کیٹیگری: مضامین

سیدنا رٰ را ریاض گوھر شاہی کے مرتبہ ربوبیت کے ذکر پر آج مسلمان چراغ پا نظر آتے ہیں اور اپنی جہالت کی بنیاد پر وہ مرتبہ ربوبیت کے اس پرچارِ کو کفر قرار دیتے ہیں لیکن در حقیقت قرآن و احادیث کے احکامات کو رد کرکے وہ خود کفر کے مرتکب ہورہے ہیں کیونکہ یہ بات قرآن کی نص سے ثابت ہے کہ مستقبل میں ایک دن رب الارباب نے جسمانی طور پر اس زمین پر تشریف لانا ہے ۔ قرآن مجید میں اس حوالے سے مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں ۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ
( سورۃ المائدہ ، آیت 54 ، پارہ 6 ، رکوع 12 )ترجمہ -: اے ایمان والو تم میں جو کوئی اپنے دین سے پھر جائیگا تو عنقریب اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کیساتھ آئیگا کہ اللہ ان سے پیار کرتا ہے اور وہ اللہ سے پیار کرتے ہیں ۔ ایمان والوں پر نرم اور کافروں پر غالب ۔ اللہ کی راہ میں جہاد کرینگے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کرینگے ۔

مندرجہ بالا قرآنی آیات کی تصدیق حضور پاک نے اپنی مندرجہ ذیل حدیث کے ذریعے فرمائی ؛

عن جریر بن عبداللہ قال قال رسولؐ اللہ انکم سترون ربکم عیاناً وفی روایۃٍ قال کنا جلوساً عند رسولؐ اللہ فنظر الی القمر لیلۃ البدر فقال انّکم سترون ربّکم کما ترون ھٰذا القمر ولا تضامّون فی رویۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ متفق علیہ ۔
( مشکواہ شریف ، کتاب الفتن ، رقم 5411 )ترجمہ -: حضرت جریر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا ! عنقریب تم اپنے رب کو ظاہری طور پردیکھو گے ۔ دوسری روایت میں ہے کہ ہم رسول اللہ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے چودھویں رات کے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جیسے اِس چاند کو دیکھتے ہو اور اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔

مندرجہ بالا قرآنی آیات میں مستقبل میں اللہ کے زمین پر آنے اور حدیث میں اس کو ظاہری جسمانی آنکھوں سے دیکھے جانے کی تصدیق ہے ۔ یاد رہے کہ مندرجہ بالا حدیث متفق علیہ ہے یعنی سارے محدث اس حدیث پر متفق ہیں اور یہ صحاء ستہ کی تینوں بڑی کتابوں میں موجود ہے ۔ جہاں تک قرآنی آیات کا تعلق ہے تو ان کو کوئی ضعیف یا غیر مستند کہہ کر رد نہیں کر سکتا ۔ حضرت علی المرتضیٰ نے بھی اپنی کتاب نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ امام مہدی کی ران پر رب الارباب (خداوندوں کا خدا ) لکھا ہوگا ۔ اسکے علاوہ دیگر مذاہب کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ دنیا کے آخر میں آنے والی ذاتِ مسیحا جو تمام انسانیت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریگی اُس کی پوشاک پر بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خدا لکھا ہوگا ۔ یہودیوں کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ اللہ کا بنی اسرائیل کی قوم سے وعدہ ہے کہ دورِ آخر میں اللہ اپنی اولاد کے ساتھ مسایا (Messiah) کے روپ میں زمین پر آئے گا ۔ علامہ اقبال نے بھی کہا

کھلے جاتے ہیں اسرار نہانی ، گیا دورِ حدیثِ لن ترانی
ہوئی جس کی خودی پہلے نمودار ، وہی مہدی وہی آخرزمانی

یاد رہے کہ حضرت موسیٰ نے اللہ سے دیدار کی خواہش ظاہر کی تھی جس پر اللہ نے لن ترانی ( تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ) کہہ کر منع فرما دیا تھا ۔ علامہ اقبال کہہ رہے ہیں کہ لن ترانی یعنی دیدار نہ کر سکنے کا دور گزر گیا ، با الفاظِ دیگر اب دیدارِ الہیٰ ممکن ہوگا اور اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی
مندرجہ بالا بیان کردہ حدیث میں ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں رب کے حوالے سے چاند کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رب الارباب کا چہرہ چاند میں بھی نمایاں ہوگا ۔ احادیث میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس دور میں لوگوں کے نزدیک خدا کے حضور ایک سجدہ کرلینا دنیا و مافیھا سے زیادہ بہتر ہوگا ۔ ( صحیح بخاری ، کتاب الانبیاء ) ( مسلم ، باب نزول عیسٰی ) ( ترمذی ، ابواب الفتن ) ( مسند احمد ، مرویات ابی ہریرہ ) ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رب الارباب کو اُن کی ذات کے روبرو سجدہ کر لینا تمام عبادات سے افضل ہوگا ۔ دورِ آخر میں رب زمین پر تشریف لائے گا تب ہی وہ سب کچھ ہوگا جو انسانی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی کسی نبی ولی کے دور میں نہیں ہوا جیسا کہ عظیم الشان نشانیوں کا ظہور ، ناقابلِ یقین فیض ، تمام مذاہب کا یکجا ہوجانا ، برائی کا جڑ سے ختم ہوکر امن و محبت کا قائم ہونا اور پھر اُن کی واپسی پر دنیا کی بساط کا لپیٹا جانا اور قیامت کا بپا ہونا وغیرہ ۔ امام مہدی ، مسیحائے عالم اور کالکی اوتار کے مراتب بھی رب الارباب کی ذات کے پاس ہی ہونگے ۔ اُن کی آمد پر نبوت اور ولایت دونوں اختتام پذیر ہوچکی ہونگی ۔
سیدنا رٰ ریاض گوھر شاہی ہی رب الارباب اور وہ ذات عالیشان ہیں جنکا تذکرہ بالا میں بیان کیا گیا ہے ۔ آپ کے تصدق میں بے شمار عظیم الشان آسمانی نشانیوں کا ظہور ہوچکا ہے ، پھر اُن کی تعلیم بذاتِ خود ایک ایسا زبردست ثبوت ہے جسکی موجودگی میں کسی اور دلیل و ثبوت کی ضرورت نہیں رہتی ۔ آئیں رب الارباب کی زمین پر آمد کے حوالے سے مزید کچھ ثوابت کا جائزہ لیں ۔

کیا اللہ سے آگے بھی کچھ ہے ؟

انسانی ذہن میں ہمیشہ یہ سوال چبھتا رہا ہے کہ کیا اللہ سے آگے بھی کچھ ہے ، کیا اسکا بھی کوئی خالق ہے ؟ لیکن خوف اور عقائد کی پابندی کی وجہ سے انسان آگے سوچ نہیں پاتا ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اللہ کا بھی خالق و معبود ہے ۔ اللہ کے خالق اور معبود رب الارباب سے متعلق ثوابت قرآن و احادیث سے ملتے ہیں ۔ اللہ نے اپنے معبود کے متعلق اشارات قرآن مجید میں رکھے اور اپنے محبوب کی زبان سے بھی ادا کروائے ۔ لیکن اُس ذات کی دنیا میں تشریف آوری تک ان قرآنی آیات اور احادیث پر پردہ پڑا رہا تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوجائیں ۔ کیونکہ معلوم ہونے پر لوگ یقیناََ اُس ذات کی تلاش اور جستجو کرتے اور اُسے نہ پا کر شاید ہمیشہ کیلئے اُس ذات سے مایوس ہو جاتے اسلئے اُن کی زمین پر آمد تک ان رازوں پر پردہ ہی پڑا رہا لیکن جوں ہی وہ ذات دنیا میں جلوہ افروز ہوئی تو وہ سربستہ راز کھلتے چلے گئے ۔ ان حقائق و دلائل میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں

۱۔ جب تک بُرھان نہ آ جائے کسی کو الہ مت کہو -:

وَمَن یَدْعُ مَعَ اللَّہِ إِلَہاً آخَرَ لَا بُرْہَانَ لَہُ بِہِ فَإِنَّمَا حِسَابُہُ عِندَ رَبِّہِ إِنَّہُ لَا یُفْلِحُ الْکَافِرُونَ
( سورۃ المومنون ، آیت 117 ، پارہ 18 ، رکوع 6 )ترجمہ -: اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بغیر کسی برھان کے الہ پکارتا ہے تو پھر اسکا حساب ہے اسکے رب کی طرف سے ، بیشک کافروں کیلئے کوئی فلاح نہیں ۔

یہاں قرآن کہہ رہا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو الہ مت کہو جب تک کہ اس کے حق میں کوئی برھان موجود نہ ہو ۔ یعنی الہ کی نفی نہیں کی گئی بلکہ اسکی شرط بتائی گئی ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور کو الہ اسی صورت میں کہا جا سکتا ہے جب اسکے حق میں کوئی برھان موجود ہو ۔ سیدنا رٰ ریاض گوھر شاہی کے حق میں ایک دو نہیں بلکہ لاتعداد برھان ظاہر ہوچکی ہیں ۔
فنا فی اللہ اور بقا بااللہ کے درجے پر فائز اولیاء اور فقراء نے بھی انا الحق کے دعوے کئے لیکن ان دعووں کی بنیاد پر انہیں الہ یا معبود نہیں کہا جا سکتا ۔ ان اولیاء کے اجسام میں اللہ کا کوئی باطنی وجود ( طفلِ نوری یا جسہ توفیقِ الٰہی ) اضافی طور پر موجود ہوتا ہے جو ان اولیاء کی زبان سے مخاطب ہوکر اس طرح کا دعویٰ کرتا ہے لیکن یہ اولیاء بذاتِ خود انسان ہی ہوتے ہیں مرتبہ الہ پر فائز نہیں ہوتے ۔ جس رب کے زمین پر آنے کا ذکر قرآن و حدیث میں آیا ہے وہ تشریف تو انسانی روپ میں لائیں گے لیکن درحقیقت الہ اور معبود ہونگے ۔

۲۔ معراج کی رات کل انبیاء و اولیاء سے ملنے کے باوجود حضور پاک امام مہدی سے ملاقات نہیں کر پائے -:

جن ارواح نے دنیا میں آنا ہے وہ عنکبوت یا عالمِ ارواح میں اکھٹی رہتی ہیں اور جو ارواح دنیا سے ہو کر واپس چلی گئیں وہ اپنے اعمال یا نصیبے کے مطابق علین یا سجین میں مقیم ہیں ۔ حضور پاک کو امام مہدی سے ملنے کا زبردست اشتیاق تھا ۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ امام مہدی سے ملنے کی آرزو میں حضور پاک اس قدر روتے کہ ہچکیاں بندھ جاتیں اور ریشِ مبارک آنسوئوں سے تر ہوجاتی ۔ حضور پاک کا اس قدر رونا کہ ہچکیاں بندھ جائیں اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امام مہدی سے ملنے کی آرزو انتہائی شدید تھی ۔ حضور پاک جب معراج پر تشریف لے گئے تو اوپر جانے سے پہلے بیت المقدس میں ایک لاکھ چوبیس ہزار (1,24,000) پیغمبروں سمیت گزشتہ تمام انبیاء اور اولیاء سے ملاقات فرمائی حالانکہ یہ تمام کے تمام دنیا سے وصال فرما چکے تھے یعنی یہ سب ماضی کے دور کے تھے لیکن اسکے باوجود سب کے سب حضور پاک سے ملنے آئے اور سب نے مل کر حضور پاک کے پیچھے نماز بھی ادا کی ۔ اسکے بعد حضور پاک آگے بڑھے تو غوث پاک کی روح ملنے آگئی جنکے کندھے پر بیٹھ کر حضور پاک اوپر تشریف لے گئے ۔ حضور پاک نے انہیں فرمایا کہ آج میرا قدم تمہارے کندھے پر پڑا ہے کل تمہارا قدم میری امت کے اولیاء کی گردنوں پر ہوگا ، تبھی غوث پاک نے دعویٰ کیا کہ میرا قدم تمام اولیاء کی گردنوں پر ہے ۔ غوث پاک بھی حضور پاک کے دور کے نہیں تھے بلکہ حضور کے وصال کے تقریباََ 900 سال کے بعد دنیا میں تشریف لائے یعنی وہ مستقبل کے دور کے تھے لیکن پھر بھی عالمِ ارواح سے نکل کر حضور پاک سے ملنے آگئے ۔ اسکے بعد حضور پاک نے اللہ کا دیدار کیا اور واپس زمین پر تشریف لے آئے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حضور پاک کی ماضی ( پچھلے تمام انبیاء و اولیاء جو اس دنیا سے گزر چکے تھے ) اور مستقبل ( غوث پاک وغیرہ جنہوں نے مستقبل میں آنا تھا ) کی ارواح سے ملاقات ہوگئی حتیٰ کہ اللہ سے بھی ملاقات ہوگئی تو پھر امام مہدی سے ملاقات کیوں نہیں ہوپائی ؟ وہ امام مہدی سے ملاقات کیلئے ساری زندگی روتے تڑپتے کیوں رہے ؟ اور پھر حضور پاک ایک دفعہ تو اوپر نہیں گئے ، آپ کو ایک دفعہ جسمانی اور 33 دفعہ روحانی معراج ہوئی ۔ کیا وجہ تھی کہ بارہا اوپر تشریف لیجانے کے باوجود بھی آپ امام مہدی سے مل نہیں پائے ؟ وجہ یہ تھی کہ امام مہدی اللہ کے بنائے ہوئے ان سات جہانوں میں سے کسی میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ وہ عالمِ غیب کی پشت پر واقع اپنے عالم ریاض الجنہ میں تشریف فرما تھے ۔ اگر امام مہدی اللہ کے بنائے ہوئے جہان میں ہوتے تو حضور پاک کی ملاقات ضرور ہو جاتی ، وہ ساری زندگی اُن سے ملنے کی آرزو میں روتے تڑپتے نہ رہتے ۔

۳۔ اللہ کا دیدار کر لینے کے بعد اللہ سے ادنیٰ کسی ذات کیلئے رونا تڑپنا اللہ کی سخت ترین گستاخی ہے -:

اللہ کا دیدار کر لینے کے بعد اللہ سے ادنیٰ کسی ہستی کیلئے رونا اور تڑپنا اللہ کی شدید ترین گستاخی ہے کیونکہ خالق کا نظارہ کر لینے کے بعد اس سے ادنیٰ مخلوق سے ملاقات کیلئے رونا تڑپنا اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ ویسے بھی خالق کے حسن سے سیریاب ہونے کے بعد اسکی مخلوق کیلئے رونا تڑپنا کیسا ، کیا اللہ کی مخلوق اپنے خالق سے زیادہ حسین ہوسکتی ہے ؟ خالق کے حسن کا نظارہ کر لینے کے بعد اول تو مخلوق کیلئے دل میں کشش ہی باقی نہیں رہتی چہ جائیکہ اس کیلئے رونا ، تڑپنا اور آنسو بہانا ۔ لیکن حضور پاک 34 مرتبہ معراج اور اللہ کے بارہا دیدار کے باوجود امام مہدی سے ملنے کی آرزو میں روتے تڑپتے ہی رہے اور اللہ بھی اس بات پر خاموش رہا کبھی اعتراض نہیں کیا ۔ امام مہدی اگر اللہ کی مخلوق یا اللہ سے ادنیٰ کوئی ہستی ہوتے تو نہ حضور پاک روتے اور نہ اللہ انہیں رونے دیتا ۔ ایک اور اہم بات کہ اللہ نے خود کو متکبر کہا ہے ، اس نے کیسے برداشت کرلیا کہ کوئی اور نہیں اسکا اپنا محبوب اسے چھوڑ کر کسی اور کیلئے روئے تڑپے ؟ کتابوں میں کہیں نہیں لکھا کہ حضور پاک اللہ کے دیدار کیلئے کبھی روئے ہوں لیکن امام مہدی کو یاد کرکے اس شدت سے روئے کہ ہچکیاں بندھ جایا کرتیں ۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ امام مہدی کے روپ میں آنے والی ذات اللہ سے بالاتر ہے تب ہی اللہ نے اپنے محبوب کے رونے اور تڑپنے پر اعتراض نہیں کیا ۔

۴۔ حدیثِ قدسی کہ جس نے اللہ کا دیدار کر لیا اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں -:

خالق کو دیکھ لینے کے بعد اسکی بنائی ہوئی مخلوق نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ حدیثِ قدسی ہے کہ جس نے اللہ کا دیدار کر لیا اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں کیونکہ جب خالق عریاں ہو کر سامنے آگیا تو اسکی مخلوق نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ، یہی باطنی قانون ہے ۔ لہذا اللہ کا دیدار کر لینے کے بعد جن ، فرشتے اور انسانوں سمیت اللہ کی تخلیق کردہ کوئی مخلوق اولیاء کی نظر سے چھپ نہیں سکتی لیکن حضور پاک 34 بار معراج اور بارہا اللہ کے دیدار کے باوجود امام مہدی کو دیکھنے سے قاصر رہے اور دنیا سے تشریف لیجانے تک اُن سے ملنے کی آرزو میں روتے اور تڑپتے ہی رہے ۔ وجہ یہ تھی کہ امام مہدی اللہ کی مخلوق میں شامل نہیں ۔

۵۔ اللہ بھی صراط مستقیم پر ہے -:

إِنِّیْ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّہِ رَبِّیْ وَرَبِّکُم مَّا مِن دَآبَّۃٍ إِلاَّ ہُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہَا إِنَّ رَبِّیْ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
( سورۃ ھود ، آیت 56 ، پارہ 12 ، رکوع 5 )ترجمہ -: میں نے اللہ پر بھروسہ کیا جو میرا رب ہے اور تمہارا رب۔ کوئی چلنے والا نہیں جسکی پیشانی کے بال اسکے قبضہ قدرت میں نہ ہو ۔ بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے ۔

مندرجہ بالا قرآنی آیات کا مفسرین نے جو ترجمہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا رب صراط مستقیم پر چلنے سے ملتا ہے ، جو غلط ہے کیونکہ آیات میں صاف صاف اور صراحت کیساتھ لکھا ہے کہ میرا رب خود صراط مستقیم پر ہے اور صراط مستقیم رب تک پہنچنے کے صحیح راستے کو کہتے ہیں یعنی اللہ بھی اپنے معبود کی راہ میں صراط مستقیم پر گامزن ہے ۔ اسی لئے اللہ کا دین بھی ہے ۔

۶۔ اللہ مومن اور وہاب بھی ہے -:

اللہ کی 99 صفات میں سے ایک صفت مومن ہے ۔ مومن کا مطلب ہے جو کسی پر ایمان لایا ہو ۔ اللہ کسی پر ایمان لایا ہے تب ہی اس نے خود کو مومن کہا ہے ۔ اللہ نے کہیں یہ نہیں کہا کہ میرے اندر عاجزی یا انکساری بھی ہے بلکہ اس نے خود کو متکبر کہا ہے وجہ یہ ہے کہ اسکے اندر عاجزی اور انکساری نہیں ۔ اسی طرح اگر وہ کسی پر ایمان نہ لایا ہوتا تو کبھی بھی خود کو مومن نہ کہتا ۔ ایک متکبر ذات خود کو کسی اور پر ایمان لانے والا کبھی نہ کہتی ۔
اسکی ایک اور صفت وہاب بھی ہے ۔ وہاب کا مطلب ہے جس کو وہبی طور پر کچھ عطا ہوا ہو ۔ لفظ وہب اور کسب ایک دوسرے کی ضد ہیں ۔ کسب کے معنی محنت اور وہب کے معنی بغیر محنت کے ہے ۔ کسب سے کمانے کا مطلب جو کچھ آپ نے اپنی محنت سے حاصل کیا ہو ، وہبی طور پر ملنے کا مطلب جو بغیر کسی محنت کے مل جائے ۔ جس طرح ملتان والے پیر سپاہی کو وہبی فیض ملا تھا ۔ وہ ایک ٹریفک کانسٹیبل تھا ، رات کی ڈیوٹی کر کے واپس جا رہا تھا ، کسی بزرگ کو دیکھ کر اسے لفٹ دی اور اپنی سائیکل پر بٹھا کر اس کو مطلوبہ جگہ پر چھوڑ آیا ۔ وہ اللہ کا کوئی فقیر تھا اور پیر سپاہی کے اس عمل پر خوش ہو کر اس نے اپنی روحانیت میں سے کچھ حصہ پیر سپاہی کو عطا کر دیا ۔ پیر سپاہی نے اس فیض کو سنبھال کر رکھنے کے بجائے لوگوں کو دم درود کرنا شروع کردیا جس سے لوگوں کو شفا ہونا شروع ہوگئی ۔ بے شمار لوگ اسکے دم درود سے شفایاب ہوئے حتیٰ کہ اس نے لائوڈ اسپیکروں کے ذریعے مجمع پر دم کیا اور لوگوں کو شفا ہوئی ۔ لیکن جب فقیر کا عطا کیا ہوا نور ختم ہو گیا تو دم درود کا فائدہ بھی ختم ہوگیا اور پیر سپاہی خالی رہ گیا ، آج اسکو کوئی نہیں جانتا ۔ چونکہ پیر سپاہی کو شفا کی یہ طاقت بغیر کسی چلے مجاہدے کے حاصل ہوئی تھی لہذا کہا جائیگا کہ شفا کی طاقت اسے وہبی طور پر عطا ہوئی ، پیر سپاہی کو اسے حاصل کرنے کیلئے کوئی کسب یا محنت نہیں کرنا پڑی بلکہ کسی اور کی محنت کا بنا بنایا نور اسے مل گیا ۔ اسی طرح اللہ وہاب ہے کا مطلب کہ اسے بھی وہبی طور پر کوئی طاقت عطا ہوئی ہے ۔ اللہ کو طاقت عطا کرنے والی ذات یقینا اللہ سے بالا تر ہی ہوگی ۔ اللہ کو اسکے رب نے ۔۔۔۔۔ امرِ کن کی طاقت وہبی طور پر عطا کی جسکی بنا پر وہ وہاب کی صفت سے متصف ہوا ۔ اللہ کی تمام طاقت کا راز اسی ۔۔۔۔۔۔ کن میں بند ہے ، وہ جو چاہتا ہے اور جب چاہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ کن کہہ کر کر لیتا ہے ۔ اس کن کی طاقت سے ہی اس نے یہ سارا جہان اور مخلوق بنائی ہیں ۔ اللہ کو امرِ کن کی طاقت وہبی طور پر اپنے رب یعنی رب الارباب سے حاصل ہوئی ہے اسی لئے اللہ وہاب ہے ۔

۷۔ حدیثِ قدسی کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا -:

سلطان حق باھو نے اپنے رسالہ روحی شریف میں ایک مشہور حدیثِ قدسی کو نقل فرمایا ہے جو اس طرح ہے

کنت ھاھوت ، کنزاََ یاھوت مخفیاََ لاھوت فاردت ملکوت ، ان اعرف جبروت فخلقت الخلق ناسوت ۔
ترجمہ -: میں لاہوت میں چھپا ہوا خزانہ تھا ، میں نے چاہا کہ پہچانا جائوں ، پس میں نے ملکوت کا ارادہ کیا ، تاکہ میری جبروت پہچانی جائے پس میں نے عالمِ ناسوت میں مخلوق کو پیدا کیا ۔

یہاں اللہ اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا ، میں نے چاہا کہ میری پہچان ہو اور اسی لئے میں نے یہ سب جہان تخلیق فرمائے ۔ اگر اللہ چھپا ہوا خزانہ تھا تو یہ خزانہ کہیں کسی جگہ یا کسی عالم میں رکھا ہوا ہوگا ، یہ خزانہ خلاء میں تو لٹکا ہوا نہیں تھا ۔ یعنی ایک جہان پہلے سے موجود تھا جس میں وہ خزانہ رکھا ہوا تھا اور اس دنیا کا خالق اس خزانے کا ایک حصہ تھا ۔ دوسری بات کہ اللہ نے اپنے اس قول میں کسی ہیرے یا موتی کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ خزانے کا لفظ استعمال کیا ہے جو کہ جمع کا صیغہ ہے ۔ خزانہ بیشمار لعل و جواہر اور ہیرے موتیوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یعنی اللہ اگر ایک موتی تھا تو اسکے ساتھ اس جیسے اور بھی کئی موتی تھے ۔ یہ سب عالمِ غیب کی طرف اشارہ ہے جہاں اس دنیا کے خالق سمیت ساڑھے تین کروڑ افراد پر مشتمل اللہ برادری رہتی ہے ۔ اس اللہ نے چاہا کہ اسکی الگ سے پہچان ہو اور رب الارباب کی طرح اسکی بھی عبادت کی جائے ۔ تب اس نے اپنے معبود سے اس خواہش کا اظہار کیا اور اسکے رب نے اسے کن کی طاقت عطا فرمائی ۔ پھر اس نے اپنے رب کی اجازت سے عالم غیب سے نکل کر امرِ کن کے ذریعے یہ تمام جہان اور اسکی مخلوقات کو بنایا تاکہ اسکی عبادت و بندگی کی جائے ۔

۸۔ روزِ ازل ہی اللہ نے تسلیم کیا کہ اسکا بھی کوئی رب ہے -:

قرآن کی سورۃ الاعراف میں لکھا ہے کہ روزِ ازل اللہ نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔ الست بربکم جسکا عام فہم میں ترجمہ کیا جاتا ہے ، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ لیکن اس آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں ۔ ( الست = کیا میں نہیں ہوں ) ( ربکم = تم سب کا رب) ۔ لیکن اللہ نے ۔۔۔۔۔۔ الست ربکم نہیں کہا بلکہ اس نے الست بربکم کہا ( ب = معہ یا ساتھ، جس طرح بسم اللہ کامطلب ساتھ اللہ کے نام کے شروع کرتا ہوں ) ۔ لہذا ۔۔۔۔۔ الست بربکم کا ترجمہ ہوا ۔۔۔۔۔۔ کیا میں تمہارے رب کے ساتھ نہیں ہوں ؟ یعنی اللہ نے روزِ ازل اقرار کیا کہ اسکا بھی کوئی رب ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سوال اس نے ارواح کو تخلیق کرنے کے بعد ان سے پوچھا تھا ، لیکن ایسا نہیں ہے ۔ اسکی تصدیق اس سے اگلی آیت میں موجود ہے جس میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔ قالو بلیٰ شاھدنا یعنی بے شک ، ہم گواہی دیتے ہیں ۔ گواہی وہی دے سکتا ہے جس نے اپنی آنکھوں سے کسی عمل کو دیکھا ہو ۔ ارواح اپنی تخلیق کی گواہ نہیں تھیں ۔ کیونکہ اللہ نے جب کن کہا اس وقت ارواح تو وہاں سرے سے موجود ہی نہیں تھیں ، انہوں نے اللہ کو کن کہتے ہوئے نہیں سنا ، وہ تو کن کی ادئیگی ہو جانے کے بعد تخلیق ہوئیں ، وہ کیسے گواہی دے سکتی ہیں کہ ہمیں تو نے تخلیق کیا ہے ؟ لہذا ارواح اپنی تخلیق کی عینی گواہ نہیں ۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ روزِ ازل اللہ کے ساتھ کوئی اور بھی موجود تھا جو اللہ کی تخلیق کا عینی گواہ تھا اور اللہ انہی سے مخاطب ہو کر پوچھ رہا ہے کہ کیا میں تمہارے رب کے ساتھ نہیں ہوں ؟ جس پر وہ جواب دیتے ہیں کہ بے شک تو بھی ہمارے رب کے ساتھ ہے ، ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں ۔

۹۔ قرآن کی سورۃ الاعلیٰ میں رب الارباب کا ذکر -:

قرآن کی سورۃ الاعلیٰ میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ سبح اسم ربک الاعلیٰ یعنی اپنے اعلیٰ رب کے نام کی تسبیح کر ۔ اگر رب ایک ہی ہے تو اس میں اعلیٰ یا ادنیٰ کی تخصیص کیوں ؟ صرف یہ کہہ دیا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔ سبح اسم ربک یعنی اپنے رب کے نام کی تسبیح کر ، صراحت کیساتھ اعلیٰ رب کے اسم پر زور کیوں دیا گیا ؟ اسکا مطلب کوئی رب ادنیٰ ہے اور کوئی اعلیٰ رب بھی ہے ۔ بیشک اس دنیا کا خالق ادنیٰ رب ہے اور اسکا خالق مالک الملک ، خداوندوں کا خدا رٰ ریاض گوھر شاہی سب سے اعلیٰ رب ہے ۔

۱۰۔ واللہ خیر الرازقین -:

قرآن میں لکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ واللہ خیر الرازقین یعنی رزق دینے والوں میں سب سے بہتر اللہ ہے ۔ یہاں اللہ نے جمع کا صیغہ رازقین ( رزق دینے والے) استعمال کیا ہے یعنی رزق دینے والے کئی ہیں جو اس بات کا اقرار ہے کہ اللہ کے علاوہ اور بھی رزق دینے والے ہیں ۔ ایک ہی رازق ہوتا تو آیت یوں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ الرازق لیکن یہاں رازقین (بہت سارے رزق دینے والوں ) کا ذکر ہے ۔ اگر رازق بہت سارے ہیں تو ان سب کا کوئی خالق و معبود بھی ہوگا ۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس آیت میں بتوں کی طرف اشارہ ہے ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ نے بتوں کو بھی رازق تسلیم کیا ہے ؟ یقیناََ ایسا نہیں ہے ۔

۱۱۔ اللہ کو سبقت والے کلمے کا انتظار تھا -:

وَمَا کَانَ النَّاسُ إِلاَّ أُمَّۃً وَاحِدَۃً فَاخْتَلَفُواْ وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْْنَہُمْ فِیْمَا فِیْہِ یَخْتَلِفُونَ
( سورۃ یونس ، آیت 19 ، پارہ 11 ، رکوع 7 )ترجمہ -: اور تمام انسان امت واحدہ تھے پھر ان میں اختلاف ہوا اور اگر تمہارے رب کی طرف سے سبقت والا کلمہ آجاتا تو انکے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ان باتوں کا جن پر وہ اختلاف کرتے ہیں ۔

وَلَقَدْ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِیْہِ وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیْْنَہُمْ وَإِنَّہُمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ
( سورۃ ھود ، آیت 110 ، پارہ 12 ، رکوع 10 ) ترجمہ -: اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی پس اس میں اختلاف کیا گیا ۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے سبقت والا کلمہ آجاتا تو انکے درمیان فیصلہ ہو چکا ہوتا ۔ اور بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں ۔

وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّکَ لَکَانَ لِزَاماً وَأَجَلٌ مُسَمًّی
( سورۃ طہ ، آیت 129 ، پارہ 16 ، رکوع 17 )ترجمہ -: اور اگر تمہارے رب کی طرف سے سبقت والا کلمہ نہ ہوتا تو ضرور ہوتا لپٹنا اور مقررہ مدت ۔

وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاء ہُمُ الْعِلْمُ بَغْیْاً بَیْْنَہُمْ وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّکَ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی لَّقُضِیَ بَیْْنَہُمْ وَإِنَّ الَّذِیْنَ أُورِثُوا الْکِتَابَ مِن بَعْدِہِمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ
( سورۃ الشوریٰ ، آیت 14 ، پارہ 25 ، رکوع 3 ) ترجمہ -: اور وہ جدا نہ ہوئے مگر بعد اسکے کہ انہیں علم آچکا تھا آپس میں بغاوت کرتے ہوئے ۔ اور اگر تمہارے رب کی طرف سے سبقت والا کلمہ آجاتا ایک مقررہ مدت تک تو ضرور انکے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ۔ اور بیشک جن کو انکے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں ہیں ۔

قرآن میں کئی جگہ اس بات کا تذکرہ ہے کہ اللہ کو سبقت والے کلمے کا انتظار ہے اور اگر وہ کلمہ آجاتا تو تمام انسانیت فرقوں اور مذاہب میں تقسیم ہونے کے بجائے امتِ واحدہ ہوتی ۔ یعنی اس کلمے کے نہ آنے کی وجہ سے بنی نوع انسان مختلف مذاہب اور فرقوں میں منقسم ہے اور جب وہ کلمہ آجائیگا تو تمام انسانیت امتِ واحدہ میں تبدیل ہو جائیگی ۔ یہاں ایک ایسے کلمے کا ذکر ہے جسکا اللہ کو خود انتظار ہے اور انتظار اسی کا ہوتا ہے جو قریب یا دسترس میں نہ ہو اور اسکے قریب آنے کا انتظار کیا جائے ۔ اللہ نے اس کلمے کو سبقت (سب سے پہلے ) والا کلمہ کہا ہے ۔ اس کلمے کو بھیجنا اگر اللہ کے اختیار میں ہوتا تو وہ اس کو شروع میں ہی بھیج دیتا لیکن وہ تو خود اس کلمے کے انتظار میں تھا ۔ تمام انسانیت کو ایک جگہہ جمع کرنے والی ذات امام مہدی کی ہے جو اپنے ساتھ سبقت والا کلمہ بھی لائے ہیں اور سبقت والا وہ کلمہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا الہ الا ریاض نہیں کوئی معبود سوائے ریاض کے ۔

۱۲۔ اس دنیا میں اللہ کے انتہائی تصرف کا مظاہرہ حضور پاک کی صورت میں ہوا ہے -:

اس دنیا میں اللہ نے اگر سب سے زیادہ طاقت اور تصرف کسی کو دیا تو وہ اسکا محبوب تھا ۔ لیکن اس انتہائی تصرف کے باوجود حضور پاک تمام مذاہب یا تمام انسانیت کو ایک جگہ جمع نہیں کر پائے ، نہ باطل کو جڑ سے اکھاڑ سکے اور نہ ہی دنیا کو امن و انصاف سے بھر سکے ۔ انکی حکومت انکی ظاہری حیات میں خطہ حجاز سے آگے نہیں بڑھ سکی ۔لیکن امام مہدی کیلئے کہا گیا کہ وہ تمام مذاہب و فرقوں بلکہ تمام انسانیت کو ایک کردینگے ، باطل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے اور پوری دنیا کو امن و انصاف سے بھر دینگے ۔ یعنی جو کام حضور پاک نہ کرسکے وہ امام مہدی کر دکھائینگے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امام مہدی کے پاس حضور پاک سے بڑھ کر طاقت و تصرف ہوگا تب ہی وہ یہ سب کر پائیں گے ۔ اگر امام مہدی اللہ کی مخلوق میں شامل ہوتے تو انکا تصرف اللہ کے محبوب سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا تھا ۔ لہذا جو کام حضور پاک نہ کرسکے تو اس سے کم تصرف رکھنے والا وہی کام کیونکر کر پاتا ؟ اس کا مطلب ہے کہ امام مہدی کے پاس اللہ سے بڑھ کر کوئی طاقت ہوگی جسکی بنا پر وہ سب کر دکھائینگے جو حضور پاک سمیت کوئی ولی نبی نہیں کرسکا ۔ اُن کے پاس رب الارباب کی طاقت و تصرف ہوگا جسکی بنیاد پر یہ سب کچھ ممکن ہو پائے گا ۔

۱۳۔ قبر میں یہ سوال کہ تیرا رب کون ہے ؟ -:

قبر میں جو 360 سوال ہر انسان سے کئے جاتے ہیں ان میں اولین سوال ۔۔۔۔۔ من ربک ( تیرا رب کون ہے ؟) ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک ہی رب ہے تو یہ کیوں پوچھا جا رہا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ ہاں اگر سوال یوں ہوتا کہ تو نے دنیا میں قیام کے دوران اپنے رب سے تعلق جوڑا یا نہیں ؟ تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ پوچھنا کہ تیرا رب کون ہے بتا رہا ہے کہ کوئی اور بھی الہ ( معبود ) ہے۔

۱۴۔ حضرت علی کا نہج البلاغہ میں فرمان کہ امام مہدی کی ران پر خداوندوں کا خدا لکھا ہوگا -:

حضرت علی المرتضیٰ نے اپنی کتاب نہج البلاغہ میں لکھا ہے کہ امام مہدی کی ران پر رب الارباب (خداوندوں کا خدا ) لکھا ہوگا ۔ اسکے علاوہ دیگر مذاہب کی کتابوں میں بھی لکھا ہے کہ دنیا کے آخر میں آنے والی ذات مسیحا جو تمام انسانیت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیگی اُس کی پوشاک پر بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خدا لکھا ہوگا ۔

۱۵۔ 34 مرتبہ معراج اور بارہا اللہ کا دیدار کرنے کے باوجود حضور پاک نے ربِ زدنی علماََ کیوں کہا ؟-:

تمام عبادات اور تمام علوم کی انتہا اللہ کا دیدار ہے ۔ اللہ کے دیدار سے بڑھ کر کوئی عبادت نہیں ۔ اسی طرح علم کی انتہا بھی اللہ کا دیدار ہے ۔ دنیا کا کوئی علم آپکو اللہ کے دیدار سے مزید آگے نہیں لیجا سکتا یعنی اللہ تک رسائی کسی بھی علم کی انتہا ہے ۔ جب کوئی ولی اللہ کے دیدار میں پہنچتا ہے تو ساتوں جہان ( جو کہ 14 طبق پر مشتمل ہے ) کے علوم اس پر کھول دئے جاتے ہیں ۔ خالق تک پہنچ جانے کے بعد دنیا کے مزید کسی علم کی ضرورت نہیں رہتی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضور پاک نے اللہ کا دیدار کر لینے کے باوجود بار بار ۔۔۔۔۔۔۔ ربِ زدنی علماََ (میرے علم میں اضافہ کر ) کی دعا کیوں مانگی ؟ حالانکہ دیدار کے ساتھ ہی دنیا کے کل علوم آپ پر منکشف ہوچکے تھے ، مزید کسی علم کی بظاہر ضرورت نہیں تھی ۔ وجہ یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ ، حضرت ادریس اور حضرت الیاس نے انہیں عالمِ غیب اور امام مہدی کے روپ میں آنے والے رب الارباب کے بارے میں بتلایا ہوا تھا لہذا حضور پاک نے اللہ سے پوچھا کہ تیرے اس جہان سے مزید آگے کیا ہے ؟ یعنی حضور پاک نے اللہ کے بنائے سات جہانوں سے مزید آگے ( عالمِ غیب اور ریاض الجنہ وغیرہ ) کے متعلق پوچھا تھا جو کہ اللہ نے نہیں بتایا ۔ اسی لئے حضور پاک بار بار ربِ زدنی علماََ کی التجا کرتے رہے ۔ اس عالمِ غیب کے علوم اور اسرار و رموز جو اللہ نے اپنے محبوب کو بتانے سے انکار کردیا آج سیدی یونس الگوھر ان کو دنیا پر منکشف فرما رہے ہیں ۔ کیا وجہ تھی کہ حضور پاک افضل ترین نبی ہیں پھر بھی غیبی علوم پر انکار ہوا اور سیدی یونس الگوھر انہی علومِ غیبی کو علمِ ظاہر کی طرح عام فرما رہے ہیں ؟ یاد رہے کہ یہ وہی علم ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے لیکن علم نہیں ۔ قرآن میں آیا کہ یومنون بالغیب کہ اس کے بغیر ایمان میں داخل نہیں ہوسکتے ۔ یعنی اس علم پر ہر مسلمان کا ایمان ہے لیکن آج وہ اسے جھٹلا رہا ہے ۔ یاد رہے یہ وہی عالمِ غیب ہے جس پر ایمان لانا ہر مسلمان کیلئے لازمی شرط ہے اسکے بغیر کوئی شخص دینِ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ چونکہ عالمِ غیب کے اسرار و رموز دورِ آخر میں کھلنا تھے اسلئے اللہ نے پیشگی اس عالم پر ایمان لانا اپنی مخلوق پر فرض قرار دیا تھا ۔ حضور پاک نے غیب کے انہی علوم کی درخواست کی تھی اور آپ کو انکار ہوا ۔ حضور پاک نے پوچھا ، کوئی اس غیبی علم کا حامل ہوگا ؟ جواب آیا ، امام مہدی ۔ حضور پاک نے پوچھا اُن کی نشانی کیا ہوگی ؟ جواب آیا ،، ساری امتیں ختم ہوکر امتِ واحد بن جائیں گی ۔ پوچھا ، اُن کا دین کیا ہوگا ؟ جواب آیا ، میرا دین عشق ہے جب وہ میری مدد و نصرت کو اس دنیا میں آئینگے تو تم دیکھنا کہ انسان فوج در فوج دینِ الٰہی میں داخل ہونگے اور اے محمد اس وقت تم بھی اپنا رخ اس قائم ہونے والے دین کی طرف کرلینا ۔ پھر پوچھا کوئی اور نشانی ؟ جواب آیا ، میں بھی منتظر ہوں تم بھی منتظر رہو ۔ ایک اور نشانی جو حضور پاک کو اللہ کی جانب سے ملی وہ یہ تھی کہ امام مہدی کا چہرہ چاند میں موجود ہے ، اسی لئے حضور پاک نے صحابہ کو کہا کہ چاند کی جانب رخ کرکے دعا مانگا کرو ۔ چاند میں چہرے والی بات حضور پاک سے حضرت علی اور پھر امام جعفر صادق تک پہنچی تب ہی امام جعفر صادق نے فرمایا کہ امام مہدی کا چہرہ چاند میں چمکے گا ۔

۱۶۔ اللہ کے مددگار کی آمد -:

إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّہِ وَالْفَتْحُ o وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِیْ دِیْنِ اللَّہِ أَفْوَاجاً
( سورۃ النصر ، آیات 2-1 ، پارہ 30 ، رکوع 35 )ترجمہ -: جب اللہ کا مددگار آ پہنچے گا اور کھل جائیں گے ۔ اور تم دیکھو گے کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونگے

مندرجہ بالا آیات بھی مفسرین کی سمجھ نہیں آئیں اور کم و بیش سبھی نے یہ ترجمہ کیا کہ ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کی مدد آ پہنچی اور فتح حاصل ہوگئی ۔ اور تم نے دیکھ لیا کہ لوگ غول کے غول خدا کے دین میں داخل ہورہے ہیں ۔ یہاں لفظ فتح سے مراد لوگ اردو کا لفظ جیت (Victory) لیتے ہیں جبکہ یہ عربی کا لفظ ہے جسکے معنی کھل جانا ہے جس طرح کہ مسجدوں میں داخلے کیلئے دروازے پر دعا لکھی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الھم افتح لی باب رحمتک ۔ اے ہمارے پروردگار میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ۔ اردو میں فتح کو جیت کے معنوں میں اسلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ پرانے وقتوں میں جب کوئی فوج کسی شہر پر حملہ کرکے جیت جاتی تو اس کیلئے شہر کے دروازے کھول دئے جاتے اور وہ شہر میں داخل ہوجاتی تھی ، اسی لئے فتح کو اردو میں جیت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن عربی زبان میں اس لفظ کے آج بھی معنیٰ کھلنا ہی ہے ۔
مفسرین کو یہ غلط فہمی رہی کہ ان آیات میں فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے جبکہ یہ آیات فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی تھیں اور ان میں کہا گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔۔ تم دیکھو گے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو کہ مستقبل میں پیش آنے والے واقعے کی طرف شارہ تھا جبکہ مکہ تو فتح ہوچکا تھا ۔ دوسری بات کہ اگر یہ فتح مکہ کی جانب اشارہ ہوتا تو اس میں حضور پاک کو اللہ سے معافی مانگنے کی تاکید کیوں کی گئی ہے ؟ مکہ کو فتح کر کے حضور نے کونسی غلطی کی تھی جو ان سے معافی مانگنے کیلئے کہا گیا ؟ دراصل فتح مکہ کے بعد حضور پاک کو خیال گزرا تھا کہ میں آخری اور سب انبیاء سے افضل ہوں اور میرا لایا ہوا دین اور اسکی تعلیمات سب سے افضل ہیں تب اللہ نے یہ سورۃ نازل کرکے نہ صرف انکی غلط فہمی کو دور کیا بلکہ انہیں توبہ کرنے کی تاکید فرمائی ۔ اس سورۃ میں اللہ نے مستقبل میں اپنے مددگار امام مہدی کی آمد کا تذکرہ کیا ہے کہ جب وہ آئے گا تو دینِ الٰہی میں داخلے کے دروازے کھول دے گا اور اس وقت لوگ فوج در فوج دینِ الہٰی میں داخل ہونگے ۔ اور اے نبی جتنے لوگوں کو تم نے مسلمان کیا ہے اتنے لوگوں کے بیشمار گروہ حتیٰ کہ کئی مذاہب اس دینِ الہٰی میں داخل ہونگے ۔ اور اے نبی تو نے خود کو کیسے سب سے افضل سمجھ لیا تو اپنے رب کی تسبیح کر اور اس سے معافی مانگ ۔
فتح مکہ کے وقت بیشتر کافرین نے جزیہ کے خوف سے اسلام قبول کرلیا تھا لیکن اس وقت مکہ کی کل آبادی چند ہزار سے زیادہ نہیں تھی لہذا فوج در فوج داخلے والی بات اس دور پر پورا نہیں اترتی ۔ پھر اس آیت میں مستقبل کی طرف اشارہ ہے جب مختلف مذاہب اور اقوام کے افراد گروہ در گروہ دینِ الہی میں شامل ہو کر امت واحدہ میں تبدیل ہوتے جائینگے ۔

۱۷۔ حضور پاک کی دنیا سے روانگی پر قیامت بپا نہیں ہوئی -:

مسلم کا عقیدہ ہے کہ یہ دنیا جہان حضور پاک کیلئے بنائے گئے ہیں اور حضور پاک وجہ تخلیق کائنات ہیں ۔ انکے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضور پاک سے کہا کہ اے میرے محبوب اگر تجھے نہ بناتا تو یہ دنیا جہان نہ بناتا ۔ لیکن دیکھا یہ گیا کہ حضور پاک اس دنیا میں تشریف لائے ، زندگی گزاری ، تبلیغ کا کام مکمل کرنے کے بعد فرمایا کہ آج میں نے دین کا کام مکمل کر لیا ہے اور پھر دنیا سے پردہ فرما گئے ۔ اصولاََ تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ انکے دنیا سے تشریف لیجانے پر دنیا ختم کر دی جاتی کیونکہ جن کیلئے دنیا بنائی گئی تھی وہ دنیا سے ہو کر چلے گئے لہذا اس دنیا کے بنانے کا مقصد پورا ہوگیا ۔ جس طرح کسی کے اعزاز میں منعقد ہونے والی تقریب مہمانِ خصوصی کے چلے جانے پر سمیٹ دی جاتی ہے ۔ جس طرح شادی کی تقریب کو لڑکی کے وداع ہونے پر سمیٹ دیا جاتا ہے ، شامیانے گرا دئے جاتے ہیں لائٹیں بجھا دی جاتی ہیں کیونکہ اس ساری تقریب کا مقصد لڑکی کو رخصت کرنا تھا جو پورا ہوگیا ۔ لیکن حضور کے پردہ فرما جانے پر یہ دنیا ختم نہیں ہوئی بلکہ 1400 سال گزرنے کے باوجود اب تک قائم و دائم ہے ۔ دوسری طرف امام مہدی کیلئے کہا گیا کہ اُن کی آمد سے قبل قیامت قائم نہیں ہو سکتی اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ اُن کے دنیا سے تشریف لیجانے کے بعد اس دنیا کو ایک سانس لینا بھی حرام ہوگا اور فوری قیامت بپا کردی جائیگی ۔ یہ بات بتا رہی ہے کہ اس کائنات کی تخلیق امام مہدی کے روپ میں آنے والی رب الارباب کی ذات کے واسطے ہوئی اور وہی اس کائنات کے اصل مہمانِ خصوصی ہیں اور انہی کا فیض بصورت سیدی یونس الگوھر تمام انسانیت کو میسر ہے ۔

۱۸۔ حروفِ مقطعات کے علوم امام مہدی منکشف فرمائینگے -:

قرآن کی کئی سورتوں کی ابتدئی آیات حروفِ مقطعات پر مشتمل ہیں اور تراجم میں انکے نیچے لکھا ہوا ہے کہ ان کا مطلب سوائے اللہ کی ذات کے کوئی نہیں جانتا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن تو انسانوں کے پڑھنے اور ہدایت کیلئے ہے نہ کہ اللہ کیلئے ۔ اگر انکا علم انسانوں کو نہیں دینا تھا تو پھر یہ حروفِ مقطعات نیچے کیوں بھیجے گئے جن کا مطلب خود حضور پاک کو بھی معلوم نہیں تھا ؟ قرآن مجید کے علوم سینہ در سینہ حضور پاک سے صوفیاء کو منتقل ہوئے لیکن حروفِ مقطعات کے متعلق تمام اصحابہ ، اولیاء ، آئمہ اور فقراء نے یہی کہا کہ ان حروف کا مطلب سوائے خدا کی ذات کے کسی کو بھی نہیں معلوم ۔ اگر ان حروف کا مطلب صرف اللہ کی ذات تک محدود ہے تو پھر انہیں زمین پر کیوں بھیجا گیا ؟ اسکا راز بھی یہی ہے کہ ان حروفِ مقطعات میں امام مہدی اور رب الارباب سے متعلق راز بند ہیں جو اُن کی آمد پر ہی دنیا پر منکشف ہونگے ۔ مقطعات لفظ قطع سے نکلا ہے جسکا مطلب کاٹ دینا یا روک دینا ہے یعنی ان حروف کا مطلب امام مہدی کی آمد تک روک دیا گیا تھا کہ اُس ذاتِ عالیشان کی آمد پر ان حروف کا راز دنیا پر آشکار ہوگا ۔ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ علم 27 حروف پر مشتمل ہے جبکہ کل انبیاء جو علم لائے وہ صرف 2 حروف تھے ، پس آج تک لوگوں نے انہی دو حروف کو جانا ، جب امام مہدی قیام فرمائیں گے تو اللہ تعالیٰ باقی 25 حروف کو بھی ظاہر کریگا اور انہیں لوگوں میں پھیلا دیگا اور اسی کے ساتھ دو حروف کو ملا دیا جائیگا تو پورا علم یعنی 27 حروف لوگوں میں عام ہوگا (بحار الانوار ) ۔ اِسکا مطلب یہ ہوا کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ سمیت ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں اور تمام اولیاء کی آمد تک علم کے صرف دو ہی حروف منکشف ہوئے جبکہ علم کے بقیہ 25 حروف دنیا پر منکشف کرنے کا اعزار ایک ذات امام مہدی کیلئے مخصوص ہے ۔ انہی حروفِ مقطعات میں ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الرٰ ہے جس میں حرف رٰ رب الارباب ذاتِ ریاض کی طرف اشارہ ہے ۔
اسی طرح اگر (الرٰ) کے اعداد بنائیں تو 1150 بنتے ہیں جو کہ سیدی یونس الگوھر سے منسوب عدد ہے اور الرٰ انہی کے سینے میں موجود ہے جہاں سے مستحقین کو تقسیم ہو رہا ہے ۔

۱۹۔ حجرِ اسود بظاہر ایک پتھر ہونے کے باوجود حضور پاک سے افضل کیونکر ہے ؟ -:

حجرِ اسود کیلئے لکھا ہے کہ عقیدت اور محبت سے اسکا بوسہ لینے والے کی قیامت کے روز بخشش ہوجائے گی ۔ روحانیت سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ ذاتی جسہ توفیقِ الہیٰ اور ذاتی طفلِ نوری درحقیقت اللہ ہی کے وجود کا حصہ ہیں اور انہیں اللہ کہا جاسکتا ہے ۔ طفلِ نوری اللہ کے ظاہر اور جسہ توفیق الہی اللہ کے باطن کا عکس ہے ۔ ان کی موجودگی کی بنا پر ہی کئی اولیاء و عاشقین نے انا الحق کے دعوے کئے ۔ سلطان حق باھو نے بھی فرمایا کہ مجھے بندہ کہو تو بجا ہے اور اللہ کہو تو بھی روا ہے ۔ حضور پاک اللہ کے محبوب تھے ، انکے اندر انسانی روح کی جگہ روح احمد تھی جسکا تعلق اور قیام مقامِ محمود پر ہے ، اسکے علاوہ اس جسم میں طفلِ نوری ذاتی اور جسہ توفیقِ الہیٰ ذاتی بھی موجود تھے ، پھر وہ جسم معراج کی رات اللہ کے روبرو بھی ہوکر آیا تھا ۔ ان سب خصوصیات کے باوجود حضور پاک نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ مجھ محمد کو چومنے والے کی شفاعت ہوجائے گی لیکن حجرِ اسود کیلئے گارنٹی دی کہ اس کو عقیدت اور محبت سے چومنے والے کی شفاعت ہوجائیگی ۔ ایک پتھر میں ایسی طاقت کہاں سے آگئی ؟ پھر حضور پاک نے خود بھی حجرِ اسود کے انتہائی عقیدت و محبت سے بوسے لئے ۔ عقیدت سے چومنے کا مطلب ہے کہ چومنے والا شخص ، چومے جانے والی چیز کو اپنے سے افضل تسلیم کر رہا ہے تبھی اسے عقیدت کیساتھ چوم رہا ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ روحِ احمد، ذاتی طفل نوری ، ذاتی جسہ توفیق الہیٰ کا حامل ہونے کے باوجود ایک پتھر حضور پاک سے افضل کیونکر ہے ؟ اسکا راز بھی یہی ہے کہ اس پتھر کے اندر رب الارباب کی تصویر ہے جسکی وجہ سے یہ پتھر حضور پاک سے بھی زیادہ افضل ، عظیم اور طاقت ور ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ حجرِ اسود میں دو آنکھیں ، دو کان اور ایک زبان موجود ہے اور یومِ محشر عقیدت و محبت سے بوسہ لینے والے کی شفاعت کریگا ۔ اگر کسی سادہ کاغذ پر آپ دو آنکھیں ، دو کان اور ناک منہ بنائیں تو ایک انسانی شبیہ بن جاتی ہے ۔ یہ حضور پاک کا اپنی امت کو اشارہ تھا کہ حجرِ اسود میں کوئی شبیہہ موجود ہے اور وہ شبیہہ رب الارباب سیدنا رٰ ریاض گوھر شاہی کی ہے ۔
کچھ احادیث میں امام مہدی کے حوالے سے بیت اللہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ امام مہدی کا ظہور بیت اللہ سے ہوگا ۔ بیت کا مطلب گھر اور بیت اللہ کا مطلب جہاں اللہ رہتا ہو ۔ اور اللہ خانہ کعبہ کی در و دیوار میں نہیں بلکہ حجرِ اسود میں رہتا ہے جہاں اُس کی تصویر بھی موجود ہے ۔ اسی لئے حضور پاک حجرِ اسود کے سامنے بیٹھ کر امام مہدی کو یاد فرما کر آنسو بہایا کرتے ۔ مسلمانوں کی تمام عبادات اور سجدے امام مہدی کی اُسی تصویر کو ہوتے ہیں ۔ حج کا طواف بھی اِسی حجرِ اسود کے گرد ہوتا ہے بلکہ اس کا بوسہ لیکر شروع ہوتا ہے ۔
حجرِ اسود کو عقیدت و محبت سے چومنے والا نہ صرف گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے بلکہ روزِ محشر شفاعت کی بھی گارنٹی ہے اور اس شفاعت کی کوئی حد یا تعداد بھی مقرر نہیں ۔ حجر اسود کو حضرت آدم کے ذریعے نیچے بھیجا گیا یعنی ابتدائے انسانیت سے زمین پر موجود ہے ۔ ابتدائے انسانیت سے لیکر آخیر تک جس نے بھی عقیدت و محبت سے اسکا بوسہ لیا اسکی شفاعت ہوجائیگی یعنی حجرِ اسود پر موجود رب الارباب کی ایک تصویر کل انسانیت کی شفاعت کرواسکتی ہے ۔ جن کی صرف ایک تصویر پوری انسانیت کی شفاعت کی طاقت رکھتی ہو تو پھر وہ ذات خود کیا ہوگی ؟ اس سے رب الارباب کی شان و شوکت اور عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
حجرِ اسود کا باطنی وجود بھی سیدی یونس الگوھر کے اندر موجود ہے اور اُن کے سینے سے حجرِ اسود کا فیض بھی جاری ہے ۔

۲۰۔ حضور پاک کو مستقبل میں دینِ الٰہی کی طرف رخ کرنے کا حکم -:

فَأَقِمْ وَجْہَکَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفاً فِطْرَۃَ اللَّہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللَّہِ ذَلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ
(سورۃ الروم ، آیت 30 ، پارہ 21 ، رکوع 7 )ترجمہ -: پس تم اپنا رخ دینِ حنیف کی طرف پھیر لینا ۔ اللہ کی فطرت جس پر اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا ، اللہ کی خلق (پیدائش) کو نہ بدلنا ، یہی قائم رہنے والا دین ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

مندرجہ بالا آیت میں حضور پاک کو تاکید کی گئی ہے کہ مستقبل میں جب وہ دینِ حنیف آجائے تو تم بھی اپنا رخ اس طرف کرلینا ۔ مفسرین کو اس آیت کی بھی سمجھ نہیں آئی اور انہوں نے اس آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اے میرے محبوب تم اپنا رخ دینِ اسلام کی طرف کر لو ۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہوگی کہ دینِ اسلام کے بانی کو کہا جائے کہ تم اپنا رخ اس دین کی طرف کر لو ۔ حضور پاک تو نہ صرف پہلے سے اس دین پر عمل پیرا تھے بلکہ اس دین کا مکمل نمونہ تھے لہذا ایسا حکم دینے کی کوئی منطق نہیں بنتی ۔ اس آیت کے نزول کے وقت دینِ اسلام آچکا تھا اور حضور پاک اس دین کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف تھے ، لہذا یہ دینِ اسلام کی بات نہیں ہو رہی ۔ دوسری اہم بات کہ اس میں مستقبل کا صیغہ استعمال ہوا ہے فاقم یعنی (مستقبل میں ) کرلینا ۔ یہ حضور پاک کو حکم اور تاکید تھی کہ مستقبل میں جب رب الارباب دنیا میں تشریف لائیں تو تم بھی اپنا رخ دین الٰہی کی طرف کرلینا ۔
حضور پاک آخری نبی اور دینِ اسلام انبیاء کے ذریعے آنے والے ادیان میں آخری دین تھا تو پھر یہ کونسا دین ہے جس کے آنے پر حضور پاک کو بھی حکم ہورہا ہے کہ تم بھی اپنا رخ اس طرف کرلینا ؟ یہ امام مہدی کے لائے ہوئے اللہ کے دین ، دینِ الہیٰ کی طرف اشارہ ہے ۔ یہ روحوں کا دین ہے جو روزِ ازل بلکہ اس سے بھی پہلے کا دین ہے ۔ انبیاء کے ذریعے نافذ ہونے والے ادیان کا روزِ ازل کوئی وجود نہیں تھا اور وہ دنیا کی ضرورت کے تحت دنیا میں ہی قائم کئے گئے ۔ وہ سب جسموں کے ادیان ہیں جبکہ روزِ ازل جسموں کا کوئی وجود نہیں تھا اس وقت صرف ارواح موجود تھیں ۔ اجسام تو ارواح کے دنیا میں آنے کے بعد بنائے گئے ۔ روزِ ازل ارواح کا ایک ہی دین تھا ، امام مہدی وہی روزِ ازل والا دین جسے قرآن مجید میں دینِ الہیٰ ، دین اللہ ، دینِ قیم ، دینِ حق ، دینِ خالص اور دینِ فطرت وغیرہ کا نام دیا گیا ہے ، لائیں گے ۔ یہ دینِ الہیٰ انبیاء کے لائے ہوئے تمام ادیان کا نچوڑ ہے ۔ اس دین میں کوئی فرقہ نہیں ہے ۔ امام مہدی کے دور میں تمام مذاہب ختم ہوکر اسی ایک دینِ الہیٰ میں ضم ہوجائینگے ۔ حضور پاک کو بھی حکم ہے کہ جب وہ دینِ فطرت آ جائے تو تم بھی اپنا رُخ اسکی طرف کرلینا ۔ تب ہی حضور پاک نے فرمایا

یختم الدین بہ کما فتح بنا
(کنوز الحقائق اور الحاوی للفتاویٰ 61:2 ) ترجمہ -: ( امام مہدی کے دور میں ) دین کا اختتام ہوگا جس طرح ( میرے ذریعہ ) دین کا آغازہوا ۔

مندرجہ بالا حدیث میں حضور پاک فرما رہے ہیں جس دین کا آغاز میرے ذریعے ہوا اس دین کا اختتام امام مہدی کی آمد پر ہوگا ۔ یہ اس جانب اشارہ ہے کہ امام مہدی کی آمد پر حضور پاک کا لایا ہوادینِ اسلام بقیہ ادیان کی طرح دینِ الہٰی میں ضم ہو جائے گا اور ان مذاہب میں کوئی فیض یا ہدایت باقی نہیں رہے گا ۔ اس دور میں مسلمانوں میں صرف خوارج فرقے باقی بچے ہونگے ۔ جس طرح کعبہ کی تبدیلی کے وقت حضور پاک نے دورانِ نماز اپنا رخ قبلہ اول سے خانہ کعبہ کی طرف کیا تو تمام مسلمانوں نے انکی پیروی کرتے ہوئے اپنا رخ حضور کے رخ کے مطابق کر لیا تھا ۔ اسی طرح امام مہدی کے ذریعے آنے والے دینِ الہٰی کے بعد جب حضور پاک نے اپنا رخ دینِ الہیٰ کی طرف کر لیا ہے تو دیگر مسلمانوں کو بھی اپنے نبی کی تقلید کرنا ہوگی ورنہ وہ امتِ محمد سے خارج متصور کئے جائینگے ۔

۲۱۔ حضرت عیسیٰ نے اللہ کا بندہ بننے میں کوئی عار محسوس نہیں کیا -:

لَّن یَسْتَنکِفَ الْمَسِیْحُ أَن یَکُونَ عَبْداً لِّلّہِ وَلاَ الْمَلآئِکَۃُ الْمُقَرَّبُونَ وَمَن یَسْتَنکِفْ عَنْ عِبَادَتِہِ وَیَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُہُمْ إِلَیْہِ جَمِیْعاً
(سورۃ النساء ، آیت 172 ، پارہ 6 ، رکوع 4 )ترجمہ -: ہرگز مسیح اللہ کا بندہ بننے سے کچھ عار نہیں رکھتا اور نہ مقرب فرشتے ۔ اور جس نے بندگی کو موجب عار سمجھا اور تکبر کیا تو سب کو اکٹھا کریگا اپنے پاس ۔

یہاں بتایا جا رہا ہے کہ مسیح (حضرت عیسیٰ ) اور مقرب ملائکہ (بشمول جبرائیل ، میکائیل اسرافیل و عزرائیل ) اللہ کا بندہ (انسان ) بننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ۔ یعنی حقیقت میں یہ انسان نہیں ہیں لیکن اللہ کا بندہ بن کر اس دنیا میں آنے میں کوئی عار یا اعتراض محسوس نہیں کرتے ۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں مقرب ملائکہ کی ، یہ ملائکہ انسانوں میں شامل نہیں ہیں لیکن اس دنیا میں انسانوں کا روپ دھار کر آتے رہتے ہیں جیسا کہ حضرت جبرائیل لوگوں کو آزمانے اور احکاماتِ وحی کے ساتھ انسانی صورت میں دنیا آتے رہے ہیں ۔ دیگر ملائکہ بھی اس دنیا میں انسانی روپ میں ظاہر ہوتے رہے ہیں جنکے واقعات مختلف کتابوں میں ملتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح حضرت عیسیٰ بھی درحقیقت اللہ کے بندے نہیں لیکن اس دنیا میں وہ انسان بن کر آئے اور اس میں کوئی عار نہیں سمجھا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ انسان نہیں ہیں تو پھر وہ کون ہیں ؟ اور انہوں نے انسان بن کر اس دنیا میں آنے میں عار نہیں سمجھا تو اسکی وجہ کیا تھی ؟ ان حقائق کا پردہ بھی سیدی یونس الگوھر نے فاش فرمایا ہے ۔ اُن کی تعلیم کے مطابق اللہ عالمِ غیب میں رہنے والی ایک برادری کا نام ہے جنکی تعداد ساڑھے تین کروڑ ہے ۔ اس اللہ برادری کی خالق ذاتِ ریاض ( جن کے اسمِ مبارک کا مخفف رٰ ہے ) ہے اور اس برادری کا کلمہ لا الہ الا ریاض ہے ۔ حضرت عیسیٰ ، حضرت الیاس اور حضرت ادریس جو انبیاء کے بھیس میں اس دنیا میں تشریف لائے اور اس دنیا کا خالق جس نے خود کو رحمان اور رحیم بھی کہا ہے ، اس برادری کا حصہ ہیں ۔
اس برادری کے تین افراد اس دنیا میں آئے تو اسکی وجہ یہ تھی کہ انہیں پتہ چلا تھا کہ ان کا خالق رب الارباب خداوندوں کا خدا نیچے اس زمین پر تشریف لائیں گے تو وہ اُن سے ملاقات کیلئے اس دنیا میں آئے اور اس کیلئے اللہ کا بندہ بننے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کیا حالانکہ یہ تینوں اس اللہ کے ہم پلہ اور اسی کی طرح لافانی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان تینوں انبیاء کو موت بھی نہیں آئی ۔ اللہ برادری ایک الگ طویل موضوع ہے جس پر کسی اور مضمون میں بات کرینگے ۔ فی الحال اتنا جاننا کافی ہے کہ قرآن نے یہ تصدیق کی ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے بندے نہیں ہیں ۔ تبھی ان میں وہ عادات تھیں جو کسی نبی میں نہیں ہوئیں جیسا کہ وہ مٹی کے پرندے بنا کر جب ان پر پھونک مارتے تو وہ زندہ ہوکر اڑجاتے یعنی حیات عطا کرنے ( حَیّ ) کی صفت کے حامل تھے ۔ انکے اسی طرح کے تصرفات کو دیکھ کر لوگوں کو گمان ہوا تھا کہ شاید وہ اللہ کے بیٹے ہیں ۔
یہ سیدی یونس الگوھر کا لا انتہا کرم ہے کہ وہ کلمہ سبقت جو کہ اللہ برادری کا وظیفہ ہے اسے مٹی کے بنے انسانوں میں تقسیم فرما رہے ہیں ۔ یہ کلمہ جس روح میں داخل ہوگیا وہ ریاض الجنۃ میں داخلے کیلئے تیار ہوجائے گا ۔

۲۲۔ امام مہدی نہ نبی ہیں نہ ولی -:

انسان کو ہدایت اور فیض صرف نبی سے ہوتا ہے یا پھر اسکے نعمل البدل ولی سے ۔ امام مہدی کی آمد تک نبوت اور ولایت دونوں اختتام پذیر ہوچکے ہونگے ۔ اگر وہ نہ نبی ہیں نا ولی تو پھر تمام انسانیت کو فیض کیونکر دے پائیں گے ؟ اور فیض بھی ایسا کہ اس سے پہلے کسی نے نہ دیا ہو ۔ اگر امام مہدی نہ ولی ہیں نہ نبی تو یقیناََ رب ہی ہونگے ۔ امام مہدی سے لوگوں کو نظر البشر کا فیض ہوگا جو کسی انسان کیلئے ممکن نہیں اور یہ اُن کے مرتبہ الوہیت کا ایک اور واضح ثبوت ہے ۔
اسعاف الراغبین میں بھی لکھا ہے کہ امام مہدی انبیاء سے بہتر ہیں ۔ تمام انبیاء نے صرف اپنے علاقے اور اپنی اقوام کے لوگوں کو فیض دیا ۔ نبی آخر الزماں نے بھی اپنی حیاتِ ظاہری میں صرف خطہ عرب کے لوگوں کو فیض دیا ۔ دیگر اقوام تک انبیاء کا فیض ان امتوں کے اولیاء کے ذریعے پہنچا جنہوں نے اپنی اپنی اقوام کو یہ فیض پہنچایا لیکن امام مہدی کا فیض بیک وقت کُل انسانیت کیلئے ہوگا ۔

۲۳۔ امام مہدی کے محیر العقول مناقب -:

امام مہدی کیلئے کہا گیا ہے کہ اُن کے ظہور کے وقت آسمان سے صدائیں آئیں گی ، کہیں لکھا ہے اُن کی آمد پر حجرِ اسود بول اٹھے گا ، چاند سے اعلانات ہونگے ۔ کہیں لکھا ہے وہ تمام مذاہب اور فرقوں کو ایک جگہ اکٹھا کردینگے ، پوری دنیا کو امن و انصاف سے بھر دینگے ۔ زمین والوں کے ساتھ ساتھ آسمان والے بھی اُس ذات سے راضی ہونگے ۔ اُن کی آمد سے پہلے قیامت قائم نہیں ہوسکتی اور اُن کی دنیا سے روانگی پر فوری قیامت بپا کردی جائیگی وغیرہ وغیرہ ۔ امام مہدی کے مناقب کا اگر مطالعہ کیا جائے تو عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ اُن سے منسوب اعزازات شمار سے باہر ہیں ۔ مسلمانوں کے نزدیک اللہ کے بعد سب سے زیادہ افضل ذات حضور پاک کی ہے لیکن رحمت اللعالمین کہلانے کے باوجود انکا دامن اس طرح کے اختیارات اور اعزازات سے خالی ہے ۔ اسی طرح مسیحیوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں لیکن اس طرح کے اعزازات انکے حصے میں بھی نظر نہیں آتے ۔ تو پھر یہ سب کیا ہے ؟ یہ وہ ثوابت ہیں جو ایک عام فہم انسان کی سمجھ میں بھی آسانی سے آسکتے ہیں کہ امام مہدی کے روپ میں آنے والی ہستی اس کائنات کی اصل خالق و مالک ہے جس نے اللہ جیسے ساڑھے تین کروڑ خدائوں کو تخلیق کیا ہے ۔ اور وہ عظیم الشان اور عظیم المرتبت ہستی امام مہدی المنتظرسیدنا را ریاض گوھر شاہی کے روپ میں اس دنیا میں جلوہ گر ہوئی ہے ۔ وہی مالک الملک اور تمام عالمین و مخلوقات کے اصل خالق ہیں ۔ وہ عالمِ غیب کی پشت پر واقع اپنے جہان ریاض الجنہ سے تشریف لائے ہیں جہاں کسی نبی ولی تو کجا اللہ کو بھی داخلے کی اجازت نہیں ۔ رب الارباب سیدنا رٰ ریاض گوھر شاہی کی زمین پر آمد کے دور کیلئے ہی علامہ اقبال نے اپنے الہامی کلام میں لکھا ہے کہ

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہوگا
سکوت تھا پردہ دار جسکا وہ راز اب آشکار ہوگا
گزر گیا دور ساقی کہ چُھپ کے پیتے تھے پینے والے
بنے گا سارا جہاں میخانہ ہر کوئی بادہ خوار ہوگا
کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آلباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

آج دنیا کو رب الارباب سیدنا را ریاض گوھر شاہی کا دیدار اور فیض میسر ہے لیکن لوگ بجائے اس سے کوئی فائدہ حاصل کرنے کے اسے کفر و شرک قرار دے رہے ہیں اور ایسے ہی منکرین کیلئے قرآن میں آیا کہ

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوا بِآیَاتِ اللَّہِ وَلِقَائِہِ أُوْلَئِکَ یَئِسُوا مِن رَّحْمَتِیْ وَأُوْلَئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ
( سورۃ العنکبوت ، آیت نمبر 23 ، پارہ 20، رکوع 15 )ترجمہ -: اور جنہوں نے اللہ کی نشانیوں اور اسکی ملاقات کا انکار کیا وہ میری رحمت سے نا امید ہوگئے اور ان کیلئے دردناک عذاب ہے ۔

متعلقہ پوسٹس

دوست کے سا تھ شئیر کریں