کیٹیگری: مضامین

رب کا طالب اور جنت کا طالب دونوں کی منزل جنت ہی ہے :

جب میں رب الارباب کے حوالے سے گفتگو کرتا ہوں تواس وقت یہ ارادہ اور نیت نہیں ہوتی ہے کہ لوگوں کو یہ کہہ رہا ہوں کہ تم اللہ کو چھوڑ دو۔بلکہ یہ کہہ رہا ہوں کہ ایک موقع فراہم ہو گیا ہے کہ جس کے ذریعےہماری جو زندگی ہےاسکی ہیت بدل سکتی ہےاور جوآخرت میں ٹھکانے دستیاب ہیں جن میں سے آپ نے اپنی محنت اور مقدر کے حساب سے کسی ایک کو اختیار کرنا ہے ان ٹھکانوں سے بہتر ٹھکانہ میسرآگیاہے۔سرکار سیدنا گوہر شاہی کی بارگاہ میں ظاہری طور پر سترہ اٹھارہ سال گزرارے۔جس دن سرکار گوہر شاہی سے نسبت قائم ہوئی اسوقت سے صحبت جاری ہے ۔غیبت میں جو چیز ہے وہ سرکار کا ظاہری وجود مبارک ہے جو آنکھوں سے اوجھل ہے لیکن جس کو صحبت کہتے ہیں وہ صحبت ظاہری نہیں ہوتی وہ باطنی صحبت ہوتی ہے جو کہ اصل اوردائمی ہے۔دو جملے سیدنا گو ھر شاہی کی گفتگو میں ابتدائی دور میں ایسے تھےکہ جن جملوں سے ذہن میں ایک سوالیہ نشان بن گیا۔ایک جملہ مرشد کے بارے میں اور دوسرا جملہ اللہ کے بارے میں۔
مرشد کے بارے میں :  ایک جملہ تو یہ تھا کہ ”مرشد کو پکڑنے کے لیئے ضروری ہے کہ آپ اسکو آزما لیں کیونکہ اللہ کو پانا مقصد ہے شخصیت کو پانا تو مقصد نہیں ہے‘‘۔مرشد کو پکڑنے سے پہلے یہ دیکھ لو کہ اسکا اللہ سے تعلق ہے یا نہیں ہے۔کامل ہے یا نہیں ہے کیونکہ تم نے اللہ کو پانا ہے تو یہ دیکھ لو کہ مرشد اللہ سے واصل ہے یا نہیں ہے کیونکہ شخصیت کو پاناتمھارا مقصد نہیں ہے۔
اللہ کے بارے میں : ایک جملہ فرمایا کہ جب تم اللہ تعالی سے واصل ہو جاؤ گے تو وہ تم کو کسی جنت میں ہی بھیجے گا اپنے پاس تو نہیں بٹھائے گا۔
مرشد سے کہانی شروع ہوئی تو معلوم یہ ہوا کہ مرشد کو شخصیت حاصل کرنے کے لیئے نہیں بلکہ اللہ کو حاصل کرنے کے لیئے مرشد اختیار کرتے ہیں تو دیکھ لو کہ اسکا تعلق اللہ سے ہے یا نہیں ہے۔تو منزل وہاں پر یہ ثابت ہوئی کہ اللہ ہے اور جب اللہ تک پہنچ گئے تو پھر ایک نئی بات پتا چلی کہ بھئی اللہ تم کو اپنے پاس تو نہیں بٹھائے گا تمکو کسی جنت میں ہی بھیجے گا۔ان چیزوں سے دو چیزیں سمجھ میں آئیں کہ مرشد کو پکڑ بھی لے آدمی اوراسکی شخصیت سے کوئی تعلق نہ ہو،کتنی کھوکھلی سی بات ہے اور ساری زندگی اللہ کو حاصل کرنے میں لگا دے اور پھر اللہ اسکو پاس نہ بٹھائے بلکہ اسکو کسی جنت میں بھیج دے۔کتنی کھوکھلی بات ہےکہ مرشد اختیار کرلے اور مرشد سے کوئی تعلق ہی نا رکھے صرف اللہ کے لیئے ملتا رہے مرشد سے تو کتنا کھوکھلا پیار ہو گا۔اور ساری زندگی اللہ کو حاصل کرنے میں لگا دے اور آخر میں اللہ اسکو اپنے پاس نا بٹھائے اسکو کسی جنت میں بھیج دے ،معلوم ہوا یہ بھی بڑا کھوکھلا نظام ہے ۔جب ہم اللہ کو حاصل کرنے جاتے ہیں ایک حدیث شریف میں آیا کہ

