کیٹیگری: مضامین

انبیاء کرام کے کچھ افعال حکمت کے تحت تھے:

یہ انکے لیے مفصل جواب ہے جولوگ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ایسا کیوں ہےکہ سیدنا گوھر شاہی نے رب الارباب ہو کر یہاں اس دنیا میں شریعت کی پاسداری کیوں کی ۔بہت سارے کام انبیاء کرام نے کیے اور انکے عام امتیوں نے بھی کیے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام انسان کوئی مذہب اختیار کرتا ہے یا تو اللہ کو پانے یا جنت کو پانے کے لیے یا عام انسان عبادت کرتا ہے تو جنت یا اللہ کو پانے کے لیے، استغفار کرتا ہےتو اپنے گناہوں کی معافی کے لیے لیکن نبی تو اللہ سے واصل ہوتے ہیں ،اللہ سے انکا تعلق جڑا ہوتا ہے تب ہی تو وہ نبی ہوتے ہیں تو پھر وہ یہ سب اعمال کیوں کرتے ہیں ؟ جو شریعت وہ خود بناتے ہیں اس پر وہ خود بھی عمل کیوں کرتے ہیں ؟ یقینا کسی بھی مذہب کو بنانے والا کوئی بھی مرسل اس لیے توعبادت نہیں کرتا ہے کہ اُس کو اللہ مل جائے کیونکہ اللہ تو اسے ملا ہوا ہے اور پھرستر دفعہ استغفار بھی اس لیے نہیں کرتا کہ گناہوں کی معافی ہوجائے کیونکہ نبی تو معصوم ہوتا ہے نبی کے تو کوئی گناہ نہیں ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی انبیاء کرام نے شریعت کا پاس بھی کیا ،عبادتیں بھی کی ہیں ، نمازیں بھی پڑھی ہیں اورروزے بھی رکھے۔ قرآن کہتا ہے

يأَيُّهاَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَيْکُمُ الصِّيَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ
سورۃ البقرۃ آیت نمبر 183
ترجمہ : اے مومنو! ہم نے تم ہر روزے فرض کیے اور اس سے پہلی امتوں پر بھی فرض کیے تاکہ تم پاک ہو جاؤ۔

حضور ؐکے بارے میں کیا خیال ہے؟ ہم تو ناپاک ہیں ہم سے اللہ روزے اس لیے رکھوا رہا ہے تاکہ ہم پاک ہو جائیں لیکن حضور پاک نے روزے کیوں رکھے اور ہم سے زیادہ رکھے؟ اتنی کثرت سے روزے رکھے ہیں کہ جب چند صحابہ کرام نے آپ کو دیکھتے ہوئے روزے کثرت سے رکھنے شروع کر دئیے تو آپ نے انہیں منع کردیا کہ میرے بہت سے کام ایسے ہیں جو تم نہیں کرسکتے ۔مجھے تو میرا رب کھلاتا پلاتا ہے۔ ایک بات تو واضح طور پر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارا روزہ رکھنا کسی اور مقصد کے لئے ہےاور وہ مقصد قرآن میں آگیا کہ ہم متقی ، پاک ہو جائیں ۔معاذ اللہ! ایسا تصور ہم حضور پاکﷺ کے لیے نہیں کر سکتے تو پھر آپؐ کے روزہ رکھنے کی وجہ کوئی اور ہی ہو گی۔۔۔۔ اَلصّلوٰۃُ مِعْرَاجُ الْمُوْمنیْن ۔۔۔۔۔ نماز مومن کی معراج ہے۔اور آپ تو جسم سمیت نماز سے پہلے معراج پر گئے تھے، آپ کو نماز کی کیا ضرورت ہے؟ کسی اور مقصد کے لیے پڑھتے ہونگے۔اِن ہستیوں کے افعال کے پیچھے نیت کونسی کار فرما ہے یہ جاننا بڑا ضروری ہے۔۔۔إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ۔۔۔۔۔ہر عمل کا دارو مدار نیت پر ہے۔نیت کیسی ہے اور عمل کیا ہے، اب انسانوں کی عزت کو لیں تو کچھ انسان دوسرے انسانوں کی عزت ان کے پیسے کی وجہ سے کرتے ہیں ، اگر یہ کہا جائے یہ انسانوں کی عزت کر رہے ہیں تو بات تو یہ صحیح ہے لیکن سارے ہی انسانوں کی عزت وہ نہیں کرتے صرف انہی کی کرتے ہیں جنکے پاس پیسہ ہے تو نیت پیسہ ہو گیا۔کچھ انسان اپنے مرشد کی بہت عزت کرتے ہیں باقی کسی اور ولی کی عزت نہیں کرتے اس کا مطلب یہ ہو گیا کہ وہ ولیوں کی عزت کرنے والے نہیں ہیں صرف اپنے مرشد کی عزت کرتے ہیں ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ خود زندیق ہے یا اسکا مرشد زندیق ہے کیونکہ اگر اسکا مرشد ولی ہوتا توپھر اسکا مرید سارے ولیوں کی عزت کرتا ۔لاکھوں سالوں سے یہ دنیا آباد ہے ،جس آدم کا ذکر قرآن شریف میں آیا ہے یہ آخری آدم ہے اِس آدم صفی اللہ کی تاریخ زیادہ سے زیادہ ساڑھے چھ ہزار سال پرانی ہے اور ہم کہتے ہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے اگر ساڑھے چھ ہزار سالوں میں روزآنہ ایک پیغمبر بھی آتا تو کتنے پیغمبر یہاں آتے؟یہ کل ٹوٹل تعداد ہے اِن میں سے اللہ تعالی نے مختلف اقسام کے چودہ ہزار آدم بھیجے ہیں اور آخری آدم صفی اللہ جو بھیجے ہیں ان کا ذکر قرآن میں ہے۔

اللہ نے بھی کچھ کام ایسے کئے ہیں جو انسانی عقل سے ماورا ہے :

یہ جوعیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہا گیا یہ کہانی عیسی علیہ السلام سے شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔تمام آدموں کو اسی دنیا میں یہیں کی مٹی سے بنایا گیا اور آخری جو آدم صفی اللہ ہیں اس کو جنت میں جنت کی مٹی سے بنایا اور پھر نیچے پھینکا گیا۔ جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ یہ آدم یہاں کا نہیں ہے اوپر سے آیا ہے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا یا تو یہ اللہ کا بیٹا ہے یا فرشتوں کی اولاد ہے کیونکہ یہ آسمانوں سے آیا ہے۔ یہیں سے ہندوؤں میں دیوی اور دیوتا کی کہانی شروع ہوگئی ، آدم صفی اللہ کے بعد جو دوسرا پیغمبر ابراہیم خلیل اللہ آیا ان کے ماننے والوں میں بھی یہ چیز پیدا ہوگئی۔ابراہیم علیہ السلام کی بیوی سائرہ بانجھ تھیں ،اللہ کے یہاں پریشان کن نکتہ یہ پیدا ہو گیا کہ جب آدم صفی اللہ کو جنت میں بنا یا تو انہوں نے کہا یہ اللہ کی اولاد ، اللہ کا بیٹا ہے۔ اگر کوئی کرشمہ /چمتکار دکھا کر ابراہیم علیہ السلام کی بانجھ بیوی کی کوئی اولاد پیدا ہو گئی تو اُس کو بھی لوگ اللہ کا بیٹا کہنا شروع کر دیں گے لہذا اسکا دوسرا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے کہا کہ تم کوئی کنیز بنا لو تو انکی بیوی نے کہا یہ انتخاب میں کروں گی ، اپنی دانست میں کالی کلوٹی کنیز ڈھونڈ لی انکا نام بی بی ہاجرہ تھا ان سے بیٹا ہوگیا۔وہ بیٹا جس کا نام اسمعیل علیہ السلام تھا اُس بیٹے ہونے کے تھوڑے ہی عرصے بعد اللہ تعالی نے کہا بی بی حاجرہ اور اسمعیل علیہ السلام کو مکہ چھوڑ کر آ جاؤ۔ وہ چھوڑ کر آ گئے اور پھر وہی حال پھر کوئی اولاد نہیں ، اب جو ہے جبرائیل علیہ السلام بی بی سائرہ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور وہاں سے چمتکار ہوتا ہے اور وہاں سے ایک بچے کا جنم ہوتا ہے اس بچے کا نام اسحاق رکھتے ہیں۔ اس کے بعد وہاں پر انبیاء کی لائن لگ جاتی ہے بے شمار انبیاء آتے ہیں ۔ اسحاق کا باپ کون ہے ،اس کی ماں کون ہے یہ ہی کہتے ہیں لیکن ماں بانجھ ہے اسکا خون تو نہیں ہے ان میں پھر بھی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ سائرہ کے بیٹے ہیں ۔ پھر اسحاق علیہ السلام کی اولاد سے عزیرعلیہ السلام آئے انکے بارے میں بھی یہودیوں کا یہی عقیدہ تھا کہ یہ اللہ کے بیٹے ہیں ۔ انہی میں تین پیغمبر ایسے بھی آگئے جیسا کہ ادریس علیہ السلام ، الیاس علیہ السلام ، عیسی علیہ السلام ۔ جو انسانی روپ میں آئے اسکے باوجود انسانوں جیسی ان میں کوئی کمزوری کوئی خامی نہیں تھی۔ لکھنے پڑھنے کا کام انسانوں کو ادریس علیہ السلام نے سکھایا۔آپ نے قرآن میں سورہ آل عمران پڑھی ہو گی یہ عمران کون تھے؟ یہ بی بی مریم کے والد صاحب کا نام ہے یہ بھی نبی تھے ، جب بی بی مریم کی باری آئی تو جبرائیل نے اُن کو بشارت دی کے آپ کے یہاں نبی پیدا ہونے والا ہے تو انہوں نے کہا مجھے تو آج تک کسی مرد نے چھوا ہی نہیں تو اولاد کیسے ہو گی! تو جبرائیل نے کہا اللہ جب کچھ چاہتا ہے تو کہتا ہے ” کن” تو وہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے عیسیٰ کو بھی اللہ کا بیٹا کہا گیا لیکن قرآن کہتا ہے اللہ کا کوئی بیٹا نہیں ہے ۔لوگ بھی کہتے ہیں کہ ظاہری طور پر عیسی علیہ السلام کا کوئی باپ نہیں ہے۔ لوگوں کے پاس یہ ثبوت ہے کہ کسی انسان نے ان کو ہاتھ نہیں لگایا اسی لیے انسان یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ انسان کی اولاد ہے اور اللہ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ یہ اللہ کی اولاد ہے ، اب کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے!
آج دنیا میں ایک بہت بڑی تعداد عیسی علیہ السلام کے ماننے والوں کی ہے عیسائیوں کے جتنے بھی فرقے دنیا میں ہیں ان سب کا یہی ماننا ہے کہ عیسی علیہ السلام کو صلیب پرچڑھایا گیا وہاں انکی موت واقع ہو گئی جس قبر میں انہیں دفنایا گیا تھا پھر وہ تیسرے دن وہاں سے کھڑے ہو گئے اور اب وہ دائمی طور پرزندہ ہیں ۔ قرآن یہ کہتا ہے

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا
سورۃ النساء آیت نمبر 157

وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ۔۔۔۔نہ انکو قتل کیا گیا نہ ان کو صلیب پر چڑھایا گیا۔۔۔ بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ۔۔۔۔بلکہ اللہ نے انکو اپنی طرف اٹھا لیا۔لوگوں نے یہ سب دیکھا اور یہی مانتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام مصلوب کیے گئے ہیں، کراس لیے پھرتے ہیں یہ بات عیسائی عقیدے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ عیسائی یہ بھی کہتے ہیں کہ جتنے بھی عیسائی ہیں ان سب کے جتنے بھی گناہ ہیں وہ گناہ دھل چکے ہیں، کرتے جاؤ دھل جائیں گے کیونکہ عیسی علیہ السلام نے ایک ہی وقت میں صلیب پرچڑھ کر جان دی اس لیے اس کے بدلے میں اللہ نے اُن کی امت کے سب گناہ بخش دئیے اگر عیسائی یہ عقیدہ چھوڑ دیں تو دوبارہ سب گناہ گار ہو جائیں گے۔لیکن قرآن شریف کہتا ہے ایسا ہوا ہی نہیں تو اس کا مطلب کچھ ہے جسکی پردہ داری ہے۔ کیا عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں یا نہیں ،انسان کے تو نہیں ہیں ! اب اللہ کے ہیں یا نہیں یہ تو اللہ میاں ہی بتا سکتے ہیں لیکن انہوں نے تو کہہ دیا میرا کوئی بیٹا ہے ہی نہیں ۔
اب نہ وہ اللہ کے بیٹے نہ انسان کے بیٹے تو پھر وہ آئےکہاں سے ہیں ؟ انسان ان کو انسان کی اولاد نہیں مانتا اللہ ان کو اللہ کی اولاد نہیں مانتا تو پھر وہ کون ہیں ؟سچا کون ہے جھوٹا کون ہے؟ یہ ہمارے دوست سمجھنا چاہتے ہیں ۔ سمجھو! انسان اس بات کو نہیں مانتا کہ عیسیٰ انسان کی اولاد ہیں ۔اور اللہ نہیں مانتے کہ عیسیٰ اللہ کی اولاد ہیں ۔ہم نے بھی جاننے کی کوشش کی تو اللہ کے پاس سےیہ جملہ آ گیا کہ جب وہ کچھ کرنا چاہتا ہے تو کہتا ہے “کن ” یعنی ہو جا تو وہ ہو جاتا ہے ، اب اس ہونے کے اور معاملات بھی تو بتائیں کہ کیسے ہوا؟ طریقہ کار تو بتائیں ، لیکن اللہ میاں طریقہ کار نہیں بتاتے۔
آپ جانتے ہیں کہ شیر بلی کے خاندان سے آیا ہے اسی لیے بلی کو شیر کی خالہ کہتے ہیں اور بلی نے بھی شیر کو سارے گُر سکھادئیےلیکن درخت پرچڑھ ے والا گُر شیر کو نہیں سکھایا ، کیونکہ جب شیر کا میٹر گھومتا ہے تو بلی درخت پر چڑھ جاتی ہے ، بلی نے کہا اگر میں تجھے درخت پر چڑھنا بھی سکھا دونگی تو خالہ کس بات کی ہوئی ، تو درخت پھر چڑھ کرمجھے چیر پھاڑ دے گا۔ یہ ہی ہے!عیسی علیہ السلام مٹی میں پانی ملا کر گوندھتے اور اس مٹی کے کبوتر بنا کر ان میں پھونک مارتے تو وہ زندہ ہو کر اڑ جاتے کیا یہ نبوت کا اعجاز ہے؟ کیا کسی نبی نے ایسا کیا ؟ نہیں کیا! لیکن عیسی علیہ السلام نے تو یہ کیا۔
کوئی پیغمبر آسمانوں پر مستقل رہنے کے لیے نہیں گیا، لیکن عیسی علیہ السلام تو چلے گئے ، ادریس علیہ السلام بھی چلے گئے اور ابھی تک وہیں پر رہتے ہیں ۔اب اگر عیسی علیہ السلام سے کوئی حقیقت پوچھیں تو وہ یہ دیکھتے ہیں کہ سوال کرنے والے بندے کی رسائی کہاں تک ہے ، اگر وہ عام سا بندہ ہے تو اُس کو کہہ دیں گے کہ بھئی ٹھیک ہے میں اللہ کا نبی ہوں ،جو پہلے سے واقفِ راز نہیں ہے اس کو وہی کہانی سنائیں گے جو اللہ نے ان سے وعدے کیے ہوئے ہیں اور جن کو کہانی معلوم ہے وہ جانتے ہیں تو وہ اگر کہہ دیں کہ نہ آپ اللہ کے بیٹے ہیں نہ آپ کی حقیقت یہ ہے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں آپ کی حقیقت کچھ اور ہی ہے تو یہ بات سن کر بھی وہ خاموش رہتے، وہ زمین پر آئے،زمین پر ان کی نبوت کا عرصہ تینتیس مہینے چلا، پھر وہ چلے گئے۔

سیدنا گوھر شاہی کے بھید سے کوئی واقفِ راز نہیں تھا:

1985میں ہمارا سرکار گوھر شاہی سے تعلق قائم ہوا اور روحانیت کے مدارج طے ہوتے گئے،جب 1998آیا تو 12ستمبر کو سرکار نے فرمایا ” تم فنا فی الشیخ ہو” سرکار کی آوز اندر سے آنا شروع ہوگئی ، جس دن باضابطہ طور پریہ فرما دیا تو اس کے بعد تھوڑی تھوڑی آگاہی اِدھر اُدھر سے بھی آنے لگی، اب چونکہ وہ تعلیم پوری ہو چکی تھی ،باطنی آنکھ بھی کھل چکی تھی ، سوالوں کے انبار جو لگے ہوئے تھے لہذا باطن میں جو بھی نظر آتا اس کو پکڑ کر بیٹھ جاتے کہ یہ بتاؤ ۔آدم صفی اللہ سے لے کر محمد رسول اللہ تک سب سے پوچھا کہ سرکار گوھر شاہی کے بارے میں کچھ بتائیں ، سب نے یہی کہا کہ “گوھر شاہی کا بھید کوئی نہیں جانتا”۔
پھر 12ستمبر 1998 کے پورے ایک سال ایک مہینے بعد یعنی 8 نومبر 1999 کو اپنے گھر پر بیٹھا ہوں ، keyboard کی بورڈ بجا کر “یا گوھر ” کے ذکر کی دھن بنانے میں مگن تھا ڈیڑھ دو گھنٹےبعد جب تھک گیا تو کی بورڈ سائیڈ پر کر کے لائٹ بند کر کے بیٹھ گیا یہ رات کے آخری پہر کا سناٹا تھا۔حساس سوال کا انتہائی مختصر جواب نہیں دیا جا سکتا پوری کہانی سنانا پڑتی ہے تاکہ بات سمجھ آ سکے۔
تو اُس سناٹےمیں آواز گونجی (یونس) ۔۔۔۔(یونس)۔۔۔۔(یونس) تو میں نے اِدھر اُدھر دیکھا تو کوئی نظر نہیں آیا لیکن آواز آتی رہی، میں نے پوچھا کون ہو ، جواب آیا کہ “میں اللہ ہوں” ۔ جواب کسی اور طریقے سے آیا تھا لیکن میں اسے مختصر کر کے بتا رہا ہوں ، اصل جواب یہ تھا ” میں وہی ہوں جس کو تو مانتا نہیں ہے” ۔اُس کے بعد آواز جس کی تھی اس نے تمہید نہیں باندھی یعنی جو بات کرنا تھی وہ کہی کہ “آج ہم تم سے تمہارے مرشد کے بارے میں کچھ باتیں کریں گے یہ سن کر کان کھڑے ہو گئے، دل میں شکوک و شبہات تھے کہ آواز نے کہا میں اللہ ہوں لیکن یہ دھوکہ بھی تو ہو سکتا ہے ، لیکن میں اِسے دھوکہ اس لیے نہیں کہہ سکتا تھا کہ جو الفاظ اسکے میرے کان میں آ رہے تھے وہی الفاظ نور کی صورت مجھے اپنے قلب پر لکھے ہوئےنظر آتے پھر وہ تحریر میرے دل سے چلتی ہوئی میرے منہ تک آتی اور میرے منہ سے وہ الفاظ نکلتے یعنی جو کچھ میں سنتا اور دیکھتا تھا وہی بات میں اپنے منہ سے کہتا ، یعنی ہو یہ رہا تھا کہ جو بات میں سوچتا ، دیکھتا وہی بات میں کہتا بھی تھا ۔ میرے جسم کا رواں رواں کھڑا تھا ۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا

” میرا ایک ظاہر ہے اور میرا ایک باطن ہے ،محمد ﷺمیرے ظاہر کا عکس ہے اور جو تمہارا مرشد ہے اسکا ظاہر میرے باطن کا عکس ہے”۔پھر اللہ نے کہا “جو تمہارا مرشد ہے وہ میرا بھی رب ہے”

سرکار گوھر شاہی کے رب الارباب ہونے کا پہلا اعلان اللہ کی طرف سے ہوا :

اگر کسی کو ہماری اللہ سے ملاقات پر شک ہے تو اس کا ثبوت یہ ہے کہ کسی مردہ قلب کو ہمارے پاس لے آؤ ،کسی ازلی جہنمی کو لے آؤ بغیر کسی شرط کے اگر اس میں اسم ذات اللہ کی شرط پیدا نہ ہو تو گردن اڑا دو۔اس کے بعد جو باتیں ہوئیں وہ باتیں میں جانتا ہوں لیکن وہ باتیں بتا نہیں سکتا ، کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو بتا دی جائیں اور آپ کی سمجھ میں نہ آئیں تو خیر ہے لیکن کچھ ایسی بھی باتیں ہیں جو بتا دی جائیں تو خیر نہیں ہے ۔ جیسا کہ یہ بات کہ آپ کو نہیں پتا آپ کون ہیں اور آپ کو نہیں پتا کہ میں کون ہوں لیکن مجھے یہ بھی پتا ہے کہ آپ کون ہیں مجھے یہ بھی پتا ہے کہ میں کون ہوں !۔ اور وہ باتیں اتنی سنجیدہ ہیں کہ انکا مزا ، انکی حرمت اسی میں ہے کہ نہ سنا کرے کوئی ، اگر وہ راز جاننا ہے تو یوں سمجھ لو کہ جس کے سامنے بیٹھے ہو بس اسی کے ساتھ بیٹھے رہو تو گویا سارے راز پا لئے ۔جب رب کسی کے ہاتھ میں طاقت دے دیتا ہے تو ایک لفظ بھی کہہ دیتا ہے کہ” یہ لے یہ خدائی تیری ہے اب چیلینج ہے تجھے اب انسان بن کر رہتا ہے یا نہیں “۔یہ خدائی تیری ہے لیکن اب میرا بھرم رکھنا ،خدا میں ہوں ، زمین پر خدا بن کر مت رہنا ، کوشش کرنا کہ اس خدائی کی طاقت کو ہاتھ میں پکڑ کر ضعیفوں کی طرح چلنا ، یتیموں کے طرح پھٹے پرانے کپڑوں میں رہنا، دعائیں مانگا کرنا بلک بلک کر گڑگڑا گڑگڑا کر انسانوں کی محتاجگی اختیار کرنا کہ کسی کے ٹکڑوں پر تو پلتا ہے اور یہ جو خدائی کی طاقت ہے یہ روح کو منور کرنے کے لیے شمع جلا کر رکھنا۔ اگر کوئی تجھ سے جھوٹ بول دے تو یہ نہ کہنا مجھے پتا ہے تو جھوٹ بول رہا ہے ، مان لینا!کیونکہ تو نے کسی سے جھوٹ بولا اور اس نے مان کر وہی کیا تو اسکا کوئی قصور نہیں ، جھوٹ بولنے والے کا ہے۔جیسا میں تم سے اللہ اور اللہ کے رسول کا، سرکار کا نام لے کر جھوٹ بول دوں اور تم اس پر عمل کر لو تو تم بری الذمہ ہو تو گردن میری کٹے گی کیونکہ تم تو میرے جھوٹ پر عمل کر رہے ہو ۔یہ رب کا راز ہے ، اگر کوئی رب کا نام لے کر تم سے جھوٹ بولتا ہے تو بحث مت کر مان لے ،اگر تو مان لے گا تو اس میں جھوٹ بولنے والے کا نقصان ہے وہ سمجھتا ہے وہ جیت گیا ، چالاک بنتا ہے ، لیکن تو سر کو جھکا دے جب بھی وہ آئے تیرے پاس اور جھوٹ کہے کہ ایسا ہے تو بظاہر یہ تیری موت ہے لیکن درحقیقت یہ جھوٹ بولنے والے کی موت ہے۔
عالم غیب ۔۔ امرکن۔۔ نبوت کا راز۔۔ ولایت کا راز۔۔ مقام وصل کا راز۔۔ الوہیت کا راز۔۔ یہ سارے راز اس گفتگو میں کھول دیےگئے۔ پینتیس منٹ تک ہونے والی اس گفتگو کو میں نے سرکار کے علم کی روشنی میں پرکھ لیا کئی مرتبہ خیال آیا کہیں یہ دھوکہ نہ ہو پھرجب اپنے معیار کے مطابق پرکھ لیا اور تمام ثوابت مل گئے کہ یہ دھوکہ نہیں ہے لیکن اب ضرورت اس بات کی تھی کہ سرکارگوھر شاہی کی بارگاہ میں اس گفتگو کو پیش کیا جائے کہ سرکار کیا فرمائیں گے ، تو میں نےاس گفتگو کے فورا بعد ہی سرکار کو فون کر دیا کہ رات کو گفتگو ہوئی ہے، سرکار اگوھر شاہی ُس وقت ورجینیا امریکہ میں قیام پذیر تھے سرکار نے فورا فرمایا ہاں معلوم ہے، فون پر نہیں تم یہاں آ جاؤ یہاں بات کریں گے، پھر وہ لمحہ ہی ایسا تھا میں نے کہا سرکار آپ کا جشن ریاض بھی آ رہا ہے 25 نومبر کی خوشیاں منانے کے لیےگھر والوں کو بھی لے آؤں ، فرمایا ہاں ٹھیک ہے آجاؤ ۔ پھر پوچھا کے یار دوست اور دوسرے شہروں والے بھی آنا چاہتے ہیں تو فرمایا ہاں سب آ جائیں ، پورا انگلینڈ اٹھ کر آ جائے لیکن اُن سب کو واپس بھیجنا بھی تیری ذمہ داری ہے۔
ہم ٹکٹ بنا کر پہنچ گئے، سرکار اسوقت اپنے بیڈ پر آرام فرما رہے ہیں اور میں اکیلا جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا سرکار نے فورا پوچھا ہاں بھئی بتاؤ کیا بات ہوئی ہے نہ میں نے لندن سے فون پر کچھ کہنے نہیں دیا نہ ہی پہنچ کر ابھی میں نےکچھ کہا ہے اور سرکار نے پہلے ہی فرمایا ہاں بھئی بتاؤ کیا بات ہوئی ہے۔(ذرا نوٹ کریں یہ گفتگو ہوئی 8 نومبر 1999 کو ہوئی ہے اور وہاں پر کسی کا پیغام آتا ہے اور سرکار کسی کو کہتے ہیں ہماری طرف سے اُس میٹنگ میں یونس بھی ہوگا اور وہ میٹنگ ہو رہی ہے عالم احدیت میں ۔ مزا ہے نا اب یہ گفتگو یو ٹیوب پر جائے اور کوئی جھٹلانے والا سامنے آئے ، کوئی اہل علم ، کوئی اہل نظر، کوئی اہل فقر، کوئی ولی معظم اپنی طاقت کا گھمنڈ لے کر آئے، کوئی دیدار الہی والا کوئی قلندر آئے ، پھراسکو دیکھیں کتنی طاقت رکھتا ہے، مزا تو تب ہی ہے!)سرکار بیڈ پر نیم دراز ہیں اور اپنے ہونٹوں کوشہادت کی انگلی سے تھپتھپا رہے ہیں اور گفتگو ہو رہی ہے، جب میں نے یہ کہا کہ “اس نے کہا ہے جو تیرا مرشد ہے وہ میرا بھی رب ہے “جیسے ہی میں نے یہ الفاظ ادا کئے سرکار فورا اٹھ کر بیٹھ گئے اور انتہائی برجستگی سے فرمایا اس نے یہ بتا دیا تمہیں ، میں نے عرض کیا جی سرکار، فرمایا یہی لفظ کہے میرا بھی رب ہے، میں نے کہا جی سرکار یہی لفظ کہے،سرکار نے فرمایا اچھا پھر دوبارہ سے بتاؤ، اور ایک موٹا سا قطرہ سرکار کی آنکھوں میں آگیا اور سرکار نے فرمایا ” اگر تو یہ بات ذاکرین کو جا کر بتائے گا تو وہ تجھے پتھر مار مار کر سنگسار کر دیں گے”۔ لیکن پھر فرمایا اب یہ بات اس نے بتائی ہے تو دیکھنا وہ آگے جا کر کیا کہتا ہے، وہ بتانا ۔
اب یہ بات ہو گئی اور اس گفتگو میں کچھ باتیں ایسی تھیں جو مجھے سمجھ میں نہیں آئیں ، کہ وہ روشنی آتی ہے تو اندھیرا بھاگ جاتا ہے ، بہت اندھیرا ہو گیا تھا تو ہم نے روشنی بھیج دی ، روشنی کا ارتکاز کم ہو گیا تھا ،پھر ہم نے اور روشنی بھیجی تو یہ ہو گیا، پھر ہم نے روشنیوں کے فوارے چلائے ، لیکن اندھیرا بڑھتا چلا گیا ۔سرکار کی بارگاہ میں عرض کی کہ اس کا کیا مطلب ہے تو سرکار نے فرمایا، اس میں نبوت کا تجلی کا ذکر ہے، پھر عالم غیب کے حوالے سے گفتگو ہوئی اور 15نومبر 1999کو ورجینیا میں سرکار نے فرمایا عالم غیب میں اللہ کی برادری رہتی ہے۔ تو میں نے عرض کیا سرکار اللہ کی برادری سے کیا مراد ہے کون ہے وہاں ؟ فرمایا جیسے اللہ ہے اسی طرح اور اللہ بھی وہاں رہتے ہیں ، میں نے کہا سرکار کیا غوث پاک بھی ان ہی میں سے ہیں تو کہا نہیں ، وہ غوث پاک ہیں یہ اللہ کی برادری ہے۔ اس کے بعد گفتگو کا سلسلہ ختم ہو گیا۔کیسی عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو اللہ سے گفتگو کا آغاز ہو گیا اور اسی مہینے میں سرکار نے فرمایا،

“ہمارے درخت جوان ہو گئے ہیں اب اُن کو آبیاری کی ضرورت نہیں ہے ، ہم نے ایک کتاب لکھ دی ہے، اب ہم کسی سے نہیں ملیں گے ہم صرف تم سے ملیں گے جس نے گوھر شاہی سے ملنا ہو وہ تم سے آ کر مل لے گا، جس نے تم سے نہیں ملنا ہم اُس سے نہیں ملیں گے”

اب سرکار نے یہ گفتگو بھی فرما دی پھر اس کے بعد دوبارہ یہ گفتگو تفصیل سے فروری 2000 کو چھڑی جب سرکار انگلینڈ میں تشریف لائے ، پھر دوبارہ سرکار امریکہ تشریف لے گئے اور یہ گفتگو ایک مرتبہ پھر امریکہ میں ہوئی ، پھر عالم غیب کی اس گفتگو کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔ 2001 مئی کے مہینے میں سرکار واشنگٹن اسٹیٹ میں تشریف لے گئے جس کا شہر سیاٹل ہے وہاں کینیڈین باڈر کے پاس ایک مقام ہے Bellingham وہاں سرکار نے ایک ہفتہ قیام فرمایا ، اس ایک ہفتہ میں کیا ہوا کہ جو عام مسلمان سکھ ہندو ملنے آئے ان سب کے سامنے سرکار نے عالم غیب کی گفتگو شروع کی کہ وہاں اللہ کی ساڑھے تین کروڑ برادری رہتی ہے اور تفصیلات آگے سے آگے مزید بڑھیں ، جب وہ گفتگو ہو گئی تو شام کو فرمایا میرا دل بیلنگھم میں نہیں لگ رہا تو تم ایسا کرو ایک seven star hotel HAYAT regency میں کمرہ نمبر 5015 بک کروا دو ، میں نے کہا سرکار یہی کمرہ نمبر کیوں ،وہ تو اپنی مرضی سے کمرہ دیں گے تو سرکار نے فرمایا نہیں تم انکو جا کر یہ ہی کہنا 5015 ۔تو میں سیاٹل چلا گیا اور بار بار مجھے یہی خیال آتا رہا پہلے کمرہ چیک کر لوں تو میں پانچویں فلور پر کمرہ نمبر 5015 پر پہنچ گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے ایک لمبا تڑنگا بندہ نکلا اس سے میں نے پوچھا who are you? تم کون ہو بھائی ، تو اس نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو ، میں نے کہا میں یونس ہوں ، تو وہ اردو میں بولنا شروع ہو گیا ، کہ یہ پھول ہے یہ پانی ہے اور یہ پیسے لو ،میرے ہاتھ میں دو ڈھائی ہزار ڈالر رکھدئیے، میں نے کہا تم کون ہو تو اس نے کہا میں الیاس ہوں، جب کمرہ ہو گیا تو وہ وہاں سے چلا گیا ، ایک سیکنڈ ہی گزرا ہوگا میں باہر نکلا کے پوچھوں کہاں جا رہے ہو تو وہ غائب ہو گیا۔بعد میں ایک مرتبہ پھر ملاقات ہوئی، اس وقت بڑی بھوک لگی ہوئی تھی کھانے کو کچھ تھا نہیں تو کسی نے کہا Vancouver میں سکھوں کے بڑے اچھے ہوٹل ہیں تو ہم گاڑی میں وہاں گئے جب بارڈر پر پہنچے تو اتنے پیسے تو تھے نہیں تو وہی بندہ وہاں کھڑا ہوا ملا اس نے ہاتھ میں پانچ سو ڈالر رکھے کہ امیگریشن پر یہی کہنا کہ شاپنگ کرنے جا رہے ہیں اور کچھ مت کہنا ، ہم نے یہی کہا تو وہاں سے کسی اور کو تو وہ جانے نہیں دے رہے تھے ہم کو جانے دے دیا ۔

سرکار گوھر شاہی نے ولی کا بھیس بھر کر ہمارا راستہ آسان کیا ہے:

یہ ساری گفتگو جو ہے ، میرا یہ دعوی ہے کہ اللہ سے جو گفتگو ہوئی اس میں اللہ نے کہا کہ “تمہارا مرشد میرا بھی رب ہے “، اب زمین پر آ کر سرکار گوھر شاہی نماز پڑھتے ہیں تو ہمارا راستہ آسان کیا ، روزے رکھے ہیں تو ہمارا راستہ آسان کیا، دعا میں ہاتھ اٹھائے ہیں تو ہمارا راستہ آسان کیا، اگر سرکار گوھر شاہی یہ سب کچھ نہ کرتے تو ہمارا یہ یقین کبھی بھی قائم نہیں ہوتا کہ سرکار گوھر شاہی اللہ کے دوست ، اللہ کے ولی اللہ کے فقیر ہیں ۔

“ہمارے سینوں میں نور نہیں تھا، ہمارے ذہنوں کو مطمئن کرنے کے لیے سرکار گوھر شاہی نے جو بھیس اورجو روپ بھرا وہ ولیوں کا تھا کیونکہ ہم ولیوں کے ماننے والے تھے ، ہمارا ذہن مطمئن ہوتا گیا، سینوں میں نور آتا گیا اور جب سینے منور ہو گئے تو ایک وقت یہ آیا کہ جب اللہ نے یہ بات فرما دی کہ تمھارا مرشد میرا رب ہے،اب سمجھ آیا کہ سرکار گوھر شاہی نے جو یہ روپ بھرا ہوا ہے یہ ہم لوگوں کو اِس راہ پر لگانے کے لیے ہے”

جس طرح حضور ﷺجسم سمیت اللہ کو دیکھ کر آ گئے تھے اور نماز کے لیے ہے کہا اَلصّلوٰۃُ مِعْرَاجُ الْمُوْمنیْن ، نماز مومن کی معراج ہے ، محمدؐ کو نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے؟ روزہ تو ناپاک لوگوں کے لیے ہے اُن کو روزہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ حضور پاک کے تو نام سے لوگ پاک ہو جاتے ہیں ، اُنکا مقصد پاکی نہیں تھا وہ تو خود پاک تھے ، جس طرح حضور پاک ﷺنے جسم کے ساتھ معراج کر لی تھی ، نماز میں معراج کہاں تھی ، اسی طرح سرکار گوھر شاہی نے شریعت پر عمل ہمیں اس لائن میں لگانے کے لیے کیا۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 25 اگست 2017 کو یوٹیوب لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں