کیٹیگری: مضامین

جو لوگ سیدنا گوھر شاہی کے رب الارباب ہونے پر اعتراض کرتے ہیں اور کلمہ لا الہ الا ریاض کو ردّ کرتے ہیں یہ مضمون ایسے لوگوں کے لئے ایک فکر ہے۔

انسانی ذہن میں یہ سوال ہمیشہ سے چبھتاآیاہے کہ کیا اللہ سے آگے بھی کچھ ہے ، کیااسکا بھی کوئی خالق ہے ؟ لیکن خوف اور عقائد کی پابندی کی وجہ سے انسان آگے سوچ نہیں پاتا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اللہ کا بھی خالق و معبود ہے ۔ اللہ کے خالق اور معبود رب الارباب سے متعلق ثوابت قرآن سے ملتے ہیں۔ اللہ نے اپنے معبود کے متعلق اشارات قرآن مجید میں رکھے ہیں۔لیکن اُس ذات کی دنیا میں تشریف آوری تک ان قرآنی آیات اور احادیث پر پردہ پڑا رہا تاکہ لوگ گمراہ نہ ہو جائیں۔کیونکہ معلوم ہونے پر لوگ یقیناََ اُس ذات کی تلاش اور جستجو کرتے اور اُسے نہ پا کر شاید ہمیشہ کیلئےاُس ذات سے مایوس ہو جاتے اسلئے اُن کی زمین پر آمد تک ان رازوں پر پردہ ہی پڑا رہا لیکن جوں ہی وہ ذات بصورت امام مہدی دنیا میں جلوہ گر ہوئی تو وہ سربستہ راز کھلتے چلے جار ہے ہیں۔قرآن میں جو باریکیاں اور اللہ کا طرز تخاطب ہے وہ تب سمجھ میں آئے گاجب کوئی صاحب قرآن، صاحب فہم یا صاحب نورآپ کو سمجھائے گا۔اور مسلمانوں کی عادت ہے کہ بات کو کریدتے ہیں اور اُس کی وجہ سے اللہ کے جن رازوں پر پردہ پڑا ہوا ہے وہ کھولنا پڑتا ہے ۔قرآن میں ایک آیت ہے کہ

وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آ خَرَلَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ
سورۃ المومنون آیت نمبر 117
ترجمہ:اور جواللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود سمجھ رہے ہیں اور اُس کی برھان بھی تمھارے پاس نہیں ہے۔اُس کا حساب رب کے پاس ہے،اور جن لوگوں نے حقیقت کو جھٹلایاوہ فلاح نہیں پائیں گے۔

جو مطلب اس آیت کا لیا جاتا ہے کہ” اللہ کے علاوہ کسی کو الہ کہا “ یہ بالکل غلط مطلب ہے۔یہاں لکھا ہوا ہے مَعَ اللَّـهِ یعنی اللہ کے ساتھ ساتھ اُس کو بھی اگر الہ پکارو گے کہ الہ ہونے میں وہ شراکت دار ہے۔اللہ کے ساتھ الہ ہونے میں یہ بھی شامل ہے۔یہاں اللہ نے اپنی الوہیت کو اُس کی الوہیت سے جوڑ کر کہا ہے کہ اللہ کے الہ ہونے میں یہ بھی ساتھ ہے ۔لیکن یہاں اس بات کی نفی نہیں ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور الہ نہیں ہے آخَرَلَا بُرْهَانَ لَهُ اور پھر اس وقت جب اس کے پاس برھا ن بھی نہیں ہے۔یعنی اگر اللہ کے علاہ کوئی الہ ہو ہی نہیں سکتا تو پھر برھان کا تذکرہ کیوں کیا جارہا ہے ؟اس کا مطلب ہے کہ الہ ہوتا ہے اگر برھان ہو تو ۔
یہاں تمام مذاہب کے علماء سے سوال ہے کہ اگر وہ برھان لے آئیں اللہ کے علاوہ کسی اور الہ کی تو پھر تو اللہ کو منظور ہو گا۔اب وہ برھان کیا ہو گی؟وہ برھان ایسی برھان مبین ہو اتنی روشن دلیل ہو کہ اُس کو دیکھ کر آپ خاموش ہو جائیں۔