طالب الدنیا مخنّث و طالب العقبی مونث و طالب المولی مذکّر

کہ جو دنیا کا طالب ہے وہ ہیجڑا ہے اور جو جنت کا طالب ہے وہ مثل عورت ہے اور جو مولا کا طالب ہے وہ مذکر ہے۔اب مولا کی طلب ہو گئی اللہ کو حاصل کر کےاور اسکے بعد آپ اُسے جنت میں بھیج دیں تو جنت کے لیئے تو آپ نے فرمایا ہے کہ وہ مثل ِعورت ہے جو جنت کا طالب ہے۔اور جو مولا کا طالب ہے جسکو آپ مرد کہہ رہے ہیں اسکو بھی وہیں بھیج رہے ہیں۔اب اللہ میا ں کی یہ باتیں جب مولویوں سے پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ارے ارے یہ مت کہو۔
سرکار گوہر شاہی نے جو لمحہ فکر عطا فرمایا ہے وہ یہ کہتا ہے کہ یہ محبت و عشق کا کھیل ہے۔عشق میں نا تُو خدا ہے نہ میں بندہ ہوں عشق میں برابری ہوتی ہے ۔تو لوگ پھر اللہ سے ڈر کیوں رہے ہیں اگر برابری کے دین میں چل رہے ہیں تو جنت ودوزخ سے لینا دینا نہیں ہے ،عشق کرنا ہے رب سے تو پھر ڈرکیوں رہے ہیں ۔برابری کاکھیل ہونا چاہیے، یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ اللہ ہمیشہ یاد رکھےکہ آپ مٹی سے بنے ہوئے انسان ہیں اور اللہ ہمیشہ یہ یاد رکھے کہ وہ آپ کا بنانے والا ہے تو پھر عشق کہاں ہو گا۔اگر اللہ میاں یہ یاد رکھیں گے عشق میں کہ وہ خدا ہیں اور بندہ یہی یاد رکھے گا کہ آپ خدا ہیں اُسکے، تو پھر آپ عشق کہاں کریں گے۔کیونکہ عشق میں تو برابری ہے ۔

انسان کو اللہ نے چاہت کا اختیار نہیں دیا:

سیدنا گوہر شاہی جو پیغام لے کر آئےہیں وہ عشق ہے۔محمد رسول اللہ تک محبت الہی کا ذکر ضرور ہے لیکن اُسمیں اتنا بتایا گیا ہے کہ یہ فلاں کام کر لو تو پھر اللہ خود ہی محبت کر لے گا۔محبت کیسےکی جاتی ہے یہ نہیں بتایاگیا۔مثلاً کوئی بچی اگر یہ کہے اپنے ماں باپ کو کہ مجھے کیک بنانا سیکھنا ہے ۔بیٹا کیا کرو گی کیک بنا کے ؟ کھاؤں گی۔اور ماں چالاکی سے کام لے ،اور اسکو باہر سے کیک لا کر دے دے ،تو کیک تو وہ کھا لے گی لیکن اسے بنانا کبھی بھی نہیں آئے گا۔نبیوں کے نام پر،اللہ کے نام پر ،قرآن کے نام پہ دھونس جمانے والوں اپنے قرآنوں میں ،اپنے بائبلوں میں ،اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھومحبت کرنے کا طریقہ کیا ہے ؟ کہاں لکھا ہے !! انسان کو اختیار ہی نہیں دیا گیا کہ وہ بھی اپنی چاہت سے محبت کر لے۔امام الانبیاء سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں قرآن نے یہ کہہ دیا

قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّـهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
سورۃ آل عمران آیت نمبر31
ترجمہ : (اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا ۔

اے محمد ؐ! جب کوئی آپکےپاس یہ کہنے کے لیئے آئے کہ میں اللہ سے محبت کرنا چاہتاہوں، تو کیاکہنا،کہ میری اتباع کر لو ۔یہ نہیں کہا کہ محبت کرنے کا طریقہ سکھا دینا۔ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ یا رسول اللہ جو اللہ سے محبت کرنا چاہتا ہےآپ اسکو اللہ سے محبت کرنے کا طریقہ سکھا دیں تاکہ وہ اللہ سے محبت کرنے لگ جائےقُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ اگر کوئی اللہ سے محبت کرنا چاہے تو اسکو اللہ سے محبت کرنے کا طریقہ سکھا دو۔یہ نہیں ہوا ۔کیا فرمایا قرآن میں قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّـهَ فَاتَّبِعُونِيتو میری اتباع کر لو۔نتیجہ کیا نکلے گا،یہ بھی نہیں کہ بھئی اتباع کرنے سے ہمیں خود بخود اللہ سے محبت ہو جائے گی۔نہیں پھر آگے قرآن میں لکھ دیا يُحْبِبْكُمُ اللَّـهُ للہ خود اُس سے محبت کرنے لگ جائے گا۔
اس آیت سے واضح ہو رہا ہے کہ آپ تو نکمے کے نکمے رہے یہاں بھی اللہ نے اپنا پلڑا بھاری رکھا ہے کہ تم انسان تو نیچ ہو ہم سے محبت کیا کرو گے ہم ہی تم سے محبت کر لیں گے ۔ یہاں اس آیت میں اپنے آپ کو اہمیت دی ہے کہ جو بھی ہو گا ہم کریںگے۔بخشنے والے بھی ہم ہیں ،جنت میں بھی ہم بھیجیں گے ،جس کو ہمارا موڈ ہو گا ہدایت دیں گے ،جسکو ہمارا جی چاہے گا اس کو جہنم میں ڈال دیں گے ۔سارے فیصلے آپ خود ہی کر رہے ہیں اور پھر کہہ کرہے ہیں کہ اختیار انسان کو دیا ہے ۔

اللہ نے انسان کو شعور اور ہدایت سے محروم رکھا ہے :

ہدایت کے معاملے میں بھی یہی ہونا چاہیے تھا کہ اگر کسی کا جی چاہ رہا ہے کہ اچھا بنے توانصاف تو یہ تھا کہ اب اسکی راہ میں روکاوٹ نہیں ہونی چاہیے تھی۔لیکن اللہ میاں کہتے ہیں کہ جی اللہ تو بہت بڑا منصف ہے اللہ نے کسی پر ظلم ہی نہیں کیا۔اب قرآن پڑھ کر آپ اپنی آنکھیں کھولیں اوراپنے اطراف میں ایک نظر دوڑائیں گے تو معلوم ہو گا کہ اِس دورمیں تو عورتوں پر ظلم ہوا تو انہوں نے اپنے حقوق کے لئے حقوق نسواں کی تنظیمیں بنا لیں ۔اے انسانوں ! اب تم بھی اپنے حقوق کے لیئےآواز اٹھاؤ۔اپنی زندگی کاکچھ تجزیہ کرو کہ تم کورب کی طرف سے کتنا اختیار ملا ہے؟ کیا کیا تمہارے ہاتھ میں ہے؟ کیا کیا تم اپنی مرضی،اپنی رضا،اپنی منشا سے کر سکتے ہو۔اپنی منشا ،رضااور اپنی خواہش سے نہ تم اچھے بن سکتے ہواور نہ تم اپنی خواہش سے برے بن سکتے ہو ۔نہ اپنی خواہش سے تم رب کو پا سکتے ہو ،نہ اپنی خواہش سے تم کسی کو رب کا راستہ دکھا سکتے ہو۔کیا اختیارہے انسانوں کے پاس !! قرآن میں اللہ نے کہا کہ ”جو اللہ کی راہ میں مارا جائے اسکو مردہ نہیں کہنا وہ زندہ ہے لیکن تمھیں اس کی زندگی کا شعور نہیں ہے“ ۔ شعور دو گے تو پتہ چلے گاکہ وہ کسطرح زندہ ہے ۔

” سنو! آج جو شعور سرکار گو ہر شاہی دنیا کو دے رہے ہیں یہ شعور تمہیں اللہ کی طرف سے نہیں مل رہا یہ شعور تمہیں گوہر شاہی عطا فرما رہے ہیں اور یہ بھی سن لو کہ یہ شعور مرتبہ مہدی نہیں دے رہا یہ شعور گوہر شاہی دے رہےہیں “

انسان کو اتنی سہولت میسر نہیں ہے کہ اگر برائیوں میں پھنسا ہوا تھا اور اچانک اُسے یہ خیال آ جائے کہ چلو میں اچھا انسان بن جاتا ہوں ،لیکن اُسے یہ سہولت حاصل نہیں ہے ۔اِس دنیا میں یہ اصول ہے کہ اگر کوئی برائی سے توبہ تائب ہونا چاہے اور کہے کی میں اچھا انسان بننا چاہتا ہوں ،ولی بننا چاہتا ہوں،کتنے سارے لوگ خوش ہوں گے کہ دیکھو یار یہ اچھا انسان بننا چاہتا ہے ۔دیکھو یار یہ تو زندہ کرامت ہے کہ یہ برائیوں میں لگا ہوا تھا اب توبہ تائب ہو کے اچھا انسان بننا چاہتا ہے، سب خوش ہوں گے لیکن اللہ تعالی کے یہاں ایسا نہیں ہے اللہ میاں کہتے ہیں کہ اِس بندے نے یوم ِازل میں کہا تھا کہ میں دنیا چاہتا ہوں اب یہ کیوں اچھائی کی طرف آرہا ہے، میں اسے ہدایت نہیں دوں گا۔
اے انسانوں!اپنی حق کے لیئے آنکھیں کھولو، پہچانو کیا فرق پڑتا ہے کہ ہم کس کی مخلوق ہیں۔اب جب زندہ ہیں اور ہم پر اللہ کی طرف سے یہ بہتا ن اور الزام کی تہمتیں لگی ہوئی ہیں کہ یہ انسان تو دنیا دار ہیں ،یہ جنت کا لالچی ہے،یہ حیات الدنیا کے لیے جی رہا ہے ۔فتوے تواللہ میاں عرش سے ایسے لگا رہے ہیں کہ جیسےانسان کو مکمل اختیار دیا ہوا ہے۔اپنے حقوق کے لیئے لڑو ،منافق کی موت مت مرو ،جھگڑو اپنی تقدیر کے لیئے ،پوچھواللہ سے کہ آج ہمارے فیصلے میں لطیفہ نفس اور شیطان کا دخل ہے،یوم ازل میں تو نفس نہیں تھا ، شیطان نہیں تھا اسوقت ہم سے غلط فیصلہ کس نے کرایا تھا؟ہم سے رب کا فیصلہ کس نے کرایا،ہم کو جنت کی لالچ کس نے دی ؟ سارا کھیل تو خود اللہ کا رچایا ہوا ہے اور تہمتیں انسانوں پر لگتی ہیں۔کیا رب کو ایسا کرنا زیب دیتا ہے ؟ یہی حرکتیں انسان کرے تو معتوب اور یہی حرکتیں رب کرے تو کوئی سوال نہیں کر سکتا۔اور اگر کوئی آواز اُٹھائےتو اُسے جہنم میں ڈال دیں گے یہ تو آپ اپنی اوقات دکھائیں گے،اپنی اصلیت دکھائیں گے۔ کیایہ خدا کو زیب دیتا ہے کہ ایک آدمی نے اعتراض کیا سوال کیا،اسکو حق ہے سوال کرنے کا جب تم اُس سے محشر میں سوال کرو گے تو اسے بھی سوال کرنے کا حق حاصل ہےکہ میں اچھا بننا چاہتا ہوں میں کیوں نہیں بن پا رہااچھا؟ جواب دو مجھے ۔یا پھر اچھائی اور برائی کو اٹھا کے باہر پھینک دو ،جنت اور دوزخ کو اٹھا کے باہر پھینک دو یا مجھے جواب دوکہ جب اچھا بننا چاہوں تو تم روکاوٹ کیوں ڈالتے ہو۔جب اچھا بننا چاہوں تو تم کیوں نہیں بننے دیتے اچھا ،جواب دینا ہو گا،اب وہ دور آگیا ہے کہ مخلوق مخلوق کو جواب دے گی ۔یہ کائنات کا خالق بھی مخلوق ہے رب الا رباب کی ،فیصلہ تو خالق کرے گا ،ثابت کرو کہ تم ہی خالق ہو ۔اب پوچھنے کاوقت ہے۔آپ نے بھی تو ہمارا سوال نامہ بنا رکھا ہےاوربڑے خوش ہیں کہ محشر میں اعمال نامہ تمہارے الٹے ہاتھ میں دوںگا۔لیکن یہ جواب بھی دینا پڑے گا کہ جب میں اچھا بننا چاہ رہا تھا آپ نے کیوں  نہیں  بننے دیا؟یوم ازل میں تو میرے ساتھ کوئی نفس نہیں تھا۔بالکل تازہ تازہ روحیں تھیں جو آپ نے بنائی تھیں۔ان روحوں میں دنیا کی لالچ انسان کی فطرت میں کہاں سے آئی؟مجھے بنانے والے تو آپ (اللہ) ہیں پھر اپنی خرابی مجھ پر کیوں تھوپ رہے ہیں ۔یہ رب کو زیب نہیں دیتا ہے۔اپنی خامی مجھ پر تھوپتے ہو کہ اسکے دل میں دنیا کی لالچ ہے،مجھے بنایا کس نے ہے یہ میری خامی ہے،میری خرابی ہے،آج یہاں اس دنیا میں آ کر غلط کاموں میں لگا ،یوم ازل میں دنیا دار ی کی لالچ کہا ں سے آئی؟ یہ کھیل کھیلنا چھوڑ دو کیونکہ یہ ایک رب کو زیب نہیں دیتا اور ایسا ہوتا نہیں کہ رب کوئی ایسا کام کرے جو اسے زیب نہیں دے اور جو ایسا کرتا ہے وہ حقیقی رب نہیں ہے ۔اُس نے تو ایک لبادہ اوڑھ رکھا ہے ایک ایسا لبادہ جو کسی شہنشاہ کو دیکھ کر اسکے من میں یہ خیال آیا کہ میں بھی یہ لبادہ اوڑھ لوں میں بھی دوچار کیڑے مکوڑے بنا لوں اور ان کو ماروں ،جس کو چاہے اچھی جگہ ڈالوں ،جس کو چاہے برُی جگہ ڈالوں ،جسکو چاہے کافر کہوں،جسکا چاہے سر کٹوا دوں ،جسکو چاہے میں نبی بنا کے بھیج دوں ،انسانو ں کے ساتھ یہ سلوک کیوں؟

مالک الملک گوھر شاہی دکھی انسانیت کے لئے اس زمین پر آئے:

ذرا دیکھو جس نےتمکو (اللہ) بنایا ہے اس نےتمھارے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔اگر وہ بھی تمھارے ساتھ ایساہی سلوک کرتا جو آج تم اپنی مخلوق کے ساتھ کر رہے ہو پھر ساری کبریائی یاد آجاتی ۔رب بننے کے لائق وہ ہے جو پہلے زمین پہ آئےتاکہ اسے پتہ چلے کہ انسان کتنی مشکلوں سے گزرتا ہے ،انسان کتنے مصائب کو گلے لگاتا ہے پھر بھی ثابت قدم رہے ، وفادار رہے اور اپنے مرشد کو نا چھوڑے یہ وصف پیدا کر کے دکھاؤ اپنے اندر پھر کہیں گے کہ تُو رب ہے۔انسانو ں کو تو یہ طاقت حاصل ہے کہ وہ تکبر سے چھٹکارا پا لے ،جنگل میں جائیں انسان ہو کر جانوروں جیسا طرز زندگی اختیار کریں ،اپنے نفس کی عملی نفی کریں ،خود کو ذلیل کریں ،اپنی تحقیر کریں اور کروائیں ،اپنا منہ کالا کریں اپنی اہمیت زیرو کر دیں اور پھر بھی تیرے آگے روتے رہیں تیرے کرم کی بھیک مانگتے رہیں۔اور اللہ وہاں عرش پر بیٹھا رہے جہاں کوئی پریشانی نہیں ،بس حکم چلاتا رہے۔بارہ بارہ سال لوگ تجھے جنگلوں میں  تلاش کریں اور تو ایک لمحے میں ان کی محنتیں ضائع کر دے۔اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے تو انسان بن کر دکھا،اپنی طا قت کا مظاہرہ کرنا ہے تو انسان بن، صابر بن،شاکر بن،اپنی نفی کر یہاں آاور پھر جا کر نظام الدین اولیاء کے قدموں،اُن کی چوکھٹ کو بو سہ لے کر دکھا جیسے مالک الملک گوھر شاہی نے کیا تھا۔

بابا فرید شکر گنج کے ساتھ ناانصافی:

ایک بزرگ گزرے ہیں جسکو ہم بابا فریدکے نام سے جانتے ہیں بارہ بارہ سال کے تین چلے کئے ہیں یعنی 36 سال کا چلہ کیااسکے باوجود بھی رب راضی نہیں ہوا۔بابا فرید جنہوں نے چھتیس سال جنگلوں میں گزار دئیے اور ہر طرح کی عبادت کی لیکن رب راضی نہیں ہوا۔اس کے بعد جو اللہ نے کیا وہ انتہائی دل دکھانے کی بات ہے۔با بافرید کنوئیں میں الٹے لٹک گئےاور الٹے لٹک کے پھر ذکر کرتے ،سر نیچے پاؤں اوپر،یعنی کتنے پریشان ہو گئے ہوں گے کہ سارے طریقے آزما لئے،ساری عبادتیں کر لیں اُن سے تو رب راضی نہیں ہوا۔چلو اب الٹے لٹک جاؤ۔جب الٹے لٹک گئے تو پھر اوپر سے تجلی کا اشارہ ہوا،جب اوپر سے تجلی کا اشارہ ہوا تو اتنے میں وہاں پر ایک چر واہا گزر رہا تھا اُسکو بھی بلا لیا ،جب بابا فریدکو اس نے کنوئیں میں الٹا لٹکا دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہیں آپ ؟ بابا فرید نے کہا میں اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں سارے طریقے تو میں نے آزمالئے ہیں شاید اِس طرح سے اللہ راضی ہوجائے۔ یہ سن کر چرواہے نے کہا اچھا چلو میں بھی لٹک جاتا ہوں ،وہ بھی لٹک گیا اور اللہ کی تجلی پڑ گئی ۔اب یہاں دیکھیں بابا فرید36 سال سے لگے ہوئے ہیں اور ایک آدمی ابھی ابھی آیا ہےاور اللہ نے اسکو بابا فرید کے برابر کر دیا ۔آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اتفاق تھا؟ کتنا آسان ہو گیا اس چرواہے کےلئے اللہ کو پانا۔اب ہم نے تو یہ کہانی سن لی ہےکیا بابا فرید کے ذہن میں کوئی بات نہیں آئی ہو گی کہ یار یہ کیا کیااللہ نےمجھے36 سال لٹکا کہ رکھا اور اِس بندے کو عین تجلی کے وقت بھیج دیا۔پھر اللہ میاں کہتےہیں یہ انصاف ہے ۔سیدنا گوہر شاہی نے ایک دفعہ فرمایا کہ

” آج ہم لوگوں کہ کہہ رہے ہیں آؤ اللہ تک پہنچنے کا طریقہ سیکھ لو اور لوگ نخرے کرتے ہیں ورنہ اللہ کہاں ملتا ہے ‘‘

یہ جو صدا ہے کہ دل کو روشن کر لو گوہر شاہی کے نور سے ،آؤ ذاکر ِقلبی بن جاؤ،آؤ اللہ کے عشق اور محبت کا طریقہ سیکھ لو ،یہ صدا زمانے میں پہلے کبھی نہیں آئی،آج اللہ کسی کو ملے گا تو وہ گوہر شاہی کی بھیک سے ملے گا۔لیکن بات تو یہ ہے کہ اگر اللہ مل بھی گیا تو کونسا اللہ نے آپ کو اپنے ساتھ رکھنا ہے۔یہ سوچ سوچ کے ذہن پریشان ہوتا ہے کہ جو جنت کا طلبگا ر ہے وہ بھی جنت میں جائے گا ،جو رب کا طلبگار ہے وہ بھی جنت میں جائے گا۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جو جنت کا طلبگار ہے وہ جنت میں چلا جائے اور جو رب کا طلبگار ہے رب اسکو اپنے ساتھ رکھے۔ایک لمحے کے لئے سوچیں کہ جب جنت کے طالب بھی وہاں جنت میں ہوں اور رب کے طلب گار بھی جنت میں ہوں گے اور جنت کے طالب نے اگر اللہ کے طالب کو کہہ دیا کہ ہم نے تو دنیا میں بڑی عیاشی کی،اتنی محنت نہیں کی لیکن آج ہم دونوں یہیں ایک ہی جگہہ موجود ہیں۔کیا یہ انصاف ہے !!!

دعوتِ ربوبیتِ گوھر شاہی:

لیکن مالک الملک گوہر شاہی فرماتے ہیں کہ

”جو گوہر شاہی کا طالب ہے وہ دائمی طور پر گوہر کے ساتھ ہو گا گوہرشاہی نے نہ جنت بنائی ہے اور نہ جہنم بنائی ہے اُسکو اپنے ساتھ رکھیں گے ۔یہ ہے سچی آفراور یہ ہے سچی محبت اور دوستی“

اگر ہم یہ کہیں کہ گوہر شاہی بھی ایک رب ہیں اور جو بھی گو ہر شاہی کا طالب ہو گا تو گو ہرشاہی نے اُسکے لیئے اللہ کی جنت سے اچھی جنت بنائی ہےتو بات تو وہیں آجائے گی کہ اللہ نے بھی اپنے طالبوں کے لئے جنت بنائی اور گوہر شاہی نے بھی اپنے طالبو ں کے لیئے جنت بنائی تو پھر نہ گوہر شاہی رہیں گے اپنے طالبوں کے ساتھ نہ اللہ رہتا ہے۔تو فائدہ کیا ہوا۔میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ جس طرح اللہ ایک معبود ہے گوہر شاہی بھی ایک معبود ہیں۔نہیں،ایسی بات نہیں ہے۔بات یہ ہے کہ گوہر شاہی وہ رب ہے جسکی بات سچی ہے،جسکا عمل سچا ہے ،جسکا دعویٰ سچا ہے،جسکی وفا سچی ہے۔گوھر شاہی نے اگر کہہ دیا کہ تُو میرے ساتھ رہے گا تو پھر انہی کے ساتھ رہے گا۔گوھر شاہی وہ رب ہے جو تم کو لالچ نہیں دے رہے۔اللہ نے تو لوگوں کو اپنی عبادت کے لیئے بنایا ہے لیکن سیدنا گوہر شاہی نے اللہ سمیت کوئی مخلوق اپنی عبادت کے لیئے نہیں بنائی۔جب اللہ نے مخلوق بنائی اپنی عبادت کےلیئے تو اس وقت اس کو یہ خیال نہیں آیا کہ میرے رب نے مجھے کیوں بنایا تھا کوئی پابندی ہے اللہ کی برادری پر کہ صبح شام آکر ریاض الجنہ کے سجدے کرو،شکل دکھاؤ،بنا دیا اور جاگیر یں عطا کر دی اور امر کن کی طاقت دے دی کہ جائو جو تمھارا جی چاہے کرو۔سخاوت ہو تو رب الارباب جیسی۔انسان کے مقدر میں کہاں ہے یہ سخاوت۔
یہ انسانیت کوایک آفر ہے،اگر اللہ کے جیسا ہی کوئی رب ہو جس کی ہم دعوت دیں تو بات تو وہی آگئی کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔اگر اُسکو چھوڑ کر کسی دوسرے رب کے ہاتھوں میں جاؤ تو یہ دیکھ لو پہلے کہ جس کے ہاتھوں میں جا رہے ہو کیا وہ اتنا طاقتور ہے کہ تمہیں اُسکے عتاب کا شکار نہیں ہونے دے گا۔اگر دونوں ہم پلہ ہو ںگے اور کسی نے کہا کہ میں اللہ کو چھوڑکر گوہر شاہی کے پاس جا رہا ہوں اور بعد میں پتا چلا کہ اللہ بھاگ کے آیا اور تمھیں دوزخ میں ڈال دیا تو پھر کیا فائدہ ہے۔
ہم تو ایسے معبود کی دعوت دے رہے ہیں کہ تُو آج اُسکی ربوبیت تسلیم کر،اُسکے بعد پھر ہم اللہ کو کہیں گے کہ ہاتھ لگا کر دکھا۔ہم تو مٹی کے انسان ہیں اللہ ہمارے اوپر تو دھونس چال لیں گےلیکن رب الا رباب کی طرف منہ کر کے بات کریں۔وہ تو ایسی بارگاہ ہے اگر وہ منہ پھیر لے تو یہ سب بیکار ہے تیری دنیا،یہ تیرے سارے کلمے بیکار ہیں،تیری ساری ربوبیت بیکار ہے۔اور اگر وہ واقعی ناراض ہو گیا پھر یہ سارے کرسی ،یہ وحدت،یہ عنکبوت سارے کے سارے رکھے رہ جائیں گے۔ڈرو اس دن سے کہ جب رب الارباب تم سے منہ پھیر لے۔یہ دعوت ِربوبیت ِگوہر شاہی،سرکار گوہر شاہی کے رب ہونے کی یہ دعوت میں دے رہا ہوں،اگر یہ دعوت ان کی طرف سے ہوتی تو نقشہ یہ نہیں ہوتا جو آج ہے،کیونکہ اگر یہ دعوت رب الارباب کی طرف سے ہوتی تو اللہ کی دوکان بند ہو جاتی لیکن یہ جو دعوت میں دے رہا ہوں اپنےبل بوتےپریہ دعوت سچی ہے،اگر یہ دعوت جھوٹی ہے تو مٹا دے۔کتنی قوموں کو اللہ نے تباہ کیاہے،کتنے لوگوں سے تو نے برھان مانگی،ہمیں بھی امر کن دیا ہے سیدنا گوھر شاہی نے ۔اور ہمارا امر کن کیا ہے ہمارا امر کن یہ زعم ہے کہ میں گوہر شاہی کا ہوں۔یہ زعم ہے اور اس زعم میں جو بھی کہہ دیتے ہیں وہ ہو جاتا ہے ۔کیونکہ یہ زعم ہے گوہر پر تکیہ ہے اور یہ تکیہ کر لیا ہے ہم نے کہ اب دنیا کو پتا چلنا چاہیے کہ گوہر شاہی کون ہیں جب تک سرکار نہیں آجاتے جس نے بھی رّد کرنا ہے کر لے ،جب سیدنا گوھر شاہی واپس آجائیں گے وہ سارے ردّ کرنے والوں کی شامت ہو گی ۔

يَوْمَ يُكْشَفُ عَن سَاقٍ وَيُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ
سورۃ القلم آیت نمبر 42
جس دن ساق سے پردہ اٹھایا جائے گااور وہ لوگ سجدہ کے لئے بلائے جائیں گے تو وہ نہ کر سکیں گے۔

یوم محشر لگے گااور اس وقت یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ کون ہیں،خواجہ ہوں،داتا ہوں ، نظام الدین اولیاء ہوں جو بھی ہوں ،جو کچھ دنیا میں ہو گیا سو ہو گیا آج یہاں سجدہ کر کے دکھاؤ۔آج نئی بات ہو رہی ہے،آج جو سجدہ کرے گا فلاح وہ پائے گا تم وہاں جو کچھ بھی تھے اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔اب جب وہ ساق نظر آئے گی وہی پنڈلیاں ،آپ یقین کریں کہ وہ جو سیدنا گوھر شاہی کے پاؤں مبارک ہیں وہ اگر تمہاری آنکھوں کے سامنے سےپردے ہٹ جائیں اور تم وہ دیکھو تو اتنی جنبشیں لو کہ اللہ تعالیٰ پریشان ہو جائے کہ میں نے اپنےآپ کو دیکھ کے صرف سات جنبشیں لیں اور یہ ہوش ہی میں نہیں رہا۔میں نے اپنی شکل دیکھ کے سات جنبشیں لیں یہ پاؤں دیکھ کے ہوش میں نہیں آرہا،کیا حسن گوھر شاہی ہے۔ابھی توروز محشر میں وہ نظارا دیکھنا ہے۔سارے توفیق الہی والے ،طفل نوری والے،لطیفہ انا والے،یوم محشر میں پتا چلے گا کہ وہاں پر کس کا حکم چلتا ہے،وہ دن صرف سیدناگوہر شاہی کی شہنشاہی کا دن ہے۔وہاں تو سیدنا گوھر شاہی کے قدموں کے آگے ماتھا ٹیکنا پڑے گا۔اور غوث پاک ہونے کی وجہ سے یہ نہیں ہو گا کہ وہ مبراہیں ،اب سجدہ کرو جس میں جرات ہے ۔اورروز ِ محشر میں ماتھا ٹیکنے کی استطاعت گوہر شاہی عطا فرمائیں گے جس کو چاہیں گے اورکس کو چاہیں گے ؟ جو خود سجدہ کرنا چاہتا ہو گا۔کسی کی خواہش کے خلاف استطاعت نہیں ہو گی یہ ظلم نہیں ہو گا جو چاہے گااسکواستطاعت ملے گی۔جس نے یہاں اس دنیا میں خواہش کی ہو گی وہاں روز محشر میں اُنہی لوگوں کو استطاعت میسر ہو گی۔
یوم محشر میں تو ہر کوئی جھکنا چاہے گا،استطاعت تو اسکو ملے گی کہ جس نےاِ س دنیا میں سیدناگوہر شاھی کو سجدہ کیا جبکہ یہ ڈر ہےکہ سرکار گوہر شاہی کے بارے میں اگر یہ پروپیگنڈا غلط ہوا تو اللہ سزا دے گا۔یہ جانتے ہوئے بھی کہا کہ جو بھی ہو گا دیکھاجائے گایہ بھی تو جہنم میں گیا میں بھی چلا جاؤں گا۔سجدہ تو کرلو ں گوہر شاہی کو اب دیکھی جائے گی اور یہ ایمان رکھ کر سجدہ کیا کہ گوہر شاہی نا نور ہیں ،نا ولی ہیں ،نا فقیر ہیں نا رب ہیں ،انسان تو ہیں مگر میں انسان کو ہی سجدہ کروں گا رب کو نہیں کر رہا، مومن بھی نہیں ہیں بس گو ہر شاہی ہیں۔کوئی طاقت نہیں ہے اُنکے پاس مگر بس میں ان کو ہی سجدہ کروں گا۔اب اللہ نے اپنی ربوبیت کی دھونس دکھانی ہےتو دیکھائےڈال دے مجھے جہنم میں مگرمیں تو گو ہر کو ہی سجدہ کروں گا،جو کرنا ہے کرلے ،جو سزا دینی ہے دیدےمیں توسرکار گوھر شاھی کوہی سجدہ کروں گا ۔
اللہ کی عطا کردہ ولایت کا جائزہ لیں تو دیکھیں علامہ اقبال نے کُتیاکو آدھا پراٹھا کھلا دیا تو ولایت عطا کر دی۔اب کُتیاکو پراٹھا کھلا کے ولایت ملی تو کیسی اعلیٰ ولایت ہو گی۔ سیدنا گوھر شاہی کے سسٹم میں ولایت نہیں ہے،ولایت تو دوستی کو کہتے ہیں ،یہ کیا دوستی ہے کہ دوست کو جنت میں ڈال رہے ہیں اور آپ خودعالم احدیت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ایک دفعہ سیدنا گوھر شاہی نے فرمایا کہ جن کو جہنم میں ڈالنا ہے وہ جہنم میں چلے گئے،جن کو جنت میں ڈالنا ہے وہ جنت میں چلے گئے اب اللہ کی بھی کوئی دھڑک ہے نا وہ کہاں جائے گا؟ اللہ کیا عالم احدیت میں اکیلا بیٹھا رہے گا؟ نہیں اللہ تو عالم غیب سے آیا ہے اور اسے واپس عالم غیب میں جانے کی جلدی ہےاسی لئے وہ اپنا سراغ ہی نہیں دے رہا ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ دے کہ مجھے بھی اپنے ساتھ عالم غیب میں لے کر جاؤ۔ یاد رہے کہ عالم غیب میں جانے کے لئے یہ قانون ہے کہ وہاں سے کوئی زمین پرانسان کے بھیس میں آئے اور اپنے ساتھ ضم کر کے لے جائے۔ لیکن اللہ نے تو قرآن میں کہہ دیا ہے کہ”اسے کسی نے تولد نہیں کیا “اس وجہ سے وہ زمین پر نہیں آ سکتا۔اور جب اپنے ہی بنائے قانون کی وجہ سے وہ زمین پر نہیں آسکتا تو کسی کو اپنے جہان عالم غیب میں بھی نہیں لے جا سکتا۔اللہ زمین پر آیا ہی نہیں تو وہ اس بات کا جواب نہیں دے سکتے کہ ہم لے کر نہیں جا سکتے۔ تو اللہ کو یہ کہنا نہ پڑے کہ میں اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا اللہ کواتنا غرور ہے کہ وہ یہ کہنا نہیں چاہتا کہ میں اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتا۔

”اب ہم یہ سوال اُٹھا کر رہیں گے اور اللہ سے کہلوا کر رہیں گے کہ میں اپنے ساتھ عالم غیب میں نہیں لے جا سکتا اب اگر کسی نے جانا ہے تووہ سرکار گوہرشاھی کے پاس جائےیہ تواللہ کو کہنا پڑے گا “

سیدنا گوہر شاہی کی تعلیم بڑی اعلیٰ ہے یعنی اب یہ جملہ دیکھیں جو سیدنا گوھر شاہی عام لوگو ں کو اپنی پیغام کی دعوت دیتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ ”ہم کو ایک راز ملا تھا وہ تمکو بتا دیتے ہیں اگر تمہارے دل میں ذکر شروع ہو جائے تو دعا دے دینا اور کیا دے سکتے ہو اور اگر نا چلے تو تمہارا کوئی نقصان بھی نہیں ہو گا دو چار دن جو اللہ اللہ کرنے کا ثواب ہی مل جائے گا“۔

متعلقہ پوسٹس