کیٹیگری: مضامین

یو ٹیوب پر کئے گئے یعقوب اعوان کے سوال کے دئیے گئے جواب سے ماخوز:

سوال:اکثر لوگوں کو یہ اُلجھن ہے کہ سرکار گوھر شاہی رب الارباب کیسے ہیں؟جبکہ ویڈیوز میں موجود ہے کہ آپ نماز بھی پڑھ رہے ہیں ،سجدہ بھی کر رہے ہیں ،نماز میں اللہ کی شہادت میں انگلی بھی اٹھا رہے ہیں ،دعائیں بھی مانگ رہے ہیں ،ذکراللہ بھی کر رہے ہیں اور اسکے باوجود ایم ایف آئی کے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ رب الارباب ہیں۔
سیدنا گوھر شاہی رب الارباب کیسے ہیں یہ بات واقعی نہ سمجھ میں آنے والی ہے جب تک اُس کی تشریح نہ کر دی جائے۔اور تشریح کرنے کے بعد جواس کوسمجھ لے تواسکو ماننا پڑے گااوراگر نہیں مانے گاتو پھر وہ ایمان سے محروم ہو جائے گا۔

دینِ اسلام میں موجوداُلجھنیں:

انبیاء،مرسلین اور اولیاء کی بہت سے باتیں ایسی ہیں جو اُن کے مقام ومرتبے سے موازنہ کیا جائے تواُلجھن پیدا ہو جاتی ہے۔جیسےایک اُلجھن یہ ہے کہ نبی معصوم ہوتا ہے اور اُس سے کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے اس کے باوجود بھی حضور ﷺ روزانہ ستر مرتبہ استغفار کرتے تھے۔ہر عمل کا کوئی نا کوئی تو مقصد ہوتا ہے۔یہی انسان کی عقل کہتی ہے کہ بلاوجہ تو کوئی کام نہیں کیا جاتا،کہ جب کوئی گناہ ہی نہیں کیا تو استغفار کس لیئے کر رہے ہیں۔اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے۔یہ وہ باتیں ہیں کہ جن سے نہ صرف ایک انسان الجھن کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ انہی باتوں کی وجہ سے بہت سارے فرقے بن گئے ہیں۔اب جیسے قرآن میں یہ بھی ہے کہ

قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ
سورۃ المائدہ آیت نمبر 15
ترجمہ:بے شک اللہ کی جانب سے تمہاری طرف نور آیااور کتاب مبین۔

ابو بکر شبلی کے شاگرد ابو قاسم نیشا پوری نے اپنی تفسیر میں با لخصوص” درّ ِمنصور“ میں اور جلال الدین سیوطی ؒنے” خصائص الکبریٰ “ میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ یہاں اس آیت میں نور سے مراد حضور ﷺ کی ذات ہے ۔تو ایک آیت میں تو اللہ نے حضور کو اپنا نور قرار دیا ہےاور پھر دوسری جگہہ یہ بھی کہہ دیا ہے

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ
تر جمہ:اے محمد کہہ دیجئے کہ میں تمہاری طرح کا بشر ہوں۔

اب یہ باتیں الجھن پیدا کرتی ہیں اور جس کا جھکاؤ جس عقیدے کی طرف ہوتا ہے وہ اسکو اپنے عقیدے کے لیئے دلیل بنا لیتا ہے۔جیسے کہ سنی بریلوی ہیں انہوں نےْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورکو آگے بڑھا لیااسکو نعرہ بنالیا اور وہابیوں اور سلفیوں نے قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْکا جھنڈا گاڑ لیا۔باتیں دونوں قرآن کی ہیں ۔جو بریلیوں کے عقائد تھے وہ بھی قرآن سے آئے اور جو وہابیوں کا عقیدہ ہے کہ بھئی وہ تو بشر ہیں یہ بھی جزوی طور پر قرآن سے ہی آیا ۔تو اس وجہ سے نہ صرف الجھن پیدا ہوئی بلکہ بڑے بڑے فرقے وجود میں آ گئے۔
اب یہ جاننا ہےکہ سیدنا گوھر شاہی نے اللہ سے دعائیں بھی کیں ،اللہ کے آگے سجدہ بھی کیا ،اور پھر یہ کہ وہ رب الارباب بھی ہیں ،یہ چیز ذہن میں الجھن پیداکرتی ہے،لیکن ایک معاملہ اور بھی ہے کہ جب حدیث قدسی میں یہ بھی آگیاکہ جب کوئی بندہ کثرت عبادت سے میرا قرب پا لیتا ہے تو میں اسکے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،اسکے پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے،میں اسکی زبان بن جاؤں گا یو م محشر میں جس سے وہ بولے گا۔اب یہ بات اللہ نے ہی کہی ہے اور جب اللہ کسی کی ہاتھ ،پاؤں،منہ،زبان بن جائے گا تو وہ ہاتھ پاؤں منہ ناک پاؤں ٹوائلٹ میں بھی جائے گا۔جسکے ہاتھ پاؤں اللہ بن گیا وہ اللہ کو سجدہ بھی کرے گاایسی بہت ساری ہستیاں ہیں جنکے وہ ہاتھ پاؤں بن گیا۔سب کو تو چھوڑو کیا حضور ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ نہیں رکھا جا سکتا،جبکہ قرآن مجید میں گواہی بھی موجود ہے کہ یا رسول اللہ جو مٹی آپ نے پھینکی وہ آپ نے نہیں ہم نے پھینکی تھی ،وہ تیرا ہاتھ نہیں تھا وہ میرا ہاتھ تھا

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ رَمَىٰ ۚ
سورة الاأنفال آیت نمبر 17
ترجمہ:جب آپ نے اُن پر مٹی پھینکی تھی وہ آپ نے نہیں پھینکی تھی بلکہ وہ تو اللہ نےپھینکی تھی۔