سیدنا گوھر شاہی کے حق میں برھان :

سیدنا گوھر شاہی کے حق میں پہلی برھان تو یہ ہے کہ دھنک کے رنگوں کی طرح کی قوس قزح بنی ہوئی تھی اورریاض الجنہ سے زمین پروہ سیدنا گوھر شاہی کی بنائی ہوئی مخلوق نیچے آرہی ہے جو کہ عینی شاہد کے طو رپر نمائندہ مہدی کو دکھائی گئی ہے۔
یہاں اس آیت میں ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جنھوں نے جھوٹوں کو الہ سمجھا تھا۔اگر آج کو ئی اللہ سے شکایت کرتا ہے کہ آپ کے علاوہ MFI کے لوگ کسی اور کو بھی الہ سمجھتے ہیں توآج اللہ کا کیا جواب ہو گا کہ ان سے کہو برھان دکھائیں۔کیا یہ بات اللہ کو پتہ نہیں ہے کہ اِن کے پاس برھان ہے یا نہیں ہے اور اللہ سے جڑا جو بھی پیغمبریا ولی یا جبرائیل،ملک الموت،میکائل،اسرافیل ان سب سے مخاطب ہو کر کہتا ہوں کہ اگرتمھارے پاس آنکھ ہے تو یہاں اس محفل میں آؤ اور عالم غیب سے آئی ہوئی برھان دیکھوجب یہ کہتے ہیں لا الہ الا ریاض۔

برھان کیوں ضروری ہوتی ہے ؟

برھان رب کی طرف سے ایک نور کی مانند تخلیق میں کام آنے والا ایک قطرہ یا دھبہ ہو تا ہے جو کہ ولیوں کو عطا ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے کہ اب یہ میرا بندہ بن گیا ہے۔قرآن مجید میں ابلیس کے حوالے سے ایک آیت ہے۔

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ
سورۃ ص آیت نمبر 82,83
ترجمہ : تیری عزّت کی قسم! میں ان سب لوگوں کو ضرور گمراہ کرتا رہوں گاسوائے تیرے اُن بندوں کے جو چُنیدہ و برگزیدہ ہیں۔

اب یہاں اس آیت میں جو بندوں کا کہا ہے وہ ایسے ہی نہیں کہہ دیا بلکہ عبد کا ایک مقام ہوتاہے۔اب لوگ جو کہتے ہیں لا الہ اللہ اس کے کوئی معنی یا حقیقت نہیں ہے جب تک اللہ نے آپ کو اپنا بندہ تسلیم نہ کیا ہو اور جس کو وہ اپنا بندہ تسلیم کر لے گا تو وہ الوہیت کی برھان اُس بندے کے سینے میں داخل کر دے گا ۔پھر اگر اس کے قدموں میں جھک کر کوئی سجدہ کر لے تو وہ سجدہ اللہ کو پہنچے گا۔اللہ کی الوہیت کی برھان کے دو بڑے نشان ہیں ایک جسّہ توفیق الہی اور ایک طفل نوری ہے۔اب جس میں وہ جسہ توفیق الہی موجود ہوگااُس کے آگے سر جھکاناعین اللہ کے آگے سر جھکانا ہو گا۔

مرتبہ الوہیت کے عطا ہونے کے لئے شرط:

سیدنا گوھر شاہی کی یہ کرم نوازی کےپہلی مرتبہ یہ راز عطا ہوا کہ مرتبہ الوہیت کے عطا ہونے کی شرط بتائی جا رہی ہے ۔خالقوں کی برادری جس کو تسلیم کرے اُ س کے لئے دو قسم کی مخلوق ضروری ہے۔ایک اپنی ذات سے مخلوق بنا کر دکھائے،اور ایک اپنی صفات سے مخلوق بنا کر دکھائے۔جو ذات سے مخلوق بنا کر دکھائے گا وہ جسہ توفیق الہی کہلائے گی ذاتی اور صفاتی ۔۔۔ اور جو صفات سے بنائے گا وہ عام لوگوں کی ارواح ہو ں گی۔امر کن سے عام چھوٹی موٹی خدمت کے لئے مخلوق بنتی ہے اس کی وجہ سے مرتبہ الوہیت نہیں ملتا۔مرتبہ الوہیت کے عطا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اپنی ذات اور صفات سے مخلوق بنائے۔جو ذات سے مخلوق بنے گی وہ جسّہ توفیق ِ الہی کہلائے گی اور جو صفات سے مخلوق بنے گی وہ یہ عمومی روحیں ہوں گی۔برھان یہ عمومی مخلوق نہیں بن سکتی بلکہ برھان وہ مخلوق بنتی ہیں جو مخلوق ہونے کے باوجود مخلوق نہیں ہیں کیونکہ اُس کے اندر جسّہ توفیق الہی ہے جو کہ الوہیت کی برھان ہے۔
اسی طرح سیدنا گوھر شاہی کے اپنے جہان ریاض الجنہ میں بھی اس طرح کی چیزیں ہیں،ایک ہوتا ہے فنا فی الشیخ جس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ایک ہوتا ہے کامل ضم اس کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔اور ایک وہ ہوتا ہے جس میں جنس ریاض ہو۔جنس ریاض عکس نہیں ہے مثال کے طور پر یوں سمجھ لو وہ سیدنا گوھر شاہی کے وجود سے نکلا ہوا جسّہ گوھر شاہی ہے ۔وہ جس کے اندر بھی ہو اس کے پاؤں چومنا ایسا ہی ہے جیسےسیدنا گوھر شاہی کے پاؤں چومے ۔جن کو وہ جنس ریاض عطا ہوا ہے ان کی تعداد گیا رہ یا بارہ ہے اور اُن سے بلا واسطے کا تعلق ہے۔انہی کو سرکار سے عشق ہے باقی کسی کو نہیں ہے اور بلا واسطہ اُس کو کہتے ہیں کہ اس روح نے ازل سے لے کر ابد تک اُس رب کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا اور نہ وہ کسی کو جانتا ہے ، بھلے وہ کہیں بھی رہے۔اس مخلوق کے اندر آنے کی وجہ سے بلا واسطے کا تعلق ہے اس مخلوق سے جو فیض ہو گا وہ ایسا ہی ہے جیسا فیض ذات سے ہو گا۔

اللہ کے مرتبہ الوہیت کی برھان:

اللہ کے مرتبہ الوہیت کی برھان جسّہ توفیق الہی ہے جو محمد رسول اللہ میں تھا۔جیسے غوث اعظم کے پاس فقر ذاتی تھا اور غنا والا تھا لیکن غوث اعظم اتنے بے باک نہیں تھے اِن کے اوپر مخلوق کا رنگ غالب تھا،خالق کا رنگ غالب نہیں تھا۔جس کے پاس جسّہ توفیق الہی ذاتی ہوتا ہے وہ خود کو کبھی کبھی بھولے سے مخلوق تسلیم کرتا ہے لیکن لعل شہباز قلندر کے پاس جو جسّہ توفیق الہی تھاوہ الوہیت کی برھان تھا اور اُن کے دم سے یہاں زمین پر الوہیت قائم ہے انہی کے دم سے اللہ یہ جملہ کہنے کے قابل ہوا ھوا لظاہر ھو الباطن باطن میں تو عرش پر بیٹھا ہوا ہے اور ظاہر میں لعل شہباز قلندر کی صورت میں ہے جن میں برھان الہی ہے۔یہ دو جسہ توفیق الہی ایسے ہیں ایک لعل شہاز قلندر کے پاس اورسیدنا گوھر شاہی کے پاس یہ باطنی شہباز اڑنے والا دونوں برھان ہیں۔اگر اللہ یہ دونوں جسّہ توفیق الہی زمین پر نہ بھیجتا تو اُس کی الوہیت کا ثبوت نہیں تھا۔اللہ کے مرتبہ الوہیت کی برھان تو سیدنا گوھر شاہی کے جوتوں میں چھپی ہے اور تم ہم سے برھان مانگ رہے ہو !!! ہر جسّہ توفیق الہی برھان نہیں ہے ۔صرف وہ جو اڑنے کی سکت رکھتا ہے باطنی شہباز کہلاتا ہو۔ایک قلندر پاک کے پاس تھا وہ جسّہ توفیق الہی باطنی شہباز اڑنے والا ، اور ایک سیدنا گوھر شاہی کے وجود مبارک میں موجود ہے وہ باطنی شیرجو اپنی مثال آپ ہے وہ قائم مقام نہیں بلکہ خود وہاں موجود ہے۔
برھان اکیلی دو نمائندگی رکھتی ہے۔وہ خالق کی بھی نمائندہ ہوتی ہے اور مخلوق کی بھی۔وہ برھان جب ضرورت پڑے تو بطور خالق بولتی ہے اور جب ضرورت پڑے تو بطور مخلوق بولتی ہے ۔ایک وقت آیا تھا کہ وہ برھان بولی تھی : سیدنا گوھر شاہی عوام الناس کے سامنے بیٹھے ہیں ایک آدمی سوال کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے کہ جب ذکر دیتے ہیں تو غوث پاک اس کی چھان بین کرتے ہیں،حضور پا ک اس کی تصدیق کرتے ہیں پھر کہیں اس کا ذکر قلب جاری ہوتا ہے۔پھر اس نے پوچھا کہ جو ہندو ہیں ان کی تصدیق تو غوث پاک اور حضور نہیں کرتے ہوں گے پھر انکا کیا بنے گا؟تو اس وقت وہ برھان بولی کہ ان کے لئے میں ہی ہوں۔یہ وہ اللہ کے معبود ہونے کی برھان بول رہی ہے۔

وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آ خَرَلَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ

اللہ کے معبود ہونے میں کوئی اس کا شراکت دار ہے یہ مت کہو یہ کفر ہے۔قرآن نے یہ نہیں کہا ہے کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی اور الگ سیٹ اپ والا الہ نہیں ہو سکتا ۔ہم جو سیدنا گوھر شاہی کی جو الوہیت بیان کرتے ہیں وہ عمومی نہیں ہے ۔یہ جو عمومی مخلوق ہے وہ بہت نچلے درجے کی مخلوق ہے نافرمان ، خسارے والی مخلوق۔ اللہ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اس کے باوجود انسان وہی قتل وغارت گری کر رہا ہے اسی وجہ سے فرشتوں نے اعتراض کیا تھا کہ اے اللہ تو پھر یہ آدم بنا رہا ہےیہ تو نیچے جا کر فساد کرے گا ۔ آج امت پھر اسی جگہہ آ گئی ہے اسی لئے نچلے درجے کی مخلوق ہے ۔اب مخلوق نچلے درجے کی ہے تو کیاان کا خالق اعلی درجے کا ہو گا ؟ ایسی مخلوق بنائی تو آپ نے ہی ہے اس میں مخلوق کا کیا قصور ہے ۔کیا یہ مخلوق اپنی مرضی سے خود بنی ہے ؟ یہ یہاں کی الوہیت ہے اس کا حال آپ نے دیکھ لیا فرشتے ، انسان ، مذہبی انسان ،ولی ،فقیر ،اہل بیت سب نے اللہ پر اعتراض کیا ہے۔محمدؐ کے بھی اعتراضات تھے ۔ موسی کے بھی اعتراضات تھے وہ تو کہتے تھے کہ اے اللہ! تمھیں تو رزق بانٹنا نہیں آتا کل سے میں رزق بانٹوں گا۔

”جب ہم لا الہ الہ ریاض کہتے ہیں تو ہم عالم غیب کی الوہیت کی بات کر رہے ہیں یہاں کی الوہیت کو سیدنا گوھر شاہی سے منسوب کرنا ہمارے نزدیک توہین ہے “

تم اللہ کے ساتھ مرتبہ الوہیت ، مرتبہ معبودیت میں کسی کو شامل نہ کرواور اگر تم کسی کو الہ کہہ رہے ہو تو کیا تمھارے پاس الوہیت کی برھان ہے ۔ جس طرح اللہ نے قرآن میں ایک بات فرمائی کہ یہ یہودی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے کی اُمت ہیں تو پھر اللہ ان کو کہتا ہے کہ ان سے پوچھو اگر یہ اللہ کے بیٹے کی امت ہیں تو اللہ ان پر عذاب کیوں بھیجتا ہے۔اگر کوئی اللہ کے علاوہ کسی کی الوہیت کی بات کرتا ہےتو اللہ کوثبوت کے طورپر برھان چاہیے اگر برھان نہیں ہے تو پھر اُن سے سختی سے نبٹا جائے گا۔

حاصل کلام :

اللہ کے دنیا میں معبود ہونے کی یہ دلیل ہے کہ وہ جسہ توفیق الہی باطنی شیر جو یا تو لال شہباز قلندر کے پاس تھا یا پھر سیدنا گوھر شاہی کے پاس ہے وہ دلیل وہ برھان ہے۔مرتبہ الوہیت یعنی کسی کے معبود ہونے کے لئے اور عالم غیب میں اس کو پہچانا بھی جائے کہ یہ الہ ہے تو اس کو تسلیم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دو طرح کی مخلوقیں ہوں اس کی بنائی ہوئی ایک ذات سے نکلی ہو اور ایک صفات سے نکلی ہو۔ذات سے جو مخلوق نکلی ہے وہ خالق بھی ہے مخلوق ہوتے ہوئے بھی اور ایک یہ عام مخلوق ہے جو روحیں اللہ نے بنائی ہیں۔تو وہ جو مخلوق اس کی ذات سے نکلی ہے جو مخلوق ہوتے ہوئے بھی خالق ہے وہ برھان ہے ۔جسطرح عالم غیب میں اللہ برادری کے افراد نے اپنی خدمت کے لئے مخلوقیں بنا رکھی ہیں لیکن یہ عالم غیب میں عمومی بات ہے ۔رب الارباب نے اللہ برادری کو امر کن دے دیا ہے اب وہ جیسی مخلوق چاہیں بنائیں۔فیاضی ہو ، سخاوت ہو تو ایسی ہو ۔لیکن امر کن کے عطا ہونے سے مرتبہ الوہیت پر فائز نہیں ہوتے وہ تو شغل میلے کے لئے دیا گیا ہے۔الوہیت کے لئے یہ دو چیزیں ضروری ہے جس میں سے ایک برھان ہو ۔

حادث اور قدیم کا عقدہ:

کسی کے مرتبہ الہ کی منظوری کے لئے نظام یہ ہے کہ وہ دو طرح کی مخلوق بنائے ایک وہ مخلوق ہو جو خالق کی صفت رکھے لیکن تخلیق کے مراحل سے گزر جائے صرف اس لئے مخلوق کہلائے کہ وہ تخلیق کے عمل سے گزری ہے۔جیسے حادث اور قدیم ہوتا ہے۔حادث اس کو کہتے ہیں جو تخلیق کے مراحل سے گزری اور قدیم کا مطلب ہے اس کے اندر تغیر واقع نہیں ہوا۔جس میں تغیر واقع نہیں ہوا ہے اُس نے اپنا ایک پرتو ایسا بنایا کہ جس کو برھان کے طور پر بھیجے۔
الہ تب بنا جب مخلوق بنی اس سے پہلے الہ نہیں تھا۔اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ معبود ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا تو وہ جھوٹ بولتا ہے۔جب اللہ چھپے ہوئے خزانے میں تھا تو اس وقت کوئی مخلوق نہیں بنائی تھی اس لئے ہمیشہ سے کہاں ہے!!جب مخلوق بنی تو مرتبہ الہ بھی معرض وجود میں آیا۔جب مخلوق نے آنکھ کھولی تو ویسے ہی مرتبہ الہ بنا۔ مخلوق ذات کو نہیں دیکھ سکی اور الہ سامنے کھڑا تھا۔تو حادث کا تعلق قدیم کے پرتو سے ہو گیا لیکن وہ خود بھی حادث ہے۔جس کی پرستش کر رہے ہو وہ تمھاری طرح حادث ہے کیونکہ جو قدیم تھا اس میں تو تغیر ہی نہیں ہوا اور اس سے جو نکلے گا وہ حدوث ہوگا۔یہاں پر مخلوق بنی اور ساتھ ہی حادث ہونے کی صفت بھی اُبھر کر سامنے آ گئی۔ اسطرح آپ کا ہمیشہ الہ سے تعلق ہوا۔آدم صفی سے لیکر محمد رسول اللہ تک اللہ کو کوئی نہیں جانتا سب الہ کو جانتے ہیں، معبود کو جانتے ہیں۔سیدنا گوھر شاہی کی جو مخلوق ہے وہ اللہ ہے الہ نہیں ہے۔
ولیوں کے اندر بھی اس بات کا جھگڑا ہے کہ کچھ کہتے ہیں کہ اللہ کو دیکھا ہے اور کچھ کہتے ہیں اللہ کو نہیں دیکھا۔ قرآن مجید میں کہا کہ حضور پاک نےشب معراج میں آیت الکبری ٰ کو دیکھا۔آیت الکبری وہ وہی الہ کا وجود ہے۔عمومی طور پر اگر آپ یہ کہنا چاہیں کہ حضور کو اللہ کا دیدار ہوا ہے تو کہہ سکتے ہیں لیکن اُن کو الہ کا دیدار ہوا ہے۔جو الہ کے پیچھے بیٹھا ہوا ہے اللہ،جو عالم غیب سے آیا ہے،جو قدیم ہے اس کو مخلوق دیکھ ہی نہیں سکتی کیونکہ جب وہ مخلوق بنی تو الہ کا پردہ بھی سامنے آ گیا۔مرتبہ الہ تو ایک وجود ہے جو حادث ہے،اسی کو تکبر کی چادر روا ہے،اسی میں ساری اینٹھ ہے جو الہ کے پیچھےاللہ بیٹھا ہے جو کہ قدیم ہے وہ تو غلام ِگوھر شاہی ہے۔
آج کے مسلمانوں کو یہ نصیحت ہے کہ سیدنا گوھر شاہی کی بارگاہ میں زبان کھولنے سے پہلے یہاں بڑے ادب وا حترام کے ساتھ اس بارگاہ میں سوال کر لیں کیونکہ اگرگوھر شاہی کی پکڑ میں کوئی آگیا تو اس کو اللہ اور رسول بھی نہیں بچا سکتے۔اور یہ الفاظ سیدنا گوھر شاہی کی زبان مبارک سے ادا ہوئے ہیں کہ

”اگرغوث پاک ناراض ہوئےتو ہم منا لیں گے،حضور پاک ناراض ہو گئے تو ہم منا لیں گے،اللہ ناراض ہو گیا تب بھی ہم منا لیں گے لیکن اگر گوھر ناراض ہو گئے تو سوچو کون منائے گا”

متعلقہ پوسٹس