو کہ بحری قذاق تھے وہ سر زمین حجاز پر قابض ہو گئے، مدینہ اور مکہ کے خطوں کو ملا کر اس کو سر زمین حجاز کہا جاتا ہے بعد میں بدل کر سعودی عرب کر دیا گیا۔ جب آل سعود بحری قذاقوں کے ہاتھ سر زمین حجاز گئی اب اسلام کہیں بھی نہیں بچا۔وہاں سے جو بھی تیل نکلا انہوں ںے اس کودہشت گردوں کی ٹرینگ اور ہاتھ مضبوط کرنے میں استعمال کیا۔
وہابی حکمرانوں کو معلوم تھا کے امام مہدی ہماری سلطنت چھین لیں گے لہذا انہوں نے اس کے لئے بہت لمبی پلانگ کی وہابیت کی تبلیغ کی اور آج یہ اسلام کی نشاط ثانیہ کا نعرہ بلند کیے ہوئے ہیں،
یہ سلفی مکتبہ فکر والے ہیں ان کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، کسی کو اگر ملین ڈالر دکھائے جائیں تو وہ کچھ بھی بن جائے گا لوگ تو اسائلم (Asylum) اپلائی کرنے کے لیے مرزائی تک بن جاتے ہیں۔

گستاخ عبدالوہاب نجدی کو یہ لوگ اپنا مجددِ اعظم کہتے ہیں۔ عبد الوہاب النجدی نجد میں پیدا ہوا لوگ اس کو اسی نام سے جانتے ہیں جبکہ عبد الوہاب اس کے باپ کا نام تھا، اس کا اپنا نام محمد تھا اب اس کو محمدی تو نہیں کہہ سکتے اس لیے سنیوں نے اس کا نام وہابی ڈالا ہے، وہابیوں کے نزدیک یہ مجدد اعظم ہے اور اس نے دین میں تجدید کر کے اس کو پاک کیا ہے۔ وہابی صوفیاء کرام آئمہ کرام کو نہیں مانتے۔جو لوگ عبد الوہاب النجدی کی تقلید کرتے ہیں انکا کہنا ہے ہم اسی اسلام کو مانتے ہیں جو حضور لائے تھے لہذا یہ کسی کے مقلد نہیں ہوئے۔

دنیا بھر میں جتنے بھی وہابی ہیں وہ نظریاتی طور دہشت گرد بن گئے ہیں ، ان کے مطابق حضورﷺ تک خالص اسلام تھا، حضورﷺ کے بعد اولیاء کرام یا بزرگان دین ، یا اماموں نے جو بھی باطنی تعلیم یا تفسیر بیان کی وہ سب خرافات ہیں (نعوذ باللہ)۔ان کا ٹارگٹ یہ ہی ہے کے ساری دنیا کو تو بعد میں دیکھیں گے پہلے کم سے کم ستاون مسلم ممالک میں سے تو غیر وہابی مار دئیے جائیں۔
وہابیوں نے سعودیہ عرب کے ساتھ مل کر اپنی زہر آلود تعلیم اور نظریہ کو پھیلانے کے لیے بے پناہ پیسہ خرچ کیا، ان کا طریقہ کار یہ ہے کے یہ دیکھتے ہیں لوگوں کا رجحان کیا ہے کس کی کیا کمزوری ہے، مسجد کا کیا حال ہے،انہوں نے اپنے عام لوگوں کی مدد سے مسجد کے کام کروا دئیے مولوی کے بیٹے کی مدد کردی جاب دلوا دی قرآن چھپوا کر مفت بانٹ دئیے،اس طرح جب حالات ان کے مطابق ہو گئے تولوگوں کے ذہنوں میں اپنے نظرئیے کا اسلام اتارا، اس طرح دنیا بھر کے ممالک میں وہابی مکتبہ فکر کے مدراس قائم کر کے اپنے نظام کی داغ بیل ڈالتے گئے۔
پاکستان میں بھی ایسا ہی کیا گیا ،30 سال پہلے یہ تنظیمیں کہاں تھیں، لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ،تکفیری جماعت، طالبان الغرض باہر سے کوئی نام ہو اندر سے یہ ایک ہیں، ان کا کہنا ہے حضورﷺ کے بعد دین میں ملاوٹ ہوئی ہے اب ہم نے دین سے اس ملاوٹ کو نکالنا ہے اور دین میں وہ اخلاص پیدا کرنا ہے جو حضورﷺ کے دور میں تھا۔ جو اس تحریک کو نہیں مانے گا وہ کافر ہے ان کو مار دو  ان کو عورتوں کی عزتیں ہم پر حلال ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے لوگ اب بھی خانہ کعبہ جا کر انہی کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔

دلچسپ بات:

آلِ سعود کا خاندان سر زمین حجاز پر کبھی بھی قابض نہیں ہو سکتا تھا، اس خاندان کو اسلام یا طہارت سے نہ تو کوئی دلچسپی تھی، نہ ہےاور نہ ہو گی، ایک ظاہری پردہ رکھنے کے لیے وہابی ازم کو طاری کیا ہوا ہے اگر ان کے طرز زندگی کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا ان کا کوئی دین کوئی مذہب نہیں ہے، اسلام میں تو مومن کے لیےچار شادیوں کی حد ہے اور یہ ہر آدمی کے لیے نہیں ہے۔ لیکن آل سعود میں تو پچاس اور سو سو بیویاں ہیں زنا یہ کرتے ہیں شرابیں یہ پیتے ہیں، مختلف ممالک میں عیاشی کے لیے محلات بنا رکھے ہیں، یہ مسلمان نہیں ہیں،دین اسلام اور مکہ مدینہ کو انہوں نے ڈھال بنایا ہوا ہے۔

اصل اسلام کے ماننے والوں پر نقلی اسلام والوں نے حملہ کیا جن کے پاس کوئی ہتھیار باطنی تعلیم کی صورت نہیں تھی وہ ان کے حملے سے بچ نہ سکے ، پہلے سعودیہ کو کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اب ساری دنیا میں اپنے مورچے بنا کر اپنے طرز کے اسلام کو پھیلایا تو اب ساری دنیا میں نقلی اسلام کے ماننے والے بڑھتے گئے، یہ وہابی ہاتھ میں کلمے کا جھنڈا اٹھا کر عورتوں سے زنا کرتےہیں، لوگوں کے سر کاٹتے ہیں، یہ نقلی اسلام ہے اور ان کا نبی دجال ہے۔

اصل اسلام میں روحانیت ہے ، روحانیت سے صوفی پیدا ہوتے ہیں جو سب سے محبت کرتے ہیں اور نقلی اسلام سے نفرت جنم لیتی ہے برے لوگ پیدا ہوتے ہیں۔ جب اصلی اسلام مر گیا تب نقلی اسلام نے سر اُبھارا۔آج جو اسلام کی صورتحال بنا دی گئی ہے کیا یہ وہی اسلام ہے جو حضور پاک لائے تھے؟

حضور نبی کریمﷺ کی ایک حدیث میں ہے کہ :

جس نے ایک مسلمان کا قتل کیا گویا اس نے ساری انسانیت کا قتل کیا۔انسانیت کی اکائی ایک انسان ہے۔ اور اس ایک انسان میں سات انسان ہیں لیکن ان کو بیدار کرنا پڑتا ہے۔آج اگر یہ بچوں کا یا لوگوں کا قتل عام کر رہے ہیں تو حیرت کیوں ہے، یہ وہی گروہ ہے جنہوں نے امام حسین کے چھ ماہ کے پیاس سے بِلکتے معصوم بچے علی اصغر کے گلے میں نیزا اتار دیا تھا، یہ وہی ہیں جنہوں نے حضرت علی، عثمان غنی اور امام حسین کو شہید کیا، ام ِسلمہ کے بالوں میں خاک ملی، یہ وہی ہیں جنہوں نے حضورﷺ کے پیچھے پاگل کتے چھوڑے اور پتھر مارے یہاں تک کے آپ لہولہان ہو گئے، چادر زینب چھینی تھی یہ وہی ہیں جنہوں نے علی اکبر و اصغر کو مارا اور کہا آج ہم نے دنیا سے تصویر مصطفیﷺ مٹا دی (نعوذباللہ)

دہشت گردی بلا مقصد نہیں ہوتی کوئی نہ کوئی ٹارگٹ ہوتا ہے اور جس سطح پر فرقہ وہابیہ سے متعلقہ تنظیمیں دہشت گردی کر رہی ہیں شاید ہی دنیا میں اس سے پہلے ایسی دہشت گردی ہوئی ہو۔

ان کا دوسرا عقیدہ:

کچھ احادیث میں ہے میرا ہم نام ایک مرد آئے گا جو دنیا کو انصاف سے بھر دے گا، اِسی کی آڑ لے کر امام مہدی علیہ السلام کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم اسلام کی نشاط ثانیہ کی جدو جہد کر رہے ہیں ، یا تو لوگ ان کے ہم عقائد ہو جائیں یا مار دئیے جائیں گے، ان کو یہودی تو گوارا ہے لیکن غیر وہابی گوارا نہیں ہے۔
سیدنا امام مہدی گوھر شاہی نے فرمایا: امام مہدی علیہ اسلام کا ساتھ دینے کا فیصلہ کافر اور مسلمان ہونے پر نہیں ہے، جو رب سے محبت کرنے والے ہوں گے وہ امام مہدی کا ساتھ دیں گے بھلے کسی بھی مذہب سے ان کا تعلق ہو اور جو نفرت والی روحیں ہیں وہ کسی بھی مذہب سے ہوں وہ دجال کا ساتھ دیں گی۔لیکن یہ خود بخود نہیں ہو گا، نفرت کی ارواح پیار کیوں سیکھیں گی وہ تو نفرت میں بھری ہیں، جو پیار والی ارواح ہوں گی وہ ہی امام مہدی کی آواز پر لبیک کہیں گی خواہ کسی بھی مذہب سے ہوں۔
اللہ کا فیصلہ یہ ہے کے آخر میں یہ دنیا دو گروہوں میں منقسم ہو جائے گی یہ مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ محبت اور نفرت دو گروپ رہ جائیں گے ، محبت والے امام مہدی کے گروہ سے مل جائیں گے اور نفرت والی ارواح کا دین کیا ہے، زبان کیا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، طالبان ،القاعدہ ، آئی سس، الشباب ، بوکو حرام اور اس طرح کی جتنی بھی نفرت پھیلانے والی جماعتیں ہیں جن کو انسانیت سے نفرت ہے، جو مذہب اور دین کے نام پر دہشت گردی کر رہے ہیں ،تمام نفرت والی روحیں ان کے ساتھ مل کر دجال کےہاتھ مضبوط کررہیں ہیں۔