اب جب اللہ تعالی اسکے ہاتھ پاؤں بن گیا ہے تو کیا اللہ اپنے آپ کو سجدہ کر رہا ہے،یہ بھی بات الجھن پیدا کرتی ہے۔اسکے علاوہ یہ بات بھی اُلجھن پیدا کرتی ہے کہ اللہ کے بارے میں سلطان حق باہو نے فرمایا کہ”وہ خود عاشق ہےاور خود معشوق ہےاور خود عشق ہے “۔اب یہ جو تینوں مرتبے ہیں وہ انہوں نے خود اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں اورلطف اندوزکیسے ہوتے ہوں گے،کبھی تو کسی بندے کے سینے میں اپنا جلوہ رکھ کے خود اپنےآپ سے عشق کرتے ہوں گےاور کبھی خود اُس جلوے سے عشق کرتے ہوں گے جو کسی کے سینے میں رکھا ہےاور جس سے عشق کیا جاتا ہے جسّہ توفیق الہی کبھی وہ کسی کے جسم میں اتار کے سراپا عشق بن جاتے ہوں گے ،یہ بات بھی الجھن پیدا کرتی ہے۔
بات ساری علم باطن کو سمجھنے کی ہے اب یہ بات بھی اُلجھن پیدا کرتی ہے کہ جب حضور ﷺ معراج شریف پر گئے تو جو انگوٹھی حضور ؐنے علی ؓ کو دی تھی وہ انگوٹھی حضورؐ نے اللہ کے ہاتھ میں پہنی ہوئی دیکھی۔اس واقعہ سےاُلجھن پیدا ہو گئی اور شیعوں نے یہ سمجھ لیا کہ جو عرش الہی پہ اللہ بیٹھا ہوا ہے وہ علی ہی ہے کیونکہ وہ انگوٹھی تو حضور پاکؐ نےحضرت علی کو ہی دی تھی۔اب یہ بات کس کو معلوم پڑ سکتی تھی سوائے سیدناگوھر شاہی کے بتانے کے بعد،چونکہ سلطان الفقرا تھیں بی بی فاطمہ تو ایک دن وہ انگوٹھی انہوں نے پہن لی تو اُسکی وجہ سے وہہ انگوٹھی اُن کو اللہ کی انگلی میں نظر آئی تو یہاں بھی اُلجھن پیدا ہو گئی ہے۔لیکن اُلجھن اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب آپ کے پاس مسنگ لنک نا ہو۔جو چیز سمجھانے والی ہوتی ہے جب وہ چیز آپ کے پاس نہ ہو تو پھرالجھن پیدا ہوتی ہے۔جیسا کہ ہم آئی فون میں دیکھتے ہیں کہ بھئی پانچ منٹ بعد بارش رک جائے گی اور پھر سارادن سورج نکلا رہے گا۔اس کے مطابق ہم باہر بغیر چھتری کے جا رہے ہیں اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ باہر بارش ہو رہی ہے اور تم بغیر چھتری کے جا رہے ہو تو ہم بتائیں کہ پانچ منٹ کے بعد بارش رک جائے گی اوراسکے بعد پھردھوپ ہی دھوپ ہے تو پھر اسکو سمجھ آجائے گی۔لیکن اگر یہ بات نہ بتائی جائے تو وہ کہے گا کہ عجیب بے وقوف آدمی ہے،مکمل علم نا ہونے کی بنیاد پریہاں بھی الجھن پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو مسنگ لنک ہوتا ہے جسکی وجہ سے بات سمجھ میں آتی ہے وہ علم جو تمام چیزوں کو اجاگر کر دیتا ہے،کھول دیتا ہے، تشریح بیان کر دیتا ہے ،کبھی کبھی ہم اُس علم کو جھٹلا دیتے ہیں اور پھر ساری زندگی اُلجھن میں ہی رہتے ہیں اور حق کے مخالف ہو جاتے ہیں۔
اب جیسے حضور ﷺ سخت بیماری کی حالت میں بھی نماز پڑھتے اب اگر حضور ؐنماز نہ پڑھتے تو کیا نبوت چھن جاتی!! کیا حضور ﷺاعلان نبوت سے پہلے نماز پڑھتے تھے،نماز شب معراج پراتری،اسکے بعد نماز قائم کی گئی۔تو نماز اللہ تعالی کو اپنی بندگی دکھانے کاایک ذریعہ ہے جبکہ حضور ﷺ کو تو یہ مقام حاصل ہوا کہ اِس دنیا میں آنے سے پہلے بھی آپ نبی تھے تو اب اللہ تعالی کو انہوں نے کیا ثابت کرنا تھا،بندگی ثابت کرنا تو عام آدمی کا کام ہے۔جب وہ اس دنیا میں آنے سے پہلے بھی نبی تھے تو اب اُن کو کیا ثابت کرنا ہے۔تو پھر نمازیں کیوں پڑھیں؟امت کے لئے پڑھیں،اگر حضور پاک ﷺ بیماری کی حالت میں بھی نماز نہیں پڑھتے تو اگر امت کو چھینک بھی آجاتی تو کہتے میں بیمار ہوں نماز نہیں پڑھوں گا،انکو کھانسی آجاتی تو روزہ نماز چھوڑ کے گھر پر بیٹھ جاتے،تاکہ امت کے لیئے ایک مثال قائم ہو جائے کیونکہ سنت ہے۔جو بھی کام حضور ﷺ کرتے یا نہ کرتے وہ سنت ہو جاتا لیکن چونکہ امت کے لیئے کافی ساری چیزیں ضروری تھیں لیکن اگر آپ وہ نہ کرتے توامت بھی انکونہ کرتی۔
تو اسی طرح سیدنا گوھرشاہی نے،جب ہمارے دل منور نہیں تھے،جب ہم علم باطن سے واقفیت نہیں رکھتے تھے اُسوقت ہمارے دلوں کو اللہ اللہ میں لگایا خود بھی اللہ اللہ کی۔ہم کو بھی اللہ اللہ میں لگایا خود بھی اللہ اللہ کی اور پھر جب ہمارا دل منور ہو گیا اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت آگئی تو پھر ہم کو پتا چلا کہ سرکار گوھر شاہی رب الارباب ہیں وہ سارے سجدے تو ہمارے ایمان کی حفاظت کے لئے تھے ۔جیسے نکاح ہے حضور ﷺ نے جو نکاح کئے کیا اُن کو نکاح کی ضرورت تھی،ہم جو نکاح میں کلمات پڑھتے ہیں اُس میں حضور کا نام ہوتا ہے تو ہمارا نکاح ہو جاتا ہے وہ تو خود موجود تھے لیکن اگر حضور پاک نکاح نہ کرتے تو بغیر نکاح کے بچے پیدا کرنے کی سنت ہو جاتی اس لئے آپ نے نکاح کیا۔

حضورﷺ نور تھے لیکن رفع حاجت کی کیوں ضرورت پڑی؟

بہت سارے کام ایسے ہیں جو آپ ﷺ نے اس لئے کئےتاکہ ہم کر سکیں اور دوسری بات یہ ہے کہ حضور ﷺ سراپا نور ہیں لیکن پھر بھی حضور پاک رفع حاجت کے لئے جاتے تھے،پیشاب کرنے جاتے تھے،تو نور سے پیشاب کیسےنکلتا ہے؟رفع حاجت کیوں آتی تھی؟اگر حضور ﷺ جیسے کے تیسے اس دنیا میں نہ آتے اور عالم ملکوت میں رہتے وہاں کا کھانا کھاتے،وہاں کا پانی پیتے تواُن کو کبھی بھی رفع حاجت کے لئے نہ جانا پڑتا۔رفع حاجت کے لئے اس وجہ سے جاتے تھے کہ یہاں (عالم ناسوت) کی چیزیں ہمارے جسم میں نہیں رہتیں ، ہم عالم ملکوت کے ہیں اس لئے وہ چیزیں باہر نکلنی ہی نکلنی ہیں۔اسی طرح یہ جو سیب ہے یہ جنت سے آیا تھا،اگرآپ نے بچوں کی کینڈی فلاس کبھی دیکھی ہے یا کھائی ہے تو وہ بالوں جیسا ہوتا ہے اسکو منہ میں ڈالو تو وہ گھل جاتا ہے،اسی طرح جنت کے سیب بھی ہیں وہ منہ میں ڈالو تو وہ گھل جاتا ہے وہ کوئی ٹھوس چیز نہیں ہےلیکن زمین پہ جب وہ سیب آیا تواسکے بیج یہاں اُگائے گئے تو اس زمین کی مٹی اس میں شامل ہو گئی اور سیب ٹھوس ہو گیا۔تو اب جب آپ اُسکو کھائیں گے تواُسکا رس آپکے جسم میں انرجی بن جائے گااور وہ مٹی ٹوائلٹ کے ذریعے باہر نکل جائے گی،یہ توایک عام سمجھنے کی بات ہے نہ۔بھئی یہ تو ہم نے قرآن سے سیکھ لیا کہ حضور کی ذات اللہ کا نور ہے اگر حضور کی ذات اللہ کا نور ہے بقول قرآن اور زمین پر آکر حضور کو بھی پیشاب کرنا پڑا،ٹوائلٹ جا نا پڑا تو اللہ کو نور ہونے کے باوجودبھی اگر انہوں نے یہ کیا تو اگر اللہ بھی زمین پہ آتاتو اس کو بھی رفع حاجت کے لئے جانا پڑتا۔بھئی حضور کو بھی کرنا پڑا جبکہ وہ من اللہ نور تھے،کیوں رفع حاجت کرناپڑتا تھاکیونکہ زمین کی جو مٹی تھی اس نے باہر نکلنا ہے اور جو آدم صفی اللہ کو جنت سے باہر نکلوانے کا باعث بنی وہ بھی یہ ہی چیز تھی۔

آدم صفی اللہ کے جنت سے نکلنے کا سبب:

اللہ تعالی نےجنت میں عالم ناسوت سے گیہوں کاایک درخت لگادیا جس میں ناسوت کی مٹی شامل تھی ،اور پھر آدم و حوا کو کہا کہ جنت میں جو مرضی آئے کھاؤ لیکن یہ ایک درخت ہے اسکو ہاتھ نہیں لگانا۔اب کیا ہوا کہ شیطان نے حوا کو پکڑا کہ اِس درخت میں کوئی خاص بات ہو گی تبھی اللہ نے کہا ہے کہ نہیں کھانا،تو انہوں نے خود بھی کھایا اورآدم کو بھی کھلا دیا۔اب چونکہ اُس پھل میں اِس دُنیا کی مٹی تھی،تو وہ جو اِس دنیا کی مٹی تھی وہ پیشاب اور ٹوائلٹ کے ذریعے باہر نکلی تو جب وہ باہر نکلی تو پریشان ہو گئے کہ یہ کیا چیز ہے۔اب یہ تو نہیں تھا کہ وہ ابھی پیدا ہوئے تھے،اتنے دن سے رہ رہے تھے کبھی ٹوائلٹ آیا ہوتا پیشاب آیا ہوتا تو ان کو پتا ہوتا ۔جنت میں رہ رہے تھے جو کھانا پینا کرتے تھے وہ سارا انرجی ہوتا تھااور وہ ایکٹیوٹی کے ذریعےانرجی ٹھکانے لگتی رہتی تھی لیکن اب جب اُس درخت کے پھل کو کھا لیا اُس کا بیج اس میں ناسوت کی مٹی تھی اس نے جسم میں ٹھہرنا ہی نہیں تھا۔اب دیکھو نا ہم کو تو پتا ہے کہ چلو بھاگو اب آرہی ہے ٹوائلٹ،لیکن ان کاتو یہ پہلا تجربہ تھا،انکو تو یہی نہیں پتا تھا کہ پیٹ میں گڑ گڑ کیوں ہو رہی ہے،لہذا وہ ٹوائلٹ کی طرف کہاں بھاگتے،وہاں تو ٹوائلٹ بھی نہیں تھا،اب جنت میں ایسا تھوڑی ہے کہ ٹوائلٹ ہوں گے محلات میں،وہاں پرکوئی ٹوائلٹ نہیں ہیں۔تو اب جب آدم ؑ کو حاجت محسوس ہوئی یعنی جب سٹولز نکلے تو انہوں نے اسکو ہاتھ لگا دیااور پریشانی کے عالم میں بغلوں میں ہاتھ پھیر دیا ،کچھ نیچے اعضائے تناسل کے پاس  لگا دیا،کچھ منہ پہ لگا دیااور جہاں جہاں انہوں نےاپنے جسم پر وہ ٹوائلٹ پھیری آپکے لئے وہاں وہاں کے بال کاٹنا ضروری ہو گیا۔
اب یہ دیکھیں آپ کہ بال بغلوں  کے بھی ہوتے ہیں اور داڑھی کے بھی ہوتے ہیں لیکن داڑھی کے بالوں سے بد بو نہیں آتی۔لیکن جہاں جہاں کے بالوں کو کاٹنا ہے وہاں سے بد بو آتی ہے اسکا مطلب ہےوہ گندگی اور غلاظت ہے۔تو اب اگر اللہ تعالی زمین پہ تشریف لے آئیں اور یہاں کا کچھ کھا لیا اُنہوں نے تو اُنکے ساتھ بھی یہ معاملہ ہو گا،اب یہ قانونی بات ہے اب اس کے اوپر آپ فتویٰ لگائیں تو بصد شوق ۔اسی طرح سیدنا گوھر شاہی جب اِس زمین پہ تشریف لائیں ہیں اور یہاں کی چیزوں کو ہاتھ لگایا ہےاورکھایاہے تواس کی وجہ سے رفع حاجت کے لئے بھی گئے ہیں۔
بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں سوالات ہوتے ہیں ،بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جو آدمی کو سمجھ میں نہیں آتی ہیں اورآپ کے سمجھانے سے سمجھ آجائیں تو اس بندےکا آپ پرایمان قائم ہو جاتا ہے۔شروع شروع میں جب ہم سیدنا گوھر شاہی سے ملے تو آپ نے ہم کو وہ چیز دی جس کا نہ ہم نے سنا تھا اور نہ ہم کو پتا تھا کہ دل بھی اللہ اللہ کرتا ہےاورآپ نے ہم کو ذکر دیا اور ہمارا دل اللہ اللہ کرنے لگااس چیز کے بعدسیدنا گوھر شاہی کی ذاتِ اقدس پر ہمارا اندھا یقین قائم ہو گیا،اور پھر جیسے جیسے وقت گزرااور ہم نےتصوف پر تحقیق کی تو پتا چلا کہ جو سیدنا گوھر شاہی نے ہم کو ذکر قلب کی دولت عطا کی ہے اس کے لیئے تو لوگ ترستے رہے ہیں ،بارہ بارہ سال جنگلوں میں انہوں نےچلےاور مجاہدے کئےاسکے باوجود بھی اُن کو یہ چیز عطا نہیں ہوئی جو سیدنا گوھرشاہی نے بغیر تردّد کے،بغیر خواہش کے،بغیر کسی شرط کے ،کوئی خدمت لئے بغیر ،کوئی وعدہ لیئے بغیر سیدنا گوھرشاہی نے ہم کو یہ عطا کر دی۔زکر چل گیا حضور سے محبت کی استدعا کی اگر تو حضور کا دیدار کر ا دیا۔اور تو اور جسم سمیت یہاں پر بھی بیٹھے ہیں اور کعبے میں بھی بیٹھے ہیں حج کا وقت آیا تو کہاحج کے لیئےتمھیں لے چلتے ہیں،آج تک پتا نہیں چلا کہ وہ حج میں نے جسمانی کیا تھا یا روحانی،کیونکہ روحانی حج ہوتا تو آبِ زم زم کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا،وہاں آبِ زم زم بھی پیا،آپ نے حضورؐ کے حجرے میں بٹھا کے کھجوریں کھلائیں وہاں اور وہ حجرہ ویسا ہی تھا جیسا حضور کے دور میں تھا،جب سیدنا گوھر شاہی نے حضور کے حجرے میں بیٹھ کے کھجوریں کھلائیں تو وہاں حضور کے کپڑے بھی ٹنگےہوئے تھے،یہ ان کا کرتا رکھا ہے،یہ عمامہ شریف رکھا ہے،یہ انکے جوتے رکھے ہیں ساری چیزیں دیکھیں،اب تو یقین کہاں جائے گا ،یقین کو تو پر لگ گئے۔
بڑے صوفیوں کی باتیں سنیں،بڑے صوفیوں کی کراماتیں سنیں لیکن ایسا تو نہیں سنا،جوکام کسی ولی نے نہیں کیا،کسی نبی نے نہیں کیا ، وہ کام جب ہم نے دیکھا کہ سیدنا گوھر شاہی نے چٹکی بجانے سے پہلے کر دیا تو ماتھا ٹھنکا کہ یہ کیا رہا ہے جو یہ سب کچھ دان کر رہا ہے یہ فقیر نہیں ہو سکتا ،یہ ولی نہیں ہو سکتا ،نبوت تو ختم ہو چکی ہے اسکا تو سوچنا ہی بے کار ہے،نہ یہ فقیر ہے نہ یہ نبی ہے نہ یہ نبی ہے تو کون ہے یہ پھر؟اسکے بعد جب سیدنا گوھرشاہی نے عرش الہی پہ بٹھایا۔اور جب وہ منظر دیکھا،لعنت اللہ علی الکازبین،کذب کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہو ۔جو دیکھا ہے وہ کہہ رہا ہوں،عرش پہ لے گئےسیدناگوھر شاہی اب جو سامنے سے چلتا ہوا ایک شخص آیا بڑی متکبرانہ چال چلتا ہوا،اور جب وہ قریب آیا،مجھے اتنا یاد ہے کہ سرکار مجھے عرش الہی پر لے گئے اسکے بعد سرکار کہاں گئے یہ نہیں پتا،لیکن جب وہ آیا تو میں اُس کی طرف بڑھا لیکن اس نےاشارہ کیا کہ سامنے ایک کرسی رکھی ہے اُسکی طرف کہ وہاں چلو،وہاں جب مڑ کے دیکھا اور وہاں جانے کے لیئے جب رخ کیا تو دیکھا وہاں جو تخت رکھا ہے اس پرسیدنا گوھر شاہی تشریف فرما ہیں ،فرط جذبات میں آپ کے قدموں پرمیں نے سر رکھ دیا،لیکن محسوس کیا کہ میرے برابر میں بھی کوئی ہے اس نے بھی یہی کیا جو میں نے کیا اور جب یہ دیکھا تو وہ، وہ تھا جس نے قرآن اتارا،بائبل اتاری،جس نے زبور اتاری،جس نے توریت اتاری۔مجھے کس نے کہا کہ سرکار رب الارباب ہیں ،مجھے کسی نے نہیں کہا،یہ جملہ میرا سنو ،

” کہ کائنات میں جس نے مجھے سب سے پہلے بتایا کہ سیدنا گوھر شاہی رب الا رباب ہیں وہ خوداللہ ہے،مجھے اللہ نے کہا کہ یونس !تیرا جو مرشد ہے وہ میرا بھی رب ہے “

اب اگر تم میں ہمت ہے سرکار گو ہر شاہی کے مرتبہ رب الارباب کو جھٹلانے کی تو جھٹلاؤ،میں نے حالات و واقعات بھی بتا دئیے،میں نے تشریح بھی کر دی ہے ،اب آگے آپ کا ایمان ہے آپ کو ماننا ہے تو مانیں میں نے کسی کے ساتھ زبردستی تو نہیں کی ہے۔میں نے اپنامشاہدہ شیئر کیا ہے تاکہ آپ اُس سے فائدہ اٹھا سکیں۔اگر یہ بات جھوٹ ہو تو بہت بڑا گناہ ہے اِس سے بڑا کوئی گناہ ہو ہی نہیں  سکتا،بھئی لوگ فراڈ کرتے ہیں بےایمانی کرتے ہیں،منافقت کرتے ہیں ،شرک کرتے ہیں،یہ سب ایک طرف ہے یہ تو کسی نےنہیں کہاکہ اللہ کو بھی کوئی بنانے والا ہے ،یہ تو بہت بڑا جھوٹ ہو جائے گا۔اگر یہ جھوٹ ہے تو اللہ کا عذاب کیوں نہیں آیا۔اللہ کا عذاب کیوں آئے گا جب یہودیوں نے اللہ سے کہ ہم تو تیرے بیٹے کی امت ہیں تو اللہ نے کہا کہ ان سے یہ کہو یا رسول اللہ ﷺکہ اگر یہ میرے بیٹےکی امت ہیں تو اللہ ان پر عذاب کیوں بھیجتا ہے۔

وَقَالَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّـهِ وَأَحِبَّاؤُهُ ۚ قُلْ فَلِمَ يُعَذِّبُكُم بِذُنُوبِكُم ۖ بَلْ أَنتُم بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۚ وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ
سورۃ المائدہ آیت نمبر 18
اوریہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم الله کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں کہہ دو پھر تمہارے گناہوں کے باعث وہ تمہیں کیوں عذاب دیتا ہے بلکہ تم بھی اور مخلوقات کی طرح ایک آدمی ہو جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے سزا دے اور آسمانوں اور زمین اوران دونوں کے درمیان کی سلطنت الله ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

تو اگر اللہ کے بیٹے کی اُمت پر عذاب نہیں آتا تو اللہ کے باپ کے ماننے والوں پر عذاب کیسے آئے گا۔ورنہ ہم اس دور قیامت کے آخری حصے میں وہ بد ترین انسان ہیں جن میں کوئی وصف نہیں ،کوئی وفا نہیں ،کوئی طہارت ،کوئی پاکیزگی نہیں،کوئی خدمت کا جزبہ نہیں ہمیں کوئی غلامی کا ڈھب نہیں آتا لیکن یہ صرف اور صرف رب الارباب کی نظروں کا کمال ہے کہ پہلے ان کی نظر سے یہ غلیظ سینے االلہ اللہ کے ذکر سے آباد ہو ئے اور پھر ان کی نظروں سے یہ سینے ”راریاض “سے آباداور منورہوئے ،غلاظت کٹتی رہی” راریاض “ چھاتا گیا اندھیرا بڑھتا گیا روشنی اسکو شکست دیتی رہی اور اِس جنگ میں آج تک روشنی کی فتح ہے کیوں کہ وہ روشنی ہماری کمائی ہوئی نہیں ،وہ روشنی نمازوں کا نتیجہ نہیں ،ذکر کا نتیجہ نہیں ،بندگی کا اس میں عمل دخل نہیں وہ روشنی کسی کی نظروں سے پھوٹ رہی ہے اور جو روشنی اُن کی نظروں سے پھوٹ رہی ہے اسکی کوئی انتہا نہیں ہے،لاانتہا تصرف والی آنکھوں سے یہ روشنی پھوٹ رہی ہے اس لئے اِس روشنی کو کبھی شکست نہیں ہو گی۔ کسی گناہ کا، کسی بد عملی کا اندھیرا کبھی بھی اتنا نہیں بڑھ پائے گا کہ یہ روشنی اسکے آگے ماند پڑےجائے۔
بہت سے لوگ روحانیت کے نام پر مذہب کے نام پہ بے سروپا باتیں کرتے ہیں لیکن ان کامسئلہ یہ ہے کہ نہ اُنکے پاس علم ہے نہ انکے پاس دلیل ہے اور نہ اُنکے پاس فیض ہے۔علم اور فیض یہ دونوں چیزیں جب مل جائیں تو برھان بن جاتی ہیں اگر آپ کے پاس صرف علم ہی ہے اور فیض نہیں ہے تو وہ بے کار ہے،فیض ہے اور علم نہیں ہے تو وہ آپ کے لئے تو ٹھیک ہے لیکن دوسروں کے لیئے مفید نہیں ہے۔یہاں جب ہم بات کرتے ہیں کہ سیدنا گوھرشاہی امام مہدی ہیں،رب الارباب ہیں تو ایسا نہیں ہوتا ہے کہ ہم صرف باتیں کریں،ہم دلائل بھی دیتے ہیں اور فیض بھی یہاں موجود ہے،اور دوسرا یہ کہ اللہ کے حوالے سے،قرآن کے حوالے سے کوئی بات پوچھنا چاہے تو وہ پوچھےاور جب وہ یہ جان لے کہ قرآن کا علم جویہاں سے ملتا ہے وہ کہیں سے نہیں ملا تو وہ یہ سمجھ لے کہ اب یہ پورا قرآن سمجھ کے اللہ تک پہنچانے کی صلاحیت رکھنے کے بعد یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی اور بھی ذات ہے تو سچ ہو گا۔کیونکہ بے سروپا باتیں کرنے والے لوگ ہیں ان کی باتوں میں ایک تو حق کو جھٹلانے کی بات ہوتی ہے اور ایک من گھڑت حق جو انہوں نے بنا رکھا ہے اسکو تسلیم کروانے میں وہ کوشاں رہتے ہیں۔لیکن ہم نےکسی کو جھٹلایا نہیں ہے ،جو حق ہے اسکو تسلیم کرتے ہیں جو اس کائنات کا بنانے والا اللہ ہے یہ بات نہ صرف تسلیم کرتے ہیں بلکہ لوگوں پر اجاگر کرتے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ سرکار گوھر شاہی رب الارباب ہیں اور لوگوں کو یہ کہتے ہیں کہ اگر تمہیں اللہ تک پہنچنا ہے تو اسکا طریقہ بھی ہے ہمارے پاس۔اسمیں بھی ہم مددگار ہیں تم وہ طریقہ اختیار کر لو اور اگر تم نے یہ راستہ اختیار کرنا ہے تو اسکی بھی تعلیم ہے ہمارے پاس یہ ایک حقیقت ہے یہ ایک سچ ہے۔اب آپ اس کے اوپر غور فرمائیں۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں