کیٹیگری: مضامین

رب الارباب کا ظاہری اور باطنی وجود مختلف ہے:

عالم غیب میں ایسا نہیں ہے کہ وہاں پراللہ برادری کو رب الارباب کا کھلے عام دیدار ہو جاتا ہو گا، یہاں پر کتنے انسان آباد ہیں کس کس کو اللہ کا دیدار ہوتا ہے؟وہاں پر رب الارباب کا دیدار ایک نظام کے تحت ہوتا ہے اور پھر جو یہ صورت ِمبارک ہے یہ سیدنا گوھر شاہی کا ظاہری وجود ہے ، لیکن جو باطنی چہرہ مبارک ہے وہ ایسا نہیں ہے وہ بہت ہی زیادہ مختلف ہے۔ایک دفعہ ہم ریاض الجنہ گئےاور وہاں مدہوش چل رہے تھے ،وہاں چرند پرند سرکار کے نام کا ذکر کرتے ہیں تو ہم وہاں سے ایسے ہی مست چلتے ہوئے گزر رہے تھے تو اچانک چھلانگ مار کرہماری کمر کے پیچھے کوئی بیٹھ گیا جس نےسفید لباس ملبوس کیا ہوا تھا،یوں سمجھ لیں جیسا چکن کا کپڑا ہوتا ہے جس پر دھاگے کی کڑھائی ہوتی ہے اس طرح کا ڈیزائن تھا جو بڑا ملائم  تھا جس میں سے نور کی شعائیں نکل رہی تھیں تو ہم سمجھ گئے کہ سرکار ہیں۔ اب سرکارہمارے کاندھے پر بیٹھے ہیں اورہم مست چل رہے ہیں ، چلتے چلتے اچانک گردن موڑ کر دیکھا تو اُس وجودِ مبارک کی صورت ہی بڑی مختلف ہے، برجستگی سے پوچھا آپ کون ہیں ؟ہم تو سمجھےکہ سرکار ہیں ! اب وہ وجود کبھی سرکار کی آواز میں بولیں کبھی دوسری اپنی آواز میں بولیں ، فرمایا “یار ہم سرکار ہی تو ہیں ، میں نے عرض کیا کہ سرکار ایسا تو کبھی ہوا نہیں کہ آپ موجود ہوں اور میں نہ پہچان سکوں، تو فرمایا جو یہاں ہوتا ہے اس کو تو ابھی نہیں پہچانتا ، اب آہستہ آہستہ پہچاننے لگ جائے گا ،تو وہ چہرہ بھی مختلف ہے شخصیت بھی مختلف ہے۔

ظاہری اور باطنی وجودِ مبارک کا مزاج بھی مختلف ہے:

سرکارگوھر شاہی کا جو مزاج ِ مبارک یہاں ہے وہ مزاج سرکار اصلی نہیں ہے ، سرکار کویہاں جو لطیفہ نفس ملا ہے اُس نفس کا مزاج ہنستے رہنا مسکراتے رہناہے، کبھی کبھی ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ سرکار انتہائی سنجیدہ ہیں اُس وقت بات بھی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی کہ جا کر سلام ہی بول دیں، اب یہ بھی ایک مزاج ہے۔سرکار گوھر شاہی جو یہاں تشریف فرما ہوتے ہیں تو آپ سرکار کے مزاج کو پہچان نہیں سکتے، کیونکہ قلب ِمبارک کا الگ مزاج ہے، جو نفسِ نفیس ہے اس کا  مزاج الگ ہےاور جو آپ کی ذات ہی اس کا مزاج یقینا الگ ہے۔ لیکن جب ریاض الجنہ جائیں گے تو وہاں یہ چیزیں الگ نہیں ہیں کہ قلب اورنفس الگ ہوں سب چیزیں ایک ساتھ ہیں ، تو ان کا جو مزاج وہاں ریاض الجنہ میں ہے اُس میں تغیر نہیں ہے ایک جیسا رہتا ہے ۔یہاں مزاج ِمبار ک میں تغیر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کبھی قلب ہے کبھی نفس ہے، کبھی جسم ہے اس وجہ سے تغیر اور تبدیلی ہے۔

ریاض الجنہ میں جلال اور جمال کا موسم ہے:

ریاض الجنہ میں تبدیلی نہیں ہے اگر تغیر ہے تو وہ دو ہیں ۔جس طرح سرکار نے فرمایا کہ وہاں کے موسم ہیں ایک جلال کا موسم اور ایک جمال کا موسم۔جب جلال کا موسم ہوگا تو صرف عشق والے پسند آئیں گے ،صرف اُن کو پہچانیں گے اور جب جمال کا موسم ہوگا تو پھر سب کے اوپر کرم ہو گا۔اب یہ موسم بھی ہے اور مزاج بھی ایسا ہی ہے۔ جس طرح اللہ کے یہاں یہ ہے کہ اُس کو تکبر کی چادر روا ہے اُسی طرح سرکار کے یہاں شدت سے جو بات پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے کتنا شور مچایا کہ شرک نہ کرو، دو نہیں مان لینا ورنہ جہنم میں ڈال دونگا ۔اللہ اس بارے میں بڑا سنجیدہ ہےلیکن سرکار گوھر شاہی کے یہاں پرشدت ہے چھپنے کی اور تنہا رہنے کی کہ کوئی پہچان نہ پائے۔اللہ نے اپنی پہچان کے لیے سب کچھ بنایا اور سرکار نے سب چھپایا، کوئی نہیں پہچان سکا چھپایا ہوا ہے، ریاض الجنہ جانے کے بعد بھی کوئی نہیں جان سکا، اندر گھس جائیں پھر بھی کچھ پتا نہیں چلتا۔ ناخن کے ذریعے اندر گھسیں اور آنکھ سے آنسو بن کے باہر آ جائیں پھر بھی پتہ نہیں چلتا۔

اسم” راریاض” آبِ حیات کی مانند ہے :

اِس وقت تو ہم بڑے آرام  سے “سرکار” کہہ دیتے ہیں لیکن آگے وقت آ رہا ہے کہ یہ کہنے کی آرام سے جرات نہیں ہوگی ، ہو سکتا ہے کہ یہ لفظ” سرکار”کہنے سے آدھے گھنٹے پہلے ہاتھ کانپنا شروع ہو جائیں اب جنہوں نے سرکار کا نام لے لے کر جھوٹی کہانیاں بنائی ہوئی ہیں انکا کیا ہو گا؟قرآن کی سورة قلم میں آیاہےکہ

يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ
سورة القلم آیت نمبر 42
ترجمہ:اللہ یوم محشر کے دن اپنی پنڈلی دکھائے گا، اور دعوت دی جائے گی ، تو اس کو دیکھ کر لوگ سجدے میں گرنا چاہیں گے، لیکن وہ پتھر کے ہوجائیں گے انہیں استطاعت نہیں ہو گی۔

اسی طرح یہاں پر ہے جب توبہ کا دروازہ بند ہو گاتو یہی ہو گا، لوگ کہیں گے کہ اب “را ریاض ” مل جائے لیکن پھر نہیں ملے گا،نہ “را ریاض” ملے گا نہ تمہاری زبان کو یہ توفیق ہو گی کہ زبان سے کہہ سکو، بڑا رعب اور دبدبہ ہو گا، ابھی جس کو مل گیا اس کو مل گیا !جھکنے کی طاقت کیوں نہیں ملے گی کیونکہ جب یہ دروازہ کھولا تھا کہ “را ریاض “لے لو تو اُس وقت ہٹ دھرمی کرتے رہے جھٹلاتے رہے ،اب شان دیکھ لی ہے تو اب جھک رہے ہو!! یہ ان کا مزاج ہے کہ نہیں اب نہیں ۔یہ دور جو اب گزر رہا ہے یہ بڑا سنہرا دور ہے ، عنایتوں کا دور ہے،سرکار گوھر شاھی نے جس دن غیبت ختم کر کے یہاں قدم رکھ دیا پھر بند! اس کے بعد مارشل لاء ہے، اس کے بعد کوئی نہیں لے سکے گا، بس اب نظارے کرنے ہیں دیکھنا ہے کیا ہو رہا ہے۔

“جن کو” را ریاض “مل گیا وہ راتوں رات بادشاہ ہو جائیں گے، اچانک اُن کا مرتبہ بڑھ جائے گا کہ اِن کے پاس “را ریاض” ہے ان کے پاس ایک تو “را ریاض” ہے نہیں اور نہ انہیں مل سکتا ہے ، یہی بحر ِظلمات ہے، اس سے بڑا کوئی آب حیات نہیں ہے، “را ریاض” کا اسم جو مل رہا لے یہ سب سے بڑا آب حیات ہے”

آنکھ والا تیرے جوبن کا تماشہ دیکھے
دیدہ کور کو نظر آئے کیا ، کیا دیکھے

یہی تو امرت ورشا ہے، را رام، را ریاض، یہ پھر نہیں ملے گا، پوچھو کیوں نہیں ملے گا؟ جسطرح حضور پاک کو اسم ذات ملا اسی سےدیدار تک پہنچے! اسی طرح یہ جو” الرا” ہے یہ مہدی فائو نڈیشن کو عطا ہوا، بس اب یہ سلسلہ آگے تھوڑی چلے گا، بس جس کو دے دیا سودیدیا، جس کو نہیں دیا اس کو نہیں دیا، اور نہ دینے کی تو کوئی بات نہیں ہے صرف دینے کی بات ہے۔۔۔ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں ۔را ریاض کا اسم مبارک کی تو ساری اجازتیں ہیں کیونکہ وہ تو عطا ہو گیا اس کا تو پورا وجود ہے وہ وجود بولتا بھی ہے اورچلتا بھی ہے۔
اللہ کی برادری کو اگرپتا چل جاتا کہ رب الارباب کے اسم کی میراث تقسیم کرنے والا ایک انسان ہے تو ان کے دل پرکیا گزرتی! ایک خیال تو ان کو یہ آتا کہ ہم سے کام نہیں لیا اور ایک متبادل تخلیق کو یہ مقام عطا کر دیا کہ چلو تم کرو، لیکن بات تو یہ ہے کہ وہ مالک ہیں جس سے چاہیں کام لے لیں ، اگر اس نے کام ہی لینا ہے تو مرتبہ تھوڑی دیکھتا ہے ، اور کام لینا ہو تو اپنی توفیق عطا کر کے کروانا ہے، اپنی طاقت عطا کر کے کروانا ہے تو پھر کیا فرق پڑتا ہے گدھے سے کرائے یا  گھوڑے سے یا کسی فرشتے کو بھیجے اس کی طاقت ، توفیق اور اس کی نظر سے ہونا ہے، کسی سےبھی کروا ئے ،کتوں سے کروا لے ان کا کرم ہے جس سے کروا لے ،اس میں کرنے والے کا کمال نہیں ہے کروانے والے کا کمال ہے کیونکہ عطا وہ کر رہا ہے۔
ہم تو جیتے ہیں زمانے میں تیرا نام رہے
کیسے ممکن ہے ساقی نہ رہے جام رہے

را ریاض کا ذکر لیا ہے اور واقعتاً اپنی رضا سے کسی کے کہنے پر نہیں ، آپ کا دل چاہتا ہے کہ آپ کے سینے میں “را ریاض” گونجے تو آپ کے دل کی یہ خواہش ہی گارنٹی ہے کیونکہ سرکار کی بارگاہ میں ناں نہیں ہے ذکر چلنا ہی چلنا ہے ، کیونکہ کوئی مائی کا لال ایسا نہیں ہے جو اس کو روک سکے، نہ شیطان ،نہ کوئی رحمان، اگر “را ریاض “دے دیا گیا ہے تو کوئی رکاوٹ ڈالنے والا نہیں ہے،کوئی روکنے والا نہیں ہے، چلے ہی چلےگا ۔نہ سرکار کا مزاج ایسا ہےکہ چلو ان کو آزما لو، اور پھر ایک تو آزمائش سرکار کے مزاج میں نہیں ہے دوسرا آزمائش کی ہماری اوقات نہیں ہے ، ہم کو سرکار سے وابستہ ہوئے چونتیس پینتیس سال ہو گئے اِن سالوں میں ایک لمحے کو بھی نہیں آزمایا، کہا ہے کہ آزمائش کے لیے تیار رہو لیکن آزمایا نہیں کیونکہ ہم کہاں آزمائش کے قابل ہیں نہ اُن کا مزاج ہے۔ہمارا سارا کا سارا کاروبار ِروحانیت سرکار گوھر شاہی کی جودو سخا ، سرکار کی فیاضی پر چل رہا ہے، اُنکی عنایت ہے ،ان کا کرم ہے ان کا فضل ہے یہی حقیقت ہے ۔
را ریاض آب حیات ہی تو ہے، آپ دیکھیں کہ کب سے اللہ کی برادری وہاں مقیم ہے لیکن ریاض الجنہ جانے کا سراغ نہیں ملا ، یہ تو ایسے ہی ہو گیا کہ امریکہ میں اربوں لوگ قانونی طور پر رہ رہے ہوں جنہیں کبھی واشنگٹن ڈی سی جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اور ڈونلڈ ٹرمپ بنگلہ دیش سے بنگالی پکڑ کر لے آئے اور امریکن سیٹیزن شپ دے دی۔ اللہ برادری پر تو یہ عنایت ہوئی نہیں کہ وہ ریاض الجنہ چلے جائیں یا داخلہ ہی مل جائے اور سرکارگوھر شاہی زمین پر سے میلے کچیلے کالی مٹی سے بنے شیطان نما انسانوں کو دھو دھا کر وہاں لے جائیں اور کہیں یہ ہماری مخلوق ہے، اب اس کو کرم کہیں فضل کہیں کیا کہیں؟ جو بھی لفظ استعمال کرنا چاہیں تو شرم آئے گی کہ یہ اُس ذات کے قابل نہیں ہے، آنکھیں ہیں لیکن اندھے ہیں ، زبان ہے بول بھی رہے ہیں پھر بھی لاچار اور مجبور ہیں کہ کوئی لفظ مل جائے کہ جو بول دیں اور گستاخی کا شائبہ نہ ہو یہ ہے ذات گوھر شاہی!
عطا کرنے کا انداز بھی بڑا خاموش اور دھیما ہے، آپ جا کر ساری کہانی سنا دیں گے تو فرمائیں گے اچھا چلو ٹھیک ہے آپ سے کہتے نہیں ہیں کہ کر دیں گے۔ آپ آجائیں گے پتا بھی نہیں چلے گا اور کرم ہو بھی جائے گا،اچانک ایک دن پتا چلے گا میری آرزو تو برسوں پہلے پوری کر دی تھی، یہ ہے سرکار گوھر شاہی کا کرم۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اب جو بات ہم کہنے والے ہیں یہ ہماری ہے، نہیں ایسا نہیں ہے یہ بات سرکار نے خود اپنی زبان ظاہر سے فرمائی ہے” ریاض الجنہ تک جس کو رسائی دیں گے اس کو پہلے اللہ کا دیدار کرائیں گے، دیدار کے بعد پوچھیں گے ہاں جی کیسا لگا؟ پھراگر وہ دیدار الہی کے بعد کہے گا مزا نہیں آیا تو اس کو کہیں گے چلو جی تم آ جائو ریاض الجنہ کے لیے” اور جو اللہ کے دیدار سے ہی رج گیا اسکو کہیں گے تم ادھر ہی بیٹھے رہو۔ یہ ہے معیار ریاض الجنہ جانے کے لیے!
دنیا میں انسانوں کا حال مختلف ہے ،انسانوں کو مختلف پریشانیاں لگی ہوئی ہیں وہ اپنے مطلب کے لیے محفل میں آ جاتے ہیں یا اپنے لالچ مطلب کی وجہ سے یہاں  لگے ہوئے ہیں اگر مطلب نہ ہو تو کون سنے گا لیکن عالم غیب میں تو سب کو ایک ایک جاگیر دی ہوئی ہے کہ اپنی پسند کی مخلوق بنا لیں اور وہاں کہیں سے خدمت گزارمنگوانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انکو طاقت دی ہوئی ہے کہ اپنی دل لگی کے لیے چھوٹی موٹی مخلوق بنا لیں ، تو انہوں نے وہاں مخلوقیں بنائی ہوئی ہیں اس مخلوق کو بنانے کا بھی ایک کوٹہ ہے جس سے وہاں جو بھی بنایا وہ  پرفیکٹ مخلوق ہے لیکن اللہ نے سوچا کہ میں باہر نکل کر مخلوق بناتا ہوں طاقت وہی ہے جو وہاں پر دیگر اللہ برادری کو حاصل ہے لیکن یہاں آ کر اللہ  نے چائینیز کوالٹی کا مال بنایا ، نہ چل سکتی ،نہ دیکھ سکتی ،نہ سن سکتی نہ بول سکتی ، طاقت ان کو مکمل روحوں کی عطاکی تھی مگر یہاں آکر نا مکمل روحیں بنا دیں تاکہ بہت زیادہ ہو جائیں ، اب دیکھ لیں کتنا بڑا ہنگامہ بپا ہوا ہے ،اللہ نے اپنی پہچان کے لیے سارا بنایا ہے ۔ ہری پگڑیاں لمبی لمبی داڑھیاں، مسجدیں  بنائی ہوئی ہیں ، خانہ کعبہ سجا ہوا ہے ، یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ اس سے اللہ کو کیا مل رہا ہے؟ کوئی فائدہ نہیں ہے آپ دیتے رہو اللہ کی اذان ، اللہ تو سن ہی نہیں رہا ، وہ مقصد ہی فوت ہو گیا ہے۔لوگ ساری دنیا سے فلسطین کے نام پر چندہ جمع کرتے ہیں لیکن فلسطین والے آکر کہتے ہیں کہ کہاں ہے چندہ ہم تک تو پہنچ ہی نہیں رہا  کتنے لوگ فکسطین میں بھوکے مر رہے ہیں یہ ہی حال ان کا ہے اللہ والے بنے ہوئے ہیں ، اذانوں میں لگے ہوئے ہیں کہ آ جائو اللہ کی طرف ، آ جائو اللہ کی طرف لیکن اللہ تو دیکھ ہی نہیں رہا ، اب یہ ساری مخلوق جو بنائی ہے یہ بکواس ہی ہے نا ، فضول میں اتنی ساری مخلوق بنا دی، یہ کیا ڈرامےبازی ہے، اس نے خوب یہ ڈرامہ ادھر سے ادھر پھیلایا ہوا ہے،بس تجربے کرتے رہے ہیں ۔بے چارے مسلمانوں کو دیکھو ختم نبوت پر اچھل رہے ہیں جبکہ یہ رونے کا مقام ہے، اگر یہ کہا جائے کہ اب اس صحرا میں یہ آخری دفعہ ہے اب کوئی کھانا دینے نہیں آئے گا تو کیا یہ خوشی کی بات ہے یا رونے کا مقام ہے، مسلمان ختم نبوت کی خوشی تو منا رہے ہیں لیکن اس کا مطلب بھی معلوم ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نہ اللہ سے کوئی تعلق ہے نہ رسول سے کوئی تعلق ہے، بس اپنے چندے جمع کرنے کے لیے ختم نبوت کی بات کرتے ہیں پلے کچھ ہے نہیں ۔

اللہ کو درکنار مسائل :

ان کو اللہ کے مسائل کا ہی نہیں پتا ۔ اللہ نے سات سیاروں پر انسان کو آباد کیا، سات بر اعظم نہیں ، جس طرح یہ زمین ہے اس طرح چاند سورج مریخ عطارد مشتری ہے ان سات سیاروں پر انسانوں کو آباد کیا ، اگر اس نے ایک نبی ایک مشتری پر بھیج دیا تو اب وہ نبی دوسرے سیارے عالم ناسوت پر پیدا نہیں ہو سکتا ، جیسا کہ حضور پاک کو اس زمین پر بھیجا تو اب مریخ والے کیا کہتے ہیں ؟ہم نے کیا بگاڑا ہے حضور کو مریخ پر کیوں نہیں بھیجا، اسی طرح سورج والے ہیں ، کیوں نہیں بھیجا؟اگر آپ نے ساتوں سیاروں پر انسان بنانے تھے تو سات سات ہی آدم صفی اللہ بناتے، ہر ایک سیارے پر ایک ہی طاقت کا آدم بھیجتے ، حضور پاک کو بنایا تھا تو ساتوں سیاروں کے لیے بناتے، یہ کیا کہ بس زمین پر بھیج دیا اور بس ختم، اور کہہ دیا خاتم النبین، اس پر مسلمان اچھل رہے ہیں ۔ اللہ کے دکھ کا تو پتا ہی نہیں ہے اللہ نے تو جوا کھیلا، ہر سیارے کا انسان اللہ سے ایک سے ایک شکوہ کرتا ہے، ان سب کا سب سے بڑا مسئلہ اور اللہ سے جھگڑا ہی یہ ہے کہ جب تم نے افضلیت والی تعلیم نکالی تو سارے مرسلین ایک ہی سیارے زمین پر بھیج دئیے ، باقی سیاروں پر رہنے والوں کا کیا قصور تھا ، انہوں نے کیا بگاڑا تھا، اب اللہ اس کا کیا جواب دے۔
جب سلطان حق باھو آئے تو مریخ کے لوگوں نے بڑا سخت احتجاج کیا تو سلطان صاحب کو افریقہ کے جنگلوں میں اتارا تو وہاں پر مریخ کے لوگ اسم ذات کا ذکر لینے کے لیے افریقہ کے جنگلوں میں آتے ۔پیر رزاق کو سلطان بنایا لیکن کہیں ڈیوٹی نہیں لگی کیونکہ ان کے پاس دوسرے سیاروں والوں کے لیے فیض تھا ، اسی طرح بی بی فاطمہ ہیں ، ان کی کہیں ڈیوٹی نہیں لگی، انہوں نے دوسرے سیاروں والوں کو فیض دیا تاکہ ان کا منہ بند ہو۔
اب یہاں دنیا تو ختم ہونے والی ہے لیکن ،مریخ سورج ، عطارد پر تو دنیا ابھی باقی ہے، وہاں پر بھی اہل ایمان روحیں ہیں ، برابر برابر بانٹتا ہے وہ تو، کوئی ایسا نبی آیا جو ایک ہی وقت میں سورج ، مریخ ، عطارد زمین سب پر ہو؟ اگر میری زبان کھل گئی نا تو حاظر و ناظر کا صفحہ پھٹ جائے گا۔ تم اب چپ کر جائو کے میرے نبی حاظر و ناظر ہیں ، بس یہیں ہیں مکہ مدینہ، اللہ سے تو پوچھو کہاں حاظر ہیں ، دیگر سیاروں کی مخلوق کو تو دیکھو سب رو رہے ہیں کہ سب کو یہیں بھیج دیا ،آدم صفی اللہ ، عیسی ،الیاس، حضور کو بھی یہیں بھیج دیا۔اللہ کی پلاننگ ایسی ہو نی چاہیے تھی کہ ساتوں سیاروں پر ایک ساتھ ایک ذات کو بھیجتا سب کو فیض ملتا ، لیکن یہ ٹیکنالوجی تو اللہ کے پاس ہے ہی نہیں ، اللہ کے یہ مسائل ہیں۔اِس وقت دیکھیں کیا ہو رہا ہے، اللہ کا یہ خیال تھا کہ امام مہدی یہاں سمیٹ کر مریخ پر چلے جائیں اور دنیا میں قیامت آجائے پھر مریخ پر قیامت آ جائے تو چاند پر چلے جائیں لیکن سرکار نے کہا ہم ایسا نہیں کریں گے اور سرکار پہلے ہی تشریف لے گئے ۔اُن کو روکنے والا کوئی ہے نہیں اب سرکاگوھر شاہی مریخ پر بیٹھے ہوئے ہیں اگر کسی کے پاس باطنی طاقت یا ٹیکنالوجی ہے تو جا کر دیکھے کہ مریخ والے کیا کرتے ہیں۔

سنو! اگر اب کوئی چاند پر جائے اور مریخ سے ٹرانسمیٹر مل جائے تو اب اس کو “لا الہ الا ریاض” کی آوازیں سنائی دیں گی!

تمہاری تو جان نکلتی ہے نا لا الہ الا ریاض سے لیکن وہاں صرف یہ ہی ہوتا ہے۔مریخ پر وہ اتنا ترقی کر چکے ہیں کے انہوں نے جنتیوں اور جہنمیوں کی شرح نکال لی ہے اور وہ اللہ سے کہتے ہیں اس تعداد سے زیادہ جہنمی روحیں یہاں نہ بھیجنا،آپ بتائیں آپ کے پاس کیا یہ طاقت ہے؟ آپ تو پانامہ کیس میں لگے ہوئے ہیں ،تم تو اسی میں لگے ہو ، کوئی کہتا ہےنبی کا سایہ نہیں ہے کوئی حاظر و ناظر میں لگا ہے تو کوئی ختم نبوت میں ۔صرف گوھر شاہی ہیں جو کسی بھی عالم میں ایک ہی وقت میں جا کر کہتے ہیں کہ آؤ ذکرِ قلب لے لو۔اگر ایسا نہیں ہے توآدم علیہ السلام کو وہاں بھیجو، صرف زمین پر بھیج دیا اور وہ یہاں ایک ہزار سال رہے ، اب ایک ہزار سال کیوں رہے؟ پہلے تو یہ تھا کہ تین سو سال کا مراقبہ لگا کر مریخ پر بھیج دیں گے ، اللہ کی پلاننگ ہی یہ تھی کہ کسی نبی کو نو سال کی عمر جو دی کسی کو ایک ہزار سال کی اس کے پیچھے چکر یہی تھا کہ تین سال کا مراقبہ لگا کر کسی دوسرے سیارے پر بھیج دیں گے۔ اب وہ تین سو سال یہاں سوتے رہے اور اُنکی روحانیت وہاں سوتی رہی، یہاں سے وہاں جا نے میں جسم کی ضرورت تو ہے نا،اور جسم تو یہیں ہے ، تو یہ اللہ کے مسائل ہیں ۔

مندرجہ بالا متن نمائندہ گوھر شاہی عزت ماب سیدی یونس الگوھر سے 01 ستمبر 2017 کی یو ٹیوب پر لائیو سیشن میں کئے گئے سوال کے جواب سے ماخوذ کیا گیا ہے ۔

متعلقہ پوسٹس