کیٹیگری: مضامین

صالح کی تشریح:

اکثر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر باپ نبی ہے یا اُس کو کوئی مرتبہ حاصل ہے تو یقینا بیٹے کو بھی نبوت یا ولایت عطا ہو جاتی ہے اوراگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ باپ کااگر کوئی مقام اور مرتبہ ہے اور وہ اولاد کے مقام و مرتبےسےمشروط ہے تو اُس نظریے کی روشنی میں ابراہیم ؑ بھی کافر ہیں کیونکہ ابراہیم ؑ کے جو والد صاحب تھے وہ تو کافر اور بت پرست تھے ،اسی نظریے کےحساب سے آپ نوح ؑ کی نبوت کے بھی منکر ہو جائیں گے۔نوح ؑ کی زوجہ اُن کو نہیں مانتی تھی وہ بھی کافرہ تھی،نوح ؑ کا بیٹا اُن کونہیں مانتا تھا وہ بھی کافر تھا۔اور جب نوح ؑ نے اللہ تعالی سے دعا مانگی کہ اے اللہ تعالی! میرے بیٹے کو بچا لے تو اللہ تعالی نےارشاد فرمایا کہ جس کو تو اپنا بیٹا کہہ رہا ہے وہ تیرے اہل ہے یعنی گھر والا ہے، گھر میں رہنے والا ہے لیکن وہ تیرا بیٹا نہیں ہے۔یعنی بیٹا ایمان نہیں لایا تو اللہ تعالی نے اُس بیٹے سے وہ تعلق چھین لیاجو ایک بیٹےاور باپ کے مابین ہوتا ہے۔جیسے یہ قرآن شریف کی آیت ہے

قَالَ يَا نُـوْحُ اِنَّهٝ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ اِنَّهٝ عَمَلٌ غَيْـرُ صَالِــحٍ فَلَا تَسْاَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اِنِّـىٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُـوْنَ مِنَ الْجَاهِلِيْنَ
سورۃ ھود آیت نمبر 46
ترجمہ:ارشاد ہوا:اے نوح! بیشک وہ تیری آل نہیں ہے کیونکہ وہ غیر صالح ہے، پس مجھ سے وہ سوال نہ کیا کرو جس کا تمہیں علم نہ ہو، میں تمہیں نصیحت کئے دیتا ہوں کہ کہیں تم نادانوں میں سے نہ ہو جانا۔

اے نوح!وہ تیرا بیٹا نہیں ہے کیونکہ وہ غیر صالح ہے ۔”صالح“ کا مطلب کیا ہوتا ہے؟عربی زبان بولنے والے سطحی طور پر اِن الفاظ کو سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ جو ہم روز مرہ زندگی میں عربی بولتے ہیں وہ مختلف ہے اور یہ قرآن مجید کی زبان ہےاسکےمعنیٰ اور اسکا مفہوم وہ نہیں ہے جو لوگ سمجھتے ہیں۔جسطرح دبئی میں،ابو ظہبی میں اوردیگرمقامات پرجہاں عربی بولی جاتی ہے وہاں جہاز میں اگر آپ دیکھیں ،امارات ایئر لائنز،قطر ایئر لائنز،وہ جو لیویٹریز ہوتی ہیں انکے باہر ایک چھوٹی سی ٹونٹی لگی ہوتی ہےاسکے اوپر لکھا ہوتا ہے کہ یہ پینے کا پانی ہے اوراندر جو لکھا ہوتا ہے وہ لکھا ہے ، ”ما ء غیر صالح “کہ یہ پانی جو ہے اچھا نہیں ہے ،تو اب صالح کے لیئے انہوں نےلفط اچھا استعمال کیا ہے۔اسی طرح مولویوں نےجو اس آیت کا ترجمہ کیا ہے اس میں انہوں نے اچھے اعمال کو”عمل ِ صالح“کہا ہے۔
اچھے کام جیسےبھوکے کو کھانا کھلا دینا، کسی کی مدد کر دینا وغیرہ وغیرہ۔لیکن قرآن مجید نے تو صالحین کا بڑا مرتبہ دیا ہے یہ چھوٹےموٹےاچھے کام کر کے تم صالحین کیسے بن سکتے ہو!! قرآن مجید نے تو ادریس ؑ،الیاس ؑاورعیسی ؑ کو یہ خطاب دیا تھا کہ وہ صالح ہیں۔یہاں پر جو میں آپ کو بات سمجھانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ جو عمل ہے آپ تو سمجھتے ہیں کہ کسی کی مدد کرنا اچھا عمل ہے لیکن اللہ کے ہاں سوچ مختلف ہے۔اب مدد کرنا اچھا کام ہے لیکن اللہ کا جو فارمولا ہے اس کو بھی دیکھنا پڑے گا کہ اللہ کی نظر میں یہ جو مدد کیا ہواکام ہے یہ اچھا ہے یا نہیں ہے۔آپ نے اپنے ہاتھ سے لوگوں کو مال دیا،بھوکوں کو کھانا دیا،پیسہ دیا،یہ آپ کا عمل ہے اسکا آپ کے جسم سے تعلق ہے اور جس نیت سے دیا اس کا آپ کی روحوں سے تعلق ہے۔اللہ کی نظر میں صالح تب ہو گا جب اچھی نیت سے دیا جائے گااور اچھی نیت تب ہو گی جب دل اچھا ہو گا،تو جن اعمال میں قلب کی نورانیت شامل ہو وہ عمل صالح ہوتے ہیں۔جن اعمال میں قلب کی نورانیت شامل ہو ،جواعمال قلب کی نورانیت کے نتیجے میں جو ہدایت ملے اس پر مبنی ہوں تو ان کو اعمال صالح کہیں گے۔

”ایک ایسا آدمی جس کے سینے میں نور نہیں ہے،روحیں بیدار نہیں ہیں ، وہ اگر سخاوت کا مظاہر ہ کرتا ہے،بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے تو وہ عمل حسنہ ہے اور وہ آدمی جس کا باطن منور ہے اور وہ بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے تو یہ عمل صالح ہے۔عمل ایک ہی ہے لیکن روحوں کی نورانیت کی وجہ سے اس عمل کو چار چاند لگ جاتے ہیں “

ایک لمحے کا تفکر ثقلین کی عبادت سے زیادہ کیسے؟

جسطرح مولا علیؑ نے کہا کہ ،’’ایک لحے کا تفکر کئی سوسالوں کی عبادت سے بہتر ہے‘‘۔
حضرت علی کے اس فرمان کی روشنی میں آپ کو نمازیں پڑھنے کی کیا ضرورت ہے،روزہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے،مسجد میں جانے کی کی ضرورت ہے،مکہ اور مدینہ جانے کی کیا ضرورت ہے،اپنےگھر پر بیٹھے رہیں اور سوچتے رہیں۔ایک گھنٹہ سوچ لیں ،اور اس کا مقام ایک لمحے کا تفکر ثقلین کی عبادت سے زیادہ ہے۔ایک لمحے کا تفکر ثقلین کی عبادت سے بہتر ہے تو پھر یہ نمازوں میں کیوں لگےہوئے ہیں،روزوں میں کیوں لگے ہوئے ہیں۔آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ حضرت علی نے جو بات کہی ہے اسکاکیا مطلب ہے۔پھر بات آئے گی زبان اردو کی۔اگر ہم کسی کو خاموش بیٹھا دیکھیں کہ جیسے وہ اپنی سوچوں میں گم ہےتو ہم کہیں گے کہ بھئی یہ تفکر فرما رہے ہیں یا کسی کو کوئی پریشانی لاحق ہو،کسی کو کوئی خدشات لاحق ہوں تو ہم کہتے ہیں کہ یہ کسی فکر میں ہے ۔لیکن تفکر اورفکر کادین میں یہ معنی نہیں ہے۔دو لفظ ایک ساتھ جڑے ہوئے ہیں ذکر و فکر لیکن آپ نے نہ ذکر کامعنی سمجھااور نہ ہی فکر کا معنی سمجھا۔آپ نے ذکر اور فکر کے لیئے کیا کیاکہ زبان سے اللہ اللہ کرنے لگ گئے سارے فرقے ہی زبان سے اللہ اللہ کر رہے ہیں۔تو پھر اللہ تک کیوں نہیں پہنچے،سلطان باہو نے کہا کہ فکر کامطلب ہے کہ تمھارے جسم میں موجودروحوں کے اوپر تصور کرنا۔بہت سارے لوگ اُن روحوں پر اسم اللہ کاتصور کر رہے ہیں اُسکے باوجود بھی وہ لڑائی جھگڑے میں لگے ہیں۔وہ فکرکیا ہے ایک لمحے کا تفکر جو ہے۔

”جب تمھاری یہ روحیں پاک ہو گئیں اور روحانیت سے انکو طاقت مل گئی،تم نے سوچا دیکھیں حضور پاک ﷺ کیا کر رہے ہیں یہ روحیں اُدھر پہنچ گئیں، یہ ایک لمحے کا تفکر ہے۔یہ ایک لمحے کا تفکر،یعنی ایسی سوچ جس پر تمھاری روحیں اُس مقام پر پہنچ جائیں جو سوچ ہے ۔پھر فرمان امام مہدی گوھر شاہی ہوا کہ یہ جو تمھاری روحیں ہیں پھر یہ تمھاری سوچ کی محتاج ہو گئیں،تم نے سوچا دیکھیں اوپر عرش معلی پر کیا ہو رہا ہے یہ پرواز کر گئیں فرشتوں نے روکا،نہیں رکیں وہاں پہنچ گئیں جہاں رب کی ذات ہے۔یہ ایک لمحے کا تفکر ہے ،اور ثقلین کی عبادت سے بہتر ہی ہوا نا کہ تو نے سوچا کہ دیکھیں اوپر کیا ہو رہا ہے اور تو اللہ کے سامنے جا کے بیٹھ گیا “

پس یہ معلوم ہوا کہ صالح وہ ہے جس کی روحیں منور ہوں۔

غیر صالح کی تشریح:

غیر صالح کون ہوتا ہے ؟ عام لوگ یہی سمجھیں گے کہ جسکی روحیں منور نہ ہوتو وہ غیر صالح ہو گا لیکن وہ روحیں بعد میں منور کر کے صالح بن سکتا ہے لیکن اگر اللہ کسی کو غیر صالح کالیبل لگا دے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ اسکی روحیں مر چکی ہیں اُن پر مہر لگ چکی ہےاب وہ روحیں کسی بھی صورت بیدار ہو ہی نہیں سکتیں۔اب جب وہ بیدار ہو ہی نہیں سکتیں تو اُن سے رشتہ کبھی بھی نہیں بنے گا۔اسی لئے اللہ نے قرآن میں نوح کو کہا کہ اے نوح ! تو کہہ دے کہ یہ تیرا بیٹا نہیں ہے۔اب حضور پاک ﷺکی زوجہ تھیں بی بی عائشہ،حضورپاکؐ جب شب معراج میں گئے اللہ کا دیدار کر کے آئے،بی بی عائشہ نے منع کر دیا کہ انہوں نے کوئی دیدار نہیں کیا ہے،تو ہم کس کی بات مانیں گے،حضور کی بات مانیں گے یا بی بی عائشہ کی بات مانیں گیں۔سیدنا گوھرشاہی فرماتے ہیں کہ میں امام مہدی ہوں انکا بیٹا کہتا ہے کہ نہیں ہیں ،تو ہم انکے بیٹے کی بات مانیں گے یا انکی بات مانیں گے۔
اسی طرح جب رب الارباب کی بات ہوتی ہے تو یہ جسم کی بات نہیں ہوتی وہ جو جسم دنیا میں آیا ہے وہ تو نہ ولی ہے نہ مومن ہے وہ تو ایک جسم ہی ہے، یہیں رہ جائے گا۔بھئی داتا کو اور خواجہ کو بھی تو لوگوں نے اللہ کہا،اللہ تو رفع حاجت کے لئے نہیں جاتا ہے لیکن داتااور خواجہ تورفع حاجت کے لئے جاتےتھے ،ان کو اللہ تم نے کیسے تسلیم کر لیا اُن کی بھی تو اولادیں ہوں گی۔لیکن پھر بھی لوگوں نے انکو رب کہاجبکہ رب نے قرآن میں لکھا ہے کہ قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ اللَّـهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ َلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌاسکے باوجود بھی لوگ داتا اور خواجہ کو اللہ سمجھتے ہیں ۔اس لئے سمجھتے ہیں کہ انکے سینے میں رب کا جلوہ موجود ہے اُس جلوے کی موجودگی کی وجہ سےاُسکی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں کہ وہ رب ہے۔جوٹانگوں پر چل کے جسم جارہاہے وہ رب نہیں ہے،وہ جسم کے اندر جو جلوہ چھپا ہوا ہے اسکو رب کہتے ہیں۔

اِسی طرح جوسیدناگوھر شاہی کا جسم مبارک ہے اسکو رب الارباب کس نے کہا ہے،وہ جسم جو کسی کا بیٹا اور کسی کا باپ ہے اور کسی کا شوہرہےاسکو رب الارباب کس نے کہا ہے ،وہ جو سینہ گوھر شاہی میں ذات ریاض بسی ہوئی ہے اسکو رب الارباب بولتے ہیں جو ذات ریاض الجنہ سے آئی ہے یہاں اس کی بات ہو رہی ہے۔

امام مہدی کی ران پر رب الاربا ب لکھا ہو گا:

اگر سرکار گوھر شاہی امام مہدی ہیں تو پھر رب الارباب ہیں ،کیونکہ مولا علی نے فرمایا کہ امام مہدی کی ران پر لکھا ہو گا رب الارباب۔
(بحوالہ کتاب نہج البلاغہ)
جن لوگوں کو اس بات سے پریشانی ہے تو مولا علی کو جھٹلا دو،جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ رب الارباب کہاں سے آیا یہ شرک ہے تو پھر سب سے بڑے مشرک تو مولا علی ہو گئےانہوں نے کیوں کہا کہ امام مہدی کی ران پہ رب الارباب لکھا ہو گا۔
دوسری بات یہ ہے کہ خانہ کعبہ میں جا کرجو سجدہ تم کرتے ہو وہ تصویر گوھرشاہی کو سجدہ کرتے ہو ،اتنا بغض گوھر شاہی سے ہے تو اب کسی اور قبلےکے سامنے بیٹھ کے نماز پڑھنا،کیونکہ کعبے میں تو سجدہ تصویرگوھر شاہی کوہوتا ہے۔آدم صفی اللہ سے لے کے محمد رسول اللہ ﷺ تک تمام انبیا اور مرسلین نے وہاں اپنا سر جھکایا اس پتھر کے آگے جس میں تصویر گوھر شاہی ہے۔اور جب عمر بن خطاب نےکہا کہ اے حجر اسود تو ایک پتھر کے سوا کچھ نہیں ہےتو مولا علی نے کہا کہ اے عمر تو غلط کہتا ہے چپ ہو جا میں نے خود حضور پاک ؐ سے سنا ہے کہ یہ مقدس پتھر فائدہ بھی پہنچا سکتا ہے اور نقصان بھی پہنچا سکتا ہے جب اللہ تعالی نے روز ازل ساری روحوں سےقول واقرار لئےتھے تو ان سب کے اقرار کو اس حجر اسود میں ڈال دیا تھا اور جو اس کو عقیدت اور محبت سےبوسہ لے گا یوم محشر میں یہ پتھر اسکی شفاعت کرے گا اور گواہی دے گا۔پتھر شفاعت کرے گا جس نے بھی بوسہ لے لیا ۔یہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ جس نے بھی عقیدت اور محبت سےبوسہ لے لیا یہ پتھر اسکی شفاعت کرے گا۔پتھر کے لیئے شفاعت کا کوئی کوٹانہیں ،جو بھی محبت سے بوسہ لے لے شفاعت ہے،اور نبیوں کے لیئے کوٹا رکھا تم اتنوں کی کرو گے،تم اتنوں کی کرو گے،ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا کوٹا ہے شفاعت کا،اور یہ پتھر لا تعداد انسانوں کی شفاعت کرے گا،توڑ دواپنا دین،چھوڑ دو اپنا بھرم،یہ پتھر جس میں تصویر گوھر شاہی ہے۔
آیت الکرسی میں آیا ہے کہمَن ذَا الَّذِيہے کوئی ایسا يَشْفَعُِجو شفاعت کر دے ُ عِندَهُ اپنے بل بوتے پر إِلَّا بِإِذْنِهِ ،اور اللہ کا ازن بھی نہ ہو اسکے پاس،ایسا تو کوئی بھی نہیں ہے سب کو اللہ نے کوٹہ دیا،یہاں تک کہ نبی کریم ؐ نے جب حضرت علی کو اور عمر بن خطاب کو یمن بھیجا اویس قرنی کے پاس تو اُن کو کہا کہ یہ میرا جبہ اویس قرنی کو جا کر دینا اور کہناکہ میری امت کی شفاعت کے لیئے دعا کریں۔اگر حضور ؐ کے پاس لاتعداداُمتیوں کی شفاعت کا کوٹا اورطاقت ہوتی تو کیا وہ اپنے امتی کو کہتے کہ تو بھی شفاعت کے لئےدعا کر و۔لیکن یہ جو پتھر ہے جو کعبہ میں لگا ہے کبھی اس پتھر کو ابراہیم نے اپنی پگڑی پی رکھا، کبھی اسماعیل نے رکھا،کبھی آدم صفی اللہ لے کے آئے اور کبھی جبرئیل اسکو اٹھا کر پھرتے رہے۔کبھی اس پتھر کے سامنے سےحضورؐ گزرے تو زاروقطار ہچکیاں بھر بھر کے روئے۔اس پتھر کی خاصیت کیا ہے؟

”اس پتھر کی خاصیت یہ ہے کہ اُس میں اُس ذات کی تصویر ہے جس کو پاکستانی قوم نہیں مانتی۔اس کی تصویر ہے کہ جس کے قدموں کی اگر دھول مل جائے تو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اُسکو عرش الہی سمجھ کر اپنا سر جھکا دیں۔اُس ذات کا نام گوھر شاہی ہے“

اب ان کی ایک تصویر حجر اسود میں ہے وہ جب سے آیا ہے آدم صفی اللہ لے کے آئے چھ ہزار سال ہو گئے،اس وقت سے جو بھی گیا وہاں پر اور اس نے عقیدت و محبت سے بوسہ لیا اسکی شفاعت کرے گا۔ کسی بھی دین کا گیا ،اسلام تو ابھی آیا ہے ساڑھے چودہ سو سال پہلے جبکہ حجر اسود کو ساڑھے پانچ ہزار سال سے پوجا جا رہا ہے ۔اسلام کی آمد سے ساڑھے پانچ ہزار سال قبل ،سب لوگوں کی شفاعت کر رہا ہے۔ نہ دین پوچھا کسی کا،نہ یہ پوچھا کہ تو کس کا ماننے والا ہے ،تصویر گوھر شاہی کو بوسہ دیا اور شفاعت پا گیا،اسکے سارے گناہ دھل گئے۔اندازہ کریں کیا ہو گی وہ ذات۔
جب حضرت علی نے کہا کہ انکی ران پہ رب الارباب لکھا ہو گا تب اُن کو تسکین ملی ہو گی کہ نہیں نہیں،یہ کوئی نبیوں کے بس کی بات نہیں ہے،یہ کوئی ولیوں کے بس کی بات نہیں ہے اور نہ یہ اہل بیت کے بس کی بات ہے۔اگر تم امام مہدی کی عظمت اہل بیت والوں میں ڈھونڈ رہے ہو تو یہ واقعہ سنو۔ایک ولی نے اپنی کتاب میں لکھا کہ رات کا وقت تھااور میں کعبہ میں تھا،اب بہت پرانی بات ہے ،آٹھ نو سو سال پہلے خانہ کعبہ میں کوئی لائٹیں تو نہیں ہوتی تھیں،تو انہوں نے کہا کہ رات بھر ایک آدمی غلاف کعبہ کو پکڑ کر رو رہا ہے ہچکیاں بھر بھر کے رو رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اے اللہ تومجھے معاف کر دے میرے گناہوں کو بخش دے دن کا اجالا آنے سے پہلے پہلے مجھے معاف کر دے لوگوں نے اس گناہ گار کا چہرہ دیکھ لیا تو کیا حال ہو گا میرا تو اگر مجھے معاف نہیں کرے گا تو کیا بنے گا میرا۔اب وہ رات بھر غلاف کعبہ پکڑ کر رو رہا ہے،اتنا رویا وہ کہ اس ولی کو ترس آگیا کہ اے اللہ اس کو دیکھ لے یہ رو رہا ہے بے چارہ پتہ نہیں کتنا گناگار ہے،وہ بھی دعا کرنے لگ گیا ولی اس کے لیئے،جب پوپھٹی ،سورج نکلا،اور چہرہ دیکھا اسنے تو وہ امام ذین العابدین تھے جو اپنے گناہوں کی بخشش کرا رہے تھے غلاف کعبہ پکڑ کے۔اہل بیت تو غلاف کعبہ پکڑکراپنے گناہوں کی بخشش کرا رہے ہیں ۔امام مہدی بھی اہل بیت سے ہوں گے تو اُن کے پاس اہل بیت کی نسبت سے یہ وصف کہاں سے آئے گا۔یہ بات ہم نہیں کہہ رہے ہیں کہ وہاں تصویر ہے،حجر اسود کا تغرہ اٹھا کے دیکھواُس میں تصویر ہے۔کونسا چہرہ نظر آرہا ہے اس تصویر میں ذرا معلومات کریں اور حدیثیں پڑھیں،اگرآپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا تصور ہے تو ایسا نہیں ہے ،یہ بات بہت پرانی اور گھسی پٹی ہو گئی ہے کہ بھئی محبت کرنے والوں کو ہر جگہ اپنا محبوب نظرآتا ہے ،یہ تو فلمی ڈائیلاگ ہے اور ہم یہاں پر حقیقت بیان کر رہےہیں ۔

امت واحدہ کا تصور:

جب حضرت علی نے کہا کہ امام مہدی کی ران پہ رب الارباب لکھا ہو گا تو ہم سے پہلے تو آپ حضرت علی کو صلوٰۃ سنائیں ،کیا وہ مشرک تھے ،کیا اُن کو نہیں پتہ کہ اللہ ایک ہے ،کیا انہوں نے کلمہ نہیں پڑھا تھا ،لا الہ الااللہ ،کیا اللہ تعالی خود بھی نہیں جانتاتھا کہ اللہ ایک ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے کہ اگر ہم کو کلمہ سبقت کا انتظار نہ ہوتا تو یہ انسانیت جو کہ امت واحدہ تھی کبھی بھی مختلف فرقوں میں گروہوں میں منقسم نہ ہوتی،اب کلمہ سبقت کا انتظار اللہ کو ہے تو وہ کلمہ سبقت ہے کیا اتنے کلمے آگئے ،لا الہ الااللہ آدم صفی اللہ،لا الہ الااللہ ا براہیم خلیل اللہ ،لا الہ الااللہ موسی کلیم اللہ ،عیسی روح اللہ ،محمد رسول اللہ،یہ سارے کلمے آگئےاور یہ قرآن ہے اور یہ اُس ذات کے اوپر آیا جس ذات کے اوپر لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ آیا،لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ آنے کے باوجود بھی کلمہ سبقت کا انتظار ہے تو وہ کلمہ کونسا ہے !!! لوگ یہ سمجھ رہے ہیں ،لوگوں کو یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ دیکھو جی یہ اسلام کے خلا ف باتیں ہو رہی ہیں اللہ کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں،کہاں اللہ کے خلاف باتیں ہو رہی ہیں پڑھو تو سہی قرآن،صرف تمھارا ماں اور باپ مر جائے گا تو پھر قرآن خوانی کرو گے ،کسی کے مرنے سے پہلے پڑھو قرآن ،اسوقت قرآن پڑھتے ہیں یا تو کسی کی جان اٹک جائے ،تو چلو جی سورہ یسین لے کے آؤ مر ہی نہیں رہا یہ تو یا پھر مر جائے تو جی تیس سپارے پڑھ لو ،پہلے پڑھو سمجھو ،اسلام کیا ہے ؟قرآ ن کیا ہے؟ اللہ کا پیغام کیا ہے؟پڑھو اسکو۔

وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
سورۃ یونس آیت نمبر 19

کہ یہ پوری کی پوری انسانیت ایک امت واحدہ ہوتی،تو کیوں نہیں ہوئی،اختلاف ہو گیا،اللہ نے اختلاف کیا،کیسے کیا اختلاف کہ آدم صفی اللہ کو بھیج دیا کچھ لوگوں نےانکو مانا،پھر ابراہیم ؑ آگئے وہ کچھ اور دین لے کے آئےکچھ لوگوں نے انکو مان لیا۔کوئی مکے میں پیدا ہوا، کوئی مدینے میں پیدا ہوا،یہ غصے والا ہے،یہ غصے والا نہیں ہے ۔کوئی افریقہ میں پیدا ہوا وہ کالا ہو گیا، کوئی یورپ میں پیدا ہو گیا وہ گورا ہو گیا۔کوئی پاکستان میں پیدا ہو گیا وہ براؤن ہو گیااب یہ اختلاف اللہ نے پیدا کیا ہے۔اللہ تعالی نے امت واحدہ کا تصور بچا کے رکھا۔کیوں بچا کے رکھا کہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے سب کے دل آپس میں پروئے جائیں گے،نہ تو آدم صفی اللہ کا کلمہ ایساتھا کہ پوری انسانیت کے دلوں کو جوڑنے میں وہ کافی ہوتا،نہ ابراہیم خلیل اللہ ؑ کا کلمہ ایسا تھا کہ وہ پوری انسانیت کے دلوں کو جوڑ دیتا۔کسی کا کلمہ،نہ محمد رسول اللہ کا کلمہ ایسا ہو اکہ جو پوری انسانیت کے دلوں کو ایک مرکز پہ جوڑ دے۔

کلمہ سبقت، یعنی سب سے پرانا کلمہ جس نے سب کے دلوں کو جوڑنا ہے ۔اور ساری اُمتوں کو ختم کر کے امت واحدہ،ایک امت بنانا ہے،ایک امت،ایک ہی انکا دین،دین حنیف ،دین الہی، عشق الہی ،تو مجھے دیکھ لے میں تجھے دیکھ لوں،نہ مندر جا، نہ مسجد جا ،نہ گردوارے جا،اپنے گھر بیٹھ اپنے دل کو رب کا گھر بنا،یہ تعلیم لے کے آئے ہیں امام مہدی ،اور وہ کلمہ سبقت بھی ہم نے لوگوں کو دے دیا ہے

اب جب وہ کلمہ سبقت آ گیا اس بات سے کیوں ڈریں کہ پاکستانی مسلمان ہم کو ماریں گے،نہیں ہم تو نہیں ڈر رہے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اتنے بہادر ہو تو پاکستان آ کر یہ تبلیغ کرو،کیوں بھئی کیوں آئیں پاکستان،ہم انگلینڈ میں ستائیس سال سے رہ رہیں ہیں ہم یہاں رہ کر ترویج کا کام کر رہے ہیں۔اچھا دوسری بات ،کیا پاکستان اسلام کا سمبل ہے جو اسلام سے متعلقہ کوئی بھی بات کہنی ہے تو پاکستان جائیں۔اگرتم پاکستان بننے سے پہلےپیدا ہوئے ہوتے تو کیا یہ کہتے کہ انڈیا آکر کہو یہ بات ،اور اگرآپ ہارون رشید کے زمانے میں پیدا ہوئے ہوتے تو کہتے بغداد شریف آکے کہو یہ بات۔یہ تمھاری چالیں ہیں یہ نفس کی من مانی کرنے والی بات ہے شیطانیت ہے یہ۔حق ہے یہ ،اسکا ثبوت مانگو ،دلیل مانگو جہاں پر بھی مل جائے تمھاری خوش قسمتی ہے اگر مل جائے تو اور نہ تسلیم کرو تو نہ اُسکو کوئی پرواہ ہے نہ ہم کو کوئی پرواہ،ہمارا کام حق کیا بات کو پہنچانا ہے جس کا مقدر سنور گیا وہ دعا دے دے اور جس کا مقدر نہیں سنورا مزید بگڑ گیا تو ہمیں کیا پرواہ ہے بگڑیں،ہم نے کیا کیا ہے؟ ہم نے تو کچھ نہیں کیا، ہم نے تو حق کی بات بتائی ہے۔اور اللہ تعالی نے بھی قرآن میں فرمایا کہ اللہ تعالی بھی حق بات کہنے سے شرماتا نہیں ہے تو ہم سنت الہٰ پہ عمل کرتے ہوئے شرما نہیں رہے بلکہ حق بات بتا رہے ہیں۔

خاص نقطہ: علم لدنی سریانی زبان کا لفظ ہے اور یہ دو لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے ایک ”بدون“اور دوسرا ”لدن“ جس کا مطلب ہے اس کی طرف ۔ علم لدنی کا مطلب ہے رب کی طرف سے آیا ہوا علم۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں